مؤذن رسول کی شان

ابو ہریرہ نے 'مجلس اطفال' میں ‏دسمبر 25, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو ہریرہ

    ابو ہریرہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 18, 2015
    پیغامات:
    42
    مؤذن رسول کی شان

    عرب کا صحرا تھا اور دوپہر کا وقت، گرمی اس قدر شدید تھی کہ زمین بھٹی کی طرح تپ رہی تھی، لو کے جھونکے آگ کے لپکتے ہوئے شعلے نظرآ رہے تھے۔ انسان تو انسان ، پرندے اور جانور بھی باہر نکلنے سے گھبراتے تھے۔اس عالم میں شہرسے باہر ایک نوجوان غلام زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا ۔ اسے تپتی ریت پرچت لٹایا گیا تھا سینے پر دو بھاری پتھررکھے ہوئے تھے‘ اس کا ظالم آقا کوڑالیے اس کے سرپر کھڑاتھا، اس غلام کی تکلیف کا اندازہ لگانا آسان نہیں تھا۔ جسم پتھروں کےبوجھ تلے دبا ہوا اور بدن کی کھال ریت کی گرمی سے جل رہی تھی۔اس پرتھوڑی تھوڑی دیر کے بعد کوڑے بر سائے جاتے اور جسم زنجیروں میں جکڑا ہونے کی وجہ سے حرکت ممکن نہیں‘ لیکن وہ نہ آہ وبکا کررہا تھا اورنہ گلہ وفریاد‘ اس کی زبان پرایک ہی کلمہ تھا۔

    ’’اَحد اَحد‘‘یعنی اللہ ایک ہے۔اس کےظالم آقا کواس کلمے سے چڑ تھی‘ وہ بتوں کا پجاری اور کئی خداؤں کا ماننےوالا تھا ‘اس لیے وہ کیسے برداشت کرسکتا تھا کہ اس کا غلام ایک اللہ پرایمان لائے، لیکن یہ غلام کفروشرک سے بیزار تھا، وہ سچے دل سے اللہ کی عبادت کرتا تھا اور محمدﷺ کا پیروکار بن گیا تھا۔ اس نوجوان نے اپناعقیدہ چھپا کررکھا تھا‘اس لیے اس کا آقا جو کہ مشرک تھا اس کا دشمن بن گیا تھا اس پر ظلم وستم ڈھاتا تاکہ یہ غلام دین حق سے منہ موڑلے۔ لیکن اس کےغلام کا ایمان تھا کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اوراصل زندگی توآخرت کی ہے۔ مومن غلام کے ساتھ یہ سلوک کوئی ایک دو دن کی بات نہ تھی اس نے جب سے اسلام قبول کیا تھا اس کے ساتھ یہی ہوتا تھا۔اسے گلیوں میں گھسیٹا جاتا اور طرح طرح کی تکالیف دی جاتیں لیکن اس کاایک ہی جواب تھا:اَحد‘اَحد.............. یہی مشق ستم جاری تھی کہ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزرہوا توان سے رہانہ گیااور انہوں نےمنہ مانگی رقم دے کراس غلام کو خرید کر آزادکریا۔

    پہاڑ جیسا حوصلہ دکھنے والا یہ نوجوان کون تھا؟ بلال!سیدنا بلال رضی اللہ عنہ حبشی نسل سےتعلق دکھتے تھے۔آپ مکہ کےقریب رہنے والےایک قبیلہ میں پیداہوئے۔آپ پیدائشی غلام تھے۔آپ کے آقا کانام’’امیہ بن خلف‘‘ تھا۔ بالغ مردوں میں سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے بعد آپ ہی ایمان لائے۔ یہ اسلام کا ابتدائی دورتھااوراس میں مسلمانوں کوکفار طرح طرح کے مظالم کانشانہ بناتے تھے۔خود نبیﷺکو تکلیف پہنچانے سے دریغ نہ کرتے تھے‘اس دورمیں اسلام قبول کرنا مصائب وتکالیف کو دعوت دینے کےمترادف تھا‘ لیکن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی ان باتوں سے ناواقف نہ تھے لیکن ان کودل میں نبیﷺکی محبت اور اسلام کی عظمت کاایسا نقش بیٹھ چکا تھا کہ انہوں نے آزمائش کی ذراپرواہ نہ کی اور اپنے عقیدے پرثابت قدم رہ کراستقامت کامظاہرہ کیا۔ جب سید نا بلال نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے توآپﷺنے بلال رضی اللہ عنہ کواپنا خادم اورمعاون مقرر کرلیا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپﷺ کی خدمت اور گھریلو کام کاج کرنے کو عبادت وسعادت سمجھتے تھے۔

    ہجرت کےلیے سال جب نبی اکرمﷺنے نمازیوں کوجمع کرکے اذان کاطریقہ مقررفرمایا تو اذان دینے کی خدمت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہی کےسپرد فرمائی۔اسی لیےآپ کو رضی اللہ عنہ کو ’’مؤذن رسول‘‘کےلقب سے پکاراجاتا ہے (آپ کسی وجہ سے’’ش‘‘ادا نہ کرسکتے تھے اور ’’اشہد‘‘کو’’اسہد‘‘کہتے تھے۔ لیکن ان کے اخلاص ومحبت اوردینی فدای کی وجہ سے آپﷺ کو یہ اندازبھی قابل قبول تھا۔ جب تک نبی کریمﷺزندہ رہے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذانیں مدینہ اورگردونواح میں گونجتی رہیں۔جب مکہ فتح ہوا توبلال رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلےخانہ کعبہ کی چھت پرچڑھ کراذان دی۔

    اسلام نے مساوات کا جوتصوردیا ہے‘اسی کا مظہربلال رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔

    اسلام قبول کرنےکے بعد آپ رضی اللہ عنہ کووہ مقام ملا کہ عرب کےبڑے بڑے سردارآپ رضی اللہ عنہ کو بلال حبشی کے بجائے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہہ کر پکارتے تھے۔بلال رضی اللہ عنہ سفروحضرمیں آپﷺ کے ساتھ رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوات میں بھی نبی اکرمﷺ کی معیت کا شرف حاصل کیا۔ جب اکرمﷺ فوت ہوگئےتوآپ نے اذان دینا ترک کردی‘ کیونکہ جب آپ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرمﷺکی جدائی کااحساس ہوتا توآپ کے دل پر رقت طاری ہوجاتی‘اس کےبعد آپ شام چلےگئے اورجہاد میں حصہ لینے لگے۔

    نبی اکرم کی وفات کے بعدآپ نے صرف دومرتبہ اذان دی۔ایک وہ موقع جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے دورخلافت میں’’بیت المقدس‘ ‘تشریف لے گئے توآپ رضی اللہ عنہ نےسیدنا عمرفاروق کے اصراربڑھنے پراذان دی توآپ رضی اللہ عنہ کی صدائے اذان سےفضا گونجنے لگی۔ دل کے جذبات نے اس آواز میں وہ جادو بھردیا تھا کہ سارے لشکرپررقت طاری ہوگئی اور سب کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا۔ سیدناعمر رضی اللہ عنہ جیسے پکے دل والے شخص بھی غم کی تاب نہ لاسکے اور بے اختیار رونے لگے۔ اسی طرح دوسرا موقع جب آپ رضی اللہ عنہ شام سےمدینہ منورہ’’روضۂ رسولﷺکے لیے تشریف لائے تو سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما نے اذان کی فرمائش کی توآپ ٹال نہ سکے اوردوسری بار اذان دی۔’’مسجد نبوی‘‘سے جب بلالؐ کی صدائے تکبیر بلند ہوئی تومدینہ کے گردونواح میں غم واندوہ کی لہر دوڑ گئی۔ جس نے سنا مسجدکی طرف کھینچا چلا آیا اور مسجد میں ایک بارپھر زمانۂ نبوت کاسماں پیدا ہوگیا۔

    آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی وہ مبارک زندگی ہے کہ جس کا ایک ایک لمحہ اللہ کی اطا عت وفرمانبرداری اوردین اسلام کی خدمت میں صرف ہوا۔اسی اخلاص اوردینی فداکاری نے انہیں وہ بلند مقام عطا کیا جودنیا کے کسی شہنشاہ کو بھی نصیب نہ ہوا۔

    ***
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 25, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • اعلی اعلی x 2
  2. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,976
    ماشاءاللہ. جزاکم الله خیرا

    Sent from my H30-U10 using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,055
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,803
    بہت اچھا انتخاب ہے ابوہریرہ بھیا۔ اللہ تعالی آپ کی صلاحیتوں میں برکت دے۔
    ہو سکے تو مصنف کا حوالہ ضرور دیں اور کسی طرح اپنی والدہ محترمہ کو بھی مجلس کا چکر لگانے کا کہتے رہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    11,256
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں