شرعی اصطلاحات کے ترجمے / غلط فہم سے پیدا ہونے والی غلطیاں، آپ بھی مثال پیش کریں

شفقت الرحمن نے 'مجلس علماء' میں ‏دسمبر 16, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    643
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    ہماری پیاری شریعت کی اصطلاحات کا اگر ترجمہ کیا جائےیا انکے فہم میں کمی رہ جائے تو کچھ غلط اثرات مرتب ہوتے ہیں انکی 1یک ، ایک مثال میں دیتا ہوں ، مثلا

    منی میں موجود "جمرات" کا معنی "شیطان" کرنا

    عوام الناس کو راقم نے وہاں خود دیکھا ہے کہ وہ اپنے جوتے اتار کر مار رہے ہوتے ہیں اور ساتھ میں یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ یہ "حقیقی شیطان" ہی ہے، اور تو اور اسکو وہاں برا بھلا کہتے ہوئے بھی بعض کو سنا گیا۔


    غلط فہمی کی مثال

    غیبت کے بارے میں یہ کہنا کہ میں یہ بات فلاں شخص کی پیٹھ پیچھے تو کیا اسکے منہ پر کرنے کو تیار ہوں اور اسکا مطلب یہ نکالنا کہ یہ غیبت نہیں ہوگی یقینا آپنے آپ کو دھوکا دینے کے مترادف ہے، کیونکہ غیبت برے وصف کو بیان کرنے کا نام ہے چاہے وہ مذکورہ بالا کسی بھی شکل میں ہو


    اب آپکی باری ہے۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 16, 2011
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,920
    ايك شرعي اصطلاح ہے " وسطیۃ" یا " میانہ روی "
    جسکا معنى ہے تشدد و تساہل کے درمیان والی راہ۔
    لیکن عموما یہ خیال پایا جاتا ہے کہ میانہ روی اسے کہتے ہیں جسے ہمارا معاشرہ مستحسن قرار دے اور جسکی بناء پر کسی کو تنقید کا نشانہ نہ بننا پڑے ۔
    اس غلط فہمی کی بناء پر بہت سے لوگ میانہ روی کو تشدد اور تساہل کو میانہ روی سمجھ بیٹھے ہیں
    مثلا :
    شریعت اسلامیہ میں ازار (شلوار , تہبند وغیرہ) کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا حرام ہے
    اسی طرح گھٹنوں کو ننگا کرنا بھی ناپسندیدہ عمل ہے ۔
    جبکہ ازار کو نصف پنڈلی پر رکھنے کاحکم ہے۔
    اب شرعی اصطلاح کے مطابق شلوار وغیرہ کو نصف پنڈلی پر رکھنا میانہ روی ہے ۔
    نصف پنڈلی سے نیچے رکھنا تساہل اور اوپر رکھنا تشدد ہے ۔
    لیکن ہمارے ہاں عموما یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شلوار وغیرہ کو نصف پنڈلی پر رکھنا یہ تشدد ہے اور ٹخنوں کے قریب قریب لیکن قدرے اوپر رکھنا یہ میانہ روی ہے ۔
    یعنی حرام اور ناجائز کام کو میانہ روی اور میانہ روی کو تشدد سمجھا جانے لگا ہے ۔
    یاد رہے کہ ٹخنوں سے اسقدر قریب شلوار کہ جسکا بار بار ٹخنوں سے نیچے چلے جانے کا اندیشہ ہو ناجائز ہے ۔
    لقولہ صلى اللہ علیہ وسلم ....الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ فَمَنْ اتَّقَى الْمُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ كَرَاعٍ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى أَلَا إِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي أَرْضِهِ مَحَارِمُهُ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,042
    وعليكم السلام ورحمة اللہ وبركاتہ
    ماشاء اللہ بہت مفيد موضوع ہے۔اميد ہے تمام اركان مفيد مشاركت كريں گے۔
    ايك عام غلطى :
    نبي كريم صلى الله عليه وسلم كا ايك خوب صورت فرمان مبارك ہے۔
    [qh]بدأ الإسلام غريبا وسيعود كما بدأ غريبا فطوبى للغرباء(صحيح مسلم) [/qh]
    اسلام ابتدا ميں غريب تھا اور آخرى زمانے ميں ويسا ہی غريب ہو جائے گا جيسا ابتدا ميں تھا ، تو غرباء كے ليے خوش خبرى ہے۔
    اس حديث مبارك ميں غريب اور غربا كو بمعنى فقير وفقراء سمجھنے سے بہت غلط فہمی پيدا ہوئى اور بعض لوگ اس كو فقر وفاقہ كى فضيلت بيان كرنے والى حديث سمجھتے رہے۔۔۔ يہاں عربى لفظ غريب بمعنى "اجنبى" ہے۔ يعنى دين پر عمل كرنے والے جس طرح اس كى ابتدا ميں اجنبى اور انوكھے سمجھے جاتے تھے اسى طرح آخرى زمانے ميں ہو جائيں گے۔ اور ان انوكھے اور اجنبى لگنے والوں کے ليے بشارت ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,920
    اسی " غریب " کے حوالہ سے ایک اور مسئلہ بھی موجود ہے کہ ایک جماعت نے اپنا نام " غرباء " رکھا ہوا ہے اور وہ اس حدیث کا مصداق اپنے آپ کو سمجھتے ہیں ۔
     
  5. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,920
    یہی لفظ " غریب "
    علم مصطلح میں ایسی روایت کے لیے بولا جاتا ہے جسے روایت کرنے والا صرف ایک راوی ہو ۔
    لیکن عام طور پر لوگ " غریب حدیث" کو ضعیف سمجھتے ہیں ۔
    حالانکہ صحیح بخاری کی سب سے پہلی اور آخری حدیث غریب ہی ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,920
    ایک اہم وضاحت

    اس بارہ میں ایک وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ صحیح بخاری کی پہلی حدیث انما الاعمال بالنیات غریب نسبی ہے غریب مطلق نہیں !
    کیونکہ یہ روایت سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی مروی ہے ملاحظہ فرمائیں :
    أبو الحسن طیوری اپنی " طیوریات " میں فرماتے ہیں :
    أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَدَائِنِيُّ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَوْمَسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ "
    اسی طرح ابو الطاہر السلفی مشیخۃ بغدادیہ کے جزء ۳۵ میں فرماتے ہیں :
    حدثنا عمر بن محمد يعني الزيات، نا إبراهيم بن عبد الله بن أيوب المخرمي، نا نوح بن حبيب القومسي، نا عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي داود، نا مالك بن أنس، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد الخدري، قال: قال رسول الله k: " إنما الأعمال بالنيات ولكل امرئ ما نوى فمن كانت هجرته إلى الله وإلى رسوله فهجرته إلى الله وإلى رسوله، ومن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو امرأة ينكحها فهجرته إل ما هاجر إليه "
    اور یہ دونوں سندیں حسن ہیں ۔
    اسکے علاوہ عبد اللہ بن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے بھی یہ روایت مروی ہے لیکن اسکی سند شدید ضعیف ہے ۔
     
  7. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    643
    اضحیہ ، ہدی اور فدیہ میں جانور ذبح کرنے کو صرف لفظ " قربانی " سے تعبیر کرنا حالانکہ یہ تینوں علیحدہ علیحدہ ہیں اور انکے احکام بھی علیحدہ ہیں

    اضحیہ قربانی والے دن(غیر حاجی کی جانب سے) ذبح ہونے والے جانورپر بولا جاتا ہے اسی سے لفظ عید الاضحی ہے۔
    ہدی اس جانور کو کہا جاتا ہے جو آدمی اپنے گھر سے مکہ کی جانب بھیجے کہ اسے حدود حرم میں ذبح کیا جائے، یا جو جانور حاجی عمل ِحج کے طور پر ذبح کرے۔
    فدیہ اس جانور کہا جاتا ہے جو حاجی کسی غلطی کے ارتکاب کے کفارے کے طور پر ذبح کرتا ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 2, 2012
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  8. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    643
    لفظ "بہن" کا غلط فہم

    ہمارے معاشرے میں بے پردگی تو ویسے ہے ہی بہت زیادہ ہے اور اس پر افسوس اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب اس کام کے لئے شرعی اصطلاحات کو استعمال کیا جائے جیسے کہ ایک بار گاڑی میں سفر کرتے ہوئے ایک شخص کو جگہ نہیں ملی غور کرنے پر ایک خاتون کے ساتھ سیٹ خالی تھی پہلے تو وہ ہچکچایا اور پھر یہ کہہ کر خاتون کے ساتھ بیٹھ گیا "تسی تے میری بہناں رنگی او" یعنی آپ تو میری بہن کی طرح ہو اور میں اپنی بہن کا محرم ہوں تو آپکا بھی محرم ہوں جب میں اپنی بہن کے ساتھ بیٹھ سکتا ہوں تو آپ کے ساتھ بھی۔

    اب اس "بہن" کے لفظ کو غلط استعمال کر کے اس لفظ کے تقدس کو پامال کیا جاتا ہے اور لڑکی کے ماں باپ خود سے اس کا ارتکاب کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جسکی مثال ہمارے ہاں "کزن" کی شکل میں موجود ہے، کتنے ایسے گھرانے ہیں جن میں کزن کو "بہن" بنا کر ان سے بے پردگی کا ارتکاب کروایا جاتا ہے!!جبکہ اللہ تعالی نے (سورہ نساء : 23)واضح انداز میں ان رشتوں کا تذکرہ کردیا ہے جن سے پردہ نہیں ہے باقی سب سے ہےاسی طرح چند رشتوں کا اضافہ حدیث کی رو سے بھی ہوتا ہے۔

    اللہ تعالی ہمیں صحیح طور پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,042


    ايك حديث مبارك جس كے ترجمے كى وجہ سے بعض عجمى شيوخ اس كا مفہوم عام كر بيٹھے، اصل مفہوم برادر مكرم رفيق طاھر كى زبانى :
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    643
    مسجد اور مصلی میں فرق نہ کرنا

    "مسجد" کے خاص شرعی احکام ہیں وہ احکام کسی دوسری جگہ کے نہیں ہو سکتے اور کسی بھی جگہ کو مسجد قرار دینے کیلئے کچھ شرائط ہیں مثلا:

    روزانہ پانچ وقت باجماعت نماز کا اہتمام ہو جمعہ کی ادائیگی شرط نہیں ہے۔
    باقاعدہ امام مقرر ہو۔
    نمازوں کیلئے باقاعدہ آذان دی جائے۔

    اگر کسی جگہ یہ تمام شرائط بیک وقت موجود نہ ہوں تو اسے مسجد نہیں کہا جائے گا بلکہ "مصلی" جائے نماز کہا جائے گا اور اس کے احکام مسجد والے نہیں ہونگے، جیسے کہ مسافر خانوں میں اکثر "مصلی" ہی ہوتی ہیں جبکہ مسجدیں کم۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,042
    جزاك اللہ خيرا وبارك فيك ۔
     
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,042
  13. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    643
    زبان زد عام قاعدہ

    عام لوگوں میں مشہور ہے کہ "جس سے شادی نہیں ہو سکتی اس سے پردہ نہیں ہے" یہ درست نہیں ہے کیونکہ کہ بیوی کی موجودگی میں سالی سے نکاح نہیں کیا جاسکتا اور اسی طرح جس شخص نے چار شادیاں کی ہوئی ہیں وہ ابھی شادی نہیں کرسکتا تو کیا اب ان دونوں افراد کیلئے سالی اور دیگر تمام خواتین سے پردہ ختم ہو جائے گا؟ نہیں اس لئے درست عبارت یہ ہے کہ "جس سے کسی بھی صورت میں شادی نہیں ہو سکتی اس سے پردہ نہیں ہے"۔

    یہ بات اس لئے لکھی ہے کہ ایک صاحب کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ سالی سے پردہ نہیں ہے کیونکہ اس سے شادی نہیں ہوسکتی۔
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 28, 2012
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,920
    اس عبارت کی مزید اصلاح کریں کیونکہ ازواج النبی صلى اللہ علیہ وسلم سے بھی کسی بھی صورت شادی کرنا جائز نہ تھا لیکن پردہ ان سے بھی فرض تھا ۔
     
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,042
    مجھے قرآن اور حدیث کے متداول اردو تراجم میں اکثر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ دوسری زبانوں میں پڑھا ، اب اپنے لوگوں سے بات اسی اردو میں کرنی ہے جو سالوں پہلے طاق پر رکھ دی تھی ۔ سب سے بنیادی مسئلہ عام فہم سلیس ترجمے کا ہے ۔ قرآنی تراجم کے مسئلے پر پھر بھی لوگ کام کر رہے ہیں اور صورت حال بہتر ہو رہی ہے، لیکن حدیث پر بہت کام کی ضرورت ہے ۔ بعض اوقات ترجمے میں روح ختم ہو جاتی ہے ۔ مثلا:
    اذا مات ابن آدم انقطع عملہ ۔۔۔۔
    جب ابن آدم مر جاتا ہے تو اس کا عمل موقوف ہو جاتا ہے ۔۔۔۔
    یہ ترجمہ بہت عام ہے ، لیکن موقوف کا انقطع سے جو بھی تعلق ہو عام اردو سے کیا تعلق ہے ؟ ایک عام شخص کو کیا سمجھ آئی ہو گی ؟ شاید یہ کسی پرانی کتاب کا ترجمہ ہے ۔ لیکن یہ اب تک ایسا ہی چل رہا ہے ۔ ایسا ترجمہ عام کتاب میں لکھا ہو، کسی گرافک میں نظر آئے تو عام انسان کسی طرح مطلب معلوم کر لیتا ہے ۔ لیکن دعوتی خطاب میں جہاں خطیب یا مقرر کے پاس گنے چنے منٹ ہوتے ہیں اور بات آئی گئی ہو جاتی ہے وہاں یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں سامع کو ہم سے دور کر دیتی ہیں ۔ وہ سوچتا ہے پتہ نہیں جناتی زبان میں کیا باتیں ہو رہی تھیں ۔
    یہ مسئلہ صرف میرا نہیں ہے زیادہ تر داعی خواہ مدارس و دینی جامعات سے نکلے ہوں یا عصری جامعات (یونیورسٹیز) سے ، سب کا یہی مسئلہ ہے ۔ ہم سب اپنی اپنی جگہ کوشش کر کے اپنے موضوع کے متعلق نصوص (آیات و احادیث ) کے ترجمے میں ترمیم کرتے ہیں تا کہ اسے اپنے سامع کو سمجھا سکیں ۔ لیکن یہ انفرادی محنت ہے ۔ اگر اس پر اجتماعی کام ہو تو اچھا ہے ۔
    مجھے لگتا ہے قرآن کی طرح حدیث کے تراجم بھی مسلسل جاری رہنے چاہییں ۔ اردو جتنی تیزی سے بدل رہی ہے اتنی ہی تیزی سے جدید اردو میں ترجمہ حدیث بھی سامنے آنا چاہیے۔
    البتہ جب تک ایسے نئے تراجم سامنے نہیں آتے میں رضاکارانہ کام کرنے والوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ آیات یا احادیث کے ترجمے کو معمولی نہ جانیں ، عموما ماہرین کے مشورے سے مستند تراجم استعمال کریں، کوئی متروک یا مشکل قسم کا لفظ ہو تو خود متبادل لفظ سے ترمیم کرلیں اور ایک مرتبہ کسی ماہر سے ضرور تصدیق کروا لیں ۔ بظاہر تو یہ بڑا لمبا کام ہو جائے گا لیکن غلط ترجمے کی غلط فہمیاں پھیلانے سے بہتر ہے آپ درست بات پہنچائیں ۔ اللہ کے لیے کیے گئے کام کو معیاری بھی ہونا چاہیے ۔ چاہے تھوڑی سی دیر لگے ۔
     
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,042
    ترجمہ حدیث میں خیانت کی مثال :
     
  17. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,042
    من صام رمضان ایمانا واحتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ
    اس حدیث کے ترجمے میں عموما احتساب کا ترجمہ احتساب ہی کر دیا جاتا ہے حالاں کہ اردو میں احتساب دوسرے معنوں میں مستعمل ہے ۔
    درست ترجمہ ہے ثواب حاصل کرنے کی نیت
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,042
    سنت کی اصطلاح محدثین، اصولیوں اور فقہاء کے ہاں کچھ اختلاف کے ساتھ استعمال ہوتی ہے بعض اوقات لوگ اس کا درست معنی سمجھ نہیں پاتے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,042
    سورۃ یوسف آیت 3 میں آنے والی ترکیب احسن القصص کا ترجمہ بہت سے اردو مترجمین نے اچھا قصہ یا بہترین قصہ کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ غلط فہمی عام ہوتی جا رہی ہے کہ "حضرت یوسف کی کہانی سب سے بہترین کہانی ہے"۔
    اردو میں سب سے درست ترجمہ جو مجھے ملا، مولانا محمد جونا گڑھی رحمہ اللہ کا ہے:
    نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَـٰذَا الْقُرْآنَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ ﴿٣
    ہم آپ کے سامنے بہترین بیان پیش کرتے ہیں اس وجہ سے کہ ہم نے آپ کی جانب یہ قرآن وحی کے ذریعے نازل کیا اور یقیناً آپ اس سے پہلے بے خبروں میں سے تھے ۔

    یہ امام ابن تیمیہ کی اس رائے کے عین مطابق ہے کہ احسن القصص کا معنی دراصل احسن الحدیث ہے اور اس کا مطلب اچھا قصہ سمجھنے والے اسے زیر سے قِصص سمجھ رہے ہیں جو کہ غلط ہے۔
    اس مثال سے ایک بار پھر معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے محض عجمی تراجم پر انحصار کرلینے والے خود کو کتنا محروم رکھتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  20. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    643
    قرآن کریم کے اردو تراجم میں غلطی کا ایک بہت بڑا سبب یہ بھی ہے کہ علوم قرآن میں سے "الاشباہ و النظائر" کو ترجمہ کرتے ہوئے زیر نظر نہیں رکھا جاتا، اور ایک لفظ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی آئے اس کا ایک ہی ترجمہ لکھ دیا جاتا ہے، مثلاً: قرآن مجید میں:
    خیر
    اُمّہ
    اور دیگر کئی الفاظ مختلف جگہوں میں مختلف مراد رکھتے ہیں، اگر ان کا ترجمہ ہر جگہ ایک ہی کیا جائے گا بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں