مری زندگی کا مقصد ترے دیں کی سرفرازی

رفی نے 'گپ شپ' میں ‏مئی 23, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    11,314
    گردشِ حیات میں ہر صبح و شام ہمیں شرق و غرب سے سورج کی کرنیں طلوع و غروب ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس دوران نیلگوں آسمان کے نیچے نہ جانے کتنے واقعات و حادثات وقوع پذیر ہوتے ہیں جن میں کچھ ہمیں‌تروتازگی فراہم کرتے ہیں تو چند ایک غم زدہ کردیتے ہیں لیکن ان میں چند لمحات ایسے بھی ہوتے ہیں جو یادِ رفتگاں کا ایک اٹوٹ حصہ بن جاتے ہیں اور ایک تحریک و مشن کی طرح افکار کو جلا بخشتے ہیں اور پتھر پر گہرے نقش کی طرح تاحیات ہمیں متاثر کئے رہتے ہیں۔

    بد قسمتی سے احقر کی نگاہوں نے ایک ایسا حادثہ دیکھا جس نے دل و دماغ کی گہرائیوں تک اپنا نقش و دوام چھوڑ دیا۔ مانڈوی پوسٹ آفس، بھنڈی بازار، بمبئی کے چوراہے سے احقر گذر رہا ہے کہ راستے پر ایک کٹی پتنگ نیچے گزرتی ہوئی نظر آتی ہے اور 7 یا 8 سال کی عمر کا ایک بچہ اس کٹی پتنگ کو پکڑنے بھاگتا ہوا نظر آتا ہے۔ کٹی پتنگ تو اس بچے کے ہاتھ آ جاتی ہے لیکن انہی لمحات میں ایک زوردار چیخ سنائی دیتی ہے، وزن سے لدے ہوئے ٹرک کا اگلا پہیہ اور چند لمحوں بعد پچھلا پہیہ اس معصوم کے اوپر سے گذر جاتا ہے اور انتہائی بے بسی کے عالم میں اس خوفناک و ناقابلِ فراموش حادثے کو احقر کی نگاہیں دیکھتی ہیں۔ خون سے لت پت گوشت کے محض چند ٹکڑوں کو اس معصوم کی ماں شاہراہ سے سمیٹنے کی ایک ناکام کوشش کرتی ہے۔ ایک اس بے سہارا ماں کو انسانیت و ہمدردی کے بول کہتا ہوا سنائی دیتا ہے۔ احقر بھی چند لمحات اس معصوم کی بکھری ہوئی لاش کی طرف دیکھتا ہے اور اس ماں کے آنسو اور چیخ و پکار کو سنتا ہے، دنیا کی بےثباتی پر غور کرتے ہوئے اور ناگہانی موت و حادثات سے بچنے کی دعا کے ساتھ آگے گزر جاتا ہے۔

    میرے قدم بھنڈی بازار سے جے جے اسپتال کی طرف بڑھ رہے تھے اور ذہن یہ سوچنے پر مجبور تھا کہ کیا اس بچے کی زندگی کا مقصد محض ایک کٹی پتنگ ہی حاصل کرنا تھا؟ اگر ایسا نہیں ہے تو اس معصوم نے پھر کیوں اپنی جان گنوا دی؟ قیمتی جان اور وہ بھی محض ایک کٹی پتنگ کےلیے۔ راقم مزید سوچنے پر مجبور ہوا اور جب دنیا کے اردگرد نظر دوڑائی تو چہار جانب یہی دکھائی دیا کہ اس مادی اور مشینی دور میں دنیا کے بیشتر افراد مختلف پتنگوں کی تلاش میں زندگی کے راستے پر اللہ کے خوف کے بغیر دوڑ لگا رہے ہیں۔ کہیں دولت کی پتنگ تو کہیں شہرت کی، کہیں وزارت کی پتنگ تو کہیں اقتدار و ہوس کی، کہیں نفسانی خواہشات کی پتنگ تو کہیں جھوٹی شان و شوکت کی، غرض دنیا کا ایک کثیر طبقہ ان عارضی پتنگوں کی تلاش میں محوِ سفر ہے اور وہ یہ سوچنے اور سمجھنے کی بالکل کوشش نہیں کر رہا کہ مالک و خالقِ کل نے اسے اس دنیا میں کیوں وجود بخشا ہے؟ اس کا مقصدِ حیات کیا ہے؟ اسے اس دنیا میں کس مشن پر بھیجا گیا ہے؟ اور وہ کن معاملات میں منہمک ہے؟ اس لیے بہتر ہوگا کہ زندگی و موت کے ان دو پہیوں میں آنے سے پہلے ہم اپنی آنکھیں کھول لیں اور یہ جان لیں کہ خالقِ کائنات اللہ سبحانہ و تعالٰی نے اس دنیا میں ہماری تخلیق کیوں کی ہے؟ اور ہمارا اصل مقصدِ حیات کیا ہونا چاہیئے؟

    اقتباس
    بشکریہ روشنی (جمعہ 22 مئی 2009)
    تحریر: ڈاکٹر خلیل الدین مکہ مکرمہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,446
    ماشاءاللہ زبردست تحریر

    ہماری زندگی کا مقصد صرف خالق کی رضا ہونی چاہیے

    ہر کام میں رب کی رضا تلاش کرنا

    جس کی موت اس حال میں آئی کہ اسکا خالق اس سے راضی تھا یقینا وہ کامیاب ہو گیا​


    *اللهم ارزقنا الإخلاص... اللهم أحسن خاتمتنا ... اللهم توفنا وأنت راض عنا ...آمين *
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 24, 2009
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,320
    بہت بہت شکریہ رفی بھائی
    اچھا ہوا آپ نے میری محنت بچا لی :)
    ورنہ میں اسے کمپوز کرنے والا تھا کہ مصروفیت میں ممکن نہ ہو سکا۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ قابل فکر مضمون ہندوستان کے اردو اخبار و رسائل میں بھی بہت پہلے شائع ہو چکا تھا۔
     
  4. ابن عمر

    ابن عمر رحمه الله تعالى

    بانی و مہتمم اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,369
    شکریہ بھائی جان !
     
  5. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    السلام علیکم
    رفی بھائی
    خوبصورت انداز میں‌تحریر کیا گیا مضمون شئر کرکے آپ نے ہمیں‌بھی سوچنے پر مجبور کردیا کہ۔۔۔ہماری بھاگ دوڑ کا مقصد بھی کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ ہمیں‌فتنوں سے محفوط رکھے۔۔۔۔آمین
    جزاک اللہ خیر فار ا ے نائس اینڈ بئیوٹی فل وے آف اکسپلنیشن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  6. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    معذرت کہ ایسے خیالات بنیادی اور منہج کی غلطی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
    ہماری زندگی کا مقصد اللہ کی رضا نہیں بلکہ اتباع قرآن و سنت ہونا چاہئے۔
    اللہ کی رضا تو نتیجہ ہے ہمارے اعمال کا۔ نتیجے کو مقصد نہیں‌ بنانا چاہئے بلکہ قرآن و سنت کی حقیقی تعلیمات پر عمل کو اپنا مقصد قرار دینا چاہئے۔

    اسی بات کو حافظ سعید حفظہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب عقیدہ و منہج میں نہایت واضح‌ انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کتاب کا وہ باب پڑھ لیں جس کا عنوان ہے : کیا رضائے الٰہی کا حصول ہمارا اصل مقصد اور نصب العین ہے یا عبادت اصل مقصد ہے؟

    ویسے اسی باب کو میں نے اپنے انداز میں یہاں پیش کیا تھا۔
     
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    11,314
    پاشا بھائی میں نے مضمون کے صرف پہلے حصے کا اقتباس پیش کیا ہے، آپ باقی ماندہ مضمون کمپوز کر کے الگ تھریڈ میں پارٹ ٹو کے نام سے پوسٹ کر دیں تاکہ قارئینِ مجلس کو مکمل مضمون پڑھ کر اس کی افادیت کا اندازہ صحیح معنوں میں ہو سکے۔

    نیز یہ مضمون اصل میں انگلش زبان میں تھا، جسے خود ڈاکٹر صاحب نے اردو میں ترجمہ کیا ہے، نیز اس کے مراٹھی، بنگالی ، گجراتی، عربی، پشتو، اطالوی، جرمن، اور فرانسیسی زبانوں میں بھی تراجم شائع ہو چکے ہیں۔
     
  8. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,446
    کیا رضائے الہی کا حصول ہمارا اصل مقصد اور نصب العین ہے یا عبادت اصل مقصد ہے؟؟

    http://www.vblinks.urdumajlis.net/showthread.php?t=6922

    یھاں یہ کتاب عقیدہ و منہج میں ہی کمپوز کر رہی ہوں
    بھیا میں یہ سارا پیراگراف وہاں لکھ چکی ہوں
    بھائی میں اس بات سے اتفاق کرتی ہوں

    میں یہ اعتقاد رکھتی ہوں کہ اللہ کی رضا کا حصول صرف کتاب اللہ و اتباع الرسول سے ہی ممکن ہے ( یعنی مشروع عبادات سے)

    کسی بھی غیر مشروع عمل سے اللہ کی رضا کا حصول ممکن ہی نہیں
    اس لئے میں نے کہا کہ ہماری زندگی کا مقصد حصول رضا الہی ہے اور رضا الہی صرف کتاب اللہ اور سنتِ رسول کی اتباع سے ہی ممکن ہے


    پھر بھی اگر میں غلط ہوں تو

    سوری

    جزاک اللہ خیر​
     
  9. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,717
    بہت زبردست تحریر ہے رفی بھائی۔

    ہماری زندگی کا مقصد صرف اُس پاک کو خوش کرنے کا ہونا چاہیے جیسا کہ سسٹر نے اُوپر کہا
     
  10. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,446
    اتباع قرآن و سنت سے
     
  11. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,717
    ہمم ٹھیک کہا سسٹر
     
  12. بالکل صحیح کہا آپ نے
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں