مزاروں اورر درباروں پر جانا حرام ہے: احادیث نبوی

سلمان ملک نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏جون 28, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    926
    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1115 حدیث مرفوع مکررات 7 متفق علیہ 4 بدون مکرر
    حفص بن عمرو، شعبہ، عبدالملک، قزعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چار باتیں کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوات میں شریک ہوئے تھے۔ ح، سفیان، زہری، سعید، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سامان سفر نہ باندھا جائے مگر تین مسجدوں کیلئے مسجد حرام مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد اقصی۔

    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1122 حدیث مرفوع مکررات 24 متفق علیہ 38
    ابوالولید، شعبہ، عبدالملک، قزعہ زیاد کے زاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چار باتیں بیان کرتے ہوئے سنا جو مجھ کو بہت اچھی اور خوشگوار معلوم ہوئیں، فرمایا عورت دو دن کا سفر نہ کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا شوہر یا ایسا رشتہ دار ہو جس سے نکاح حرام ہے اور نہ عیدالفطر اور عیدالضحی کے دن روزہ رکھے اور نہ نماز پڑھے دو نمازوں کے بعد، ایک فجر کے بعد جب تک کہ آفتاب طلوع نہ ہوجائے اور عصر کے بعد جب تک کہ آفتاب غروب نہ ہوجائے اور نہ سوا تین مسجدوں کے کسی مسجد کی طرف سامان سفر باندھے، مسجد حرام، مسجد اقصی اور میری مسجد۔

    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1873 حدیث مرفوع مکررات 4 متفق علیہ 38
    حجاج بن منہال، شعبہ، عبدالمالک بن عمیر، قزعہ بیان کرتے ہیں میں نے ابو سعید خدری سے سنا ہے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوہ کئے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے چار باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں جو مجھے بہت زیادہ پسند آئیں، آپ نے فرمایا کہ عورت دو دن کا سفر نہ کرے۔ مگر اس حال میں کہ اس کا کوئی رشتہ دار ایسا ساتھ ہو، جس سے نکاح حرام ہے یا اس کا شوہر اس کے ساتھ ہو اور عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دنوں میں روزہ نہ رکھے۔ اور نہ فجر کے بعد نماز پڑھے، جب تک کہ آفتاب غروب نہ ہو جائے اور تین مسجدوں کے سوا کسی اور مسجد کے لئے سامان سفر نہ باندھے (وہ تین مسجدیں یہ ہیں) مسجد حرام، مسجد اقصیٰ، مسجد نبوی۔

    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1122 حدیث مرفوع مکررات 24 متفق علیہ 38
    ابوالولید، شعبہ، عبدالملک، قزعہ زیاد کے زاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چار باتیں بیان کرتے ہوئے سنا جو مجھ کو بہت اچھی اور خوشگوار معلوم ہوئیں، فرمایا عورت دو دن کا سفر نہ کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا شوہر یا ایسا رشتہ دار ہو جس سے نکاح حرام ہے اور نہ عیدالفطر اور عیدالضحی کے دن روزہ رکھے اور نہ نماز پڑھے دو نمازوں کے بعد، ایک فجر کے بعد جب تک کہ آفتاب طلوع نہ ہوجائے اور عصر کے بعد جب تک کہ آفتاب غروب نہ ہوجائے اور نہ سوا تین مسجدوں کے کسی مسجد کی طرف سامان سفر باندھے، مسجد حرام، مسجد اقصی اور میری مسجد۔

    .
     
  2. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,594
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. JUNAID BIN SHAHID

    JUNAID BIN SHAHID -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    788
    جزاک اللہ
     
  4. مشتاق احمد مغل

    مشتاق احمد مغل -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 6, 2007
    پیغامات:
    1,216
    Salman Malik برادر
    آپ کاعنوان بیان کردہ احادیث کے مطابق نہیں ہے۔ ازراہ کرم عنوان بدل دیں۔ یا مزید احادیث عنوان کے ضمن میں پیش کردیں۔

    والسلام
     
  5. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    ’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہداءِ اُحد پر (دوبارہ) آٹھ سال بعد اس طرح نماز پڑھی گویا زندوں اور مُردوں کو الوداع کہہ رہے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور فرمایا : میں تمہارا پیش رو ہوں، میں تمہارے اُوپر گواہ ہوں، ہماری ملاقات کی جگہ حوضِ کوثر ہے اور میں اس جگہ سے حوضِ کوثر کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے تمہارے متعلق اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ تم (میرے بعد) شرک میں مبتلا ہو جاؤ گے بلکہ تمہارے متعلق مجھے دنیاداری کی محبت میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ حضرت عقبہ فرماتے ہیں کہ یہ میرا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری دیدار تھا (یعنی اس کے بعد جلد ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا)۔ ‘‘

    أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المغازي، باب : غزوة أحد، 4 / 1486، الرقم : 3816، ومسلم في الصحيح، کتاب : الفضائل، باب : إثبات حوض نبينا صلي الله عليه وآله وسلم وصفاته، 4 / 1796، الرقم : 2296، وأبوداود في السنن، کتاب : الجنائز، باب : الميت يصلي علي قبره بعد حين، 3 / 216، الرقم 3224، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 154، والطبراني في المعجم الکبير، 17 / 279، الرقم : 768، والبيهقي في السنن الکبري، 4 / 14، الرقم : 6601، والشيباني في الآحاد والمثاني، 5 / 45، الرقم : 2583.

    ایمان کے بعد شرک - صفحہ 2 - URDU MAJLIS FORUM
     
  6. ضیاءرحمن

    ضیاءرحمن محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2008
    پیغامات:
    1,057
    ایک سوال کا جواب دیتے جائیں بھائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ سال بعد ہی شہدائے احد پر نمازجنازہ کیوں پڑھی؟ ۔۔۔
    ہر سال کیوں نہیں پڑھی؟ ۔۔ جبکہ ہمارے ہاں‌ تو درگاہوں اور مزاروں پرسارا سال تماشہ رہتا ہے ۔
    اس حدیث سے کہیں‌ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ نبی اکرم‌صلی اللہ علیہ وسلم نے مزاروں اور درباروں پر جانے کی اجازت دی ہو ۔۔


    البتہ اس حدیث سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ '' قبروں پر جا کر غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے ''
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 3, 2010
  7. طالب نور

    طالب نور -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2008
    پیغامات:
    366
    اس حدیث کے صحیح مفہوم اور امت مسلمہ میں بھی شرک کے وقوع کی نبوی تصریح جاننے کے لیے درج ذیل مضمون میں ملاحظہ فرمائیں:
     

    منسلک فائلیں:

  8. طالب نور

    طالب نور -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2008
    پیغامات:
    366
    کلمہ پڑھنے والے بھی شرک کر سکتے ہیں اور امت مسلمہ کے لوگ بھی اس میں ملوث ہوں گے اس کی وضاحت اوپر والے مضمون میں دلائل کے ساتھ کر دی گئی ہیں۔ اس ضمن میں مزید اسی گروہ کے چند الزامی حوالے بھی پیش خدمت ہیں جو لوگوں کو دھوکے سے یہ باور کروانا چاہتا ہے کہ کلمہ پڑھ لینے کے بعد اب جو مرضی کریں شرک کا ڈر نہیں۔
    چنانچہ احمد رضا خان بریلوی کے خلیفہ اور بریلویوں کے صدر الشریعۃ مفتی امجد علی اعظمی کے حالات میں ایک جگہ لکھا ہے:
    "اجمیر شریف کے قرب و جوار میں راجہ پرتھوی راج کی اولاد آباد تھی جو اگرچہ مسلمان ہو چکی تھی لیکن ان میں فرائض و واجبات سے غفلت اور مشرکانہ رسوم بکثرت پائی جاتی تھیں۔" (بہار شریعت،حالات مصنف:ص24)
    اگر مسلمان ہونے کے بعد شرک کا کوئی ڈر نہیں تو کیا مشرکانہ رسوم کو اسلامی رسوم کو نام دے کر جائز فرما دیں۔۔۔؟
    اسی طرح بریلویوں کے ادیب شہیر سید فاروق القادری لکھتے ہیں:
    "ہماری خانقاہوں پر۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ناچ، بھنگڑے، جھومر، تھیٹر، بے قاعدہ قوالی اور راگ کی مجلسیں، قد آدم کے برابر اونچی قبریں، قبروں پر کروڑوں روپیہ کا ضیاع، قبروں کے سجدے طواف، مخلوق خدا کو اللہ کی بجائے اپنے سامنے جھکانے کا کاربےخیر آخر کس قاعدے قانون کا نتیجہ ہے؟" (مجلہ انوار رضا، تاجدار بریلی نمبر 2003ء:ص44)
    یہ خانقاہوں اور قبروں پر کیے جانے والے سجدے طواف اور اللہ کی مخلوق کو اپنے سامنے جھکانے والے اور جھکنے والے جس کے گواہ خود یہ لوگ بھی ہیں کیا شرک کے علاوہ کوئی چیز ہے۔۔۔۔؟ اگر یہ بھی شرک نہیں تو شرک کس بلا کا نام ہے۔۔۔۔؟ یہ سب کچھ تسلیم کرنے کے باوجود بھی لوگوں کو دھوکہ دینا کہ شرک کا کوئی ڈر نہیں سوائے بدبختی اور عاقبت نااندیشی کے کچھ نہیں۔
     
  9. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,422
    جزاک اللہ خیرا طالب نور بھائی

    بھائی اگر آپ کسی ویب سائٹ پر اپلوڈ کر کے یہاں اس کا لنک پیسٹ کریں گے تو بہت واضح نظر آئے گی یہ جی آئی ایف فائل۔شکریہ
     
  10. زبدالرحمن

    زبدالرحمن -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2010
    پیغامات:
    161
    جزاک اللہ [/SIZE]
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں