رفی پیڈیا!

رفی نے 'ادبی مجلس' میں ‏جولائی 11, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    شرم، حیا اور ایتھکس!


    کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے

    میرے ملک میں اتنے خوبصورت اور ذہین لیکن غریب نوجوان ہیں کہ اگر ان کی تصاویر اور کہانیاں سوشل میڈیا پر ڈالی جائیں تو یہ دیسی لبرلز غش کھا کر مر ہی جائیں۔ لیکن کیا ہے کہ انہیں نہ تو کسی غریب پر بلا وجہ ترس آتا ہے اور نہ محبت۔ بلکہ ان کا ایجنڈا تو بقول ان کے بے حیائی پھیلانے کے لئے کھلی جنگ کرنا ہے۔ جس کے ذریعے مغربی کلچر کا فروغ ممکن ہو سکے اور عوام کو مشرقی اقدار کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات سے دور رکھا جا سکے۔ یہ کون لوگ ہیں جو میڈیا پر اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو ایک چائے والے کے پیچھے لگا کر فخریہ پروموٹ کر رہے ہیں۔ وہ بیچارہ جو عزت اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ پانچ سو کی دیہاڑی لگاتا ہے اسے لاکھوں میں خرید رہے ہیں پھر وہی مصر کا بازار لگا ہے اور پھر یوسف کی طرح کسی کی عزت خطرے میں پڑی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ اسے نظر بد سے محفوظ رکھے اور ایمان سلامت رکھے۔ مصری کہاوت ہے کہ دولت جب بولتی ہے تو سچائی بعض دفعہ خاموش ہو جاتی ہے کے مصداق لگتا ہے کہ دولت کے آگے ایمان بھی خاموش ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ایمان کے ڈاکوئوں نے اسے بھی عزت کی روٹی کمانے کے بجائے "سب کچھ" کرنے پر مائل کر دیا ہے۔ کہاں گئی وہ مشرقی اقدار جن میں ایک شادی شدہ عورت دوسروں کے سامنے اپنے شوہر کو نام بھی نہیں لیتی کجا یہ کہ نوجوان لڑکیاں کسی کے حسن سے متاثر ہو کر سیلفیاں لیتی پھریں اور فی میلز نیوز اینکرز لہک لہک کر چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے کسی کے حسن کی تعریف کرتی پھریں۔
    اس سےدیسی لبرلز کا شعور بھی اجاگر ہوتا ہے کہ بحیثیت مجموعی کس سطح پر ہے۔ صنف نازک تو ایک طرف صنف کرخت بھی اس بے حیائی کے فروغ میں پیچھے نہیں رہی جو اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو ایک چائے والے کے حسن کی تحریک دے کر ہوس کا غلام بنا رہے ہیں۔

    اور ہاں اسے صنفی رقابت نہ سمجھئے گا کیونکہ چائے تو میں خود بہت اچھی بنا لیتا ہوں!
     
    Last edited: ‏اکتوبر، 18, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    بہت خوب شاہ جی۔
    آج اسی حوالے کسی نے ایک کلپ بھیجا تھا۔ کسی ٹی وی چینل کی کوئ نمائندہ خاتون اس چاۓ والے کے سامنے کھڑی ہو کر چاے پیتے ہوۓ اس کی خوبصورتی کی تعریف کر رہی تھی۔ اس وقت میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ وہ خواتین جو وہاں جا کر اس کے سامنے کھڑے ہوکر سیلفیاں بنوا رہی ہیں کیا ان کے والدین نہیں ہوں گے؟ کیا ان کے بھائ نہیں ہوں گے، اور اگر ہوں گے تو ان کی غیرت ان سے رخصت ہو چکی ہے۔
    اس سب میں ایک بات جو مجھے اچھی لگی وہ یہ کے اس چاۓ والے سے جب اس خاتون نے پوچھا کہ اگر تمہیں فلموں وغیرہ کی آفر ہوئ تو تم کیا کروگے۔ تو اس نے جواب دیا کہ نہیں وہ سب نہیں کروں گا اور اسی طرح عزت کی روٹی کماتا رہوں گا۔ گویا کہ اس کے نزدیک فلموں وغیرہ میں کام کرنا بے عزتی، اور بے غیرت لوگوں کا کام ہے ہے۔
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    عزت کی روٹی والا بیان بھائی نے شام تک بدل لیا تھا۔ اب تو سنا ہے کہ ماڈلنگ کا کوئی کانٹریکٹ بھی سائن کر لیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    یعنی پہلے حلال کماتا تھا ۔ اور اب۔۔۔۔۔۔۔ !
    خود ہی کہ رہا تھا کہ یہ عزت والا کام ہی اچھا ہے ۔
    بہرحال اللہ اسے ہدایت دے آمین!
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں