کیا جزء رفع الیدین اور جزء القراءة امام بخاری رح کی کتاب نہیں ہے؟ ایک اعتراض اور اس کا جائزہ

عدیل سلفی نے 'اسلامی کتب' میں ‏مارچ 23, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عدیل سلفی

    عدیل سلفی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2014
    پیغامات:
    27
    امام بیہقی ؒ المتوفی (٤٥٨ھ) لکھتے ہیں:
    وقرأت في كتاب القراءة خلف الامام تصنيف البخاري
    (كتاب القراءة:ص٦٩)

    "کہ میں نے کتاب القراءت خلف الامام جو امام بخاری ؒ کی تصنیف ہے میں پڑھا ہے"
    ایک جگہ لکھتے ہیں:
    وقال البخاري فی کتاب القراءة خلف الامام
    (كتاب القراءة:ص١١)
    کہ امام بخاری ؒ نے کتاب القراءت خلف الامام میں فرمایا ہے اور یہی بات انھوں نے بتکرار کہی ہے ملاحظہ ہو (ص٣٧۔٤٤۔٤٩۔٥٤۔٦٢) وغیرہ

    امام بیہقی سے پہلے محمود بن اسحاق سے یہ کتاب روایت کرنے والے امام محمد بن احمد بن محمد الملاحمی (متوفی ٣٩٥ھ) کے بارے میں حافظ ذہبی ؒ نے لکھا ہے:
    حدث نیساپور و بغداد بکتاب رفع الیدین و القراءة خلف الامام عن محمود بن اسحاق
    (السیر ج ١٧ ص ٨٦۔٨٧)
    کہ امام محدث الملاحمی نے نیساپور اور بغداد میں محمود بن اسحاق سے کتاب القراءت اور کتاب رفع الیدین کا درس دیا۔ یہی کچھ انھوں نے تاریخ اسلام میں ٣٩٥ھ کے ایام میں ص ٣١٩ میں ذکر کیا ہے بلکہ ان سے قبل خطیب ؒ نے یہی کچھ تاریخ بغداد (ج ١ص٣٥٠) میں علامہ السمعانی ؒ نے الانساب (ج ٥ ص٤٣٢) میں نقل کی ہے غور فرمائیے امام ملاحمی ؒ ان دونوں کا درس بغداد اور نیساپور میں دیتے تھے۔ کوئی نہیں کہتا کہ یہ تو ان کی کتابیں ہی نہیں۔

    امام ملاحمی ؒ سے اس کتاب کا سماع اور روایت کرنے والوں میں عبدالکریم بن علی ابوتمام الہاشمی ہیں جو خطیب بغداد کے استاد ہیں خطیب فرماتے:
    سمعنا منه كتاب القراءة خلف الامام تصنيف البخاري
    (تاريخ بغداد ج ١١ ص ٨٠)

    کہ ہم نے ان عبدالکریم ابوتمام سے امام بخاری ؒ کی تصنیف کتاب القراءت خلف الامام کا سماع کیا ہے۔ عبدالکریم کے بھائی کا نام عبدالصمد بن علی اور کنیت ابوالغنائم ہے۔ وہ بھی امام الملاحمی ؒ سے اس کتاب کے راوی ہیں اور انہی کے واسطے سے اس کتاب کی سند حافظ ابن حجر ؒ تک پہنچی اور انھوں نے اس کی روایات ذکر کی ہیں ملاحظہ ہو (نتائج الافکار ج ٢ ص ١٨) اور (فتح الباری ٢ ص ١١٩۔٢٢٧۔٢٢٨۔٢٢٩۔٢٤٢۔٢٦٩) اسی طرح موافقہ الخبر (ج ١ ص ٤١٧۔٤٢١) علامہ ابن جوزی ؒ نے بھی اسی عبدالصمد ابو الغنائم کے واسطہ سے جزء القراءة سے روایت لی ہے ملاحظہ ہو التحقیق (ج ١ ص ٣٦٧) نیز اس کے ساتھ تنقیح احادیث التعلیق لا بن عبد الہادی ؒ (ج ١ ص ٣٧٨) و تنقیح التحقیق للذہبی ؒ (ج ١ ص ١٥٥) بھی ملاحظہ فرمالیں۔

    علامہ زیلعی ؒ نے تو اسی جزء القراءة کی اہمیت کی بنا پر نصب الرایہ (ج ٢ ص ١٩۔٢٠۔٢١) میں اسکی تلخیص پیش کردی مگر پندرہویں صدی کے لوگ اسے امام بخاری ؒ کا رسالہ تسلیم کرنے میں ہی مترد ہیں۔ علامہ عینی ؒ بھی اسے امام بخاری ؒ کی کتاب قرار دیتے ہیں عمدہ القاری (ج ٦ ص ١٤) علامہ المزی ؒ نے تہذیب الکمال کے مقدمہ (ج ١ ص ٦٢) میں اسے امام بخاری ؒ کی کتاب قرار دیا اور جابجا اس کی روایات کو بھی ذکر کیا۔ امام ابن عدی ؒ (المتوفی ٣٦٥) نے الکامل (ج ٤ ص ١٤٣٧) میں امام بخاری ؒ کی سند سے حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنعہ کا اثر نقل کیا ہے کہ ان سے قراءت خلف الامام کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا: ہاں سورہ فاتحہ پڑھی جائے۔ جسے جزء القراءة (ص٨) میں دیکھا جاسکتا ہے۔ محمود بن اسحاق ٣٣٢ھ میں فوت ہوئے جبکہ امام ابن عدی ؒ ٢٧٧ھ میں پیدا ہوئے جس سے بظاہر یہی ثابت ہوتا ہے کہ امام ابن عدی ؒ نے بخاری کے جزء القراءة کا سماع بواسطہ محمود بن اسحاق ہی کیا ہے۔ امام ابن عدی ؒ اور الملاحمی کے علاوہ حافظ ابو العباس احمد بن محمد بن الحسین بھی محمود کے شاگرد رشید ہیں جیسا کہ التذکرہ (ج ٣ ص ١٠٧٩) اور الارشاد الخلیلی (ج ٣ ص ٩٧٤) میں مذکور ہے۔ اس لئے محمود بن اسحاق کو مجہول کہنا بہر نوع غلط ہے۔ امام ابن عدی ؒ امام بیہقی ؒ اور دیگر تمام متاخرین کا جزء القراءة کی روایات پر اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ محمود بن اسحاق ناقابل اعتماد نہیں۔ علامہ ذہبی ؒ نے تاریخ الاسلام (ص ٨٣) میں ٣٣٢ھ کے احوال میں محمود کا تذکرہ کیا ہے اور فرمایا ہے:

    سمع محمد بن اسماعیل البخاري و محمد بن الحسن بن جعفر صاحب یزید بن ھارون و حدث و عمر دھرا الخ۔
    کہ اس نے امام بخاری ؒ اور امام یزید بن ہارون کے شاگرد محمد بن الحسن بن جعفر سے سماع کیا ہے احادیث بیان کی ہیں اور لمبی عمر پائی ہے۔ حافظ الخلیلی ؒ نے اسی محمد بن الحسن کے ترجمہ میں لکھا :

    آخر من روي عنه محمود بن اسحاق القواس البخاري و محمود ه‍ذا آخر من روي عن محمد بن اسماعيل أجزاء بخاري الخ
    (الارشاد ج ٣ ص ٩٦٨)

    ان سب سے آخر میں محمود بن اسحاق القواس بخاری روایت کرتے ہیں اور یہی محمود ہے جس نے بخاری میں سب سے آخر میں امام بخاری ؒ سے اجزاء جزء رفع الیدین جزء القراءة کی روایت کی ہے۔ یاد رہے کہ حافظ خلیلی امام محمد بن احمد الملاحمی کے شاگرد ہیں اور انہی کے واسطہ محمود بن اسحاق سے امام صالح زرہ کی منقبت میں ایک واقعہ بیان کرتے ہیں (الارشاد ج ٣ ص ٩٦٧) ظاہر ہے کہ امام الملاحمی سے انھوں نے جزء القراءة کا بھی سماع کیا ہوگا جیسا محمود بن اسحاق کے بارے میں انھوں نے جزء القراءة کا راوی ہونا ذکر کیا ہے۔

    اب انصاف شرط ہے کہ امام ابن عدی ؒ امام بیہقی ؒ خطیب بغدادی ؒ حافظ خلیلی ؒ علامہ ابن جوزی ؒ علامہ ابن عبدالہادی ؒ علامہ سمعانی ؒ علامہ المزی ؒ حافظ ذہبی ؒ علامہ زیلعی ؒ علامہ عینی ؒ علامہ ابن قیم ؒ علامہ ابن الملقن ؒ علامہ ابن رجب ؒ (شرح علل للترمذی ج ٢ ص ٨٧٩) حافظ ابن حجر ؒ اور دیگر متاخرین کتاب القراءة پر اعتماد کریں اس سے روایات اور اقوال نقل کریں بلکہ حافظ ابن حجر ؒ محمود بن اسحاق کے واسطہ سے روایات ذکر کر کے اسے حسن قرار دیں مگر اس کے باوجود کتاب القراءة امام بخاری ؒ کی کتاب قرار نہ پائے تو ایسی جسارت کو ہم کیا نام دیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    339
    جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. عدیل سلفی

    عدیل سلفی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2014
    پیغامات:
    27

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں