نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے سے متعلق(50) پچاس احادیث‌۔

کفایت اللہ نے 'اسلامی کتب' میں ‏مئی 27, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,011
    معرفة السنن والآثار
    المؤلف: أحمد بن الحسين بن علي بن موسى الخُسْرَوْجِردي الخراساني، أبو بكر البيهقي (المتوفى: 458هـ)​


    حديث نمبر (35):
    أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ: «كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ»

    ہم سے أبو زكريا بن أبي إسحاق نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے أبو الحسن الطرائفي نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے عثمان بن سعيد نے بیان کیا انہوں نے کہا: ہم سے القعنبی نے بیان کیاانہوں نے ، مالک سے روایت کیاانہوں نے ، ابوحازم سے روایت کیاانہوں نے، سھل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کیاکہ : ''لوگوں کوحکم دیاجاتاتھاکہ نمازمیں ہرشخص دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ کے ذراع(کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے حصہ)پررکھے۔

    حوالہ:
    معرفة السنن والآثار:ـ ج 2ص340،کتاب الحیض:باب وضع الید الیمنی علی الیسری فی الصلوٰة،حدیث نمبر2974۔


    وضاحت:ـ
    اس حدیث میں بھی دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ کے''ذراع''(یعنی کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے پورے حصہ) پر رکھنے کاحکم ہے ،اب اگر اس حدیث پرعمل کرتے ہوئے دائیں ہاتھ کوبائیںہاتھ کے ''ذراع'' (یعنی کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے پورے حصے )پررکھیں گے تودونوں ہاتھ خود بخود سینے پرآجائیں گے ،تجربہ کرکے دیکھ لیجئے،لہٰذا یہ حدیث بھی نمازمیں سینے پرہاتھ باندھنے کی دلیل ہے ،مزیدتفصیل کے لئے دیکھئے حدیث نمبر 1کے تحت وضاحت۔


     
    Last edited by a moderator: ‏جون 5, 2011
  2. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,011
    التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد
    المؤلف: أبو عمر يوسف بن عبد الله بن محمد بن عبد البر بن عاصم النمري القرطبي (المتوفى: 463هـ)​


    حديث نمبر (36):
    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ فَتْحٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الرَّازِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُطَرِّفٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى الذِّرَاعِ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ
    ہم سے أحمدبن فتح نے بیان کیاانہو ں نے کہا: ہم سے أحمد بن الحسن الرازی نے بیان کیاانہوں نے کہا،ہم سے أحمد بن داؤد المکینے بیان کیاانہو ں نے کہا:ہم سے عمار بن مطرفنے بیان کیاانہو ں نے کہا :ہم سے مالک بن أنسنے بیان کیا،انہوں نے ،ابوحازم سے روایت کیاانہوں نے،سھل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کیاکہ :''لوگوں کوحکم دیاجاتاتھاکہ نمازمیں ہرشخص دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ کے ذراع(کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے حصہ)پررکھے۔

    حوالہ:
    التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 21/ 96 ۔


    وضاحت:ـ
    اس حدیث میں بھی دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ کے''ذراع''(یعنی کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے پورے حصہ) پر رکھنے کاحکم ہے ،اب اگر اس حدیث پرعمل کرتے ہوئے دائیں ہاتھ کوبائیںہاتھ کے ''ذراع'' (یعنی کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے پورے حصے )پررکھیں گے تودونوں ہاتھ خود بخود سینے پرآجائیں گے ،تجربہ کرکے دیکھ لیجئے،لہٰذا یہ حدیث بھی نمازمیں سینے پرہاتھ باندھنے کی دلیل ہے ،مزیدتفصیل کے لئے دیکھئے حدیث نمبر 1کے تحت وضاحت۔
     
  3. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,011

    موضح أوهام الجمع والتفريق
    المؤلف: أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت بن أحمد بن مهدي الخطيب البغدادي (المتوفى: 463هـ)

    حديث نمبر (37):
    أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّد بن أَحْمَد بن رزقويه حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الأَثْرَمُ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْجَحْدَرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ ظِبْيَانَ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُول {فصل لِرَبِّك وانحر} قَالَ وَضَعَ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى تَحْتَ الثَّنْدُوَةِ

    ہم سے أبو الحسن محمد بن أحمد بن رزقويه نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے عثمان بن أحمد بن عبد الله الدقاق نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے عبد الله بن عبد الحميد القطان نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے أبو بكر الأثرم نے بیان کیا انہوں نے کہا: ہم سے أبو الوليد نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے حماد بن سلمةنے بیان کیاانہوں نے ، عاصم الجحدری سے سنا انہوں نے، اپنے والد سے روایت کیاانہوں نے، عقبة بن ظبھان سے روایت کیاانہوں نے کہا: کہ علی رضی اللہ عنہ نے (فصل لربک ونحر) (الکوثر:2/108) کی تفسیرمیں فرمایاکہ اس سے (نمازمیں)اپنے دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ پر رکھ کر اپنے سینے پررکھنامرادہے ''۔


    موضح أوهام الجمع والتفريق 2/ 340 رقم 379


    نوٹ : تحت الثَّنْدُوَةِ :چھاتی کے نیچے یعنی سینے پر
     
    Last edited: ‏اگست 24, 2014
  4. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,011
    الكفاية في علم الرواية
    المؤلف: أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت بن أحمد بن مهدي الخطيب البغدادي (المتوفى: 463هـ)​


    حديث نمبر (38):
    أَخْبَرَنَا بُشْرَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَدْرٍ، ثنا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ , أَنَّهُ قَالَ: «كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ»
    ہم سے بشری بن عبداللہ نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے محمد بن بدرنے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے بکربن سھل نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے مالک بن أنس نے بیان کیاانہوں نے ، ابوحازم سے روایت کیاانہوں نے،سھل بن سعد ساعد ی رضی اللہ عنہ سے روایت کیاکہ :''لوگوں کوحکم دیاجاتاتھاکہ نمازمیں ہرشخص اپنے دائیں ہاتھ کواپنے بائیں ہاتھ کے ذراع(کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے حصہ) پررکھے۔

    حوالہ:
    الکفایة فی علم الروایةللخطیب بغدادی:ـ ج 1ص416،المدینة المنورة۔


    وضاحت:ـ
    اس حدیث میں بھی دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ کے''ذراع''(یعنی کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے پورے حصہ) پر رکھنے کاحکم ہے ،اب اگر اس حدیث پرعمل کرتے ہوئے دائیں ہاتھ کوبائیںہاتھ کے ''ذراع'' (یعنی کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے پورے حصے ) پررکھیں گے تودونوں ہاتھ خود بخود سینے پرآجائیں گے ،تجربہ کرکے دیکھ لیجئے،لہٰذا یہ حدیث بھی نمازمیں سینے پرہاتھ باندھنے کی دلیل ہے ،مزیدتفصیل کے لئے دیکھئے حدیث نمبر 1کے تحت وضاحت۔
     
  5. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,011
    الفصل للوصل المدرج في النقل
    المؤلف: أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت بن أحمد بن مهدي الخطيب البغدادي (المتوفى: 463هـ) ​


    حديث نمبر (39):
    أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حمدان نا عبد الله بن أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِي أَبِي نَا عَبْدُ الصَّمَدِ نَا زَائِدَةُ نَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ أَخْبَرَهُ قَالَ: قُلْتُ لأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي: " قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كفه اليسرى والرصغ وَالسَّاعِدِ
    ہم سے الحسن بن علی التمیمی نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے أحمد بن جعفر بن حمدان نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے عبداللہ بن أحمد بن حنبل نے بیان کیاانہوں نے کہا: مجھ سے میرے والدنے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے عبد الصمدنے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے زائدہ نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے عاصم بن کلیب نے بیان کیا انہو ں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا: کہ وائل بن حجرحضرمی رضی اللہ عنہ نے کہا: ''میں نے سوچاذرا دیکھوںکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نمازپڑھتے ہیں ، وائل بن حجرصکہتے ہیں کہ میں نے دیکھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ أکبر کہااوراپنے دونو ںہاتھوں کواٹھایایہاں تک کہ کانوں کی لوتک پہنچایا پھرداہنے ہاتھ کو بائیں ہتھیلی ،کلائی اوربازو پررکھا...،

    حوالہ:
    الفصل للوصل للبغدادی :ـج 1ص425،دارالھجرہ ،الریاض۔


    وضاحت:ـ
    اس حدیث میں بھی دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ کی ہتھیلی ، کلائی اور بازوکے اوپر رکھنے کی بات ہے ،لہٰذااس حدیث کے مطابق اگردائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ کے اس پورے حصے(ہتھیلی ، کلائی اور بازو)پررکھیں گے تودونوں ہاتھ خود بخود سینے پرآجائیں گے ،تجربہ کرکے دیکھ لیجئے ،لہذایہ حدیث بھی نمازمیں سینہ پرہاتھ باندھنے کی دلیل ہے،مزیدتفصیل کے لئے دیکھئے حدیث نمبر 2کے تحت وضاحت
     
  6. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,011
    تلخيص المتشابه في الرسم
    المؤلف: أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت بن أحمد بن مهدي الخطيب البغدادي (المتوفى: 463هـ)​


    حديث نمبر (40):
    أَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَدَمِيُّ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا شَاذَانُ، نا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ الْعَبْسِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَاضِعًا يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى، "
    ہم سے سعدبن الصلت نے بیان کیا انہوں نے کہا: ہم سے عثمان بن محمدالآدمی نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے عبداللہ بن سلیمان نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے شاذان نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے سعدبن الصلت نے بیان کیا انہوں نے کہا: ہم سے محمدبن سالم العبسی نے بیان کیا انہوں نے ، عبدالجباربن وائل الحضرمی سے روایت کیاانہوں نےاپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کیاکہ :میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ اپنے دائیں ہاتھ کواپنے بائیں ہاتھ کے ذراع(کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے حصہ) پررکھے ہوئے تھے۔


    حوالہ:
    تلخیص المتشابہ فی الرسم للخظیب البغدادی:(سکینة الشہابی):ـج 2 ص626حدیث نمبر208،ط.دمشق۔


    وضاحت:ـ
    اس حدیث میں بھی دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ کے''ذراع''(یعنی کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے پورے حصہ) پر رکھنے کاحکم ہے ،اب اگر اس حدیث پرعمل کرتے ہوئے دائیں ہاتھ کوبائیںہاتھ کے ''ذراع'' (یعنی کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے پورے حصے ) پررکھیں گے تودونوں ہاتھ خود بخود سینے پرآجائیں گے ،تجربہ کرکے دیکھ لیجئے،لہٰذا یہ حدیث بھی نمازمیں سینے پرہاتھ باندھنے کی دلیل ہے ،مزیدتفصیل کے لئے دیکھئے حدیث نمبر 1کے تحت وضاحت۔

     
  7. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,011
    غريب الحديث
    المؤلف: إبراهيم بن إسحاق الحربي أبو إسحاق [198 - 285]​

    حديث نمبر (41):
    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ , حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْكُلَيْبِيُّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ , عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} [الكوثر: 2] قَالَ: وَضَعَ يَدَهُ عِنْدَ النَّحْرِ "
    ہم سے أبوبکربن أبی الأسود نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے أبورجاء الکلبینے بیان کیاانہوں نے ، عمرو بن مالک النکری سے روایت کیاانہوں نے، أبی الجوزاء سے روایت کیاانہوں نے، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیاکہ آپ نے (فصل لربک ونحر)(الکوثر:2/108)کی تفسیرمیں فرمایاکہ اس سے (نمازمیں) ہاتھوں کوسینے پررکھنامراد ہے ۔


    حوالہ:
    غريب الحديث لإبراهيم الحربي 2/ 443
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 7, 2011
  8. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,011
    مسند الموطأ للجوهري
    المؤلف: أَبُو القَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بنُ عَبْدِ اللهِ بنِ مُحَمَّدٍ الغَافِقِيُّ، الجَوْهَرِيُّ المالكي (المتوفى: 381هـ)​

    حديث نمبر (42):
    وَبِهِ:(یعنی:أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ)عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: «كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلاةِ» .
    ہم سے أحمدبن محمدالمکی نے بیان کیاانہو ں نے کہا: ہم سے علی نے بیان کیاانہوں نے کہا ہم سے القنبی نے بیان کیا انہوں نے سے روایت کیاانہوں نے،سھل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کیاکہ :''لوگوں کوحکم دیاجاتاتھاکہ نمازمیں ہرشخص دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ کے ذراع(کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے حصہ)پررکھے۔

    حوالہ:
    مسندالمؤطا للجوہری:ـ ص123حدیث نمبر289،ط. دارالغرب الاسلامی،بیروت۔


    وضاحت:ـ
    اس حدیث میں بھی دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ کے''ذراع''(یعنی کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے پورے حصہ) پر رکھنے کاحکم ہے ،اب اگر اس حدیث پرعمل کرتے ہوئے دائیں ہاتھ کوبائیںہاتھ کے ''ذراع'' (یعنی کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے پورے حصے ) پررکھیں گے تودونوں ہاتھ خود بخود سینے پرآجائیں گے ،تجربہ کرکے دیکھ لیجئے،لہٰذا یہ حدیث بھی نمازمیں سینے پرہاتھ باندھنے کی دلیل ہے ،مزیدتفصیل کے لئے دیکھئے حدیث نمبر 1کے تحت وضاحت۔
     
  9. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,011
    الكامل في ضعفاء الرجال​

    المؤلف: أبو أحمد بن عدي الجرجاني (المتوفى: 365هـ)​

    حديث نمبر (43):
    حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ، حَدَّثَنا إِبْرَاهِيمُ بْنِ سَعِيد، حَدَّثَنا مُحَمد بْنُ حجر، حَدَّثَنا سَعِيد بْنُ الْجَبَارِ بْنِ وَائِلٍ عَمِّي، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ حَضَرْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَضَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ الْمِحْرَابَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ بِالتَّكْبِيرِ ثُمَّ وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى يَسَارِهِ عَلَى صَدْرِهِ.
    ہم سے ابن صاعد نے بیان کیاانہوں نے کہا : ہم سے ابراہیم بن سعید بن عبدالجباربن وائل نے بیان کیاانہوں نے ، اپنے والد سے روایت کیاانہوں نے، اپنی والد ہ سے روایت کیا انہوں نے وائل بن حجر سے روایت کیاکہ انہوں نے کہا:''میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہو اجب آپ مسجد کارخ فاچکے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسندامامت پر پہنچ تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کواپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر اپنے سینے پررکھ لیا'

    حوالہ:
    الكامل في ضعفاء الرجال 7/ 346۔


     
  10. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,011
    كتاب التفسير لأبي الشيخ الأصبهاني
    أبو محمد عبد الله بن محمد بن جعفر بن حيان الأنصاري المعروف بأبِي الشيخ الأصبهاني (المتوفى: 369هـ)​


    حديث نمبر (44):
    ثنا أَبُو الْحَرِيشِ الْكِلَابِيُّ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَاصِمٌ الْجَحْدَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ كَذَا قَالَ: إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} [الكوثر: 2] قَالَ: " وَضْعُ يَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى وَسَطِ يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ وَضَعَهَا عَلَى صَدْرِهِ "
    ہم سے ابوالحریش الکلابی نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے شیبان نے بیان کیاانہوں نے کہا : ہم سے حماد بن سلمةنے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے عاصم الجحدری نے بیان کیاانہوں نے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیاانہوں نے، عقبة بن صبھان سے روایت کیاانہوں نے کہا: کہ علی نے اللہ عزوجل کے قول (فصل لربک ونحر)(الکوثر:2/108)کی تفسیرمیں فرمایاکہ اس سے (نمازمیں)اپنے دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ پر رکھنا پھران دونوں کو اپنے سینے پررکھنامرادہے ''۔

    حوالہ جات:
    الدر المنثور في التفسير بالمأثور 8/ 650۔
    سنن البیہقی الکبریٰ(تحقیق محمد عبدالقادر عطا):ـ ج 2ص30،کتاب الحیض:باب وضع الید ین علی الصدر فی الصلوٰةمن السنة،حدیث نمبر2167۔
    سنن البیہقی الکبریٰ(أبوعبداللہ عبدالسلام بن محمد):ـ ج 2ص44،کتاب الحیض::باب وضع الید ین علی الصدر فی الصلوٰةمن السنة،حدیث نمبر2385۔
    سنن البیہقی الکبریٰ(طبع حیدرآباد):ـج 2ص30،کتاب الحیض:باب وضع الید ین علی الصدر فی الصلوٰةمن السنة،حدیث نمبر2431۔


    تنبیہ:
    كتاب التفسير لأبي الشيخ الأصبهاني ابھی تک غیر مطبوع ہے لیکن ان کی مذکورہ روایت کو انہیں کی سند سے امام بیہقی رحمہ اللہ نے روایت کر کر رکھا ہے لہذا امام بیہقی کی سنن سے اس کی سند پیش کر دی گئی ہے۔ سنن بیہقی کی پوری سند اس طرح ہے:
    أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا أَبُو الْحَرِيشِ الْكِلَابِيُّ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَاصِمٌ الْجَحْدَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ







    حديث نمبر (45):
    ثنا أَبُو الْحَرِيشِ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَنَسٍ مِثْلَهُ أَوْ قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    ہم سے ابوالحریش الکلابی نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے شیبان نے بیان کیاانہوں نے کہا : ہم سے حماد نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے عاصم الأحول نے بیان کیاانہوں نے ، ایک شخص سے روایت کیاانہوں نے، أنسصسے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی تفسیرروایت کی (یعنی (فصل لربک وانحر)(الکوثر:2/108) سے (نمازمیں) دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ پر رکھنا پھران دونوں کو اپنے سینے پررکھنامرادہے

    حوالہ جات:
    الدر المنثور في التفسير بالمأثور 8/ 650۔
    سنن البیہقی الکبریٰ(تحقیق محمد عبدالقادر عطا):ـج 2ص30،کتاب الحیض:باب وضع الید ین علی الصدر فی الصلوٰةمن السنة،حدیث نمبر2167۔
    سنن البیہقی الکبریٰ(أبوعبداللہ عبدالسلام بن محمد):ـج 2ص44،کتاب الحیض::باب وضع الید ین علی الصدر فی الصلوٰةمن السنة،حدیث نمبر2386۔
    سنن البیہقی الکبریٰ(طبع حیدرآباد):ـج 2ص30،کتاب الحیض:باب وضع الید ین علی الصدر فی الصلوٰةمن السنة،حدیث نمبر2431۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 7, 2011
  11. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,011
    تفسير الطبري = جامع البيان عن تأويل آي القرآن
    المؤلف: محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب الآملي، أبو جعفر الطبري (المتوفى: 310هـ)​


    حديث نمبر (46):
    حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: ثنا مِهْرَانُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْجَحْدَرِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ ظُهَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} [الكوثر: 2] قَالَ: «وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى وَسَطِ سَاعِدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ وَضَعَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ» قَالَ: ثنا مِهْرَانُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، مِثْلَهُ
    ہم سے ابن حمید نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے مھران نے بیان کیاانہوں نے ، حماد بن سلمةسے روایت کیاانہوں نے ، عاصم الجحدری سے روایت کیاانہوں نے ، عقبة بن ظھیرسے روایت کیاانہوں نے، اپنے والد سے روایت کیاانہوں نے ، علی صسے روایت کیاکہ آپ نے (فصل لربک ونحر)(الکوثر:2/108)کی تفسیرمیں فرمایاکہ اس سے (نمازمیں)اپنے دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ پر رکھنا پھران دونوں کو اپنے سینے پررکھنا مراد ہے ''۔

    حوالہ:
    تفسیر الطبری(تحقیق أحمد محمدشاکر):ـج 24ص652،مؤسسة الرسالة۔



    حديث نمبر (47):
    حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: ثنا أَبُو صَالِحٍ الْخُرَاسَانِيُّ، قَالَ: ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمٍ الْجَحْدَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ ظَبْيَانَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فِي قَوْلِ اللَّهِ: {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} [الكوثر: 2] قَالَ: «وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى وَسَطِ سَاعِدِهِ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ وَضَعَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ»
    ہم سے ابن حمید نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے مھران نے بیان کیاانہوں نے ، حماد بن سلمةسے روایت کیاانہوں نے ، عاصم الجحدری سے روایت کیاانہوں نے ، عقبة بن ظھیرسے روایت کیاانہوں نے، اپنے والد سے روایت کیاانہوں نے ، علی صسے روایت کیاکہ آپ نے (فصل لربک ونحر)(الکوثر:2/108 ) کی تفسیرمیں فرمایاکہ اس سے (نمازمیں)اپنے دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ پر رکھنا پھران دونوں کو اپنے سینے پررکھنامرادہے ''۔

    حوالہ:
    تفسیر الطبری(تحقیق أحمد محمدشاکر):ـج 24ص652،مؤسسة الرسالة۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 25, 2011
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,011
    أحكام القرآن الكريم
    المؤلف : أبو جعفر أحمد بن محمد بن سلامة بن عبد الملك بن سلمة الأزدي الحجري المصري المعروف بالطحاوي (المتوفى : 321هـ)

    حديث نمبر (48):
    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمِّلٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى صَدْرِهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى
    ہم سے أبوبکرہ نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے مؤمل بن اسماعیل نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیاانہوں نے : عاصم بن کلیب سے روایت کیاانہوں نے ، اپنے والد سے روایت کیاانہوں نے، وائل بن حجر سے روایت کیاکہ انہوں نے کہا:''میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازپڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ پر رکھ کرانہیں اپنے سینے پررکھ لیا''۔

    حوالہ:
    احکام القرآن:ـ ج 1ص186حدیث نمبر328۔


    حديث نمبر (49):
    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ الْعَبْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ الْغَنَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ "
    ہم سے ابوبکرہ نے بیان کیا انہوں نے کہا: ہم سے بکربن بکارالعبسی نے بیان کیا انہوں نے کہا: ہم سے موسی بن عمیر نے بیان کیا انہوں نے کہا: ہم سے علقمہ بن وائل الحضرمی نے بیان کیا انہوں‌ نے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا : انہوں‌ نے کہا کہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے دائیں ہا تھ کو اپنے بائیں ذراع(کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے حصہ) پررکھتے تھے۔

    حوالہ:
    احکام القرآن:ـ ج 1ص188حدیث نمبر336۔


    وضاحت:ـ
    اس حدیث میں بھی دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ کے''ذراع''(یعنی کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے پورے حصہ) پر رکھنے کاحکم ہے ،اب اگر اس حدیث پرعمل کرتے ہوئے دائیں ہاتھ کوبائیںہاتھ کے ''ذراع'' (یعنی کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے پورے حصے )پررکھیں گے تودونوں ہاتھ خود بخود سینے پرآجائیں گے ،تجربہ کرکے دیکھ لیجئے،لہٰذا یہ حدیث بھی نمازمیں سینے پرہاتھ باندھنے کی دلیل ہے ،مزیدتفصیل کے لئے دیکھئے حدیث نمبر 1کے تحت وضاحت۔




    حديث نمبر (50):
    حَدَّثَنَا يُونُسُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: " كَادَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ "
    ہم سےیونس نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا : انہوں‌ نے کہا: کہ امام مالک نے ابوحازم بن دینارسے روایت کیاانہوں نے،سھل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کیاکہ :''لوگوں کوحکم دیاجاتاتھاکہ نمازمیں ہرشخص دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ کے ذراع(کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے حصہ)پررکھے۔

    حوالہ:
    احکام القرآن:ـ ج 1ص189حدیث نمبر339۔


    وضاحت:ـ
    اس حدیث میں بھی دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ کے''ذراع''(یعنی کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے پورے حصہ) پر رکھنے کاحکم ہے ،اب اگر اس حدیث پرعمل کرتے ہوئے دائیں ہاتھ کوبائیںہاتھ کے ''ذراع'' (یعنی کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے پورے حصے )پررکھیں گے تودونوں ہاتھ خود بخود سینے پرآجائیں گے ،تجربہ کرکے دیکھ لیجئے،لہٰذا یہ حدیث بھی نمازمیں سینے پرہاتھ باندھنے کی دلیل ہے ،مزیدتفصیل کے لئے دیکھئے حدیث نمبر 1کے تحت وضاحت۔





    حديث نمبر (51):
    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الضَّرِيرُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنَّ عَاصِمًا الْجَحْدَرِيَّ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، كَرَّمَ اللهُ وَجْهَهُ، فِي قَوْلِهِ: {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} قَالَ: " وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى السَّاعِدِ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ وَضَعَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ "
    ہم سے أبوبکرہ نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے أبوعمر الضریرنے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے حماد بن سلمةنے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے عاصم الجحدری نے بیان کیاانہوں نے ، اپنے والد سے روایت کیاانہوں نے، عقبة بن صبھان سے روایت کیاانہوں نے کہا: کہ علی نے اللہ عزوجل کے قول (فصل لربک ونحر)(الکوثر:2/108)کی تفسیرمیں فرمایاکہ اس سے (نمازمیں)اپنے دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ پر رکھنا پھران دونوں کو اپنے سینے پررکھنامرادہے ''۔

    حوالہ:
    احکام القرآ ن (ج 1ص184):ـ کتاب الصلوٰة:باب تاویل قولہ تعالیٰ(فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ) حدیث نمبر323۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 25, 2011
  13. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,011
    اس مضمون میں‌ ہم نے صرف سینے پر ہاتھ باندھنے سے متعلق روایات کو سند اور حوالے کے ساتھ یکجا کردیا ہے رہی ہرروایت کی استنادی حالت تو اسے ہم کبھی اور تفصیل سے بیان کریں گے فی الحال اتنا عرض ہے کہ ان میں سے بعض روایات صحیح ہیں‌ اور بعض ضعیف لیکن صحیح روایات ضعیف روایا ت کی شاہد ہیں لہذا شہادت کے بعد باستثنائے منکرات یہ روایات بھی صحیح ہیں، تفصیل پھر کبھی۔ ان شاء اللہ۔




    (ختم شد)​
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 26, 2011
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  14. عدیل سلفی

    عدیل سلفی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2014
    پیغامات:
    27
    جزاک اللہ خیرا محترم شیخ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں