کیا سورہ اخلاص معوذات میں سے ہے ؟

مقبول احمد سلفی نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏دسمبر 6, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    181
    کیا سورہ اخلاص معوذات میں سے ہے ؟
    مقبول احمدسلفی
    داعی /دفترتعاونی برائے دعوت وارشاد –شمال طائف(مسرہ) سعودی عرب

    سورہ اخلاص کی بہت فضیلت آئی ہے ، ان ہی میں سے ہے کہ ایک صحابی رسول نماز کی ہررکعت میں اس سورت کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :
    أنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم بعَث رجلًا على سَرِيَّةٍ، وكان يَقرأُ لأصحابِه في صلاتِه فيَختِمُ بـ : {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ } . فلمَّا رجَعوا ذكَروا ذلك للنبيِِّّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم فقال : ( سَلوهُ لِأَيِّ شيءٍ يَصنَعُ ذلك ) . فسَألوه فقال : لأنها صِفَةُ الرحمنِ، وأنا أُحِبُّ أن أقرَأَ بها، فقال النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم : ( أخبِروه أنَّ اللهَ يُحِبُّه ) .(صحيح البخاري:7375)
    ترجمہ: نبیﷺنے ایک لشکر کو کہیں بھیجا جس وقت وہ پلٹے تو انہوں نے آپ ﷺ سے کہا کہ آپ نے ہم پر جسے سردار بنایا تھا وہ ہر نماز کی قرات کے خاتمہ پر سورۃ قل ھواللہ پڑھا کرتے تھے، آپ نے فرمایا ان سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟ پوچھنے پر انہوں نے کہا یہ سورۃ اللہ کی صفت ہے مجھے اس کا پڑھنا بہت ہی پسند ہے، حضور ﷺ نے فرمایا انہیں خبر دو کہ اللہ بھی اس سے محبت رکھتا ہے۔

    اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس سورت میں اللہ کی صفت کا ذکرہے ، اس کا مفہوم مخالف یہ ہواکہ اس میں تعوذواستعاذہ نہیں ہے ۔تعوذ یا استعاذہ کا مطلب ہوتا ہے کسی شر سے اللہ کی پناہ مانگنا جیساکہ اللہ کا فرمان ہے :
    وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ(الاعراف: 200)
    ترجمہ: اور اگر تمہیں کوئی شیطانی وسوسہ لاحق ہونے لگے تو اللہ کی پناہ مانگو بے شک وہ خوب سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔
    گویا یہ سورت معوذات میں شامل نہیں ہے بلکہ صفات رحمن پر مشتمل ہے ۔
    بعض احادیث میں معوذات جمع کا لفظ آیا ہے اور وہاں معوذات میں سورہ اخلاص بھی داخل ہے ۔ مثلا
    ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
    أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ كان إذا أخذ مضجعَه نفثَ في يدَيه، وقرأ بالمعوِّذاتِ، ومسح بهما جسدَه .(صحيح البخاري:6319)
    ترجمہ: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹتے تو اپنے ہاتھوں پر پھونکتے اور معوذات پڑھتے اوردونوں ہاتھ اپنے جسم پر پھیر تے۔
    یہ متفقہ بات ہے کہ یہاں اس حدیث میں معوذات میں سورہ اخلاص بھی داخل ہے جیساکہ بخاری شریف کی دوسری روایت ہے ۔
    ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
    أنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ كان إذا أوى إلى فراشِه كلَّ ليلةٍ، جمع كفَّيه ثم نفث فيهما، فقرأ فيهما : {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ } . و{ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ } . و{ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ } . ثم يمسحُ بهما ما استطاعَ من جسدِه، يبدأُ بهما على رأسِه ووجهِه، وما أقبل من جسدِه، يفعل ذلك ثلاثَ مراتٍ .(صحيح البخاري:5017)
    ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب بستر پر آرام فرماتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر قل ھو اللہ احد ، قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ( تینوں سورتیں مکمل ) پڑھ کر ان پرپھونکتے اور پھر دونوں ہتھیلیوں کو جہا ں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے ۔ پہلے سر اور چہرہ پر ہاتھ پھیرتے اور سامنے کے بدن پر ۔ یہ عمل آپ تین دفعہ کرتے تھے ۔

    جب ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ سورہ اخلاص میں اللہ کی صفات کا ذکر ہے تو پھر یہاں معوذات کے ضمن میں کیوں ذکر کیا گیا ہے ؟یہ ایک سوال ذہن میں ابھرکرآتاہے ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ تعوذوالی سورتیں دوہی ہیں اس لئے انہیں معوذتین (تثنیہ کے ساتھ ) یعنی دو تعوذ والی سورتیں کہاجاتاہے ۔معوذات کے ضمن میں جو سورہ اخلاص کو ذکرکیاگیا ہے وہ عربی کے قاعدہ تغلیب کے تحت ہے اور یہ عربی زبان واسلوب میں بہت معروف ہے جیساکہ شمس وقمر کو تغلیب کے طور پر کبھی شمسین تو کبھی قمرین کہاجاتاہے ۔

    اس بات کی بالکل واضح اور صریح دلیل کہ سورہ اخلاص معوذات میں سے نہیں ہے بخاری شریف کی یہ حدیث ہے ۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :
    كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم إذا أوى إلى فراشِهِ، نَفَثَ في كَفَّيْهِ ب {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} ووبالمُعَوِّذَتَينِ جَميعًا، ثم يَمسَحُ بهِما وجْهَهُ، وما بَلَغَتْ يَداهُ من جَسَدِهِ، قالت عائشَةُ : فلمَّا اشتَكَى كان يأمُرُني أنْ أفعَلَ ذلكَ بِهِ . قال يونُسُ : كُنتُ أرَى ابنَ شِهابٍ يَصنَعُ ذلك إذا أتَى إلى فِراشِهِ .(صحيح البخاري:5748)
    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آرام فرمانے کے لیے لیٹتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں پر ” قل ھو اللہ احد “ اورمعوذتین یعنی ” قل اعوذ برب الناس اور الفلق “ سے پڑھ کر دم کرتے پھر دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرہ پر اور جسم کے جس حصہ تک ہاتھ پہنچ پاتا پھیر تے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر جب آپ بیمار ہوتے تو آپ مجھے اسی طرح کرنے کا حکم دیتے تھے ۔ یونس نے بیان کیا کہ میں نے ابن شہاب کو بھی دیکھا کہ وہ جب اپنے بستر پر لیٹتے اسی طرح ان کو پڑھ کر دم کیا کرتے تھے ۔
    اس حدیث میں معوذتین یعنی سورہ فلق اور سورہ ناس کو الگ سے ذکر کیا گیاہے اور سورہ اخلاص کو الگ جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سورہ اخلاص معوذات میں سے نہیں ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,133
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    181
    وایاک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    23,977
    جزاک اللہ خیرا۔ یہاں جس کو بھی اذکار میں معوذتین بتائیں وہ چار قل کا تذکرہ شروع کر دیتا ہے۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    375
    میری خود کی بھی غلط فہمی تھی. ایک عرصے تک یہی سمجھتا رہا اسکے بعد کسی نے رہنمائ کی.
    جزاکم اللہ خیرا محترم شیخ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  6. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    181
    وایاک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    11,279
    جزاک اللہ خیرا شیخ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں