ماہِ شعبان کے روزے، مسنون عمل!

رفی نے 'ماہِ شعبان المعظم' میں ‏جولائی 17, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,208
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ماہِ شعبان کے کسی خاص دن کو مقرر کئے بغیر اس میں بکثرت نفلی روزے رکھتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ "نبی صلی اللہ علیہ و سلم (نفلی) روزے اس کثرت سے رکھتے کہ ہم کہتے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ و سلم کسی دن کا روزہ نہیں چھوڑیں گے اور کبھی مسلسل روزے نہ رکھتے تو ہم سمجھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کبھی (نفلی) روزہ نہیں رکھیں گے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو کسی بھی ماہ کے مکمل روزے رکھتے نہیں دیکھا سوائے رمضان کے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو شعبان سے زیادہ کسی ماہ کے روزے (نفلی) رکھتے نہیں دیکھا" (بخاری، مسلم)۔

    اس موضوع کی احادیث صحاح و سنن میں بکثرت ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہہ سے بھی مروی ہے کہ "نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے رمضان کے علاوہ کسی ماہ کے روزے کبھی بھی پورے نہیں رکھے" ایسی ہی دوسری احادیث کا مجموعی مفاد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم حسبِ موقع اور حسبِ فرصت کبھی مسلسل روزے رکھتے چلے جاتے اور کبھی مسلسل چھوڑتے ہی چلے جاتے جبکہ ہر ماہ کے ایامِ بیض یعنی چاند کی 13، 14، 15 تاریخ کے اور ہر ہفتہ میں پیر اور جمعرات کے روزے بھی رکھا کرتے تھے۔

    ماہِ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے تو ماہِ محرم کے ہیں جیسا کہ صحیح مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں وارد ہے البتہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے محرم سے بھی زیادہ شعبان کے روزے رکھے ہیں۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس بات کا بھی احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو ماہِ محرم کے روزوں کا شعبان کے روزوں سے افضل ہونا بعد میں بتایا گیا ہو اور عمر کے آخری حصہ میں اس بات کا علم ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم بکثرت روزے نہ رکھ سکے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اتفاق سے ماہِ محرم میں سفر اور مرض وغیرہ کے عذر کی وجہ سے اس کے روزوں کی کثرت نہ فرما سکے ہوں۔ علامہ یمانی امیر صنعانی رحمۃ اللہ علیہ نے سبل السلام میں لکھا ہے "اس بات کا جواب یہ بھی دیا جا سکتا ہے کہ ماہِ محرم کے روزوں کی فضیلت حرمت والے مہینوں میں سب سے زیادہ ہو، یعنی عام مہینوں‌ کی نسبت سے تو شعبان کے روزے افضل ہوں مگر حرمت والے 4 مہینے، ذوالقعدہ، ذوالحجۃ، محرم اور رجب اس سے مستثنٰی ہوں کیونکہ ان 4 مہینوں کی فضیلت ماہِ رمضان کے سوا دوسرے عام مہینوں سے ویسے ہی زیادہ ہے۔ پھر ان فضیلت والے مہینوں‌ میں سے بھی محرم کے روزے زیادہ فضیلت والے ہوں"۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ماہِ شعبان کے اکثر روزے رکھنے کی متعدد وجوہ بیان کی گئی ہیں، حتٰی کہ حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری میں، علامہ یمانی رحمۃ اللہ علیہ نے سبل السلام میں اور دیگر شارحین نے اپنی اپنی کتب میں بعض روایات بھی نقل کی ہیں، جن میں اس کا سبب بھی مذکور ہے مگر وہ چونکہ ضعیف روایات ہیں لہٰذا ان سے قطع نظر اس سلسلے میں صحیح ترین حدیث وہ ہے جو کہ ابو داؤد و نسائی اور صحیح ابنِ خذیمہ میں ہے جس میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم! "میں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو ماہِ شعبان جتنے (نفلی) روزے کسی دوسرے مہینے کے رکھتے نہیں‌ دیکھا" تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا "یہ ایسا مہینہ ہے جو رجب اور رمضان کے درمیان ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں۔ یہ مہینہ وہ ہے کہ جس میں لوگوں کے اعمال رب العالمین کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور میں‌ یہ چاہتا ہوں‌ کہ میرا یہ عمل ایسی صورت میں اٹھایا جائے کہ میں‌ روزے کی حالت میں ہوں" (فتح الباری و سبل السلام)

    ماہِ شعبان میں کثرتِ صیام کی ایک توجیہ یہ بھی منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہما ماہِ رمضان میں قضاء ہونے والے روزے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے موجود ہونے کی وجہ سے مؤخر کرتی رہتیں، حتٰی کہ شعبان آجاتا تو وہ اپنے قضاء شدہ روزے رکھتیں، ساتھ ہی نبی صلی اللہ علیہ و سلم بھی نفلی روزے رکھ لیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ہر سنت مبنی بر حکمت اور کسی نہ کسی برائی کو دور کرنے والی ہے۔

    ماہِ شعبان کے روزے مطلق ہیں نہ خاص 15 شعبان کا روزہ کیونکہ خاص 15 شعبان کے بارے میں پائی جانے والی روایت ضعیف ہے۔ یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ 15 شعبان کے بعد نفلی روزے نہیں رکھنے چاہیئیں، جیسا کہ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے "جب نصف شعبان ہو جائے تو بعد میں‌ روزے نہ رکھو یہاں تک کہ ماہِ رمضان داخل نہ ہو جائے" (صحیح ابو داؤد)

    "المرقاۃ" میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کے بقول، اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ شعبان کے روزے چاہے کتنے ہی فضیلت والے کیوں نہ ہوں، مگر ہیں تو نفلی جبکہ آگے رمضان المبارک کے فرض روزوں کا مہینہ ہے، لہٰذا اس کی تیاری کے لئے قوت جمع کی جائے تا کہ کہیں آدمی کمزوری و ضعف کا شکار نہ ہو جائے اور کہیں اُس مہینہ کے فرض روزوں میں قضاء کی نوبت نہ آجائے۔ حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں "شعبان میں کثرتِ صیام کی فضیلت یا نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کثرتِ صیام کی سنت اور نصفِ ثانی کے روزوں کی ممانعت میں کوئی تعارض و تضاد نہیں اور ان دونوں باتوں میں مطابقت پیدا کرنا ممکن ہے کہ یہ ممانعت ان لوگوں کے لئے ہے جو عموماً سال بھر کے دوران روزے رکھنے کے عادی نہ ہوں اور کسی وجہ سے شعبان کے نصفِ ثانی میں شروع کر دیں جبکہ ہر ماہ میں‌ جو شخص ایامِ بیض، ہر ہفتہ میں‌ پیر و جمعرات یا ہر دوسرے دن کا روزہ یعنی صومِ داؤدی رکھنے کا عادی ہو، اسے ان ایام میں روزے رکھنے کی بھی ممانعت نہیں‌ ہوگی لہٰذا دونوں طرح کی احادیث کا تعارض ختم ہو گیا"۔

    اسی طرح ہی ماہِ رمضان سے ایا یا دو دن قبل روزہ رکھنے کی بھی ممانعت ہے (دیکھئے: بخاری، مسلم و ابی داؤد) ان 2 یا صرف ایک روزے کی ممانعت بھی اُن لوگوں کے لئے ہے جو رمضان المبارک کی "سلامی" کا روزہ شمجھ کر رکھیں اور سال بھر کے عادی روزہ دار کا چونکہ ایسی باتوں یا "سلامیوں" سے ککوئی علاقہ نہیں ہوتا، لہٰذا اس کی بات ہی الگ ہے اور خاص شعبان کی آخری تاریخ کا روزہ محض اس شک کی بنا پر رکھنا کہ شاید چاند ہو گیا ہو مگر کسی وجہ سے نظر نہ آسکا ہو لہٰذا ہم اُس دن کا روزہ رکھ لیتے ہیں، اس بات کی بھی نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سخت تردید فرمائی ہے۔ شک کے دن کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے اور بعض صحیح احادیث کی رو سے شک کے دن کا روزہ رکھنا نہ صرف ممنوع بلکہ حرام ہے۔

    (مضمون: محمد منیر قمر، بشکریہ روشنی )

     
    Last edited: ‏اپریل 30, 2018
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,052
    جزاكم اللہ خيرا وبارك فيكم
     
  3. عبداللہ

    عبداللہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2007
    پیغامات:
    74
    جزاک اللہ خیراً
     
  4. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,422
  5. بنت امجد

    بنت امجد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2013
    پیغامات:
    1,570
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,691
    جزاک اللہ خیرا
     
  7. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,863
    جزاک اللہ خیرا
     
  8. صادق تیمی

    صادق تیمی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 21, 2018
    پیغامات:
    19
    پورے نصوص سے پر اچھی و تشفی بخش معلومات ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,368
    ماہِ شعبان کے نفل روزوں کی شرعی حیثیت
    -----------------------------------------

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض کے علاوہ نفلی روزہ کثرت سے رکھا کرتے تھے اور صحابہٴ کرام کو اس کی ترغیب بھی دیتے تھے، ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:

    (۱) ”آدمی کے ہر اچھے عمل کا ثواب دس گنے سے سات سو گنے تک بڑھایا جاتا ہے؛ مگر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ روزہ اس عام قانون سے مستثنیٰ ہے، وہ بندہ کی طرف سے خاص میرے لیے تحفہ ہے، اور میں ہی (جس طرح چاہوں گا) اس کا اجر وثواب دوں گا، میرا بندہ میری رضا کے واسطے اپنی خواہشِ نفس اور اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے (پس میں خود ہی اپنی مرضی کے مطابق اس کی قربانی اور نفس کُشی کا صلہ دوں گا) روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے مالک ومولیٰ کی بارگاہ میں حضوری اور شرفِ باریابی کے وقت، اور قسم ہے کہ روزہ دار کے منھ کی بو، اللہ کے نزدیک مُشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے اور روزہ (دنیا میں شیطان اور نفس کے حملوں کے لیے اور آخرت میں دوزخ کی آگ سے حفاظت کے لیے) ڈھال ہے اور جب تم میں سے کسی کا روزہ ہوتو اسے بے ہودہ اور فحش باتیں نہیں بکنا چاہیے اور نہ ہی شور وغُل کرنا چاہیے اور اگر کوئی دوسرا اُسے گالی دے یا جھگڑے تو کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں“ (بخاری ومسلم بحوالہ معارف الحدیث:۴/۱۰۵)

    (۲) ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ہر چیز کی ایک زکوٰة ہوتی ہے (جس کے نکالنے سے وہ چیز پاک ہوجاتی ہے) اور جسم کی زکوٰة روزہ رکھنا ہے۔ (ابن ماجہ، مشکوٰة: ص:۱۸۰)

    (۳) حضرت ابوامامہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ: جو آدمی اللہ کے راستے میں (یعنی اللہ واسطے) ایک دن روزہ رہے، اس کے لیے اللہ رب العزت اس کے اور جہنم کے درمیان خندق (گڑھا) کھود دیتے ہیں، جس کی چوڑائی آسمان وزمین کے برابر ہوتی ہے۔ (حاصل یہ کہ اس بندے کا جہنم میں داخل ہونا محال ہے) (ترمذی، مشکوٰة: ص:۱۸۰)

    (۴) حضرت ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جو آدمی اللہ کے راستے میں (اللہ واسطے) ایک دن روزہ رہے تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے (یعنی جسم) کوجہنم سے ستر سال دور فرمادیں گے۔ (بخاری ومسلم، مشکوٰة: ص:۱۷۹)

    (۵) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جو آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی وخوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایک دن روزہ رہے اللہ تعالیٰ اس کو جہنم سے اتنا دور فرمادیں گے، جتنا چوزہ ہونے کی عمر سے کھوسٹ بڈھا ہوکر مرنے تک برابر اڑنے والا کوّا دوری طے کرتا ہے۔ (مشکوٰة:۱۸۱)

    مذکورہ بالا تینوں (۳،۴،۵) روایتوں میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رہنے کی برکت سے جہنم سے چھٹکارہ پانے کی یقینی صورت کو مختلف انداز میں بیان فرمایا ہے، مطلب ایک ہی ہے؛ البتہ اسلوبِ بیان الگ ہے، آسمان وزمین کے برابر خندق کھودنے کا مطلب ہے کہ اس بندے کا جہنم میں داخل ہونا بہت مشکل ہے۔ ”ستر“ کا عدد عرب اپنے محاورے میں کثرت کے مبالغہ کے لیے بولا کرتے تھے؛اس لیے ستر سال دوری کا مطلب ہے کہ وہ جہنم سے بہت دور ہوجائے گا۔ ”کوّا“ کی عمر بڑی لمبی ہوتی ہے، عرب میں لمبی مدت کے لیے کوے کی عمر کو کنایہ اور استعارہ کے طور پر بولتے ہیں، ظاہر سی بات ہے کہ کوّا اگراپنے چوزے پن کی حالت میں اڑنے لگے اور کھوسٹ بڈھا ہوکر مرنے تک اڑتا ہی رہے تو کتنی زیادہ مسافت طے کرے گا، اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، اسی طرح اللہ ربُّ العزت نفل روزہ رکھنے والے کو جہنم سے اتنا دور فرمادیں گے کہ وہ واپس جہنم میں جاہی نہیں سکے گا۔

    نفل روزوں میں اعتدال

    اسلام اعتدال ومیانہ روی کی تعلیم دیتا ہے، نفل عبادتیں اتنی ہی محمود ہیں، جن کے ساتھ آدمی اپنے جسم وجان، عزیز وقریب اور زیردستوں کی پوری ذمہ داری کو بہ حسن وخوبی نبھاسکے، سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر شفقت کرتے ہوئے نوافل میں اعتدال کی راہ بتائی؛ اس لیے ہر مہینے میں صرف تین دن روزہ کو صوم الدہر (ہمیشہ روزہ رہنے) کے برابر بتایا، اور مزید قوت وطاقت ہوتو ایک دن روزہ ایک دن فاقہ کرکے نصف ماہ روزہ کی اجازت دی اور قرآن پاک کو مہینہ میں ایک بار ختم کرنے کی تعلیم دی اور اگر ہمت وطاقت ہوتو ہفتہ میں ایک بار ختم کی اجازت دی۔ (مشکوٰة: ص:۱۷۹) اس لیے ہمیں اعتدال کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔

    شعبان میں نفل روزے

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفلی روزے (کبھی) مسلسل رکھنے شروع کرتے یہاں تک کہ ہمیں خیال ہوتا کہ اب ناغہ نہیں کریں گے اور (کبھی) بغیر روزے کے مسلسل دن گذارتے؛ یہاں تک کہ ہمیں خیال ہونے لگتا ہے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلا روزہ ہی رہیں گے۔ نیز فرماتی ہیں کہ: میں نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے کا پورا روزہ رکھتے نہیں دیکھا، اسی طرح کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ نفلی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (مشکوٰة:۱۷۸) بعض روایتوں میں ہے کہ شعبان کے مہینہ میں بہت کم ناغہ کرتے تھے، تقریباً پورے مہینے روزے رکھتے تھے۔ (الترغیب والترہیب:۲/۱۱۷)

    احادیث کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ نفلی روزوں کے سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی لگا بندھا دستور ومعمول نہیں تھا، کبھی مسلسل روزے رکھتے، کبھی مسلسل ناغہ کرتے؛ تاکہ امت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں زحمت، مشقت اور تنگی نہ ہو، وسعت وسہولت کا راستہ کھلا رہے، ہر ایک اپنی ہمت، صحت اور نجی حالات کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرسکے، اسی لیے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایامِ بیض (۱۳،۱۴،۱۵ تاریخوں) کے روزے رکھتے، کبھی مہینے کے شروع میں ہی تین روزے رکھتے، کسی مہینہ میں ہفتہ، اتوار اور پیر کے روزے رکھتے تو دوسرے مہینے میں منگل، بدھ اور جمعرات کے روزے رکھتے، کبھی جمعہ کے روزے کا اہتمام کرتے، اسی طرح عاشورہ اور شوال کے چھ روزے رکھنا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔

    شعبان کے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کثرت سے روزے رکھنے کی علماء نے کئی حکمتیں بیان کی ہیں:

    ۱- چوں کہ اس مہینہ میں اللہ رب العزت کے دربار میں بندوں کے اعمال کی پیشی ہوتی ہے؛ اس لیے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ: میں چاہتا ہوں کہ جب میرے اعمال کی پیشی ہوتو میں روزے کی حالت میں رہوں، یہ بات حضرت اسامہ بن زید کی روایت میں موجود ہے۔ (نیل الاوطار:۴/۲۴۶)

    ۲- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے کہ: پورے سال میں مرنے والوں کی فہرست اسی مہینے میں ملک الموت کے حوالے کی جاتی ہے؛ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بارے میں ملک الموت کو احکام دیے جائیں تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوں۔ (معارف الحدیث: ۴/۱۵۵)

    ۳- رمضان المبارک کے قریب ہونے اور اس کے خاص انوار وبرکات سے مناسبت پیدا کرنے کے شوق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے مہینہ میں روزے کا اہتمام کثرت سے فرماتے تھے، جس طرح فرض نمازوں سے پہلے سنتیں پڑھتے تھے، اسی طرح فرض روزے سے پہلے نفلی روزے رکھا کرتے تھے اور جس طرح فرض کے بعد سنتیں اور نفلیں پڑھتے تھے؛ اسی طرح رمضان کے بعد شوال میں چھ روزے رکھتے اوراس کی ترغیب بھی دیا کرتے تھے۔

    شعبان کے روزے میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورامت کے عمل میں فرق

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جیسا کہ معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے تقریباً پورے مہینے روزہ رکھتے تھے، دوسرے مہینوں کے مقابلے میں اس مہینہ میں اہتمام زیادہ تھا، اسی طرح چوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت پر بڑے شفیق، رؤف اور رحیم تھے؛ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو بتایا کہ تم میری ہمسری نہیں کرسکتے، مجھے تم سے زیادہ طاقت دی گئی ہے، اس کے علاوہ مجھے یہ بھی خصوصیت حاصل ہے (یُطْعِمُنِیْ رَبِّیْ وَیَسْقِیْنِیْ) کہ مجھے میرے رب کھلاتے پلاتے رہتے ہیں، مجھے روحانی غذا ملتی رہتی ہے؛ اس لیے تم لوگ شعبان میں روزہ رکھ سکتے ہو؛ لیکن نصف شعبان آتے ہی روزہ رہنا بند کردو پھر جب رمضان آئے تو نئی نَشاط کے ساتھ روزہ شروع کرو! (ابن ماجہ: ۱/۳۰۳، تحقیق مصطفی اعظمی زیدمجدہ) ترمذی شریف کی ایک روایت میں ہے: اذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلاَ تَصُوْمُوْا(۱/۵۵) جب شعبان کا مہینہ آدھے پر آجائے تو روزہ نہ رہو! (نیز دیکھئے: بلوغ المرام:۱۳۹)

    خلاصہ یہ کہ پورے مہینہ یا اکثر دنوں میں روزہ رہنا سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے، ہمارے لیے نصف شعبان تک روزہ رہنا سنت ہے؛ لیکن اس کے بعد روزہ رہنا خلافِ سنت ہے، محدثین نے اس ممانعت کو تنزیہی پر محمول کیا ہے، ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ سرکارِ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم امت پر شفقت کے طور پر ہے تاکہ رمضان المبارک کے فرض روزے رکھنے میں ضعف محسوس نہ ہو؛ بلکہ نَشاط، چستی اور حشاش بشاش ہونے کی حالت میں رمضان کا روزہ شروع کیا جاسکے۔ (مرقات)

    پندرہویں شعبان کا روزہ

    پندرہویں شعبان کے روزے کے سلسلے میں ایک حدیث شریف سنن ابن ماجہ میں ہے، یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس کو پوری سند کے ساتھ ملاحظہ فرمائیے:

    حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْخَلَّالُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أنْبَأنَا ابْنُ أبِی سَبْرَةَ، عَنْ ابْرَاہِیْمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُعَاوِیَةَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أبِیْہِ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أبِیْ طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ”اذَا کَانَتْ لَیْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُوْمُوْا لَیْلَہَا وَصُوْمُوْا یَوْمَہَا، فَانَّ اللّٰہَ یَنْزِلُ فِیْہَا لِغُرُوْبِ الشَّمْسِ الَی سَمَاءِ الدُّنْیَا فَیَقُوْلُ: ألاَ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأغْفِرَ لَہُ! ألاَ مُسْتَرْزِقٌ فَأرْزُقَہُ! ألاَ مُبْتَلیً فَأُعَافِیَہُ! ألاَ کَذَا! ألاَ کذا! حَتّٰی یَطْلَعَ الْفَجْرُ“ (سنن ابن ماجہ، حدیث: ۱۳۸۴، ۱/۲۵۳، باب ما جاء فی لیلةِ النصف من شعبان․ تحقیق: مولانا محمد مصطفی الأعظمی زیدَ مجدُہ)

    ترجمہ: (حافظ ابوعبداللہ محمد بن یزید قزوینی فرماتے ہیں کہ) ہم سے حسن بن علی خلاّل نے بیان کیا کہ ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا کہ ہمیں ابن ابی سبرہ نے خبر دی، وہ اس حدیث کو ابراہیم بن محمد سے بیان کرتے ہیں اور وہ معاویہ بن عبداللہ بن جعفر سے اور وہ اپنے والد سے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جب نصف شعبان کی رات ہوجائے تو اس کی رات کو قیام کرو (نماز پڑھو) اور اس کے دن کو روزہ رکھو؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس رات غروبِ شمس کے وقت آسمانِ دنیا پر نزولِ اجلال فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ: ہے کوئی معافی مانگنے والا کہ میں اس کو معاف کروں؛ ہے کوئی رزق طلب کرنے والا کہ میں اس کو رزق دے دوں؛ ہے کوئی (مصیبت میں) مبتلا کہ میں اسے اس سے بچادوں؛ ہے کوئی ایسا․․․․․ ہے کوئی ایسا․․․․․ یہاں تک کہ صبحِ صادق طلوع ہوجاتی ہے۔

    اس حدیث شریف میں پندرہویں شعبان کے روزے کا حکم ہے؛ مگر اس حکم کو وجوب یا سنت پر محمول نہیں کیا جاسکتا؛ اس لیے کہ یہ حدیث محدثین کے نزدیک ضعیف ہے، موضوع نہیں ہے؛ اگرچہ اس میں ایک راوی ”ابن ابی سبرہ“ ہیں، ان کے بارے میں امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے واضعِ حدیث ہونے کی بات کہی ہے، سنن ابن ماجہ کے حاشیہ میں حضرت مولانا محمدمصطفی الاعظمی زِیدمجدہ لکھتے ہیں: أسنادُہ ضعیفٌ، فیہ ابنُ أبی سَبْرة، قالَ فیہ أحْمدُ بْنُ حنبلٍ وابنُ مَعِینٍ: یَضَعُ الحَدیْثَ․ (ج:۱/ص:۲۵۳)

    ترجمہ: اس کی سند ضعیف ہے، اس میں ابن ابی سبرہ نامی راوی ہیں، ان کے سلسلے میں امام احمد بن حنبل اور ابن معین فرماتے ہیں کہ وہ حدیث وضع کرتا تھا۔

    موضوع نہ ہونے کی وجوہات:

    پہلی وجہ: محض ایک راوی کے اوپر وضع کے اتہام سے حدیث کو موضوع نہیں کہا جاسکتا، اگر یہ حدیث موضوع ہوتی تو حافظ منذری اس کو اپنی کتاب ”الترغیب والترہیب“ میں ذکر نہ کرتے؛ اس لیے کہ ان کے سلسلے میں علامہ سیوطی نے لکھا ہے کہ اگر تمہیں معلوم ہوجائے کہ کوئی حدیث منذری صاحبِ ترغیب وترہیب کی تصانیف میں موجود ہے تو اس کو اطمینان سے بیان کرسکتے ہو (یعنی وہ موضوع نہیں ہوسکتی) (الرحمة المرسَلة فی شأن حدیث البسملة: ص:۱۵)

    دوسری وجہ: اس کے علاوہ یہ بات بھی قابلِ لحاظ ہے کہ: جن حضرات نے سنن ابن ماجہ کی موضوع احادیث کی نشان دہی کی ہے ان میں اس حدیث کا ذکر نہیں ملتا، ”مَا تَمَسُّ الَیْہِ الحَاجَةُ“ میں وہ ساری احادیث مذکور ہیں۔ (محدثِ کبیر مولانا حبیب الرحمن الاعظمی بہ حوالہ ”شب براء ت کی شرعی حیثیت“ ص:۶)

    تیسری وجہ: ابن ابی سبرہ پر جرح شدید ہے، ان کے ضعیف ہونے میں شبہ نہیں؛ تاہم بعض اہلِ علم ایسے بھی ہیں جنھوں نے ان کے بارے میں بلندکلمات کہے ہیں؛ جیساکہ تاریخ خطیب بغدادی میں ان کے تفصیلی ترجمہ کے ضمن میں موجود ہیں، نیز شیخ محمد طاہرپٹنی نے ان کو قاضی العراق لکھا ہے، جہاں بعض محدثین نے ان کی طرف وضع کی نسبت کی ہے، وہیں بعض نے محض ضعیف کہا ہے۔

    لہٰذا قطعی طور پر اس حدیث کو موضوع نہیں کہا جاسکتا، ہاں! ضعیف ضرور کہا جائے گا جس کی صراحت علامہ شوکانی نے اپنی کتاب فوائد المجموعة فی بیان الأحادیث الموضوعة (ص:۲۰) میں کی ہے، اور ضعیف روایتیں فضائل کے باب میں قابلِ قبول ہوتی ہیں۔

    خلاصہ یہ کہ پندرہویں شعبان کے روزے کو نہ توواجب وسنت کہا جاسکتا ہے، نہ ہی بدعت کہہ کر بالکل رد کیا جاسکتا ہے؛ بلکہ اس کو مستحب کہا جائے گا، بعض فقہاء نے مرغوبات (پسندیدہ) روزوں میں شامل کیاہے؛ جیساکہ فتاویٰ عالم گیری (۱/۲۰۳) میں ہے اور بعض نے ”مستحب“ کی تعبیر اختیار فرمائی ہے؛ جیساکہ فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (۶/۵۰۰) اور تعلیم الاسلام مفتی کفایت اللہ صاحب (۴/۶۶) میں ہے؛ اس لیے انفرادی طور پر اگر کوئی شخص پندرہویں شعبان کا روزہ رکھے تو اس سے منع نہیں کیا جائے گا؛ بلکہ وہ اس کی برکات کا پانے والا کہلائے گا؛ اس لیے کہ اس کی فضیلت ایک حدیث میں مذکور ہے، جس کی سند ضعیف ہے، اور فضائل میں ضعیف حدیث قابلِ قبول ہوتی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ درج ذیل کتابوں میں اس روزہ کا ذکر موجود ہے: أشِعَّةُ اللمعات (ص:۵۸۸) مطبوعہ نول کشور لکھنوٴ، فتاویٰ ہندیہ (۱/۲۰۳)، ماثبت بالسُّنة فی أیَّامِ السَّنة (ص:۸۰)، تحفة الاحوذی (۲/۵۳)، الموعظةُ الحَسَنة للنواب صدیق حسن خان (ص:۱۶۲)مطبوعہ مصر ۱۳۰۰ھ، نصاب اہل خدماتِ شرعیہ (ص:۳۸۲) منظور محکمہٴ صدارتِ عالیہ، مطبوعہ: سلطان بک ڈپو، کالی کمان حیدرآباد، دکن، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (۶/۵۰۰)، بہشتی زیور تیسرا حصہ (ص:۱۰) تعلیم الاسلام حصہٴ چہارم (ص:۶۶)

    محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی نے سنن ابن ماجہ کی مذکورہ بالا حدیث کے موضوع نہ ہونے پر تفصیلی گفتگو فرمائی ہے، ملاحظہ ہو:

    ”پندرہویں شعبان کے روزے کے باب میں جو حدیث ابن ماجہ میں آئی ہے وہ موضوع نہیں ہے، کسی ماہر حدیث عالم نے اس کو موضوع نہیں کہا ہے، تحفة الاحوذی کی عبارت سے اس حدیث کے موضوع ہونے پر استدلال کرنا جہالت ہے، اس حدیث کے راویوں میں ابوبکر بن سبرہ ضرور ہے، اس کی نسبت بے شک یہ کہا جاتا ہے کہ وہ حدیثیں بناتا تھا؛ لیکن اس سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ زیربحث حدیث اس کی بنائی ہوئی اور موضوع ہے، محض اس بنیاد پر کہ سند میں کوئی ایسا راوی موجود ہے جو حدیثیں بناتا تھا، کسی حدیث کو موضوع کہہ دینا جائز نہیں ہے، اس سے تو بس اتنا لازم آئے گا کہ حدیث سنداً ضعیف ہے، یہی وجہ ہے کہ جن حضرات نے سنن ابن ماجہ کی موضوع احادیث کی نشاندہی کی ہے ان میں اس حدیث کا ذکر نہیں ملتا، مَا تَمُسُّ الیہ الحاجة میں وہ ساری حدیثیں مذکور ہیں، جس کا جی چاہے دیکھ لے۔

    اصولِ حدیث وغیرہ کی مختلف کتابوں میں جگہ جگہ تصریح مل سکتی ہے کہ کسی حدیث کی سند میں کوئی کذّاب یا وضّاع راوی پایا جائے تو محض اتنے سے وہ حدیث موضوع نہیں ہوجائے گی، جب تک کہ دوسری کوئی دلیل اس کے موضوع ہونے پر دلالت نہ کرے، مثال کے طور پر فتح المغیث:۱/۲۵۱ کوملاحظہ کیا جائے، امام سخاوی لکھتے ہیں:

    ”ہٰذَا مَعَ أنَّ مُجَرَّدَ تَفَرُّدِ الْکَذَّابِ بَلِ الْوَضَّاعِ وَلَوْ کَانَ بَعْدَ الاِسْتِقْصَاءِ وَالتَّفْتِیْشِ مِنْ حَافِظٍ مُتَبَحِّرٍ تَامِ الاِسْتِقْرَاءِ غَیْرُ مُسْتَلْزِمٍ لِذٰلِکَ بَلْ لاَ بُدَّ مَعَہُ مِنْ اِنْضِمَامِ شَیْءٍ مِمَّا سَیَأْتِیْ“

    ترجمہ: ”محض کسی جھوٹے؛ بلکہ وضّاعِ حدیث کا کسی حدیث میں متفرد ہونا اگرچہ اس کا ثبوت کسی متبحر اور دیدہ ور حافظِ حدیث کی تحقیق سے ہوا ہو،اس کو (یعنی حدیث کے موضوع ہونے کو) مستلزم نہیں ہے؛ بلکہ اس کے ساتھ کسی اور دلیل کا انضمام بھی ضروری ہے، جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔“

    اسی طرح راوی کو منکَرالحدیث اور حدیث کو منکَر بھی کہا گیا ہوتب بھی اس کوموضوع کہنا جائز نہیں، حدیث لا تقولوا سورةَ البقرةِ الخ کو امام احمد نے منکَراور اس کے راوی عبیس کو منکَرالحدیث کہا ہے، اس بنا پر ابن جوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں داخل کردیا تو حافظ ابن حجرنے اس پر سخت اعتراض کیا۔

    فرماتے ہیں: أفرط ابن جوزی فی ایراد ہذا الحدیث فی الموضوعات، ولم یذکر مستندہ الا قولَ أحمد وتضعیف عبیس وہذا لا یقتضی الوضع (اللآلی المصنوعة:۱/۲۳۹)۔ (ابن جوزی نے اس حدیث کو موضوعات کی قبیل سے شمار کرکے تشدد سے کام لیا ہے، اور دلیل میں سوائے حضرت امام احمد کے قول اور عبیس کی تضعیف کے اور کچھ ذکر نہیں کیا؛ لیکن یہ بات اس کے موضوع ہونے کو مقتضی نہیں ہے)۔

    سطورِ بالا سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جس شخص نے یہ بات کہی ہے کہ روایت فضیلتِ صوم شعبان میں ابوبکر بن عبداللہ راوی واضع الحدیث تھا؛ اس لیے یہ روایت موضوع ٹھہری، بالکل غلط ہے۔ ایسی جہالت کی بات کوئی عالم نہیں کہہ سکتا، مولانا عبدالرحمن مرحوم کیسے ایسی بات کہہ سکتے ہیں، مولانا تو اس حدیث کو پندرہویں رات کی فضیلت کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں اور اس شخص کے اوپر حجت قائم کرتے ہیں جو یہ کہتا ہے کہ شعبان کی پندرہویں رات کی فضیلت ثابت نہیں۔

    تحفة الاحوذی کی عبارت بعینہ نقل کی جاتی ہے:

    ”مِنْہَا حَدِیْثُ عَلِيٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: اذَا کَانَتْ لِیْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُوْمُوْا لَیْلَہَا وَصُوْمُوْا یَوْمَہَا (الی) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَةَ، وفِیْ سَنَدِہ أبُوْبَکْرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أبِیْ سَبْرَةَ الْقَرْشِیْ الْعَامِرِیْ الْمَدَنِیْ، قِیْلَ: اسْمُہ عَبْدُ اللّٰہِ، وَقِیْلَ: محمّدٌ، وَقَدْ یُنْسَبُ الیٰ جَدِّہ، رَمَوہ بِالْوَضْعِ کذا فِیْ التَّقْرِیْبِ، وَقَالَ الذَّہَبِیْ فِی الْمِیْزَانِ ضَعَّفَہُ الْبُخَارِیُّ وَغَیْرُہ، وَرَویٰ عَبْدُ اللّٰہِ وَصَالِحُ ابْنَا أحْمَدَ عَنْ أبِیْہِمَا قَالَ: کَانَ یَضَعُ الْحَدِیْثَ، وَقَالَ النَّسَائِیْ: مَتْرُوْکٌ․ انتہیٰ فَہٰذِہ الأحادیثُ بِمَجْمُوْعِہَا حُجَّةٌ عَلیٰ مَنْ زَعَمَ أنَّہ لَمْ یَثْبُتْ فِیْ فَضِیْلَةِ لَیْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ شَیْیءٌ․ (تحفة الاحوذی:۲/۵۳)

    ترجمہ: انھیں میں سے حضرت علی کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب شعبان کی ۱۵/تاریخ آئے تو رات میں عبادت کرو اور دن میں روزہ رکھو (الیٰ) اس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ابوبکر بن عبداللہ بن ابی سبرة القرشی العامری المدنی ہے، ان کا نام لوگوں نے عبداللہ بتایا ہے، بعض لوگوں نے محمد بتایا ہے، اس کی نسبت عموماً ان کے دادا کی جانب ہوتی ہے، لوگوں نے اس کو وضع حدیث کا مرتکب ٹھہرایا ہے، ایسے ہی تقریب میں ہے، امام ذہبی نے میزان میں فرمایا ہے کہ امام بخاری وغیرہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور عبداللہ وصالح بن احمد بن حنبل نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ وہ حدیث گھڑتا تھا اور امام نسائی نے فرمایا کہ وہ متروک ہے، بس یہ تمام حدیثیں مجموعی اعتبار سے اس شخص کے خلاف حجت ہیں، جس نے گمان کیا ہے پندرہویں شعبان کی رات کے سلسلہ میں کوئی چیز ثابت نہیں ہے)

    دیکھئے مولانا مبارک پوری ابن ماجہ کی حدیث نقل کرکے اس کے راوی پر جو جرح ہے اس کو بھی نقل کرتے ہیں، اس کے باوجود اس حدیث کو دوسری ضعیف حدیثوں کے ساتھ ملاکر حجت بھی قرار دیتے ہیں، کیا موضوع حدیث کو بھی دوسری حدیث کے ساتھ ملاکر حجت بنایا جاسکتا ہے؟ یہ بات کوئی عالم نہیں کہہ سکتا۔

    مولانا عبدالرحمن مبارک پوری نے جس طرح اس حدیث کو موضوع نہیں کہا ہے؛ بلکہ صرف ضعیف قرار دیا ہے، اسی طرح منذری نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے، اور چوں کہ اس کو انھوں نے اپنی کتاب ترغیب وترہیب میں ذکر کیا ہے؛اس لیے وہ حسب تصریح سیوطی موضوع نہیں ہے، سیوطی فرماتے ہیں:

    اذَا عَلِمْتُمْ بِالْحَدِیْثِ أنَّہ فِیْ تَصَانِیْفِ الْمُنْذِرِیْ صَاحبِ التَّرْغِیْبِ وَالتَّرْہِیْبِ فَأرْوُوْہُ مُطْمَئِنِّیْنَ․ (الرحمة المرسلة فی شان حدیث البسملة:۱۵)

    ترجمہ: جب تمہارے علم میں یہ بات آجائے کہ کوئی حدیث منذری صاحب ترغیب وترہیب کی تصنیفات میں موجود ہے تو اس کو اطمینان سے بیان کرسکتے ہو؛ یعنی یہ کہ وہ موضوع نہیں ہے۔

    اب تک ہم نے یہ بیان کیاہے کہ یہ حدیث موضوع نہیں ہے اور اس کو موضوع قرار دینا جہالت ہے، ہاں وہ ضعیف ضرور ہے؛ مگر اس کا ضعف اس پر عمل کرنے سے مانع نہیں ہے۔

    حافظ ابن عبدالبر نے کتاب العلم میں یہ حدیث روایت کی ہے:

    مَنْ بَلَغَہ عَنِ اللّٰہِ فَضْلٌ فَأخَذَ بِذٰلِکَ الْفَضْلَ الَّذِيْ بَلَغَہ أَعْطَاہُ اللّٰہُ تَعَالیٰ مَا بَلَغَہ وَانْ کَانَ الذِي حَدَّثَہ کَاذِباً․

    ترجمہ: جس کسی کو کسی کام پر کسی ثواب کی اطلاع ملے اور وہ اس پر کاربند ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ ثواب دے دے گا، جس کی اس کو اطلاع پہونچی ہے، اگرچہ جس نے بیان کیا ہے وہ جھوٹا ہو۔

    حافظ ابن عبدالبر اس کو روایت کرکے فرماتے ہیں کہ:

    اس حدیث کی اسناد ضعیف ہے؛ اس لیے کہ ابومعمر عبادبن عبداللہ اس کا تنہا بیان کرنے والا ہے اور وہ متروک راوی ہے، مگر اہل علم اپنی جماعت کے ساتھ فضائل (ثواب کے کاموں) کے باب میں بہت ڈھیل دیتے ہیں اور ہر طرح کے راویوں سے روایت کرلیتے ہیں، وہ تو بس احکام (حلال وحرام) کی حدیثوں میں سختی سے کام لیتے ہیں۔

    خطیب بغدادی نے کتاب الکفایہ میں امام احمد وغیرہ ائمہ حدیث کا قول نقل کیا ہے: اذَا رَوَیْنَا فِی الْحَلاَلِ وَالْحَرَامِ شَدَّدْنا واذا رَوَیْنَا فِی الْفَضَائِلِ تَسَاہَلْنَا․ (ترجمہ: جب ہم حلال وحرام کے باب میں حدیث نقل کرتے ہیں تو پوری احتیاط سے کام لیتے ہیں اور جب فضائل کے باب میں روایت کرتے ہیں تو سہولت برتتے ہیں)

    اور یہی بات امام نووی اور حافظ عراقی وغیرہ نے وضاحت کے ساتھ لکھی ہے، امام نووی نے لکھا ہے: ”یَجُوْزُ عِنْدَ أہْلِ الْحَدِیْثِ التَّسَاہُلُ فِی الْأسَانِیْدِ الضّعِیْفَةِ وَرِوَایةِ مَا سِویٰ الْمَوْضُوْعِ مِنَ الضَّعِیْفِ وَالْعَمَلُ بِہ مِنْ غَیْرِ بَیَانِ ضُعْفِہ فِیْ غَیْرِ صِفَاتِ اللّٰہِ وَالأحْکَامِ․ (تدریب الراوی:۱۹۶)

    ترجمہ: اہل حدیث کے نزدیک ضعیف سندوں میں تساہل برتنا اور موضوع کو چھوڑ کر ضعیف حدیثوں کو روایت کرنا اور ان پر عمل کرنا ان کا ضعف بیان کیے بغیر جائز ہے؛ مگر اللہ کی صفات اوراحکام کی حدیثوں میں ایسا کرنا جائز نہیں ہے“۔

    http://www.darululoom-deoband.com/u...ah Shaban Ke Nafl Rozon Ki_MDU_06_June_13.htm

    نوٹ: پوسٹ میری تحریر نہیں ہے حوالہ درج بالا ہے۔دوستوں سے علمی جوابات کی توقع ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں