انڈیا! غاصب اور پانی چور

m aslam oad نے 'متفرقات' میں ‏جون 7, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. m aslam oad

    m aslam oad نوآموز.

    شمولیت:
    ‏نومبر 14, 2008
    پیغامات:
    2,443
    ہندو بنئے نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ تو کر لیا یہ غاصبانہ قبضہ گزشتہ 63سال سے جاری ہے۔ اسے برقرار رکھنے کے لیے گزشتہ بیس سالوں میں ایک لاکھ نوجوانوں کو وہ شہید کر چکا ہے۔ دس ہزار سے زاید عورتوں کی آبروریزی کر چکا ہے۔ کھربوں روپے کی لکڑی اور باغات کے سیبوں کی چوری کر چکا ہے۔ اس غاصب اور چور نے امریکا کی معاونت سے ایک اور کام کیا اور وہ یہ تھا کہ!
    امریکا کے ایک ذیلی ادارے ورلڈ بینک کے تعاون سے سندھ طاس معاہدہ کروایا۔ یہ معاہدہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کروایا۔ میرے ایک دوست عبدالغفور صاحب نے مجھے جب توجہ دلائی اور کچھ حقائق سے آگاہ کیا تو میں حیرن رہ گیا کہ ہمارے ساتھ کتنا بڑا ظلم ہوا ہے، ظلم کرنے والا انڈیا تھا، کروانے والا امریکا تھا اور جس نادان شخص کے ہاتھوں کروایا گیا وہ فیلڈ مارشل ایوب خان تھا۔ ایوب خان اس فیلڈ میں بھی پاکستان کا نقصان کر گیا۔
    قارئین کرام! ذرا سوچیے، پنجاب کے پانچ دریا ہیں جن کے نام پر اس سرزمین کو پنجاب کہا جاتا ہے یعنی پانچ پانیوں کا علاقہ.... پانچ پانی یا پانچ دریا یہ ہیں (1)ستلج (2)بیاس (3)راوی (4)جہلم (5)چناب۔ ظلم یہ ہے کہ پہلے تین دریا ایوب خان نے امریکا کے کہنے پر انڈیا کو بیچ دیے۔ پیچھے رہ گئے دو، جہلم اور چناب، اس حوالے سے پنجاب اب پنج آب نہ رہا یہ تو ”دوآب“ بن گیا۔
    ظلم یہ ہوا کہ ان دوآبوں یا دو دریاﺅں پر بھی انڈیا نے ساٹھ کے قریب ڈیم بنا ڈالے ہیں اور مزید ایک سو دس تک ڈیم بنانے کا اس کا پروگرام ہے۔ اس نے بڑے ڈیموں سے قبل چھوٹے چھوٹے ڈیم بڑی تعداد میں بنائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ چھوٹے ڈیم اس ریت اور مٹی کو روک لیتے ہیں جو دریا اپنے ساتھ بہا کر لاتے ہیں۔ یوں بڑے ڈیموں میں صاف شفاف پانی جاتا ہے اور پھر ان کی عمر میں بے حد اضافہ ہو جاتا ہے۔
    ہمارے ہاں اس میدن میں بھی الٹا کام ہوا، پاکستان میں ورلڈ بینک نے دو بڑے ڈیم تربیلا اور منگلا تو بنوا دیے مگر ہم نے ان کے اوپر چھوٹے ڈیم نہ بنائے جس کی وجہ سے یہ دونوں ڈیم اب مٹی اور ریت سے بھر رہے ہیں۔ ان کی عمر تیزی سے کم ہو رہی ہے.... سوال پیدا ہوتا ہے اگر پانی جمع کرنے کی گنجائش ان ڈیموں میں اسی طرح کم ہوتی چلی گئی تو پاکستان کا کیا بنے گا....؟ اس کا ایک علاج تو یہ تھا کہ ہم کالا باغ ڈیم بنا لیتے تو اس میں تربیلا سے نکلنے والا شفاف پانی آتا، یوں ہم ایک بڑے بحران کا شکار نہ ہوتے جس کا اب ہو رہے ہیں مگر کیا کیا جائے کہ ہمارے سارے بحرانوں کا ذمہ دار انڈیا اور امریکا ہے.... اور ان دونوں سے بڑھ کر ہمارے نادان اور لالچی حکمران ہیں.... جو کبھی پیسے لے کر اپنے دریا بیچتے ہیں اور کبھی پیسے لے کر اپنے قومی مفادات کے خلاف کام کرتے ہیں.... معروف صحافی خاتون بشریٰ رحمن صاحبہ نے انکشاف کیا کہ کس طرح انڈیا اپنا پیسہ پانی کی طرح بہاتا ہے اور ہمارے لوگوں سے ہی ہمارے قومی مفادات کے منصوبوں کی مخالفت کرواتا ہے اور اب تو وزیر دفاع پاکستان احمد مختار نے بھی بات واضح کر دی کہ بڑی طاقتیں کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیتیں۔ یہ بڑی طاقتیں انڈیا اور امریکا ہیں.... اللہ کی قسم! ان کی وجہ سے آج ہمارے پاکستان میں لوڈشیڈنگ کا عذاب ہے، بچی کھچی بجلی انتہائی مہنگی ہے۔ کارخانے بند ہو رہے ہیں، مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں، طلباءکی پڑھائی کا نقصان ہے۔ انٹرنیٹ پر ریسرچ کا کام کرنے والے بے حال ہیں۔ ڈیزل کی مہنگی ترین بجلی استعمال کرنے والے کسان تباہ حال ہیں۔ اوپر سے انڈیا نے رہا سہا پانی بھی بند کر دیا ہے۔ پنجاب اور سندھ میں ہماری لاکھوں ایکڑ زمین بنجر ہو رہی ہے۔ لاہور میں پانی جو چند فٹ کی گہرائی پر میسر تھا وہ ستر فٹ سے نیچے چلا گیا ہے۔ دریائے راوی گندہ نالہ بن چکا ہے۔ اس کی وجہ سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔




    Weekly Jarrar
    Ameer Hamza
     
  2. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,365
  3. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    نفرت مہم اب ختم ہونے کوہے

    پاکستان کے ساتھ تعلقات بھارت کے مفادمیں ہے۔سرینگریونیورسٹی میں کانوو کیشن سے خطاب کرتے ہوئے من موہن سنگھ نے کہا کہ ہتھیار ڈالنے والوں کے ساتھ بات چیت کے عمل کو بڑھانا چاہتے ہیں۔من موہن سنگھ نے کہا کہ جموں کشمیر میں امن چاہتے ہیں اورپاکستان سے اچھے تعلقات بھارت کے مفادمیں ہے اور وزیر اعظم پاکستان نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کی سرزمین بھارت کے خلاف کارروائی میں استعمال نہیں ہوگی انہوں نے کہا کہ ،دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کشمیریوں سے بات چیت کیلئے تیارہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ممبئی حملوں کااثرپاک بھارت تعلقات پرپڑا ہے لیکن دہشت گردی رکنے سے ہی پاکستان کے ساتھ بامعنی بات چیت ہوسکتی ہے انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کوایسے طریقے اپنانے چاہئیں جوعوام کے مفادمیں ہوں۔
    (اردو ٹائمز)
     
  4. عندلیب

    عندلیب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 19, 2008
    پیغامات:
    4,643
    اور پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
    کہیں انڈیا سے بھی بڑا چور تو نہیں ۔۔۔۔؟
     
  5. عندلیب

    عندلیب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 19, 2008
    پیغامات:
    4,643
    ایسی باتوں کا یہاں کوئی فائدہ نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں