مزاروں اورر درباروں پر جانا حرام ہے: احادیث نبوی

سلمان ملک نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏جون 28, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. dani

    dani -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,339

    khuram اس طرح دوسروں كو خوارج خوارج كہہ كر دين كى تبليغ ہوتی ہے ؟ پہلے اخلاق تو ٹھیک كر لیں پھر تبليغ كرنا ۔
    يہ فضول بحث جو آپ خوامخواہ لمبى كر رہے ہیں اس ميں كوئى دين كى خدمت نہیں ہے ۔ جسے حق كى تلاش ہوتی ہے وہ اخلاص سے بات سمجھنے اور سمجھانے كی كوشش كرتا ہے یوں ضد لگا كر بلا وجہ لمبى بحث نہیں كرتا ۔
     
  2. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    اس پوسٹ (جو کہ اخلاق کی بلندی پر ہے ) کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کیا شرک شرک اور بدعت بدعت کرنے سے دین کی تبلیغ ہوتی ہے

    اگر ہاں تو پھر خوارج شاید دین کی تبلیغ ہی کرتے تھے جو وہ صحابہ اکرام پر شرک اور بدعت کے فتوے لگاتے تھے نعوذ باﷲ

    ’’زیاد بن امیہ سے مروی ہے کہ عروہ بن حدیر (خارجی) نہروان کی جنگ سے بچ گیا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور تک زندہ رہا پھر وہ زیاد بن ابیہ کے پاس لایا گیا اس کے ساتھ اس کا غلام بھی تھا تو زیاد نے اس سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا حال دریافت کیا؟ اس نے کہا : ابتدا میں چھ سال تک انہیں میں بہت دوست رکھتا تھا پھر جب انہوں نے بدعتیں شروع کیں تو ان سے علیحدہ ہو گیا اس لئے کہ وہ آخر میں (نعوذ باﷲ) کافر ہوگئے تھے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حال پوچھا؟ کہا : وہ بھی اوائل میں اچھے تھے جب حکم بنایا (نعوذ باﷲ) کافر ہوگئے۔ اس لئے ان سے بھی علیحدہ ہوگیا۔ پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا حال دریافت کیا؟ تو وہ انہیں سخت گالیاں دینے لگا۔۔ ۔ پھر زیاد نے اسکی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔‘‘


    أخرجه عبدالکريم الشهرستاني في الملل والنحل، 1 / 137.

    ’’امام ابن اثیر نے ’’الکامل‘‘ میں بیان کیا : ’’اشعث بن قیس نے اس عہدنامہ کو (جو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہوا تھا) لے کر ہر ہر قبیلہ میں لوگوں کو سنانا شروع کیا۔ جب قبیلہ بنی تمیم میں پہنچے تو عروہ بن اُدیہ (خارجی) جو ابوبلال کا بھائی تھا بھی ان میں تھا جب اس نے وہ معاہدہ انہیں سنایا تو عروہ (خارجی) کہنے لگا : اللہ تعالیٰ کے امر میں آدمیوں کو حَکم بناتے ہو؟ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حُکم نہیں کر سکتا۔‘‘

    أخرجه ابن الأثير في الکامل، 3 / 196، وابن الجوزي في المنتظم في تاريخ الملوک والأمم، 5 / 123.






    ’’عبدالملک نے ابوحرہ سے روایت بیان کی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسیٰ (اشعری رضی اللہ عنہ) کو (اپنا گورنر بنا کر) نفاذ حکومت کے لئے بھیجا تو خوارج (اپنے سردار) عبداللہ بن وھب راسبی کے گھر میں جمع ہوئے اور اس نے انہیں بلیغ خطبہ دیا جس میں اس نے انہیں اس دنیا سے بے رغبتی اور آخرت اور جنت کی رغبت دلائی اور انہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر ابھارا پھر کہا : ہمارے لئے ضروری ہے ہم پہاڑوں یا دوسرے شہروں کی طرف نکل جائیں تاکہ ان گمراہ کرنے والی بدعتوں سے ہمارا انکار ثابت ہوجائے۔۔۔ پھر سب شریح بن ابی اوفی عبسی کے گھر جمع ہوئے تو ابن وھب نے کہا : اب کوئی شہر ایسا دیکھنا چاہئے کہ (اسے اپنا مرکز بنا کر) ہم سب اسی میں جمع ہوں اور اللہ تعالیٰ کا حکم جاری کریں کیونکہ اہلِ حق اب تم ہی لوگ ہو۔‘‘

    أخرجه ابن جرير الطبري في تاريخ الأمم والملوک، 3 / 115، وابن الأثير في الکامل، 3 / 213 - 214، وابن کثير في البداية والنهاية، 7 / 285 - 286 وابن الجوزي في المنتظم في تاريخ الملوک والأمم، 5 / 130 - 131.

    اسلامی لائبریری - الحديث > المنہاج السوی من الحدیث النبوی >
     
  3. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
    خرم صاحب یہ تو آپ کسی رضاخانی خوارجی سے دریافت کریں کہ اسے یہ شعر کا علم ہے یا نہیں۔
    جہاں تک بات رہی اہل السنۃ والجماعۃ کی تو ان کا دین عربی زبان میں نازل ہوا ہے ان کا دین فارسی یا اردو میں نارل نہیں ہوا۔ میں تو خیال کر رہا تھا کہ آپ قرآن کی کوئی آیت یا حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیش کر کے عربی لغت سے قبر اور مزار کو ایک ثابت کریں گے۔ مگر میرا یہ خیال اب تک تو وہم ثابت ہو رہا ہے۔ آپ نے سہارا لیا تو اردو کے ایک شعر کا۔
    خرم صاحب اگر اردو کے شعر میں قبر اور مزار ایک ہی معنی میں استعمال ہو بھی جائیں تو اس سے شریعت اسلامی میں ان کا ایک ہونا ثابت نہ ہو گا۔ اور جیسے میں نے کہا کہ اگر ہو بھی جائے تو۔
    آپ کے ذکر کردہ شعر پر تبصرا کرنے سے قبل ایک شعر میں بھی آپ کی خدمت میں عرض کئے دیتا ہوں۔
    کچھ کھیل نہیں ہے داغ یاروں سے یہ کہ دو
    آتی ہے اردو زباں آتے آتے ​
    آپ کے پیش کردہ شعر
    اللہ جانے قبر ہے کس نامراد کی
    ارمان رورہے ہیں سرھانے مزار کے ​
    میں بھی قبر اور مزار ہم معنی نہیں ہیں۔ ذرا غور سے پڑھیے،
    کہ اس بات سے لا علمی کا اظہار ہے کہ یہ قبر کس نا مراد کی ہے۔ اور اس کے مزار پر ارمانوں کے رونے کا تذکرہ ہے۔
    خرم صاحب اس سے قبر اور مزار ہم معنی کس طرح ہوئے۔ آپ کے علم میں نہیں کہ مزار قبروں پر بنائے جاتے ہیں یہ ایک الگ بات ہے کہ لوگوں نے قبر کے بغیر بھی کئی مزار تعمیر کئے ہوئے ہیں۔ آپ کسی کے جنازہ میں شریک ہوں۔ مردہ کو دفن کرتےہی قبر کا وجود ہو گا، مگر مزار کا نہیں۔ اتنی سی بات کافی ہے قبر اور مزار کا فرق سمجھنے کے لئے۔

    خرم صاحب آپ کی اگلی تحریر میں آپ نے خوارج کے حولے سے جو لکھا ہے اس پر اعتراض نہیں، اور نہ ہی یہ موضوع بحث ہے۔ آپ یہ بات رضاخانی خوارج کو ضرور بتلائیں کہ کہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث جس میں خوارج کو جہنم کے کتے کہا گیا ہے، اس کے مصداق نہ بن جائیں۔آپ بھی ہمارے ساتھ رضاخانی خوارج کی اصلاح کی کوشش معاونت کریں۔
     
  4. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,712
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  5. ali ahmad

    ali ahmad نوآموز

    شمولیت:
    ‏نومبر 2, 2017
    پیغامات:
    1
    برائے کرم
    اس حدیث میں کئی لوگ یہ پہلو بھی نکالتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تمام خزانوں کی چابیاں ہیں اور یہ بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے متعلق شرک کا خوف نہیں کیا اس پہ روشنی ڈالیں
    جزاکم اللہ خیرا کثیرا
     
  6. صدائے فقیر

    صدائے فقیر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 19, 2016
    پیغامات:
    2
    اولیاء کرام کی قبور پہ حاضری دینا اور فاتحہ پڑھنا بالکل درست ہے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں