فہم قرآن مجید ۔۔۔ قطرہ قطرہ

عائشہ نے 'قرآن - شریعت کا ستونِ اوّل' میں ‏اگست 25, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,455
    فَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَ‌قْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ ﴿١٣٦،الأعراف﴾
    پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا یعنی ان کو دریا میں غرق کر دیا اس سبب سے کہ وه ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے بالکل ہی غفلت کرتے تھے
     
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,037
    کسی عالم دین سے پوچھا گیا کہ مسلمانوں کی موجودہ حالت کا سبب کیا ہے ؟
    انہوں نے فرمایا : تم آٹھ کمتر چیزوں سے تین افضل چیزوں سے زیادہ محبت کرتے ہو۔
    پوچھا گیا: وہ کون سی ہیں ؟
    فرمایا: "اگر
    ۱-تمہارے باپ
    ۲-اور تمہاربیٹے
    ۳- اور تمہارے بھائی
    ۴- اور تمہاری بیویاں
    ۵-اور تمہارے کنبے قبیلے
    ۶-اور تمہارے کمائے ہوئے مال
    ۷-اور وه تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو
    ۸-اور وه حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو
    اگر یہ تمہیں
    ۱۔ اللہ سے
    ۲-اور اس کے رسول ﷺسے
    ۳۔ اور اس کی راه میں جہاد سے
    بھی زیاده عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے۔ اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ القرآن : سورۃ التوبۃ ، آیت ۲۴
    قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَ‌تُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَ‌فْتُمُوهَا وَتِجَارَ‌ةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْ‌ضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَ‌بَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّـهُ بِأَمْرِ‌هِ ۗ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ

    اللہ تعالی ہمارے علما کو سلامت رکھے ، ان کے علم و عمل میں اضافہ فرمائے اور ہمیں ان کے علم سے فائدہ اٹھانے اور عمل کی توفیق دے ۔
    بشکریہ :
    نصرة رسول الله صلى الله عليه و سلم


     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,037
    الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْ‌شَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَ‌بِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُ‌ونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَ‌بَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّ‌حْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ‌ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ
    عرش کے اٹھانے والے اور اسکے آس پاس کے (فرشتے) اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے استغفار کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو نے ہر چیز کو اپنی بخشش اور علم سے گھیر رکھا ہے، پس تو انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری راه کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے .
    سورۃ غافر : آیت ۷ ۔
    فرشتوں کا استغفار اور ان کی یہ خوب صورت دعا ان کے لیے ہے جو :
    ۱۔ایمان والے ہیں
    ۲۔ توبہ کرتے ہیں
    ۳۔ اللہ کی بتائی راہ پر چلتے ہیں

    کیا یہ سب مشکل ہے ؟ صرف عزم کی دیر ہے ۔
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,455
    قَالَتِ الْأَعْرَ‌ابُ آمَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَـٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوا اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ لَا يَلِتْكُم مِّنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿١٤﴾
    دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے۔ آپ کہہ دیجئے کہ درحقیقت تم ایمان نہیں ﻻئے لیکن تم یوں کہو کہ ہم اسلام ﻻئے (مخالفت چھوڑ کر مطیع ہوگئے) حاﻻنکہ ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا۔ تم اگر اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنے لگو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہ کرے گا۔ بیشک اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے (جوناگڑھی)

    *ایمان کی شرط اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر ہے ـ اس کے بعد اعمال ضائع ہونے کا خدشہ نہیں ـ
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,455
    قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ وَيَغْفِرْ‌ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿٣١
    کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے (31)
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,455
    [font="al_mushaf"]مَّن كَانَ يُرِ‌يدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا فَعِندَ اللَّـهِ ثَوَابُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَ‌ةِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ سَمِيعًا بَصِيرً‌ا ﴿١٣٤﴾[/font]
    جو شخص دنیا کا ﺛواب چاہتا ہو تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ کے پاس تو دنیا اور آخرت (دونوں) کا ﺛواب موجود ہے اور اللہ تعالیٰ بہت سننے واﻻ اور خوب دیکھنے واﻻ ہے (جوناگڑھی)
     
  7. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,738
    [font="al_mushaf"]فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّۭ لِّىٓ إِلَّا رَبَّ ٱلْعَٰلَمِينَ(77)ٱلَّذِى خَلَقَنِى فَهُوَ يَهْدِينِ(78)وَٱلَّذِى هُوَ يُطْعِمُنِى وَيَسْقِينِ(79)وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ(80)وَٱلَّذِى يُمِيتُنِى ثُمَّ يُحْيِينِ(81)وَٱلَّذِىٓ أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِى خَطِيٓـَٔتِى يَوْمَ ٱلدِّينِ(82)رَبِّ هَبْ لِى حُكْمًۭا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّٰلِحِينَ(83)

    میرے تو یہ سب دشمن ہیں، بجز ایک رب العالمین کے(77)جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے(78)جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے(79)اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے(80)جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا(81)اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا"(82)(اِس کے بعد ابراہیمؑ نے دعا کی) "اے میرے رب، مجھے حکم عطا کر اور مجھ کو صالحوں کے ساتھ ملا(83)

    سورۃ الشعراء
    ترجمہ : سید ابوالاعلیٰ مودودی
    [/font]
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,037
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  9. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,738
    وایاک

    وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا۟ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَقَالُوا۟ حَسْبُنَا ٱللَّهُ سَيُؤْتِينَا ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ وَرَسُولُهُۥٓ إِنَّآ إِلَى ٱللَّهِ رَٰغِبُونَ
    ترجمہ
    کیا اچھا ہوتا کہ اللہ اور رسولؐ نے جو کچھ بھی انہیں دیا تھا اس پر وہ راضی رہتے اور کہتے کہ "اللہ ہمارے لیے کافی ہے، وہ اپنے فضل سے ہمیں بہت کچھ دے گا اور اس کا رسول بھی ہم پر عنایت فرمائے گا، ہم اللہ ہی کی طرف نظر جمائے ہوئے ہیں"(59)
    سورۃ التوبہ

    آج یہ آیت میں نے صبح سے شام کئی بار اپنے والد کو تلاوت کرتے سنا۔ غور کیا تو معلوم ہوا کہ کتنی خوبصورت آیت ہے۔۔۔۔
     
  10. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,167
    أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ‌ الْآخِرَ‌ةَ وَيَرْ‌جُو رَ‌حْمَةَ رَ‌بِّهِ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ‌ أُولُو الْأَلْبَابِ ﴿٩﴾ قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَ‌بَّكُمْ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَـٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۗ وَأَرْ‌ضُ اللَّـهِ وَاسِعَةٌ ۗ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُ‌ونَ أَجْرَ‌هُم بِغَيْرِ‌ حِسَابٍ ﴿١٠﴾سورۃ الزمر
    بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو، (اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہو سکتے ہیں) بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔ (اپنے رب کی طرف سے) (9) کہہ دو کہ اے میرے ایمان والے بندو! اپنے رب سے ڈرتے رہو، جو اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے نیک بدلہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشاده ہے صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا بےشمار اجر دیا جاتا ہے (10)
     
  11. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,706
    جزاک اللہ خیرا
     
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,037
    جزاکم اللہ خیرا ۔
     
  13. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,167
    قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَ‌فُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّ‌حْمَةِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ‌ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ‌ الرَّ‌حِيمُ ﴿٥٣﴾ وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَ‌بِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُ‌ونَ ﴿٥٤﴾ وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّ‌بِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُ‌ونَ ﴿٥٥﴾ أَن تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَ‌تَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّ‌طتُ فِي جَنبِ اللَّـهِ وَإِن كُنتُ لَمِنَ السَّاخِرِ‌ينَ ﴿٥٦﴾أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّـهَ هَدَانِي لَكُنتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ﴿٥٧﴾ أَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَ‌ى الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِي كَرَّ‌ةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ ﴿٥٨﴾ بَلَىٰ قَدْ جَاءَتْكَ آيَاتِي فَكَذَّبْتَ بِهَا وَاسْتَكْبَرْ‌تَ وَكُنتَ مِنَ الْكَافِرِ‌ينَ ﴿٥٩﴾ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ تَرَ‌ى الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى اللَّـهِ وُجُوهُهُم مُّسْوَدَّةٌ ۚ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِ‌ينَ ﴿٦٠﴾ وَيُنَجِّي اللَّـهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ لَا يَمَسُّهُمُ السُّوءُ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٦١﴾سورۃ الزمر
    (میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت واﻻ ہے (53) تم (سب) اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کیے جاؤ اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آ جائے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے (54) اور پیروری کرو اس بہترین چیزکی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں اطلاع بھی نہ ہو (55) (ایسا نہ ہو کہ) کوئی شخص کہے ہائے افسوس! اس بات پر کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حق میں کوتاہی کی بلکہ میں تو مذاق اڑانے والوں میں ہی رہا (56)یا کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت کرتا تو میں بھی پارسا لوگوں میں ہوتا (57) یا عذاب کو دیکھ کر کہے کاش! کہ کسی طرح میرا لوٹ جانا ہوجاتا تو میں بھی نیکو کاروں میں ہوجاتا (58) ہاں (ہاں) بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تونے جھٹلایا اور غرور وتکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں (59) اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے سیاه ہوگئے ہوں گے کیا تکبر کرنے والوں کاٹھکانا جہنم میں نہیں؟ (60) اور جن لوگوں نے پرہیزگاری کی انہیں اللہ تعالیٰ ان کی کامیابی کے ساتھ بچا لے گا، انہیں کوئی دکھ چھو بھی نہ سکے گا اور نہ وه کسی طرح غمگین ہوں گے (61)
     
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,037
    جزاکم اللہ خیرا۔
     
  15. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,167
    إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَ‌بُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُ‌وا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ﴿٣٠﴾ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَ‌ةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ ﴿٣١﴾ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ‌ رَّ‌حِيمٍ ﴿٣٢﴾ سورہ فصلت
    (واقعی) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اسی پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعده دیئے گئے ہو (30) تمہاری دنیوی زندگی میں بھی ہم تمہارے رفیق تھے اور آخرت میں بھی رہیں گے، جس چیز کو تمہارا جی چاہے اور جو کچھ تم مانگو سب تمہارے لیے (جنت میں موجود﴾ ہے (31) غفور و رحیم (معبود) کی طرف سے یہ سب کچھ بطور مہمانی کے ہے (32)
     
  16. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,167
    وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّـهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿٣٣﴾ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ ﴿٣٤﴾ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُ‌وا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ ﴿٣٥﴾ سورہ فصلت
    اور اس سے زیاده اچھی بات واﻻ کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں (33) نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی۔ برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست (34) اور یہ بات انہیں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کریں اور اسے سوائے بڑے نصیبے والوں کے کوئی نہیں پا سکتا (35)
     
  17. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,037
    بالکل سچ
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک سسٹر
     
  18. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,972
    وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ ( البقرۃ :45) کی تفسیر میں شیخ عبدالرحمن السعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے سب امور (کاموں) میں اللہ سے مدد طلب کریں، صبر کی ہر قسم کے ساتھ۔ اوروہ​
    • صبر ہےجو اللہ کی اطاعت پر کیا جائے حتیٰ کہ اسے بجا لایا جائے​
    • صبر ہےجو اللہ کی نافرمانی پرحتیٰ کہ اسے ترک کر دیا جائے(چھوڑ دیا جائے)​
    • صبر ہے جوغم و آلام میں اللہ کی تقدیر پر کیا جائے اور اس پر ناراض نہ ہوا جائے​



    پس اس صبر میں اور اپنے نفس کو اللہ کے حکم کے مطابق روکنے میں صبر کرنے سے، تمام امور (کاموں)میں سے ہر امر(کام) میں بہت مدد ملتی ہے۔

    پس جو صبر کرتا ہے، اللہ اسے صبر کی توفیق دیتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  19. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,972
    اعمال کی ادائیگی آسان کیسے بنائیں؟ نماز پڑھنا مشکل ہے مگر آسانی سے کیسے پڑھی جائے؟


    یہ ہمارے چند سوالات ہوتے ہیں جن کے بارے میں
    وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ ( البقرۃ :45)
    کی تفسیر میں ہی شیخ عبدالرحمن السعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:​


    اور اسی طرح نماز ہے جو ایمان کی میزان ہے(یعنی ایمان کو تولتی ہے)، ​

    ہر برائی اور فحاشی (بے حیائی )سے روکتی ہے​

    اور تمام کاموں میں سے ہر کام میں اس سے مدد لی(مانگی) جاتی ہے​


    پھر نماز کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ نماز ڈرنے والے (خاشعین) کے علاوہ باقی لوگوں پر بھاری ہے۔ جب کہ خاشعین پر یہ ہلکی اور آسان ہے۔​

    اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ​

    خشوع اور خشیت الٰہی یعنی اللہ سے ڈرنا اور اس کے پاس جو کچھ ہے اس کی امید رکھنا ،یہ اس شخص کے لیے اس عمل کا موجب بنتی ہے یعنی نماز کا ادا کرنا آسان کر دیتی ہے، اس شخص کا سینہ کھول دیتی ہے تاکہ وہ ثواب کی امید رکھیں اور اس کا انتطار کریں اور اللہ کی پکڑاور عذاب سے ڈریں​


    جب کہ اس کے مخالف جو شخص ایسا نہیں کرتا، پس اس کے لیے کوئی ایسا داعی یا بلانے والا نہیں ہوتا جو اسے اس کی طرف بلائے(یعنی دل میں کوئی تڑپ نہیں ہوتی) اور اسی بنا پر جب وہ یہ عمل کرتا ہے یعنی نماز پڑھتا ہے تو وہ اس کے لیے وزنی ترین کاموں میں سے ایک ہو جاتی ہے۔​



    ہمارے لیے بھی آج ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے کہ نماز پڑھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔بڑی ہی وزنی چیز محسوس ہوتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ جو اس آیت کی روشنی میں سمجھ آتی ہے وہ یہی ہے کہ ہمارے اندر اللہ کا ڈر، اس کے عذاب کا ڈر بھی ختم ہو گیا ہے اور اس کی طرف سے ثواب و جنت حاصل کرنے کی تڑپ بھی ختم ہو گئی ہے۔ اگر ان دو بنیادی چیزوں کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو اعمال کی ادائیگی آسان ہو جائے۔​


    سب سے آخر میں شیخ، خشوع کی تعریف میں مندرجہ ذیل باتیں ذکر کرتے ہیں کہ یہ ​


    دل کی عاجزی ہے
    دل کا اطمینان ہے
    اللہ تعالیٰ کے لیے اس کا پرسکون ہونا ہے
    اس کے سامنے ذلت اور فقیری کے ساتھ عاجزی اختیار کرناکہ اس پر اور اس کے ساتھ ملاقات پر ایمان ہو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  20. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,037
    جزاک اللہ خیرا ، بہت عمدہ۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں