مشروع تسہیل السنۃ بین یدی الأمۃ - فوائد سنن ابن ماجہ تحت اشراف فضیلۃ الشیخ رفیق الطاہر حفظہ اللہ ۔

يوسف أظهر نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏مارچ 29, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. يوسف أظهر

    يوسف أظهر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2015
    پیغامات:
    167
    [TRADITIONAL_ARABIC]1 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَخُذُوهُ، وَمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا»[/TRADITIONAL_ARABIC]
    ( أبو ہریہرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جو مینے حکم دیا ہے اسکو لے لو ، اور جس چیز کو مناہ کیا ہے اس سے باز اّ جائو ۔ )

    [TRADITIONAL_ARABIC]2 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَخُذُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَانْتَهُوا»
    [/TRADITIONAL_ARABIC]
    " ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اس چیز کو چوڑ دو جسکے بارے میں مینے نہیں کچ بتایا ، بیشک ہلاک ہوئے جو تم سے پہلے تہے کثرت سوال اور اپنے نبیوں سے اختلاف کے سبب سے ۔ اگر میں کسی چیز کا حکم دوں تو اسے اپنی استطاعت کے بنا پر لے لو ، اور جس چیز سے منع کروں اسے ( ترک ) چھوڑ دو ۔ "
    فوائد -
    1- جن چیزوں کے اتیان کا حکم دیا گیا ہے ، وہ استطاعت پر محمول ہیں ۔ لیکن جن چیزوں سے پرہیز کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کو استطاعت پر نہیں رکہا گیا بلکہ کہا گیا " فانتہوا " فورا باز آ جائو ۔
    2- اس حدیث سے یہ بھی اخذ کیا جاتا ہے ، کی جہاں کہیں امر اور نہی ٹکرایا جائگا وہاں نہی کو مقدم کیا جائگا ۔
    3- یہ حدیث بدعات اور اہل بدعت پر بہی رد کرتی ہے ۔ کیونکہ اس میں اسی چیز پر اکتفاء کا حکم دیا گیا ہے جس پر نبی صلى اللہ علیہ وسلم اکتفاء کریں ۔
    4- اس حدیث سے یے بہے استنباط کیا جاتا ہے " الأصل فى الأشیاء الاباحہ " کی اصل ہر چیز میں اباحت کا ہی حکم ہے الا جسکی ممانعت وارد ہو شریعت کے نصوص میں ۔
    5- امم ماضیۃ کی ہلاکت کا سبب نبیوں کی سنت کی خلاف ورزی ہے ۔
    6- اس حدیث میں دین اسلام کی سماحت کا بیان ہے ، کی اس دین میں ہر واجبات اقتدار پر مبنی ہے ۔
     
    Last edited: ‏اپریل 1, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. يوسف أظهر

    يوسف أظهر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2015
    پیغامات:
    167
    3- حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا أبو معاوية ووكيع عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال [​IMG] قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من أطاعني فقد أطاع الله ومن عصاني فقد عصى الله ِ)
    " أبو ہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( جسنے میری پیروی کی چناچی اسنے اللہ کی پیروی کی اور جسنے میری مخالفت کری اسنے اللہ کی مخالفت کری "
    فوائد -
    1- سنت کی پیروی کرنا اللہ سبحانہ وتعالى کی پیروی کرنا ہے ۔ اللہ تعالے نے فرمایا قراّن کریم میں " من یطع الرسول فقد أطاع اللہ " جسنے رسول صلى اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی اسنے اللہ کی پیروی کی ۔
    2- نبی صلى اللہ علیہ وسلم کی أحادیث أور سنت مبارکۃ بہی وحی من اللہ ہے ۔
    3- نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم أپنے طرف سے کچ نہیں کہتے بلکی سنت نبی صلى اللہ علیہ وسلم بہی شریعت ہے ۔
    4- نبی صلى اللہ علیہ وسلم ، اللہ کے جانب سے مشرع ہیں ۔ کیوںکى پیغنبر اللہ کی شریعت کا مبلغ ہوتا ہے ۔
    5- اس حدیث میں قراّنی ( منکرین حدیث ) کا بہی رد ہو رہا ہے ۔ نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے سنت کی پیروی اللہ کی پیروی کہا ہے ۔
     
    Last edited: ‏مارچ 31, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. يوسف أظهر

    يوسف أظهر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2015
    پیغامات:
    167
    4- حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير حدثنا زكريا بن عدي عن ابن المبارك عن محمد بن سوقة عن أبي جعفر قال كان ابن عمر إذا سمع من رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا لم يعده ولم يقصر دونه ۔
    " ابن عمر رضی اللہ عنہ اگر رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے کچ سنتے تو اس سے تجاوز کرتے نا اس سے پیچے رہتے ۔"
    فوائد -
    1- اس أثر میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کا منہج واضح ہو رہا ہے ، اور ہر مسلمان کا منہج یہی ہونا چاہئے ۔
    2- نا سنت کی تجاوز کرنی چاہئے نا اس سے پیچے ہٹنا چاہئے ۔ سب سے بہترین سنت پبارے نبی صلى اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔ خیر الہدی ہدی محمد صلى اللہ علیہ وسلم ۔
     
    Last edited: ‏مارچ 31, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. يوسف أظهر

    يوسف أظهر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2015
    پیغامات:
    167
    5- حدثنا هشام بن عمار الدمشقي حدثنا محمد بن عيسى بن سميع حدثنا إبراهيم بن سليمان الأفطس عن الوليد بن عبد الرحمن الجرشي عن جبير بن نفير عن أبي الدرداء قال [​IMG] خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نذكر الفقر ونتخوفه فقال ألفقر تخافون والذي نفسي بيده لتصبن عليكم الدنيا صبا حتى لا يزيغ قلب أحدكم إزاغة إلا هيه وايم الله لقد تركتكم على مثل البيضاء ليلها ونهارها سواء [​IMG] قال أبو الدرداء صدق والله رسول الله صلى الله عليه وسلم تركنا والله على مثل البيضاء ليلها ونهارها سواء ۔

    " ابی درداء رضى اللہ عنہ فرماتے ہیں " رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم اپنے غرفے سے تشریف لائے ، اور ہم لوگ غربت کے بارے میں گفتگو کر رہے تہے اور غربت کی شدت سے ایک دوسرے کو ڈرا رہے تہے ۔ نبی صلى اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب اّکر فرمانے لگے ( کیا غربت اور تنگی سے ڈرتے ہو ؟ میں اس کی قسم خاتا ہوں جسکے ہاتہ میں میری جان ہے ، دنیا ( دنیا کی نعمتیں ) تم لوگوں پر اس طرہ برسیں گے کی تمہارے دل مائل نہیں ہوگا الا اسی کی وجہ سے ۔ قسم اللہ کی حقیقتا مینیں تم لوگوں ایسے طریقے پر چوژا ہے جسکی رات بہی اسی طرہ روشن ہے جیسی صبح روشن ہوتی ہے ۔ " ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں " ہاں اللہ کی قسم نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسے طریقۃ پر چوڑا ہے جسکا رات اور دن برابر ہے ۔
    فوائد -
    1- اس حدیث میں ہمیں فعل الخیرات کرنے کی ترغیب دی گئے ہے ۔ اور یے بہی بتایا گیا ہے کی ہماری گمراہی کا سبسے بڑا سبب دنیا کی لذات ہیں ۔
    2- اس حدیث میں مسجد میں بیٹہ کر نصیحت اور دین کی گفتگوا کرنا صحیح ہے ۔
    3- اس حدیث میں یے بہی بتایا گیا ہے کی ہر چیز واضح ہے ، اور یے دین مکمل ہو چکا ہے ، اس میں اجات کردا چیزوں کی جگہ نہیں ہے ۔
    4- کتاب سنت پر چلنے والا اس طرہ واضح راستے پر ہے جس طرہ صبح روشن ہوتی ہے ، ۔۔
     
    Last edited: ‏مارچ 31, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. يوسف أظهر

    يوسف أظهر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2015
    پیغامات:
    167
    6 - حدثنا محمد بن بشار حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة عن معاوية بن قرة - عن أبيه قال [​IMG] قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تزال طائفة من أمتي منصورين لا يضرهم من خذلهم حتى تقوم الساعة ۔
    " قرۃ بن ایاس رضی اللہ فرماتے ہیں " رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت کی ایک جماعت ہمیشا حق پر قائم ( جیت حاصل کری ہوئے ) رہیگے حتى کی قیامت اّجائگی ۔ انکو کسی کا دہوکا اصر أدنداز نہیں کریگا ۔ "
    فوائد
    1- یے حق پر رہنی والی جماعت ہر زمانے میں رہیگی ۔
    2- طائفۃ منصورۃ سے مراد اہل الحدیث ہیں ۔ جنکا کردار ہر چوڈی بڑی چیز میں نبی صلى اللہ علیہ وسلم کی سنت ہوتی ہے ۔
    3- اس اور دیگر اس معنے کی حدیث متعارض نہیں بلکی متفق ہیں ۔
    4- کئے لوگ اس حدیث کو طائفۃ اہل الحدیث پر نہیں بلکی اپنے فرقے پر فڈ کرنا چاہتے ہیں ، اور کہتے ہیں ہم لوگ ہر زمانے میں قتال کرتے ہیں ۔ اور اہل الحدیث قتال نہیں کر رہے اج کل ۔ ہم انکو کہتے ہیں اس قتال سے مراد یے لازم نہیں کی جنگ ہی مراد ہو ، اگر جنگ مراد لیتے ہو تو کیا علی رضی اللہ عنہ طائفۃ منصورۃ میں نہیں ہیں ؟ کیوںکی انکے دور مین بہی کفار سے قتال نہیں ہوئے ۔ جو چیز علی رضی اللہ عنہ کے جواب میں کہوگے وہی جواب یہاں بہی دے دو ۔
    اور یے یاد رہے کی اہل الحدیث سنی جہاد سے پیچے کبہی نہیں ہڈتے بلکی سنی جہاد کا دفاع کرتے ہیں ، جسمیں رایۃ أہل السنۃ والحدیث کی ہو ۔ اّج - کل کا ہی واقعۃ سامنے ہے یمن میں حوثیوں رافضیوں کے خلاف جہاد ، أہل السنۃ والحدیث ڈٹ کر سامنا کر رہے ہیں ۔
    لیکن یے بات یاد رہے جو دہشتگرد مسلمان ملکوں میں مسلمانوں کا قتل کر کے اسکو جہاد ک نام دینا چاہتے ہیں ، ہم اسکے سخت خلاف ہیں ۔ کیونکى جہاد ایک فریضۃ ہے عبادت اسکو بہی اسی طرہ کیا جائگا جس طرح نبی صلى اللہ علیہ وسلم سے ثاب ہے ۔ اور عبادت کی قبولیت میں دو شرط ہوتی ہیں ۔ 1 - اخلاص 2- متابعت سنت ۔
    اور اّپ کے سامنے پیشاور مین ہونے والا واقعۃ دور نہیں ہے ۔ پہر بہی یے لوگ اپنے اپ کو طائفۃ منصورۃ کا لقب دینا چاہتے ہین ۔
    5- اہل الحدیث ( اہل علم ، اہل ذکر ) تو ہر زمانے موجود رہتے ہیں اور جہاد ضروری نہیں ہے کی ہر وقت قائم رہے ۔ اس سے بہی یہی معلوم ہوتا ہے کی طائفۃ منصورۃ سے مراد أہل الحدیث (أہل الذکر) مراد ہے ۔ اور ائمۃ اسلام کے بے شمار اقوال ملتے ہیں اسکی تأیید میں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. يوسف أظهر

    يوسف أظهر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2015
    پیغامات:
    167
    7 - حدثنا أبو عبد الله قال حدثنا هشام بن عمار قال حدثنا يحيى بن حمزة قال حدثنا أبو علقمة نصر بن علقمة عن عمير بن الأسود وكثير بن مرة الحضرمي عن أبي هريرة [​IMG] أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا تزال طائفة من أمتي قوامة على أمر الله لا يضرها من خالفها [​IMG]
    ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " میری امت می سے ایک گروہ ہمیشا دین پر قائم رہیگا ، اسکو اسکے مخالفین نقصان نہیں پہنچا سکیںگے ۔
    فوائد -
    1- امر اللہ سے مراد دین اللہ ہے ، عائشۃ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں اّتا ہے " من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فہو رد " اس میں بہی أمرنا سے مراد دین ہے ۔
    2-قوامۃ - صیغۃ مبالغۃ ہے قائم کا ۔ یعنی مسلسل قائم رہیگا ۔
    3- اس حدیث کی سند میں ہشام بن عمار صدوق راوی ہیں ۔
    4- أبو علقمۃ نصر بن علقمۃ : حافظ ابن حجر نے انکے ترجمۃ میں انکو " مقبول " کہا ہے ۔
    5- یے حدیث بیشمار صحیح اسانید سے ثابت ہے ۔
     
    Last edited: ‏اپریل 1, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. يوسف أظهر

    يوسف أظهر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2015
    پیغامات:
    167
    [TRADITIONAL_ARABIC]8 - حدثنا أبو عبد الله قال حدثنا هشام بن عمار حدثنا الجراح بن مليح حدثنا بكر بن زرعة قال سمعت أبا عنبة الخولاني وكان قد صلى القبلتين مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قال [​IMG] سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لا يزال الله يغرس في هذا الدين غرسا يستعملهم في طاعته [​IMG][/TRADITIONAL_ARABIC]
    ابا عنبۃ الخولانی جنہونیں قبلتین کی طرف نماز پڑی ہے فرماتے ہیں " میں نے نبی صلى اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا " اللہ تعالى اس دین میں ہمیشا نیا پودہا بوتے رہتے ہیں ، تاکی ان کو اپنے فرمابرداری کے لئے استعمال کریں "

    فوائد -
    1- سند میں الجراح بن ملیح " حافظ ابن حجر کہتے ہیں یہ مقبول ہیں "
    2- یغرس - نیا پودا بونا ۔
    3- شیخ البانی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اپریل 3, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. يوسف أظهر

    يوسف أظهر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2015
    پیغامات:
    167
    [TRADITIONAL_ARABIC]9 - حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب حدثنا القاسم بن نافع حدثنا الحجاج بن أرطاة عن عمرو بن شعيب عن أبيه قال [​IMG] قام معاوية خطيبا فقال أين علماؤكم أين علماؤكم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لا تقوم الساعة إلا وطائفة من أمتي ظاهرون على الناس لا يبالون من خذلهم ولا من نصرهم [​IMG][/TRADITIONAL_ARABIC]
    " معاویہ رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور خطبہ میں کہتے ہیں " کہاں ہیں تمہارے علماء ؟ کہاں ہیں تمہارے علماء؟ ۔ میں نے نبی صلى اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا " قیامت قائم ہونے تک ایک جماعت حق پر قائم دائم رہی ےگی ۔اس کو اسکے مخالفین کی پروا نہ ہوگی "

    فوائد -
    1- اس حدیث میں ثابت ہو رہا ہے کی خطبہ کھڑے ہوکر دینا چاہئے ۔
    2- اس میں یے بہی اشارہ ملتا ہے کی علماء حق ہی فرقۃ ناجیۃ طائفۃ منصورۃ ہے ۔ کیونکی معاویۃ رضی اللہ عنہ منبر پر علماء کو یے حدیث بتانا چاہ رہے تہے ۔
    3- اس حدیث سے یے بہی ملتا ہے کی ، خطبے کے درمیان نبی صلى اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بتانا چاہیئے ۔
    4- سند میں - یعقوب بن حمید بن کاسب - ربما وہم ۔
    القاسم بن نافع - مستور
    الحجاج بن أرطاۃ - صدوق مدلس
    ( بخاری - 71 ، مسلم - 1037 )
     
    Last edited by a moderator: ‏اپریل 3, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. يوسف أظهر

    يوسف أظهر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2015
    پیغامات:
    167
    10 - حدثنا هشام بن عمار حدثنا محمد بن شعيب حدثنا سعيد بن بشير عن قتادة عن أبي قلابة عن أبي أسماء الرحبي عن ثوبان [​IMG] أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا تزال طائفة من أمتي على الحق منصورين لا يضرهم من خالفهم حتى يأتي أمر الله عز وجل [​IMG]
    ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " میری أمت کا ایک گروہ ہمیشا حق پر فائز رہیگا ، نہیں تکلیف پہنچا سکینگے انکو انکے مخالفین قیامت قائم ہونے تک "
    ( مسلم - 1920 )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. يوسف أظهر

    يوسف أظهر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2015
    پیغامات:
    167
    11 - حدثنا أبو سعيد عبد الله بن سعيد حدثنا أبو خالد الأحمر قال سمعت مجالدا يذكر عن الشعبي عن جابر بن عبد الله قال [​IMG] كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فخط خطا وخط خطين عن يمينه وخط خطين عن يساره ثم وضع يده في الخط الأوسط فقال هذا سبيل الله ثم تلا هذه الآية [​IMG] وأن هذا صراطي مستقيما فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيله [​IMG]
    جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں " ہم نبی صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس تہے - نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے ایک خط خینچی اور اسکے بائں طرف دو لکیر خینچی ، اور دو خط دائں طرف
    خینچی ، اسکے باد بیچ والی لکیر پر اپنا ہاتہ رکہا اور فرمانے لگے " یے اللہ کا راستا ہے " اور اس اّیت کی تلاوت کری " [​IMG] وأن هذا صراطي مستقيما فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيله " " اور بیشک یے میرا راستا ہے اسی کی پیروى کرو ، اور دوسرے راستوں کی پیروی نا کرو ، أگر دوسرے راستوں کی پیروی کری تو تمہیں اللہ کے راستے سے دور لے جائگی "

    فوائد -
    1- أبو خالد الأحمر - صدوق یخطئے ۔
    مجالدا - ضعیف
    2- یے حدیث دوسرے طرق وغیرہ سے ثابت ہے ۔ شیخ الالبانے نے اسے صحیح ابن ماجہ میں درج کیا ہے ۔

    ( مسند احمد - 15312 )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. ابومحمد المحمدی

    ابومحمد المحمدی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    8
    ماشاء الله مشروع مبارك ومهم ومفيد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں