قرآن: ایک بھلائی ہوئی کتاب

عائشہ نے 'قرآن - شریعت کا ستونِ اوّل' میں ‏مارچ 21, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,813
    قرآن: ایک بھلائی ہوئی کتاب
    تحریر : محمد آصف ریاض
    ------------- بشکریہ قرآن: ایک بھلائی ہوئی کتاب ----------​
    دہلی کی ایک مسجد میں ایک امام نے خطبہ دیا۔ اس کے الفاظ کچھ اس طرح تھے: ”غوث پیروں کے پیرہیں، وہ دستگیرہیں، علی مشکل کشا ہیں، وہ مولااورمدد گارہیں“۔
    اپنی اس بات کے سپورٹ میں انھوں نے کئی طرح کی بے تکی کہانیاں سنائیں۔ خطبہ کے بعدوہ نمازپڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ نماز میں انھوں نے قرآن کی یہ آیت تلاوت کی:﴿ربناانت مولانا فانصرناعلی القوم الکافرین﴾ یعنی اے ہمارے رب تو ہمارامولا ہے، پس کافروں کے مقابلہ میں توہماری مدد فرما۔ (البقرہ: 286)
    میں سوچنے لگا کہ اچانک امام کو یہ کیا ہوگیا کہ ابھی تو وہ علی اورغوث کو مولیٰ اور مدد گار کہہ رہا تھا اورابھی اللہ تعالی کو مولیٰ اورمددگار پکاررہا ہے۔
    بہت غوروخوض کے بعد میں اس نتیجہ پرپہنچا کہ درحقیقت وہ قرآن نہیں پڑھ رہا تھابلکہ قرآن کے نام پروہ کچھ رٹے رٹائے الفاظ دہرارہا تھا۔ اس نے ساری توانائی قصہ گوئی میں صرف کردی تھی۔ قرآن فہمی کے لیے اس کے پاس وقت ہی نہیں بچا تھا۔ مجھے اس غریب امام سے زیادہ اس کے اساتذہ پرترس آیا، جنھوں نے اسے کچھ بھی نہیں سکھایا تھا۔
    جہالت کا خاتمہ:ہرطرح کی بدعت وخرافات کی جڑجہالت میں ہے۔ جہالت تاریکی ہے اورعلم روشنی۔ مسلمانوں کو گمراہی اورضلالت سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے درمیان علم کا چرچاعام ہو۔ قرآن میں ہے:﴿ انما یخشی اللہ من عباد ہ العلماء﴾ یعنی اللہ کے بندوں میں صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔
    بھلائی ہوئی کتاب:مسلمانوں کے درمیان خصوصاً نام نہاد علما کے درمیان قرآن ایک بھلائی ہوئی کتاب بن کررہ گیا ہے۔ مسلمان قرآن جلانے کے معاملہ پرتوخوب ہنگامہ کرتے ہیں اورخود اپنی مسجدوں اورمدارس میں قرآن کی جگہ قصہ گوئی کو ترجیح دیتے ہیں۔
    لوگوں نے دوطرح سے قرآن کو بھلا دیا ہے۔ ایک گروہ تووہ ہے جوخطیب کہلاتا ہے،یہ طبقہ اپنے خطبوں میں کہانیاں سناتا ہے اوراپنے اکابرین و اولیا اور پیرو مرشد کی داستانیں بیان کرتا ہے۔ دوسراطبقہ نام نہاد مصنفین کا ہے جواپنی تحریروں میں خطیبوں کی باتوں کو گلوری فائی کرتاہے۔
    مسلمانوں نے قرآن کو کس حد تک بھلا دیا ہے اس کی ایک بہترین مثال ”مقاصد شریعت“ نامی کتاب ہے۔ اس کتاب کے پہلے باب میں 150 سے زیادہ ریفرنسز آئے ہیں لیکن اس میں قرآن سے صرف ایک ہی ریفرنس پیش کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان قرآن فراموشی کا معاملہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ خود شریعت کی کتاب میں قرآن کوئی جگہ نہیں پارہا ہے۔
    قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن پیغمبر اللہ تعالیٰ سے شکایت کرے گا اورکہے گا کہ:”میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو بھلا دیا تھا۔“:
    "And the messenger, Lord, my people did indeed discard the Quran" (25-30)
    قرآن کیوں بھلا دیا گیا؟:قرآن کا بیان سادہ ہے اوراس کے مطالبات بھی سادہ ہیں۔ قرآن یکسو ہوکرلوگوں کو اللہ کی طرف بلاتا ہے۔ قرآن ایک ایسے دین کوپرموٹ کرتا ہے جس میں کوئی آمیزش نہیں۔ یہی وہ بات ہے جس کی وجہ سے لوگ قرآن کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔
    لوگ مبنی برسیاست، مبنی براولیا، مبنی برمنفعت دین چاہتے ہیں۔ لوگ ایسا دین چاہتے ہیں جس میں ان کے اپنے خوابوں کی تعبیرموجود ہو۔ جس میں خود ان کے اپنے امنگوں کی فیڈنگ ہوتی ہو۔ لوگوں کو ایسے دین میں دلچسپی نہیں جس میں سب کچھ اللہ ہواورانسان کی اپنی حیثیت بندہ کی ہوجائے۔ نام نہاد دینداری کا دعوی کر نے والے لوگ بھی اللہ کے دین کو ایزاٹ از قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، وہ بھی دین کے نام پر بے د ینی کی دھوم مچاتے ہیں، کیونکہ اس کی وجہ سے انھیں سماج میں اونچا مقام حاصل ہوجا تا ہے۔
    قرآن فراموشی کی اس فضا میں اگرآپ خالص دین کی بات کریں تو کوئی آپ پر توجہ نہیں دے گا۔ ایسے شخص کی بات لوگوں کو دیوانوں کی بات معلوم ہوگی۔ ایسے شخص کی کوئی مدد بھی نہیں کی جاتی کیونکہ وہ ایک ایسے دین کو لے کراٹھتا ہے جس میں اللہ کومرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ انسان کی اپنی حیثیت بندے کی ہوجاتی ہے۔اور کوئی بندہ بنناپسند نہیں کرتا۔
    ایج آف قرآن: ایک ایسے وقت میں جب حاملین قرآن، قرآن کو مسترد کردیں تو خداترس مسلمانوں پرلازم ہے کہ وہ اپنی ذاتی کاوشوں سے صحابہ کو نمونہ بنا کردنیا میں ایج آف قرآن برپا کریں۔ وہ خود قرآن کو سمجھ کر پڑھیں اور اپنے بچوں کو پڑھائیں، وہ گھروں میں قرآنی نشستیں منعقد کریں، وہ قرآن اوری انٹیڈ مضامین کو پڑھیں اور پڑھائیں، وہ ایسے لوگوں کا سپورٹ کریں جو اپنی باتوں کے لیے اللہ کی کتاب سے دلیل لائیں۔
    تبلیغ دین کا سادہ انداز:سعودی عرب کے بارے میں ایک صاحب نے ایک واقعہ سنایا۔ ایک بچہ ایک دکان پرجاتا ہے اورکچھ سامان خریدتا ہے۔ وہ اپنے مطلوبہ سامان کو لے کر آگے بڑھتا ہے تودکانداراسے دوبارہ آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہتا ہے کہ سنو، پھرآنا، میرے پاس یہ بھی ہے، میرے پاس وہ بھی ہے، وغیرہ۔ بچہ اس کے جواب میں کہتا ہے” ما عندکم ینفد وما عند اللہ باق“ یعنی سنو، جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے۔ یہی دین کی تبلیغ کا سادہ انداز ہے۔
     
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,813
    مجھے اس ایک سطر کے علاوہ مضمون سے اتفاق ہے ۔
    مضمون نگار نے لفظ مولا اور مددگار پر اعتراض کیا ہے ۔ حالاں کہ یہ لفظ مشترک لفظی ہے جو اللہ تعالی نے خود قرآن مجید میں اپنے علاوہ مخلوقات کے لیے بھی استعمال کیا ہے ۔ اصل اعتراض مشکل کشا پر ہونا چاہیے ۔
     
  3. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,155
    جزاک اللہ خیرا
    اللہ ہمارے دلوں اور گھروں کو علم کی روشنی سے منور کردے آمین یا رب العالمین
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,813
    وایاک آمین ۔
     
  5. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,735
    بہت عمدہ مضمون ہے۔ شئیر کرنے کے لیے جزاک اللہ خیرا۔
    ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی مقاصد شریعت؟

    بالکل ایسا ہی ہے :((
    اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائیں۔
     
  6. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,706
    آمین یارب العالمین

    بہت عمدہ شیئرنگ
    جزاک اللہ خیرا
     
  7. Ishauq

    Ishauq محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,520
    جزاک اللہ خیرا
     
  8. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,735
    نہیں یہ کسی اور مقاصد شریعت کی بات کی گئی ہے۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی مقاصد شریعت کے پہلے باب میں تو کئی قرآنی آیات اور احادیث شامل ہیں ریفرنس سمیت۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,813
    ہو سکتا ہے ہندوستان کے کسی مصنف کی کتاب ہو کیوں کہ مضمون نگار کا تعلق وہاں سے ہے ۔
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,813
    جزاک اللہ خیرا۔ یہ نیکی کا کام کیا۔ اب کسی دن اس کتاب کی زیارت کروا دیں۔ میں اس موضوع پر غیر اردو کتابیں دیکھ رہی تھی اچھا ہے ایک اردو کتاب بھی دیکھ لوں۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں