شش عیدی روزے اور اس کے مسائل

مقبول احمد سلفی نے 'ماہِ شوال' میں ‏جون 29, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    410
    شش عیدی روزے اور اس کے مسائل
    مقبول احمدسلفی

    رمضان المبارک کا روزہ ختم ہونے کے بعد شوال کے چھ روزوں کی صحیح احادیث ترغیب ملتی ہے ۔ ان چھ روزوں کی بڑی فضیلت آئی ہے ۔ تزکیہ نفس، عمل پہ مداومت اور مسلسل عبادات مومن کی میراث ہے ۔جہدمسلسل کے ذریعہ بندہ معمولی عمل سے رب کو پالیتاہے اور اس کی رضا حاصل کرکے رحمت ومغفرت کا مستحق بن جاتاہے ۔ شوال کے چھ روزے بھی انہیں غنیمت کے اعمال میں سے ہیں اسے ہمیں لازم پکڑنا چاہئے ۔

    شوال کے چھ روزے کی دلیل دیکھیں۔

    عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ(صحيح مسلم:1164)
    ترجمہ: ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیاکہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ہمیشہ روزے رکھنے (کے ثواب)کی طرح ہیں۔

    قرآن کے اس فرمان : مَن جَاء بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَمَن جَاء بِالسَّيِّئَةِ فَلاَ يُجْزَى إِلاَّ مِثْلَهَا وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ(الانعام :160)
    ترجمہ: جو شخص نیک کام کرے اس کو اس کے دس گنا ملیں گے اور جو شخص برا کام کرے گا اس کو اس کے برابرہی سزا ملے گی اور ان لوگوں پر ظلم نہ ہوگا۔

    کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ ایک نیکی کا بدلہ کم ازکم دس نیکیاں ہیں اس طرح ایک مہینے کے روزے کا اجر دس مہینوں کے برابرہوا۔ اور شوال کے ہرروزے کے بدلے دس دن کا ثواب ، چھ روزوں کا بدلہ ساٹھ یعنی دومہینوں کا ثواب بنتاہے ۔ اس طرح شوال کے چھ روزوں کو رمضان کے ساتھ ملانے سے سال بھر کا ثواب ملتاہے ۔

    ایک دوسری حدیث میں اس بات کی صراحت بھی ملتی ہے ۔ چنانچہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
    صِيامُ شهْرِ رمضانَ بِعشْرَةِ أشْهُرٍ ، و صِيامُ سِتَّةِ أيَّامٍ بَعدَهُ بِشهْرَيْنِ ، فذلِكَ صِيامُ السَّنةِ(صحيح الجامع:3851)
    ترجمہ:رمضان کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں اس کے بعد چھ روزے دو مہینوں کےبرابر ہیں ، اس طرح سے پورے سال کے روزے بنتے ہیں۔

    اس لئے اسے رکھنے کی کوشش کریں فضیلت بھی ملے گی اور بڑے فوائد بھی حاصل ہوں گے ۔ یہ گناہوں کی مغفرت ، تزکیہ نفس، رمضان کی کوتاہی کا تدارک ، شکر الہی کی غنیمت ، مداومت اعمال کا شوق اور اللہ کا پسندیدہ عمل ہے جس پہ دوام کیاگیا۔

    کیا شوال کے روزے مکروہ ہیں؟

    اس سلسلے میں امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبل ؒ نے حدیث کی روشنی میں شوال کے چھ روزے رکھنا صحیح قرار دیا ہے مگر امام حنیفہ رحمہ اللہ نے اسے مکروہ کہاہے ۔ فتاوی عالمگیری اردو،کتاب الصوم کے تحت مذکور ہے۔" شوال کے چھ روزے رکھنا امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک مکروہ ہے خواہ جداجدا رکھے یا پے درپے رکھے"۔ امام مالک ؒ کی طرف بھی کراہت کا قول منسوب کیاجاتاہے ۔

    ان دونوں اماموں کا مسلک صحیح حدیث کے خلاف ہے ، اس وجہ یہ بات رد کردی جائے اور ایسی کوئی بھی بات خواہ اس کا قائل کوئی بھی ہو سنت کے خلاف ہونے پہ دیوار پہ مار دے جائے گی جیساکہ امام مالک ؒ نے کہا بھی ہے ۔

    نبی ﷺ کے سواباقی ہر انسان کی بات قبول بھی کی جاسکتی اور رد بھی۔﴿ارشاد السالک لابن عبدالہادی :1/227 ﴾

    شوال کے چھ روزوں کے مسائل

    ٭ یہ روزے شوال کے مہینے میں ہی رکھنے ہوں گے خواہ مسلسل رکھے جائیں یا ناغہ کرکے ، دونوں صورتیں جائز ہیں کیونکہ اس سلسلے کی حدیث عام ہے۔

    ٭ جن کے اوپر رمضان کے روزوں کی قضا بیماری، سفریا حیض ونفاس کی وجہ سے ہو انہیں پہلے قضا روزے ادا کرنے ہوں گے کیونکہ قضا فریضہ ہے اور یہ نفلی ۔ فریضہ کونفل پہ تقدم حاصل ہے ۔

    ٭یہ روزہ نفلی ہے اس کے لئے بیوی کو شوہر کی اجازت لینے کی ضرورت ہے ، اگر شوہر منع کرے تو رک جائے ۔ اسی طرح حاملہ یا مرضعہ کے لئے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتو نہ رکھنا بہترہے۔

    ٭بعض لوگوں نے عید کے فوراً بعد روزہ رکھنا لکھا ہے حالانکہ اس میں وسعت ہے ، کچھ بعد بھی رکھ سکتے ہیں تاہم مستحب یہی ہے کہ رمضان سے ملاکر رکھے ۔

    ٭بعض لوگ ایک دو روزہ رکھ کے چھوڑ دیتے ہیں ، اس سے شوال کے چھ روزوں کی فضیلت نہیں مل پائے گی ۔ہاں اگر کوئی ایک دو روزہ رکھا اور بیمار پڑگیا ،مزید روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رہی تو ایسے بندوں کو اللہ تعالی مکمل اجر دے گا۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    إذا مرضَ العبدُ ، أو سافرَكُتِبَ له مثلُ ما كان يعملُ مُقيمًا صحيحًا(صحيح البخاري:2996)
    ترجمہ: اگر بندہ بیمار ہوگیا یا سفر درپیش ہوگیا تو اس کو اتنا ہی اجر ملے جتنا حالت اقامت اور تندرستی میں عمل کرتا تھا۔

    ٭ روزوں کے سلسلہ میں ایک بات یہ بھی یاد رکھنی ہے کہ نبی ﷺ نے صرف ہفتے یا صرف جمعہ کا روزہ رکھنا منع کیا البتہ ایک روزہ آگے یا پیچھے کرکے رکھاجاسکتاہے ۔ سوموار اور جمعرات کا اکیلا اکیلا روزہ نبی ﷺ سے ثابت ہے بلکہ بہت بہتر ہے کیونکہ اس دن اعمال اللہ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں۔

    ٭ عید کے دن بھی روزہ رکھنا منع ہے اس لئے عید کے بعدسے روزہ رکھا جائے ۔

    ٭ بعض علماء نے لکھا ہے کہ جنہوں رمضان کا مکمل روزہ نہیں رکھا چاہے عذرشرعی کیوں نہ ہواسے شوال کے چھ روزوں کا ثواب نہیں ملے گا۔یہ رائے درست نہیں ہےکیونکہ حدیث رمضان کا مکمل روزے رکھنے کی بات ہے خواہ قضاکرکے مکمل ہو۔ اللہ تعالی بندوں پر آسانی کرنے والا ہے وہ عذرپہ مواخذہ نہیں کرتا اور عذر کی وجہ سے صحتمندی میں کئے جانے والے عمل کے برابر ثواب دیتا ہے ، اس لئے اللہ سے رحمت کی ہی امید کرنی چاہئے۔

    ٭ اگر رمضان کے بعض روزوں کی قضا باقی ہو تو ایک ہی نیت سے قضا اور شوال کے چھ روزوں کو جمع کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ شوال کے روزوں کی فضیلت ان کے لئے ہے جو رمضان کا مکمل روزہ رکھے ۔اس طرح پہلے وہ قضا رکھ کر رمضان کا روزہ مکمل کرے پھر شوال کے چھ روزے رکھے ۔

    ٭ ایام بیض کے ساتھ ایک نیت سے یہ روزہ رکھا جاسکتا ہے جیساکہ اہل علم نے لکھا ہے۔

    ٭ چھ روزے اگر شوال میں نہ رکھ سکے تو اس کی قضا دوسرے مہینوں میں نہیں ہے کیونکہ یہ روزہ شوال سے ہی متعلق ہے البتہ کسی نے بعض روزے رکھے مثلا پانچ اور ایک روزہ کسی عذر شرعی کی وجہ سے چھوٹ کیا تو بعد والے مہینے میں ایک مکمل کرلے اور اللہ تعالی سے رحمت کی امید رکھے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,523
    جزاک اللہ خيرا شیخ
     
  3. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    643
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    @مقبول احمد سلفی وفقہ اللہ
    "شش عیدی روزے" کیا شوال کے چھ روزوں کے نام میں لفظ "عیدی" کی وجہ بیان ہو سکتی ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    410
    وعليكم السلام ورحمة اللہ و برکاتہ
    یہ ایک نام مشہور ہے لوگوں میں جسے علماء نے بھی استعمال کیا ہے۔ تاہم عیدی لفظ کی وجہ جو میری سمجھ میں آرہی ہے وہ یہ ہے کہ عید شوال کے مہینے میں ہوتی ہے اور عید کے بعد شوال کے چھ روزوں کی فضیلت ہے ، اس عید کی وجہ سے شوال کے روزوں میں بھی عید کا لفظ لگایا گیا ہے۔ اسے شش شوالی روزے کہا جاسکتا تھا مگر عید کے فورا بعد سے ہی ان روزوں کا وقت شروع ہونے کی مناسبت سے ایک اچھا نام شش عیدی روزے رکھا گیا۔
     
  5. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    643
    کیا ایسا ممکن ہے کہ "عیدی" کا لفظ شامل ہونے کی وجہ سے لوگ یہی سمجھنا شروع کر دیں کہ انہیں عید کے فوری بعد رکھنا ضروری ہے؟ کیونکہ کچھ ہندوستانی بھائیوں نے مجھ سے کچھ اسی قسم کا سوال کیا تھا، میں اس وقت تو اس سوال کی اصل وجہ سمجھ نہ سکا، لیکن جب یہ "شش عیدی" نام دیکھا تو لگا کہ شاید یہی اس سوال کی وجہ ہو۔

    اس لیے مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اسے "شوال کے چھ روزے" ہی کہا جائے تو بہتر ہے، اس کی وجہ سے مذکورہ بالا مغالطہ پیدا نہیں ہوتا۔
    اور شاید یہی وجہ ہے کہ آپ نے بھی اپنی تحریر میں اسے نام کو عنوان کے بعد دوبارہ استعمال نہیں کیا۔
     
  6. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    410
    کثرت استعمال تو شوال کے روزے ہی ہیں اور حدیث میں وارد الفاظ کا ترجمہ بھی یہی بنتا ہے اس لئے اس کا استعمال زیادہ بہتر ہے ،میں نے صرف عنوان کے طور پر اسے استعمال کیا ہے تاکہ لوگوں کے ذہن میں موجود رمضان کے بعد شوال کے چھ روزے کا تصور فورا پیدا ہوجائے ۔
    رہا مسئلہ مغالطے کا تو ان روزوں کا نام جو بھی ہو مسائل اپنی جگہ ہوتے ہیں ، مسائل کی جانکاری نام سے نہیں، معلومات حاصل کرنے سے ہوتی ہے ۔ شوال کے چھ روزے کہنے سے بھی عوام کے لئے اس بات کی جانکاری ضروری ہے کہ یہ روزے فوری رکھنے ہیں یا مہینہ بھر رکھنے کی گنجائش ہے اور انہیں مسلسل رکھنے ہیں یا متفرق طور پر بھی رکھے جا سکتے ہیں؟۔ اس قسم کے کئی مسائل ہیں جنہیں شش عیدی روزوں کے مسائل کے تحت میں نے بھی درج کردیا ہے اسے پڑھنے کے بعدپھر ذہن میں کوئی اشکال نہیں رہ جاتا۔ اور عموما جہاں بھی اس پہ مضمون لکھا جاتا ہے تو یہ چند عمومی مسائل بیان کئے جاتے ہیں پھر نام شش عیدی رہے یا شوال کے روزے کسی کو کوئی مغالطہ نہیں ہوگا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    643
    عمدہ

    تو پھر اسے "اچھا نام شش عیدی روزے" سے تعبیر کرنا محل نظر ہی ہوا۔

    بارک اللہ فیکم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,523
    میرے خیال میں شش عیدی کی اصطلاح انڈیا میں ہی رائج ہے۔ چند سال پیشتر شیخ کفایت اللہ نے بھی شوال کے روزوں کے بارے مین ایک مضمون کا عنوان "شش عیدی (شوال کے چھ) روزے" رکھا تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں