کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات اپنے رب کو دیکھا ہے

ابو طلحہ السلفی نے 'ماہِ رجب المرجب' میں ‏جولائی 8, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555

    کیانبی صلی اللہ علیہ وسلم نےمعراج کی رات اپنےرب کودیکھا ہے


    سعودی عرب کے نامورعالم دین شیخ محمد صالح المنجد رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:

    کیانبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےجس دن جنت اورجہنم کودیکھااپنے رب کوبغیرکسی پردہ کےدیکھا ؟
    اگرجواب ہاں میں ہوتومیں آپ سےگزارش ہےکہ آپ کتاب وسنت سےاس کی دلیل ارسال فرمائیں ۔


    اس پر شیخ کا جواب ملاحضہ کیجیے:

    الحمدللہ

    اکثرصحابہ اکرام رضی اللہ تعالی عنہم کایہ مسلک ہےنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات اللہ تعالی کوبعینہ نہیں دیکھا ۔

    عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسےیہ ثابت ہےان کابیان ہے : آپ کواگرکوئی یہ حدیث بیان کرےکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنےرب کودیکھاہےتووہ جھوٹاہےاوراللہ تعالی کاتویہ فرمان ہے { اسےآنکھیں نہیں پاسکتیں ۔۔۔۔۔}

    صحیح بخاری ( التوحیدحدیث نمبر 6832)

    اورابوذر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہیں کہ میں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاکیاآپ نےاپنےرب کودیکھاہےتوانہوں نےفرمایا : نورکومیں کیسےدیکھ سکتاہوں ۔

    صحیح مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر (261)

    اورابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہیں کہ { دل نےجھوٹ نہیں کہاجسے (پیغمبرنے) دیکھااسےتوایک مرتبہ اوربھی دیکھا } ابن عباس فرماتےہیں کہ اسےآپ نے دومرتبہ دل کےساتھ دیکھا ۔صحیح مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر (258)

    ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کہتےہیں کہ :

    عثمان بن سعیدالدارمی نےاپنی کتاب الرؤیہ میں صحابہ اکرام کااجماع بیان کیاہےکہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےمعراج کی رات اپنےرب کونہیں دیکھا ، اوربعض نےابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکواس سےمستثناکیا ہے ۔

    ہمارےشیخ کاکہناہےکہ اس میں حقیقتاکوئی اختلاف نہیں کیونکہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم نےیہ نہیں کہاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی آنکھوں سےدیکھاہے ۔

    امام احمدرحمہ اللہ تعالی نےایک روایت میں اسی پراعتمادکرتےہوئےکہاہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاللہ عزوجل کودیکھاہےلیکن یہ نہیں کہاکہ آنکھوں سےدیکھاہے اورامام احمدرحمہ اللہ تعالی کےالفاظ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکےہی الفاظ ہیں ۔

    ہمارےشیخ کاقول صحیح ہونےکی دلیل ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ کی دوسری حدیث کا مسنی ہےجس میں یہ ہےکہ اس کاحجاب نورہےاوریہ نوراللہ ہی جانتاہےکہ وہی نورہےجوکہ ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں مذکورہےکہ میں نےنوردیکھا ۔

    دیکھیں کتاب : اجتماع الجیوش الاسلامیۃ جلدنمبر۔(1۔صفحہ نمبر ۔12)

    اورشیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی کاقول ہے :

    فصل : اور رؤیت کےمسئلہ میں بخاری میں جوابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے ثابت ہےکہ انہوں نےکہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنےرب کودومرتبہ دل سےدیکھاہے اورعائشہ رضی اللہ تعالی عنہمانےرؤیت کاانکارکیاہےتوکچھ لوگوں نےان دونوں کےدرمیان جمع کرتےہوئےکہاہےکہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاآنکھوں کی رؤیت کاانکارکرتیں ہیں اورابن عباس رضی اللہ تعالی عنہمانےرؤیت قلبی کوثابت کیاہے ۔

    توابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسےثابت شدہ الفاظ مطلق ہیں اوریاپھرمقیدہیں کبھی تووہ یہ کہتےہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنےرب کودیکھااورکبھی کہتےہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےدیکھا ۔

    توابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسےصریح الفاظ ثابت نہیں جن میں یہ ملتاہوکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنےرب کواپنی آنکھوں سےدیکھاہے ، اورایسےہی امام احمدرحمہ اللہ تعالی بھی کبھی مطلق رؤیت ذ کرکرتےہیں اورکبھی یہ کہتےہیں کہ اپنےدل کےساتھ دیکھااورکوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ اس نےامام احمدرحمہ اللہ تعالی سےیہ سناہوکہ انہوں نے یہ کہاہونبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی آنکھوں سےدیکھاہے ۔

    لیکن کچھ لوگوں نےان سےیہ مطلق کلام سنی اوراس سےآنکھوں کی رؤیت سمجھ لی جس طرح کہ بعض لوگوں نےابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکی مطلق کلام سن کرآنکھوں کی رؤ یت سمجھ لی ۔

    تودلائل میں کوئی ایسی دلیل نہیں رؤیت عین کاتقاضا کرتی ہواورنہ ہی یہ ثابت ہےجیساکہ صحیح مسلم میں ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ سےحدیث مروی ہےوہ بیان کرتےہیں کہ میں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سےپوچھاکیاآپ نےاپنےرب کودیکھاہےتوانہوں نےفرمایا : نورکومیں کیسےدیکھ سکتاہوں ۔

    اوراللہ تبارک وتعالی نےتویہ فرمایاہے :

    { پاک ہےوہ اللہ تعالی جواپنےبندےکورات ہی رات میں مسجدحرام سےمسجداقصی تک لےگیاجس کےآس پاس ہم برکت دے رکھی ہےاس لئےکہ ہم اسےاپنی قدرت کےبعض نمونےدکھائیں }۔

    تواگراللہ تعالی نےبعینہ اپنےآپ کودکھایاہوتاتواس کاذ کربطریق اولی ہوتااوراسی طرح اللہ تبارک وتعالی کایہ فرمان بھی ہے :

    { کیاتم جھگڑاکرتےہواس پرجو ( پیغمبر ) دیکھتےہیں اسےتوایک مرتبہ اوربھی دیکھاتھاسدرۃ المنتہی کےپاس اسی کےپاس جنتہ الماوی ہےجب کہ سدرہ کوچھپائےلیتی تھی وہ چیزجواس پرچھارہی تھی نہ تونگاہ بہکی اورنہ حدسےبڑھی یقینااس نےاپنےرب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سےبعض نشانیاں دیکھ لیں }۔

    تواگرنبی صلی اللہ علیہ وسلم نےبعینہ دیکھاہوتااس کاذ کربطریقہ اولی ہوتا ۔

    توشیخ الاسلام کہتےہیں کہ : اورصحیح نصوص اورسلف کےاتفاق سےبات ثابت ہے کہ دنیامیں اللہ تعالی کواپنی آنکھوں سےکو‏ئي بھی نہیں دیکھ سکتامگریہ کہ جس میں ان کا جھگڑاہےکہ آیانبی صلی اللہ علیہ وسلم نےدیکھاہےکہ نہیں اس خاص مسئلہ میں اختلاف ہے۔

    اوراس پراتفاق ہےکہ قیامت کےدن مومن اللہ تعالی کوواضح طورپردیکھیں گےجس طرح کہ وہ سورج اورچاندکودیکھتےہیں ۔ اھـ.

    مجموع الفتاوی جلدنمبر ۔( 6 ۔صفحہ نمبر ۔51 ۔ 50)


    بشکریہ اسلام سوال و جواب
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 8, 2010
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
  3. عبدل

    عبدل -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جون 29, 2010
    پیغامات:
    320
    ابو طلحہ بھائ نے بڑے اھم موضوع کی طرف توجہ دلائی ھے -یہ صوفیوں کا بہترین رد ھے جو یہ کہتے ھیں کہ اللہ ھر چیز میں ھے - یعنی عقیدہ وحدت الوجود- طاہر القادری اپنی ایک تقریر میں کہتا ھے کہ معراج کی رات اللہ اور رسول ملے تو دونوں ایک ھو گئے تھے-
    پھر پنجابی میں ایک شعر پڑھتا ھے کہ(( ایک ایک ایک جیڑا ایک نوں دو آکھے اوہ مشرک)) اللہ ھمیں اس صوفیانہ عقیدے سے بچائے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. asimmithu

    asimmithu -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏فروری 26, 2010
    پیغامات:
    182
    یہ عقیدہ واضح کفر کا عقیدہ ہے جو کہ اسلام کی بیس توحید کا قاتل عقیدہ ہے، اللہ ایسے جاہلوں کے شر سے بچا کر رکھے، آمین
     
  5. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    جزاک اللہ ابو طلحہ بھائی اور رفی بھائی!
    اب معراج کے دن آگئے اور بدعتیوں کی مستی شروع۔
    اب وہ نہ دین کا خیال کریں گے اور نہ دنیا کا۔
    دین و دنیا دونوں کی دھجیاں اڑائيں گے اپنے بدعتی اور مشرکانہ رسم و رواج کے ذریعہ۔
    اللہ ان کو ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین
    والسلام علیکم
     
  7. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,422
  8. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    جزاکم اللہ خیرا وبارک فیکم
     
  9. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,638
    جزاک اللہ خیرا Abu-Talha Salfi بھائی
     
  10. Abu Salih Almadani

    Abu Salih Almadani -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2010
    پیغامات:
    20
    جزاک اللہ خیرا ابو طلحہ بھائی
     
  11. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277


    میں اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کے لیے آپ سے پوچھنا چاھتا ہوں کہ اللہ تعالٰی جو یہ ارشاد فرماتا ہے کہ
    "کیا تم جھگڑے ہو اس بات پر کہ جو پیغمبر (صلی اللہ علیہ و سلم)دیکھتے ہیں "

    یہ کوں لوگ تھے جو جھگڑ رہے تھے اور کس بات پر جھگڑ رہے تھے ؟

    اور دنیا میں کوئی اللہ تعالٰی کو اپنی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا لیکن کیا عرش اعلٰی پر بھی کوئی اللہ تعالٰی کو اپنی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ؟
    لیکن جب اس بات پر اتفاق ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالٰی کو ہر مومن اپنی آنکھ سے واضع دیکھے گے جس طرح وہ سورج چاند کو دیکھتے ہیں پلیز اس کی وضاحت فرمادیں
     
  12. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555
    محترم خرم سابقاً بہرام صاحب آپ کی یہ عادت ہے کہ آپ معلومات میں اضافے کا بہانے سے ہمیشہ خلط مبحث سے کام لیتے آئے ہیں۔ بحث کی گنجائش وہاں ہوتی ہے جہاں دلیل نہ ہو یا دلیل مبہم ہو لیکن جہاں نصوص موجود ہوں وہاں کسی بحث کی گنجائش نہیں ہوتی۔

    عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسےیہ ثابت ہےان کابیان ہے : آپ کواگرکوئی یہ حدیث بیان کرےکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنےرب کودیکھاہےتووہ جھوٹاہےاوراللہ تعالی کاتویہ فرمان ہے { اسےآنکھیں نہیں پاسکتیں ۔۔۔۔۔}

    صحیح بخاری ( التوحیدحدیث نمبر 6832)

    اگر تو آپ پرویزی ہو تب تو میں آپ سے مزید گفتگوکرسکتا ہوں بصورت دیگر اس موضوع پر مزید بحث کی کوئی گنجائش نہیں۔
     
  13. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    جزاكم اللہ خيرا سلفى بھائی
     
  14. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    جناب ابو طلحہ سلفی
    جب یہ بات ہے کہ
    اسے آنکھیں نہیں پاسکتیں

    تو پھر بروز قیامت اسے آنکھیں کیسے پا لیں گی

    عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسےیہ ثابت ہےان کابیان ہے : آپ کواگرکوئی یہ حدیث بیان کرےکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنےرب کودیکھاہےتووہ جھوٹاہےاوراللہ تعالی کاتویہ فرمان ہے { اسےآنکھیں نہیں پاسکتیں ۔۔۔۔۔}

    یہ حدیث شریف قول ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ہے
    اور سلفی عقیدے کے مطابق سوائے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہر شخص کی بات رد کی جاسکتی ہے یا نہیں ؟

    امید اب آپ میرے سوالوں کے جوابات عنایت فرمادیں گے اور خلط مبحث کا بہانہ نہیں بنا

    ئیں گے
     
  15. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ
    خرم صاحب! کیا آپ اس بات کے قائل اور داعی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کو معراج کی رات دیکھا ہے؟ آپ یہ بتلا دیں تا کہ بات واضح ہو سکے۔



    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔ ​
     
  16. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555
    کیونکہ کہ قیامت کے دن اللہ کو دیکھنے کی تخصیص خود قرآن میں موجود ہے۔

    سلفی عقیدہ تو صحیح طرح بیان کیجیے۔ علماء اہلحدیث کے فتاوی یہاں ملاحضہ کیجیے اس سے یہ بات واضح ہے کہ جس کسی کی بات کتاب و سنت کے خلاف ہو تب اس کی بات کو رد کیا جا سکتا ہے جبکہ یہاں تو حصرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات قرآن کے عین مطابق ہے۔
     
  17. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    اور یہ بھی قرآن کی ھی آیت ہے

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    { کیاتم جھگڑاکرتےہواس پرجو ( پیغمبر ) دیکھتےہیں اسےتوایک مرتبہ اوربھی دیکھاتھاسدرۃ المنتہی کےپاس اسی کےپاس جنتہ الماوی ہےجب کہ سدرہ کوچھپائےلیتی تھی وہ چیزجواس پرچھارہی تھی نہ تونگاہ بہکی اورنہ حدسےبڑھی یقینااس نےاپنےرب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سےبعض نشانیاں دیکھ لیں }۔

    اور اس آیت مبارکہ کی وضاحت کے لیے میں نے آپ سے معلوم کیا تھا کہ

    1) یہ جھگڑا کرنے والے کون ہیں ؟

    2) اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کیا دیکھنے پر جھگڑا کر رہے تھے ؟
     
  18. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ
    خرم صاحب! اسکا جواب عنایت فرمائیں!!


    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  19. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    یہاں بھی فنکاری شروع کردی آپ نے
     
  20. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ
    خرم صاحب! جواب عنایت فرمائیں!!

    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں