چھٹیوں کا موسم !!! کیا کمائیں‌گے ؟ کیا گنوائیں گے؟ __ Copy

عادل سہیل نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏جولائی 7, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عادل سہیل

    عادل سہیل -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 29, 2008
    پیغامات:
    48
    ::::: چھٹیوں کا موسم !!!کیا کمائیں گے؟ کیا گنوائیں گے ؟ :::::

    ہر سال تقریبا ہر ایک سالانہ چُھٹیوں سے پہلے طرح طرح کے ارادے بناتا ہے کہ اِس دفعہ چُھٹیوں میں یہ کروں گا ، وہ کروں گا ، فُلاں کام مکمل کروں گا ، فُلاں سے ملوں گا وغیرہ وغیرہ ،
    گرمیوں کی چُھٹیاں آ رہی ہیں دیکھنا یہ ہے کہ آپ اِن میں کیا کرتے ہیں؟ اور کِس طرح اِنہیں اپنے لیے دینی اور دُنیاوی طور پر فائدہ مند بناتے ہیں ،
    عربی ضرب المثل ہے کہ ''' گرمی دودھ خراب کر دیتی ہے ''' یہ کہاوت ایسے لوگوں کے لیے کہی جاتی ہے جو اپنی کم عقلی کی وجہ سے فائدہ حاصل کرنے کا موقع ضائع کر دیتے ہیں اور وقت کا فائدہ اُٹھانے کی بجائے اُسے کچھ اِس طرح اِستعمال کرتے ہیں کہ نُقصان اُٹھاتے ہیں ،
    چُھٹی کا مطلب ہوتا ہے کہ عام معمول کے کام کاج اور ذمہ داریوں سے فراغت ، عقل مند وہ ہوتا ہے جو اِس فراغت کو ایسے کاموں میں اِستعمال کرے جِن کا نتیجہ اُس فراغت کے بعد آنے والے وقت میں اُس کے لیے دینی دُنیاوی اور اُخروی طور پر فائدہ مند ہو ، نہ کہ نُقصان دہ ، اور ایک سچا مُسلمان اپنی زندگی کے ہر ایک لمحے کو دینی اور اُخروی طور پر فائدہ مند بنانے کو دُنیاوی فائدہ مندی حاصل کرنے پر فوقیت دیتا ہے ،
    :::اِسلام میں فراغت آخرت کمانے کا ذریعہ ہے :::
    اگر کوئی فراغت کا مقصداِس کے عِلاوہ کچھ اور سمجھے،مثلاًکہ فراغت سونے ، کھیلنے کودنے ، سیر سپاٹے کرنے وغیرہ کرنے کے لیے ہے تو وہ غلطی پر ہے ،
    اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہم سب اکثر پڑہتے اور سُنتے رہتے ہیں ( فَإِذَا فَرَغتَ فَانصَب(7) وَإِلَی رَبِّکَ فَارغَب ( 8 ) )( پس جب فارغ ہوں تو اپنے رب (کی عِبادت )کے لیے کھڑے ہو جائیے اور اپنے رب کی طرف رغبت کیجیے ) سورت الشرح ( الم نشرح )، پس مُسلمان کے لیے اُس کے رب کی طرف سے فراغت کے اِستعمال کا طریقہ مقرر کیا گیا ہے ، اِس آیت مُبارکہ کی تفسیر میں کہا گیا ''' یعنی جب آپ دنیاوی کاموں سے فارغ ہوں اور آرام کا وقت مل جائے تو اُس وقت میں اپنے رب کی عبادت میں محنت و مشقت کیجیے'''ابن مسعود رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ''' جب فرائض سے فارغ ہو جائیں تو قیام الیل میں مشقت کیجیے ''' اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ''' جب فرض نمازوں سے فارغ ہو جائیں تو اپنے رب سے دُعا کرنے میں محنت و مشقت کیجیے ''' اور الحسن البصری اور زید بن اسلم رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ ''' جب اپنے دُشمن سے جِہاد کرنے سے فارغ ہو جائیں تو اپنے رب کی عِبادت میں محنت کریں ''' اور تابعین میں سے تفسیر کے اِمام مُجاھد رحمہُ اللہ سے روایت ہے کہ ''' جب آپ اپنے دُنیا کے کاموں سے فارغ ہو جائیں تو اپنی آخرت کے کاموں کے لیے مُشقت کریں ''' ،
    کیا اِن مذکورہ بالا تفسیروں میں سے کہیں ایسا ہے کہ ''' جب آپ فارغ ہوں تو سو جایا کیجیے ، یا کھیلا کیجیے ، یا سیر کیا کیجیے ، وغیرہ وغیرہ ''' ،
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فراغت کو ضائع کرنے سے بچنے کی تلقین فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا ( نِعمَتَانِ مَغبُونٌ فِیہِمَا کَثِیرٌ مِن النَّاسِ الصِّحَّۃُ وَالفَرَاغُ)(دو نعمتوںمیں لوگوں کی اکثریت لاپرواہی کا شِکار ہے (١) صحت اور(٢) فراغت) صحیح البُخاری / کتاب الرقاق کی پہلی حدیث ،
    ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا ( اِغتنم خمساً قَبلَ خَمسٍ شبابکَ قَبلَ ہَرمکَ و صَحتکَ قَبلَ سُقمکَ وغِناءُ کَ قَبلَ فَقرکَ وفَراغکَ قَبل شُغلکَ وحَیاتکَ قَبلَ مَوتکَ ) (پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں سے فائدہ اُٹھاو (١)اپنے بڑھاپے سے پہلے اپنی جوانی کا اور (٢) اپنی بیماری سے پہلے اپنی صحت کا (٣) اور اپنی غُربت سے پہلے اپنی تونگری کا اور (٤) اپنی مشغولیت سے پہلے اپنی فراغت کا اور (٥) اپنی زندگی کا اپنی موت سے پہلے ) المستدرک الحاکم / کتاب الرقاق کی حدیث ٤ ، صحیح الترغیب الترھیب / حدیث ٣٣٥٥،
    اسی لیے سلف الصالح اِس بات کو بُرا جانتے تھے کہ اپنے فارغ وقت کو آخرت کمانے میں خرچ نہ کیا جائے اور ایسی فراغت جِس میں نہ آخرت کا کوئی کام کیا جائے اور نہ ہی دُنیاوی ضروریات میں سے کوئی کام کیا جائے کے بارے میں ایک عام کہاوت ہے کہ ''' فراغت مَردوں کے لیے غفلت کا سبب اور عورتوں کے لیے جنسی شہوت کا سبب ہوتی ہے '''
    یہ ہے سلف الصالح کی ایمانی فقہ ، قُران و سُنّت کی دلائل پر مبنی ، پس ہمیں اِسی طرح اپنی بُنیادی تعلیمات کو سمجھنا چاہیئے اور اِسی ایمانی فقہ کے ، مُطابق ''' فراغت اور اُس کے اِستعمال کا طریقہ ''' بھی سمجھنا چاہیے ، نہ کہ اِدھر اُدھر سے آئے ہوئے گُمراہ کُن غیر اِسلامی خیالات و فلسفوں کی بُنیاد پر ، جیسا کہ عام طور پر دیکنے اور سننے میں یہ آتا ہے کہ چُھٹیوں کے آگاز سے پہلے ہی طالب عِلم ( لڑکے اور لڑکیاں سب ہی ) چھٹیوں میں خوب سونے ، سیر سپاٹے کرنے ، کھیل کُود کے مختلف سلسلے اور مقابلے منعقد کرنے بلکہ کئی ناجائز اور حرام کاموں (مثلاً فلمیں ، ڈارمے ، ناچ گانے وغیرہ دیکھنے سُننے )میں اپنے اِس فارغ وقت کو صرف کرنے کے اِردوں کا اظہار کرتے ہیں ، اور وہ سب اور اُن کے بڑے اِنہی کاموں اور مشغولیات کو دُرست سمجھتے ہیں ، اور اِن کاموں کی تکمیل میں اُن کی مدد کرتے ہیں ، بلکہ صِرف وہ ہی کیا سارے کا سارا معاشرہ ہی اِس غلط فہمی اورکج روی کا مظاہرہ کرتا ہے اور اِس مہینوں لمبی فراغت کو ایسے کاموں میں خرچ کر کے برباد کرنے کو ذہنی اور روحانی سکون ، بلکہ زہنی و روحانی وقت میں اضافے کا باعث سمجھتا ہے ،
    لہذا ہم یہ دیکھتے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کے سونے جاگنے ، آنے جانے ، کھلینے پڑہنے میں اُنہیں تقریباً ہر قِسم کی آزادی دیے رکھتے ہیں کہ ''' چُھٹیاں ''' ہیں ، اگر اُن پر کہیں کوئی سختی کی جاتی ہے تو صِرف سکولز کا ہوم ورک وغیرہ ختم کرنے کے لیے ،
    جی ہاں یہ دُرست ہے کہ ہر پُر مُشقت کام کے بعد کچھ وقت آرام و سکون والا بھی چاہیے ہوتا ہے ، لیکن ایک مُسلمان اور اللہ پر سچا اور مکمل ایمان رکھنے والے کے لیے مندرجہ بالا کام نہ تو آرام والے ہوتے ہیں اور نہ ہی سُکون والے ، شرعی طور پر اِن میں سے اکثر کام تو مُطلقاً بُرائی کے زُمرے میں آتے ہیں ، اور باقی ایسے ہیں جو ایک خاص حد سے گذرنے پر بُرائی میں داخل ہو جاتے ہیں ،
    ::: کِسی کام کو کرنے کے وقت کو لمحات و لحظات میں ماپا جاتا ہے اور ہم اپنے دِنوں کے دِن بلکہ مہینوں کے مہینے ضائع کرتے ہیں :::
    صرف دُنیاوی معاملات میں بھی عُلوم اِدارہِ وقت (Scince of Time Managment ) والے ہر کام میں خرچ ہونے اور خرچ کیے جانے والے ہر ایک لمحے بلکہ لحظے تک کو بھی بہت اہم سمجھتے ہیں ، اور اُس کو ایسے طور پر خرچ کرنے کو کہ جِس کا اُن کے مادیت والے معیار کے مُطابق کوئی مُثبت نتیجہ نہ نکلتا ہو ، سراسر نُقصان اور حماقت قرار دیتے ہیں
    ہمارے اِسلامی معاشرے میں فراغت کو اِس طرح اِستعمال کِیا جاتا ہے کہ شخصیات خاص طور پر جوانوں کی شخصیات میں پائی جانے والی صفات کو دینی دُنیاوی اُخروی لحاظ سے بے فائدہ بلکہ نُقصان دہ کاموں اور مشغولیات میں خرچ کروا کر ختم یا کُند کر دِیا جاتا ہے ، جبکہ اِسلام میں اپنے وقت کو بالترتیب دِینی ، اُخروی اور دُنیاوی ، مُثبت نتائج اور فوائد والے کاموں میں صرف کرنے کی تعلیم و تربیت دی گئی ہے ، قُران و حدیث میں سے اُس کی دلیل گُذر چکی ہے ، اور بُررگان دِین کے اقوال میں بہت کچھ ایسا ملتا ہے جو ہمیں اپنے وقت کی قدر و قیمت کا احساس اور اُس کے صحیح اِستعمال کا ڈھنگ سکھاتا ہے ،
    مثلاً ، دوسرے بلا فصل خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، عُمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہُ کے بارے میں روایت کیا جاتا ہے کہ اُنکا فرمان ہے ''''' مجھے کبھی کوئی شخص بھلا محسوس ہوتا ہے ، لیکن جب مجھے یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ فارغ رہتا ہے تو وہ میری نظر سے گر جاتا ہے ''''' (١) اور فرمایا ''''' مجھے یہ پسند نہیں کہ میں تُم لوگوں میں سے کِسی کو فارغ دیکھوں کہ نہ دُنیا کے کاموں میں مشغول ہو نہ دِین کے '''''(٢) ، (١،٢، من مشکلات الشباب، لشیخ ابن عثمین رحمہُ اللہ)
    اِس طرح فارغ رہنا کہ نہ اپنی دُنیاوی زندگی کی ضروریات پوری کرنے میں مشغول ہو اور نہ ہی اپنی آخرت سنوارنے میں اِنسان کی ذہنی اور جسمانی صلاحیات کو بُری طرح سے نابود کر دیتا ہے اور فارغ اِنسان کا دِل و دماغ جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ سوچ و فِکر کی منفی نہج کا شکار ہو جاتا ہے ،
    کِسی عقل مند نے کیا خوب کہا ہے کہ ''' الوَقت کالسیف اِن لَم تَقطَعہُ قَطعکَ ::: وقت تلوار کی مانند ہے اگر تُم اُس کو نہیں کاٹو گے تو وہ تُمہیں کاٹ دے گا '''
    اِس قول کو اگر اِسلامی تعلیمات کے مُطابق سمجھا جائے تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ ''' وقت تلوار کی مانند ہے اگر تُم اُس کو مُناسب ہتھیار سے اور مُناسب طریقے سے نہیں کاٹو گے تو وہ تُمیں بھی کاٹے گا اور تمہارے ہتھیار کو بھی ضائع کرے گا ''' ،
    اگر اِنسان وقت کی قیمت جان لے اور اپنی فراغت کا مُثبت فائدہ مند حل تلاش کر لے تبھی وہ اپنے اِنسان ہونے اور اِس دُنیاوی زندگی میں اپنے موجود ہونے کے اصل مقصد کو سمجھ پاتا ہے ، اور وہ ہے اللہ کی عِبادت ،
    اِمام الحسن البصری رحمہُ اللہ سے منقول ہے کہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں فرمایا کرتے تھے ''' میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو اپنے وقت کو اُس سے زیادہ قیمتی سمجھتے تھے جتنا کہ تُم لوگ اپنے دراہم اور دیناروں کو سمجھتے ہو ''' ،
    اور عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہُ سے منقول ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ ''' میںسب سے زیادہ اپنے اُس دِن پر نادم ہوتا ہوں جِس کا سورج غروب ہوجائے اور میری عُمر میں سے ایک دِن کم ہو جائے لیکن میرے عمل میں کوئی اضافہ نہ ہوا ہو '''
    سُبحان اللہ ، ابن مسعود رضی اللہ عنہُ جیسے صحابی اگر اپنے وقت کا اِس طرح حساب کرتے تھے تو ہمارے اوقات اور دِن کیسے ہیں ؟ اپنی آخرت کے لیے کونسے نیک کام ہم اُن میں کرتے ہیں ؟؟؟
    ::: اپنی فراغت کے نفع بخش اِستعمال کے لیے منصوبہ بندی :::
    اپنے اوقات اور خاص طور پر فراغت کے وقت کے اِستعمال کی بہترین منصوبہ بندی وہ ہے جِس میں کہ ہر ایک لمحہ نفع بخش بنایا جائے اور شیطان کے لیے ایک پل کی فرصت بھی نہ رکھی جائے جِس میں وہ اِنسان کو کِسی بہکاوے ، گُناہ ، یا بُرائی کا شِکار کر لے اور ایسے کاموں میں مشغول کر دے جِن میں عقل و جسم کی مُشقت ، مال و وقت کا خرچہ بھی ہو اور نتیجے میں وہ کام کرنے والا اللہ کی رحمت سے دُور اور اللہ کے عذاب کے قریب ہو جائے ،
    مُسلمان اپنے دِین اِسلام کی تعلیمات کے مُطابق اپنے وقت کی قدر و منزلت جانتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ ایک ایک لمحہ اُس کی عُمر میں سے جا رہا ہے اور ہر ایک لمحے میںکیے ہوئے ہر ایک کام اور بات کا بدلہ اُسے ملنے ہی والا ہے ، لہذااپنے وقت کی مکمل حفاظت کرتا ہے ، اور اُسے اِس طرح اِستعمال کرتا ہے کہ وہ اُس کی دِینی ، دُنیاوی اور اُخروی زندگی میں کامیابی ، عِزت اور اپنے رب کی خوشی کے حصول کا سبب ہو ، نہ کہ اِس کے بر عکس ،
    ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر گُذر جانے والا دِن کبھی پلٹ کر آنے والا نہیں ، لہذا جو کچھ اُس میں کر لیا گیا وہ ہو چکا اور جو وقت اُس میں سے سے فارغ گُذار دِیا گیا وہ دوبارہ کبھی اِستعمال نہیں کیا جا سکتا ، اگر ہم اپنی اِسلامی تاریخ کا مُطالعہ کریں تو اُس کے صفحات ایسے لوگوں کے ذِکر سے بھرے نظر آتے ہیں جِنہوں نے اللہ کی اِس نعمت ''' فراغت ''' کو ٹھیک سے پہچانا اور اُس سے زیادہ ٹھیک طور پر اِستعمال کِیا ، اور وقت کی قدر و قیمت کو اپنے دِین کی تعلیمات کے مُطابق جانا اور اِستعمال کِیا اور اپنے اپنے وقت میں دینی و دُنیاوی عِلم ،کو تقوے ، کی کسوٹی پر رکھ کر سیکھا اور سیکھایا ، اور اللہ کی عبادات سے غافل نہ ہوئے اور نہ ہی اللہ کے دِین کی سر بُلندی کی جدوجہد سے ، اور پھر اپنے اپنے وقت میں میں ہر ایک سے بڑھ کر ہوئے ، اور اہلِ دِین و اہلِ دُنیا کے لیے عِلم و معرفت کا نفع بخش ذریعہ ہوئے ،مرنے کے بعد وہ لوگ زمین کی تہوں میں داخل کے دیے گئے ، لیکن اُن کا ذِکر برقرار ہے ، اُن کے مُحبت و احترام برقرار ہے ،
    کیا ہی بھلا ہو کہ ہم لوگ اپنی فراغت کے دِن ، گھنٹے ، منٹ بے کا ر یا گُناہ والی مشغولیات میں اپنی فراغت برباد کرنے کی بجائے اللہ کی یاد میں گُذاریں ، اپنا دِین سیکھنے اور سِکھانے میں گُذاریں ، ضرورت مندوں کی حاجت روائی میں گُذاریں ، چُھٹیوں سے پہلے ہی طالب عِلم بچے اور بچیاں ، لڑکے اور لڑکیاں
    اور اُن کے ذمہ دار یہ طے کر لیں اِن چھٹیوں میں کتنا قُران یاد کیا جائے گا اور اُسے سمجھا جائے گا ، کتنی احادیث سمجھ کر اُنہیں یاد کیا جائے گا ، اور اُنہیں زیادہ سے زیادہ نشر کرکیا جائے گا ، کن کن غریبوں ، ناداروں ، بیواوں کی مدد کی جائے گی ، ذاتی طور پر کی جائے یا لوگوں سے مل ملا کر اُن کی مدد کروائی جائے ، ایسے عِلم اور فن سیکھے جائیں جو عام معمول کی پڑہائی میں مُیسر نہیں ، لیکن فائدہ مند ہیں اوراگر حدودِ شریعت میں رہتے ہوئے اُن کا اِستعمال کیا جائے تو گُناہ کے زُمرے میں بھی نہیں آتے ، بلکہ ہماری دُنیا اور آ خرت میں فائدہ کا سبب بن سکتے ہیں ، مثلاً ، کمپیوٹر اور انٹر نیٹ وغیرہ سے متعلقہ کام سیکھے جائیں اور اُنہیں نیکی پھیلانے اور بُرائی روکنے کے لیے استعمال کیا جائے ، اللہ کے دِین کی نشر و اشاعت کے لیے اِستعمال کیا جائے ، کوئی بھی مشغولیت اختیار کرنے سے پہلے یہ یاد رکھا جائے کہ ،
    ::: اِنسان کی زندگی کے ہر لمحے کا حساب ہو گا :::
    جی ہاں اِنسان کی زندگی کے ہر ایک لمحے کا حساب ہو گا ، کوئی ایسا وقت یا گھڑی نہیں جو حساب سے خارج ہو گی ، جیسا کہ کچھ لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ پڑہائی لکھائی کے دِنوں یا چھٹیوں کے اوقات کا حساب نہ ہو گا کیونکہ وہ تو چھٹی کے دِن ہیں ، پس جو جی چاہے کیا جائے ، تا کہ سکون و راحت حاصل ہو ، اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ( کُل نَفسٍ بِمَا کَسبَت رَھینَۃٌ )( ہر جان اپنی کمائی کے بدلے (اللہ کے ہاں ) گروی رکھی ہوئی ہے ) سورت المدثر / آیت ٣٨، پس اِنسان جو بھی جب بھی جہاں بھی کمائے گا اُسی کے مُطابق ثواب یا عذاب پائے گا ، اِس میں سے کِسی وقت کے کِسی عمل کی چھوٹ نہیں ،
    ابی برزہ الاسلمی رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ( لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبدٍ یوم القِیَامَۃِ حتی یُسأَلَ عن أَربَعٍ (١)عن عُمُرِہِ فِیمَا أَفنَاہُ وَ(٢)عَن جَسَدِہِ فِیمَا أَبلَاہُ وَ(٣)عَن مَالِہِ من أَینَ اکتَسَبَہُ وَفِیمَا وَضَعَہُ وَ(٤) عَن عِلمِہِ مَاذَا عَمِلَ فیہ)( قیامت والے دِن بندے کے قدم اپنی جگہ سے ہلیں گے بھی نہیں جب تک اُس سے چار چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے گا (١) اُس کی عُمر کے بارے میں کہ کِن کاموں میں اُسے فناء کیا اور(٢) اُس کے جِسم کے بارے میں کہ کِن کاموں میں اُسے مُبتلا کِیا اور (٣) اُس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کِن کاموں میں خرچ کِیا اور (٤) اُس کے عِلم کے بارے میں کہ اُس پر کیسے عمل کِیا ) سُنن الدارمی /حدیث٥٣٧ ، سُنن الترمذی / حدیث ٢٤١٦/کتاب الزھد السلسلہ الصحیحہ /حدیث ٩٤٦،
    لہذا ہمیں بہت اچھی طرح سے جان لینا چاہیے کہ وقت خواہ چھٹی کا ہو یا کِسی کام میں مشغولیت کا اُس کا حساب بہرحال دینا ہی ہے اور جیسے وہ وقت کاٹا جائے گا ، جیسا اُس کا اِستعمال کیا گیا ہوگا ویسا ہی انجام ہو گا ، پس ہمیں اپنی فراغت کے اوقات اپنی آخرت سنوارنے میں اِستعمال کرنے چاہییں ، نہ کہ اُسے تباہ کرنے میں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اِس کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپبے وقت کی قدر جانیں اور اُسے اپنے دِین دُنیا اور آخرت کے فائدے اور عِزت والی مشغولیات میں اِستعمال کریں اور ایسے کام کریں جو نہ صرف ہمارے لیے بلکہ ہر مُسلمان اور ہر اِنسان کے لیے فائدہ مند ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    جزاکم اللہ خیرا :00002:
     
  3. یاسمین

    یاسمین -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 5, 2009
    پیغامات:
    385
    جزاکم اللہ خیرا کثیرا کثیرا،مومن کی چھٹی تو مرنے کے بعد ہی ہوتی ہے
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جزاكم اللہ خيرا
     
  5. ریحانہ

    ریحانہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 6, 2010
    پیغامات:
    19
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. حراسنبل

    حراسنبل -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏فروری 24, 2011
    پیغامات:
    534

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں