غیب کی خبریں لانے والے نامعلوم طوطے چڑیاں اور حد ادب

عائشہ نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏دسمبر 10, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. حسين عبد الله

    حسين عبد الله نوآموز

    شمولیت:
    ‏جولائی 13, 2016
    پیغامات:
    24
    جزاك الله في الدارين۔
    اور میں آپ کی بات سے متفق بھی ہوں ۔میں نے اپنے ایک سلفی دوست کے ساتھ بات کرتے ہوئے کچھ جملے لکھے تھے وہ یہاں کچھ لکھتا ہوں۔
    ’’مولانا طارق جمیل صاحب کے بارے میں میرا نظریہ جھوٹ بولنے کا تو نہیں ۔البتہ متساہل بے شک وہ ہیں ۔ اس کی وجہ ظاہر ہے یہ ہے کہ وہ اگرچہ عالم بھی ہیں ۔لیکن ان پر واعظ کا عنوان زیادہ بہتر ہے ۔
    وہ چونکہ واعظ ہیں ۔۔۔اور واعظ کے پیش نظر زیادہ تر عقائد اور احکام پر بات نہیں ہوتی ۔بلکہ فضائل ، ترغیب و ترہیب ، مغازی ، سیر پر بات ہوتی ہے ۔۔۔اس لئے متساہل ہیں ۔(یہ ان کی طرف سے عذر نہیں بلکہ واقعے کا اظہار ہے ۔اور میں اس کا قائل بھی نہیں)
    البتہ ان کی باتوں سے لوگ اچھا اثر بھی لیتے ہیں ۔۔اس لئے ان سے حسن ظن رکھتا ہوں ۔
    حافظ ذہبیؒ نے مشہور محدث ابو نعیم اصفہانیؒ کو
    الإمام الحافظ الثقة العلامة شيخ الإسلام أبو نعيم المهراني الأصبهاني
    بھی فرمایا ہے اور آگے جا کے یہ بھی فرمایا ہے ۔
    ما أعلم له ذنبا۔ والله يعفو عنه ۔ أعظم من روايته للأحاديث الموضوعة في تواليفه ثم يسكت عن توهيتها
    سیر اعلام النبلاء ۱۷۔۴۵۴،۴۶۱
    ایسا آدمی متساہل تو ہوسکتا ہے ۔دانستہ جھوٹا نہیں ۔ بہرحال یہ میرا نظریہ ہے حسن ظن کی وجہ سے ۔
    البتہ بعض دوست جو یہ کہہ رہے ہیں ان کا اعتبار نہیں ۔۔۔۔۔لیکن مجھے تو معاملہ برعکس نظر آ رہا ہے ۔۔۔۔اسی وجہ سے مجھے ان کے ا س طرح خواب بیان کرنے سےادب کے ساتھ اختلاف ہے کیونکہ لوگ ان کا بہت اعتبار کرتے ہیں ۔۔۔
    اور جو عوام احکام و عقائد۔۔۔اور ۔۔۔۔فضائل ، ترغیب و ترہیب اور خواب کی حیثیت میں فرق مراتب نہیں رکھ سکتے ۔۔۔۔
    ان کے سامنے یوں بیان نہیں کرنا چاہیے ۔
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,977
    عربی عبارت میں امام ذھبی نے موضوع روایات بغیر حکم بیان کرنے کو ذنب لکھا ہے۔ یعنی ذنب ہوتا ہے گناہ اور آپ اسی عبارت کو کسی کی مدح کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟ حد ہے۔
    فضائل میں ضعیف احادیث کا بیان جائز ہونے کا شور کرنے والے تو دیکھے تھے اب موضوع روایات بھی فضائل و ترغیب وترھیب میں بیان کرنا جائز ہو گئیں؟ جھوٹ کا نام کچھ بھی رکھ لیں وہ جھوٹ ہی رہے گا۔ محدثین کرام کے نزدیک فضائل اعمال میں ضعیف حدیث بیان کرنا بھی جائز نہیں کجا کہ موضوع!
    اس موضوع پر مولانا ارشادالحق کی تفصیلی تحریر 2009 میں اردو مجلس پر پیش کی تھی جس میں تفصیلا اس گپ کا جائزہ لیا گیا ہے۔
    http://www.urdumajlis.net/threads/علامہ-محمد-ناصر-الدین-البانی-رحمہ-اللہ-اور-ضعيف-احاديث.9073/
    افسوس آج لوگ پستی کی طرف ایک درجہ اور بڑھ آئے۔ جھوٹی احادیث سنا کر ترغیب و ترھیب کا کام کرنے لگے ہیں۔ اور جھوٹی احادیث سنانے والے کو صرف متساھل کہہ رہے ہیں؟ اس وقت ان کو میسرۃ بن عبدربہ کی مثال کیوں یاد نہیں جو محدثین کے ہاں کذاب کا درجہ رکھتا ہے اس کی حدیث ناقابل قبول ہے کیوں کہ وہ لوگوں کو نیکی کی طرف بلانے کے لیے جھوٹ بولنے کا اعتراف کر چکا تھا۔
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,977
    حسن ظن قرآن کی اصطلاح ہے، جو اتنی پراسرار نہیں کہ کوئی واضح جھوٹی احادیث سنائے، اس میں خود سے اضافے بھی کرے پھر بھی ہم اس سے حسن ظن کیے بیٹھے رہیں۔ حسن ظن وہی ہے جسے شریعت حسن ظن کہے۔
     
    • متفق متفق x 1
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,977
    سنت حبیب ﷺ میں تعزیت کے بہت مناسب الفاظ اور ڈھارس بندھانے والی دعائیں ہیں جو سنتے ہی غم زدہ انسان سنبھل جاتا ہے۔ آخر نبی کریم ﷺ کو جوامع الکلم عطا ہوئے تھے۔ اسی لیے ان سے سچی محبت کرنے والوں کو آپ دیکھیں گے کہ شدید خوشی اور سخت صدمے میں وہ آپﷺ کے الفاظ کو یاد کرتے نظر آئیں گے۔
    آج کل کے مبلغ انفرادیت کے چکر میں سنت رسولﷺ بھلا بیٹھے ہیں۔ اس صدمے کے وقت میں قوم کو تعزیت کے نبوی آداب سکھانے کی بجائے کہیں اور چل پڑے۔
    اب تو لوگ زیادہ واضح لفظوں میں کہہ رہے ہیں کہ اس صدمے کو ذاتی شہرت کے لیے استعمال کیا ہے۔
     
  5. حسين عبد الله

    حسين عبد الله نوآموز

    شمولیت:
    ‏جولائی 13, 2016
    پیغامات:
    24
    محترم بہن آپ کے انداز گفتگو کا میں کچھ کمزوری کی وجہ سے متحمل نہیں ہوسکتا ۔ اس لئے مزیدمجھے معذورسمجھیں ۔
     
  6. محمد مقیم

    محمد مقیم نوآموز

    شمولیت:
    ‏نومبر 12, 2016
    پیغامات:
    26
    بهائی بہت سادہ اور آسان بات ہے جسے اتنے ہی صاف اور واضح لفظوں میں بہن نے سمجهایا ہے. آپ پتہ نہیں کیوں متحمل نہیں ہوپارہے ہیں. کیا فضائل کے لیے جهوٹی احادیث سنانے والے کی نشان دہی بهی آپ کے لیے مبہم ہوگئی
     
  7. محمد مقیم

    محمد مقیم نوآموز

    شمولیت:
    ‏نومبر 12, 2016
    پیغامات:
    26
    طارق جمیل صاحب ہوش و حواس میں جس طرح کے بیانات اور جتنی تعداد میں دیتے ہیں اس کی نظیر مجذوبوں کی پوری تاریخ میں بهی محال ہے.
     
    • متفق متفق x 1
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں