ڈاکٹر غلام جیلانی برق اور جاوید چوہدری کا آدھا سچ

سوئےمقتل نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏اپریل 29, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سوئےمقتل

    سوئےمقتل -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏فروری 28, 2015
    پیغامات:
    83
    ڈاکٹر غلام جیلانی برق اور جاوید چوہدری کا آدھا سچ

    ڈاکٹر غلام جیلانی برق ایک بہت بڑے مفکر تھے اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ انہوں نے مستشرقین کی کتب سے استفادہ کرنے میں صرف کیا جس کاحاصل صرف اور صرف مایوسی ، پریشانی اور احساس کمتری تھی ۔ انہوں نے اپنی کتابیں دراصل معتزلہ کی سوچ کو نیا ورژن دیا جب کہ دلائل وہی پرانے گھسے پٹے جن کے جواب صدیوں سے علماء حقہ دیتے آئے تھے ۔برصغیر میں سرسید نے انکار حدیث کا بیج بویا جس کو تناور درخت بننے کے لیے فراہی ، جیراج پوری ، پرویز اور عمر کریم پٹنوی جیسے لوگوں کی تحریروں نے نشوونما دی ۔
    لیکن ایک خیر جو برق کے اندر تھی وہ تقلید کی عینک کو اتارنا اور تحقیق کا شوق و جذبہ رکھنا اور یہی وجہ تھی جب علماء اسلام نے ان کی شہرہ آفاق کتاب " دو اسلام " کا جواب لکھا تو انہوں نے ان جوابات کا مطالعہ تحقیقی نظر سے کیا نہ کہ تنقیدی اور جواب الجواب کی نیت سے ۔ ا
    س کتاب کا جواب ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے لکھا جن میں مولانا سرفرازخان صفدر ؒ ، حافظ محمد گوندلووی ؒ ، عبدالرحمان مبارکپوری ؒ اور جناب مسعود احمد بی ایس سی صاحب کا نام سرفہرست ہے ۔
    " تفہیم الاسلام " محترم مسعود احمد بی ایس سی ؒ کی ایسی کتاب تھی جس کو پڑھنے کے بعد غلام جیلانی برق صاحب خظ لکھنے پہ مجبور ہوئے اور انہوں نے شکریہ ادا کیا اور اس کے بعد انہوں تدوین حدیث کے نام سے حدیث کی عظمت مین کتاب لکھی جو ان کے حق کے متلاشی ہونے کی نشاندہی کرتی ہے ۔اور میں یقین سے کہ سکتا ہون کہ آج کے دور کے عقل پرستوں جیسے غامدی صاحب یا ہمارے فیس بک کے قاری حنیف ڈار صاحب کی تحریریں صرف لفاظی پہ مبنی ہوتی ہیں اور ان میں کوئی بھی اپنے دعویٰ انکار حدیث میں اس طرھ دلائل نہیں دیتا جس طرح غلام جیلانی برق نے دیا تھا ۔

    محترم جاوید چوہدری کے اندر ایک فرقہ پرست شخص موجود ہے جس کا اظہار وہ سال میں ایک دو ایسے کالم لکھ کے کرتے رہتے ہیں جس سے عام مسلمان کی سوچ کو کم ازکم حدیث کے خلاف ضرور کیا جائے ۔پچھلے دنوں میں سنگساری پہ کالم لکھ مارا جب کہ یہاں کہیں بھی سنگساری کا مسئلہ ڈسکس ہی نہیں ہورہا تھا ۔ اب بھی انہوں نے یہی کوشش کی اور ڈاکٹر غلام جیلانی برق صاحب کو ایک حربے کے طور پہ استعمال کیا اور ان کی آخری زندگی کو حذف ہی کردیا ۔ مجھے ان کے اس انداز بیان سے خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ کسی دن یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کے خلاف دور کے کسی قول کو دلیل بنا کے ہی نہ لکھ دیں اور اسلام کو ہی مشکوک نہ بنادیں بہرحال اللہ ہمیں اس طرح کے صحافیوں کے شر سے بچائے ۔ بہرحال چوہدری صاحب کے کالم کا جواب جو محترم اوریا مقبول جان نے لکھا وہ بھی پڑھنے کے لائق ہے ۔ دونوں کالموں کا لنک موجود ہے نیچے ۔
    جاوید چوہدری کے کالم کا لنک
    http://www.awaztoday.tv/…/22627/Javed-Chaudhry/Du-Islam.aspx
    ...
    اوریا صاحب کے کالم کا لنک
    http://www.awaztoday.tv/…/Eshaq-Na-Hu-Tu-Shara-O-Deen-Botka…
    سوئے مقتل
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,972
    دو اہم باتیں.
    ۱- برق صاحب نے اپنی کتب میں بھی رجوع کا تذکرہ کیا اور وہ خط بھی اس پر شاہد ہے
    ۲- مسعود بی ایس سی نے جب وہ کتاب لکھی تو وہ اہل حدیث تھا. اور اس کے قلم کا شہکار تھی . مگر مقلب القلوب جب دلوں کو پھیرتا ہے. برق تو ہدایت پا گیا مگر بعد ازاں مسعود بی ایس سی گمراہ ہو گیا. اور اس کتاب میں بھی تبدیلی ہو گئی جس کو پڑھ کر برق صاحب اہل حدیث ہوئے.
     
  3. سوئےمقتل

    سوئےمقتل -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏فروری 28, 2015
    پیغامات:
    83
    کیا بی ایس سی صاحب اس وقت اہل حدیث تھے.
     
  4. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,379
    برق مرحوم آخری عمر میں آدھا نہیں پورا سچ بولنے لگے تھے.میرا خیال ہے وہ توبہ تائب ہو گئے تھے.
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں