استقبالِ رمضان

ابوعکاشہ نے 'ماہِ شعبان المعظم' میں ‏اگست 15, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,102
    بسم الله الرحمن الرحيم​

    رمضان المبارک مختلف قسم کی عبادات کا موسم ہے ۔ صیام و قیام ، تلاوت قرآن ، صدقہ و احسان ، ذکر و دعا و استغفار ، جنت کا سوال اور آگ سے نجات وغیرہ ۔

    رمضان المبارک کے اوقات کی دن اور رات میں حفاظت کی توفیق مانگنا اور بغیر کمی یا زیادتی کے شریعت کے مطابق ایسے اعمال کرنا جو بندے کو سعادت مند بنا دیں اور اس کو اس کے رب کے قریب کر دیں ۔ اور یہ بات ہر مسلمان کے علم میں ہونی چاہئیے کہ اعمال کی قبولیت کی شرط اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہے ۔

    اس لیے ہر مسلمان کو متعین کر لینا چاہئیے کہ وہ احکام صیام کی تعلیم حاصل کرے کہ کس پر روزے فرض ہیں ۔ اس کے وجوب اور صحت کی شرائط کیا ہیں ، اور کس کے لیے رمضان میں روزہ چھوڑنا جائز ہے اور کس کے لیے جائز نہیں ہے ۔ رمضان کے آداب کیا ہیں اور کس کے لیے مستحب ہے ۔ کون سی وہ چیزیں ہیں جو روزے کو فاسد کر دیتی ہیں اور ان سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قیام کے احکام کیا ہیں ۔ بہت سارے لوگوں کو آپ دیکھیں کہ رمضان المبارک کے مسائل کا علم نہ ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ غلطیوں میں مبتلا ہوتے ہیں ۔

    1 روزے کے احکامات کا علم نہ ہونا اور نہ ہی اس کے متعلق سوال کرنا ۔
    اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔
    (( فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ ))
    ” پس تم اہل علم سے سوال کرو اگر تم نہیں جانتے ۔ “

    اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    (( مَنْ یُرِدِ الله بِه خَیْراً یُفَقِّه فِی الدِّیْنِ))
    ( بخاری و مسلم )
    ” اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے ۔

    2 اس عزت والے مہینے کا استقبال اللہ کے ذکر اور شکر کی بجائے لہو و لعب سے کرنا کہ عظمت والا مہینہ ان کے پاس آیا ہے بلکہ اس کے بدلے وہ سچی توبہ کی طرف متوجہ ہوں اور اللہ کی طرف رجوع کریں ۔ اپنے نفس کا ہر چھوٹے اور بڑے گناہ سے محاسبہ کریں قبل اس کے کہ آپ کا محاسبہ کیا جائے اور آپ کو ہر برے اور اچھے عمل کا بدلہ دیا جائے ۔

    3 اس بات کا خیال رہنا چاہئیے کہ بعض لوگ جب رمضان آتا ہے تو توبہ کرتے ہیں ، نمازیں پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں ۔ جب رمضان ختم ہو جاتا ہے تو پھر ترک نماز اور گناہوں کی طرف پلٹ آتے ہیں ۔ پس یہ برے لوگ ہیں کیونکہ رمضان کے علاوہ وہ اللہ کو نہیں جانتے کہ تمام مہینوں کا رب ایک ہے اور کسی بھی وقت گناہ کرنا حرام ہے اور اللہ تعالیٰ ہر زمان و مکان میں ان سے باخبر ہے ۔
    پس ان کو چاہئیے کہ وہ گناہوں کو چھوڑنے کی ، اللہ سے پکی توبہ کریں اور ان پر ندامت کا اظہار کریں اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم کریں یہاں تک کہ ان کی توبہ قبول کر لی جائے ، ان کے گناہوں کو بخش دیا جائے اور ان کی برائیوں کو ختم کر دیا جائے ۔

    4 بعض لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ رمضان کا مہینہ دن کو سونے ، آرام کرنے اور رات کو جاگنے کے لیے ہے ۔ جبکہ اکثر طور پر رات کا یہ جاگنا ، لہو و لعب ، غفلت ، غیبت اور چغل خوری کی وجہ سے ایسے لوگوں پر اللہ کے غضب کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔ یہ ان کے لیے بہت بڑا خسارہ اور خطرہ ہے ۔ اور یہ محدود ایام اطاعت گزاروں کے لیے ان کی اطاعت پر گواہ ہیں اور گناہ گاروں اور غفلت شعاروں کی غفلتوں اور ان کے گناہوں پر بھی گواہ ہیں ۔

    5 یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بعض لوگ رمضان کی آمد پر غمگین ہو جاتے ہیں اور اس کے چلے جانے پر خوش ہوتے ہیں ، کیونکہ اس مہینے میں وہ اپنی شہوات کو جاری نہ رکھ سکنا محرومی خیال کرتے ہیں ۔ پس وہ لوگوں کے دیکھا دیکھی روزے رکھتے ہیں اور دوسرے مہینوں کو رمضان کے مہینے پر فوقیت دیتے ہیں ۔

    جبکہ یہ مہینہ ایسے مسلمان کے لیے برکت ، مغفرت و رحمت اور جہنم سے آزاری کا مہینہ ہے جو واجبات کی ادائیگی کرتا ہے اور محرمات کو ترک کر دیتا ہے ۔ احکامات کی بجا آوری کرتا ہے اور منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے ۔

    6 بعض لوگ رمضان کی راتیں ایسے کاموں میں بیدار رہ کر گزارتے ہیں جن کا نتیجہ کوئی اچھا نہیں ہوتا جیسے فضولیات ، کھیل کود ، سڑکوں پر آوارہ گھومنا اور فٹ پاتھوں پر بیٹھنا وغیرہ ۔ پھر آدھی رات کے بعد ہی وہ سحری کھا لیتے ہیں اور نماز اس کے وقت پر باجماعت ادا کئے بغیر ہی سو جاتے ہیں ۔

    اس میں اور بہت سی مخالفات ہیں ۔

    7 ایسی شب بیداری جس میں کوئی فائدہ نہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوائے بھلائی کے کام کے عشاءسے پہلے سونا اور بعد میں باتیں کرنے کو ناپسند کرتے تھے ۔

    ایک اور حدیث جس کو امام احمد نے روایت کیا ہے کہ کوئی بھی رات کو گفتگو نہ کرے سوائے نمازی اور مسافر کے ۔ “ امام سیوطی نے اس حدیث کے حسن ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

    ( ب ) اپنے قیمتی اوقات کو رمضان میں بغیر فائدے کے ضائع کرنا ۔ عنقریب انسان اس گزرے ہوئے وقت پر حسرت و افسوس کرے گا جس میں وہ اللہ کا ذکر نہ کر سکا ۔

    ( ج ) طلوع فجر سے پہلے رات کے آخری شروع وقت سے پہلے ہی سحری کھانے میں جلدی کرنا ۔

    ( د ) سب سے بڑی مصیبت یہ کہ اول وقت میں نماز فجر باجماعت ادا کئے بغیر سو جانا جس کا ثواب قیام اللیل یا اس کے نصف کے برابر ہے جیسا کہ حدیث میں ہے جس کو مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے ۔

    حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے عشاءکی نماز باجماعت ادا کی اس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی گویا اس نے ساری رات قیام کیا ۔

    وہ لوگ اس طرح منافقین کے اوصاف سے متصف ہو جاتے ہیں جو نماز پڑھنے تو آتے ہیں مگر سستی اور کاہلی کے ساتھ یا نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرتے ہیں یا جماعت سے ہی پیچھے رہ جاتے ہیں وہ اپنے آپ کو فضل عظیم اور بڑے ثواب سے محروم کر لیتے ہیں جو اس کی وجہ ( یعنی نماز جماعت ) سے ملتا ہے ۔

    مفطرات حسی :

    ( یعنی محسوس طور پر روزہ توڑ دینے والی چیزیں ) جیسے کھانا پینا اور جماع وغیرہ ۔

    مفطرات معنوی ::
    ( یعنی غیر محسوس طور پر روزہ توڑنے والی چیزیں ) جیسے غیبت ، چغل خوری ، لعن و طعن ، گالی گلوچ ، سڑکوں پر گھومنا اور شاپنگ سنٹروں پر عورتوں کو دیکھنا ۔

    پس ہر مسلمان کو چاہئیے کہ وہ اپنے روزے کا اہتمام کرے اور محرمات و مفطرات سے دور رہے ۔ پس کتنے ہی ایسے روزے دار ہیں جن کو ان کے روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ نہیں ملتا ۔ اور کتنے ہی ایسے شب بیدار ہیں کہ جن کو ان کی شب بیداری سے سوائے تھکاوٹ کے کچھ نہیں ملتا ۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے اللہ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ( بخاری )

    8 نماز تراویح چھوڑنا جبکہ جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ ان کو ادا کیا اس کے پہلے گناہوں کو معاف کر دینے کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ ان کو ترک کرنا ثواب عظیم اور بہت بڑے اجر کو معمولی سمجھنا ہے ۔ اکثر مسلمان نماز تراویح نہیں پڑھتے اگر کبھی کبھار پڑھنے آ ہی جاتے ہیں تو تھوڑا بہت پڑھ کر واپس آ جاتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ سنت ہی تو ہے ۔

    ہم کہتے ہیں ہاں یہ سنت مؤکدہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام اور تابعین نے نماز تراویح پڑھی ہے ۔ یہ تقرب الٰہی کا ذریعہ ہے اور بندے کے گناہوں کی مغفرت اور محبت الٰہی کے اسباب میں سے ہے ۔ اس کا ترک کرنا بہت بڑی محرومی سمجھا جائے گا ۔ اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے ۔ ( آمین )

    وہ بھی وقت ہو گا کہ جب نمازی کو لیلۃ القدر کی موافقت ہو گئی پس اس نے بہت بڑا اجر اور مغفرت حاصل کر لی ۔ اور سنتیں فرائض کی کمی کو پورا کرنے کیلئے مشروع قرار دی گئی ہیں ۔ یہ بندے کیلئے اللہ کی محبت کا ذریعہ اور دعاؤں کی قبولیت کے اسباب اور اسی طرح درجات کی بلندی ، نیکیوں میں اضافے اور برائیوں کے کفارے کے اسباب میں سے ہے ۔

    اور کسی مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ نماز تراویح کا اجر و ثواب حاصل کرنے سے پیچھے رہے اور نہ ہی نماز تراویح کو چھوڑ کر آئے یہاں تک کہ امام نماز اور وتر مکمل کر لے تا کہ وہ مکمل قیام اللیل کا اجر حاصل کر لے ۔ فرمان نبوی کے مطابق کہ ” جس نے امام کے ساتھ آخر تک قیام کیا اس کے لیے ساری رات قیام کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے ( اس کو اہل سنن نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے )

    9 قابل غور بات یہ ہے کہ بعض لوگ روزہ تو رکھتے ہیں اور نماز نہیں پڑھتے یا صرف رمضان میں نماز پڑھتے ہیں ۔ پس ایسے لوگوں کو روزہ اور صدقہ کوئی فائدہ نہیں دے گا کیونکہ نماز دین اسلام کا ستون ہے جس پر یہ قائم ہے ۔

    10 رمضان المبارک میں روزہ چھوڑنے کا بہانہ تلاش کرتے ہوئے کہیں باہر سفر کا سہارا لینا اس دلیل کے ساتھ کہ وہ مسافر ہے ۔ ایسا سفر اس کے لیے جائز اور حلال نہیں ہے ۔

    11 بعض وصفی طور پر حرام چیزوں کے ساتھ روزہ افطار کرنا جیسے نشہ آور اور بیہوشی والی اشیاءجن میں سگریٹ نوشی اور حقہ وغیرہ ( النار حیلۃ عربی زبان میں حقے کے مترادف کے طور پر استعمال ہوتا ہے ) یا کسبی طور پر حرام چیزوں کے ساتھ افطار کرنا جیسے حرام کی کمائی ، جھوٹی گواہی ، جھوٹ بولنا ، جھوٹی قسم اٹھانا اور سودی معاملات کرنا وغیرہ ۔ اور جو بھی کوئی حرام کھاتا یا پیتا ہے نہ تو اس کا کوئی عمل قبول کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس کی دعا قبول کی جاتی ہے ۔ اگر اس مال سے اس نے صدقہ کیا تو اس کا صدقہ قبول نہیں کیا جائے گا ۔ اگر حج کیا تو وہ بھی قابل قبول نہیں ہوگا ۔

    12 بعض آئمہ پر بھی ملاحظہ ہے کہ وہ نماز تراویح میں اتنی تیزی کرتے ہیں کہ ان کا یہ فعل نماز کے مقصد میں خلل پیدا کرتا ہے ۔ تلاوت قرآن میں بہت جلدی کرتے ہیں جبکہ قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا مطلوب ہے ۔ وہ رکوع و سجود بھی اطمینان سے نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی رکوع کے بعد کھڑے ہونا اور دو سجدوں کے درمیان اطمینان سے بیٹھتے ہیں ۔ یہ کام ناجائز ہے اس سے نماز مکمل نہیں ہوتی ۔ اور قیام ، رکوع و سجود ، قیام بعد الرکوع اور دو سجدوں کے درمیان اطمینان و سکون واجب ہے ۔

    اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کو فرمانا کہ جس کی نماز میں اطمینان نہیں تھا ۔
    (( ارجع فصل فانک لم تصل ))
    ” واپس لوٹ جا پس تو نے نماز نہیں پڑھی ۔ “ ( متفق علیہ )

    لوگوں میں سے بدترین چور نماز کا چور ہے جو رکوع و سجود اور قرات مکمل نہیں کرتا ۔ اور نماز پیمانہ ہے اس شخص کے لیے جس نے اسے پورا کیا اور اس کے لیے بھی جس نے کمی بیشی کی ، کمی کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے ۔

    13 غیر ماثور دعاؤں کے ساتھ لمبی دعائے قنوت کرنا جو نمازیوں کیلئے تکلیف اور اکتاہٹ کا سبب بن جاتی ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دعائے قنوت میں وارد آسان کلمات جو حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کلمات سکھائے جن کو میں قنوت وتر میں پڑھوں ۔
    اللھم اھدنی فیمن ھدیت.... الی.... تبارکت ربنا وتعالیت
    اے اللہ مجھے ان لوگوں میں ہدایت دے جن کو تو نے ہدایت دی اور ان لوگوں میں مجھے عافیت دے جن کو تو نے عافیت دی اور ان لوگوں میں میری کارسازی فرما جن کی تو نے کارسازی فرمائی ۔ اور جو تو نے مجھے عطا کیا ہے اس میں برکت دے ۔ جو برائی میرے مقدر میں ہے اس سے مجھے بچا ۔ پس بے شک تو فیصلہ کرنے والا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ۔ پس بیشک وہ شخص ذلیل نہیں ہو سکتا جسے تو دوست رکھے اور جس کے ساتھ دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پا سکتا ۔ بابرکت اور بلند ہے تو اے ہمارے رب ۔

    امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے ۔ قنوت وتر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سے اچھی چیز نہیں ملتی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وتر کے آخر میں کہا کرتے تھے ۔
    اللھم انی اعوذ برضاک من.... الی انت کما اثنیت علٰی نفسک
    اے اللہ میں تجھ سے تیری رضا کے ساتھ تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں اور عفو و درگزر کے ساتھ تیری پکڑ سے ۔ اور میں تجھ ہی سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں اس تعداد میں تیری تعریف نہ کر سکا جیسے تو خود اپنی تعریف کرتا ہے ۔
    اس کو احمد اور اہل سنن نے روایت کیا ہے ۔

    لوگ قنوت وتر کے دوران یہ دعا پڑھتے ہیں پھر لمبی اور طویل دعائیں پڑھتے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جامع دعاؤں کو پسند کرتے تھے اور اس کے علاوہ چھوڑ دیتے تھے جیسا کہ حدیث میں ہے جس کو ابوذر اور حاکم نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے ۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداءکرتے ہوئے اور دنیا و آخرت کی بھلائی کیلئے کتب اذکار میں موجود جو ماثور اور جامع دعائیں ہیں ان کی نسبت دعائے قنوت میں چھوٹی دعائیں پڑھنی چاہئیں تا کہ مقتدیوں پر مشقت نہ ہو ۔

    14 وتر کا سلام پھیرنے کے بعد تین مرتبہ سبحان الملک القدوس کہنا سنت ہے ۔ اس حدیث کی روشنی میں جس کو ابوداؤد اور نسائی نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے لوگ یہ کلمات نہیں کہتے ہیں ۔ آئمہ مساجد کو چاہئیے کہ وہ لوگوں کو ان کلمات کی یاد دہانی کرائیں ۔

    15 اکثر مقتدیوں کا یہ عمل بھی قابل غور ہے کہ نماز تراویح یا اس کے علاوہ دوسری نمازوں میں امام سے مسابقت کرتے ہیں ۔ رکوع و سجود میں ، قیام و قعود میں ، رکوع جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت خصوصی خیال رکھنا چاہئیے ۔ یہ شیطان کی طرف سے دھوکہ ہے اور ان کا نماز کو حقیر سمجھنا ہے ۔

    مقتدی کی امام کے ساتھ نماز باجماعت میں چار حالتیں ہیں ۔ ایک ان میں مشروع ہے اور تین ممنوع ہیں ۔ اور وہ ہیں سبقت کرنا ، مخالفت کرنا ، موافقت کرنا اور امام کے حق میں جو شروع ہے وہ پیروی کرتا ہے کہ مقتدی امام کے متصل بعد نماز کے امور سرانجام دے پس نہ وہ اس سے آگے بڑھے اور نہ موافقت کرے اور نہ ہی اس سے پیچھے رہے مسابقت نماز کو باطل کر دیتی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ” جو شخص امام سے پہلے سر اٹھاتا ہے کیا وہ نہیں ڈرتا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس کا سر یا شکل و صورت گدھے کی طرح بنادیں ۔ اور یہ اس کا اپنی نماز میں زیادتی کی وجہ سے ہے کیونکہ اسکی نماز ہی نہیں ہوئی ۔ اور اگر اس کی نماز ہوئی ہے تو اس کے لیے ثواب کی امید ہے اور سزا کا کوئی ڈر نہیں ہے کہ اللہ اس کا سر گدھے کا بنا دے ۔

    16 بعض مقتدیوں کا یہ عمل بھی قابل ملاحظہ ہے کہ وہ نماز تراویح میں قرآن مجید اٹھا لیتے ہیں اور امام کی قرات کی متابعت کرتے ہیں ۔ ایسا کرنا غیر مشروع ہے سلف سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ سوائے اس شخص کے جو امام کو غلطی بتانے کے لیے پکڑے اور مقتدی کو امام کی قرات خاموشی اور غور کے ساتھ سننی چاہئیے ۔

    اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کی طرف کان لگا دیا کرو اور خاموشی سے سنا کرو تا کہ تم پر رحمت ہو ۔ ( الاعراف : 204 )

    امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کا اجماع ہے کہ یہ آیت نماز کے متعلق ہے الشیخ ابن جبرین نے بھی ” نماز میں مخالفتوں پر تنبیہات “ میں بھی اس مسئلہ کے متعلق متنبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسا کرنا نمازی کو خشوع اور تدبر سے مشغول کر دیتا ہے اور ایسا کرنا فضول تصور کیا جائے گا ۔

    17 بعض آئمہ مساجد دعائے قنوت میں ضرورت سے زیادہ آواز بلند کرتے ہیں جبکہ آواز اتنی ہی بلند کرنی چاہئیے کہ جتنی مقتدی تک پہنچ جائے ۔

    اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” اپنے رب کو عاجزی اور آہستگی سے پکارو بے شک وہ تجاوز کرنےوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ “ ( الاعراف : 55 )
    اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے تکبیر کے ساتھ اپنی آوازوں کو بلند کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سختی سے منع کر دیا اور فرمایا : ” اپنے نفس کے ساتھ نرمی رکھو ( یعنی آواز پست رکھو ) جس کو تم پکار رہے ہو وہ بہرہ ہے نہ غائب ۔ ( متفق علیہ )

    18 اکثر آئمہ مساجد کا یہ فعل بھی قابل غور ہے کہ وہ قیام رمضان یا نماز کسوف کی طرح دیگر نمازوں میں لمبی قرات کرنا مشروع سمجھتے ہیں ۔ اور وہ رکوع و سجود ، قیام بعد الرکوع اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے کو بہت ہی ضروری خیال کرتے ہیں ۔ جائز یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ دیر پیروی کرتے ہوئے نماز متناسب ہونی چاہئیے ۔

    آپ کے رکوع اور سجدے کی مقدار تقریباً قیام کے برابر ہوتی تھی اور جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تھے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ کہنے والا کہتا کہ آپ بھول گئے ہیں ۔ اور جب سجدے سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر بیٹھے رہتے کہ کہنے والا کہتا کہ آپ بھول گئے ہیں ۔

    براءبن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو میں نے غور سے دیکھا پس آپ کے قیام ، رکوع قیام بعد الرکوع ، آپ کا سجدہ اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے کو تقریباً برابر پایا ۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ قیام اور بیٹھنے کے علاوہ باقی سب ارکان کو برابر پایا ۔ ( بخاری و مسلم )

    اس سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر قیام لمبا کیا تو رکوع اور سجدہ اور ان کے درمیان ارکان کو بھی لمبا کیا اور جب رکوع ہلکا کیا تو رکوع و سجود اور ان کے درمیانی امور کو بھی ہلکا کیا ۔

    آئمہ مساجد کو نصیحت کی جاتی ہے کہ ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب زادالمعاد اور کتاب الصلاۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ پڑھیں ۔ انہوں نے بڑا عمدہ اور مفید طریقہ بیان کیا ہے ۔ اللہ ان پر رحم فرمائے ان کو ، ہمیں اور ہمارے والدین کو معاف فرمائے ۔

    عمدہ نصیحتیں

    اے میرے مسلمان بھائی !


    ہمارے لیے باعث مسرت ہے کہ ماہ رمضان المبارک کی مناسبت سے آپ کی خدمت میں عمدہ نصیحتوں کا مجموعہ بطور ہدیہ پیش کریں اور ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اور آپ کو ان لوگوں میں کر دے جو بات سن کر اچھے انداز میں اس کی پیروی کرتے ہیں ۔

    1 اس بات کا حریص ہو جا کہ یہ ماہ مبارک تیرے اعمال کی درستگی و مراجعت اور تیری زندگی کو صحیح خطوط پر استوار کرنے کے لیے محاسبہ کا نقطہ آغاز ثابت ہو ۔

    2 نماز تراویح باجماعت پابندی کے ساتھ پڑھنے کی طمع کر ۔ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ” جس نے امام کے پلٹنے تک نماز تراویح پڑھی اس کے لیے ساری رات کا اجر لکھ دیا جاتا ہے ۔ “

    3 مال اور اس کے علاوہ فضول خرچی سے بچ کیونکہ فضول خرچی حرام ہے اور اس سے صدقات کرنے پر تیرے حصے کے اجر میں کمی ہو جاتی ہے ۔

    4 رمضان میں جن کاموں کی عادت اپنائی تھی اس کے بعد بھی ان کو جاری رکھنے کا عزم پختہ کر ۔

    5 عمر گزرنے کے ساتھ ماضی کو دیکھ اور مستقبل کا سوچ ۔

    6 یہ مہینہ عبادت کا مہینہ ہے نہ کہ سونے اور سستی کرنے کا ۔

    7 اپنی زبان کو ذکر کا عادی بنا اور ان لوگوں میں سے نہ ہو جا جو بہت تھوڑا ذکر کرتے ہیں ۔

    8 جب تجھے بھوک لگے تو سوچ کہ تو کمزور ہے کھانے اور اس کے علاوہ دوسری نعمتوں سے مستغنی نہیں رہ سکتا ۔

    9 اس مہینے کے اوقات کو غنیمت جان اور ہمیشہ کے گناہوں سے رک جا جو تجھے نفع نہیں بلکہ نقصان پہنچاتے ہیں ۔

    10 یہ جان لے کہ عمل امانت ہے ۔ پس اپنا محاسبہ کر کہ تو نے اس کا حق ادا کیا ہے کہ جس طرح کرنا چاہئیے تھا ۔

    11 اپنی لغزشوں کی جلدی معافی طلب کر قبل اس کے کہ تیری نیکیوں کو لے لیا جائے ۔

    12 روزے دار کا روزہ افطار کرانے کی حرص کر پس تجھے اس جتنا ہی اجر ملے گا ۔

    13 جان لے کہ اللہ بہت زیادہ کرم کرنے والا اور بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔ توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرتا ہے ۔ وہ پاک سخت سزا والا ہے ۔ وہ مہلت دیتا ہے اور لاپرواہ نہیں ہے ۔

    14 جب تجھ سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے اور اللہ اس کی پردہ پوشی کرے توآئندہ یہ گناہ نہ کرنے کا پکا عہد کر ۔

    15 یہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے آرام کرنا ہمارے لیے جائز قرار دیا ہے ، بغیر حرام کے ، اور سارا وقت ہی آرام کے لیے ہے ۔ لیکن آرام کے لمحات کو لمبا کرنے سے زیادہ خیر حاصل کرنے کے لمحات فوت ہو جائیں گے ۔

    16 تفسیر قرآن ، احادیث رسول ، سیرت طیبہ اور دینی علوم کی زیادہ سے زیادہ معرفت حاصل کرنے کی حرص کر ۔ پس طلب علم عبادت ہے ۔

    17 برے لوگوں کی صحبت سے دور رہ اور اچھے و نیک لوگوں کی صحبت اختیار کر ۔

    18 علی الصبح مسجد جانے کی عادت اپنانا خالق کے ساتھ مناجات اور شوق و محبت سے عبادت کرنے کی دلیل ہے ۔ ( اپنے ماتحت لوگوں کی تربیت کی طرف توجہ دے جو ان کو ان کے دین میں نفع دے کیونکہ وہ تیرے علاوہ کسی دوسرے کی بات کو اتنا زیادہ قبول نہیں کریں گے ۔ ) افطاری کے وقت کھانے کی زیادہ اقسام نہ کر کیونکہ اس سے اہل خانہ دن میں تلاوت قرآن اور دوسری عبادات سے کماحقہ استفادہ نہیں کر پاتے ۔

    19 خاص طور پر رمضان کی آخری راتوں کو بازاروں میں کم جا تا کہ تیرے یہ قیمتی اوقات ضائع نہ ہوں ۔

    20 آخری عشرہ کی راتوں کو قیام کی حرص کر یہ بڑی فضیلت والی راتیں ہیں ان میں قدر والی رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے ۔

    21 یہ جان لے کہ عید کا دن اللہ کے شکر کا دن ہے ۔ پس اس کو ان پابندیوں سے آزادی کا دن نہ سمجھو جن سے تو نے اپنے آپ کو اس مہینے میں روکے رکھا تھا ۔

    22 عید کا دن تو بڑا شاداں و فرحاں ہوتا ہے پس اپنے یتافی ، فقیر اور گم شدہ بھائیوں کو یاد کر ۔ اور جان لے کہ جس نے تجھ پر فضل کیا ہے وہ تیری اس حالت کو بدلنے پر بھی قادر ہے ۔ پس نعمتوں کا شکر اور ان کی غم خواری کے لیے جلدی کر ۔

    23 بغیر عذر روزہ چھوڑنے سے ڈر پس جس نے رمضان کا ایک روزہ چھوڑا اگر وہ ساری زندگی روزے رکھتا رہے تو اس کی قضا نہیں دے سکتا ۔

    24 اپنے لیے اعتکاف سے حصہ وصول کر اگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو ۔

    25 عید کی رات اور دن کو نماز عید کی ادائیگی تک بلند آواز سے تکبیرات پڑھنا سنت ہے ۔

    26 نفل روزوں کے ذریعے بھی اپنے لیے حصہ حاصل کر صرف رمضان کے روزوں پر ہی اکتفا نہ کر ۔

    27 اپنے تمام امور میں اپنے آپ کا محاسبہ کرنا ۔

    یہ امور درج ذیل ہیں :

    1 نماز باجماعت کی پابندی کرنا ۔

    2 زکوٰۃ ادا کرنا ۔

    3 صلہ رحمی کرنا ۔

    4 والدین کے ساتھ نیکی کرنا ۔

    5 پڑوسیوں کا خیال رکھنا ۔

    6 اگر کسی کے ساتھ رنجش ہے اس کو ختم کرنا ۔

    7 فضول خرچی سے بچنا ۔

    8 اپنے ماتحتوں کی تربیت کرنا ۔

    9 مسلمان بھائیوں کے امور میں دلچسپی لینا ۔

    10 نصیحت قبول کرنا اور اس پر خوش ہونا ۔

    11 جو اپنے بھائی لیے پسند کرنا وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرنا ۔

    12 اصلاح کی کوشش کرنا ۔

    13 اپنے بھائیوں کی غیبت نہ کرنا ۔

    14 قرآن کی تلاوت کرنا اور اس کے معانی میں غوروخوض کرنا ۔ 15 تلاوت قرآن کو خشوع کے ساتھ سننا ۔

    جناب حافظ عبدالمحسن حسن ( سعودی عرب ) ( فائنل )
    استقبالِ رمضان
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 8
  2. سپہ سالار

    سپہ سالار -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2007
    پیغامات:
    2,019
    معمولی سا پڑھا ہے تو اچھا لگا ہے، ان شاء اللہ مکمل بھی پڑھوں‌گا ابھی ذرا کام کر رہا ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. سعد

    سعد -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    129
    جزاك الله خيرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. علی کے کے

    علی کے کے -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 29, 2010
    پیغامات:
    68
    جزاک اللہ عکاشہ
    بہت اچھی شئیرنگ ہے
    ماشاء اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. علی کے کے

    علی کے کے -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 29, 2010
    پیغامات:
    68
    بہت خوب برادر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,638
    بہت عمدہ،
    جزاک اللہ خیرا عکاشہ بھائی،
    اللہ ہم سب مسلمانوں کو اس پر عمل کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  7. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,208
    جزاک اللہ خیرا عکاشہ بھائی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. irum

    irum Web Master

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    جزاک اللہ خیرا عکاشہ بھائی
     
  9. dani

    dani -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,334
    جزاک اللہ خیرا عکاشہ بھائی ، بہت مفید اور جامع مضمون شئیر کیا ۔ بارک اللہ فیک ۔

    بالکل ایسے ہی ہوتا ہے ۔

    بالکل صحیح !

    اور لمبی دعائے قنوت والا نکتہ بڑا اہم ہے ۔باجماعت نماز میں یہ خیال ضرور کرنا چاہیے ۔

    بہت ہی زبردست شئيرنگ ہے عكاشہ بھائی ، اسے اى ميل كرنا چاہیے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,691
    جزاک اللہ خیرا ۔
    کیا اس کا ایسا کوئ طریقہ ھے کہ اس کو ای میل کیا جا سکے ۔شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں