صحیح الادب المفرد کے متعلق طاہر القادری کے مضحکہ خیز موقف کا علمی رد

کفایت اللہ نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏مئی 24, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,003
    علامہ البانی رحمہ اللہ نے ایک کتاب لکھی ہے ’’صحیح الادب المفرد‘‘ اس میں‌ علامہ البانی رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ کی کتاب ’’الادب المفرد‘‘ سے صرف وہ احادیث ذکرکی ہیں‌ جوصحیح ہیں اورجوضعیف احادیث تھیں انہیں‌ اس کتاب کے دوسرے حصہ ’’ضعیف الادب المفرد‘‘ میں نقل کیا ہے۔
    ڈاکٹر طاہرقادری صاحب نے نے عوام کو مغالطہ دیتے ہوئے علامہ البانی رحمہ اللہ پر یہ الزام لگایاہے کہ علامہ موصوف نے امام بخاری رحمہ اللہ کتاب ’’الادب المفرد‘‘ سے کئی احادیث کو نکال دیاہے۔
    عرض ہے کہ ڈاکٹرطاہرقادری نے علامہ البانی پرتنقیدکے لئے ان کی سلسلہ تصحیح تضعیف میں سے بالخصوص’’صحیح الادب المفرد‘‘ کا انتخاب کیوں کیا؟؟؟
    یہ بہت اہم سوال ہے اوراس کاجواب طاہرقادری کی مکاری اور مغالطہ بازی کوواضح کرتاہے، غورکریں کہ کیا علامہ البانی رحمہ اللہ نے تصحیح وتضعیف کا یہ کام صرف امام بخاری کی کتاب الادب المفرد ہی کے ساتھ کیا ہے؟؟؟
    ہرگزنہیں بلکہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے تو یہ کام دوسرے درجہ کی کتب احادیث یعنی سنن کے ساتھ بھی کیا ہے ، ان میں سے ہرکتاب کی احادیث کو صحیح اورضعیف کے اعتبارسے دوالگ حصوں میں رکھ دیاہے۔
    اب طاہرقادری کو اگرتنقید ہی کرنا تھا تو علامہ البانی کی کتاب صحیح سنن نسائی کا انتخاب کرتا، صحیح سنن ابوداؤدکا انتخاب کرتا ، صحیح ابن ماجہ کا انتخاب کرتا ، بلکہ اس سے بہتر تھا کہ صحیح الترمذی کا انتخاب کرتا کیونکہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے بہت سی احادیث پر صحت وحسن کا حکم لگایا ہے اورعلامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ٍضعیف الترمذی میں نقل کیاہے؟
    یہ سب دوسرے درجہ کی احادیث اورالادب المفرد کی بنسبت ان کے دفاع کی زیادہ ضرورت ہے لیکن طاہرقادری نے ایسا نہیں کیا کیوں ؟؟؟؟
    تو اصل بات یہ کہ طاہرقادری عوام کے بھولے پن سے فائدہ اٹھا کر انہیں مغالطہ دینا چاہتاہے ،’’صحیح الادب المفرد‘‘ کے انتخاب میں اس کا دومقصد ہے:

    اول: امام بخاری رحمہ اللہ کی مقبولیت اوران کی جلالت علمی مسلمانوں کے بیچ مسلم ہے اب اگریہ دکھا دیا جائے کہ اتنے بڑے امام حدیث کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے نہیں بخشا تو دیگرائمہ ان کی تنقید سے کہاں بچ سکتے ہیں۔
    دوم : عوام امام بخاری رحمہ اللہ کے نام سے ایک ہی کتاب سے واقف ہیں اوروہ ہے ’’صحیح بخاری‘‘ ، طاہرقادری کا مقصد یہ ہے کہ عوام کو یہ مغالطہ دیا جائے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح بخاری پر تنقیدکیاہے ۔
    اوروہ اپنے مقصد میں کافی حدتک کامیاب ہے چنانچہ میرے پا س ان گنت لوگ طاہر قادری کی یہ ویڈیو لے کر یہ کہتے ہوئے آئے کہ کیا علامہ البانی رحمہ اللہ نے بخاری شریف کی حدیثوں کوضعیف کہہ کربخاری سے انہیں نکال دیاہے۔۔۔۔
    پھرہم نے انہیں بتایا کہ’’صحیح الادب المفرد‘‘ یہ الگ کتاب ہے نیزیہ کہ علامہ البانی رحمہ اللہ جس طرح کا کام الادب المفرد پر کیا ہے بجنسہ یہی کام سنن اربعہ پر بھی کیا ہے پھر کیا وجہ ہے ڈاکڑطاہرقادری نے دفاع حدیث کے لئے علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق السنن کا انتخاب نہیں کیا؟؟؟

    یہ تو بات ہوئی ڈاکٹر طاہر کی مکاری اورمغالطہ بازی پر اب آئیے اصل اعتراض کا جواب سنئے :
    اعتراض یہ کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے الادب المفرد سے بعض احادیث کو نکال دیا ہے، اس اعتراض کا بہت سے اہل علم نے جواب دیا ہے لیکن ایک اہم نکتہ سب نے نظرانداز کردیا ہے وہ کہ کیا: ’’صحیح الادب المفرد‘‘ امام بخاری کی کتاب ہے ؟؟؟
    اب تک بہت سارے اہل علم نے امام بخاری کی تصنیفات کو گنایا ہے کیا کسی نے اس فہرست میں ’’صحیح الادب المفرد‘‘ کا نام بھی پیش کیاہے؟؟؟
    عوام کو معلوم ہونا چاہئے کہ صحیح الادب المفرد یہ امام بخاری کی کتاب ہے ہی نہیں تو پھر اس میں کمی بیشی کا الزام ہی مردود ہے۔
    یہ الزام اس وقت درست ہوتا جب علامہ البانی رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ کی اصل کتاب ’’الادب المفرد‘‘ کی طباعت کی ہوتی اوراس کے بعد اس میں کمی بیشی کردیا ہوتا، جیسا کہ احناف کیا کرتے ہیں مثلا امام حبان کی کتاب ’’المجروحین‘‘ کی طباعت کی اور کتاب سے وہ حصہ اڑا دیا جس میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ پر جرح تھی، ایسا حنفی طرزعمل اختیار کیا جائے تو اسے اصل کتاب میں کمی بیشی کہتے ہیں ۔
    لیکن اگرایک محدث کسی دوسرے محدث کی کتاب پر اپنی معلومات پیش کرنا چاہتاہے تو یہ ایک الگ کتاب ہوتی ہے، مثلا امام منذری رحمہ اللہ کی کتاب ہے ’’الترغیب والترہیب‘‘ اب اس پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی خدمات پیش کی ہیں اور اس کا اختصار کرتے ہوئے اس سے بہت سی ضعیف احادیث کو نکال دیاہے ، تو کیا یہ کہاجائے گا کہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے امام منذری رحمہ اللہ کی کتاب سے بہت سی احادیث کو نکال دیاہے ؟؟؟

    نیز علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الادب المفرد میں جن احادیث کو داخل نہیں کیا ہے انہیں اس کتاب کے دوسرے حصہ ’’ضعیف الادب المفرد‘‘ میں رکھا ہے لیکن حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے تو ’’الترغیب ‘‘ سے جن احادیث کو نکالا ہے انہیں سرے سے نکال ہی دیا ہے ان کا الگ سے ذکر نہیں کیا ہے ، اب حافظ ابن حجررحمہ اللہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟

    ترغیب کی مثال جانے دیجئے خود صحیح بخاری کی مثال دیکھیں ، امام زبیدی رحمہ اللہ نے اس کتاب کا اختصار کیا ہے اورمکررات کو حذف کردیاہے اب کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ امام زبیدی رحمہ اللہ نے صحیح بخاری سے نصف سے زائد احادث نکا ل دی ہیں ؟
    اسی طرح حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے صحیح بخاری کی شرح لکھی اورصحیح بخاری کی تشریح میں احادیث کا ایک بہت بڑا ذخیرہ جمع کردیا ہے تو کیا یہ کہنا درست ہے کہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں بہت سی احادیث کا اضافہ کردیاہے؟


    دراصل امام زبیدی رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کا جواختصارکیا ہے یہ امام بخاری کی تصنیف نہیں بلکہ امام زبیدی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے، اسی طرح حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے صحیح بخاری کی جوشرح لکھی ہے یہ امام بخاری رحمہ اللہ کی تصنیف نہیں بلکہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ کی اپنی تصنیف ہے اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ امام بخاری کی اصل کتاب میں حذف واضافہ کیا گیا ہے ، بلکہ یہ کہا جائے گا کہ محدثین نے صحیح بخاری پر اپنی خدمات پیش کی ہیں کسی نے اس کی شرح کی ، کسی نے اس کا اختصار کیا ، کسی نے اس کی ثلاثیات کو یکجا کیا ، کسی نے اس کی معلق روایات کو لیکر الگ سے کتاب لکھی ہے وغیرہ وغیرہ، اوریہ ساری کتابیں امام بخاری کے علاوہ دیگرلوگوں کی تسلیم کی جاتی ہیں اوران میں تبدیلی آجانے سے یہ نہیں کہا جاتا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی اصل کتاب صحیح بخاری میں تبدیلی کردی گئی ہے ۔
    یہی معاملہ ’’الادب المفرد‘‘ کا بھی ہے یہ امام بخاری رحمہ اللہ کی کتاب ہے اس میں کسی نے کوئی تبدیلی نہیں کی ہے البتہ بعض اہل علم نے اس کتاب پر اپنی خدمات پیش کی ہیں مثلا کسی نے اس کی شرح لکھا ہے اورتشریح میں کچھ اوراحادیث وغیرہ ذکرکیا ہے لیکن اس سے شارح پر یہ الزام ہرگز نہیں لگایا جاسکتا کہ اس نے اس کتاب میں اضافہ کردیا ہے۔
    اسی طرح علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس کتاب پر اپنی خدمات پیش کی ہیں اوراس میں موجود صحیح وضعیف احادیث پر دوحصوں میں کتاب لکھی ہے یہ علامہ البانی رحمہ اللہ کی اپنی کتاب ہے ، اورایک مصنف اپنی کتاب کو جس طرح چاہے ترتیب دے اس کے اس طرزپر اعتراض کرنا یا تو بہت بڑی حماقت ہے یا پھر بدترین قسم کی مکاری اورمغالطہ بازی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,007
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ ۔
    کفایت بھائی ۔ بہت ہی اہم نقطے کی طرف توجہ دلائی ۔
    جزاکم اللہ خیرا و بارک فیکم ۔ کہتے ہیں‌۔ اعتراض کرنے کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے اوراسلام کے دشمن ڈاکٹر طاھرالقادری سگ مدینہ کے پاس نہیں‌۔ البتہ عام مسلمانوں کو بیوقوف بنانے کا ہنر ضرور موجود ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,976
    جزاکم اللہ خیرا کفایت اللہ بھائی
     
  4. ابن شہاب

    ابن شہاب ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اپریل 13, 2011
    پیغامات:
    224
    شکریہ

    جزاک اللہ کفایت اللہ بھائی !
    انتہائی اہم مسئلے کی طرف آپ نے توجہ دلائی ہے !
    آپ تعالیٰ‌ آپ کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے !
     
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    11,253
  6. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,406
    جزاکم اللہ خیرا شیخ
    کچھ روز پہلے ایک ویڈیو یوٹیوب پر دیکھی تھی جس میں یہ سگ مدینہ، امام بخاری کی ادب المفرد سے قدم بوسی کے جواز کا فتوی دے رہا تھا
    مجھے مذکورہ حدیث کی صحت تو نہیں پتہ تھی مگر اتنا پتہ ہے کہ ادب المفرد میں ضعیف احادیث ہیں ۔
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,803
    قدم بوسى كا جواز كہیں سے حاصل كر بھی ليا جائے تو بھی ؀قدم بوسیء سگاں؀ كا جواز اسلام ميں نہیں۔ جملہ "مریدانِ سگ" کے ليے غوروفكر كا مقام ہے!
    الحمد للہ الذي خلق الانسان في أحسن تقويم ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,043
    اللہ تعالی سب مسلمانوں کو سگوں سے محفوظ رکھے۔ سگ تو سگ ہی ہے چاھے وہ پاکستان میں ہو یا کہیں یورپ میں بیٹھا ہو۔
    محترم کفایت اللہ صاحب ایک بات کی وضاحت چاہتا ہوں کہ الادب المفرد میں ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔ کیا اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ امام بخاری کچھ امور میں ضعیف احادیث سے استدلال کو بھی جائز سمجہتے تھے.شکریہ والسلام
     
  9. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,003
    بھائی ضعیف احادیث کی روایت کرنا اور ان سے استدلال کو جائز سمجھنا یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں ، پہلی چیز سے دوسری چیز قطعا لازم نہیں آتی۔
    الادب المفرد میں امام بخاری رحمہ اللہ نے ادب سے متعلق وہ احادیث مختلف ابواب کے تحت یکجا کردی ہیں جو انہیں مل سکیں، ان میں‌ کچھ ضعیف احادیث‌ بھی ہیں لیکن اس سے یہ قطعا لازم نہیں آتا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ان سے استدلال کیا ہے۔

    مزید یہ کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے خود متعدد مقامات پر اپنا موقف بیان کردیا ہے کہ ان کے نزدیک ضعیف احادیث حجت نہیں ہوتی مثلا جزء رفع الیدین میں ابن مسعوررضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی حدیث کو ضعیف ہونے کے سبب مردود قراردیا ہے۔
    یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک ضعیف احادیث سے استدلال درست نہیں ہے۔

     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 30, 2011
  10. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,043
    جزاک اللہ محترم کفایت اللہ صاحب۔ رہنمائ کا شکریہ۔
     
  11. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,446
    جزاک اللہ عنا خیرا الجزاء
     
  12. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,714
    جزاکم اللہ خیرا
     
  13. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,694
    جزاک اللہ خیرا شیخ صاحب
    اللہ آپ کے علم وعمل میں‌برکت عطا فرمائے۔آمین
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں