شاہ دولہ کے چوہے

محمد مقیم نے 'طنزیہ و مزاحیہ نثری تحریریں' میں ‏فروری 24, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد مقیم

    محمد مقیم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 12, 2016
    پیغامات:
    30
    شاہ دولہ کے چوہے
    ایم۔ اے۔ فاروقی

    کہتے ہیں کہ شاہ دولہ یا شاہ ڈولہ عہد مغلیہ کے بہت بڑے بزرگ تھے، عالم تصوف کے مطابق ہر شہر میں ایک شاہ ولایت ہوتا ہے، شاہ دولہ ضلع گجرات پنجاب کے شاہ ولایت تھے، ایک بار ایک پیر نے دعوی کر دیا کہ گجرات کی ولایت کا وہ اصلی وارث ہے، شاہ دولہ نے اپنی کرامت سے اسے عالم بالا میں گجرات کا دیدار کرایا، اس نے دیکھا کہ شاہ دولہ کرسی ولایت پر جلوہ آرا ہیں فورا معافی مانگی اور شاہ دولہ کا مرید ہوگیا۔
    صوفیائےکرام کی کراماتی داستانیں بھی طلسم ہوش ربا سے کم دل چسپ نہیں ہو تی ہیں, شاہ دولہ کی جائے پیدائش کا تو پتہ نہیں، نہ نسبی شجرہ محفوظ ہے ہاں شجرۂ بیعت کا ذکر ضرور ملتا ہے، تذکرہ نگار کہتے ہیں کہ آپ پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی کے عم زاد تھے گویا آپ چھٹی صدی ہجری میں پیدا ہوئے اور اورنگ زیب کے کے عہد میں تقریبا پانچ سو چھیاسی سال کی عمر مین وفات پائی یعنی حضر ت نوح علیہ السلام سے صرف تین سو اور کچھ سال کم۔
    شاہ دولہ کا اصل نام تو وقت کے اندھیروں میں گم ہو گیا، مورخین "دولہ" کی وجہ تسمیہ بتلاتے ہیں کہ آپ کھیما وڈیرہ ساکن سیالکوٹ کے غلام تھے، لوگ آپ کو گولہ یعنی غلام کہتے تھے،آپ آزاد ہوگئے، لیکن نام گولا ہی رہا پھرگولا سے دولہ اور دولہ سے شاہ دولہ ہوگئے،ایک صوفی صاحب تو اور دور کی کوڑی لائے، ان کا کہنا ہے کہ شاہ دولہ در اصل وہ دولہا تھا جو برات سمیت دریائے دجلہ مین ڈوب گیا اور غوث اعظم کی کرامت سے بارہ سال بعد ابھرا[جمنا پار والے دولھا کو دولا بولتے ہیں جس طرح دلی والی پتھر کو فتر بولتے ہیں۔ آپ کا خطاب "دریائی گنج بخش" ہے گنج بخش کا خطاب تو سمجھ میں آتا ہے لیکن دریائی کا خطاب یقیناً تشریح طلب ہے، ایک ضعیف روایت سے پتہ چلتا ہے کہ شاہ دولہ نے دریائے چناب کے ایک بڑے سیلاب سے گجرات کو اپنی کرامت سے بچایا تھا، اسی وقت سے آپ کا نام دریائی ہوگیا۔
    درازئ عمر کی وجہ بھی کراماتی ہے، ایک بار شاہ دولہ نے وضو کراتے وقت بڑے پیر حضرت جیلانی سے پوچھا کہ آب حیات کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ' میرے ایک چلو پانی میں ۷۰۰ سال کی عمر ہے، شاہ دولہ نے لپک کر پانی پی لیا اور تقریباً چھ سو سال کی عمر پائی، اسی طرح کا واقعہ شاہ دولہ کے مرید اور خلیفۂ مجاز منور شاہ الہ آبادی کے ساتھ بھی پیش آیا،انھوں نے بھی پانچ سو سال کی عمر پائی، باطن کی دنیا میں اس قسم کے واقعات نہ حیرت انگیز ہیں نہ مضحکہ خیز ، لیکن مشکل یہ ہے کہ ان روایات کی تائید نہ تاریخ کرتی ہے نہ تذکرہ کی مستند کتابیں شہادت دیتی ہیں، ، حقیقت صرف اتنی ہے کہ شاہ دولہ سن ۲۵ جلوس اکبری میں پیدا ہوئے، آپ نے اکبر کا کچھ دور، جہاں گیر اور شاہجہاں کا پورا دور دیکھا، ،گھومتے پھرتے سیاکوٹ میں وارد ہوئے سیدنا سرمست سے بیعت ہوئے ، جن کا تعلق سلسلۂ سہروردیہ سے تھا، پہلے سیالکوٹ کی نواح مین مقیم ہوئے، پھر ضلع گجرات میں چناب کے کنارے اپنا مسکن بنایا اور وھیں پوری زندگی گزار دی،عہد عالم گیری میں سن ۱۶۷۶ء مین انتقال ہوا، مرنے کے بعد بھی آپ کا یہ دبدبہ تھا کہ سال میں ایک بار دریائے چناب کا پانی آپ کو سلام کرنے ضرور حاضر ہوتا ، یہ دوسری بات ہے کہ اس کی یہ سلامی ضلع گجرات کے لئے وبال جان بن جاتی اور درگاہ کی سلامتی خطرے میں پڑجاتی، بعد میں آپ کے کسی معتقد نے درگاہ کا چبوترہ اونچا کروا دیا ۔
    شاہ دولہ دریائی حقیقت میں سخاوت کے دریا تھے، جو کچھ انھیں خزانۂ غیب سے ملتا تھا سب غربا اور مساکین میں تقسیم کردیتے، چرند، پرند اور درند بھی آپ سے مانوس تھے، ہرن کے بچوں کو لاڈ دلار سے پرورش کرتے اور وہ بڑے ہوجاتے تو ایک مخصوص کلغی پہنا کر انھیں جنگل میں چھوڑ دیتے،شکاری انھیں دیکھتے ہی سمجھ جاتا کہ یہ شاہ دولہ کے لاڈلے ہیں،مشہور ہے کہ آپ کے پروردہ شیروں کی زندگیاں آپ ہی کی طرح طویل ہوتیں، تاریخ باطن کے مطابق آپ کا آخری شیر سن ۱۸۸۵ء تک زندہ رہا، شائد آج بھی زندہ ہوتا، اگر ایک انگریز افسر نے اسے خطرناک سمجھ کر گولی نہ مار دی ہوتی۔
    شاہ دولہ کی شہرت کا سب سے بڑا سبب وہ معذور بچے تھے جو ان کی محبت کا مرکز تھے، انھیں شاہ دولہ کے چوہے کہتے ہیں، ان کے سر چھوٹے، کان بڑے اور منھ چوہے کے مانند ہوتے ، وہ گونگے ، بہرے اور ہوش و خرد سے بیگانے ہوتے ، علم باطن کے مطابق اولیا و اقطاب کی طاقت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ، وہ (نعوذ باللہ) کائنات کے نظام کو چلاتے ہیں،ان تمام صفات کے حامل ہیں، جو صرف اللہ کے ساتھ خاص ہیں، وہ مرتے نہیں ہیں ،پردہ کرتے ہیں، علم تصوف کی اصطلاح میں ان کی چار دنیائیں ہیں عالم ناسوت، عالم جبروت، عالم ملکوت اور عالم لاہوت۔صرف صوفیائےکرام کے مریدین ہی ان دنیاؤں کے واقعات اورسرگرمیوں سے باخبر ہوتے ہیں یا اردو و فارسی کے بڑے شعرا جن کی شاعری کو عارفانہ کلام کہا جاتا ہے، اولیائے کرام کی یہ داستانیں انسانی ادراک و شعور سے پرے ہیں، لیکن ان کی دنیا مین سب کچھ ممکن ہے، جسد خاکی آستانوں کی زینت بنا رہتا ہے اور روحیں پائے عرش تھامے رقص کرتی رھتی ہیں۔
    فارسی کی مشہور کہاوت ہے کہ "پیر خود نمی پرد مریداں می پر آنند"یعنی پیر خود نہیں اڑتا ہے اس کے مرید اسے اڑاتے ہیں، شاہ دولہ کے معتقدین کے عقیدے کے مطابق دیگر اولیا کی طرح وہ بھی بے اولاد جوڑوں کو اولاد سے نواز سکتے تھے، آپ کے تذکرہ نگاران بیان کرتے ہیں کہ اپ کی دعاؤں کے طفیل پہلا بچہ چوھا پیدا ہوتا یعنی بے عقل چھوٹے سر، لمبے کانوں اور چوہوں جیسے منھ والا بچہ، اس بچے کووہ شاہ دولہ کی نذر کر دیتے، جسے وہ بخوشی قبول کر لیتے تھے،اگر کوئی جوڑا وعدہ خلافی کرتا تو دوسرا بچہ بھی ناقص الخلقت پیدا ھوتا، یہ بچے شاہ دولہ کی نگرانی مین پرورش پاتے ،نذر ماننے کا یہ سلسلہ ان کے انتقال کے بعد بھی جاری رہا، بانجھ عورتیں ان کی درگاہ پر آکر منت مانتیں اور بامراد لوٹتیں، پہلوٹھی کا بچہ چوہا پیدا ہوتا، جسے وہ درگاہ کی نذر کر دیتیں، درگاہ شاہ دولہ کے متولیوں نے ان بچوں کو مستقل آمدنی کا ذریعہ بنا لیا، وہ ان بچوں کو ٹھیکہ پر درویشوں اور فقیروں کو دے دیتے یا فروخت کر دیتے اس طرح ان سے بھیک منگوانے کا کاروبار عروج پاگیا، زندہ انسانوں کے اس چڑھاوے کی داستان بڑی دردناک ہے، یہ معصوم، معذور ، بے زبان بچے گلیوں، کوچوں، درگاہوں اور مسجدوں کے دروازوں پر بھیک مانگتے نظر آتے اور وحشی درویشوں کا جنسی شکار بنتے، اپنے حقیقی ماں باپ کی محبت سے دور سسک سسک کر زندگی گزارنے پر مجبور ان بچوں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا، کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں ضلع گجرات اور اس کے نواح میں یہ سماجی برائی خطرناک لاعلاج مرض بن گئی تھی، وسط ہند کے ٹھگوں کی طرح منظم گروہ سر گرم ہو گئےتھے،وہ ثابت و سالم بچوں کوبھی اغوا کر لیتے ، انھیں آہنی ٹوپی پہنا دی جاتی اور ان کا سر چھوٹا رہ جاتا، ایذائیں دے کر انھیں پاگل اور دیوانہ بنا دیا جاتا۔
    انسان سیاروں کو فتح کرنے میں مصروف تو ہے لیکن وہ معصوم بچوں کو چوہا بننے سے نہ روک سکا، آج بھی بچوں کی تجارت کا کاروبار پوری دنیا میں سرطان کی طرح پھیلا ہوا ہے۔،
    بات ہو رہی تھی شاہ دولہ کے چوہوں کی، ہو سکتا ہے کہ درگاہ شاہ دولہ کے آس پاس ان چوہوں کا وجوداب ختم ہو گیا ہو، لیکن ٹیکنالوجی بہت ترقی کرچکی ہے ،اب ان چوہوں کی ظاہری شکل و صورت عام انسانوں کی طرح ہوگئی ہے ، وہ ہر کام عام انسانوں کی طرح کرتے ہیں ، مگر ان کے ذھن کا ریموٹ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں ہوتا ہے، جو اپنے مقاصد کے لئے انھیں جس طرح چاہتے ہیں استعمال کرتے ہیں، آپ سے ہماری یہی گذارش ہے کہ اپنے دماغ کا خود استعمال کریں، صحیح اور غلط کا فرق کرنا سیکھیں، حق آپ کے سامنے ہے، شاہ دولہ کے چوہے نہ بنیں۔
    23/2/2017
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,213
    بہت خوب ۔۔ رکن کو ٹیگ کرنے کے لئے @محمد مقیم کا آپشن ہے
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  3. Akram Naaz

    Akram Naaz نوآموز

    شمولیت:
    ‏فروری 15, 2017
    پیغامات:
    7
    وعلیکم السلام
    جزاک اللہ
    بہت پیاری شیئرنگ ہمارے ساتھ شیئر کی ہے
    آپکا بہت شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں