سفر آداب اور دعائیں

بابر تنویر نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏اپریل 18, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,523
    تنہا سفر کی ممانعت کی وجہ

    (خرجَ رجلٌ من (خيبرَ) ، فاتبَعه رجلان، وآخرُ يتلوهما يقول: ارجعا ارجعا، حتَّى ردَّهما، ثم لحق الأول، فقال:
    إنَّ هذينِ شيطانانِ، وإنِّي لمْ أزلْ بهما حتى رددتهما، فإذا أتيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فأَقرئه السلامَ، وأخبره أنَّا ههنا في جمع صدقاتنا، ولو كانت تصلحُ له لبَعَثْنَا بها إليه.
    قال: فلمَّا قدمَ الرجلُ المدينةَ أخبرَ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم -، فعند ذلك نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن الخَلْوةِ) . السلسہ الصحیحہ 3134(أخرجه الحاكم (2/102) ، وأحمد (1/278 و 299) من طرق عن عبيد الله ابن عمرو الرَّقِّي عن عبد الكريم عن عكرمة عن ابن عباس رضي الله عنهما )
    عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی (خیبر) سے نکلا، دو آدمی اس کے پیچھے پیچھےچل پڑے اور کس ان د ونوں کے پیچھے۔ (آخری آدمی) ان دو سے کہتا رہا : لوٹ آؤ، لوٹ آؤ، حتی کہ ان کو (پا لیا اور) واپس لوٹا دیا۔ پھر پہلے کو جا ملا اور اس کہا : یہ دو شیطان تھے، میں ان کو پھسلاتا رہا حتی کہ ان کو واپس کردیا۔ جب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچو تو ان کو میرا سلام دینا اور ان کو بتانا کہ میں ادھر زکوۃ جمع کر رہا ہوں اور اگر وہ ان کے لیے مناسب ہے تو ہم ان کی طرف بھیج دیں گے۔ جب وہ (پہلا آدمی) مدینہ پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بیان کیا، اس وقت اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا سفے سے منع کر دیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,523
    دو آدمیوں کا اکھٹے سفر کرنا۔

    حدثنا احمد بن يونس حدثنا ابو شهاب عن خالد الحذاء عن ابي قلابة عن مالك بن الحويرث قال:‏‏‏‏ انصرفت من عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال:‏‏‏‏"لنا انا وصاحب لي اذنا واقيما وليؤمكما اكبركما". بخاری 2848
    سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نب‏ئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے (اپنے وطن کے لیے) لوٹے تو ایک میں تھا اور دوسرا میرا ساتھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ۔" (ہر نماز کے وقت) اذان کہنا اور اقامت کہنا اور تم دونوں میں سے جو بڑا ہو وہ نماز پڑھاۓ۔"
    اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت کے وقت دو آدمی سفر بھی کر سکتے ہیں، مل کر سفر کرنے کے بہت فا‌‎ئدے ہیں، ہم سفر کی موجودگي میں دل لگا رہتا ہے، سفر کی مشکلات کم ہو جاتی ہیں اور ضروریات پوری کرنے میں بھی سہولت رہتی ہے کیوں کہ ہم سفروں کے ساتھ ذمہ داریاں بانٹ لی جاتی ہیں۔

    امیر مقرر کرنا
    حدثنا علي بن بحر بن بري حدثنا حاتم بن إسماعيل حدثنا محمد بن عجلان عن نافع عن ابي سلمة عن ابي سعيد الخدري ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:‏‏‏‏ " إذا خرج ثلاثة في سفر فليؤمروا احدهم ". سنن ابی داؤد 2608
    ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ہوئے کہ اپنے میں سے کسی ایک کو امیر مقرر کر لیں“۔

    امیر کو چاہیے کہ اپنے ساتھیوں کی مناسب رہنمائ کرے۔ مامورین بھی معروف میں امیر کی اطاعت کریں۔ اس طرح سفر خوشگوار گزرے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,523
    سواری سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات۔
    سواری کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے دعا کرنا۔
    سیدنا حمزہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    خبرنا عبيد الله بن موسى عن أسامة بن زيد عن محمد بن حمزة بن عمرو الأسلمي قال وقد صحب أبوه رسول الله صلى الله عليه وسلم قال سمعت أبي يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم على ذروة كل بعير شيطان فإذا ركبتموها فسموا الله ولا تقصروا عن حاجاتكم سنن دارمی 2667:2
    " ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے لہذا جب تم اس پر سوار ہوتو بسم اللہ پڑھو اور اپنے ضروری کاموں میں کوتاہی نہ کرو۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    349
    جزاک اللّہ خیرا
    دراصل اکثر لوگ ان چیزوں کا اہتمام نہیں کرتے اللّہ سب کو نیک توفیق عطاء فرمائے آمین
     
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,523
    سواری میں کوئ خرابی پیدا ہو جاۓ تو بسم اللہ کہنا

    ایک صحابی فرماتے ہیں کہ نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کو ٹھوکر لگي تو میں نے کہا شیطان برباد ہو۔ آپ نے فرمایا :
    حدثنا وهب بن بقية عن خالد يعني ابن عبد الله عن خالد يعني الحذاء عن ابي تميمة عن ابي المليح عن رجل قال:‏‏‏‏ " كنت رديف النبي صلى الله عليه وسلم فعثرت دابة فقلت:‏‏‏‏ تعس الشيطان ، فقال:‏‏‏‏ لا تقل تعس الشيطان فإنك إذا قلت ذلك تعاظم حتى يكون مثل البيت ويقول:‏‏‏‏ بقوتي ، ولكن قل:‏‏‏‏ بسم الله فإنك إذا قلت ذلك تصاغر حتى يكون مثل الذباب ۔ سنن ابی داؤد 4982
    شیطان برباد ہو نہ کہو، کیونکہ جب تم ایسا کہتے ہو تو شیطان گھر جتنا بڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے: میری طاقت کی وجہ سے ایسا ہوا ہے اس کی بجاۓ۔ بسم اللہ کہو۔ کیونکہ جب تم ایسا کہتے ہو تو شیطان چھوٹا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ مکھی کے برابر ہوجاتا ہے۔"

     
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,523
    سواری کو لعنت ملامت نہ کرنا۔

    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی سفر میں تھے ایک آدمی نے اونٹنی کو لعنت ملامت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اونٹنی کا مالک کہاں ہے؟ اس آدمی نے کہا میں ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسير في سفر فلعن رجل ناقة، فقال: " أين صاحب الناقة؟ " , فقال الرجل: أنا , قال: " أخرها , فقد أجبت فيها " مسند احمد 9522
    اس اونٹنی کو پیچھے لے جاؤ کہ اس کے بارے میں (تمہاری بات) قبول ہوگئ۔"

    عن عمران بن حصين رضي الله عنه قال: " بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض أسفاره " - وامرأة من الأنصار على ناقة - فضجرت فلعنتها , " فسمع ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: خذوا ما عليها ودعوها , فإنها ملعونة " مسلم 6604
    سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سفر میں ایک انصاری عورت اپنے اونٹ پر سوار تھی، اس عورت نے اونٹ کو ڈانٹا اور اس لعنت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا اس پر جو سامان ہے وہ اتار لو اور اسے چھوڑ دو اس لیے کہ وہ لعنت زدہ ہے۔"

    حدثنا أبو كامل الجحدري فضيل بن حسين حدثنا يزيد يعني ابن زريع حدثنا التيمي عن أبي عثمان عن أبي برزة الأسلمي قال بينما جارية على ناقة عليها بعض متاع القوم إذ بصرت بالنبي صلى الله عليه وسلم وتضايق بهم الجبل فقالت حل اللهم العنها قال فقال النبي صلى الله عليه وسلم لا تصاحبنا ناقة عليها لعنة "مسلم
    سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک باندی اپنے اونٹ پر سوار تھی جس پر بعض لوگوں کا سامان لدا ہوا تھا۔ اچانک اس عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا کہ لوگوں پر پہاڑ تنگ ہوگيا تھا۔ اس نے اونٹنی کو چلانے کے لیے آواز نکالی اور کہا : اے اللہ! اس پر لعنت بھیج۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا " ایسی اونٹنی ہمارے ساتھ رہ ہے جس پر لعنت ہے۔"

    اونٹنی سے سامان اتارنے کور اس کا کجاوا نکالنے کا حکم اس لیے دیا تاکہ وہ عورت اس پر سواری نہ کرسکے۔ اس عورت کے حق میں بطور سزا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا تاکہ آئندہ کوئ شخص سواری کو لعن طعن نہ کرے۔ (شرح النووی علی مسلم بان النھی عن لعن الدواب و غیرھا)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,523
    سواری پر آگے بیٹھنے کا حقدار کون؟

    حدثنا أبو عمار الحسين بن حريث حدثنا علي بن الحسين بن واقد حدثني أبي حدثني عبد الله بن بريدة قال سمعت أبي بريدة يقول [​IMG]بينما النبي صلى الله عليه وسلم يمشي إذ جاءه رجل ومعه حمار فقال يا رسول الله اركب وتأخر الرجل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأنت أحق بصدر دابتك إلا أن تجعله لي قال قد جعلته لك قال فركب (سنن الترمذی 2772)

    سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبئ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جارہے تھے کہ اچانک ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس کے ساتھ اس کا گدھا بھی تھا۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو جایے اور وہ خود پیچھے ہٹ گيا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی سواری کے اگلے مقام کے زیادہ مستحق ہو مگر یہ کہ تم اپنا حق مجھے دے دو۔" وہ بولا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا حق دے دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہۓ۔

    سواری کے جانور کا خیال رکھنا۔

    حدثنا محمد بن المثنى حدثني محمد بن جعفر حدثنا شعبة عن حمزة الضبي قال سمعت أنس بن مالك قال كنا إذا نزلنا منزلا لا نسبح حتى تحل الرحال (ابی داؤد 2551)
    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں " جب ہم کسی منزل پر اترتے تو اس وقت نماز نہ پڑھتے جب تک اونٹوں پر سے کجاوہ نہ اتار لیتے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,523
    سر سبز زمین پر پڑاؤ کرنا
    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    " إذا أخصبت الأرض فانزلوا عن ظهركم وأعطوا حقه من الكلأ وإذا أجدبت الأرض
    فامضوا عليها وعليكم بالدلجة، فإن الأرض تطوى بالليل ". (السلسلہ صحیحہ 682)
    " جب سر سبز و شاداب زمین آ جاۓ تو اپنی سواری سے نیچے اتر آیا کرو اور اسے چرنے دیا کرو اور جب قحط زدہ زمین آ جاۓ تو اس پر سوار ہو جایا کرو۔"

    خواتین کی موجودگي میں سواری آہستہ چلانا

    حدثنا مسدد حدثنا حماد عن ثابت البناني عن انس بن مالك وايوب عن ابي قلابة عن انس بن مالك قال:‏‏‏‏ كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر وكان معه غلام له اسود يقال له:‏‏‏‏ انجشة يحدو فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏"ويحك يا انجشة رويدك بالقوارير".
    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ آپ کا حبشی غلام تھا۔ اس کو انجشہ کہا جاتا تھا و حدی پڑھ رہا تھا (جس کی وجہ سے سواری تیز چلنے لگی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "افسوس! اے انجشہ آبگینوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چلو۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں