فہم قرآن مجید ۔۔۔ قطرہ قطرہ

عائشہ نے 'قرآن - شریعت کا ستونِ اوّل' میں ‏اگست 25, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,965
    اس جھوٹ ، بددیانتی اور ظلم کی دنیا سے تنگ دل کو ان آیات سے کتنی ڈھارس ملتی ہے:
    [TRADITIONAL_ARABIC]وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ تَرَ‌ى الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى اللَّـهِ وُجُوهُهُم مُّسْوَدَّةٌ ۚ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِ‌ينَ ﴿٦٠﴾ وَيُنَجِّي اللَّـهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ لَا يَمَسُّهُمُ السُّوءُ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٦١﴾[/TRADITIONAL_ARABIC]
    اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے سیاه ہوگئے ہوں گے کیا تکبر کرنے والوں کاٹھکانا جہنم میں نہیں؟ (60) اور جن لوگوں نے پرہیزگاری کی انہیں اللہ تعالیٰ ان کی کامیابی کے ساتھ بچا لے گا، انہیں کوئی دکھ چھو بھی نہ سکے گا اور نہ وه کسی طرح غمگین ہوں گے (61)
    سورۃ الزمر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,738
    [TRADITIONAL_ARABIC]وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَىٰ وَيَسْتَغْفِرُوا رَبَّهُمْ إِلَّا أَن تَأْتِيَهُمْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا ﴿٥٥﴾[/TRADITIONAL_ARABIC]
    ترجمہ : اُن کے سامنے جب ہدایت آئی تو اسے ماننے اور اپنے رب کے حضور معافی چاہنے سے آخر اُن کوکس چیز نے روک دیا؟ اِس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ منتظر ہیں کہ اُن کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو پچھلی قوموں کے ساتھ ہو چکا ہے، یا یہ کہ وہ عذاب کو سامنے آتے دیکھ لیں!
    (سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ)

    بے عملی پر ڈٹے رہنے والے دلوں کے لیے نہایت خطرناک آیت ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توبۃ النصوح کی توفیق عطا فرمائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,965
    جزاک اللہ خیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,965
    فلما نسوا ما ذکروا بہ فتحنا علیہم ابواب کل شیئ
    " جب وہ کافر ان باتوں کو بھول گئے جن کی انہیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے۔" سورۃ الانعام 44
    اللہ تعالی مجرم بندوں کو دو قسم کی سزا دیتا ہے:
    1- مجرم کو ایسا گناہ کا شیدائی بنا دیتا ہے کہ وہ اس کے نقصان اور تکلیف کا احساس بھی نہیں کرتا۔ کیوں کہ گناہ اس کے خواہش اور ارادہ کے بالکل موافق ہوتا ہے درحقیقت یہ سزا تمام سزاؤں سے بڑھ کر ہے۔
    2 - گناہوں کے ارتکاب کے بعد دردناک عذاب کا دور شروع ہوتا ہے۔
    یہ سزا دوسری قسم کی ہے۔
    اس آیت کے نصف ابتدائی حصہ میں سزا کی قسم اول بیان ہے۔ اس کے بعد دوسری قسم کو بیان کیا ہے۔ فرمایا:
    حتی اذا فرحوا بما اوتوا اخذنھم بغتۃ ۔۔۔ سورۃ الانعام 44
    " یہاں تک کہ جب وہ اس پر اترا گئے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا"۔۔
    (تفسیری نکات وافادات از حافظ ابن القیم رحمہ اللہ، ترجمہ: مولانا عبدالغفار حسن رحمہ اللہ )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  5. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,738
    اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ بہت خطرناک بات ہے۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,965
    آمین زیادہ تر لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو قومیں اللہ کی نافرمان ہیں وہ مادی لحاظ سے ہم سے بہتر ہیں یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ان کی مادی ترقی ڈھیل اور سزا کی ایک قسم ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,313
    ﴿فتبسم ضاحكا من قولها﴾
    کیا ہی بہترین مسکراہٹ ہے ، جو مشکلات،مصائب اور کرب کے حالات میں ،اللہ کی ہو اپنے بندے کے لئے ،طاقتور کی ہو ضعیف کے لئے ، امیر کی ہو غیریب کے لئے ، والدین کی ہو بچوں کے لئے ، بھائی کی ہو بہن کے لئے ، ہمدرد کی ہو دوست کے لئے ، ۔۔ الخ ۔۔رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علیّ وعلی والدیّ وان اعمل صالحاً ترضاہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,965
    إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّـهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَـٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ
    اللہ کی مسجدوں کی رونق وآبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوٰة دیتے ہوں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں
    سورۃ التوبۃ آیت 18
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,965
    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿١٠﴾الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ ﴿١١﴾وَمَا يُكَذِّبُ بِهِ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ﴿١٢﴾إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ﴿١٣﴾كَلَّا ۖ بَلْ ۜرَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴿١٤كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ ﴿١٥﴾ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُو الْجَحِيمِ ﴿١٦﴾ثُمَّ يُقَالُ هَـٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ ﴿١٧
    ترجمہ مولانا محمد جونا گڑھی: س دن جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہے (10)جو جزا وسزا کے دن کو جھٹلاتے رہے(11)اسے صرف وہی جھٹلاتا ہےجو حد سے آگے نکل جانے واﻻ (اور) گناه گار ہوتا ہے (12)جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ اگلوں کے افسانے ہیں (13)یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کےاعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے (14)ہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب سےاوٹ میں رکھے جائیں گے (15)پھر یہ لوگ بالیقین جہنم میں جھونکے جائیں گے (16)پھر کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے وه جسے تم جھٹلاتے رہے (17)
    یہ کتنی بڑی سزا ہے کہ روز قیامت انسان اپنے رب کو نہ دیکھ سکے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. عبداللہ امانت محمدی

    عبداللہ امانت محمدی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 9, 2016
    پیغامات:
    144
    مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا ۭ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ١٠٦؁

    جس آیت کو ہم منسوخ کر دیں، یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور لاتے ہیں، کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالٰی ہرچیز پر قادر ہے،(البقرۃ:106)۔(١)

    ١٠6۔١ نسخ کے لغوی معنی تو منسوخ کرنے کے ہیں، لیکن شرعی اصطلاح میں ایک حکم بدل کر دوسرا حکم نازل کرنے کے ہیں یہ نسخ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہوا جیسے آدم علیہ السلام کے زمانے میں سگے بہن بھائی کا آپس میں نکاح جائز تھا بعد میں اسے حرام کر دیا گیا وغیرہ، اسی طرح قرآن میں بھی اللہ تعالٰی نے بعض احکام منسوخ فرمائے اور ان کی جگہ نیا حکم نازل فرمایا۔ یہودی تورات کو ناقابل نسخ قرار دیتے تھے اور قرآن پر بھی انہوں نے بعض احکام کے منسوخ ہونے کی وجہ سے اعتراض کیا۔ اللہ تعالٰی نے ان کی تردید فرمائی کہا کہ زمین اور آسمان کی بادشاہی اسی کے ہاتھ میں ہے، وہ جو مناسب سمجھے کرے، جس وقت جو حکم اس کی مصلحت و حکمت کے مطابق ہو، اسے نافذ کرے اور جسے چاہے منسوخ کر دے، یہ اس کی قدرت ہی کا مظاہرہ ہے۔ بعض قدیم گمراہوں (مثلا ابو مسلم اصفہانی معتزلی) اور آجکل کے بھی بعض متجددین نے یہودیوں کی طرح قرآن میں نسخ ماننے سے انکار کیا۔ لیکن صحیح بات وہی ہے جو مزکورہ سطروں میں بیان کی گئی ہے، سابقہ صالحین کا عقیدہ بھی اثبات نسخ ہی رہا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  11. عبداللہ امانت محمدی

    عبداللہ امانت محمدی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 9, 2016
    پیغامات:
    144
    اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ ١٠٧؁

    کیا تجھے علم نہیں کہ زمین اور آسمان کا مالک اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی ولی اور مددگار نہیں،(البقرۃ:107)۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  12. عبداللہ امانت محمدی

    عبداللہ امانت محمدی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 9, 2016
    پیغامات:
    144
    اَمْ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَسْـــَٔـلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُىِٕلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ ۭ وَمَنْ يَّتَـبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ ١٠٨؁

    کیا تم اپنے رسول سے یہی پوچھنا چاہتے ہو جو اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا تھا (١) (سنو) ایمان کو کفر سے بدلنے والا سیدھی راہ سے بھٹک جاتا ہے۔

    ١٠٨۔١ مسلمانوں (صحابہ رضی اللہ عنہ کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم یہودیوں کی طرح اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ازراہ سرکشی غیر ضروری سوالات مت کیا کرو۔ اس میں اندیشہ کفر ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  13. عبداللہ امانت محمدی

    عبداللہ امانت محمدی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 9, 2016
    پیغامات:
    144
    وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا ښ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ۚ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْ ءٍ قَدِيْرٌ ١٠٩؁

    ان اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہو جانے کے محض حسد و بغض کی بنا پر تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں، تم بھی معاف کرو اور چھوڑو یہاں تک کہ اللہ تعالٰی اپنا حکم لائے۔ یقیناً اللہ تعالٰی ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  14. عبداللہ امانت محمدی

    عبداللہ امانت محمدی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 9, 2016
    پیغامات:
    144
    وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ۭ وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ ١١٠؁

    تم نمازیں قائم رکھو اور زکوۃ دیتے رہا کرو اور جو کچھ بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے، سب کچھ اللہ کے پاس پالو گے، بیشک اللہ تعالٰی تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے (١)۔

    یہودیوں کو اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حسد اور عناد تھا اس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کو دین اسلام سے پھیرنے کی مذموم سعی کرتے رہتے تھے۔ مسلمانوں کو کہا جا رہا ہے کہ تم صبر اور درگزر سے کام لیتے ہوئے ان احکام و فرائض اسلام کو بجا لاتے رہو۔ جن کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  15. عبداللہ امانت محمدی

    عبداللہ امانت محمدی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 9, 2016
    پیغامات:
    144
    وَقَالُوْا لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى ۭ تِلْكَ اَمَانِيُّھُمْ ۭ قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ١١١؁

    یہ کہتے ہیں کہ جنت میں یہود و نصاریٰ کے سوا اور کوئی نہ جائے گا، یہ صرف ان کی آرزوئیں ہیں، ان سے کہو کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل تو پیش کرو (١)۔

    ١١١۔١ یہاں اہل کتاب کے اس غرور اور فریب نفس کو پھر بیان کیا جا رہا ہے جس میں وہ مبتلا تھے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں جن کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  16. عبداللہ امانت محمدی

    عبداللہ امانت محمدی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 9, 2016
    پیغامات:
    144
    بَلٰي ۤ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗٓ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۠ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ ١١٢؀

    سنو جو بھی اپنے آپ کو خلوص کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکا دے۔ (١) بیشک اسے اس کا رب پورا بدلہ دے گا، اس پر نہ تو کوئی خوف ہوگا، نہ غم اور اداسی۔

    ١١٢۔١ (اَسْلَمَ وَ جْھَہ لِلّٰہِ) کا مطلب ہے محض اللہ کی رضا کے لئے کام کرے اور (وَ ھُوَ مُحْسِنُ) کا مطلب ہے اخلاص کے ساتھ پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق۔ قبولیت عمل کے لئے یہ دو بنیادی اصول ہیں اور نجات اخروی انہی اصولوں کے مطابق کئے گئے اعمال صالحہ پر مبنی ہے نہ کہ محض آرزووں پر۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  17. عبداللہ امانت محمدی

    عبداللہ امانت محمدی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 9, 2016
    پیغامات:
    144
    وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ لَيْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰي شَيْءٍ ۠ وَّقَالَتِ النَّصٰرٰى لَيْسَتِ الْيَهُوْدُ عَلٰي شَيْءٍ ۙ وَّھُمْ يَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ ۭ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ۚ فَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَھُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ ١١٣؁

    یہود کہتے ہیں کہ نصرانی حق پر نہیں (١) اور نصرانی کہتے ہیں کہ یہودی حق پر نہیں، حالانکہ یہ سب لوگ تورات پڑھتے ہیں۔ اسی طرح ان ہی جیسی بات بےعلم بھی کہتے ہیں (٢) قیامت کے دن اللہ ان کے اس اختلاف کا فیصلہ ان کے درمیان کر دے گا۔

    ١١٣۔١ یہودی تورات پڑھتے ہیں جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق موجود ہے، لیکن اس کے باوجود یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تکفیر کرتے تھے۔ عیسائیوں کے پاس انجیل موجود ہے جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تورات کے مِنْ عِنْد اللہ ہونے کی تصدیق ہے اس کے باوجود یہ یہودیوں کی تکفیر کرتے ہیں، یہ گویا اہل کتاب کے دونوں فرقوں کے کفر و عناد اور اپنے اپنے بارے میں خوش فہمیوں میں مبتلا ہونے کو ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    ١١٣۔٢ اہل کتاب کے مقابلے میں عرب کے مشرکین ان پڑھ تھے، اس لئے انہیں بےعلم کہا گیا، لیکن وہ بھی مشرک ہونے کے باوجود یہود اور نصاریٰ کی طرح، اس باطل میں مبتلا تھے کہ وہ یہ حق پر ہیں۔ اسی لئے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صابی یعنی بےدین کہا کرتے تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  18. عبداللہ امانت محمدی

    عبداللہ امانت محمدی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 9, 2016
    پیغامات:
    144
    وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ يُّذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ وَسَعٰى فِيْ خَرَابِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ مَا كَانَ لَھُمْ اَنْ يَّدْخُلُوْھَآ اِلَّا خَاۗىِٕفِيْنَ ڛ لَھُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّلَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ ١١٤؁

    اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالٰی کی مسجدوں میں اللہ تعالٰی کے ذکر کئے جانے کو روکے (١) ان کی بربادی کی کوشش کرے (٢) ایسے لوگوں کو خوف کھاتے ہوئے ہی اس میں جانا چاہیے (٣) ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے۔

    ١١٤۔١ جن لوگوں نے مسجدوں میں اللہ کا ذکر کرنے سے روکا، یہ کون ہیں؟ ان کے بارے میں مفسرین کی دو رائے ہیں، ایک رائے یہ ہے کہ اس سے مراد عیسائی ہیں، جنہوں نے بادشاہ روم کے ساتھ ملکر بیت المقدس میں یہودیوں کو نماز پڑھنے سے روکا اور اس کی تخریب میں حصہ لیا، لیکن حافظ ابن کثیر نے اس سے اختلا ف کرتے ہوئے اس کا مصداق مشرکین مکہ کو قرار دیا، جنہوں نے ایک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا اور یوں خانہ کعبہ میں مسلمانوں کو عبادت سے روکا۔ پھر صلح حدیبیہ کے موقعے پر بھی یہی کردار دہرایا اور کہا کہ ہم اپنے آباو اجداد کے قاتلوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے، حالانکہ خانہ کعبہ میں کسی کو عبادت سے روکنے کی اجازت اور روایت نہیں تھی۔

    ١١٤۔٢ تخریب اور بربادی صرف یہی نہیں ہے اسے گرا دیا جائے اور عمارت کو نقصان پہنچایا جائے، بلکہ ان میں اللہ کی عبادت اور ذکر سے روکنا، اقامت شریعت اور مظاہر شرک سے پاک کرنے سے منع کرنا بھی تخریب اور اللہ کے گھروں کو برباد کرنا ہے۔

    ١١٤۔٣ یہ الفاظ خبر کے ہیں، لیکن مراد اس سے یہ خواہش ہے کہ جب اللہ تعالٰی تمہیں ہمت اور غلبہ عطا فرمائے تو تم ان مشرکین کو اس میں صلح اور جزیے کے بغیر رہنے کی اجازت نہ دینا۔ چنانچہ جب ٨ ہجری میں مکہ فتح ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا آئندہ سال کعبہ میں کسی مشرک کو حج کرنے کی اور ننگا طواف کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور جس سے جو معاہدہ ہے، معاہدہ کی مدت تک اسے یہاں رہنے کی اجازت ہے، بعض نے کہا کہ یہ خوشخبری ہے اور پیش گوئی ہے کہ عنقریب مسلمانوں کو غلبہ ہو جائے گا اور یہ مشرکین خانہ کعبہ میں ڈرتے ہوئے داخل ہونگے کہ ہم نے جو مسلمانوں پر زیادتیاں کی ہیں انکے بدلے میں ہمیں سزا سے دو چار یا قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ جلد ہی یہ خوشخبری پوری ہوگئی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  19. عبداللہ امانت محمدی

    عبداللہ امانت محمدی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 9, 2016
    پیغامات:
    144
    وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۤ فَاَيْنَـمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ ١١٥؁

    اور مشرق اور مغرب کا مالک اللہ ہی ہے۔ تم جدھر بھی منہ کرو ادھر ہی اللہ کا منہ ہے (١) اللہ تعالٰی کشادگی اور وسعت والا اور بڑے علم والا ہے۔

    ١١٥۔ ہجرت کے بعد جب مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے تو مسلمانوں کو اس کا رنج تھا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جب بیت المقدس سے پھر خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ہوا تو یہودیوں نے طرح طرح کی باتیں بنائیں، بعض کے نزدیک اس کے نزول کا سبب سفر میں سواری پر نفل نماز پڑھنے کی اجازت ہے کہ سواری کا منہ کدھر بھی ہو، نماز پڑھ سکتے ہو۔ کبھی چند اسباب جمع ہو جاتے ہیں اور ان سب کے حکم کے لئے ایک ہی آیت نازل ہو جاتی ہے۔ ایسی آیتوں کی شان نزول میں متعدد روایات مروی ہوتی ہیں، کسی روایت میں ایک سبب نزول کا بیان ہوتا ہے اور کسی میں دوسرے کا۔ یہ آیت بھی اسی قسم کی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  20. عبداللہ امانت محمدی

    عبداللہ امانت محمدی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 9, 2016
    پیغامات:
    144
    وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ بَلْ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭكُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ ١١٦؁

    یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کی اولاد ہے، (نہیں بلکہ) وہ پاک ہے زمین اور آسمان کی تمام مخلوق اس کی ملکیت میں ہے اور ہر ایک اس کا فرما نبردار ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں