ٹیری جونز ۔انسانیت کا مجرم

محمد عاصم نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏اپریل 16, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد عاصم

    محمد عاصم -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 22, 2008
    پیغامات:
    218

    امریکہ کے عیسائی پادری ٹیری جونز کی قرآن پاک کو جلانے کی مزموم حرکت کے باعث دنیا بھر کے مسلمانوں اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے باشعور حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ ٹیری جونز نے اس سے پہلے گزشتہ سال گیارہ ستمبر کے واقعات کی برسی کے موقعے پر بھی یہ مذموم حرکت کرنے کی کوشش کی تھی اور اس کے لئے انتظامات بھی مکمل کر لئے تھے تاہم دنیا بھر میں ہونیوالے شدید احتجاج اور امریکی حکومت کی مداخلت کے باعث وہ کامیاب نہیں ہو سکا ۔ ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والا یہ متعصب پادری اسلام اور قرآن پاک کے بارے میں انتہائی توہین آمیز زبان استعمال کرتا ہے ۔ امریکی پادری کی اس حرکت کے باعث دنیا بھر میں شدید احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ پاکستان سمیت بعض ممالک نے تو سرکاری سطح پر بھی اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ قرآن پاک کی اس بے حرمتی کے خلاف سب سے شدید احتجاج افغانستان میں ہوئے جہاں مشتعل مظاہرین نے اقوام متحدہ کے دفتر پر حملہ کرکے دس غیر ملکیوں کو ہلاک کر دیا ۔ اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد ہی کہیں جا کر امریکی صدر اوبامہ کو بھی ہوش آئی اور انہوں نے ٹیری جونز کی مزموم حرکت کی رسمی سی مذمت کی جبکہ افغانستان میں ہونیوالی ہلاکتوں کو ظلم قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ درحقیقت امریکی حکومت اور ٹیری جونز ہی ان سب ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں ۔ امریکی حکومت ٹیری جونز کی اس مذموم حرکت کو روکنے میں ناکام رہی جس کے باعث دنیا بھر میں اس کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔قرآن پاک کی بے حرمتی کے اس واقعے میں امریکی حکومت کی نادانستہ آمادگی کا تاثر ابھر رہا ہے کیونکہ بڑے پیمانے پر احتجاج اور مطالبات کے باوجود ابھی تک ٹیری جونز کے خلاف کسی بھی قسم کا ایکشن نہیں لیا گیا ہے ۔
    یہ واقعی افسوسناک ہے کیونکہ درحقیقت ٹیری جونز صرف مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا ہی مجرم نہیں بلکہ اس نے کتاب ہدایت کی بے حرمتی کرکے تمام الہامی مذاہب اور انبیائے کرام کی توہین کی ہے ۔ ٹیری جونز نے صرف مسلمانوں کی محترم کتاب کو ہی نہیں جلایا بلکہ اس نے حضرت عیسی ؑ کے مقدس تذکرے اور حضرت مریم ؑ کی عزت و ناموس کی حفاظت کرنیوالی کتاب کو آگ لگائی ہے ۔ ٹیری جونز صرف مسلمانوں کا ہی ملزم نہیں بلکہ اس نے حضرت موسیؑ ، حضرت عزیرؑ ، حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت اسماعیل ؑ سمیت تمام انبیاءکرام ؑ کی توہین کی ہے ۔ فلوریڈا میں جلنے والے ان مقدس صفحات پر صرف حضرت محمدﷺ کا ہی تذکرہ نہیں تھا بلکہ تمام الہامی کتابوں اور انبیا ئے کرام کی عظمت بیان کی گئی تھی ۔ اس نے انسانیت کے لئے امن کی دعوت دینے والی کتاب کی بے حرمتی کرکے عالمی امن کو نقصان پہنچانے کی سازش کی ہے۔ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے ہے کہ قرآن کریم صرف مسلمانوں کے لئے ہی کتاب ہدایت نہیں بلکہ اس نے تو گزشتہ تمام مذاہب کی تصدیق کی ، تمام پہلے انبیائے کرام کے مرتبے و مقام سے انسانیت کو روشناس کرایا ، الہامی تعلیمات کو عام کیا حتی کہ اللہ تعالی اور اس کے انبیائے کرام کے دشمن اور ان کو قتل کرنیوالوں کے لئے بھی سلامتی کا پیغام دیا ۔ کوئی بھی مسلمان قرآن پاک پر اکلوتی ملکیت کا دعوی نہیں کرتا کیونکہ اس کتاب میں تو تمام مذاہب کے لئے احترام موجود ہے ۔
    ٹیری جونز کو اسلام پر الزام تراشی کرنے اور قرآن پاک کو جلانے کی مزموم حرکت سے پہلے کم سے کم یہ تو سوچنا چاہیے تھا کہ تاریخ میں بہت مرتبہ ایسا ہوا کہ جب مسلمان فاتح بن کر صلیبی علاقوں میں داخل ہوئے لیکن کبھی ان مواقع پر بھی بائبل یا کسی بھی مقدس کتاب کی بے حرمتی نہیں کی ۔ دہشت گردی کی اس جنگ میں اور ماضی میں بھی کئی مرتبہ صلیبی طاقتوں نے لاکھوں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی لیکن اس کے باوجود الزام بائبل پر نہیں لگایا گیا ۔ کبھی مسلمانوں نے تو بائبل کو صلیبی حکمرانوں کی سفاکیت کی وجہ قرار نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے قرآن پاک ہمیشہ سے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لئے بھی محترم رہا ہے ۔ برطانیہ کا شہزادہ چارلس ہو یا چین کے انقلابی لیڈر ماوزے تنگ ، بہت سے غیر مسلم دانشور اور اعلی شخصیات قرآنی تعلیمات کی عظمت کا اعتراف کر چکی ہیں ۔ قرآن پاک صرف دینیات کی ہی کتاب نہیں بلکہ اس میں تو سائنس ، معاشرت ، حکومت ، معیشت سمیت دیگر شعبوں کے متعلق بھی ہدایات موجود ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر انسانیت کی بھلائی کا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے ۔قرآنی تعلیمات نے ہی انسان سے متعلق فرسودہ اعتقادات کا خاتمہ کرکے اسے اشرف المخلوقات اور رب کریم کا خلیفہ قرار دیا ۔ ایسی عظیم الشان اور انسانیت کی بھلائی کا درس دینے والے الہامی کتاب کی بے حرمتی کو چاند پر تھوکنے کے مترادف ہی کہا جا سکتا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ ذات باری تعالی ، نبی اکرم ﷺ اور قرآن پاک کی عظمت و شان کسی بھی قسم کی مزموم اور گھٹیا حرکت سے کم نہیں کی جا سکتی ۔
    قرآن پاک کی عظمت کا اعتراف بہت سے غیر مسلم دانشور بھی کرتے ہیں ۔ میں یہاں صرف چند مثالیں درج کروں گا۔
    جرمنی کے نامور مفکر اور فلسفی مسٹر گوئٹے کہتے ہیں
    ” قرآن مقدس کی حالت یہ ہے کہ کہ اس کی دلفریبی آہستہ آہستی انسان کو اس کا فریفتہ بناتی ہے ، پھر متعجب کرتی ہے اور آخر میں حیران کن رقت میں ڈال دیتی ہے “

    ڈاکٹر آرنلڈ عظمت قرآن مجید کا اعتراف ان الفاظ میں کرتے ہیں ” جو احکامات قرآن پاک میں موجود ہیں وہ اپنی اپنی جگہ پر مکمل ہیں “
    سکھ مذہب کے بانی بابا گورونانک فرماتے ہیں کہ ” اگر کو ئی ایمان کی کتاب ہے تو وہ قرآن مجید ہی ہے “

    پروفیسر کارلائل بیان کرتے ہیں کہ ” ان کے نزدیک قرآن پاک میں خلوص اور سچائی کی صفت ہر پہلو سے موجود ہے ۔ اور یہ ایک واضح اور کھلی حقیقت ہے کہ اگر کوئی بہتری اور خوبی پیدا ہو سکتی ہے تو وہ اسی سے ممکن ہے “

    ہندو لیڈر مسٹر موہن لال کرم چند گاندھی کہتے ہیں کہ میں نے قرآن مجید کا بغور مطالعہ کیا ہے اور میں اس کو الہامی کتاب ماننے میں ذرہ بھر تامل نہیں کرتا ۔ قرآن پاک کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کتاب فطرت انسانی کے عین مطابق ہے “
    ڈاکٹر رابندر ناتھ ٹیگور قرآن پاک کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” وہ وقت دور نہیں جب قرآن مجید اپنی خوبیوں، سچائیوں اور کرشموں کی وجہ سے پوری دنیا کو اپنے اندر جذب کر لے گا۔ وہ وقت دور نہیں جب اسلام ہندومت پر چھا جائے گا اور پورے ہندوستان میں صرف ایک مذہب ہوگا جس کو ہم اسلام کے نام سے یاد کرتے ہیں
    جی ہاں یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک کو جلانے اور اس کی توہین کرنیوالے ظالم افراد اسلام کے پھیلاو سے ہی خائف ہیں ۔ وہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ قرآن کے دلائل و براہین کا مقابلہ ان کے لئے کرنا مشکل ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب الزامات اور گھٹیا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے ۔
    اس حوالے سے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کی مسیحی برادری نے بھی قرآن پاک کو جلانے کے واقعے کی شدید مذمت کرکے ثابت کردیا ہے کہ ٹیری جونز کی یہ مزموم حرکت حضرت عیسی ؑ کی تعلیمات کے منافی ہے ۔ اس سلسلے میں ملک کے مسیحی حلقوں کا کردار واقعی قابل تعریف ہے ۔ اسلام میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کی تلقین کی گئی ہے جبکہ ہمارے ملک میں اقلیتوں کو کئی دوسرے ممالک سے زیادہ تحفظ حاصل ہے ۔ اسلامی حلقوں اور دینی جماعتوں کی جانب سے کبھی بھی اقلیتوں کے خلاف نفرت کا اظہار نہیں ہوا ۔ مغربی میڈیا اور بعض حلقے غلط طور پر تحفظ ناموس رسالت کے قوانین کو اقتلیوں کے خلاف قرار دیتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان قوانین کی موجودگی کا واحد مقصد شان رسالت میں گستاخی کے واقعات کو روکنا ہے ۔ اور ان قوانین کا اطلاق مسلمانوں پر بھی بلکل اسی طرح ہوتا ہے جیسا کہ اقلیتوں پر ۔افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض شرپسند عناصر بیرونی قوتوں کے اشارے پراقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے ملک میں افراتفری کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ وفاقی وزیر شہباز بھٹی کا قتل ہو یا دیگر واقعات ان سب کے پیچھے یہی عناصر موجود ہیں ۔ کوئی بھی دینی جماعت اختلاف رائے کی بنیاد پر اقلیتوں کے قتل و غارت کی حمایت نہیں کرتی ۔ فر قہ ورانہ فسادات ہوں یا اقلیتوں کے حوالے سے بعض افسوسناک واقعات۔ سب کی سب بیرونی اشاروں پرکام کرنیوالے شرپسند عناصر کی ہی کارروائیاں ہیں ۔
    ٹیری جونز کی مزموم حرکت سے دنیا بھر میں اشتعال بڑھتا جا رہا ہے ۔ امریکی حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس ملعون شخص کے خلاف سخت کارروائی عالمی امن کو لاحق خطرات کا ازالہ کرے ۔ افغانستان میں ہونیوالی ہلاکتیں اس تباہی کی صرف ایک ہلکی سی جھلک ہیں جو کہ ایسے واقعات
    کے نتیجے میں برپا ہو سکتی ہے ۔ اگر امریکی حکومت نے اس سلسلے کو نہ روکا تو یقینا دنیا بھر میں ہونیوالی تمام ہلاکتوں کی زمہ داری اسی پر ہو گی ۔ اس سللسے میں پاکستانی حکام پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف عالمی رائے عامہ ہموار کرے اس معاملے کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اٹھایا جائے ۔ اس حوالے سے عالمی امن و لاحق خطرات کو واضح کیا جائے ۔ اسی طرح دنیا بھر کے مسیحی اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کا بھی فرض ہے کہ وہ ٹیری جونز کی نہ صرف مذمت کریں بلکہ اس کے خلاف کارروائی کے لئے مسلمانوں کے مطالبے کی حمایت کریں ۔ ٹیری جونز سب کا مجرم ہے اور اس کے خلاف کاررائی سے عالمی امن و امان کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,976
    ٹیری جونز ، قرآن کا نہیں پوری انسانیت کا مجرم

    ٹيري جونز ۔ قرآن کا نہيں پوري انسانيت کا مجرم
    (قرآن پر غير مسلم ليڈروں کے خراج تحسين کي روشني ميں)
    از محمد عاصم حفيظ​


    امريکہ کے عيسائي پادري ٹيري جونز کي قرآن پاک کو جلانے کي مزموم حرکت کے باعث دنيا بھر کے مسلمانوں اور ديگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے باشعور حلقوں کي جانب سے شديد غم و غصے کا اظہار کيا جا رہا ہے ۔ ٹيري جونز نے اس سے پہلے گزشتہ سال گيارہ ستمبر کے واقعات کي برسي کے موقعے پر بھي يہ مذموم حرکت کرنے کي کوشش کي تھي اور اس کے لئے انتظامات بھي مکمل کر لئے تھے تاہم دنيا بھر ميں ہونيوالے شديد احتجاج اور امريکي حکومت کي مداخلت کے باعث وہ کامياب نہيں ہو سکا ۔ رياست فلوريڈا سے تعلق رکھنے والا يہ متعصب پادري اسلام اور قرآن پاک کے بارے ميں انتہائي توہين آميز زبان استعمال کرتا ہے ۔ امريکي پادري کي اس حرکت کے باعث دنيا بھر ميں شديد احتجاج کا سلسلہ جاري ہے ۔ پاکستان سميت بعض ممالک نے تو سرکاري سطح پر بھي اس کي سخت الفاظ ميں مذمت کي ہے ۔

     
    Last edited by a moderator: ‏اپریل 22, 2011
  3. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    836

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    يہ محض اتفاق نہيں ہے کہ فلوريڈا کے چرچ نے ستمبر 11 کو قرآن پاک کو جلانے کا اپنا ارادہ ترک کر ديا تھا۔ يہ امريکيوں کی ايک بڑی اکثريت (جس ميں مسلم اور غير مسلم دونوں شامل ہيں) کی جانب سے شديد مذمت اور تنقيد ہی کا نتيجہ تھا جس نے اس پادری کو مجبور کيا کہ وہ اپنا ارادہ بدلے۔

    يہ بات قابل افسوس ہے کہ پاکستانی ميڈيا نے عمومی طور پر ايک ايسے چھوٹے سے گروہ کے خيالات اور بيانات کو اجاگر کيا جو مجموعی سطح پر امريکی معاشرہ تو درکنار، مقامی کمينوٹی کے خيالات کی بھی ترجمانی نہيں کرتا۔ اس کے برعکس، اجتماعی سطح پر امريکيوں کی اکثريت کی راۓ اور اس ايشو کے حوالے سے ان کے ردعمل کو يکسر نظرانداز کيا گيا۔ مثال کے طور پر فلوريڈا گينزويل کے اسی علاقے کے بعض مذہبی رہنماؤں نے يہ فيصلہ کيا کہ قرآن پاک کو جلانے کے جواب ميں وہ اپنی مذہبی رسومات اور تقريبات کے دوران قرآنی آيات پڑھ کر سب کو سنائيں گے۔

    http://religion.blogs.cnn.com/2010/09/13/churches-read-from-quran-in-face-of-proposed-quran-burning/

    کيا آپ واقعی سمجھتے ہيں کہ ان مذہبی رہنماؤں کے ليے يہ اعلان کرنا ممکن ہوتا اگر انھيں بڑے پيمانے پر عوامی حمايت حاصل نہ ہوتی؟ اس کے برعکس جس پادری نے قرآن پاک کو جلانے کا ارداہ ظاہر کيا تھا، اسے اپنا فیصلہ بدلنا پڑا کيونکہ اسے عوامی حمايت حاصل نہيں ہوئ۔

    اس ضمن میں پادری لیری رئيمر کا بيان آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو گزشتہ 36 برس سے گينزويل کے ہی يونائيٹٹ چرچ ميں خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔

    "مجھے ايسا محسوس ہوا کہ قرآن پاک کا مطالعہ ہی وہ سب سے زيادہ مثبت جواب ہے جو ديا جا سکتا ہے۔ آپ يہ کہہ سکتے ہيں کہ ہم نے قرآن سے دوستی کر لی اور اسے ہر ايک کے نقطہ نظر اور سوچ کے دائرے ميں لے آۓ"۔

    اس حوالے سے امريکہ کی اہم ترين مسلم تنظيم کيئر کے اس لائحہ عمل کا ذکر کروں گا جس کے مطابق انھوں نے اعلان کيا کہ فلوريڈا چرچ کی جانب سے قرآن پاک کے 200 نسخے نذر آتش کرنے کے جواب ميں وہ 2 لاکھ قرآن پاک کے مزيد نسخے امريکہ بھر ميں تقسيم کريں گے۔

    http://www.ibtimes.com/articles/61037/20100909/koran-muslim-christian.htm

    آخر ميں صدر اوبامہ کا ايک بيان آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امريکی حکومت اور صدر امريکی معاشرے ميں مسلمانوں کی ايک الگ پہچان اور اسلام کے تشخص اور حيثيت کو تسليم کرتے ہيں اور اس ضمن ميں کسی بھی قسم کی پرتشدد کاروائ يا تفريق کے خلاف تحفظ فراہم کيا جاۓ گا۔

    "امریکہ کے صدر کی حیثیت سے میں اسے اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ اسلام کے بارے میں جہاں کہیں گھسے پٹے منفی خیالات پائے جاتے ہیں، ان کے خلاف جنگ کروں"۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں