وا اسلاماہ !!!

عائشہ نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏اپریل 11, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,976
    کتے کھلے ہوئے ہیں اور پتھر بندھے ہوئے ہیں۔​
    سرکوزی کی اپنی شخصیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یہ وہی سرکوزی ہے جس نے بدنام زمانہ عورت کو اپنی شریک حیات بنایا اور اس کی اپنی بیوی کی برہنہ تصاویر فرانس کی گلیوں میں نظر آتی ہیں۔ ظاہر ہے جب حیا ختم ہو جائے تو انسان جو جی چاہے کرے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2008
    پیغامات:
    1,975
    auto
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    833
    Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

    افغانستان ميں فوجی کاروائ کی وجہ نہ تو طالبان کا طرز حکومت تھا، نہ ہی ان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزياں اور مخصوض سوچ اور خيالات اس فوجی کاروائ کا سبب بنے۔

    اس حقيقت کے باوجود کہ امريکہ نے کبھی بھی طالبان کی حکومت کو تسليم نہيں کيا تھا اور ان کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزيوں پر ہر سطح پر تنقيد بھی کی تھی، ان کے خلاف کبھی بھی براہراست فوجی کاروائ نہيں کی گئ۔ سال 1995 اور 2001 کے درميان طالبان افغانستان ميں برسراقتدار رہے۔ يہاں تک کہ 11 ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد بھی فوجی کاروائ کی بجاۓ اس بات کی کوشش کی گئ کہ طالبان حکومت کو اس بات آمادہ کيا جاۓ کہ وہ اسامہ بن لادن کو امريکی حکام کے حوالے کريں۔

    کیا آپ يہ سمجھتے ہيں کہ طالبان کی جانب سے غير ملکی دہشت گردوں کو پناہ دينا برحق اور جائز تھا؟


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    Incompatible Browser | Facebook
     
  4. فرقان خان

    فرقان خان -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 4, 2010
    پیغامات:
    208
    اجی یہ "غیر ملکی" کون ہوتے ہیں؟؟؟:00002:

    مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا.................... :00038:

    اتنے بڑے سٹیٹ دپارتمنٹ نے کیا اقبال کا یہ مصرع نہیں پڑھ رکھا؟؟

    آپ یہ بتاؤ کہ موجودہ "لتریشن"کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپ کو کیا لگتا ہے کہ امریکہ نے درست فیصلہ کیا تھا حملہ کر کے؟؟ :00003:
     
  5. حرب

    حرب محسن

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,081
    چہرہ چھپانے پر پابندی کا قانون اسلام کیخلاف نہیں (تحریر ڈینئل یوانو)۔

    عوامی مقامات پر چہرہ نہی چھپانے کے فرانسیسی قانون جو اب فرانس میں موثر ہوچکا ہے کے بارے میں پرنٹ میڈیا میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اگرچہ کچھ تبصروں میں اس قانون کے پیچھے کارفرما عوامل کے بارے میں سوجھ بوجھ کا اظہار کیا گیا ہے تاہم اکثر میں اس پر حیرانی اور اس سے عدم اتفاق کا اظہار کیا گیا ہے اس حوالے سے پہلی بات یہ ہے کے یہ قانون لوگوں کو چہرے چھپانے سے روکتا ہے اس لئے جہاں تک فرانسیسی مسلمانوں کا تعلق ہے تو یہ ان کو برقعہ اور نقاب کرنے یا پہننے سے روکتا ہے حجاب کرنے سے نہیں روکتا۔۔۔

    فرانسیسی پارلیمنٹ نے ایسا قانون منظور کرنا کیوں ضروری سمجھا؟؟؟۔۔۔
    اور یہ متفقہ طور پر منظور کیوں ہوا؟؟؟۔۔۔

    اس کا جواب بالکل سادہ ہے وہ کے نقاب پہنی ہوئی خواتین کی تعداد میں اضافہ دیکھ کر فرانس کے بہت زیادہ لوگ پریشان اور تشویش کا شکار تھے پاکستان میں نقاب بہت سے علاقوں کی شناخت اور روایت ہے ایک غیر ملکی کے طور پر میں اس کا احترام کرتا ہوں لیکن یہ ہمارے کلچر اور روایت کیلئے بالکل اجنبی ہے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہماری حکومت نے ایک بھرپور قومی مباحثہ شروع کرایا۔۔۔

    ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے سیکڑوں افراد، وکلاء، مذہبی رہنماوں ماہر عمرانیات، انسانی حقوق کے کارکن اور مسلمان سکالرز کی ایک بڑی تعداد کے مؤقف کو سنا ان میں سے بڑی تعداد کا مؤقف تھا کے نقاب خود استثنائی کی علامت ہے جو کے ہمارے لئے اہم جنسی مساوات کے اُصولوں کیخلاف ہے پھر تمام متعلقہ سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک بل کا مسودہ تیار کیا گیا فرانس کے عوام کے منتخب نمائندوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا اور اب یہ ہمارے ملک کا قانون ہے ہوسکتا ہے اندازا دو ہزار خواتین نقاب کرتی ہوں لیکن یہ معاملہ تعداد نہیں اُصول کا ہے ہوسکتا ہے انہوں نے نقاب پہننے کا فیصلہ اپنی سے کیا ہے لیکن وہ ایک معاشرے میں قیام پذیر ہیں جہاں پر کوئی ان کا چہرہ دیکھنا چاہتا ہے یہ قانون اسلام کو نشانہ بنانے کیلئے نہیں ہے۔۔۔

    پارلیمانی سماعت کے دوران مسلمان نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کے اگر قرآن پاک نے نقاب لازمی قرار دیا ہے و صورتحال مختلف ہوتی فرانس میں یورپ میں سب سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں یہاں تقریبا پچاس لاکھ مسلمان مقیم ہیں۔۔۔ اس طرح میرے ملک میں اسلام دوسرا مذہب ہے وہاں تقریبا دو ہزار سے زائد مساجد اور عبادت گاہیں ہیں اور ایک عظیم الشان مسجد کا حال ہی میں افتتاح ہوا ہے اور دوسری زیر تعمیر ہے فرانس میں مسلمان عقائد کی نمائندگی کرنے والے منتخب ادارے ہیں ہماری حکومت کے ساتھ انہوں نے بھی مسلمانوں کو فرانسیسی معاشرے سے اہم آہنگ ہونے کے لئے سخت محںت کی ان میں سے بہت سے یورپی پس منظر میں اسی پابندی کی اہمیت کو سمجھتے ہیں کیونکہ نقاب کرنے سے اسلام فوبیا کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے جیسا کے فرانسیسی کونسل برائے مسلم عقائد کے چیئرمین نے کہا کے “ برقہ یا نقاب کرنا کوئی مذہبی پابندی یا اصول نہیں ہے“ یہ ایک انتہا پسندانہ اقدام ہے جس کو اپنی سرزمین پر بڑھتے یا فروغ پاتے نہیں دیکھا جاسکتا یہ خواتین کو نارمل معاشرتی زندگی گزارنے سے روکتا ہے۔۔۔

    بشکریہ روزنامہ جنگ
    تحریر ڈینئل یوانو
    (پاکستان میں متعین فرانسیسی سفیر)
     
  6. نعمان نیر کلاچوی

    نعمان نیر کلاچوی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 25, 2011
    پیغامات:
    552
    جزاک اللہ خیرا بھائی
    ویسے بڑے خوبصورت الفاظ میں اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کی ہے فرانسیسی سفیر نے۔۔۔۔۔۔
    ’’یہ قانون اسلام کو نشانہ بنانے کیلئے نہیں ہے‘‘
    زبردست ۔۔۔ اب ہوئی نا بات ۔۔۔
     
  7. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,003
    ایک دو زخم نہیں سارا بدن ہے چھلنی
    درد بے چارہ پریشاں ہے کہا ں سے اٹھے​
     
  8. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,003
    ایک عورت اگر نیم برہنہ ہوکر سڑکوں پر چلے تو یہ اس کا حق ہے ہم اسے کپڑا پہننے پر مجبورنہیں کرسکتے ، ایسا کرنا اس کی آزادی کو چھیننا ہوگا۔
    لیکن وہیں پراگرایک عورت مکمل کپڑا پہننا چاہے تو اس کا حق نہیں ہے ہم اسے کپڑا اتارنے پرمجبورکریں گے اسے اس کی آزادی نہیں‌ ہے۔

    یہ کیسی متضاد سوچ ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  9. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,717
    جزاک اللہ خیرا بھائی
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,803

    بين السطور مان ليا نا کہ عريانی كى پاتال ميں گری تہذیب کے گماشتوں كو چند باحيا عورتوں كا وجود سخت گراں گزرتا ہے !
    بالفرض اہل اسلام آباد كا دل اس خبيث فرانسيسى سفير كى بيوى كا سڑا ہوا منہ ديكھنے كو نہ كرتا ہو تو كيا بيگم صاحبہ اسلام آباد كى سڑکوں پر مٹر گشت كرتے ہوئے نقاب پہن ليں گی؟ گويا اب انسان دوسروں كى مرضى پر کپڑے پہننے يا نہ پہننے كا فيصلہ كيا كرے گا؟ يہ استدلال كا كون سا طريقہ ہے؟ معلوم ہوتا ہے بے حیا فرانسيسى قوم كا نمائندہ حواس كھو بیٹھا ہے۔
    اس طرح كے بکے ہوئے اسلامى نمائندے ہر جگہ مل جاتے ہیں ۔ فرانس ميں ساٹھ لاكھ مسلمان ہیں تو لاكھوں خوايتن بھی ہوں گی كم ازكم 20 تيس لاکھ ان ميں سے صرف دو ہزار نقاب كرتى ہیں ۔ اہل بصيرت جانتے ہیں كہ فرامين رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم ميں طوبى للغرباء كى خوش خبرى كن كے ليے ہے؟ قابض على جمرة من النار كا رتبہ پانے والے كون ہیں؟
    یہ بہنیں فرانس كى عرياں تہذیب کے گندے جوہڑ ميں کھلنے والے كنول كےوہ پاكيزہ پھول ہیں جن كا وجود عالم اسلام كے ليے خوش خبرى ہے کہ ہر خطے ميں غرباء امت زندہ ہیں ، موجود ہیں۔ان شاء اللہ یہی چراغ جليں گے تو روشنى ہو گی !
     
  11. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,976
    اس مسئلے پر یون ریڈلی نے بھی ایک مضمون لکھا ہے جسے یہاں پڑھا جا سکتا ہے

    سرکوزی۔۔۔ ایک برہنہ سچ

    یون ریڈلی کا نام تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی ویب یہاں ملاحظہ فرمائیں۔

    ربط
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,803
    جزاكم اللہ خيرا، بہت زبردست مضمون ہے۔ سركوزى كو اس كى زبان ميں جواب ديا ہے ۔ تيسرى دنيا كے مغرب سے مرعوب دانشورى بگھارنے والوں سے تو یوآنے رڈلی بہتر ہیں كم از كم جرات گفتار تو ركھتی ہیں۔اللہ تعالى ہم سب كو آزمائشوں ميں ثابت قدم ركھے۔
    ان کا ایک پرانا مضمون ہے
    How I came to love the veil
     
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,803
    نيدر لينڈ ميں بھی عوامى مقامات پر نقاب پر پابندى عائد كر دی گئی

    فرانس كى تقليد ميں نيدر لينڈ ميں بھی عوامى مقامات پر نقاب پر پابندى عائد كر دی گئی ۔ مضحکہ خيز بات يہ ہے كہ نيدر لينڈ ميں اسلامى نقاب كرنے والى صرف 100 خواتين ہيں ۔
    http://www.jpost.com/International/Article.aspx?id=255828
    Burqa Ban Comes To the Netherlands. Finally. - Forbes
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں