سوچنے سمجھنے کی باتیں :: افتخار اجمل بھوپال

sjk نے 'ادبی مجلس' میں ‏فروری 15, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. sjk

    sjk -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 8, 2007
    پیغامات:
    1,756
    اچھی حکمتِ عملی

    مطالبات کم رکھیئے اور ترجیحات اپنائیے

    کوئی چیز یا عمل دسترس سے باہر ہو تو اپنے آپ کو سمجھائیے
    “میں اِس کو ترجیح دیتا ہوں لیکن اگر وہ ہو جائے تو بھی ٹھیک ہے”
    یہ ذہنی رُحجان اور رویّہ کی تبدیلی ہے جو ذہنی سکون مہیّا کرتی ہے

    نتیجہ یہ ہو گا کہ

    آپ کی ترجیح ہے کہ لوگ آپ کے ساتھ شائستگی سے پیش آئیں لیکن اگر وہ ایسا نہ بھی کریں تو آپ کا دن برباد نہیں ہو گا۔
    آپ کی ترجیح ہے کہ آج دھوپ نکلے لیکن اگر بارش ہو جائے تو بھی آپ کو کوفت نہیں ہو گی

    مصنف : افتخار اجمل بھوپال
     
  2. sjk

    sjk -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 8, 2007
    پیغامات:
    1,756
    قانونِ قدرت​


    سیب یا ناشپاتی میں آٹھ دس تخم یا بِیج ہوتے ہیں اور ایک درخت پر سو سے پانچ سو تک سیب یا ناشپاتیاں لگتے ہیں ۔ کبھی آپ نے سوچا کہ اتنے زیادہ بیج کیوں ہوتے ہیں جبکہ ہمیں بہت کم کی ضرورت ہوتی ہے ؟

    دراصل اللہ سُبحَانُہُ و تَعَالَی ہمیں بتاتا ہے کہ سب بیج ایک سے نہیں ہوتے ۔ کچھ اُگتے ہی نہیں ۔ کچھ پودے اُگنے کے بعد سوکھ جاتے ہیں اور کچھ صحیح اُگتے ہیں اور پھل دیتے ہیں ۔ اِس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ


    ایک ملازمت حاصل کرنے کے لئے درجنوں انٹرویو دینا پڑتے ہیں
    ایک اچھا آدمی بھرتی کرنے کے لئے درجنوں اُمیدواروں کو انٹرویو کرنا پڑتا ہے
    ایک گھر یا کار بیچنے کے لئے درجنوں لوگوں سے بات کرنا پڑتی ہے
    ایک اچھا دوست بنانے کے لئے بہتوں سے دوستی کرنا پڑتی ہے

    افتخار اجمل بھوپال
     
  3. sjk

    sjk -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 8, 2007
    پیغامات:
    1,756
    خوبصورتی


    اللہ نے ہر انسان میں خوبصورتی رکھی ہے مگر اسے بہت کم لوگ پہچان پاتے ہیں

    انسان صورت کا دِلدادہ ہے لیکن اصل خوبصورتی سیرت میں ہے

    خوبصورتی یہ ہے کہ والدین وہی عمل اختیار کریں جس کی وہ بچوں کو ترغیب دیتے ہیں

    خوبصورت عمل یہ ہے کہ بچوں کے سامنے والدین ایک دوسرے کا احترام کریں

    افتخار اجمل بھوپال
     
  4. sjk

    sjk -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 8, 2007
    پیغامات:
    1,756

    حِکمت

    کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ درست آدمی یا راستہ کی تلاش میں ہمارا واسطہ غلط قسم کے آدمی سے پڑ جاتا ہے ۔

    شاید یہ اس لئے ہوتا ہے کہ جب ہم درست آدمی سے ملیں یا صحیح راستہ کو پا لیں تو ہم اس کی قدر و منزلت کو پہچان سکیں
    اور یہ نعمت عطا کرنے والے کا صحیح طور شکر ادا کریں


    مصنف : افتخار اجمل بھوپال
     
  5. sjk

    sjk -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 8, 2007
    پیغامات:
    1,756
    خوش قسمت

    جس کے بنک اکاؤنٹ میں اور بٹوے میں رقم ہے وہ دنیا کے صرف 8 فیصد امیر ترین لوگوں میں سے ہے

    جس کے والدین زندہ ہیں اور اس کے پاس ہیں وہ دنیا کے قلیل خوش اخلاق لوگوں میں سے ہے

    جو شخص یہ تحریر پڑھ سکتا ہے وہ دنیا کے دو ارب لوگوں سے زیادہ خوش قسمت ہے جو کہ پڑھ نہیں سکتے

    جو کسی کا ہاتھ تھام سکتا ہے ۔ کسی کو گلے لگا سکتا ہے ۔ کسی کے کاندھے پر تھپکی دے سکتا ہے اُسے مبارک ہو کہ وہ ہردم اللہ کی خوشنودی کماتا ہے

    مصنف : افتخار اجمل بھوپال
     
  6. sjk

    sjk -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 8, 2007
    پیغامات:
    1,756
    بڑائی کِس میں ہے ؟

    بڑائی اِس میں ہے کہ
    * آپ نے کتنے لوگوں کو اپنے گھر میں خوش آمدَید کہا نہ کہ آپ کا گھر کتنا بڑا ہے
    * آپ نے کتنے لوگوں کو سواری مہیّا کی نہ کہ آپ کے پاس کتنی بڑی کار ہے
    * آپ کتنی دولت دوسروں پر خرچ کرتے ہیں نہ کہ آپ کے پاس کتنی دولت ہے
    * آپ کو کتنے لوگ دوست جانتے ہیں نہ کہ کتنوں کو آپ دوست سمجھتے ہیں
    * آپ محلہ داروں سے کتنا اچھا سلوک کرتے ہیں نہ کہ کتنے عالیشان محلہ میں رہتے ہی

    مصنف : افتخار اجمل بھوپال
     
  7. sjk

    sjk -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 8, 2007
    پیغامات:
    1,756
    عقل اور سمجھ ؟​
    : افتخار اجمل بھوپال
    عقل اور سمجھ دونوں ہی لطیف یعنی نہ نظر آنے والی چیزیں ہیں اور انہیں دوسرے عوامل کی مدد سے پہچانا اور ان کا قیاس کیا جاتا ہے ۔ عام طور پر انسان ان دونوں کو آپس میں گُڈ مُڈ کر دیتے ہیں حالانکہ یہ دونوں بالکل مُختلٍف عوامل ہیں ۔ عقل بے اختیار ہے اور سمجھ اختیاری ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ عقل آزاد ہے اور سمجھ غلام

    عقل وہ جنس ہے جسے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے ہر جاندار میں کم یا زیادہ رکھا ہے ۔ عقل کی نشو و نما اور صحت ۔ ماحول اور تربیت پر منحصر ہے ۔ سازگار ماحول اور مناسب تربیت سے عقل کی افزائش تیز تر اور صحتمند ہوتی ہے ۔ جس کی عقل پیدائشی طور پر یا بعد میں کسی وجہ سے مفلوج ہو جائے ایسے آدمی کو عام زبان میں پاگل کہا جاتا ہے ۔ عقل اگر کمزور ہو تب بھی جتنا کام کرتی ہے وہ درست ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر جسے لوگ پاگل کہتے ہیں وہ بعض اوقات بڑے عقلمند لوگوں کو مات کر دیتے ہیں ۔ کسی زمانہ میں برطانیہ کے ذہنی بیماریوں کے ہسپتال کا ایک واقعہ بہت مشہور ہوا تھا ۔ ایک دن دماغی امراض کا ماہر ڈاکٹر اپنے کام سے فارغ ہو کر گھر جانے لگا تو اُس نے دیکھا کہ اُس کی کار کے ایک پہیئے کی چاروں ڈھِبریاں [nuts] نہیں ہیں ۔ وہ پریشان کھڑا تھا کہ ایک پاگل نے ہسپتال کی کھڑکی سے آواز دی “ڈاکٹر ۔ کیا مسئلہ ہے ؟” ڈاکٹر نے بتایا تو پاگل کہنے لگا “باقی تین پہیئوں سے ایک ایک ڈھِبری اُتار کر اس پہیئے میں لگا لیں اور راستے میں کسی دکان سے 4 ڈھِبریاں لے کر لگا لیں”

    عقل جانوروں کو بھی تفویض کی گئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی جانور نسل در نسل انسانوں کے درمیان رہے [چڑیا گھر میں نہیں] تو اس کی کئی عادات انسانوں کی طرح ہو جاتی ہیں ۔ اصلی سیامی بِلی اس کی مثال ہے جو بدھ مت کے شروع میں بکشوؤں نے اپنا لی اور پھر نسل در نسل وہ انسانوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے انسانوں کے کچھ اشاروں اور باتوں کو سمجھنے لگی ۔ ہم نے ایک اصل سیامی بلی پالی تھی جو بستر پر سوتی تھی تکیئے پر سر رکھ کر ۔ بلی کی یہ نسل دورِ حاضر میں بہت کم رہ گئی ہے جس کا ذمہ دار انسان ہی ہے

    کچھ جانور انسان کے کچھ عوامل کی نقل کر لیتے ہیں مثال کے طور پر بندر ۔ شِمپَینزی [chimpanzee] ۔ طوطا ۔ مینا ۔ وغیرہ ۔ ایسا اُن کی عقل ہی کے باعث ہوتا ہے جو کہ اُن میں انسان کی نسبت کم اور محدود ہوتی ہے اسی لئے جانور انسان کی طرح ہمہ دان یا ہمہ گیر نہیں ہوتے

    عقل پر ابلیس براہِ راست حملہ آور نہیں ہو سکتا چنانچہ اسے بیمار یا لاغر کرنے کی غرض سے وہ ماحول کا سہارا لیتا ہے ۔ لیکن یہ کام ابلیس کیلئے کافی مشکل ہوتا ہے ۔ آدمی اپنی عقل کو عام طور پر ابلیس کے حملے سے معمولی کوشش کے ساتھ محفوظ رکھ سکتے ہیں

    سمجھ وہ جنس ہے جو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے صرف انسان کو تفویض کی ہے ۔ سمجھ جانوروں کو عطا نہیں کی گئی ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے انسان کو اس کی افزائش ۔ صحت اور استعمال کی آزادی دے رکھی ہے ۔ ابلیس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ انسان کی سمجھ کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لے ۔ انسان کی فطری خود پسندی اور مادی ہوّس کو استعمال میں لا کر کُل وقتی نہیں تو جزو وقتی طور پر یا عارضی طور پر ابلیس اس میں عام طور پر کامیاب رہتا ہے ۔ اگر ابلیس انسان کی سمجھ کو اپنے قابو میں کرنے میں کامیاب ہو جائے تو پھر متعلقہ انسان کو ہر چیز یا عمل کی پہچان ابلیس کے ودیعت کردہ اسلوب کے مطابق نظر آتی ہے ۔ اسی عمل کو عُرفِ عام میں آنکھوں پر پردہ پڑنا کہتے ہیں کیونکہ آدمی دیکھ کچھ رہا ہوتا ہے اور سمجھ کچھ رہا ہوتا ہے

    اُخروی سزا و جزا کا تعلق عقل سے نہیں ہے بلکہ سمجھ سے ہے ۔ سمجھ مادی جنس نہیں ہے اور میرا مفروضہ ہے کہ سمجھ انسان کے جسم میں موجود روح کی ایک خُو ہے ۔ سمجھ کی جانوروں میں عدم موجودگی کی وجہ سے جانوروں کو اچھے بُرے کی تمیز نہیں ہوتی اسی لئے اُنہیں اپنے عمل کے نتیجہ میں آخرت میں کوئی سزا یا جزا نہیں ہے ۔ اُن کی زندگی میں غلطیوں کی سزا اُنہیں اسی دنیا میں مل جاتی ہے اور اس کا تعلق ان کے جسم سے ہوتا ہے

    مندرجہ بالا تحریر میری ساری زندگی کے مشاہدوں اور مطالعہ کا نچوڑ ہے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی ہمیں درست سوچنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری سمجھ کو ابلیس سے محفوظ رکھے



    http://www.theajmals.com/blog/
     
  8. sjk

    sjk -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 8, 2007
    پیغامات:
    1,756
    اچھا کیسے بنیں ؟

    ملامت يا شکائت کرنے سے معاملات نہیں سدھرتے

    جس عمل کی کسی کو فکر ہو ، وہ اُس کی اپنی ذمہ داری ہوتا ہے

    دوسروں میں اچھائی تلاش کرنے والا اپنے آپ کو بہتر بناتا ہے

    کسی کو کچھ دینے سے دینے والے کا ظرف بڑھتا ہے

    کسی کی خُوبی کی تعریف کرنا ایک اچھا تحفہ ہے

    کسی کی تخلیقی صلاحیت کی تعریف خود میں یہ صلاحیت پیدا کرنے کا مُوجب بنتی ہے

    http://www.theajmals.com/blog/
     
  9. sjk

    sjk -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 8, 2007
    پیغامات:
    1,756
    اللہ انسان سے یہ نہیں پوچھے گا کہ

    تم کہتے کیا تھے ؟
    تمہارے خواب کیا تھے ؟
    تم کتنے پڑھے لکھے تھے ؟
    تمہارے خیالات کیا تھے ؟
    تمہارے منصوبے کیا تھے ؟
    تمہارے دعوے کیا تھے ؟

    بلکہ اللہ پوچھے گا کہ تم نے بغیر دنیاوی غرض کے

    کس کو تعلیم دی ؟
    کس کی مدد کی ؟
    کس کا سہارا بنے ؟
    کس کو کھانا کھلایا ؟
    کس کا قصور معاف کیا ؟
    کس کی ڈھارس بندھائی ؟

    http://www.theajmals.com/blog/
     
  10. sjk

    sjk -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 8, 2007
    پیغامات:
    1,756
    اصلاح کے اشارے


    جو اچھائی دوسرے میں نظر آتی ہے وہ دراصل اپنے اندر ہوتی ہے
    جو غلطی دوسرے میں نظر آتی ہے وہ اپنے اندر ہو تی ہے
    جو کام دوسرے کیلئے ممکن محسوس ہوتا ہے وہ اپنے لئے بھی ممکن ہے
    دوسرے کی بات غور سے سننے والے کی باتیں دوسرے بھی سمجھنے لگتے ہیں

    ظاہر ہے کہ کسی چیز کو پہچاننے کیلئے اس کا جاننا ضروری ہے
    دنیا ايک آئینہ ہے جو ہر شخص کو اس کی حقیقت دکھاتا ہے

    جو دنیا کو بہتر بنانے کی تمنا رکھتا ہے اُس کیلئے لازم ہے کہ پہلے خود کو بہتر کرے

    http://www.theajmals.com/blog/
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں