قرآن میں تضاد نہیں ان کی عقل میں فتور ہے

اعجاز علی شاہ نے 'قرآن - شریعت کا ستونِ اوّل' میں ‏نومبر 3, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,222
    تضاد قرآن میں نہیں ان کی عقل میں ہے !
    ----------------------------------
    اللہ تعالی کا قرآن ایک ایسی عظیم کتاب ہے جو ہر قسم کے اختلافات سے پاک ہے ، جو لوگ قرآنی آیات کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہار کرتے ہیں دراصل وہ قرآن میں تدبرنہیں کرتے ، بلکہ اکثر تو صرف ترجمہ دیکھ کر اعتراضات کرنا شروع کردیتے ہیں جبکہ قرآن کو اگر سمجھنا ہے تو پھر عربی زبان سیکھنی چاہیے،اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    {أَفَلاَ يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ اخْتِلاَفًا كَثِيرًا}

    کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بھی کچھ اختلاف پاتے۔ [النساء:82]
    ایک اور جگہ فرمایا:

    {أَفَلاَ يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا}
    کیا یہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر ان کے تالے لگ گئے ہیں۔ [محمد:24]
    ان آیات سے واضح ہوا کہ قرآن میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ اللہ تعالی کی واضح آیات میں غور وفکر نہ کرنے کی وجہ سے ان کو شیطان نے بہکایا ہے اور قرآن کوسمجھنے سے دور رکھا۔
    ✿┈┈┈┈┈••┈┈┈┈┈✿
    ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر وقت قرآن کی آیات میں غور کرے اور نصیحت حاصل کرے کیوں کہ اسی لئے اللہ تعالی نے نازل فرمایا:
    {كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُوا الأَلْبَاب}

    یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔ [ص:29]
    ✿┈┈┈┈┈••┈┈┈┈┈✿
    لہذا جتنا ہم قرآن میں غور وفکر اور تدبر کریں گے اتنے ہی شکوک وشبہات دور ہوں گے اور بظاہر انظر آنے والا اختلاف ختم ہوتا جائے گا کیوں کہ یہ جس رب کی طرف سے نازل ہوا ہے وہ نہایت ہی حکمت والا اور کامل صفات والا ہے ۔

    {تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيم}
    اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالیٰ غالب باحکمت کی طرف سے ہے۔[الزمر:1]
    ✿┈┈┈┈┈••┈┈┈┈┈✿
    اور اس کتاب کی حفاظت کا ذمہ اس نے خود لیا ہے :

    {إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُون}
    ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ [الحجر:9]
    ✿┈┈┈┈┈••┈┈┈┈┈✿
    بلکہ اس کے پاس باطل کسی طرف سے قریب نہیں آسکتا:

    {لاَ يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلاَ مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيد}
    جس کے پاس باطل پھٹک نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے اور نہ اس کے پیچھے سے، یہ ہے نازل کردہ حکمتوں والے خوبیوں والے (اللہ) کی طرف سے۔ [فصلت:42]
    ✿┈┈┈┈┈••┈┈┈┈┈✿
    کیا اس کے لئے چودہ (14)علوم سیکھنے پڑھتے ہیں ؟
    جی نہیں اللہ تعالی قرآن کو بہت ہی آسان کردیا لہذا ایک پانچ (5)سال کے بچے سے لیکر اسی (80)سال کی بڑھیا بھی حفظ کرسکتی ہیں ، سورۃ القمر میں اللہ تعالی نے اس بات چار بار دہرایا :

    {وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِر}
    اور بیشک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کر دیا ہے پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ [القمر:17]
    ----------------------------------
    آئیے قرآن کو غور وتدبر سے پڑھتے ہیں یہ دنیا وآخرت کی کامیابی کی طرف بلاتا ہے !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں