مزاروں اورر درباروں پر جانا حرام ہے: احادیث نبوی

سلمان ملک نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏جون 28, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    926
    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1115 حدیث مرفوع مکررات 7 متفق علیہ 4 بدون مکرر
    حفص بن عمرو، شعبہ، عبدالملک، قزعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چار باتیں کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوات میں شریک ہوئے تھے۔ ح، سفیان، زہری، سعید، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سامان سفر نہ باندھا جائے مگر تین مسجدوں کیلئے مسجد حرام مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد اقصی۔

    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1122 حدیث مرفوع مکررات 24 متفق علیہ 38
    ابوالولید، شعبہ، عبدالملک، قزعہ زیاد کے زاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چار باتیں بیان کرتے ہوئے سنا جو مجھ کو بہت اچھی اور خوشگوار معلوم ہوئیں، فرمایا عورت دو دن کا سفر نہ کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا شوہر یا ایسا رشتہ دار ہو جس سے نکاح حرام ہے اور نہ عیدالفطر اور عیدالضحی کے دن روزہ رکھے اور نہ نماز پڑھے دو نمازوں کے بعد، ایک فجر کے بعد جب تک کہ آفتاب طلوع نہ ہوجائے اور عصر کے بعد جب تک کہ آفتاب غروب نہ ہوجائے اور نہ سوا تین مسجدوں کے کسی مسجد کی طرف سامان سفر باندھے، مسجد حرام، مسجد اقصی اور میری مسجد۔

    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1873 حدیث مرفوع مکررات 4 متفق علیہ 38
    حجاج بن منہال، شعبہ، عبدالمالک بن عمیر، قزعہ بیان کرتے ہیں میں نے ابو سعید خدری سے سنا ہے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوہ کئے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے چار باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں جو مجھے بہت زیادہ پسند آئیں، آپ نے فرمایا کہ عورت دو دن کا سفر نہ کرے۔ مگر اس حال میں کہ اس کا کوئی رشتہ دار ایسا ساتھ ہو، جس سے نکاح حرام ہے یا اس کا شوہر اس کے ساتھ ہو اور عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دنوں میں روزہ نہ رکھے۔ اور نہ فجر کے بعد نماز پڑھے، جب تک کہ آفتاب غروب نہ ہو جائے اور تین مسجدوں کے سوا کسی اور مسجد کے لئے سامان سفر نہ باندھے (وہ تین مسجدیں یہ ہیں) مسجد حرام، مسجد اقصیٰ، مسجد نبوی۔

    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1122 حدیث مرفوع مکررات 24 متفق علیہ 38
    ابوالولید، شعبہ، عبدالملک، قزعہ زیاد کے زاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چار باتیں بیان کرتے ہوئے سنا جو مجھ کو بہت اچھی اور خوشگوار معلوم ہوئیں، فرمایا عورت دو دن کا سفر نہ کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا شوہر یا ایسا رشتہ دار ہو جس سے نکاح حرام ہے اور نہ عیدالفطر اور عیدالضحی کے دن روزہ رکھے اور نہ نماز پڑھے دو نمازوں کے بعد، ایک فجر کے بعد جب تک کہ آفتاب طلوع نہ ہوجائے اور عصر کے بعد جب تک کہ آفتاب غروب نہ ہوجائے اور نہ سوا تین مسجدوں کے کسی مسجد کی طرف سامان سفر باندھے، مسجد حرام، مسجد اقصی اور میری مسجد۔

    .
     
  2. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,593
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. JUNAID BIN SHAHID

    JUNAID BIN SHAHID نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    806
    جزاک اللہ
     
  4. مشتاق احمد مغل

    مشتاق احمد مغل -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 6, 2007
    پیغامات:
    1,216
    Salman Malik برادر
    آپ کاعنوان بیان کردہ احادیث کے مطابق نہیں ہے۔ ازراہ کرم عنوان بدل دیں۔ یا مزید احادیث عنوان کے ضمن میں پیش کردیں۔

    والسلام
     
  5. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    ’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہداءِ اُحد پر (دوبارہ) آٹھ سال بعد اس طرح نماز پڑھی گویا زندوں اور مُردوں کو الوداع کہہ رہے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور فرمایا : میں تمہارا پیش رو ہوں، میں تمہارے اُوپر گواہ ہوں، ہماری ملاقات کی جگہ حوضِ کوثر ہے اور میں اس جگہ سے حوضِ کوثر کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے تمہارے متعلق اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ تم (میرے بعد) شرک میں مبتلا ہو جاؤ گے بلکہ تمہارے متعلق مجھے دنیاداری کی محبت میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ حضرت عقبہ فرماتے ہیں کہ یہ میرا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری دیدار تھا (یعنی اس کے بعد جلد ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا)۔ ‘‘

    أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المغازي، باب : غزوة أحد، 4 / 1486، الرقم : 3816، ومسلم في الصحيح، کتاب : الفضائل، باب : إثبات حوض نبينا صلي الله عليه وآله وسلم وصفاته، 4 / 1796، الرقم : 2296، وأبوداود في السنن، کتاب : الجنائز، باب : الميت يصلي علي قبره بعد حين، 3 / 216، الرقم 3224، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 154، والطبراني في المعجم الکبير، 17 / 279، الرقم : 768، والبيهقي في السنن الکبري، 4 / 14، الرقم : 6601، والشيباني في الآحاد والمثاني، 5 / 45، الرقم : 2583.

    ایمان کے بعد شرک - صفحہ 2 - URDU MAJLIS FORUM
     
  6. ضیاءرحمن

    ضیاءرحمن محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2008
    پیغامات:
    1,056
    ایک سوال کا جواب دیتے جائیں بھائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ سال بعد ہی شہدائے احد پر نمازجنازہ کیوں پڑھی؟ ۔۔۔
    ہر سال کیوں نہیں پڑھی؟ ۔۔ جبکہ ہمارے ہاں‌ تو درگاہوں اور مزاروں پرسارا سال تماشہ رہتا ہے ۔
    اس حدیث سے کہیں‌ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ نبی اکرم‌صلی اللہ علیہ وسلم نے مزاروں اور درباروں پر جانے کی اجازت دی ہو ۔۔


    البتہ اس حدیث سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ '' قبروں پر جا کر غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے ''
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 3, 2010
  7. طالب نور

    طالب نور -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2008
    پیغامات:
    366
    اس حدیث کے صحیح مفہوم اور امت مسلمہ میں بھی شرک کے وقوع کی نبوی تصریح جاننے کے لیے درج ذیل مضمون میں ملاحظہ فرمائیں:
     

    منسلک فائلیں:

  8. طالب نور

    طالب نور -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2008
    پیغامات:
    366
    کلمہ پڑھنے والے بھی شرک کر سکتے ہیں اور امت مسلمہ کے لوگ بھی اس میں ملوث ہوں گے اس کی وضاحت اوپر والے مضمون میں دلائل کے ساتھ کر دی گئی ہیں۔ اس ضمن میں مزید اسی گروہ کے چند الزامی حوالے بھی پیش خدمت ہیں جو لوگوں کو دھوکے سے یہ باور کروانا چاہتا ہے کہ کلمہ پڑھ لینے کے بعد اب جو مرضی کریں شرک کا ڈر نہیں۔
    چنانچہ احمد رضا خان بریلوی کے خلیفہ اور بریلویوں کے صدر الشریعۃ مفتی امجد علی اعظمی کے حالات میں ایک جگہ لکھا ہے:
    "اجمیر شریف کے قرب و جوار میں راجہ پرتھوی راج کی اولاد آباد تھی جو اگرچہ مسلمان ہو چکی تھی لیکن ان میں فرائض و واجبات سے غفلت اور مشرکانہ رسوم بکثرت پائی جاتی تھیں۔" (بہار شریعت،حالات مصنف:ص24)
    اگر مسلمان ہونے کے بعد شرک کا کوئی ڈر نہیں تو کیا مشرکانہ رسوم کو اسلامی رسوم کو نام دے کر جائز فرما دیں۔۔۔؟
    اسی طرح بریلویوں کے ادیب شہیر سید فاروق القادری لکھتے ہیں:
    "ہماری خانقاہوں پر۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ناچ، بھنگڑے، جھومر، تھیٹر، بے قاعدہ قوالی اور راگ کی مجلسیں، قد آدم کے برابر اونچی قبریں، قبروں پر کروڑوں روپیہ کا ضیاع، قبروں کے سجدے طواف، مخلوق خدا کو اللہ کی بجائے اپنے سامنے جھکانے کا کاربےخیر آخر کس قاعدے قانون کا نتیجہ ہے؟" (مجلہ انوار رضا، تاجدار بریلی نمبر 2003ء:ص44)
    یہ خانقاہوں اور قبروں پر کیے جانے والے سجدے طواف اور اللہ کی مخلوق کو اپنے سامنے جھکانے والے اور جھکنے والے جس کے گواہ خود یہ لوگ بھی ہیں کیا شرک کے علاوہ کوئی چیز ہے۔۔۔۔؟ اگر یہ بھی شرک نہیں تو شرک کس بلا کا نام ہے۔۔۔۔؟ یہ سب کچھ تسلیم کرنے کے باوجود بھی لوگوں کو دھوکہ دینا کہ شرک کا کوئی ڈر نہیں سوائے بدبختی اور عاقبت نااندیشی کے کچھ نہیں۔
     
  9. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,422
    جزاک اللہ خیرا طالب نور بھائی

    بھائی اگر آپ کسی ویب سائٹ پر اپلوڈ کر کے یہاں اس کا لنک پیسٹ کریں گے تو بہت واضح نظر آئے گی یہ جی آئی ایف فائل۔شکریہ
     
  10. زبدالرحمن

    زبدالرحمن -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2010
    پیغامات:
    161
    جزاک اللہ [/SIZE]
     
  11. زبدالرحمن

    زبدالرحمن -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2010
    پیغامات:
    161
    جزاک اللہ
     
  12. زبدالرحمن

    زبدالرحمن -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2010
    پیغامات:
    161
    جزک اللہ
     
  13. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    مزاروں پر جانا سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے

    ’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہداءِ اُحد پر (دوبارہ) آٹھ سال بعد اس طرح نماز پڑھی گویا زندوں اور مُردوں کو الوداع کہہ رہے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور فرمایا : میں تمہارا پیش رو ہوں، میں تمہارے اُوپر گواہ ہوں، ہماری ملاقات کی جگہ حوضِ کوثر ہے اور میں اس جگہ سے حوضِ کوثر کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے تمہارے متعلق اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ تم (میرے بعد) شرک میں مبتلا ہو جاؤ گے بلکہ تمہارے متعلق مجھے دنیاداری کی محبت میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ حضرت عقبہ فرماتے ہیں کہ یہ میرا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری دیدار تھا (یعنی اس کے بعد جلد ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا)۔ ‘‘

    أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المغازي، باب : غزوة أحد، 4 / 1486، الرقم : 3816، ومسلم في الصحيح، کتاب : الفضائل، باب : إثبات حوض نبينا صلي الله عليه وآله وسلم وصفاته، 4 / 1796، الرقم : 2296، وأبوداود في السنن، کتاب : الجنائز، باب : الميت يصلي علي قبره بعد حين، 3 / 216، الرقم 3224، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 154، والطبراني في المعجم الکبير، 17 / 279، الرقم : 768، والبيهقي في السنن الکبري، 4 / 14، الرقم : 6601، والشيباني في الآحاد والمثاني، 5 / 45، الرقم : 2583.

    ایمان کے بعد شرک - صفحہ 2 - urdu majlis forum

    بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم صرف قرآن و حدیث کی دلیل ہی مانتے ہیں مگر جب انھیں صحیح حدیث سے دلیل دی جاتی ہے تو وہ انکار کرتے ہیں کیونکہ یہ دلیل ان کے نفس کے خلاف ہوتی ہے

    اس دھاگہ کا عنوان ہے کہ "مزاروں پر جانا حرام" مگر اس صحیح حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ " مزاروں پر جانا سنت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم " کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شہدائے احد کے مزاروں پر تشریف لے گئے اور وہیں اپنے خطاب میں فرمایا کہ " مجھے اس بات کا ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے "

    اب آپ تمام احباب سے ایک سوال ہے کہ اس دھاگہ میں میری پہلی پوسٹ صرف صحیح حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ہی مشتمل تھی اور اپنی طرف سے میں نے کوئی بات نہ کہی تھی مگر پھر بھی آپ احباب نے اعتراضات کی بارش کر دی کیا اس لیے کہ یہ صحیح حدیث آپ کے نفس پر بہت بھاری ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  14. طالب نور

    طالب نور -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2008
    پیغامات:
    366
    السلام علیکم،
    ہرگز نہیں جناب یہ حدیث ہمارے نہیں بلکہ آپ کے نفس پر ہی بھاری ہے اور ہم نے اگر اس حدیث پر کوئی اعتراض کیا ہو تو ثابت کریں اور اگر آپ کسی حدیث کے مفہوم کو اور احادیث کے ساتھ سمجھنا نفس پر بھاری ہونا سمجھتے ہیں تو پھر بھی لکھ دیں۔
    دوسری بات یہ کہ آپ نے جو حدیث پیش کی ہے ہمارے مئوقف کے خلاف نہیں بلکہ اس مین واضح بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ سال بعد شہداء احد کی قبروں پر گئے جس سے معلوم ہوا کہ قبروں اور مزارون پر ہر سال میلے اور عرس لگانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے خلاف ہے۔ اگر عرس اور میلے قبروں پر لگانا جائز ہوتا تو شہداء احد اس بات کے زیادہ حقدار تھے۔ نیز اس میں صرف قبروں کی زیارت کرنے کا جواز ثابت ہوتا ہے جو ہمارے خلاف نہیں۔
    رہی بات تین مساجد کے علاوہ اور طرف سفر کر کے جانے کی ممانعت تو اس پر صحیح احادیث موجود ہیں۔ لہٰذا جس طرح ان مساجد کی طرف فضیلت، ثواب اور برکت کی نیت کر کے جایا جاتا ہے اسی طرح کسی اور طرف یہ سمجھ کر سفر کرنا کہ باعث ثواب و برکت ہے تو یہ ممنوع ہے۔ آپ کی پیش کردہ حدیث ہمارے اس مئوقف کے خلاف نہیں کیونکہ اس مین صرف قبروں کی زیارت کا حکم بیان ہوا ہے اور یہ بات دوسری احادیث سے ثابت ہے جن کا مفہوم یہ ہے کہ قبروں کی زیارت کرو کہ یہ آخرت کو یاد دلانے والی ہیں۔ یہی ہمارا مئوقف ہے، الحمدللہ
     
  15. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    اس دھاگہ کے عنوان پر شاید آپ نے غور نہیں فرمایا ایسی لئے آپ بلا وجہ چوں چرہ کیئے جارہے ہیں اس دھاگہ کا عنوان ہے " مزاروں اورر درباروں پر جانا حرام ہے"
    اور میں نے آپ حضرات سے جو صحیح بخاری کی حدیث شریف شیئر اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مزاروں پر جانا سنت ہے بجائے اس کے کہ آپ اس دھاگہ کو شروع کرنے والے پر تنقید کرتے کہ اس نے سنت سے ثابت عمل کو حرام قرار کیوں دیا آپ میری شیئر کی گئی صحیح بخاری شریف کی حدیث کا من مانا مفہوم دوسروں پر تھوپ نے کی کوشش کیوں فرمارہے ہیں ایک بار میں آپ کو پھر یاد دلادوں کہ اس دھاگہ میں میری پہلی پوسٹ صرف حدیث پر مشتمل تھی جس پر آپ اتنے چیں بجبیں ہورہے ہیں آخر کیوں؟؟؟؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    میری شیئر کی گئی حدیث شریف پر آپ کا تبصرہ آب آپ خود ہی فیصلہ فرمالیں !جب آپ یہ مانتے ہیں کہ حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قبروں کی زیارت کا حکم دیا ہے اور آپ خود بھی شہدائے احد کے مزارات پر سفر کرکے جاتے ہے تو پھر مزارات پر جانا حرام کیس طرح اور کس کی شریعت میں ہوگیا کیونکہ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ و سلم میں مزارات کی زیارت کرنا سنت ہے
     
  17. طالب نور

    طالب نور -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2008
    پیغامات:
    366
    آپ نے جو حدیث پیش کی ہے اس مین مزارات کا مفہوم آپ نے کہاں سے نکال لیا ہے۔۔۔۔؟ حدیث تو قبر کی زیارت سے متعلق ہے اور آپ نے مزارات پر جانا سنت بنا دیا۔ اتنی واضح تحریف معنوی کرتے ہوئے کچھ تو شرم کرنی چاہیے۔ کہاں کچی قبریں اور کہاں عالیشان قبوں والے مزارات۔۔۔۔۔؟
     
  18. طالب نور

    طالب نور -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2008
    پیغامات:
    366
    جناب عالی قبروں کی زیارت کا حکم اور ان کی زیارت اس لیے کرنا کہ موت کی یاد آئے یا ان پر دعا کی جا سکے مختلف احادیث سے ثابت ہے۔ رہی بات مزارات کی تو ان کو ڈھانا واجب ہے اور جب وہ بھی عام قبروں کی صورت میں ہو تو ان کی زیارت اس نیت سے کرنا کہ موت یاد آئے جائز ہے۔
    مگر مزارات پر اس نیت سے جایا ہی نہیں جاتا بلکہ وہاں تو ثواب اور برکت کی نیت سے جایا جاتا ہے اور یہ اس حدیث کی رو سے ممنوع ہے جس میں تین مساجد کے علاوہ کسی اور طرف ایسی نیت سے جانا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
    علاوہ اذیں مزارات پرکئی ایک غیر شرعی رسومات کی جاتی ہیں جن سے ان کے ماننے والے بھی انکار نہین کرتے۔ سجدے طواف کیے جاتے ہین جو ان کو ماننے والے بھی تسلیم کرتے ہیں جو ناجائز ہین اور ان کو روکنا واجب ہے۔ ایسی جگہوں کی زیارت کو قبور کی زیارت والی احادیث سے ثابت کرنا سوائے دھوکہ دہی اور معنوی تحریف کے کچھ نہیں۔
     
  19. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    خرم صاحب !
    آپ کا دعوى ہے کہ مزاروں اور درباروں پر جانا سنت ہے
    جبکہ آپ کی بیان کردہ حدیث میں مزار یا دربار نہیں بلکہ قبریں ہیں
    کیا آپ قبرستان کو مزار یا دربار کہتے ہیں ؟؟
    اگر ایسا ہی ہے تو وضاحت فرمائیں
    اگر نہیں تو
    اپنے دعوى پر دلیل دیں
    رہا اس موضوع کے عنوان اور اس میں درج احادیث کا ربط تو وہ بہت ہی واضح ہے
    کہ حدیث میں کسی بھی جگہ بغرض ثواب سفر کر کے جانا ممنوع قرار دیا گیا ہے
    خواہ وہ مزارات ہوں یا مساجد یا عام قبرستان
     
  20. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کا شہدائے احد کی قبروں پر سفر کرکے جانا ثواب کی نیت سے تھا یا کچھ اور ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں