پریشانی کے لمحات میں سیرت نبیﷺ سے ڈھارس

عفراء نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏دسمبر 21, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,738
    بسم اللہ الرحمن الرحیم​


    دخل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - المسجد ذات يوم ، فإذا هو برجل من الأنصار يقال له أبو أمامة ، فقال : يا أبا أمامة مالي أراك جالسا في المسجد في غير وقت الصلاة ؟ قال : هموم لزمتني وديون يا رسول الله ، قال : أفلا أعلِّمك كلاما إذا قلته أذهب الله همك وقضى عنك دينك ؟ قال : بلى يارسول الله ، قال : قل إذا أصبحت وإذا أمسيت : اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن ، وأعوذ بك من العجز والكسل ، وأعوذ بك من الجبن والبخل ، وأعوذ بك من غلَبة الدين وقهر الرجال ، قال أبو أمامة : ففعلت ذلك ، فأذهب الله همي ، وقضى عني ديني " رواه أبو داود.

    ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو آپ ﷺ نے وہاں ایک انصاری شخص کو پایا جس کا نام ابو امامہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اے ابو امامہ کیا بات ہے میں تمہیں مسجد میں بیٹھے دیکھ رہا ہوں جبکہ یہ نماز کا وقت نہیں ہے۔ ابو امامہ نے کہا اے اللہ کے رسول مجھے غموں اور قرضوں نے جکڑ لیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں جو تم کہو تو اللہ تمہارا غم دور کر دے اور تمہارا قرض چکا دے؟ ابو امامہ نے کہا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح اور شام یہ پڑھا کرو: اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں رنج و غم سے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں عاجزی اور سستی سے۔ اور میں پناہ چاہتا ہوں کم ہمتی اور بخل سے۔ اور میں پناہ چاہتا ہوں قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے قہر سے۔
    ابو امامہ کہتے ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا۔ تو اللہ نے میرا غم دور کر دیا اور مجھ سے میرا قرض چکا دیا۔
    (اسے ابو داؤد نے روایت کیا ہے)

    سیرت کے اس واقعہ نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا۔ یوں تو اس میں کئی چیزیں ہیں سوچنے اور سمجھنے کے لیے جسے اہل علم نے وضاحت سے حدیث کی شروح میں بیان کیا ہے۔ لیکن مجھے جوبات سب سے زیادہ محسوس ہوئی وہ یہاں شئیر کر رہی ہوں۔

    اس کو سنتے ہی جو تصویر میرے ذہن میں بنی وہ یہ تھی۔ ابو امامہ رضی اللہ عنہ مسجد میں اللہ کے در پر پریشان بیٹھے ہیں۔ ایسی حالت میں انسان کا جی چاہتا ہے کہ وہ کسی سے اپنی پریشانی بیان کرے اور غم کا بوجھ بانٹے۔ اتنے میں اللہ کے رسول تشریف لاتے ہیں۔ اور ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہیں کہ وہ اس وقت مسجد میں کیوں بیٹھے ہیں جب کہ نماز کا وقت بھی نہیں۔ پوچھنے والی شخصیت اللہ کے رسول کی اور پوچھنے کا انداز ایک غم خوار اور ساتھی کا !!! ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی خوش نصیبی کے کیا کہنے۔ ان کا غم تو آدھا ہوگیا ہوگا! اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بڑھ کر کسی کے لیے کوئی کیا خیر خواہ ہوگا۔ تب ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے اپنی پریشانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حل بتایا۔ انہوں نے اس پر عمل کیا اور پریشانی سے نجات پا لی۔

    وہ کیسا دور ہو گا جب اللہ کے نبی لوگوں کے درمیان موجود ہوتے تھے ۔ لوگ پریشانی میں ان کے پاس جاتے اپنے دلوں کا حال بتاتے تھے اور حل دریافت کرتے تھے۔ ان کو اس پر کامل یقین ہوتا تھا کہ ہم جس سے اپنی پریشانیوں کا تذکرہ کر رہے ہیں اس کے اخلاص میں کوئی شبہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس سے بڑھ کر خیر خواہ کوئی ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس سے بہتر حل کوئی بتا سکتا ہے۔ اس سے ان کے دل کی دنیا پرسکون ہوجاتی ہوگی ۔ بر خلاف آج کے دور کے، کہ انسان اپنی پریشانی اگر کسی سے کہتا بھی ہے تو ہزار مرتبہ یہ سوچتا ہے کہ کہے نہ کہے۔ نتائج پر سو بار غور کرتا ہے۔ پھر کہنے کے بعد بھی کئی طرح کے خیالات پریشان کرتے ہیں۔ اس پر بھی شرح صدر نہیں ہوتا کہ مشورہ دینے والے نے درست مشورہ دیا یا نہیں۔

    ان خیالات کے دل میں آنے کے بعد میں سوچتی ہوں کہ اللہ نے ہمارے ساتھ ناانصافی تو یقینا نہیں کی کہ ہمیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے محروم رکھا۔ اس نے اسی لیے انﷺ کی سیرت کو ہمارے لیے نمونہ بنا کر محفوظ کردیا۔ تا کہ آئندہ آنے والے جو لوگ اس کے حبیبﷺ سے محبت کریں گے، اس کی اتباع کرنا چاہیں گے ان کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسا سکون و اطمینان نصیب ہوگا۔ بس کمی ہمارے ایمان میں ہوتی ہے۔ ہم اپنے ہر مسئلے کے لیے سیرت نبویﷺ سے رجوع کرنے کے عادی نہیں۔ جب ہمارا یقین و ایمان اللہ کے وعدوں پر پختہ ہوگا تو ہمارے دلوں کو بھی سکون و اطمینان مل سکے گا۔

    اللہ تعالیٰ مجھ سمیت تمام لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت اور سچی اتباع نصیب فرمائے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جیسا شرح صدر عطا فرمائے۔ اللہ ہمارا حشر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صالحین کے ساتھ فرمائے۔ آمین۔


    ھذا ماعندی والعلم عند اللہ
    تحریر: عفراء
     
    • اعلی اعلی x 7
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,106
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک۔ بہت ہی خوب!
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,584
    درست فرمایا سسٹر۔ یقینا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔ کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئ۔ اور پھر اللہ تعالی تو کسی کے ساتھ بھی ناانصافی نہیں فرماتا۔ انہیں آپ کی صحبت نصیب ہوئ اور ہمیں ان کی سنت کی شکل میں ہر قسم کی رہنمائ حاصل ہو گئ۔
    جتنا مضبوط ہمارا رشتہ اپنے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ہوگا۔ ہماری زندگیوں اتنا ہی اطمینان و سکون ہوگا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  4. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    آمین۔ بہت خوبصورت نتیجہ نکالا ہے۔ جزاک اللہ خیرا۔
    مذکورہ دعا کے بارے میں امام ابن القیم نے بہت اچھی تفسیر لکھی ہے جو کہ اتفاق سے میں نے چند دن قبل ہی پڑھی۔

    قلب کی کمزوری آٹھ صفات پہ جا کر منتہی ہوتی ہے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگا کرتے تھے، اور وہ یہ ہیں:
    اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں، فکر اور غم سے، اور ناتوانی اور سستی سے، اور بزدلی اور بخل سے، اور قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے غلبے سے۔
    ان آٹھ میں سے ہر دو چیزیں قریب المعنی ہیں۔ ھم (غم، دکھ) اور حزن قریب المعنی ہیں۔ رنج و غم جو قلب پر وارد ہوتا ہے، مستقبل کی متوقع مصیبت سے متعلق ہے تو وہ ھم ہے اور اگرماضی کی وجہ سے ہے تو حزن۔ عجز و کسل قریب المعنی ہیں۔ بندہ بوجہ عدم قدرت کے اسباب خیر و فلاح سے محروم ہے تو یہ عجز ہے اور ارادے کی کمزوری کی وجہ سے محروم ہے تو یہ کسل ہے۔ جبن اور بخل قریب المعنی ہیں۔ اگر بندہ جسم و بدن اور قلب کی کاہلی کی وجہ سے انتفاع سے محروم ہے تو جبن ہے، اگر حب مال کی وجہ سے اس کے انتفاع سے محروم ہے تو یہ بخل ہے۔ ضلع الدین اور قھر (غلبۃ ) الرجال قریب المعنی ہیں۔ کسی حق کی بناء پر دوسرا اس پر غالب آجائے تو یہ ضلع الدین ہے اور اگر باطل طریقے پر دوسرا اس پر غالب آجائے تو وہ قھر (غلبۃ) الرجال ہے۔
    مقصود یہ ہے کہ گناہ ان آٹھ چیزوں کے جلب کرنے کے قوی ترین اسباب میں ہیں۔

    -دوائے شافی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 7
    • مفید مفید x 1
  5. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,214
    بہترین شئیرنگ
    بہت ہی اچھے پوائنٹس ہیں ماشاء اللہ
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالی بندوں پر نہایت ہی مہربان ہے۔
    میں صرف ایک آیت کریمہ پر اکتفاء کرتا ہوں۔
    یونس علیہ السلام کے بارے میں اللہ جل جلالہ فرماتے ہیں:
    وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ (87) فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ (88) الانبیاء
    اس آیت میں اللہ تعالی نے وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ کا ذکر کرکے ہمارے لیے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ مصیبتوں میں ایمان والے بھی مبتلا ہوتے ہیں اور جسطرح اس برگزیدہ پیغبر کی دعا کو قبول کیا گیا اور ان کو غم سے نجات دی گئی اسی طرح مومنین کو بھی اس لیے ہمیں بھی اللہ تعالی کی پاکیزگی بیان کرنی چاہیے اور اپنے گناہوں کا قرار کرنا چاہیے۔
     
    Last edited: ‏دسمبر 21, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    11,359
    جزاکم اللہ خیرا

    بہت عمدہ تحریر اور تبصرے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  7. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,167
    جزاک اللہ خیرا
    بہت خوب بارک اللہ فیک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,351
    بہت خوب ۔ جزاک اللہ خیرا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,106
    بہت اچھی تحریر ہے عفراء ، اور مریم کے انتخاب نے چار چاند لگا دیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,738
    اس تحریر کا مقصد صرف اپنے خیالات شئیر کرنا تھا کہ یہ حدیث مبارکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، اتباع اور معیت کی خواہش اور جذبے کو تازہ کر دیتی ہے۔ اور غمگین دلوں کو سکون بخشتی ہے۔
    یہ خالصتا میرے اپنے الفاظ، خیالات اور جذبات ہیں۔

    لیکن افسوس کہ یہاں بھی کچھ لوگ سرقہ بازی سے خود کو بچا نہ سکے۔ کچھ لوگوں نے فیس بک پر نہ صرف یہ کہ بغیر حوالے کے شئیر کر دیا بلکہ ستم ظریفی دیکھیے کہ تذکیر و تانیث ہی بدل دی۔ جہاں میں نے لکھا "میں سوچتی ہوں" وہاں "میں سوچتا ہوں"۔ اسی طرح پوری تحریر۔
    ایک خیانت حوالہ نہ دینے کی، دوسری خیانت تحریر کو تبدیل کرنے کی اور تیسرا جھوٹ! اللہ المستعان!
    گویا تحریر شئیر کرنے والے نے خود لکھی ہو یا اگر خود نہ لکھی ہو تو بھی کسی 'حضرت' نے ہی لکھی ہو۔ خواتین کا کیا کام۔ مردوں کا تعصب تو دیکھتے رہتے ہیں یہ ایک تازہ مثال بھی دیکھ لی۔

    قطع نظر اس بات کے کہ شئیر کس نے کیا ، کس مقصد سے کیا، یا فوائد و نقصانات کی بحث وغیرہ ۔۔۔۔۔۔میں اتنا جانتی ہوں کہ میرے نبی علیہ الصلوۃ والسلام جو شریعت لے کر آئے اس میں خیانت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
    اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت اور سچی اتباع نصیب فرمائے۔
    تحریر: فقیرہ الی اللہ، عفراء​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • متفق متفق x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں