ماہ رمضان کی برکتوں والا شب و روز

اجمل نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏مئی 14, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اجمل

    اجمل رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    178
    اللہ کی رحمتوں‘ برکتوں اور نعمتوں والا مہینہ آنے والا ہے ۔
    بس چند دنوں میں ہی آنے والا ہے۔
    اور گنتی کے چند دنوں کیلئےہی آنے والا ہے۔
    ہمارے رب نے کتنے پیار سے فرمایا ہے :

    ’ أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ ‘ گنتی کے چند دن ہی تو ہیں۔

    بے شک گنتی کے چند دن ہی تو ہیں:
    اللہ تعالٰی کا قرب اور خوشنودی حاصل کرنےکیلئے ‘
    اللہ تعالٰی کی رحمتوں و برکتوں سے فائدہ اُٹھانے کیلئے ‘
    اللہ تعالٰی سے دعائیں مانگنے اور مغفرت طلب کرنے کیلئے‘
    جہنم سے نجات پانے کیلئے‘
    جنت کے وارث بننے کیلئے
    اور
    ہزار مہینوں کی عبادات اپنی نامۂ اعمال میں لکھوانے کیلئے۔​

    لہذا ہر مسلمان ‘ چاہے کسی کا ایمان قوی ہو یا ضعیف‘ اِن مبارک دنوں میں روزہ رکھتا ہے۔
    روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو صرف بندہ اور رب کے درمیان ہے۔
    اگر کوئی چھپ کر کھا لے اور کسی کو نا بتائے تو لوگ اسے روزہ دار ہی سمجھیں گے۔
    لیکن کوئ نہایت ہی کمزور ایمان کا مومن بندہ بھی ایسا نہیں کرتا کیوں کہ وہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ اس نے روزہ صرف اللہ کیلئے رکھا ہے اور اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
    اسی طرح دستر خوان پر افطار کے انتظار میں بیٹھے کسی نہایت ہی کم ایمان والے بندے سے اگر کہا جائے کہ بھائی پندرہ سولہ گھنٹوں کے روزہ رکھ چکے ہو ‘ صرف دو تین منٹ پہلے افطار کرنے میں کیا حرج ہے۔
    تو وہ جواب دے گا کہ: " یہ اللہ و رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے کہ سورج غروب ہونے کے بعد افطار کی جائے ورنہ روزہ نہیں ہوگا ‘ روزہ ٹوٹ جائے گا اور میں اس حکم کی نافرمانی نہیں کر سکتا۔‘‘
    روزہ رکھنے کے بعد نہایت ہی کمزور ایمان والے بندے کا ایمان بھی اتنا مضبوط ہو جاتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح روز ے کی حالت میں چھپ کر کھانا یا دو تین منٹ پہلے روزہ افطار کرنا گوارا نہیں کرسکتا اورروزے کے معاملے میں للہ کی نافرمانی نہیں کرتا ۔
    تو آئیے ہم سب خود سے سوال کریں کہ:

    ’’روزہ کے علاوہ دیگر معاملے میں اللہ کی نافرمانی کرنے میں ہم کیوں دلیر ہو جاتےہیں؟‘‘

    روزہ کے بارے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ نے جو حکم دیا ہے اسے تو ہم من و عن مانتے ہیں ‘ ایک منٹ کی نا فرمانی کرکے سورج غروب ہونے سے پہلے روزہ افطار نہیں کرتے یا چھپ کر کچھ کھا کر اللہ کی نا فرمانی نہیں کرتے۔
    جبکہ روزہ کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے کچھ احکامات بطور فرض عائد کئے ہیں اور ہم مسلمان ایسے کتنے ہی فرائض میں نافرمانی کرنے میں ایک منٹ کی بھی دیر نہیں کرتے۔
    روزہ کو تو ہم سب حکم الٰہی مانتے ہیں لیکن
    ۔۔۔۔۔کیا حرام سے اجتناب کرنا اور رزق حلال کمانا حکم الٰہی نہیں ہے؟
    ۔۔۔۔۔ کیا مردوں کیلئے پانچ وقت کی نماز با جماعت حکم الٰہی نہیں ہے ؟
    ۔۔۔۔۔ کیا صحیح نصاب کے مطابق زکاۃ ادا کرنا حکم الٰہی نہیں ہے ؟
    ۔۔۔۔۔ کیا صاحب استطاعت پرحج کرنا حکم الٰہی نہیں ؟
    ۔۔۔۔۔ کیا صلہ رحمی حکم الٰہی نہیں ہے ؟
    ۔۔۔۔۔ کیا والدین کے ساتھ محبت و احترام سے پیش آناحکم الٰہی نہیں ہے ؟
    ۔۔۔۔۔ کیا اپنی بیویوں کا وفادار ہونا اور انکے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنا حکم الٰہی نہیں ہے ؟وغیرہ وغیرہ
    ۔۔۔۔۔ کیا أَطِيعُواْ اللّهَ وَالرَّسُولَ ﷺ احکام الٰہی نہیں ہے ؟ جسے چھوڑ کر ہم اماموں‘ پیر ومشائخ کے پیچھے چل پڑے ہیں اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے ہیں۔
    روزے کی حالت میں سارے محرمات سے تو ہم اجتناب کرتےہیں لیکن اس کے علاوہ بھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے بعض معاملات کو حرام قرار دیا ہے جنہیں پامال کرتے ہوئے ہم ایک منٹ کیلئے بھی نہیں سوچتے:
    ۔۔۔۔۔ کیا جھوٹ بولنا حرام نہیں ؟
    ۔۔۔۔۔ کیا جھوٹی گواہی دیناحرام نہیں ؟
    ۔۔۔۔۔ کیا ظلم و زیادتی حرام نہیں ہے؟
    ۔۔۔۔۔ کیا غیبت‘ حسد و بغض وغیرہ حرام نہیں ہے؟
    ۔۔۔۔۔ کیا رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا حرام نہیں ہے؟
    ۔۔۔۔۔ کیا حقوق اللہ و حقوق العباد کی پامالی حرام نہیں ہے؟
    ۔۔۔۔۔ کیا پڑوسیوں سے براسلوک کرنا‘کسی پر لعنت بھیجنا‘ بہتان باندھناوغیرہ حرام نہیں ہے ؟
    ۔۔۔۔۔ کیا عورتوں کا باریک اورعریاں لباس پہننا‘ مصنوعی بال لگانا‘غیر مردوں کو لُبھانا ‘ رقص و سرور کی محفلیں وغیرہ حرام نہیں ہے؟
    ۔۔۔۔۔ کیا کرپشن و رشوت خوری‘ جوا و سودی کاروبار ‘ ملاوٹ و زخیرہ اندوزی‘ جھوٹ بول کر ناکارہ سامان بیچنا‘ بجلی و گیس کی چوری وغیرہ حرام نہیں ہے؟ وغیرہ وغیرہ
    اور پھر سب سے بڑھ کر شرک ہےکیا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا حرام نہیں ہے؟
    لیکن آج کتنے مسلمان ہیں جو روزہ تو پوری اہتمام سے رکھتے ہیں لیکن شرک جیسی لعنت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ روزے کی حالت میں بھی دعا کرتے ہوئے یا خواجہ ‘ یا داتا ‘ یا غوث‘یا علی وغیرہہی کو پکارتے ہیں اور ان ہی سے مدد مانگتے ہیں۔کون نہیں جانتا کہ

    إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ۔۔۔ ﴿١١٦﴾ سورة النساء
    ’’بے شک، اللہ یہ معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے سوا دوسرے گناہ وہ جس کے لیے چاہتا ہے، معاف فرما دیتا ہے۔‘‘

    اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کرنے کو معاف نہیں کرے گا۔
    شرک کی بخشش کے لئے خالصتاً توبہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

    تو آئیے ہم سب اپنے سارے گناہوں سے خالصتاً توبہ کریں
    اور آنے والا ماہ رمضان کے چند دنوں کی برکتوں سے پورا فائدہ اُٹھانے کیلئے ابھی سے روزہ کی طرح دیگر احکامات الٰہی پر عمل اور محرمات سے اجتناب کرنا شروع کردیں تاکہ ماہ رمضان کی چند دنوں کی برکتیں بقیہ دنوں میں بھی بلکہ پوری زندگی ہمارےساتھ رہے۔
    اللہ سبحانہ و تعالٰی ہم سب کو ایسا ہی توفیق دے اور ہمارا ہر شب و روز ماہ رمضان کی برکتوں والاشب و روز جیسا بنا دے۔ آمین
    دعاؤں کا طالب: محمد اجمل خان
     
    Last edited: ‏مئی 20, 2017
  2. حیا حسن

    حیا حسن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 6, 2017
    پیغامات:
    71

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں