پاکستان میں لڑائی اور سرخ رومال

عبدہ نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏دسمبر 20, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبدہ

    عبدہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 1, 2013
    پیغامات:
    46
    ہمارے ملک کے شہر پشاور میں ایک آرمی پبلک سکول میں چھوٹے بچوں کو جس بے دردی سے شہید کیا گیا تو جہاں اس نے ہم سب کو بہت دکھی کیا اور انتہائی غم میں مبتلا کیا وہیں پر ہر صاحب عقل اور دانش مند موحد مسلمانوں کو یہ سوچنے پر بھی مجبور کر دیا کہ
    ×-یہ سب پاکستان میں کیا اور کیوں ہو رہا ہے
    ×-کیا اس صورتحال سے نکلنے کا کوئی شرعی، فطری یا عقلی حل بھی موجود ہے

    اسی سلسلے میں چاہا کہ میڈیا کے اینکل کی طرح لٹنے پر خالی افسوس ہی نہ کرتا رہوں بلکہ ایک مومن ہونے کے ناطے اپنے اندر اس لٹنے کا احساس کچھ اس طرح سے پیدا کروں کہ اسکی جڑوں تک پہنچتے ہوئے اسکا تدارک کرنے میں اپنا حصہ ڈال سکوں

    ہمارے علاقے میں مرغوں اور بٹیروں کی لڑائی کروائی جاتی ہے اور اس سے پہلے ان مرغوں اور بٹیروں کو بہت خرچہ سے تیار کیا جاتا ہے اتنا اپنے بیوی بچوں پر مجموعی خرچہ نہیں ہوتا جتنا انکی خالی خوراک پر ہوتا ہے ایسے مرغ اور بٹیرے کی قیمت بھی لاکھوں میں ہوتی ہے
    ان کی لڑائیوں پر پھر مالک بہت زیادہ جوا لگاتے ہیں جب مرغ یا بٹیرے لڑتے ہیں تو کوئی کانا ہو جاتا ہے کوئی لہولہان ہو جاتا ہے کوئی زندگی کی بازی ہی ہار جاتا ہے مگر انکے مالکوں کی جیبیں بھرتی چلی جاتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انکے ان مرغوں پر اٹھنے والے اخراجات بھی پورے ہو جاتے ہیں دونوں طرف نقصان صرف مرغوں کا ہی ہوتا ہے

    میرے خیال میں یہی حال پاکستان میں آپس کی لڑائی کا ہے یہاں ایک ہمارے فوجی بھائی کو اور ایک قبائلی خود کش بمبار بھائی لاکھوں میں تیار کیا جاتا ہے اور پھر ان دونوں کو مرغوں کی طرح لڑایا جاتا ہے جس سے انکی تو جان جاتی ہے اور فائدہ کسی اور کو ہوتا ہے معصوم فوجی اور معصوم قبائلی آپس میں لڑ رہے ہوتے ہیں انکو ان مرغوں کی طرح اس کا شعور ہی نہیں کہ ہمیں کس کے کہنے پر لڑوایا جا رہا ہے جس امریکہ اور انڈیا کے خلاف ہم پہلے قبائلی اور فوجی متحد ہو کر لڑ رہے تھے اب انہیں دشمنوں نے سوچا کہ ہمارے خلاف لڑنے والوں کو آپس میں کیوں نہ لڑوا دیا جائے تاکہ ہم سکھ کا سان لیں سکیں
    پس اس کے لئے ان کو حالات بھی موافق مل گئے اور انکو قبائلیوں اور فوجیوں کا رخ پھیرنے میں زیادہ محنت نہیں کرنا پڑی

    1- قبائلی چونکہ پٹھان ہیں انکا ذہن کچھ اور طرح کا ہوتا ہے جیسے ایک لطیفہ بھی ہے کہ
    انڈیا پاکستان کی لڑائی میں ایک انڈین نے کہا کہ تم نہیں جانتے ہمارے پاس ایسی مخلوق (سردار جی) ہے جو کام پہلے کرتی ہے اور بعد میں سوچتی ہے کہ درست کام تھا یا غلط ہم اسکو تم سے لڑا دیں گے اور تم ہار جاو گے
    جواب میں پاکستانی نے کہا کہ ہمارے پاس پھر ایک ایسی قوم (پٹھان) ہے جو کام کرنے کے بعد بھی نہیں سوچتی کہ درست تھا یا غلط تھا تو ہم اسکو تم سے لڑا دیں گے
    ان پٹھانوں کے لئے بل فائٹنگ کی مثال لی جا سکتی ہے جس میں بل فائیٹر بھینسے کو سرخ کپڑا دکھاتا ہے تو وہ بھینسا اس کپڑے پر حملہ کرتا ہے ماہر فائٹر کپڑے کو اس طرح استعمال کرتا ہے کہ اس بھینسے کا اٹیک اس پر نہ آئے بلکہ خالی جائے اور بھینسا صرف سامنے صرف کپڑے کو دیکھ رہا ہوتا ہے یہ نہیں دیکھ رہا ہوتا کہ اسکے پیچھے حقیقی اور مطلوبہ ٹارگٹ ہے بھی یا صرف بل فائٹر مجھے چکمہ دے رہا ہے اسی طرح آج امریکہ اور انڈیا ان قبائلیوں کو سرخ کپڑا دکھا کر جدھر چاہتے ہیں حملہ کرواتے ہیں مگر اسکے لئے یاد رکھیں بل فائٹر کو بھینسے کو خریدنا نہیں پڑتا بلکہ دھوکا دینا پڑتا ہے اسی طرح یہ قبائلی امیرکہ کے خریدے ہوئے ایجنٹ بالکل نہیں بلکہ مخلص لوگ ہیں مگر جدھر انکو سرخ کپڑا لے کر جاتا ہے یہ ادھر چلے جاتے ہیں
    یہاں یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ سرخ پکڑا بھی کبھی امریکہ کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتا بلکہ کسی اور کے ذریعے کرواتا ہے جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے جامعہ حفصہ میں اسی طرح معصوم جانوں کو قرآن پڑھنے والوں کو شہید کیا گیا تھا اس وقت یہ امریکی سرخ کپڑا مشرف نے پکڑا ہوا تھا اور اس پر انعامات لے رہا تھا اور اس سرخ کپڑے پر جتنے یہ قبائلی بگڑے تھے اسکا بیج آج تک بویا جا رہا ہے مگر ظاہر ہے کہ بل فائٹر (مشرف) جتنا زیادہ بھینسے کو بھڑکاتا ہے اتنا لوگ (امریکہ) اسکو پسند کر کے انعام بڑھاتے ہیں
    یہاں یہ بھی یاد رکھیں کہ بل فائٹر جتنا مرضی ماہر ہو اور وہ بھینسا کو جتنا مرضی غلط گائیڈ کر کے زخمی کر دے مگر کبھی کبھار بھینسے کی حملہ کی زد میں بھی آ جاتا ہے جیسے کل انہوں نے موقع پا لیا

    2-فوجی کا بھی رخ پھیرنے میں امریکہ کو اتنی مشکل پیش نہیں آئی کیونکہ انکے اندر یہ چیز تو بھر دی گئی ہے کہ افسر جو کچھ بھی کہے انکار نہیں اور [TRADITIONAL_ARABIC]لا طاعۃ لمخوق فی معصیۃ الخالق[/TRADITIONAL_ARABIC] والی حدیث تو تب ہم پر فٹ آتی ہے جب ہم اسکو دین سمجھ کر کر رہے ہوں ہم تو اسکو کمائی سمجھ کر کر رہے ہوتے ہیں تو پھر نوکر کی تے نخرہ کی پس ہمارے حکمرانوں نے امریکہ کی گود میں بیٹھ کر یہ کام امریکہ کے لئے آسان کر دیا

    جہاں تک اسکے سد باب کا تعلق ہے تو ہو وہی ہے کہ ہم کو دو کام کرنے پڑیں گے
    1-تمام علماء اور مبلغ متحد ہو کر ان قبائلیوں کو سمجھائیں کہ ہمارا اصل دشمن تو امریکہ اور انڈیا ہے اگر ہم اس کو چھوڑ کر آپس میں لڑیں گے تو نقصان ہمارا ہی ہو گا پس جب بار بار یہ رٹ لگائی جائے گی تو ہو سکتا ہے کہ بھینسے کے بھی دماغ کے کسی کونے میں بیٹھ جائے
    2-دوسرا یہ بھی خیال رکھنا ہےکہ اوپر علماء اور مبلغوں کی بات تو تب کام کرے گی جب سرخ کپڑا میدان سے ہٹایا جائے گا ورنہ جب بھی مبلغ انکو ٹھنڈا کرے گا کوئی سرخ کپڑا دکھا کر انکو پھر گرما دے گا تو محنت کا پھل نہیں آئے گا اور اسی وجہ سے آج تک پھل نہیں آ رہا حالانکہ آج ہر جماعت اس کی تبلیغ کر رہی ہے کہ پاکستان میں لڑائی بند کرو

    پس میری دونوں گروہوں یعنی طالبان اور پاک افواج سے گزارش ہے کہ وہ آپس میں اکٹھے ہو کر امریکہ اور انڈیا کے خلاف لڑیں
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,266
    میرا خیال ہے کہ آپ نے دونوں گروہوں کو باغی قرار دیا ہے ۔ اب یہ بتائے اس میں سے حق پر کون ہے ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. عبدہ

    عبدہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 1, 2013
    پیغامات:
    46
    محترم بھائی اللہ تعالی آپ سے راضی ہوں میں شاید درست طریقے سے سمجھا نہیں سکا اصل میں ایک تو لکھا درست سے نہیں جاتا اور دوسرا میں اس فورم کے علماء کی طرح کوئی بڑا عالم نہیں ہوں اپنی ناقص کوشش کرتا ہوں کہ اپنا نقطہ نظر سمجھا سکوں مگر کبھی اس کوشش میں کامیاب نہیں بھی ہوتا آپ مجھے معاف کر دیں
    میرے خیال میں میں کسی گروہ کو باغی نہیں کہنا چاہتا ہوں بلکہ دونوں کی غلطیوں کی بات کی تھی کیونکہ میرے نزدیک
    1-ہم درست منہج والے اہل حدیث کا گروہ ہیں
    2-طالبان غیرشرعی منہج والا گروہ ہے
    3-فوج بھی غیر شرعی منہج والا گروہ ہے

    تو ہم پاکستانی ہونے کے ناطے ان دونوں پاکستانی گروہوں کو بھی اپنے منہج کی طرف دعوت دیں گے اور انکی غلطیوں کو تسلیم کریں گے
    محترم بھائی جہاں تک آپ کا سوال کہ پھر حق پر کون ہے تو میں نے اوپر بتا دیا کہ حق پر صرف ہمارا گروہ ہے باقی دونوں اوپر والے گروہ حق پر نہیں ہیں کیونکہ کوئی بھی ہمارا عالم دین اوپر کسی بھی گروہ کی دین میں پیروی کی تلقین نہیں کرے گا پس ہمارا ہر عالم اوپر دونوں گروہوں کو حق پر کبھی نہیں سمجھ سکتا
    اب جہاں تک یہ سوال کہ پھر تو یہ دونوں باغی گروہ ہیں تو ایسا بھی نہیں کیونکہ دیکھیں اس وقت عمران خان حکومت کا باغی ہوا ہے اب کوئی ہم سے کہے کہ بتائیں حق پر کون ہے تو اگر کوئی کہ دے کہ دونوں غلط ہیں جیسا کہ اکثر غیر جمہوری اہل حدیث علماء کہتے ہیں اور میری جماعۃ الدعوہ بھی یہی کہتے ہے تو اسکا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ہم دونوں گروہوں کو باغی کہ رہے ہیں واللہ اعلم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. Ishauq

    Ishauq محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,520
    اگر ایسی هی بات هے تو پهر حق والوں کا گروه بیگناه مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ،،نا حق،،گروه طالبان کی حمایت میں کیوں مرا جاتا هے؟
    کهل کر آپ ان کے ظلم کی مخالفت کیوں نهی کرتے؟ کیوں دلیل پر دلیل تلاش کرنے میں مصروف هیں کچهه لوگ؟ کیوں ان کا موقف سن رهے هیں جبکه وه هیں. هی غلط راسته پر؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,266
    آپ نے طالبان کو غیر شرعی لکھا۔ آسان الفاظ میں ایک لفظ شرعی ہوتا ہے اور ایک غیر شرعی ۔ یعنی ایک کام شریعت کے مطابق ہوتاہے اور ایک نہیں ۔ اب اگرطالبان غیر شرعی منہج والے ہیں تو ان سے برات کرنی چاہئے ۔ان کے منہج کو شرعی، ان کے کام کو شریعت ثابت کرنا یا درمیانی راستہ نکالنا تودرست نہیں ۔ اور ان کی صفات حقیقت میں باغیوں کی ہیں ۔ إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ ۖجو کہ ظالم ، سرکش ، زیادتی کرنے والے ، حدسے زیادہ بڑھنے والے، اللہ کی نعمتوں اور احکام سے منحرف ، فہم و بصیرت عاری ، دین کی بنیادی باتوں سے نابلد، مفسد، امن وامان کو تباہ کرنیوالے وغیرہ ۔ لیکن یہ تمام صفات فوج میں نہیں پائی جاتیں ۔کسی ایک صفت کا یا کچھ کا ان میں پایا جانا ان کو غیرشرعی منہج والا گروہ نہیں بناتا۔کیا درست منہج والے اہل حدیث گروہ نے فوج کو غیرشرعی منہج والا کہا ہے؟ میراخیال ہے کسی اہل حدیث عالم نے یہ بات نہیں کی ـ سوائے چند ایک کہ جمہوریت کو کفر سمجھتے ہیں ـ اور فوج کے سب سے بڑے حمایتی جماعت دعوی کے امیرحافظ سعیدصاحب کا کوئی بھی ایسا بیان ہماری نظر سے نہیں گزرا ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,972
    حافظ صاحب نے طالبان کو تو خارجی کہا ہے. بلکہ جماعت کے اکثر علماء نے یہی کہا ہے. مزید آپ اپنی بات واضح فرما دیں تاکہ تفصیلا گفتگو ہو سکے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. عبدہ

    عبدہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 1, 2013
    پیغامات:
    46
    محترم بھائی اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے الحمد للہ ہم کھل کر دونوں گروہوں کے ظلم کی مخآلفت کرتے ہیں جب جامعہ حفصہ کو جلایا گیا تو الحمد للہ ہم نے اس وقت بھی اسکی کھل کر مخآلفت کی تھی اور میرے خیال میں اکثریت دینی جماعتوں بشمول ہماری جماعت نے اسکو مشرف کا ظلم ہی کہا تھا اور آج بھی کہتے ہیں
    جہاں تک کسی کی حمایت میں مرنے کی بات ہے تو مجھے اس کا مطلب سمجھ نہیں آیا مثلا مشرف اگر شراب پیتا ہے اور آپ اس کے شراب پینے کی مذمت کرتے ہیں مگر اسکو کافر نہیں کہتے اور اسکی اصلاح پر حریص ہیں تو کیا آپ کو کوئی مشرف کا حمایتی کہے گا
    جب ہم غلط لوگوں کا موقف نہیں سنیں گے تو انکی اصلاح کیسے کریں گے اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے
    الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ اولئک الذین ھداھم اللہ واولئک ھم اولوالباب (یعنی بات سننے میں مسئلہ نہیں پیروی کرنے میں مسئلہ ہے)
     
  8. عبدہ

    عبدہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 1, 2013
    پیغامات:
    46
    محترم بھائی کسی سے برات کرنے کے دو معنی ہو سکتے ہیں آپ پتا نہیں کون سا معنی لے رہے ہیں اگر آپکی مراد برات سے یہ ہے کہ انکے افعال میں انکا ساتھ نہ دینا اور انکے کام کو درست نہ سمجھنا ہے تو اس تناظر میں میرا الحمد للہ دونوں گروہوں یعنی فوج اور طالبان سے برات کا اعلان ہی ہے یہ میرا اپنا موقف ہے کسی کو ان دونوں کا یا کسی ایک کا ساتھ دینا درست معلوم ہوتا ہے تو وہ اسکا اپنا موقف ہے ظاہر ہے اسکے پاس کوئی دلیل ہو گی مگر میرے انتہائی محترم بھائی مجھے تو ابھی کسی ایک گروہ کے حق میں قائل نہیں کر سکا اگر کوئی بھائی مجھے دلائل سے قائل کر لے گا تو میں الحمد للہ اللہ تعالی کی توفیق سے اس گروہ سے برات کے اعلان کو واپس لے لوں گا اللہ تعالی آپ کے حرص دعوتِ دین پر آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے امین
    محترم بھائی میں نے اوپر کہا ہے کہ مجھے ابھی تک کوئی بھی کسی ایک گروہ کے بارے قائل نہیں کر سکا مثلا میری مون لائٹ آفریدی اور اسی طرح کچھ اور بھائیوں سے فیس بک پر اور محدث فورم پر کچھ معاملات میں بحث ہوئی مگر کوئی بھائی مجھے پاکستانی طالبان (افغان طالبان نہیں انکو میں درست سمجھتا ہوں) والے گروہ کے بارے قائل نہیں کر سکا محترم بھائی آپ کے پاس اگر اس فوج کے حق میں دلائل ہیں تو آپ یہاں یا کسی اور جگہ اس پر تفصیل سے مجھے سمجھا سکتے ہیں میں آپ کا بے حد مشکور ہوں اوراللہ سے آپ کے درجات کی بلندی کی دعا کروں گا اور دعا کے بغیر بھی من دل علی خیر فلہ مثل اجر فاعلہ کے تحت آپ کو اجر ان شاءاللہ مل جائے گا جزاکم اللہ خیرا
     
  9. عبدہ

    عبدہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 1, 2013
    پیغامات:
    46
    جزاک اللہ خیرا محترم بھائی اگر آپ مجھ سے مخآطب ہیں تو اگرچہ میں یہاں ابھی نیا آیا ہوں اور کچھ اور پوسٹیں دیوبندیوں اور بریلویوں اور اسی طرح معاشی نظام وغیرہ کے بارے میں کچھ پوسٹیں اور بحثیں کرنی ہیں مگر اگر آپ اس موضؤع پر پہلے تفصیلا بات کرنا چاہتے ہیں تو میرا موقف اوپر بیان ہو گیا ہے اس میں جس بات پر آپ کو غلطی نظر آتی ہے آپ ضڑور میری اصلاح کریں اللہ آپ کو اجر عظیم سے نوازے امین
     
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,266
    بھائی یہ تو حقیقت ہے کہ دونوں چیزیں غلط یا وونوں صحیح نہیں ہو سکتی ۔ حق تو ہمیشہ کسی ایک کے ساتھ رہتا ہے ۔
    آپ نے اہل حدیث گروہ کا حوالہ دیا تھا ، میں نے پوچھا کہ یہ گروہ فوج کے بارے میں کیا موقف رکھتا ہے ۔ آپ نے جواب نہیں دیا ۔۔۔؟؟
    آپ نے اس بات کا رخ اپنے "موقف" کی طرف پھیر دیا ۔ اب آپ اپنے دلائل بھی پیش فرما دیں جن کی رو سے آپ فوج سے برات کا اظہار کررہے ہیں ۔۔۔؟؟
    یاد رہے کہ آپ طالبان سے بھی برات کا اظہار کر چکے ، لہذا اب وہ موضوع سے خارج ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. عبدہ

    عبدہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 1, 2013
    پیغامات:
    46
    محترم بھائی اللہ آپ کو مزید علم عطا فرمائے مگر ابھی تک میری معلومات میں ایسی کوئی حقیقت نہیں کہ ہمیشہ دو گروہوں میں سے ایک لازمی درست ہو گا کیونکہ میرے ناقص علم کے مطابق کبھی دونوں گروہ بھی غلط ہو سکتے ہیں مثلا جب بریلویوں اور شیعوں کا مناظرہ ہو رہا ہوگا یا دیبندیوں اور بریلویوں کا مناظرہ ہو رہا ہو گا تو میرے نزدیک تو اکثر دونوں ہی غلط ہوں گے اسی طرح جب سپاہ محمد اور سپاہ صحابہ ایک دوسرے کو مار رہے ہوتے ہیں تو میری معلومات کے مطابق تواہل حدیث دونوں کو ہی غلط کہتے تھے واللہ اعلم

    محترم بھائی آپ سے معذرت چاہتا ہوں مگر میں پہلے یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ آپ اس پر بات کرنا چاہتے ہیں یا نہیں اور اگر کرنی ہے تو یہاں یا کسی اور جگہ پر یہی کچھ میں نے اوپر پوسٹ میں لکھا تھا
    لیکن اب اگر آپ مجھے فوج کے بارے قائل کرنا چاہتے ہیں تو میں اپنے اشکالات ان شاءاللہ جلد ہی اپنی اگلی پوسٹ میں فرصت سے لکھوں گا اور اس سلسلے میں میں اپنی جماعۃ الدعوہ کے حقیقی موقف کا ہی دفاع کروں گا اور اس سلسلے میں آپ کی یا اپنے کسی اور پیارے بھائی کی راہنمائی پر خلوص دل سے مشکور ہوں گا اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے امین

    جی محترم بھائی مجھے بالکل یاد ہے کہ میں پاکستانی طالبان سےبرات کا اظہار کر چکا ہوں اور بتا چکا ہوں کہ افغان طالبان کے جہاد کو درست سمجھتا ہوں البتہ انکے عقیدوں میں خرابیاں مانتا ہوں لہاذا پاکستانی طالبان کے جہاد کا میں نے دفاع نہ ہی کیا ہے اور نہ ہی کرنا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,266
    میں ابھی تک سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آپ اپنا موقف بیان کر رہے ہیں یا اپنی جماعت کا : ) : )ہم کس پر بات کریں ، لہذا پہلے آپ کو یہ واضح کرنا ہوگا ؟؟
    قائل کرنے کے لئے نہیں ـ بلکہ ہم یہ دیکھنا چاہا رہے ہیں کہ آپ کے پاس کونسے ایسے دلائل ہیں جن کی بناء پر ہم فوج کے غیر شرعی گروہ ہونے کا فیصلہ کریں ـ مجھ سمیت سب کا فائدہ ہو گا ان شاء اللہ ـ ـ ـ ا ور یہ کہ آپ اپنا موقف بیان کریں گے یا جماعت اہل حدیث یا جماعت دعوی کا ،،،؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. عبدہ

    عبدہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 1, 2013
    پیغامات:
    46
    جزاک اللہ محترم بھائی میں اپنا بھی موقف بیان کر رہا ہوں اور میں چونکہ جماعۃ الدعوہ کا کارکن ہوں بلکہ اپنے علاقے کا علماء کامسئول بھی ہوں اس لئے میرا موقف جماعۃ الدعوہ کے موقف سے علیحدہ نہیں ہو گا البتہ کچھ باتوں میں ہماری جماعت کا موقف مصلحت کے تحت واضح نہیں ہوتا مگر حقیقت میں وہ وہی ہوتا ہے جو میرا موقف ہے اب میں اپنا یعنی کہ اپنی جماعت کا موقف یہاں لکھتا ہوں آپ میری ضرور اس سلسلے میں اصلاح کر دیں کہ میرا موقف فلاں جگہ پر غلط ہو گیا ہے اللہ آپ کو جزائے خیر دے اور جہاں میں سمجھوں گا کہ آپ جماعت کا موقف سمجھنے میں کسی اشکال کا شکار ہوئے ہیں تو میں اپنی طرف سے اسکی وضاحت کر دوں گا
    بعد میں میں ان شاءااللہ اس پر بھی دلائل دوں گا کہ ہماری جماعت کا موقف منفرد نہیں بلکہ اور لوگ بھی اس موقف میں ہمارے ساتھ ہیں
    ہمارا موقف
    1-پاکستان اور افغان طالبان عقائد کے لحاظ سے درست نہیں ہیں
    2-پاکستان کے طالبان جہادی منہج کے لحاظ سے بھی درست نہیں البتہ اکثر افغان طالبان اس لحاظ سے درست ہیں
    3-ملا عمر نے امریکہ کی غلامی قبول نہ کر کے درست اقدام کیا تھا
    4-ہمارے مجاہد کشمیر میں بھی اور افغانستان میں بھی جہاد کر رہے ہیں
    5-مشرف نے افغانستان پر حملے میں امریکہ کا ساتھ دے کر غیر شرعی کام کیا تھا
    6-اسی طرح جامعہ حفصہ والا اقدام بھی درست نہیں تھا
    7-پاکستان میں جہاد کرنے والے دراصل انڈیا اور امریکہ کو شعوری یا لاشعوری طور پر فائدہ پہنچا رہے ہیں اور جہاد کی بجائے فساد کا موجب بن رہے ہیں

    تائید کرنے والے لوگ اور جماعتیں
    ہماری جماعت کی تائید کرنے والوں میں جماعت اسلامی تنظیم اسلامی وغیرہ شامل ہیں اور اسی طرح ہمارے اجتماعات میں آنے والے محترم جنرل حمید گل اور اسی طرح جنرل شاہد عزیز کے بیانات اس بارے آپ کو بتائے جا سکتے ہیں اور فیس بک پر تو موجود ہیں
    محترم بھائی میرا اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ میرے دونوں گروہوں میں قریبی دوست موجود ہیں اور جب میں طالبان کے حمایتیوں کو دعوت دینا چاہتا ہوں اور فوج کی واضح غلطیوں کو بھی نیکیاں بنا کر انکے سامنے رکھتا ہوں اور پھر انکو انکی دہشت گردی پر متنبہ کرتا ہوں تو واللہ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اسکا کیا اثر ہوتا ہو گا پس میں نے اس چیز کی بجائے اوپر تائید کرنے والی جماعتوں کی طرح یہی پالیسی اپنائی ہے کہ اپنی فوج کی واضح غلطیوں سے آنکھیں بند کر کے انکار نہ کروں تاکہ میری بات کی ان دہشت گردوں کے ہاں کوئی وقعت بھی ہو
    میری غلطیوں کی اصلاح کر دیں تو بہت شکر گزار ہوں گا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,972
    میں آپ کی اس گفتگو سے متفق نہیں. اور گمنام بندوں سے جماعتوں کی پالیسی نہیں بیان ہوتی. کوئی لکھی پڑھی بات کریں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,808
    اکٹھے ہونا ناممکن تو نہیں ہے البتہ مشکل ضرور ہے ۔کیونکہ فوج والے اپنے آقا سے مجبور ہے ۔ اور مجاہدین ، فوج کے اسی وجہ سےان کے خلاف ہے کہ فوج ایک مسلمان ملک کے خلاف ایک حربی کافر کی مدد گار اور فرنٹ لائن اتحادی ہے ۔
    [TRADITIONAL_ARABIC]يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ ... (مائدۃ:۵۱)[/TRADITIONAL_ARABIC] ’’اے ایمان والوں یہود و نصاراکو اپنا دوست نہ بناؤ،یہ بعض ،بعض کے دوست ہیں اور جس نےان سے دوستی کی وہ انہیں میں سے ہے،بے شک اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتے‘‘
    [TRADITIONAL_ARABIC] وَ لَوۡ کَانُوۡا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللہ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنزِلَ اِلَیہِ مَا اتَّخَذُوۡہُمۡ اَوۡلِیَآءَ وَ لٰکِنَّ کَثِیرًا مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿مائدۃ:۸۱)[/TRADITIONAL_ARABIC] ’’اگر وہ اللہ ، اس کے رسول اور جوان پرنازل ہوا ہے(یعنی قرآن) پر ایمان رکھتے تو کافروں کو اپنا دوست نہ بناتے‘‘
    [TRADITIONAL_ARABIC]بَشِّرِ المُنٰفِقِینَ بِاَنَّ لَہھم عَذَابًا اَلِیمَۨا ﴿۱۳۸﴾ۙ الَّذِینَ یَتَّخِذُوۡنَ الکٰفِرِینَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ المُؤۡمِنِینَ ﴿۱۳۹﴾ؕ[/TRADITIONAL_ARABIC] ’’منافقین کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنائیں،ان لوگوں کو جو کافروں کا ساتھ دیتے ہیں مسلمانوں کو چھوڑ کر‘‘
    الحمدلِلہ مجاہدین ، اللہ کی راہ میں جہاد کررہے ہیں ۔
    اور حکومتیں اکثر طاغوت کے راستے میں قتال کرتی ہیں ۔ جیسے کہ
    [TRADITIONAL_ARABIC] الذين آمنوا يقاتلون في سبيل الله والذين كفروا يقاتلون في سبيل الطاغوت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔(نساء 76)[/TRADITIONAL_ARABIC]
    لہذا پاکستانی حکمران ہوں یا ان کے سیکوٹی ادارے یا اس جنگ میں امریکیوں کی صف میں شامل اور کوئی نام نہاد مسلمان ،یہ سب ظاہراً ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اور سب آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں ،البتہ یہ بات ثابت ہے کہ کہیں پرفوجی ، مجاہدین کا دفاع بھی کرتی ہے ۔کبھی اپنی مفاد کی خاطر مالی مدد بھی کرتی ہے ۔ ہمیں یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ ان میں سے کس کا دل اس جنگ میں مجاہدین کے خلاف لڑائی پر راضی ہے اور کس کا نہیں اورحقیقتاً کون مجاہدین کا دفاع کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کون ان کے خلاف ہے، جب کہ فقہی اصول یہ ہے کہ’’ جب استقراء تمام افراد کاممکن نہ ہو تو کلی کے تمام افراد پر یکساں حکم لگتا ہے ‘‘یعنی جب یہ تعیین کرنا ممکن نہ ہو کہ فلاں فوجی کا عقیدہ ایسا ہے اور فلاں کا ایسا ،تو پھر ان کی مجموعی جماعت پرظاہر کے لحاظ سےیکساں حکم لگے گا۔(مجموعی طور پر اکثر یاعلی مدد کا نعرہ لگانی والی کلمہ گو مشرکین ہیں )
    اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جب حضرت ابنِ عباس جنگِ بدر میں گرفتار ہوئے تو انہوں نے کہا کہ میں مسلمانوں کے خلاف لڑائی کے لیے نہیں نکلا تھا،بلکہ مشرکینِ مکہ کے خوف کی وجہ سے ان کے لشکر میں شامل ہواتھااور میرا ارادہ مسلمانوں کے ساتھ شامل ہونےکا تھا نہ کہ لڑائی کا،تورسول اللہ نے ان سے فرمایا:
    ((أما ظاھرک فعلینا وأما سریرتک فالی اللہ … … … … … …))
    یعنی آپ کا ظاہر کافروں کے ساتھ جنگ میں نکلنے کا ہےاور ہماری مخالفت میں ہے، اس لیے ہم باقی کافر قیدیوں کے ساتھ جو معاملہ کریں گے وہ ہی آپ کے ساتھ بھی کریں گے ،کیوں کہ ہم ظاہر کے مکلف ہیں اور آپ کے باطن کی بات اللہ تعالی کے حوالے ہے جو آپ سے اس کے مطابق حساب لیں گے۔
    علامہ ابنِ تیمیہ رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں :
    (لو رأیتمونی فی صف الکفاروعلی رأسی مصحف فاقتلونی)
    ’’اگر تم مجھے کافروں کی صف میں مسلمانوں کے خلاف ایسی حالت میں بھی دیکھو کہ میرے سر پر قرآن مجید ہو تو تب بھی مجھے قتل کر دینا۔‘‘
    ۔ قرآن نے کیا خوب کیا ہے ۔
    ( وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ کَمَا کَفَرُوْا فَتَکُوْنُوْنَ سَوَاءً )[4:النساء:89]
    کافر تو تمھیں اپنے جیسا بنانا چاہتے ہیں( تاکہ ان کو تم سے کوئی خطرہ نہ رہے )
    محدث فتویٰ پر بھی جمہوریت کو کفر کہا گیا ہے ۔
    مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوریت سے خبردار ہی رہیں۔ یہ مسلمانوں کے لیے زہر ہلاہل ہے۔ اسے دشمن ہی سمجھیں۔ اسے کبھی اسلام نہ سمجھیں۔ کفر کبھی اسلامی نہیں ہوتا۔ دشمن کبھی خیر خواہ نہیں ہوتا۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ جمہوریت اسلام کی دشمن کیسے ہے ؟ اسلام اور جمہوریت کو سمجھنا چاہیے کہ ان کی حقیقت کیا ہے اور ان میں فرق کیا ہے؟ جمہوریت کی لوگوں نے بہت سی تعریفیں کی ہیں۔ سب سے بہتر اور جامع ابراہیم لنکن کی تعریف مانی جاتی ہے جس کے الفاظ ہیں:
    Government of the people, by the people for the people
    جس کا مطلب یہ ہے کہ جمہوری نظام میں عوام ہی سب کچھ ہوتے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں‘ وہ اپنے ملک کا خود ہی دستور بناتے ہیں‘ خود ہی قانون ۔ اکثریت جو چاہے قانون بنا دے۔ شراب کو حلال کر لے‘ یا حرام۔ لواطت (Sodomy)کو جائز کر لے یا ناجائز۔ چنانچہ برطانیہ وغیرہ یورپی ملکوں میں(Sodomy) یعنی لواطت جیسا غیر فطری فعل بھی اگر رضا مندی سے کیا جائے تو جائز ہے‘ کوئی جرم نہیں۔ جمہوریت میں جو پارٹی بھی اکثریت میں ہوتی ہے وہ رول کرتی ہے اور جو اقلیت میں ہوتی ہے وہ رول ہوتی ہے۔ اس طرح جمہوریت میں انسان انسان پر حکومت کرتا ہے‘ اﷲ کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ انسانوں کی انسانوں پر ‘ مخلوق کی مخلوق پر حکومت ہوتی ہے۔ جو بالکل غیر فطری عمل ہے۔ برعکس اس کے اسلام ایک دین ہے‘ جو مکمل نظام حیات ہے‘ اس میں حاکمیت اعلیٰ اﷲ کی ہوتی ہے۔ سب انسان اس کے حکم کے تابع ہوتے ہیں۔ راعی اور رعایا سب اﷲ کے سامنے جواب دہ ہیں۔ اسلام میں قانون اﷲ کا ہوتا ہے۔ کوئی انسان کسی انسان پر اپنے قانون کے ذریعے حکومت نہیں کر سکتا۔ حکومت سب پر اﷲ کی ہوتی ہے۔ کاروبار مملکت چلانے کے لیے خلافت کا منصب ہے‘ جس کا کام اﷲ تعالیٰ کے احکام کی تکمیل کرنا اور کرانا ہوتا ہے‘ حکومت کرنا نہیں۔وہ کوئی قانون اﷲ کی منشا کے خلاف نہیں بنا سکتا۔اسلام میں حکومت کا مقصد اﷲ کی حاکمیت کو قائم کرنا ہے ‘ تاکہ راعی اور رعایا ‘ حاکم و محکوم سب کی عبودیت اور اﷲ کی معبودیت ظاہر ہواور یہی مقصود تخلیق انسانی ہے۔
     
  16. عبدہ

    عبدہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 1, 2013
    پیغامات:
    46
    محترم بھائی میں نے اوپر ہیں نہیں کہا کہ کسی کے لئے میری بات سے اتفاق کرنا لازمی ہے بلکہ یہ کہا تھا کہ میرا موقف یہ ہے اگر کوئی مجھے درست منہج دلائل سے سمجھانا چاہے تو میں بہت مشکور ہوں گا جس پر محترم شیخ عکاشہ بھائی نے کہا کہ وہ سمجھاتے ہیں پس میں تو آپ لوگوں سے سمجھنا چاہتا ہوں

    محترم بھائی معذرت کے ساتھ کہ میں ذرا ٹھوس دماغ یعنی کمزور دماغ کا بندہ ہوں آپ کی بات سمجھ نہیں سکا کہ کون گمنام اور کون سی جماعت-پڑھی لکھی باتوں کی کوشش تو کرتا ہوں مگر لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا آپ مجھے معاف ر کے میری اصلاح جاری رکھیں اللہ آپ کو اجر عظیم دے گا ان شاءاللہ
    محترم بھائی میں نے اوپر کہا تھا
    اب آپ کے اعتراض کی سمجھ نہیں آئی کیا آپ کو یہ اعتراض ہے کہ
    1-اس طرح کا منہج رکھنے والے جنرل گل حمید جنرل شاہد عزیز منور حسن وغیرہ گمنام بندے ہیں یا
    2-جماعۃ الدعوہ میں کسی مشہور بندے کا یہ موقف نہیں ہے یا
    3-جماعتوں کا یہ موقف ہو مگر اسکے حق میں دلائل نہیں ہیں
    مجھے آپ واضح کر دیں تاکہ مجھے سمجھنے میں اور میری اصلاح میں آسانی ہو اللہ آپ کو جزائے خیر دے امین
     
  17. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,266
    شکریہ ـ وضاحت پر ـ بہرحال اگرہم آپ کے موقف کو جماعت کا سمجھ لیں تو ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا جماعت دعوی اور اس کےامیر محترم دو رائے رکھتے ہیں ـ مسئولین کو اجازت ہے اصلی موقف لکھنے کی اورامیرمحترم کو نہیں ؟ یہ تو دوغلی پالیسی اور دھوکہ دہی ہے ؟؟ حافظ سعید صاحب میڈیا پرفوج کو شرعی گروہ کہیں اور نجی مجلسوں میں تقریر کرتے ہوئے غیر شرعی ــــــ؟؟ یہ بات تو بہرحال ہضم نہیں ہو رہی ـ!! یہ عقیدہ و منہج اہل حدیث کے خلاف ہے ؟ جو کچھ آپ نے لکھا ہے وہی جماعت دعوی کا موقف ہے ؟؟؟ اس کا کوئی تحریری ثبوت یا امیرجماعت دعوی نے کہیں کوئی بیان دیا ہوـ؟؟؟
    آپ کی جماعت کی تائید کرنےوالوں میں جماعت اسلامی بھی ہے: ) مرکزی جمعيت اهل حديث یا جمعیت علماء وغیرہ یہ تو ایک بڑے گروہ کی نمائندگی کرتی ہیں ـ یعنی یہ شامل نہیں ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  18. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,808
    یہ بھی ممکن ہے کہ جماعت الدعوۃ توریہ سے کام لے رہی ہو ۔
     
  19. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,972
    ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟
     
  20. عبدہ

    عبدہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 1, 2013
    پیغامات:
    46
    جزاک اللہ خیرا محترم بھائی میرے خیال میں آپ کے سامنے میری غلطی کی وجہ سے دو باتیں مکس ہو گئی ہیں ایک ہے فوج کی حمایت کرنا اور انکو اپنا چوکیدار اور حفاظت کرنے والا سمجھنا اور دوسرا ہے کہ انکا افغانستان کے معاملہ میں امریکہ کا ساتھ دینے کو شریعت کے مطابق سمجھنا
    تو محترم بھائی فوج کو اپنا چوکیدار سمجھتے ہوئے تو ہم اسکی بہت قدر کرتے ہیں اور اسکے ساتھ تعاون کرنا اور اس سے تعاون لینا جہاد کی بقا کے لئے ناگزیر سمجھتے ہیں البتہ میرے علم کے مطابق تو ہمیشہ ہماری جماعت نے افغانستان بارے امریکہ کا ساتھ دینے کو غیر شرعی ہی کہا ہے آپ کو اپنے امیر محترم اور دوسرے علماء کی پرانی تقریروں اور بیانات اور کتابوں کا حوالہ دے سکتا ہوں اگرچہ آج کل کچھ مصلحتوں کی وجہ سے نہ اسکے حق میں نہ خلاف بات ہوتی ہے البتہ آپ کسی بھی عالم سے علیحدہ پوچھنے جائیں گے تو وہ کبھی بھی امریکہ کا ساتھ دینے کی حمایت نہیں کرے گا

    محترم بھائی میرے خیال میں اوپر جو دو باتیں میں نے علیحدہ کی ہیں شاید اسی وجہ سے ہضم نہ ہوتی ہو ورنہ یہ تو اہل حدیث کا منہج رہا ہے کہ ہماری مرکزی اہل حدیث والے بھائی جو توحید پارلیمنٹ سے باہر بیان کرتے ہیں وہ پارلیمنٹ میں ساری زندگی بیان نہیں کریں گے تو کیا یہ انکی دوغلی پالیسی ہو گی میں تو محترم اپنے موحد بھائیوں کے بارے حسن ظن ہی رکھتا ہوں
    محترم بھائی میرا مرکزی جمیعت سے اختلاف ہی یہی ہے کہ الیکشن سے آپ دین غالب نہیں کر سکتے کیونکہ اس طرح الٹا آپ پارلیمنٹ میں توحید کی بات ہی نہیں کر سکتے البتہ یہ یاد رہے کہ میں الیکشن میں حصہ لینے کے خلاف نہیں ہوں مئی 2013 کے الیکشن میں میں اپنے محلے کے اہل حدیث کا صدر تھا اور ہم نے سیف الملوک کھوکھر کو جلسہ دیا تھا اور پھر جیتنے پر مٹھائی لے کر اسکے گھر بھی گئے تھے اس میں زیادہ تر جماعۃ الدعوہ کے بندے تھے لیکن یہ صرف دنیاوی بہتری کے لئے ہماری جماعت الیکشن میں حصہ لیتی ہے جبکہ یہ سمجھتی ہے کہ دین اس طرح غالب نہیں ہو گا بلکہ دعوت اور جہاد سے ہو گا

    جی محترم بھائی میرے علم کے مطابق تو آپ کو کوئی ایک بیان بھی ایسا نہیں ملے گا جس میں امیر محترم نے یا کسی اور نے امریکہ کا ساتھ دینے کو شرعی کہا ہو البتہ مختلف بیانات اور کتابیں پرانی ایسی موجود ہیں ( جب پابندیاں کم تھیں) جس میں امریکہ کا ساتھ دینے کی کھل کر مخالفت کی جاتی تھی مثلا دوستی دشمنی کتاب وغیرہ

    کیوں نہیں محترم بھائی باقی باتوں میں مخالفت ہو سکتی ہے مگر اس بات میں ہماری جماعت اور مرکزی اہل حدیث والوں کا موقف ایک ہی ہے کہ امریکہ کا ساتھ دینا غلط تھا اور جامعہ حفصہ والا معاملہ بھی غلط کیا گیا
    آپ کے علم میں ہماری جماعت کا یا مرکزی اہل حدیث کا کوئی بیان ہو جس میں امریکہ کا ساتھ دینے کو شرعی کہا گیا ہو تو مجھے بتا دیں تاکہ میری معلومات میں اضافہ ہو اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے امین
     
    Last edited: ‏دسمبر 28, 2014
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں