گوشت خوری انسانیت کے لئے عین فطرت ہے ۔

مقبول احمد سلفی نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏اپریل 21, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    377
    گوشت خوری انسانیت کے لئے عین فطرت ہے ۔
    مقبول احمد سلفی

    ہندوستان میں گئوکشی یا کھانے کے لئے جانور کا ذبح کرنا ایک بڑا مسئلہ بنا ہواہے ۔ یہ مسئلہ چند سالوں سے ہے ، قدیم تاریخ میں یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا ۔ مسلم وغیرمسلم بغیر کسی تفریق کے جانور کا گوشت کھاتے رہےبلکہ اندازہ لگایا جائے تو ہمیشہ سے ہندو قوم کے یہاں وافرمقدار میں گوشت کھانے اور کثیر تعداد میں جانور وں کی بلی( قربانی )دینے کا تصورپایا جاتا ہے ۔ زمانے کا سب سے بھروسے مند ذریعہ رسرچ،علوم سائنس کے علم طب نے کبھی گوشت خوری کو صحت کے لئے مضر نہیں قرار دیا ، بعض خاص قسم کے مریضوں کو بعض خاص خالات میں ہی صرف منع کیا جاتا ہے ، عام طور سے گوشت خوری انسان کے لئے طاقت وقوت،صحت و تندرستی، مفید وذائقہ دار اور جسم کے لئے غذائیت سے بھرپور مختلف ضروری عناصر کی تکمیل کا اہم ترین وسیلہ قرار دیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کھانے پینے میں ساگ سبزیوں کی طرح عمدہ سے عمدہ گوشت کا اہتمام کرتا ہے بلکہ انسانی طبیعت سبزی خوری سے زیادہ گوشت خوری کی طرف مائل ہے بطور خاص اہم مواقع اور مناسبات سے ۔ کوئی فنکشن ہو،کسی کے یہاں شادی ہو، عام سے عام پارٹی یا اخص الخاص تقریب ہو لازما گوشت کا اہتمام کیا جاتا ہے ، دعوت کی کامیابی اور لوگوں کی پسندیدگی کا مرکزاصیل گوشت ہی قرار پاتا ہے ۔

    ہندو مذہب اصلا کوئی دین ہی نہیں ہے ۔ یہ شیطانی خواہشات ، من مانی افکار ونظریات ، گھڑے ہوئے عقائد وخیالات ، فسفسے فلسفہ حیات اور مصنوعی معبودات و مصنوعی طریقہ عبادات واحکام کا مجموعہ ہے ۔ ہندو مذہب میں معبودوں کے غلط تصورات ونظریات اور عجیب وغریب قصے کہانیاں یا کہہ لیں ہزاروں ،لاکھوں اورکروڑوں بھگوان کاڈرامائی تصورہی اس کے بطلان کا واضح ثبوت ہے ۔ ایسے دین ودھرم والوں میں کچھ لوگ گوشت خوری کا بائیکاٹ کرے اور جانور کے ذبح کو انسان کے قتل کے برابر سنگین جرم قرار دے کوئی حیرت واستعجاب کی بات نہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ لاکھوں میں کوئی ایک فطرتا گوشت کھانا پسند نہیں کرتا جیسے کہ کوئی بعض قسم کا گوشت کھاتا ہے اور بعض قسم کا نہیں۔ سبزی خوروں کا بھی وہی معاملہ ہے کچھ لوگ بعض سبزیاں پسند کرتے ہیں اور بعض سبزیاں نہیں پسند کرتے اور نہیں کھاتے ہیں ،تو جو سبزی بعض لوگ نہیں پسند کرتے یا نہیں کھاتے ان سبزیوں سے کھانے والوں کو روکنا نرابے وقوفی ہے ۔ ایسے لوگوں کا کوئی خاص مذہب یا سماج نہیں ہے بلکہ ہرسماج اور ہرقوم میں موجود ہیں ۔جیسے مسلمانوں میں اس طبیعت کے حامل کچھ لوگ رہے ہندؤں میں بھی ایسے کچھ لوگ ہمیشہ سے رہے لیکن ہندؤں کے ان چند نادانوں نے اس فطری طبیعت کو مذہبی معاملہ کہہ کا پکارنا شروع کردیا اور زیادہ تقوی دکھانے کے لئے اپنی قوم کے سامنے گوشت خوری سے پرہیزی اختیار کرکے خود کو ان لوگوں سے زیادہ دیندار ثابت کرنے کی کوشش کی جوجانوروں کا قتل کرتے ہیں اور اس کا گوشت کھاتے ہیں ۔ یہ معاملہ ہندو قوم میں اس قدر زیربحث آیا کہ گوشت خور اور سبزی خور کی دو الگ الگ جماعت بن گئیں جبکہ طبیعت کے اعتبار سے گوشت نہ کھانے والے چند افراد ہرقوم وسماج میں آج بھی موجود ہیں ،ان کے یہاں دوجماعتیں نہیں بنیں۔ مسلم قوم میں بھی ایسے کچھ لوگ ہیں جو فطرتا گوشت کھانا پسند نہیں کرتے بچپن سے سبزی کی طرف میلان رہا تو سبزی ہی کھانا اپنی عادت بنالیا مگر وہ نہ توگوشت سے گھن محسوس کرتے، نہ ہی خود کو گوشت کھانے والوں پر ترجیح دیتے اور نہ ہی اسے نہ کھائی جانے والی چیز تصور کرتے ہیں یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام نے گوشت خوری سے منع کیا ہے ۔ٹھیک یہی مسئلہ ہندو قوم کا بھی ہے مذہبی اعتبار سے اس کے یہاں بھی کسی کتاب میں گوشت خوری کی ممانعت نہیں آئی ہے ،محض بعض انسانی طبیعت کی ناپسندیدگی کا معاملہ ہے بس ، جس کو آج سیاسی سے زیادہ مذہبی بنالیا گیاجبکہ یہ سیاسی معاملہ ہے ،گوشت خوری کے نام پر گندی سیاست کھیلی جارہی ہے ۔ پوری کی پوری جہوریت اسلام مخالف ہے یہی حال جمہوری سیاست کا بھی ہے ۔ یہاں لوگ کرسی حاصل کرنے کے لئے کبھی بھی اور کچھ بھی کرسکتے ہیں مثلا انسان کا قتل ہو، عدل وانصاف کا گلا گھونٹنا ہو، دین ومذہب کو سیاست کی بھینٹ چڑھانی ہو اورجھوٹ وفریب تو اس سیاست کا اصل ہتھکنڈہ ہے ۔ ہندوستان میں ہندؤں کی اکثریت ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ مذہب کے نام پر آج ووٹ بنک کرنا زیادہ موثر ہوگیاہے ،اس لئے سیاستدانوں نے مذہبی امر کو سیاست کو مدعا بناکر اقتدار حاصل کی ۔ جیساکہ میں نے کہا ہندؤں نے گوشت وسبزی کے مسئلہ کو مذہبی بنادیا جبکہ فی الواقع ایسا نہیں تھا ،اس غیرمنصفانہ تقسیم کا فائدہ اٹھا کر ہندومت کے نام پر گندی سیاست کرنے والوں نے اپنے سماج کا ووٹ حاصل کرکے برسراقتدار آیا اور اب پورے ہندوستان میں گوشت خوری پر پابندی لگانے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ اسی بل پر کرسی حاصل کی تھی اور اپنے سماج سے اس کی پابندی کا وعدہ کیا تھا۔

    آج جب گوشت پر بطور خاص گائے کے ذبیحے پر حکومتی پابندی کی بات ہورہی ہےبلکہ لگ چکی ہے تو کچھ مسلمانوں کا بھی کہنا ہے کہ ملک کی سالمیت اور گنگاجمنی تہذیب کو برقرار رکھنے کےلئے گائے کے ذبیحے یا گائے کی قربانی سے مسلمانوں کو رک جانا چاہئے ۔ ذرا گوشت خوری کی تاریخ پہ غور کریں کہ بات کہاں سے اٹھی تھی اور کہاں پہنچ گئی ؟ ہندوستان میں گائے کی قربانی سے متعلق مولانا مودودی صاحب کا ایک فتوی میری نظر سے گزرا کہ جس ملک میں گائے کی پوجا نہ ہوتی ہو اور گائے کو معبودوں میں شامل نہ کیا گیا ہو اور اس کے تقدس کا بھی عقیدہ نہ پایا جاتا ہو وہاں تو گائے کی قربانی ایک جائز فعل ہے جس کو اگر نہ کیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن جہاں گائے معبود ہو اور تقدس کا مقام رکھتی ہو وہاں تو گائے کی قربانی کا حکم ہے جیساکہ بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا ۔اگر ایسے ملک میں کچھ مدت تک مسلمان مصلحتا گائے کی قربانی ترک کردیں اور گائے کا گوشت بھی نہ کھائیں تو یہ یقینی خطرہ ہے کہ اگر چل کر اپنی ہمسایہ قوموں کے گاؤ پرستانہ عقائد سے وہ متاثرہوجائیں گے اور گائے کے تقدس کا اثر ان کے قلوب میں اسی طرح بیٹھ جائے گا جس طرح مصر کی گاؤ پرست آبادی میں رہتے رہتے بنی اسرائیل کا حال ہواتھا۔ (رسائل ومسائل 1/136)

    کسی بھی جگہ صرف گائے کی قربانی کی تخصیص اسلامی حکم نہیں ہے مگر سید ابوالاعلی مودودی صاحب کے خدشات سے میں بہت حد تک اتفاق رکھتا ہوں۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ہندو گائے ذبح کرتے تھے ،کھاتے اور کھلاتے تھے اور اپنے خیالی دیوی دیوتاؤں کے لئے کثیر تعداد میں عمدہ سے عمدہ جانور کی بلی چڑھاتے تھے ۔ اس بات کا انکار کرنے کی کسی ہندو کو جرات نہیں ہوسکتی جس کی کتابوں میں گوشت خوری عبادت لکھی ہو اور جانوروں کی بلی چڑھانے کی عبادت کوعادت بنالیا ہو۔ یقینا اس وقت ہندؤں کے یہاں گائے معبود کے درجے میں ہے جسے کل تک کاٹ کر کھایاکرتے تھے ۔ ہندؤں کے یہاں گائے کو معبود سمجھنے کے پیچھے اس جانور کا فائدہ مند ہونا بتلایا جاتاہے کہ اس کا دودھ اور پیشاب پینے کے قابل اوراس کاگوبر لپائی کے قابل ہے ۔ عموما اسی وجہ سے ہندو خداؤں پر یقین کرتے ہیں ، جہاں کچھ فائدہ دیکھا اسے بھگوان سمجھ لیاجبکہ ان کے یہاں بھی اصلا ایک ہی خدا کا تصور ہے ۔ بے شک گائے مفید جانورہے اور اس کی نسل ختم ہونے سے انسانوں کا خسارہ ہے مگر اس کی حفاظت کے لئے گائے کو بھگوان سمجھ لینا ، اس کے ذبیحہ پر مکمل پابندی لگانا ، اس کا قتل انسان کا قتل اور مذہب مخالف قرار دینا بالکل غلط ہے ۔ اس وقت پوری دنیا میں مرغیوں کی بڑی تعداد ذبح کی جاتی ہے مگر کہیں کم نہیں ہوتی کیونکہ اسے پالنے کا ہرجگہ اور بڑے پیمانے پر انتظام کیا جاتا ہے ۔

    آج جہاں ملک سے قتل وغارت گری ، زنا، چوری، لوٹ مار، بے انصافی ، غریبی ، رشوت خوری،بے ایمانی اور گندی سیاست ختم کرنے کی ضرورت ہے وہیں حکومت ہند کے اولین فرائض میں یہ بات شامل ہونی چاہئے کہ تمام شہروں اور گاؤں دیہات میں بڑے پیمانے پر گائے فارم تیار کرے جہاں کثرت سے گائےتیار کئے جائیں اور جس طرح پہلے ہندو گائے کھایا کرتے تھے اسی طرح پھر سے ہندؤں میں بھی گائے خوری کا چلن عام کیا جائے، اسی میں عالمی بھائی چارہ، ملک گیر سالمیت اور گنگاجمنی تہذیب مضمر ہے ۔ میں جہاں عام مسلمانوں کو مخاطب کررہاہوں وہیں سیاسی مسلم لیڈرانوں کو بھی بطور خاص توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آج اسی طرح بات سمجھانے اور اسی طر ح حکومتی سطح پر منوانے کی ضرورت ہے نہ کہ گنگا جمنی کی رٹ لگاکر گائے نہ کھانے اور اس کی قربانی سے رکنے کی ضرورت ہے ۔ گائے کشی نہ مذہب مخالف ہے ، نہ انسانیت مخالف ہے اور نہ ہی طب وسائنس مخالف ہے تو پھر اس کے کھانے پر پابندی لگانا اور پابندی لگانے والوں کا ساتھ دینا اور پابندی کو پورے ملک میں بشمول غریب وامیر نافذ کرنا جہاں بکرے کاگوشت اور مچھلی کی قیمت عام ہندوستانیوں کے لئے بار گراں ہوملک کی ترقی وخوشحالی میں رکاوٹ، گنگا جمنی تہذیب کا تصادم اور عوام بالخصوص غریبوں کے لئے مشکلات کا سبب ہے ۔ مجھے عام ہندؤں سے کوئی گلہ نہیں ، جوگوشت نہیں کھاتےان سے بھی کوئی شکایت نہیں ۔مجھے تو اس آدمی سے بھی کوئی سروکار نہیں جوگائے کا پیشاب پیتے ہیں یا جو اس کا گوبر اپنے دماغ میں بھرتے ہیں ۔شکایت ان لوگوں سے جو جائز اور حلال چیز پرکھانے والوں کے لئے پابندی لگانے کی بات کرتے ہیں یا اپنی من مانی کو مذہب کا نام دیتے ہیں۔ ارے پابندی لگانا ہے تو شراب اور جوئے پر لگاؤ جو متفقہ طور پر خبیث چیز ہے اور جس سے انسانیت کا قتل اور حیوانیت کوفروغ مل رہاہے ۔ جسم فروشی کے اڈے بند کرو جس سے قوم ایڈس کا شکار ہوکر موت کے منہ میں جارہی ہے ۔ دہشت گردی کو لگام لگاؤ جس نے لاکھوں لوگوں کی زندگی تباہ کردی ۔ غربت وافلاس کا علاج کروکہ اس نے بہت سے معصوموں کو خودکشی پر مجبور کیااور بہت سے تواپنی زندگی جینا چاہ رہے تھے مگر افلاس کے قہر نے جان لے لی ۔ وائے افسوس کھائے جانے والے پاکیزہ جانور کے ذبح کرنے کو قتل کا نام دے دیاگیا اور جو اصل میں قاتل ، مہلک اور اسباب ہلاکت ہیں انہیں فیشن ، آرٹ اور ترقی کا درجہ دے گیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    11,355
    جزاک اللہ خیرا شیخ
     
  3. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    377
  4. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    339
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,373
    مفید .جزاک اللہ خیرا.
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں