وہ نیکیاں جو اب کرنا ممکن نہیں رہا

اجمل نے 'گپ شپ' میں ‏جنوری 5, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اجمل

    اجمل رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    56
    وہ نیکیاں جو اب کرنا ممکن نہیں رہا

    سائنسی ایجاد نے بہت سی آسانیاں پیدا کر دی ہیں وہیں مسلمانوں سےبہت ساری نیکیاں کرنے کے مواقعے بھی چھین لئے ہیں۔
    یہ گفتگو ایسی نیکیوں کی نشاندھی کرنے کیلئے شروع کر رہا ہوں جسے کرنا اس سائنسی دور میں ممکن نہیں رہا۔
    احباب سے درخواست ہے کہ اپنی اپنی یاد داشت کے مطابق ان نیکیوں کی نشاندھی کریں۔
    جیسے:
    شروع میں ہر مسجد کے ساتھ کنواں ہوا کرتا تھا۔ نوجوان کنویں سے پانی نکال کر وضو کرنے کیلئے قطار لگے لوٹے بھر دیا کرتے تھے جس سے لوگ وضو کیا کرتے تھے ۔ آج کے نوجوان اس نیکی سے محروم ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. اجمل

    اجمل رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    56
    پرانے زمانے میں اہل ثروت مسافر خانہ بنوایا کرتے تھے ۔ اب انکی جگہ رہائشی ہوٹل نے لے لی ہے ۔ دونوں میں بہت فرق ہے۔ مسافر خانوں میں مسافروں کا قیام مفت ہوتا تھا بلکہ بعض میں طعام کا بھی مفت بندوبست ہوا کرتا تھا ۔ ہوٹلوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ آج کے اہل ثروت اس نیکی سے محروم ہیں۔
     
  3. اجمل

    اجمل رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    56
    اکثر مسافر خانوں کے ساتھ کنواں کھودواکر پانی کا بندوبست بھی کیا جاتا تھا ‘ اب یہ نیکی کرنابھی جاتا رہا۔
     
  4. اجمل

    اجمل رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    56
    4) اور درخت بھی لگائے جاتے تھے ‘ اب یہ بھ ممکن نہیں۔
     
  5. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,735
    میرا خیال ہے کہ نیکی کا راستہ کبھی بھی بند نہیں ہوتا۔ شکلیں ہر دور کے حساب سے بدلتی رہتی ہیں۔
    انسان نیکی کرنا چاہے تو میدان بہت وسیع ہے۔
     
    • متفق متفق x 5
  6. ٹرومین

    ٹرومین ناظم

    شمولیت:
    ‏نومبر 11, 2010
    پیغامات:
    336
    مسافرخانوں کے ساتھ کنواں کھودوانے کی نیکی اب ضرورت مند کو "بورنگ" کروادینے کی صورت میں ممکن ہے،کیونکہ ایسے کئی خاندان ہیں جو استطاعت نہ ہونے کے باعث ان نعمتوں سے محروم ہیں۔
    یہ تو خیر ممکن ہے،پر یہ ہے کہ ہماری فضول کی مصروفیات نے ہمیں ان عظیم کاموں سے دور کردیا ہے۔
     
    • متفق متفق x 3
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    11,256
    نیکیاں تو موجود ہیں لیکن ان کی ہیئت میں تبدیلی ضرور آئی ہے یا ان پر عمل کسی حد تک کم ہو چکا ہے۔
    جیسے وضو کے لئے لوٹے بھرنا اصل میں نمازیوں کو سہولت پہنچانا ہے تو آج اس پر مساجد میں مخلتف قسم کی سہولتیں پہنچا کر عمل کیا جارہا ہے۔
    آج بھی اگر فی سبیل اللہ مسافر خانہ بنایا جائے یا مسافروں کو سہولت پہنچانے کا کوئی قدم اٹھایا جائے تو لوگ یقینا اس سے استفادہ ضرور کریں گے اس لئے اس پر عمل کرنا تو ممکن ہے لیکن عمل کسی حد تک کم ہو چکا ہے۔
    اسی طرح مسافروں کےلئے مختلف جگہوں پر اب بھی پانی کی سبیلیں نظر آتی ہے
    درخت لگانا تو آج بھی ممکن ہے، اور لگائے جاتے ہیں۔
    اس لئے یہ کہنا کہ نیکیوں پر عمل کرنا ممکن نہیں صحیح نہیں ہوگا، بلکہ ان نیکیوں کی ہیئت تبدیل ہو چکی ہے-
     
    • متفق متفق x 4
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,813
    بالکل درست ۔ 15 روپے سے لے کر 300 روپے تک اچھے اچھے پودے مل جاتے ہیں۔ ان کو گھر کے قریب لگا دیں اور دل لگا کر پالیں۔
     
    • متفق متفق x 1
  9. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,057
    محترم پاکستان کے اکثر پس ماندہ علاقوں میں پانی میسر نہیں ہے اور اب بھی کئ لوگ وہاں پانی کے لیے کنویں کھدوا کر دیتے ہین۔
     
    • متفق متفق x 2
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,813
    ہاں جیسے کہیں پانی کا کنواں چاہیے ہوتا ہے اور کسی کو ایل پی جی کا سلنڈر
     
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,813
    کیا اچھی اصطلاح ہے فضول کی مصروفیات ایک موضوع شروع کردیں تا کہ ہم ان فضول مصروفیات کو گن سکیں۔
     
  12. اجمل

    اجمل رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    56
    بالکل درست جناب لیکن یہاں صرف ان نیک کام یا عمل کی نشاندہی مقصود ہے جسے اب اکثریت نہیں کرسکتی یا اکثریت کیلئے کرنا ممکن نہیں رہااگرچہ دنیا کے کسی نہ کسی میں اب بھی کئے جا رہے ہوں۔
     
  13. اجمل

    اجمل رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    56
    بالکل درست جناب لیکن یہاں صرف ایسے نیک اعمال کی نشاندہی مقصود ہے جسے اب اکثریت نہیںکرتی یا کرسکتی یا اکثریت کیلئے کرنا ممکن نہیں رہااگرچہ دنیا کے کسی نہ کسی میں اب بھی کئے جا رہے ہوں۔
    بالکل درست جناب لیکن یہاں صرف ایسے نیک اعمال کی نشاندہی مقصود ہے جسے اب اکثریت نہیں کرتی یا نہیں کرسکتی یا اکثریت کیلئے کرنا ممکن نہیں رہا اگرچہ دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں اب بھی کئے جا رہے ہوں۔
     
  14. اجمل

    اجمل رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    56
    پہلے شادی ھال کا رواج نہیں تھا ۔ محلے میں جب کسی کے گھر شادی ہوتی تو سارے پڑوسی اس میں مقدور بھر حصہ لیتے تھے ۔ ہر کوئی مہمانوں کیلئے اپنے گھر کا دروازہ کھول دیتا تھا ۔ مہمانوں کیلئے کوئی بیٹھنے کا انتظام کرتا تو کوئی کھانے اور سونے کا یعنی ہر کوئی کااس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی کوشش کرتا۔ چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں اب بھی ایسا ہوتا ہے لیکن بڑے شہروں کے لوگ اب اس طرح کی کار خیر سے محروم ہیں۔
     
  15. اجمل

    اجمل رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    56
    بچپن کی بات ہے ۔جون کا مہینہ اور ٹرین کا سفر تھا ۔گرمی اپنی جوبن پر تھی۔ ہر کسی کو پیاس ستا رہی تھی۔ ہماری ٹرین ایک اسٹشن پر رکی۔ وہاں پسینے سے سرابور ایک شخص صراحی کاندھے پر اور گلاس ہاتھ میں لئے مسافروں کو مفت پانی پلا رہا تھا ۔ وہ ہمارے ڈبے سے دور تھا۔ جوں ہی وہ ہمارے قریب پہنچا‘ میں نے بھی پانی کیلئے اشارہ کیا۔ وہ پانی گلاس میں ڈالنے لگا کہ ٹرین چل پڑی لیکن وہ پانی کا گلاس ہاتھ میں لئے ٹرین کے ساتھ ڈورنے لگا اور آخر کار مجھے پانی کا گلاس تھما دیا۔ ایسی نیکیاں کرنا اگرچہ اب بھی ممکن ہے لیکن ایسی اب نیکیوں کیلئے دوڑنے والے کہاں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  16. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,026
    بہت خوب ۔ محترم ! ۔ کیا تکنیکی بات ارشاد فرمائی ۔ اب ایسی نیکیوں کے لئے دوڑنے والے کہاں ؟ مل جاتے ہیں ۔ نایاب ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے دنیا میں خیر موجود ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں