پاکستان میں لڑائی اور سرخ رومال

عبدہ نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏دسمبر 20, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,972
    یہ غلو اور تعصب نہیں۔ ملک کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اس وقت فتنہ تکفیر ہے۔

    اس پر میرے چند سوالات ہیں:

    1-فتنہ تکفیر پر جماعت الدعوۃ کے علاوہ کتنے لوگوں نے تقاریر کیں؟
    2-تحریری اعتبار سے جماعت الدعوۃ کے علاوہ کتنے لوگوں نے فتنہ تکفیر کے حوالے سے کتب یا مقالات لکھے؟
    3-فتنہ تکفیر پر کبار عرب علماء کے رسائل و جرائد کو کون کون سی جماعت عوام کے سامنے ترجمہ کر کے لے کر آئی؟
    4-طالبان کو خوارج کس نے قرار دیا؟ ذرا بیانات نکال کر دکھائیں؟

    باقی باتیں پھر کبھی سہی ان شاء اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,808
    یہ سارا کا سارا صرف ایمان سے پاک آرمی کو خوش کرنے کے لیے اور یہاں پر قدم جمانے کے لیے ہے ۔ورنہ حقیقت میں الدعوہ والوں کو بھی پتہ ہے کہ یہ آرمی ایمان سے پاک ہے ۔بوجہ مسلمانوں کے خلاف کفاروں کی مدد اور دلی دوستی کے۔
     
  3. عبدہ

    عبدہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 1, 2013
    پیغامات:
    46
    محترم بھائی واللہ میں نے جان بوجھ کر چوکیدار نہیں لکھا تھا میرا مقصد وہی محافظ والا ہی تھا کہ ہماری حفاظت کرتے ہیں البتہ یہ سمجھتا ہوں کہ چونکہ یہ مجموعی لحاظ سے غیر شرعی گروہ ہے اس لئے انکو اسلام کے رکھوالے کبھی نہیں سمجھتا بلکہ صرف ایک محافظ ہی سمجھتا ہوں
    البتہ جہاں تک آپ کی یہ بات ہے کہ گھر کے سرپرست کو چوکیدار کہا جا سکتا ہے تو محترم بھائی اس معاملے میں پہلے یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ گھر سے آپکی کیا مراد ہے اگر اس سے مراد وطن ہے اور آپ انکو وطن کا سرپرست سمجھتے ہیں تو میرے خیال میًں یہ وطن دین اسلام کی سربلندی نہیں چاہتا بلکہ کفر و شرک کا رکھوالا ہے پس میں ان کے رکھوالوں کےلئے مجاہد کا لفظ استعمال نہیں کرتا بلکہ چوکیدار یا محافظ کا لفظ ہی استعمال کرتا ہوں کیونکہ اگر یہ اسلام کی سر بلندی چاہتے تو پھر انکو مجاہد کہتا
    البتہ میرے نزدیک جب وطن کفر و شرک کا حمایتی ہو تو مصلحت کو دیکھتے ہوئے انڈیا امریکہ وغیرہ سے موازنہ کرنے میں تو اس ملک کو اچھا سمجھیں گے اور کوشش کریں گے کہ انڈیا اور امریکہ کی بجائے یہی اس ملک کے حکمران رہیں البتہ یہ اخف الالضررین یا اھون البلیتین کے تحت ہو گا یا پھر اس لئے ہو گا کہ یہ کلمہ گو ہیں اور اللہ کے نبی صلیاللہ علیہ وسلم نے کلمہ گو سے بہت سے معاملات میں اعراض ہی کیا ہے جیسا کہ ہمارے شیخ عبدالسلام بھٹوی کی تقریر میں اسکی تفصیل بیان کی گئی ہے میں وہ تقریر کبھی یہاں پوسٹ کر دوں گا پس ہم انکو اپنا محافظ ہی سمجھیں گے اسلام کا رکھوالا نہیں سمجھیں گے

    محترم بھائی اوپر پوسٹ 13 اور پھر 28 میں اپنی جماعت کا موقف لکھ تو دیا ہے پھر آپکو کونسے موقف کا انتظار ہے
    اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ انکو جماعت کی کتابوں سے دکھائیں تو وہ لکھ دیتا ہوں اور اگر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس موقف کو قرآن و حدیث سے ثابت کریں تو وہ بھی کر دیتا ہوں آپ بتا دیں کہ کونسا کام کروں تاکہ آپ اصلاح کر دیں جزاکم اللہ خیرا
     
    Last edited: ‏جنوری 5, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. عبدہ

    عبدہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 1, 2013
    پیغامات:
    46
    محترم بھائی اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے واقعی آپ نے جو باتیں کی ہیں وہ سوفیصد درست ہے سوائے خط کشیدہ بات کے ہمیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ہماری جماعت پر الزامات کس نے لگائے ہیں میں نے اوپر پوسٹ 13 میں اپنی جماعت کا موقف بیان کیا ہے آپ میری اصلاح کر دیں کہ اس میں کون سی بات الزام ہے تاکہ میں اپنی اصلاح کر سکوں میں نے تو اپنی جماعت کے علما$ کے بیانات اور کتابوں سے ہی یہ موقف سیکھا ہے اللہ تعالی آپ کو اصلاح کرنے پر ان شاءاللہ اجر عظیم دے گا

    محترم بھائی میڈیا میں کی جانے والی باتیں اور عام درسوں وغیرہ میں پایا جانے والا منہج اکثر مختلف ہوتا ہے یہی چیز میں نے اوپر جمعیت اہل حدیث کے بارے بھی بتائی تھی کہ وہ بھی ایسا ہی کرتے ہے
    آج کوئی یہ کہے کہ دیکھو چونکہ جمیعت اہل حدیث سیاسی جماعت ہے اور اسکا موقف تو وہ ہو گا جو پارلیمنت میں ہے پس چونکہ پارلیمنٹ میں انہوں نے کبھی کھل کر مزاروں کا رد نہیں کیا پس انکا موقف ہی وہی ہے تو یہ درست نہیں ہو گا
    البتہ اس میں تفاوت بھی قابل قبول حد تک ہونا چاہئے یعنی جتنی مصلحت کی گنائش اسلام دیتا ہو پس ہماری جماعت تو اسکا خیال رکھتی ہے اور میرے خیال میں جمیعت اہل حدیث بھی اس بات کا مکمل خیال رکھتی ہیں یا کم از کم میں انکے بارے حسن ظن ہی رکھتا ہوں واللہ اعلم بالصواب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,808
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,399
    بہترہے دونوں کام کردیں ۔ تاکہ حوالے کے طورپر موجود رہے ۔ شکریہ ۔
    جان بوجھ کر نہیں لکھا ۔ کوئی شخص کسی کے دل کے حال نہیں تو نہیں جانتا، اس لئے گفتگو کے دوران سوچ سمجھ کر لکھنا چاہئے ۔ اور دوسری بات آپ نے لکھا کہ آپ انہیں اسلام کا رکھوالانہیں سمجھتے : )، لیکن پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کی حفاظت تو ان کے اسلام اور ایمان کی حفاظت ہے ۔یہ اسلام کی رکھوالی نہیں؟؟خیر ،یہ منطق بھی سمجھ سے باہر ہے ۔ امید ہے کہ یہ موقف بھی آپ کا اپنا ہوگا ۔ اور جماعت دعوی بری ہوگی ۔

    اچھا ،یعنی بھٹوی صاحب کی تقریر اسی حوالے سے ہے کہ افواج پاکستان اسلام کے رکھوالے نہیں؟ ، ضرور شیئر کریں ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. عبدہ

    عبدہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 1, 2013
    پیغامات:
    46
    محترم بھائی پہلے تو یہ بتا دوں کہ کافی دنوں سے پاسورڈ نہیں مل رہا اسی لئے آپکو پیغام بھیجا ہے آج بھی بائی دی وے ایک کمپوٹر میں سیو پاسورڈ مل گیا
    محترم بھائی مجھے حیرت ہے کہ کوئی ہماری جماعت کا ساتھی اس موقف سے اختلاف بھی کرتا ہے اگر ایسا ہے تو پھر ہمارے امیر حضرات کی کوئی بھائی ایک بھی تقریر یا کتاب کا حوالہ دے دے کہ ہماری جماعت افغانستان میں امریکہ کا ساتھ دینے کو درست سمجھتی ہے تو میں اپنی اصلاح کر لوں گا ویسے میں نے بھائیوں سے پوچھا بھی ہے تو انہوں نے یہی کہا ہے کہ ہم یہ موقف نہیں رکھتے البتہ ایسی بات حالات کی وجہ سے میڈیا پر کرتے ہی نہیں
    قرآن و سنت سے ثابت کرنے کے لئے میں ان شاءاللہ اگلی فرصت میں اپنے علماء کے دلائل کی روشنی میں لکھوں گا کیونکہ اسکے لئے تھوڑا وقت چاہئے

    ان پر بھی اگلی فرصت میں لکھتا ہوں ان شاءاللہ
     
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,399
    : ) جی ، یہاں تک کہ اخلاق بھی بھول جاتے ہیں ، اللہ اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔ ویسے آپ کے ساتھی کے برعکس آپ کا موقف مضبوط ہے اور مزید وضاحت کا انتظار ہے ۔
     
  9. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,808
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
    السلام عليکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔
    یہاں پر حافظ صاحب کا ایک آڈیو بیان سنا ہے ۔ آپ لوگ بھی سن لے۔ ان شاءاللہ وہ لوگ جو کفار اور ان کے ساتھیوں سے مرعوب ہیں ان کی آنکھیں کھل جائیں گی ۔بقایہ بیانات یہاں پر ہے ۔
    درمیاں میں سے میں نے کوشش کی یونیکوڈ فارمیٹ میں تیار کرکے لگا رہا ہوں ۔ لیکن خیال رہے اس کو کبھی ڈیلیٹ نہیں کرنا ،
    آج تو ایک مسجد(مسجد اہل حدیث چوک فوارہ صدرپشاور ) میں بھی امام صاحب کچھ زیادہ ہی کفار یعنی امریکہ سے برس رہے تھے اور کہا کہ اللہ ہمارے حکمرانوں کو ہمت دیں کہ ان کفار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکے ۔
    ہمارے اہل حدیث بھائیوں کو آج پتہ چل گیا ہے ۔ یہ کفار ، ہم مسلمانوں کے خلاف ایک ہی ملت ہے ۔
    جب اوبامہ انڈیا کو چلاگیا جو ان کا پکا دشمن تھا ۔اور پاکستان کو چارہ بھی نہیں ڈالا ۔
    اور جب الدعوہ کے اثاثے منجمد ہونے کی باتیں گردش کرنے لگی ۔

    پورابیان تقریباً 44 منٹ میں سے ایک اقتباس۔ اس 7 منٹ تا 15 منٹ ۔
    "بعض حکیم جب صحیح تشخیص کرتے ہیں اور اس کی جڑ تک پہنچ جاتا ہے تو عموماؐ وہی صحیح علاج بھی کرتا ہے ۔
    ہمارے ہاں مسائل پرجب بھی گفتگو ہوتی ہے ۔تو دنیاوی اصولی کے مطابق تجزیہ کرتے ہیں ۔ فلاں علاقائی مسئلہ ہے ، کاروبار اگر الجھا ہوا ہے ، ۔تو اس کے لیے یہ کلیات ہیں ،اور بین الاقوامی مسائل ہیں، قیمتوں کا اتارچڑھاؤ ہیں ، پوری دنیا
    کے اندرجو رجحان چل رہا ہے ہم بھی اسی کا شکار ہے۔یہ تجزیہ کرنے والے ہمیشہ تجزیہ کرتے ہیں ۔اور پھر بین الاقوامی سطح پر کنٹرول کرنے والے ہاتھ کون سے ہیں ؟ پھر ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔وہ ہم سے بگڑے ہوئے ہیں ، ہم سے خوش نہیں ہیں ۔اس لیے ان کو خوش کرنے کی کوشش کرو۔
    یہودی اس وقت دنیا کے کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں ۔صلیبیوں کے ساتھ مل کر دنیا کو لوٹ رہے ہیں ۔اگر ہم بھی اس دیا میں زندہ رہنا چاہتے ہیں ، اس ملک کا نظام چلانا چاہتے ہیں، اپنے معاشی استحکام کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں ، تو لازماؐ ہمیں ان یہودیوں کو خوش کرنا ہوگا۔اور ان صلیبیوں کے ساتھ چلنا پڑے گا ۔اور ان کی شرطیں ماننا پڑے گی ۔یہ تجزیے کیے جاتے ہیں ۔اورپھر اس پر کوشش شروع ہو جاتی ہے ۔آج پوری دنیا کے مسلمان ممالک اس بڑی غلطی میں مبتلا ہیں ۔سب سے زیادہ غلطی کرنے والے حکومتیں ، حکومتیں میں بیٹھنے والے اور پالیسی وضح کرنے والے اور چلانے والے سب سے زیادہ غلطی کرنے بلکہ گناہ کرنے والے بلکہ بغاوت کرنے والے اس وقت یہ حکمران ہیں مسلمانوں کے ۔اللہ یہ کہتا ہے کہ مسلمانوں یاد رکھو ، میرے قانون تمھارے لیے اور ہے اور کفار کےلیے اور ۔ تم اپنے آپ کو ان کے ساتھ کیوں ملا تے ہو؟ تم اپنے آپ کے مسائل حالات وواقعات کو ان پر کیوں قیاس کرتے ہو؟ تمھارا معاملہ الگ ہے ان کا معاملہ الگ ہے ۔اللہ کہتا ہے کہ میں نے ہمیشہ کے لیے ان کفار کو مہلت دے رکھی ہے ۔ہاں میری پکڑ ضرور آتی ہے ۔زیادہ تر ان کا معاملہ آخرت کے لیے چھوڑتا ہے تاکہ اکٹھا پکڑکے پوچھوں گا ۔ لیکن مسلمانوں کو سمجھاتا
    ہوں ، قرآن پڑھ کے دیکھو۔ جو قرآن کو کھول کر پڑھتا ہے تو وہ کہتا کہ بے شک قرآن تو میرے لیے ہے ۔

    الغرض آج کے پالیسی ساز ادارے اور یہ مسلمان حکمران (جو یہودیوں اور صلیبیوں کی طرف دیکھ کر تجزیے کرتے ہیں ۔)اگر غور سے قرآن وحدیث کا مطالعہ کرے تو ایک ایک چیز اور ہر طرح کے حالات اور نبی علیہ السلام کی پیشنگوئیاں، اورامت کے مسائل ۔ اللہ کے نبی علیہ السلام بڑے شاندار تجزیے کرتے ہیں ۔ اس قرآن وحدیث کے طرف جھک کر ہمارے بڑے سے بڑے مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔
    ليکن افسوس کي بات يه هے مشرق سے مغرب تک جتنے بھی مسلمان ممالک هے سب ايک رسي سے بندے هوئے هيں ۔ قرآن اور کتب احادیث بند کرکے رکھی ہوئی ہیں ۔
    اور جو کتب اور لٹریچر پڑھا اور پڑھایا جارہاہے وہ جو یورپ ہم کو سمجھا رہا ہے ۔ ہمارا استا د بن کے بیٹھا ہواہے آج کا یہودی ۔اور ہمارا مسلمان اس کا شاگرد بن کے چل رہا ہے ۔وہ ظالم یہودی اس کی سوچ اور عقیدےکو بدل رہا ہے ۔اس کی معیشت وثقافت چھین لی ۔اور آج کل کے بڑے پی ایچ ڈی کرنے والے ، جن کے لباس بدل گئے ، جن کی ٹائیاں گردنوں میں ہیں جو عملاؐ انگریزوں کے غلام بن گئے ہیں ۔ اپنے ذہن کو ان کے مطابق ڈھال لیا ۔
    باہر ممالک میں یونیورسٹیوں کی تحقیقات کی جہاں پر پی ایچ ڈی کرنے والے اساتذہ اور خاص کر اسلامیات کے اساتذہ ، اکثر یہودی ہیں ۔"
     
  10. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,808
    صحابی رضی اللہ عنہ کے نام پہ نام رکھنا بہت ہی اچھی بات ہے ۔
    لیکن اگر کوئی شخص کسی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کفار اور ان کے ساتھیوں کو وہ(
    حضرت ابوبکر ساری بات بہت غور سے سن رہے تھے۔ ان سے برداشت نہ ہوسکا اور عروہ کو ٹکا سا جواب دیا ”امصص بظراللات“ کہ لات بت کی شرمگاہ چاٹ، کیا تو سمجھتا ہے
    ) گالی دے جو کسی صحابی نے اس کو دی ہو، تو اس ایسے شخص کے لیے بداخلاق کہنا وضاحتاً یا اشارہً، کس زمرے میں ہوگا ؟
    آپ کے تیر کی زد میں کون آئے گا ۔
     
  11. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    861

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    بصد احترام، يہ امريکی نہيں ہيں جو کسی بھی طور ايسی سازش کر رہے ہيں کہ دہشت گرد تنظيموں کو ايسی ترغيب، امداد، تعاون اور حمايت فراہم کی جاۓ کہ وہ پاک فوج اور شہری آباديوں کے خلاف غيرانسانی حملے کرتے پھريں۔ علاوہ ازيں دنيا کی کوئ بھی فوج اپنے وسائل اور اپنے فوجيوں کی جان کی قربانی صرف اپنے عوام کے بہترين مفاد میں ہی صرف کرتی ہے۔

    پاکستان کی سرحدوں کے اندر افواج پاکستان کی کاروائيوں کا مقصد امريکہ"امريکی آقاؤں" کو خوش کرنا ہرگز نہيں ہے۔ يہی اصول کسی بھی ملک کی منتخب حکومت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

    ميں آپ کو يہ بھی ياد دلا دوں کہ پاکستان کی تمام فوجی اور سول قيادت اور عمومی طور پر سول سوسائٹی بھی اس بات پر متفق ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ پاکستان کے بہترين مفاد ميں ہے۔

    پاکستان کی عسکری قيادت کی کاروائ پر تنقيد پاکستان کی افواج کی بے مثال قربانيوں اور ان ہزاروں بے گناہ شہريوں کی اموات کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے جو گزشتہ چند سالوں کے دوران دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔

    کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں کے خلاف کوئ کاروائ نہيں کرنی چاہیے جو بلاتفريق پورے ملک ميں پاکستانيوں کو قتل کر رہے ہیں؟ کيا حکومت پاکستان کو ان مسلح گروپوں کو نظرانداز کر دينا چاہيے جو پاکستان کے قوانين اور اداروں کے وجود سے انکار کرتے ہیں؟

    ميں يہ واضح کر دوں کہ پاکستانی فوجی اپنی جانوں کی قربانی اپنے ملک کے تحفظ اور اپنی عوام کی سلامتی کو يقينی بنانے کے لیے دے رہے ہيں، نہ کہ واشنگٹن ميں بيٹھے ہوۓ امريکی افسران کی خوشنودی کے ليے۔

    دانش کا تقاضا تو يہ ہے کہ دہشت گردی کی ناقابل ترديد حقيقت کو تسليم کر کے اس کے تدارک کی کوششيں کی جائيں، بجاۓ اس کے کہ ايسی بے سروپا کہانياں تخليق کی جائيں جو منطق اور توجيہہ کی بنيادی کسوٹی پر بھی پوری نہيں اترتيں۔

    يہ استدلال کہ پاکستان ميں دہشت گردی محض پاکستانی رياست کو کمزور کرنے کے ليے کسی خفيہ امريکی سازش کا شاخسانہ ہے صرف "ميں نا مانوں" والی صورت حال لگتی ہے۔

    ميں پاکستانی حکومت اور فوج کا ترجمان تو نہيں ہوں ليکن يہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ کسی بھی حکومت يا فوجی ادارے کی جانب سے ملک کی سلامتی سے متعلق اہم ترين فيصلوں اور معاملات پر عمل سازی محض اس بات پر منحصر نہيں ہوتی کہ امريکہ سميت کسی بھی غير ملکی حکومت کی جانب سے کيا موقف يا تجويز پيش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر ميں يہ نقطہ غير اہم ہو جاتا ہے کہ پاکستان ميں دہشت گردی کے معاملے کے ضمن ميں امريکہ کس حکمت عملی کو ترجيح ديتا ہے يا کن خدشات کا اظہار کرتا ہے۔

    حکومت پاکستان امريکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف ہماری کوششوں ميں ہمارا ساتھ ہمارے مطالبات کی وجہ سے نہيں دے رہی بلکہ اس شراکت داری کا مقصد اپنے شہريوں کی حفاظت کو يقينی بنانا اور ان مجرموں کے خلاف حکومتی رٹ قائم کرنا ہے جو ملک کے رائج قوانين کو ماننے سے انکاری ہيں۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں