غیر مقلدیت کیوں چھوڑیں .. چند عام فہم دلائل

kashifbilal نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏اگست 24, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. kashifbilal

    kashifbilal -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مئی 22, 2009
    پیغامات:
    50
    [] غیر مقلدیت کیوں چھوڑیں .. چند عام فہم دلائل

    غیر مقلدیت کیوں چھوڑیں .. چند دلائل

    کاپی کردہ تحریر: بحوالہ غیر مقلدیت کیوں چھوڑیں .. چند عام فہم دلائل

    برائے مہربانى بلا حوالہ تحرير شئير كرنے سے اجتناب كريں __ انتظاميہ اردو مجلس

    اسلام علیکم
    ایک تھریڈ میں جواب لکھا جو کافی لمبا ہو گیا , تو سوچا کے اسے مستقل تھریڈ بنا دوں , شاید کے کسی کے کام آ جائے .

    (یہاں جو کچھ بھی لکھا ہے وہ میری ذاتی رائے اور خیال ہے . اسس میں جتنی بھی غلطیاں ہیں وہ میری تصور کی جائیں نہ کے فقہ حنفی کی )

    Assalam O Alaikum !

    بھائی , ایک تو الله سے دعا کریں

    Allahuma Arinal haqqa haqqan, warzuk na tiba
    wa arina batilaan batila , warzuknaj tinaba.


    کے اے الله مجھے حق کو حق سمجھنے , اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما , اور مجھے باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما . آمین .

    رہی بات حدیث کو کسی امام یا عالم کے فیصلے پر ترجیح دینے کی , تو فلوقت شاید آپ کے لئے اس میں کوئی حرج نہیں .
    اسی بات کو لے کر آگے چلتے ہیں اور اسی دعوے سے آپ کو دلیلیں بھی مل جاییں گی .

    ١ . پہلے تو یہ سمجھ لیں کے اگر آج ١٤یِن صدی ہجری کا مسلمان بھی الله کے نبی کی بات پر عمل کرنا چاہتا ہے تو کیا قرون اولا یا مسلمانوں کی تیسری ، چوتھی نسل میں یہ جذبہ نہ ہو گا ??? یقینن ہم سے بہت زیادہ ہو گا . اگر ایسا تھا , تو چاروں اماموں کے خلاف کتنی کتابیں لکھی گئییں ? کتنی کتابوں میں ان کو کافر اور ان کی بات ماننے والوں کو مشرک کہا گیا ? اگر لکھی بھی گئے ہوئی ایسی کتابیں تو کم از کم آج کل کے غیر مقلدین کی لکھی گئی الزامی کتابوں سے کم ہوں گی .

    ٢ . اگر آج کے علماء , نبی پر جھوٹ بولتے ہووے ڈرتے ہیں , یا کم از کم نبی کی بات پر اپنی رائے کو فوقیت دیتے ہووے ڈرتے ہیں تو کیا قرون اولا کے علما اتنے ہی نڈر یا فاسق تھے کے صرف اپنا نام زندہ رکھنے کے لئے نبی کے حکم کے خلاف فقہ مراتب کرتے رہے . یا ان کی پیروی کرنے والوں یعنی ان کے بعد آنے والوں علما نے آنکھیں بند کر کے ان کی باتوں کو ماں لیا , بغیر دلیل و حجت ?

    ٣ . محدثین اور روی , جو حدیث روایت کرتے تھے , وو بھی کسی امام کو مانتے تھے , اگر اپ دلیل مانگیں تو ایک کتاب کا نام "طبقات شافعیہ " ہے . اس کے نام سے ہی ظاہر ہے کے اس کتاب میں جن کا ذکر ہو گا وو امام شافعی کے ماننے والے ہی ہون گے .

    سوچنے کے لحاظ سے یہ باتیں تو شاید اپ کو ٹھیک لگیں لیکن آپ یہاں کہ سکتے ہیں یا شاید اپ کا دل ینن باتوں کو ویسے دلیل کی طرح نہ سمجھے , جو اپ کی تشفّی کر سکیں یا دل کو اطمنان دلا سکیں .

    تو میں کچھ مزید وجوہات بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں .

    ٤ . اگر مقصود الله کی رضا اور نبی کی پیروی ہی ہے وار حدیث پر عمل ہی ہے تو کیوں نہ ایسی حدیث پر عمل کیا جائے جو ١٣٠٠ سال سے علما کی نظر میں رہی ہو , جس پر جید علما نے لکھا ہو , اور امّت کے ایک کثیر طبقے کا اس پر عمل ہو اور اس عمل کی دللیل انھیں کسی بڑے اور مانے ہوے امام یا عالم یا محقق سے ملی ہو . کیا کسی جید عالم کی بات زیادہ وزن رکھتی ہے یا ہماری اپنی پڑھی اور سمجھے ہوئی ایک حدیث ? مسلن اپ نے بخاری شریف میں وو حدیث پڑھی جس میں عایشہ رض سے نبی کی رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا , (مفہوم حدیث ) تو اپ نے فرمایا کے آپ ١١ رکعت پڑھتے تھے , پہلے ٤ رکعت , پھر 4 رکعت , اور اس کے بعد ٣ رکعت . اگر اپ اس حدیث کو پڑھنے کے بعد یہ کہیں کے رات کی نماز کی سنت یہی ہے کے ٤ , ٤ رکعت پڑھی جاییں اور اس کے خلاف جو کرتا ہے یعنی٢ ,٢ رکعت پڑھتا ہے وو خلاف سنّت اور بخاری شریف کی حدیث کے خلاف ہے , تو یقینن اپ غلط ہیں , لیکن اگر اپپ کسی فقیہ یا محقق کا قول پڑھیں تو وو ٢ , ٢ رکعت ہو گا . اب اگر اپ نے صرف بخاری شریف والی روایت ہی پڑھی ہوئی , اور مسجد کے مولوی صاحب نے بتایا , یا کسی حنفی یا حنبلی عالم کی کتاب میں اپ نے ٢ ,٢ رکعت کا پڑھا تو یقینن اپ کو اس مولوی صاحب اور حنفی عالم کی بات بخاری شریف کے خلاف لگے گی . میں امید کرتا ہوں کے میں جو کہنا چاہ رہا ہوں وہ آپ سمجھ گئے ہوں گے .


    ٢ . اوپر والی بات پر شاید آپ کو اعتراض ہو , کے ٢ ,٢ رکعت والی حدیث تو بہت کتب میں موجود ہے مسلن مسلم شریف میں , تو میں یہ کہوں گا کے اگر آپ کے پاسس مسلم شریف نہ ہو تو?

    اور اگر ہو بھی , تو کیا آپ بخاری شریف کے ہر روایت پڑھنے کی بعد مسلم کو بھی دیکھیں گے ?

    اور اگر اپ کا جواب ہاں میں ہے تو پھر میرا سوال یہ ہے کے صرف مسلم شریف کیوں ??????
    کیا احادیث کا مکمل ذخیرہ مسلم اور بخاری شریف میں ہے ? یقینن نہی , اب آپ خود سوچ لیں کے کیا ہرمسلے کے لیے آپ تمام احدث کی کتابیں دیکھ سکتے ہیں ???? یقینن نہی . پھر آپ کیا کریں گے ??? کسی کتاب کی طرف رجوع کریں گے ? یا کسی عالم کے پاس جاییں گے ?

    اب اس کتاب میں آپ کو جو مل گیا یا عالم نے جو بھی بتایا اس میں آگے مزید ٢ نقطے ہیں . ١ . یہ کے آپ اس کتاب کی یا عالم کی بات ماں رہے ہیں جو کے بظاھر بخاری شریف کی اپ کی پڑھی ہوئی حدیث کے خلاف ہے , تو کیا یہ تقلید نہی ہو گی ??? اسی بات پر تو آپ سارے مقلدین کو کافر اور مشرک کہتے ہے اور بدعتی کہتے ہیں کے وو نبی کی بات کو چھوڑ کر اماموں کی بات مانتے ہیں . ٢ . دوسرا نقطہ آپ کے ذھن میں شاید یہ آیا ہو , کے وو علم یا کتاب تو مجھے حدیتھ کا حوالہ دیں گے کے کس حدیث میں 2 رکعت کا ذکر ہے اور پوری تفصیل بھی شاید بتا دیں کے ٤ کے بجایے ٢ رکعت کیوں پڑھیں , تو جناب آپ کو یہ کس نے کہ دیا کے اماموں نے جو مسایل بیان کے ہیں ان کی احادیث نہی ??? اپ تحقیق کریں یا کسی محققق عالم سے پوچھ لیں وو آپ کو تفصیل سے بتا دے گا انشا الله .


    ٣ . یہاں سے ایک تیسرا نقطہ بھی آپ کے ذھن میں آ سکتا ہے , کے اگر عالم صاحب نے جو مسلے کے متعلق احادیث بیان کی وہ صحیح بھی ہیں یا ضعیف اور موضوع ہیں ?? تو میں اپ سے سوال کروں گا کے آپ تو یقینن حدیث کے بارے میں نہی جانتے ہوں گے کے صحیح ہے یا ضعیف یا موضوع, اس کے لئے آپ کو یقینن پھر کسی عالم یا کتاب سے رجوع کرنا پڑے گا ? اب یہ بات تو اپ جانتے ہی ہوں گے کے بہت سی احادیث اور بہت سے راوی آیسے ہیں جن کے بارے میں مختلف علماے فن رجال کی مختلف را ئے ہیں . اب یہاں اگر عالم ڈنڈی مار جائے یا دھوکہ دے دے , اس سینس میں کے اگر ١ ,٢ , یا٣ ماہرین فن نے کسی راوی کو ضعیف یا کسی روایت کو ضعیف کہا ہے اور ٣ ,٤ , یا اس سے زیادہ ماہرین فن نے اس کو صحیح یا ثقہ کہا ہے تو بتائے آپ کیا فیصلہ کریں گے ????? کچھ ماہرین فن کے نزدیک ضعیف ہے اور کچھ کے نزدیک صحیح ? اب کس کی بات منی جائے تو میں جو علما کی ڈنڈی مرنے والی بات کر رہے ہوں (علما اور تمام پڑھنے والوں سے انتہائی معذرت کے ساتھ ), وو یہ کے اگر روایت ہمارے حق میں ہو , تو تمام ان لوگوں کے اقوال نقل کریں گے جن کے نزدیک روایت یا راوی صحیح ہے , اور اگر ہمارے خلاف جاتی ہو تو ان کی جو روایت کو ضعیف کہتے ہیں . اب آپ بتاییں کے اگر اپ نے بغیر کامل تحقیق کے کسی صحیح روایت کو ضعیف , یا کسی ضعیف روایت کو سہی کہ یا سمجھ لیا اور اس پر عمل کیا تو وو کیسا ہے ? اور میں یقین سے کیہ سکتا ہوں کے ہم جیسے ٩٠ فیصد لوگ کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہی کرتے کے روایت کو ضعیف یا سہی کیوں کہا گیا ہے , بس صرف کسی عالم نے اور خصوصاً ہمارے ہم مکتب عالم نے اس کو جیسا لکھ دیا آنکھیں بند کر کے اس کو مان لیا . تو میرا سوال یہ ہے , کے کیا یہ سہی ہے اور غیر مقلدین تو آج کل زیادہ تر ناصر البانی اور زبیر علی زئی کی تخریج پر کامل اعتماد کرتے ہیں , اور جس کو یہ ضعیف کیہ دیں وو بغیر کوئی حجت جانے یا بغیر سوچے سمجھے ١٠٠ فیصد ضعیف اور نہ قابل عمل کہتے ہیں . میں آپ کو صرف ٢ مثالیں دوں گا . ١ پھلی ناصرالبانی نے ١٥ شعبان کی فضیلت والی ٢ روایا ت کو حسن قرار دیا . لیکن زبیر علی زئی صاحب نے ان دونو احادیث کو ضعیف کیہ دیا . . اب بتائیے , اپ کس کی بات کو مانیں گے ? اگر تو اپ البانی کی بات کو مانتے رہے , ظاہر ہے کے زبیر علی زئی کی تحقیق تو تقریبن ٥ ، ٧ سال بعد ہی آئے ہے نہ , تو جن غیر مقلدین نے ١٥ شعبان کی رات کو افضل سمجھا اور عبادت کر لی تو وو تو بدعتی ہو گئے نا بھائی ? یا جن لوگوں یا عربوں کو زبیر علی زئی صاحب کی تحقیق کی خبر نہ ہوئی , وو تو بیچارے گے نہ جہنم , میں .... , اب فیصلہ میں اپ پی چھوڑتا ہوں کے آج کے نام نہاد مجتہدین اور محقق زیادہ قابل عمل ہیں یا١٣٠٠ سال پہلے کے , کے جن کی باتوں کی پوری پوری تحقیق کی ہے امّت نے . ٢ . دوسری مِثآل یہ ہے کے البانی نے بہت معمولی سی جرح پر حدیث کو ضعیف کیہ دیا حالاں کے کبار علما اور جمہور نے اسی حدیث کو صحیح کہا ہوا ہے , اور جس ١ راوی کی جرح کو بیس بنا کر البانی صاحب نے حدیث کو ضعیف کیہ دیا , اسی روی کو ١٠ سے زیادہ ماہرین فن ثقہ اور قابل حجت مانتے ہیں , لیکن البانی صاحب نے اس کو ضعیف کیہ دیا جو کے اصول حدیث کے خلاف ہے .


    بات بہت لمبی ہو چلی ہے , ایک اور بہت امپورٹنٹ پوانٹ یہ ہے کے اگر آپ کو ٢ احادیث ایسی ملیں جو دونوں ١٨٠ ڈگری ایک دوسرے سے مختلف ہوں , تو آپ کس کو اختیار کریں گے ??? اور ایسی بہت سی مثالیں دی جا سکتے ہیں , مسلن , ایک حدیث کہتی ہے کے اگر اپ اپنے ذکر کو ہاتھ لگایں گے تو اپ کا وضو ٹوٹ جائے گا , جب کے دوسری میں لکھا ہے کے نہی ٹوٹے گا , تو آپ کس پر عمل کریں گے ????? جس پر بھی عمل کریں گے تو بظاھر دوسری کو ترک کر رہے ہوں گے ........ ایسی ہی باتیں جو ہماری عقل e ناقص میں نہی آتی , وو کبھی کبھی انکار حدیث کا بائس بن جاتے ہیں , Allahumaahfazna .


    تو بھائی غیر مقلدین حضرات , میں آپ کو یہ نہی کہتا کے دیو بندی بن جاؤ , حنفی بن جاؤ , لیکن اتنا ضرور کہوں گا کے اپنی اور آج کی تحقیق کے بجاے ٤ اماموں میں سے جس کے خیالات آپ کو زیادہ پسند ہوں , اس کو مضبوطی سے پکڑ لو . اپنی بات کو ایک آپ بیتی پر کاحتم کرتا ہوں , الله ہم سب کو ہدایت عطا فرماے اور صراط مستقیم پر چلا کر جنّت فردوس عطا فرماے . آمین .


    AIk martaba main taxila main markizi jamia masjid Ahl e Hadis main ishaa ki nimaz parh raha thha. Ghalibaan main aik suton ke peechay thaat (ye 3 saal pehle ki baat hai iss liye sahe yad nhe , laikne adat mere yehi hai ke mumkin ho tu suton ke peechay nimaz parhta hoon ). AIk larka mere samnay se guzra yani mujh main aur uss main 1 saaf ka fasla b na thaa qareeban . maine nimaz khatam kar ke uss se kaha ke bhai , nimaze kee agay se nahe guzartay, uss ne foran mujh kaha , Bukhari shareef main hadith hai ke Abdullah Ibn e Abbas Nimaziyoon ke samnay se guzraya jab ke wo nimaz parh rahe thaay aur phir jaa kar nimaz main shamil hi gaye. Mujhe ghussa tu bahit aaya laiken MAINE SIRF YE KAHA KE BAHI KISI SE NIMAZE KE SAMNAY SE GUZARNAY KA MAS'ALA POOCH LE . Mere tamam ghair muqalideen hazrat se aik guzarish aur sawal hai ?? ke kya uss larkay ka jawwaz durust thaa??? yaqeenan nahe , iss liye ke agar wo issi baab main agaay aanay wali Ahadith jis main 40 saal ruknay ka zikar ahi parh leta tu kabhi youn na karta aur na kehta . Ab sochiye qasoor kis ka thaa, mera, uss larke ka , manhaj e ahle hadis ka ya imamam bukhari ka.

    Wa aakhir o dawanna , Aanil kahmdoo lillah e rabil Aalameen

    Wassalam.

    Agar kisis ghair Muqallad bhai ne haqiqataan koi bahis ya tashhaffi karni ho tu main hazir hoo, apni naqis ilm aur samajh se app ki tashahfee karnay ki koshih karoon ga. [/]
     
  2. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    774
    بسم اللہ الرحمنٰ الرحیم

    ہدایت کی پیروی کرنے والے پر سلام!

    جناب کاشف اقبال صاحب آپکا مضمون آپکی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپکو اتنا بھی علم نہیں کے ہم غیرمقلد نہیں بلکہ اہل حدیث ہیں۔ اور آپکے قول اور فعل میں بھی زبردست تضاد ہے ایک طرف تو آپ لوگوں کو غیرمقلدیت چھوڑنے کی دعوت دے رہے ہیں اور دوسری طرف اپنی گردن میں اس امام کی تقلید کا طوق پہنے ہوئے ہیں جس کے غیر مقلد ہونے کی گواہی خود آپ کے اکابرین نے دی ہے۔

    مجا لس حکیم الامت کتاب میں اشرف علی تھانوی صاحب فرماتے ہیں:
    ہم تو خود ایک غیرمقلد امام کے مقلد ہیں اور امام اعظم ابو حنیفہ کا غیرمقلد ہونا یقینی ہے۔

    کاشف اقبال صاحب آپکی دعوت تو یہ ہونی چاہیے کہ بھائیوں تقلید سے باز آجاؤ اور غیرمقلد ہوجاؤ کیونکہ ہمارا امام بھی غیرمقلد تھا۔

    اگر غیرمقلد آپ کے نزدیک درست اور صحیح راستے پر نہیں تو اپنے غیرمقلد امام کے بارے میں کیا کہیں گے؟! اور اگر آپکے غیرمقلد امام صحیح راستے پر تھے تو آپ انکی مخالفت کرتے ہوئے مقلد کیوں ہو اور غیرمقلد کیوں نہیں؟؟!

    کاشف اقبال صاحب آپ نے جس بات پر اپنے مضمون کی عمارت کھڑی کی تھی الحمداللہ میں نے اس پر کاری ضرب لگاکر اسے غلط ثابت کر دیا ہے۔ اسلئے بقیہ باتوں کا جواب دینا فضول ہے کیونکہ پورا مضمون صرف اسی ایک بات پر انحصار کرتا ہے جس کا جواب ہوچکا۔

    اب ہم آپکو دعوت دیتے ہیں کہ آپ چاہے اہل حدیث کی نہ مانو لیکن کم از کم اپنے امام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے توغیرمقلدیت کو اختیار کرلو۔
     
  3. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    926
    محترم شاہد میاں یہ جو لوگ آپ کو حنفیت کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں حقیقت میں یہ امام ابو حنیفہ کے بھی مقلد نہیں ہیں کیونکہ ان کے نزدیک امام ابو حنیفہ کا عقیدہ میں ماہر ہونا ثابت نہیں ،ان کے نزدیک امام ابو حنیفہ صرف فقہ کے امام ہیں ۔ جس فقہ میں یہ امام صاحب کو متفقہ طور پے امام سمجھ رہے ہیں وہ امام ابو حنیفہ کی طرف منسوب ہے اور جس کو یہ عقیدہ میں امام سمجھتے ہیں وہ ان کے نزدیک امام المتکلمین ہے اور امام ابو حنیفہ نے متکلمین کو گمراہ اور زندیق کہا ہے امام ابو حنیفہ کے قول کے مطابق اور باقی علماء اہل سنت کے مطابق بھی وہ زندیق ہیں
    میں نے اس پے ایک تھریڈ لکھا ہوا ہے حوالہ اس میں موجود ہے
    کیا متکلمین زندیق تھے - URDU MAJLIS FORUM
     
  4. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    774
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

    میں نے سوچا کہ مزید کچھ تفصیلی جواب جناب کاشف بلال صاحب کو دیا جائے تاکہ انکی علمیت کا پردہ ان پر چاک ہو اور آئندہ ایسا بے ہودہ، بے ربط، حقائق سے دور اور تضادات پر مشتمل مضمون لکھنے کی ہمت نہ کرسکیں۔
    کاشف بلال صاحب آپ کا مضمون پڑھ کر مجھے یہ یقین ہوگیا ہے کہ نہ تو آپکو فقہ حنفی اور دیوبندیت کے بارے میں کچھ علم ہے اور نہ ہی اہل حدیث کے مسلک سے کچھ واقفیت۔ ورنہ اپنا تماشہ بنانے کی آپ ہمت نہ فرماتے ۔
    اب آپکے جواب کی طرف آتے ہیں۔

    میں آپکی پوری پوسٹ پڑھ چکا ہوں یہ دلائل سے عاری ہے۔ صرف عقلی دلائل دینے کی کوشش کی گئی ہے اور وہ بھی انتہائ ناقص
    میرے بھائی آپکا یہ مضمون اس وقت تو یقیناً کسی کے کام آسکتا تھا جب کہ یہ دلائل سے مزین ہوتا۔ اب یہ دلائل سے کورا مضمون کیا کسی کو متاثر کرے گا۔ اہل حدیث کو تو ہر گز نہیں ۔ بلکہ اندھے مقلدین ضرور اس سے متاثر ہونگے کیونکہ انہیں اپنے مذہب میں کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔
    یہ تو بالکل ایسا ہی جملہ ہے جیسا کہ عام طور کوئی عالم اجتہاد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر یہ صحیح ہوا تو اللہ کی طرف سے اور اگر غلط ہوا تو میری اور شیطان کی طرف سے ۔ لگتا ہے کہ اسی جملہ سے متاثر ہوکر اپ نے اسے اپنی مقدس (؟)فقہ حنفی کے لئے استعمال کیا ہے۔ قرآن اور حدیث کی طرف غلط اور جھوٹی بات منسوب کرتے ہوئے تو آپکے علماء و اکابرین کو زرا غیرت اور شرم نہیں آتی۔ اور ایک آپ ہو کہ فقہ حنفی کی طرف غلط بات منسوب ہو جانے سے اتنے خوف زدہ ہو!!!!
    الحمد اللہ ۔ میں یہ بات حلفیہ کہتا ہوں کہ میں جب دیوبندی تھا اور تحقیق کے عمل سے گز رہا تھا تو ایک وقت مجھ پر ایسا بھی آیا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اہل حدیث حق پر ہیں یا دیوبندی۔ اس پر میرے دل میں باربار خیال آتا تھا کہ میں یہ تحقیق چھوڑ کر ویسا ہی ہو جاؤ جیسے عام لوگ ہیں کہ نہ تو انہیں نماز ،روزے سےکوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی دین کی کوئی بات جاننے کا شوق۔ پھر میں نے اپنے رب سے دعا کی کے میں کچھ نہیں جانتا اور سارا علم تیرے پاس ہے تو ہی مجھ پر حق کو واضح فرما اور اسے قبول کرنے کی توفیق عطا فرما۔ الحمد اللہ ثم الحمد اللہ پھر مجھ پر روز روشن کی طرح اہل حدیث مسلک کی حقانیت واضح ہوگئی اور میں نے اسے اختیار بھی کرلیا۔ ہر گزرے دن کے ساتھ میرا یہ یقین بڑھتا جارہا ہے کہ اس زمین کی پشت پر اگر کوئی فرقہ حق والا ہے تو بس یہی اہل حدیث فرقہ۔
    حرج کی کیا بات ہے جناب الحمد اللہ ہمارا مسلک ہی یہ ہے کہ ہم ہمیشہ قرآن اور حدیث کو ہر چیز پر ترجیح دیتے ہیں۔ کیا اب آپ ہمیں ہمارا مسلک سمجھاؤ گے جسے خود اپنے مسلک کے بارے میں نہیں پتا!!!!

    یہ آپ ہی کا مسلک ہے جس میں آپ ہر حال میں اپنے امام کے قول کو ترجیح دیتے ہواور قرآن اور حدیث کو پس پشت ڈال دیتے ہو۔ اسکی ایک مثال بھی سن لیں۔ تقی عثمانی اپنی کتاب تقلید کر شرعی حیثیت میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ اگر مقلد کے سامنے کوئی ایسی حدیث بھی آجائے جو کہ اسکے امام کے فتوی کے خلاف ہو تو وہ حدیث کو چھوڑ دے اوراپنے امام کے قول پر عمل کرے۔
    انااللہ وانا علیہ راجعون۔

    یہ وہ مسلماں ہیں جنھیں دیکھ کر شرمائیں یہود

    اگر آپ کےنزدیک نبی ﷺ کی بات پر عمل کرنے کا جذبہ ہم سب سے زیادہ ائمہ اربعہ میں تھا (امام ابوحنیفہ کو چھوڑ کر یہ بات مجھے ائمہ ثلاثہ تک منظور ہے) تو کیا اس سے ان ائمہ کی تقلید کا جوازنکلتا ہے؟! یہ تو آپکو بھی تسلیم ہوگا کہ ان ائمہ سے بڑھکر یہ جذبہ صحابہ اکرام میں تھا۔ لیکن انکی تقلید تو آپ کے ہاںممنوع ہے بلکہ ائمہ اربعہ کی تقلید سے نکلنے والا شخص آپکے ہاں گمراہ قرار پاتا ہے۔

    آپ لوگ اپنے علماء کی طرح جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتے۔ میں پوچھتا ہوں کہ ائمہ اربعہ کو کب اور کس اہل حدیث نے کافر کہا ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک ۔ اس دعوی کی دلیل درکار ہے ۔

    جو شخص قرآن اور حدیث پر اپنے امام کے قول کو ترجیح دیتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس کی مثالیں بھی آپ کے ہاں بکثرت پائی جاتی ہیں۔جیسے
    شبیر احمد عثمانی صاحب رضاعت مدت سے متعلق قرآن کی ایک آیت جس میں اللہ نے رضاعت کی مدت دو سال بیان فرمائی ہے ،کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: امام ابوحنیفہ جو رضاعت کی مدت ڈھائی سال بیان فرماتےہیں ان کے پاس کوئی اور دلیل ہوگی۔

    سبحان اللہ! اسے کہتے ہیں اندھی تقلید کہ اپنے امام کے خلاف اللہ کا حکم آجانے کے باوجود بھی یہ کہنے کی ہمت نہیں پاتے کہ ہمارے امام سے یہاں غلطی ہوئی ہے بلکہ امام کے فتوی کو قرآن پر ترجیح دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ابوحنیفہ کے پاس کوئی اور دلیل ہوگی۔ لیکن آج تک ان کے نامراد مقلدین وہ دلیل دریافت نہیں کرپائے ۔شاید امام صاحب وہ دلیل بھی اپنے ساتھ قبر میں لے گئے۔ اس قسم کی دیگر مثالوں کے لئے وقت نہیں، سمجھنے اور نصیحت کے لئےایک ہی کافی ہے۔
    اللہ اکبر ! اس سادگی پہ کون نہ مرجائے۔ میرے بھائی کس نے کہا کہ آج کے علماء اللہ اور اسکے نبی ﷺ پر جھوٹ بولتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ کیا آپ بھول گئے جب آپکے شیخ الہند، اسیر مالٹا جناب محمودالحسن دیوبندی نے اپنی کتاب ایضاح ادلہ میں نہ صرف قرآن کی جھوٹی آیت گھڑی بلکہ انتہائی بے غیرتو ں کی طرح اس من گھڑت آیت سے تقلید کے جواز پر استدلال بھی کیا۔ امین صفدر اوکاڑی کی غیرمقلدین کی غیر مستند نماز بھی پڑھ لیں اور اپنے خوف خدا رکھنے والے (؟) عالم کو داد دیں جس نے اپنا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے نبی کریم ﷺ کی طرف ایک جھوٹی حدیث منسوب کردی۔

    نبی کی بات پر اپنی رائے کو فوقیت دینے والی جو بات ہے تو ماشاء اللہ یہ کام بھی حنفی علماء نے خوب کیا ہے جس کے لئے صرف حنفی مذہب کے اصول کی کتاب اصول کرخی کے مطالعے سے ہی آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائنگے۔ جس میں امام کرخی نے قرآن اور حدیث کے متعلق دو اصول بیان کئے ہیں ۔ پہلا اصول یہ ہے کہ اگر قرآن کی کوئی آیت ہمارے اصحاب کے خلاف ہوگی تو یا تو اسے منسوخ سمجھا جائیگا یہ پھر اسکی تاویل کی جائےگی ۔ اور یہی اصول حدیث کے بارے میں بھی لکھا۔ اب بتائیں کاشف بلال صاحب کیا آپ کے مذہب کے ان اصولوں میں قرآن اور حدیث کی کوئی اہمیت ہے یا انکا درجہ ثانوی ہے اور فوقیت آپکی علماء کی رائے کو حاصل ہے؟!

    ماشاء اللہ ۔ آپ تو تقلید کی تعریف ہی سے نابلد ہیں۔ موصوف کو معلوم ہونا چاہئے کی تقلید کا مطلب ہی بے دلیل پیروی ہے۔ اگر آپ کو یقین نہ ہوتو اپنی معتبر کتاب مسلم الثبوت اٹھا کر دیکھ لیں۔
    کسی امام کو ماننا اور اس کی تقلید کرنا دو علیحدہ مسئلے ہیں۔ چاروں اماموں کو تو اہل حدیث بھی مانتے ہیں بلکہ ان چاروں کے علاوہ بھی جتنے امام ہوئے ان سب کی امامت کے اہل حدیث قائل ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی کی تقلید یعنی اندھی اور بے سوچے سمجھے اور بلا دلیل پیروی نہیں کرتے۔

    اگر آپ سمجھتے ہیں کہ طبقات شافعیہ میں جن لوگوں کا زکر ہے وہ تمام امام شافعی کے مقلد تھے تو برائے مہربانی آپ ان میں سے صرف پانچ کے ناموں کا زکر کریں اور انکا کوئی قول نقل کریں جس میں انکا یہ اقرار ہو کہ وہ امام شافعی کے مقلد ہیں۔ ورنہ آپکی بات کا کیا بھروسہ آپ کو تو جھوٹ بولنا آپکے اکابرین و علماء سے ورثے میں ملتا ہے۔

    ابھی اتنا کافی ہے۔ زندگی رہی تو آپکی بقیہ پوسٹ کا کل جواب دونگا۔ ان شاء اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. محمد فیصل

    محمد فیصل -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 20, 2007
    پیغامات:
    74
    اسلام وعلیکم،
    کاشف اقبال صاحب کی بہت سی باتوں کا جواب تو شاہد بھاٰئی دے چکے ہیں، میں اس میں تقلید کے حوالہ سے کچھ اضافہ کرنا چاہوں گا۔ کاشف صاحب نے چند نکات بیان کئے جن کا مفہوم یہ ہے کہ چونکہ عامی ہر مسئلہ میں صحیح بات کی تحقیق کے لئے احادیث کی تمام کتب کا مطالعہ نہیں کرسکتا لحاظہ اس کے لئے اُسے کسی عالم پر اعتماد کرنا پڑے گا اور یہی اعتماد "تقیلد" ہے۔ اور "اسی" تقلید کے جرم میں اہلحدیث مقلدین کو کافر و مشرک کہتے ہیں۔

    جواباً عرض ہے کہ کاشف اقبال صاحب کا مندرجہ بالا اعتراض سراسر لا علمی پر مبنی ہے۔ کیونکہ کسی عالم سے کسی مسئلہ کے بارے میں پوچھنا اور اعتماد کرنا درحقیقت تقلید ہے ہی نہیں۔ شریعت میں تقلید نام ہے کسی کی شرعی مسائل میں ایسی بات کو ماننا﴿ جو نہ قرآن میں ہے،نہ حدیث میں ،نہ اجماع میں اور نہ ہی صحیح قیاس شرعی میں ہو﴾ بلکہ ان ادلہ اربعہ کے علاوہ پانچویں بات کو مانناتقلید ہے۔ ۔حنفی حضرات کی اصول کی معتبر کتاب مسلم الثبوت میں تقلید کی حقیقت کچھ یوں بیان کی گئی ہے:

    التقلید: العمل بقول الغیر من غیر حجۃ کاخذ العامی والمجتھد من مثلہ، فالرجوع الی النبی علیہ الصلوٰۃ والسلام اوالی الاجماع لیس منہ وکذا العامی الی المفتی والقاضی الی العدول لایجاب النص ذلک علیھما لکن العرف علی ان العامی مقلد للمجتھد ،قال الامام: وعلیہ معظم الاصولیین ۔
    تقلید: ﴿نبی اکرمﷺ کے علاوہ﴾غیر﴿یعنی امتی﴾ کے قول پر بغیر حجت﴿دلیل﴾کے عمل﴿کا نام﴾ہے۔جیسے عامی ﴿جاہل﴾ اپنے جیسے عامی اور مجتہد دوسرے مجتہد کا قول لے لے۔ پس نبی علیہ الصلوٰۃ السلام اور اجماع کی طرف رجوع کرنا اس ﴿تقلید﴾ میں سے نہیں﴿کیونکہ یہ دلیل کی طرف رجوع ہے﴾۔ اور اسی طرح عامی کا مفتی کی طرف رجوع کرنا اور قاضی کا گواہوں کی طرف رجوع کرنا﴿تقلید میں سے نہیں ہے﴾ کیونکہ اسے نص﴿دلیل﴾ نے واجب کیا ہے لیکن عرف ﴿حقیقت نہیں!﴾یہ ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے۔امام نے کہا: اور اسی﴿تعریف﴾ پر علمِ اصول کے عام علمائ﴿متفق﴾ہیں۔﴿مسلم الثبوت ص ۹۸۲ طبع۶۱۳۱﴾

    ابن حمام حنفی﴿متوفی ۱۶۸ھ﴾نے لکھا ہے:مسالۃ: التقلید العمل بقول من لیس قولہ احدی الحجج بلا حجۃ منھا فلیس الرجوع الی النبیﷺ والاجماع منہیعنی مسئلہ: تقلید اس شخص کے قول پر بغیر دلیل کے عمل کو کہتے ہیں جس کا قول﴿چار﴾دلائل میں سے نہیں ہے، پس نبی ﷺ اور اجماع کی طرف رجوع تقلید میں سے نہیں ہے۔﴿تحریر ابن ہمام فی علم الاصول ج۳ص۳۵۴﴾

    پس تقلید کی اس تعریف سے بھی یہ متعین ہوا کہ تقلید ایسے عمل کا نام ہے جس میں ایک شخص دوسرے شخص کی ایسی بات پر عمل کرتا ہے جو ادلہ اربعہ ﴿ قرآن،حدیث یااجماع سے یا قیاس شرعی ﴾میں سے نہیں ، اور شرعیت میں جس شخص کی بات ادلہ اربعہ میں سے نہ ہوگی وہ محض اسکی اپنی بلا دلیل رائے﴿جو کہ فی نفسہ دلیل نہیں﴾ ہوگی جیسا کہ مخفی نہیں۔تقلید کی اس تعریف کی رو سے مقلدین قیامت تک شرعی مسائل میں تقلید کے وجوب تو کجا اباحت کا حکم بھی کسی شرعی دلیل سے ثابت نہیں کر سکتے اور اگر تقلید کے نام پر کسی چیز کو ثابت کریں گے تو اس اصول ﴿جس شخص کی بات ماننا کسی شرعی دلیل نے واجب کیا ہو اُس کی بات ماننا تقلید نہیں﴾ کی رو سے سرے سے تقلید ہوگی ہی نہیں۔

    عین ممکن ہے کہ اس فورم پر بھی مقلدین ان حوالہ جات کا جواب دینے کی بجائے اہلحدیثوں کو تقلید حقیقی کے رد کے فریضے سے سے سبکدوش کرتے ہوئے خود ہی تقلید حقیقی کا رد کرنے لگیں جیسا کہ احمد رضا خان صاحب لکھتے ہیں :یہ معلوم ہوگیا کہ تقلید حقیقی کا مدار اس پر ہے کہ سرے سے دلیل نہ ہو.۔۔.تقلید کی حقیقت تو یہی ہے۔﴿اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام ، ص۰۲﴾
    اور پھر فیصلہ کن بات تحریر کرتے ہیں کہ :تقلید حقیقی کی تو شریعت میں کوئی گنجائش ہی نہیں۔﴿اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام ، ص۵۱﴾

    دیوبندیوں کے سرفراز خان صفدر صاحب لکھتے ہیں:لاعلمی کے وقت کسی مسئلہ میں مجتہدین کی طرف رجوع کرنا درحقیقت تقلید نہیں بلکہ اتباع اور سوال ہے۔﴿الکلام المفید ص۱۳﴾ مزید لکھتے ہیں: معرف میں مجتہد کے قول کو ماننے والا بھی مقلد کہلاتا ہے حالانکہ مجتہد کا قول اس کے لئے حجت ہے اور یہ ’’من غیرحجۃ‘‘ کی مد اور زد میں نہیں ہے۔﴿الکلام المفید ص۶۳﴾

    کیا خوب جو غیر پردہ کھولے جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے​
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 25, 2010
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    774
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

    کاشف بلال صاحب کےبقیہ دلائل(؟) کا جواب پیش خدمت ہے۔
    جناب کاشف صاحب میں پہلے بھی یہ بات عرض کرچکا ہوں کہ آپ نہ تو اپنے مذہب سے واقف ہیں اور نہ ہی اہل حدیث کے اصول سے۔ میں آپ کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے اپنا صاف اور کھرا منہج بیان کردیتا ہوں۔

    اہل حدیث صرف قرآن اور صحیح حدیث پر عمل کرتے ہیں فہم سلف صالحین کی روشنی میں۔ ایسا ہر گز نہیں ہوتا کہ ایک اہل حدیث کوئی حدیث پڑھتا ہے اور اس حدیث سے اس کو جو کچھ سمجھ میں آتا ہے وہ اس پر عمل پیرا ہوجاتا ہے۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو آپ کو اہل حدیث کے درمیان کسی مسئلہ میں اتفاق ہر گز نہ ملتا بلکہ کوئی کسی مسئلہ کو کسی طرح سمجھ رہا ہوتا اور دوسرا کسی اور طرح۔ اور ایک عظیم انتشار برپا ہوتا۔

    اہل حدیث کسی بھی حدیث یا قرآن کی آیت کا صرف وہ مفہوم قبول کرتے اور اس پر عمل کرتے ہیں جس پر جمہور صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم اجمعین کا اتفاق ہو۔ امید ہے اب آپ سمجھ گئے ہونگے۔

    جب کہ جس بات کی آپ ہمیں نصیحت فرمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خود آپکا عمل اس کے خلاف ہے آپ صرف ایک امام ابوحنیفہ کی رائے پر مضبوطی سے جم جاتے ہو ، چاہے صحابہ اکرام سے لے کر پوری امت اس کے خلاف ہو۔ اس وقت آپکو 1300 سال کے جید علماء یا محققین بھی بھول جاتے ہیں۔ جیسے وہ مشہور مسئلہ ہے جس میں آپکے ایک دیوبندی عالم لکھتے ہیں کہ اس مسئلہ میں حق امام شافعی کی طرف ہے لیکن ہم ابوحنیفہ کے مقلد ہیں اور ہم پر انکی تقلید واجب ہے۔
    استغفراللہ۔ یہ ہے مقلدوں کا اصلی گھناؤنا چہرہ!
    حق کو بھی صرف اسلئے چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ حق انکے اپنے امام کی طرف سے نہیں بلکہ مخالف کی طرف سے ہے۔

    یہ بھی آپ کی جہالت ہے کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کا مطلب صرف حنبلی اور حنفی علماء ہی نے سمجھا ہے اور اہل حدیث اس سے ناواقف ہیں۔ آپکو خیر سے یہ بھی نہیں معلوم کے کسی حدیث سے مسئلہ بیان کرتے وقت اس قسم کی تمام احادیث صحیحہ کو سامنے رکھا جاتا ہے۔ پھر مسئلہ بیان کیا جاتا ہے۔ا سلئے میں آپکو مشورہ دونگا کہ آپ اندھی تقلید کے کنویں سے باہر تشریف لاکر اس وسیع و عریض دنیا کا مظاہرہ کریں جس میں تمام اہل حدیث علماء نے دوسری احادیث کی روشنی میں دو، دو رکعت کر کے تراویح و تہجد پڑھنا بیان کیا ہے۔ اور الحمد اللہ اسی پر عوام اور علمائے اہل حدیث کا عمل بھی ہے۔ اور آپ اس عمل کا نظارہ ہماری مساجد میں کر سکتے ہیں۔

    ہم حنفیوں کے اسی مسئلہ کو حدیث کےخلاف کہتے ہیں جو واقعتاً بھی احادیث صحیحہ کی مخالف پر ہو۔ جیسے صحیح بخاری میں حدیث موجود ہے جس میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر والے دن پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے روک دیا اور گھوڑا کھانے کی اجازت دی۔ جبکہ امام ابوحنیفہ کا فتوی الہدایہ میں اس صحیح حدیث کے خلاف ہے وہ گھوڑے کو حرام قرار دیتے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں یہ کیسا امام ہے جو اللہ کی حلال کردہ ایک چیز کو اپنی رائے سے حرام قرار دیتا ہے؟! اور ان مقلدین کا اللہ کے ہاں کیا انجام ہوگا جو اپنے امام کے خلاف قرآن فتوی کو صحیح مانتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہیں؟!

    اگر کاشف بلال صاحب آپ کےپاس اپنے امام کے اس فتوی پر صحیح حدیث موجود ہے تو پیش فرما کر اس فتوی کو صحیح ثابت کردیں۔ پوری حنفیت پر یہ آپکا بہت بڑا احسان ہوگا۔

    اسطرح کی ایک نہیں ہزاروں مثالیں ہیں جس میں فقہ حنفی قرآن اور حدیث کی مخالفت پر کمر بستہ ہے۔ آپ فی الحال اسی ایک مسئلہ کا جواب دے دیں۔ باقی پھر بعد میں دیکھیں گے۔
    کمال ہے! ہمارے پاس تو بخاری اور مسلم بھی نہ ہوتی اور آپ کے ہاں ہر مقلد کے پاس فقہ حنفی کا پورا زخیرہ موجود ہوتا ہے۔ جس میں آپ فوراً کسی مسئلہ میں اپنے امام کا بے دلیل قول دیکھ لیتے ہیں۔

    بخاری اور مسلم کو دیکھنا کوئی زیاد مشکل کام نہیں ہے بلکہ الحمداللہ ہمارے اکثر اہل حدیث بھائیوں کے گھروں میں بخاری اور مسلم ہوتی ہے ورنہ مسجد میں تو ضرور ہوتی ہے۔

    قرآن کا حکم ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تمھیں علم نہ ہوتو اہل علم سے پوچھ لو۔
    قرآن کے اسی حکم پر اہل حدیث عمل پیرا ہیں۔ یاد رہے کہ حنفی، دیوبندی اور بریلوی علماء نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ عامی کا عالم سے مسئلہ پوچھنا تقلید نہیں ہے۔ اگر آپ اس عمل کے تقلید ہونے پر ہی بضد ہوں تو عرض ہے کہ آپ کا دعوی تقلید ابو حنیفہ جھوٹا ہے کیونکہ آج تک آپ نے یا آپ کےکسی عالم نے ابوحنیفہ سے کوئی مسئلہ نہیں پوچھا بلکہ آپکا ہر دیوبندی و بریلوی اپنے عام مختلف علماء ہی سے مسئلہ پوچھتا ہے اور اس عمل کی وجہ سے اسی کا مقلد ہوجاتا ہے ۔اگر اس نے الیاس گھمن سے مسئلہ پوچھا تو حنفی کے بجائے گھمنی ہوگیا پھر ایک ہفتے بعد تقی عثمانی سے مسئلہ پوچھ کر گھمنی کےبجائے عثمانی ہوگیا۔ امید ہے آپ عالم سے مسئلہ پوچھنے کے عمل کو تقلید کہنے کی حماقت نہیں کرینگے ورنہ اورپرپوچھے گئے سوالات آپ پر بڑے بھاری پڑ جائینگے۔ انشاء اللہ

    یہ بھی نوٹ فرمالیں کہ ایک حنفی کااپنے عالم سے مسئلہ پوچھنے اور ایک اہل حدیث کااپنے عالم سے مسئلہ پوچھنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
    اہل حدیث اپنے عالم کے پاس جاکر اس مسئلہ میں قرآن اور حدیث کے دلائل طلب کرتا ہے اور جب عالم قرآن اور حدیث کو بیان کرتا ہے تو عامی کا اس مسئلہ پر عمل اصل میں قرآن اور حدیث پر عمل ہوتا ہے اور وہ حقیقتاً اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والا ہوتا ہے۔

    اس کے برعکس جب ایک حنفی عامی اپنے عالم کے پاس جاتا ہے تو عالم اسے ابوحنیفہ کی رائے بتاتا ہے اسلئے اس حنفی کو قرآن اور حدیث پر عمل کرنے والا نہیں بلکہ ابوحنیفہ کی رائے پر عمل کرنے والا یعنی انکا اندھا مقلد کہا جائیگا۔
    اوپر اس کا جواب ہو چکا ہے کہ تقلید کسی ایسے شخص کی بات ماننے کو کہتے ہیں جس کی اپنی بات حجت نہ ہو۔ جبکہ اہل حدیث حضرات اپنے علماء سے قرآن اور حدیث کے دلائل معلوم کرتے ہیں جو کہ بذات خود حجت ہے۔ اگر اہل حدیث بھی اندھے مقلدوں کی طرح اپنے عالموں کی رائے پر عمل پیرا ہوتے تو یقیناً آپ کا ہم پر تقلید کرنے کا الزام درست ہوتا۔ لیکن ایسا ہے ہی نہیں لہذا۔ حسرت ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گئے

    پوسٹ نمبر 5 پر محمد فیصل بھائی نے تقلید اور عدم تقلید کی آپ ہی کی کتابوں سے اچھی وضاحت کی ہے۔ آپ اسےپڑھ لیں انشاء اللہ افاقہ ہوگا۔

    مقلدین خصوصاً حنفی قرآن اور حدیث دونوں پر اپنے امام کی ناقص رائے کو ترجیح دیتے ہیں اسکے ناقابل تردید دلائل موجود ہیں اگر آپ نے خواہش کی تو انشاء اللہ پیش کردئے جائینگے۔
    یہ بات آپ کسی اہل حدیث کے بجائے اپنے جیسے نابینا مقلد کو کہیئے گا تو وہ آپکی بات مان لے گا۔ میں نے آپکے علماء کی فقہ حنفی کے دفاع میں لکھی گئی کتابیں بھی پڑھیں ہیں اور اپکی فقہ کے کچھ مسائل بھی اوریجنل کتابوں سے دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ ابوحنیفہ کی فقہ کے اکثر مسائل کی کوئی دلیل نہیں بلکہ من گھڑت مسائل ہیں۔ اسکی ایک مثال میں نے اوپر بھی زکر کی تھی کہ شبیر احمد عثمانی کہتے ہیں امام ابوحنیفہ جو رضاعت کی مدت ڈھائی سال بتاتے ہیں ان کے پاس اسکی کوئی اور دلیل ہوگی۔ میرا اہل تقلید کو چیلنچ ہے وہ ابو حنیفہ کے اس مسئلہ کی دلائل بازیاب کروالیں، چاہے انکی قبر سے ، ویسے بھی دیوبندیوں کا عقیدہ ہے قبروں سے فیض اور علم حاصل ہوتاہے۔ دیوبندیوں کے لئے یہ ایک بہترین موقع ہے اپنے اس مشرکانہ عقیدہ کوآزمانے کا۔ کیا خیال ہے کاشف بلال صاحب؟!
    اس بارے میں یہ بات زہن نشین رکھیں کہ کسی بھی حدیث کے ضعیف اور صحیح ہونے کا دارو مدار جمہور محدیثین کے فیصلہ پر ہوتا ہے۔ اسی بات کو آپکے سرفراز خان صفدر صاحب نے بھی اپنی کتاب علم الکلام کے مقدمہ میں زکر کیا ہے لکھتے ہیں: ہم نے راویوں کی توثیق اور جرح میں جمہور محدیثین کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ (مفہوم)

    ہمارا بھی یہی مسلک ہے جب جمہور محدیثین کسی راوی کے ضعیف ہونے کا فیصلہ کردیں تو اسی کو مانا جائے گا اور اگر کسی راوی کی توثیق کردیں تو انہی کا فیصلہ قابل قبول ہوگا۔


    دیوبندی اور بریلوی اور دیگر علماء کتنے خائن اور بد دیانت ہوتے ہیں اسکی دو مثالیں پیش خدمت ہیں۔
    داڑھی پر لکھنے جانے والی تمام کتابوں میں حنفی ایک حدیث کا زکر کرتے ہیں جو کہ ابوداود نے روایت کی ہے جس میں یہ زکر ہے کہ نبی ﷺ اپنی داڑھی کے بال اطراف سے لیتے تھے ( یعنی کاٹتے تھے)۔ اب حنفی علماء کی دیانت ملاحظہ فرمائیں کہ اس حدیث کو زکر کرنے کے بعد ابوداود اس کو ضعیف قرار دیتے ہیں لیکن یہ علمائے سوء اس جرح کو یہودیوں کی طرح صاف چھپا لیتے ہیں اور اس ضعیف حدیث کو صحیح کا تاثر دے کر اس سے استدلال کرتے ہیں۔

    سرفراز خان صفدر دیوبندی نے اپنی کتاب علم الکلا میں یہ وضاحت کرنے کے باوجود بھی کہ ہم نے جمہور محدیثین کا دامن ہا تھ سے نہیں چھوڑا ۔ ایک راوی ابن اسحاق جو کہ فاتحہ خلف الامام کی حدیث میں آیا اور سرفراز خان بدعتی کو اہل حدیث کا موقف ثابت ہوتا نظر آیا تو اس نے فوراً جمہور محدیثین کے اس راوی کو ثقہ قرار دینے کے باوجود بھی اس پر شدید جرح کردی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سرفراز خان صفدر سے پہلے اس کے اکابرین نے بھی جمہور محدیثین کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے ابن اسحاق کو ثقہ قرار دیا ہے۔ اب کوئی مقلد بتائے کہ سرفراز خان صفدر نے اپنے اکابرین کے فیصلے کو کیوں قبول نہیں کیا؟! کیا یہی وہ انصاف پسند تقلید ہے جس کی طرح کاشف بلال صاحب ہمیں دعوت دے رہے ہیں؟؟؟؟؟

    انبیاء کے علاوہ ہر شخص غلطی کر سکتا ہے ۔ اسلئے جب شیخ زبیر علی زئی حفظہ اللہ اور علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف قرار دیتے ہیں تو اس کے ساتھ اپنی تحقیق بھی پیش کرتے ہیں کہ اس حدیث کو ضعیف قرار دینے کی وجہ یہ ہے اور اس کو صحیح قرار دینے کی وجہ یہ۔ ہم وہ تحقیق پڑھکر جو غلطی پر ہوتا ہے اسکے قول کو چھوڑ دیتے ہیں۔

    اگر کوئی شخص کسی حدیث پر عمل پیرا ہو اور بعد میں اسے پتا چلے کہ یہ حدیث ضعیف ہے تو اگر وہ اسپر عمل چھوڑ دیتا ہے تو یہ بات درست ہے کیونکہ اس کو اس کے ضعف کا علم نہیں تھا۔ لیکن اگر حق سامنے آجانے کے باوجود بھی وہ ہٹ دھرمی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا رہتا ہے تو اس پر عین ممکن ہے کہ اللہ کے ہاں اسکی پکڑ ہوجائے۔

    اس کی بہت سی مثالیں ہمیں صحابہ کے دور میں بھی ملتی ہیں جیسے متعہ کے حرام ہوجانے کے بعد بھی چند صحابہ متعہ کے قائل تھے ۔ لیکن جب ان کو علم ہوگیا کہ متعہ اب قیامت تک حرام ہے تو فوراً اس سے رجوع کرلیا۔

    اگر آپ کہتے ہیں کہ لاعلمی میں ضعیف حدیث پر عمل کرنے والے شخص کی اللہ کے ہاں پکڑ ہوگی تو صحابہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟!
    الحمد اللہ محدیثین نے اس پر بہت کام کیا ہے ۔ ایسی صورت میں جب دو صحیح احادیث بالکل ایک دوسرے کے مخالف ہوں تو سب سے پہلے ان میں تطبیق دینے کی کوشش کی جائے گی اگر تطبیق و توفیق ممکن نہ ہوئی تو راجح، مرجوع اور ناسخ ، منسوخ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ لیکن یاد رہے کہ یہ کام آج کا کوئی عالم نہیں کرےگا بلکہ اللہ کے فضل سے یہ سارا کام اللہ رب العالمین نے محدیثین کے ہاتھوں کروادیا ہے۔

    یہ تو ہوا اہل حدیث کا موقف،کاشف بلال صاحب آپ سنائیں کہ ایسی صورت میں آپ کیا کریں گے ؟؟؟ کیونکہ امام ابوحنیفہ نے نہ تو اسماء رجال پر کوئی کتاب لکھی ہے اور نہ ہی ناسخ ، منسوخ اور راجح ، مرجوع پر اگر بالفرض محال لکھی بھی ہوں تو اس وقت دنیا میں انکی کوئی کتاب موجود نہیں جیسا کہ فقہ حنفی کی معتبر کتاب قدوری میں اقرار موجود ہے ۔ کیا آپ امام ابوحنیفہ کی تقلید چھوڑ کر اس مسئلے میں کسی اور کے در پر کشکو ل لے کر جائینگے؟؟؟؟؟
    ہم آج کی تحقیق نہیں بلکہ خیرالقرون کے دور کی تحقیق اور سلف صالحین کے فہم کے مطابق قرآن اور حدیث پر عمل پیرا ہیں۔ الحمداللہ
     
  7. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    بھائی kashifbilal (کاشف بلال)، میں یہاں‌کچھ کہنا پسند نہیں‌کرتا مگر صرف ایک بات کہونگا کہ "ایک تو چوری اور اپر سے سینہ زوری۔۔۔!!!!
    یہ چند جملے کافی ہیں آپ کی تحریر کے جواب میں‌
     
  8. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    محترم کاشف بلال جو تھریڈ آپ نے لگایا۔۔۔ اس تعلق سے میں کچھ سوال آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں اگر ہوسکے تو جواب دیجئے گا اور ضروری نہیں سمجھتے تو کوئی بات نہیں۔۔۔

    کیا یہ موضوع آپ نے اپنی معلومات میں اضافے کے لئے لگایا ہے؟؟؟۔۔۔یا موضوع لگانے کا مقصد یہ ہو کے آپ اپنے عقیدے کا دفاع کرنا چاہتے ہیں یا پھر آپ کا مقصد ہے کے جو لوگ ان عقائد کے حامل ہیں اُن کے سامنے دلائل پیش کر کے ایسے عقائد کے حاملین افراد کو آپ صراط مستقیم پر لانے کے خواہشمند ہوں۔۔۔ اور سب سے اہم بات جو موضوع آپ نے لگایا ہے کیا آپ اس کے مواد سے متفق ہیں؟؟؟۔۔۔۔
     
  9. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,855
    السلام علیکم

    محترم آپ اپنے طور پر ہمشہ اسی خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں، آپ نے کہہ دیا اور بات غلط ثابت ہو گئی، یہ تو محاورہ ہی غلط ھے۔

    ایک ممبر نیا فارم جوئن کرتا ھے، اس نے جو دھاگہ پیش کیا ھے اسے گوگل میں سرچ کر لیتے ہیں کہ آیا وہ اس کا ذاتی ھے یا اس کی عمر کے مطابق اسے اچھا لگا اور اس نے فارم میں شیئر کر دیا۔ اس ممبر کا نام بھی چیک کر لیتے ہیں کہ آیا وہ فارم کی دنیا سے وابسطہ ھے بھی کہ نہیں۔ اپنے لب و لہجہ پر تھوڑی توجہ عنایت فرمائیں کوئی بھی ایک بندہ فارم یا کوئی بھی چیز اکیلا نہیں چلا سکتا

    والسلام
     
  10. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,855
    السلام علیکم

    آپ کے انداز گفتگو پر اللہ سبحان تعالی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین

    والسلام
     
  11. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555
    بالکل ٹھیک کہا یہ تھریڈ حق فورم سے کاپی پیسٹ کیا گیا ہے، ہماری کاشف بھائی سے گزارش ہے کہ حق فورم پر ہمارے خلاف اکازیب و افتراء پر مبنی جتنے بھی تھریڈز ہیں وہ سب یہاں شئیر کر دیجیے تاکہ ان پر ہم اپنا موقف بیان کر سکیں کیونکہ حق فورم پر تو جانبداری کا یہ عالم ہے کہ ہمارے سلفی دوستوں کو بین کرکے فخر سے شور مچایا جاتا ہے کہ بھاگ گئے ،کوئی جواب نہیں آیا۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ
     
  12. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ

    سرخ رنگ میں کاکاشف بلال کے شبہات ہیں جو انہوں نے تحریر کئے ہیں۔

    غیر مقلدیت کیوں چھوڑیں .. چند عام فہم دلائل

    کاشف بلال صاحب! آپ کی پیدائش میں صدیوں کی تاخیر ہوگئی ہے۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا جو غیر مقلد تھا وہ ۸۰ ہجری میں پیدا ہوا اور ۱۵۰ ہجری میں فوت بھی ہو چکا۔ جیسا کہ شاہد نذیر بھائی آپ کو بحوالہ بتلا چکےکہ:
    مجا لس حکیم الامت کتاب میں اشرف علی تھانوی صاحب فرماتے ہیں :
    "ہم تو خود ایک غیرمقلد امام کے مقلد ہیں اور امام اعظم ابو حنیفہ کا غیرمقلد ہونا یقینی ہے۔"
    باقی رہی بات اردو مجلس کے اردو مجلس کے اکثر صارفین کی، تو وہ الحمدللہ! اہل الحدیث ہیں ، اگر آپ اہل الحدیث کو "غیر مقلد یت" سے توتعبیر کر رہے ہیں ، تو یہ آپ کی کج فہمی، کم عقلی اور کم علمی کا شاہکار ہے۔ بے شک اہل الحدیث تقلید نہیں کرتا ، لیکن تقلید نہ کرنا "غیر مقلدیت " نہیں کہلاتا۔ بلکہ اتباع و اطاعت کہلاتا ہے، وہ بھی اللہ اور اللہ کے روسول صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ شاید آپ اپنے والد کے علاوہ تمام لوگوں کو بھی " غیر والد" کہہ کر مخاطب ہوتے ہیں۔ اپنے چچا اور ماما کو بھی آپ غالبا " غیر والد" کہہ کر مخاطب ہوتے ہوں۔ یہ آپ کا مسئلہ ہے آپ اپنے چچا ، ماما کو کیا کہہ کر مخاطب ہوں۔ لیکن اگر آئندہ آپ نے ہمیں کسی اس طرح کے نام سے مخاطب کرنے کی جسارت کی تو یاد رکھئے گا:
    بد نہ بولے زیر گردوں گر کوئی میری سنے
    ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہے ویسی سنے​

    اسلام علیکم
    ایک تھریڈ میں جواب لکھا جو کافی لمبا ہو گیا , تو سوچا کے اسے مستقل تھریڈ بنا دوں , شاید کے کسی کے کام آ جائے۔


    کاشف بلال صاحب! غالبا آپ "تقلید کا مفہوم ، تاریخ ، حکم اور نقصانات _____ تبصرے" اس تھریڈ کی بات کر رہے ہیں، جہاں میں نے مندرجہ تحریر پیش کی تھی۔
    "السلام علیکم ورحمۃاللہ و برکاتہ
    کاشف بلال صاحب!آپ اس فارم پر جس بات کو مدلل جواب سمجھتے پو ہمیں تحریر میں پیش کر دیں۔یہ بات تو قطعی ہے کے مقلد دلیل سے کورا ہوتا ہے، اگر دلیل ہوتی تو وہ بیچارہ تقلید کے گھڑے میں کیوں گرتا؟ شاید آپ اب تک یہ بات ہی نہیں سمجھ سکے ہیں کہ دلیل تقلید اور مقلد کے لئے زہر قاتل ہے، یوں سمجھئے کہ اس محاورے کے مصداق ہے کہ دلیل اور تقلید میں اینٹ کتے کا بیر ہے، دلیل کو دیکھ کر تقلید اور مقلد بھاگ جاتا ہے۔ جہاں دلیل ہو گی وہاں تقلید کا ہونا محال ہے۔مقلد اپنے زعم میں خواہ دلیل سمجھ رہا ہو لیکن یہ اس کا وہم ہی ہوتا ہے۔ دائیان تقلید کے ایک صوفی کا کلام بھی ملاحظہ فرما لیں!!
    آن مقلد صد دلیل و صد بیان
    برزبان آردندارد ہیچ جان
    مقلد سو سو دلائل اور بیان ظاہر کرتا رہے مگر سچ یہ ہے کہ اس میں جان نہیں ہوتی۔"​
    بہتر تو وہی ہوتا کہ جس تھریڈ کا جواب ہے ، اسی تھریڈ مِی دیا جائے۔ خیر آئندہ آپ اس کا خیال رکھئے گا۔

    (یہاں جو کچھ بھی لکھا ہے وہ میری ذاتی رائے اور خیال ہے . اسس میں جتنی بھی غلطیاں ہیں وہ میری تصور کی جائیں نہ کے فقہ حنفی کی )

    جی بالکل، آپ فکر نہ کریں ، ہم جانتے ہیں کہ فقہ حنفیہ کیا ہے ، آپ کی باتیں فقہ حنفیہ میں کوئی وقعت نہیں رکھتی، اور نہ ہی کسی اورحنفی مقلد کی ، خواہ تھانوی ہو، گنگوہی ہو، نانوتوی ہو، انور کاشمیری ہو، سرفراز صفدر ہو، امین اوکازوی ہو، تقی عثمانی ہو، یا کوئی بھی حنفی مقلد ہو، کسی کی بات بھی فقہ حنفیہ میں کوئی وقعت نہیں رکھتی یہ باتیں ان کی اپنی رائے اور خیال تو ہو تی ہوتی ہیں ،ہم بالکل اس کو فقہ حنفیہ تصور نہیں کرتے۔ فقہ حنفیہ وہ ہی ہے جو احناف کی معتبر کتب میں درج ہے۔ اس کے علاوہ کسی حنفی کی کوئی بات نہ تو فقہ حنفیہ ہو سکتی ہے اور نہ ہی فقہ حنفیہ کی توضیح و دلائل۔
    کاشف بلال صاحب! آپ کا اپنی ذاتی رائے اورخیال بیان کرنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں، آخر آپ بھی تو اسی شخص کے مقلد ہیں جو دین میں اپنی ذاتی رائے اور خیال کو رواج دیتا تھا۔ آپ اس معاملہ میں بالکل بے فکر ہو جائیں ، ہم ان کی رائے اور خیال کے فساد کو بھی دین اسلام کا فساد شمار نہیں کرتے۔ اور نہ کیا جاسکتا ہے۔ دین اسلام تو اللہ کی نازل کردہ وحی کا نام ہے۔ نہ کہ کسی کی ذاتی رائے اور خیال کا۔
    کاشف بلال صاحب ! پھر وہ ہی بات یاد آتی ہے، کہ آپ کی پیدائش اگر آپ کے امام کے دور میں ہوئی ہوتی تو شاید آپ اپنے امام کو اس بات سے باز رکھتے کہ وہ دین میں اپنی ذاتی رائے اور خیال کو دخل نہ دیں۔ ہمارا تو ایمان ہے کہ [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]قدراللہ ما شاء


    !Assalam O Alaikum
    و علیکم السلام!

    بھائی , ایک تو الله سے دعا کریں
    الحمدللہ! ہم موحد ہیں اہل البدعۃ نہیں ، ہم اللہ سے ہی دعا کرتے ہیں،
    Allahuma Arinal haqqa haqqan, warzuk na tiba
    wa arina batilaan batila , warzuknaj tinaba
    .
    کے اے الله مجھے حق کو حق سمجھنے , اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما , اور مجھے باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما . آمین ۔
    آمین۔

    رہی بات حدیث کو کسی امام یا عالم کے فیصلے پر ترجیح دینے کی , تو فلوقت شاید آپ کے لئے اس میں کوئی حرج نہیں۔

    کاشف بلال صاحب! حدیث کو کسی عالم یا امام کے فیصلہ پر ترجیح دینے کی بات صرف "فالوقت" نہیں ہر وقت کے لئے ہے۔ یہ آپ کا معیار ہو ہے جووقت بر وقت تبدیل ہوتا ہے۔

    اسی بات کو لے کر آگے چلتے ہیں اور اسی دعوے سے آپ کو دلیلیں بھی مل جاییں گی۔

    چلیں! ہم بھی آپ کا تعاقب کرتے ہیں۔

    ۱۔ پہلے تو یہ سمجھ لیں کے اگر آج ١٤یِن صدی ہجری کا مسلمان بھی الله کے نبی کی بات پر عمل کرنا چاہتا ہے تو کیا قرون اولا یا مسلمانوں کی تیسری ، چوتھی نسل میں یہ جذبہ نہ ہو گا ??? یقینن ہم سے بہت زیادہ ہو گا ۔
    بالکل ! جہاں تک بات چاہنے کی ہے مسلمان قرون اولیٰ یا مسلمانوں کی تیسری چوتھی نسل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر چلنے کی خواہش آج بالعموم آج کے مسلمانوں سے بہت زیادہ تھی۔ لیکن آپ بھول رہے ہیں ، تیسری اور جوتھی نسل تو کجا، پہلی نسل میں ہی خوارج ، اور تقدیر کے منکر پیدا ہوئے تھے ، جنہوں نے اپنی عقل اور قیاس آرائیوں کو حدیث پر مقدم کیا تھا۔ لہذا یہ بات بالعموم درست ہے لیکن قرون اولیٰ کے ہر ہر فرد پر لازم نہیں آتی۔

    اگر ایسا تھا , تو چاروں اماموں کے خلاف کتنی کتابیں لکھی گئییں ? کتنی کتابوں میں ان کو کافر اور ان کی بات ماننے والوں کو مشرک کہا گیا ? اگر لکھی بھی گئے ہوئی ایسی کتابیں تو کم از کم آج کل کے غیر مقلدین کی لکھی گئی الزامی کتابوں سے کم ہوں گی۔

    کاشف بلال صاحب ! ان چاروں میں سے تین امام کا تذکرہ تو آپ رہنے ہی دیں،آپ اپنے امام کی فکر کریں۔
    تجھ کو پرئی کیا پڑی اپنی بیڑ تو​
    ویسے اشارۃ عرض کر دوں کہ آپ حنفیوں نے امام شافعی رحمۃاللہ کو ابلیس سے بڑا فتنہ کہا ہے۔ اور آپ حنفیوں نے امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ علیہ کو کوڑے لگوائے ہیں۔
    باقی رہی بات آپ کے امام کی ، تو آپ کے امام پر تو بڑا کلام موجود ہے، اگر آپ نے متقدمین کی کتاب نہیں پڑھیں تو یہ آپ کی لا علمی ہے ، آپ کو اس وقت ایک کتاب کا کچھ تعارف کروا دیتا ہوں ۔
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]ابن ابي شيبة (المولود سنة[/FONT] ۱۵۳، [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]والمتوفى سنة [/FONT]۲۳۵[FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]هـ[/FONT]) کی [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]مصنف[/FONT] میں ایک کتاب ہے جس کا نام ہے: [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]"كِتَابُ الرَّدِّ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ "[/FONT] آپ کی آسانی کے لئے اس کتا ب کا لنک بھی پیش کئے دیتا ہوں، فورا سے پیشتر اس کا مطالعہ کیجئے آپ کو کافی افاقہ ہو گا ۔انشاءاللہ!
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]مصنف ابن أبي شيبة » كِتَابُ الرَّدِّ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ[/FONT]

    ������ ������ - ��� ����� - ����� ���

    ائمہ ثلاثہ کو اہل الحدیث ہیں، سوائے خوارج کے اور حنفی بدعتیوں کے ان پر کسی کلام نہیں کیا، ہاں آپ کے امام جو اہل الرائے ہیں ان کے متعلق ائمہ اسماء رجال نے یہ رقم کیا ہے کہ ان سے ارتداد کا مرتکب ہونے کے عوض توبہ کروائی گئی ہے ، وہ بھی ایک سے زیادہ بار! اسی لئے آپ سے عرض کی ہے کہ آپ ائمہ ثلاثہ کو رہنے دیں، اپنے امام کی فکر کریں !
    تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو​

    ۲۔ اگر آج کے علماء , نبی پر جھوٹ بولتے ہووے ڈرتے ہیں , یا کم از کم نبی کی بات پر اپنی رائے کو فوقیت دیتے ہووے ڈرتے ہیں تو کیا قرون اولا کے علما اتنے ہی نڈر یا فاسق تھے کے صرف اپنا نام زندہ رکھنے کے لئے نبی کے حکم کے خلاف فقہ مراتب کرتے رہے . یا ان کی پیروی کرنے والوں یعنی ان کے بعد آنے والوں علما نے آنکھیں بند کر کے ان کی باتوں کو ماں لیا , بغیر دلیل و حجت؟

    کاشف بلال صاحب! نہ توآج کے حنفی مقلد نہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر اپنی رائے دیتے ڈرتے ہیں ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولتے ڈرتے ہیں نہ پہلے کے حنفی بدعتی حنفیوں کا اس کا در تھا۔ آپ کے کو بطور ثبوت دونو دور کا ایک ایک نمونہ پیش کئے دیتا ہوں۔
    حنفیوں کے "مناظر اسلام حضرت مولانا امین صفدر اکاڑوی صاحب" لکھتے ہیں:
    "لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے رہےاور کتیا سامنے کھیلتی رہی اور ساتھ گدھی بھی تھی، دونوں کی شرم گاہوں پر نظر بھی پڑتی رہی" ( مجموعہ رسائل،افادات مناظر اسلام حضرت مولانا امین صفدر اکاڑوی صاحب، حصہ سوم صفحہ ۳۵۰ ۔ اور غیر مقلدین کی غیر مستند نماز از مولانا امین صفدر اکاڑوی صفحہ ۳۸)
    (اللہ اس حنفی بدعتی حدیث گڑھنے والے جھوٹے کذاب ، گستاخ رسول کی خبر لے۔ آمین۔)
    اور اس سے قبل بھی حنفی ایسی حرکتیں کرتے رہے ہیں جیسے یہ حدیث گھڑی:
    "يكون من أمتي رجل يقال له محمد بن إدريس أضر على أمتي من إبليس ويكون من أمتي رجل يقال له أبو حنيفة هو سراج أمتي
    میری امت میں ایک شخص ہوگا جو محمد بن ادریس کہلائے گا(یہ امام شافعی رحمۃاللہ علیہ کا نام ہے) وہ ابلیس سے بھی زیادہ نقصان پہیچانے والا ہو گا۔ اور میری امت میں ایک شخص ہو گا جو ابو حنیفہ کہلائے گا وہ میری امت کا چراغ ہو گا۔"

    ۳۔محدثین اور روی , جو حدیث روایت کرتے تھے , وو بھی کسی امام کو مانتے تھے , اگر اپ دلیل مانگیں تو ایک کتاب کا نام "طبقات شافعیہ " ہے . اس کے نام سے ہی ظاہر ہے کے اس کتاب میں جن کا ذکر ہو گا وو امام شافعی کے ماننے والے ہی ہون گے۔

    کاشف بلال صاحب ، آپ نے غالبا [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]"طبقات شافیہ"[/FONT] کا نام ہی سنا ہے، کبھی پڑھی نہیں، اور آپ نے جیسا لکھا ہے کہ : اس کے نام سے ہی ظاہر ہے کے اس کتاب میں جن کا ذکر ہو گا وو امام شافعی کے ماننے والے ہی ہوں گے۔ اسی وجہ سے ہے کہ آپ نے اس کتاب کا مطالعہ نہیں کیا، اور اگر کیا بھی ہے تو آپ کی سمجھ سے بالا تر رہی ہے۔ کیونکہ اس میں کتاب میں کسی کا نام آجانے سے وہ اس کا مقلد کوئی امام شافعی رحمۃاللہ علیہ کا مقلد ثابت نہیں ہوتا۔ اسی کتاب میں امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ علیہ کا نام بھی موجود ہے۔ اور آپ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ مقلد نہیں تھے۔ اور یہ ماننے والی کیا بات ہے۔ ہر اہلالسنۃ والجماعۃ تمام علمائے حق کو اپنا عالم مانتے ہیں۔ آپ کسی محدث کو مقلد ثابت کر سکتے ہوں تو طبع آزمائی کر لیجئے۔

    سوچنے کے لحاظ سے یہ باتیں تو شاید اپ کو ٹھیک لگیں لیکن آپ یہاں کہ سکتے ہیں یا شاید اپ کا دل ینن باتوں کو ویسے دلیل کی طرح نہ سمجھے , جو اپ کی تشفّی کر سکیں یا دل کو اطمنان دلا سکیں۔تو میں کچھ مزید وجوہات بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

    کاشف بلال صاحب! آپ کی اب تک باتیں کہاں تک ٹھیک ہیں اس کا اس کا جواب تو اب تک کی تحریر میں دیا جا چکا۔ آپ قران حدیث سے دلیل پیش کر دیں ہمیں اطمنان ہی اطمنان ہے۔ ہاں آپ نے اگر دین میں قیاس آرئی کی تو اس کا رد بھی بھرپور طریقے سے کیا جائے گا۔ دیکھتے ہیں آپ کس بات کے لئے کیا وجوہات اور وجوہات بیان کرتے ہیں۔

    ۴۔ اگر مقصود الله کی رضا اور نبی کی پیروی ہی ہے وار حدیث پر عمل ہی ہے تو کیوں نہ ایسی حدیث پر عمل کیا جائے جو ١٣٠٠ سال سے علما کی نظر میں رہی ہو , جس پر جید علما نے لکھا ہو ,

    کاشف بلال صاحب !الحمد للہ ! اہل الحدیث کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروری ہے اور حدیث پر عمل ہی ہے۔ ہر صحیح حدیث پر ۱۳۰۰ کیا ۱۴۰۰ سالوں سے جید اور ثقہ علماء نے لکھا اور بیان کیا ہے۔

    اور امّت کے ایک کثیر طبقے کا اس پر عمل ہو اور اس عمل کی دللیل انھیں کسی بڑے اور مانے ہوے امام یا عالم یا محقق سے ملی ہو . کیا کسی جید عالم کی بات زیادہ وزن رکھتی ہے یا ہماری اپنی پڑھی اور سمجھے ہوئی ایک حدیث ؟

    امت کے کثیر طبقہ کا عمل حق اور باطل کا پیمانہ نہیں۔ یہ آپ کی عقل کا فساد ہے۔ اگر اس کی کوئی دلیل ہے تو پیش کیجئے۔ اہل الحدیث عمل کی دلیل الحمدللہ!قرآن اور سنت جسے امت کے جید علماء اور محققین نے کتابوں مِن درج کیا ہے اسی سے ملتی ہے۔ البتہ ،کثیر طبقہ جس سے آپ کی مراد حنفی ہیں، تو ان کے اعمال کی دلیل جید علما ء اور محقق سے نہیں ملتی۔ہاں ان کی بد عملی کی بنیادجن قیاس آرئیوں پر ہے وہ بدعتیوں کی کتب میں کچھ آتی ہیں۔

    مسلن اپ نے بخاری شریف میں وو حدیث پڑھی جس میں عایشہ رض سے نبی کی رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا , (مفہوم حدیث ) تو اپ نے فرمایا کے آپ ١١ رکعت پڑھتے تھے , پہلے ٤ رکعت , پھر 4 رکعت , اور اس کے بعد ٣ رکعت . اگر اپ اس حدیث کو پڑھنے کے بعد یہ کہیں کے رات کی نماز کی سنت یہی ہے کے ٤ , ٤ رکعت پڑھی جاییں اور اس کے خلاف جو کرتا ہے یعنی٢ ,٢ رکعت پڑھتا ہے وو خلاف سنّت اور بخاری شریف کی حدیث کے خلاف ہے , تو یقینن اپ غلط ہیں , لیکن اگر اپپ کسی فقیہ یا محقق کا قول پڑھیں تو وو ٢ , ٢ رکعت ہو گا . اب اگر اپ نے صرف بخاری شریف والی روایت ہی پڑھی ہوئی , اور مسجد کے مولوی صاحب نے بتایا , یا کسی حنفی یا حنبلی عالم کی کتاب میں اپ نے ٢ ,٢ رکعت کا پڑھا تو یقینن اپ کو اس مولوی صاحب اور حنفی عالم کی بات بخاری شریف کے خلاف لگے گی . میں امید کرتا ہوں کے میں جو کہنا چاہ رہا ہوں وہ آپ سمجھ گئے ہوں گے۔

    کاشف بلال صاحب! آپ یہ بات ہمیں سمجھانے بیٹھے ہیں، کی قیام الیل ۲ ۲ رکعت سے پڑھنا ہے۔ الحمدللہ ! اہل الحدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے واقف ہیں۔ مجھے پھر کہنا پڑ رہا کے کہ آپ کی پیدائش صدیوں بعد ہوئی ہے۔ اگر ۱۳۰۰ سال قبل ہو جاتی تو آپ یہ بات اپنے امام صاحب کو سمجھادیتے کہ قیام الیل ۲ ۲ رکعت کر کے پڑھنا سنت ہے۔ آپ کے امام تو ۴ ۴ رکعت کا کہتے ہیں۔ آپ کا یہ کہنا کہ : " لیکن اگر اپپ کسی فقیہ یا محقق کا قول پڑھیں تو وو ٢ , ٢ رکعت ہو گا" ثابت کرتا ہے کہ آپ کے امام صاحب نہ فقیہ تھے یہ محقق۔ فتدبر!!

    ٢ . اوپر والی بات پر شاید آپ کو اعتراض ہو , کے ٢ ,٢ رکعت والی حدیث تو بہت کتب میں موجود ہے مسلن مسلم شریف میں , تو میں یہ کہوں گا کے اگر آپ کے پاسس مسلم شریف نہ ہو تواور اگر ہو بھی , تو کیا آپ بخاری شریف کے ہر روایت پڑھنے کی بعد مسلم کو بھی دیکھیں گے؟

    ہم آپ پر ابھی کوئی اعتراض نہیں کرتے ، یہ ساری باتیں آپ اپنے امام صاحب کو سمجھائیں!!

    اور اگر اپ کا جواب ہاں میں ہے تو پھر میرا سوال یہ ہے کے صرف مسلم شریف کیوں؟؟؟؟
    کیا احادیث کا مکمل ذخیرہ مسلم اور بخاری شریف میں ہے ? یقینن نہی , اب آپ خود سوچ لیں کے کیا ہرمسلے کے لیے آپ تمام احدث کی کتابیں دیکھ سکتے ہیں یقینن نہی؟؟؟ . پھر آپ کیا کریں گے ؟؟؟ کسی کتاب کی طرف رجوع کریں گے ؟ یا کسی عالم کے پاس جاییں گے؟

    یہ تمام سوال بھی اپنے امام سے کریں، انہوں نے کیا کیا؟ اور ان کو بتلائیں کہ انہیں کیا کرنا چاہئے تھا!!

    اب اس کتاب میں آپ کو جو مل گیا یا عالم نے جو بھی بتایا اس میں آگے مزید ٢ نقطے ہیں .
    ۱۔ یہ کے آپ اس کتاب کی یا عالم کی بات ماں رہے ہیں جو کے بظاھر بخاری شریف کی اپ کی پڑھی ہوئی حدیث کے خلاف ہے , تو کیا یہ تقلید نہی ہو گی ؟؟؟؟


    نہیں ! یہ تقلید نہیں ہو گی۔ آپ کو غالبا تقید کی تعریف کا علم نہیں۔ آپ اپنے فرقے کی پیدائش سے قبل کی کسی کتاب سے اس امر کو تقلید ثابت کر دیں ۔

    اسی بات پر تو آپ سارے مقلدین کو کافر اور مشرک کہتے ہے اور بدعتی کہتے ہیں کے وو نبی کی بات کو چھوڑ کر اماموں کی بات مانتے ہیں۔

    بالکل جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو چھوڑ کر اماموں کی بات مانتے ہیں وہ بدعتی ہیں، کافر ہیں، مشرک ہیں۔ یہ منحصر اس پر ہے کہ وہ کس طرزو بنیاد پر ایسا کرتے ہیں۔

    ۲۔ دوسرا نقطہ آپ کے ذھن میں شاید یہ آیا ہو , کے وو علم یا کتاب تو مجھے حدیتھ کا حوالہ دیں گے کے کس حدیث میں 2 رکعت کا ذکر ہے اور پوری تفصیل بھی شاید بتا دیں کے ٤ کے بجایے ٢ رکعت کیوں پڑھیں , تو جناب آپ کو یہ کس نے کہ دیا کے اماموں نے جو مسایل بیان کے ہیں ان کی احادیث نہی ؟؟؟ اپ تحقیق کریں یا کسی محققق عالم سے پوچھ لیں وو آپ کو تفصیل سے بتا دے گا انشا الله۔

    کاشف صاحب! بالکل فقہ حنفیہ میں ایسے متعدد مسائل ہیں کہ جو کسی حدیث میں وارد نہیں۔ اس کا اعتراف تو علامہ بنوری نے بھی کیا ہے۔ میں آپ کو ایک ایسا عمل بتلاتا ہوں جس پر آپ بھی روزانہ عمل پیرا ہونگے۔علامہ بنوری اپنی کتاب [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]معارف السنن شرح سنن الترمذي [/FONT]میں رقم طرازہیں:
    " عشاء سے قبل "۴" رکعت سنت غیر مؤقدہ میں تحریر کرتے ہیں کہ انہیں حدیث کی کسی کتاب میں اس کا ثبوت نہیں ملا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہو۔" ( یہ عبارت کا مفہوم بیان کیا گیا ہے، اگر اعتراض ہو گا تو پوری عبارت نقل کر دی جائے گی۔ کاشف بلال صاحب ! آپ پوری عبارت کا مطالبہ کریں گے تو مجھے بہت خوشی ہوگی ، کیونکہ پھر وہ بات بھی سامنے آئے گی کہ حنفیوں کی دلائل بزعم خویش بھی کہاں غرق ہو چکے ہیں)
    کاشف صاحب ! چلیں آپ ہی اپنے علماء سے پوچھ کراس کا ثبوت فراہم کر دیں۔


    ۳۔ یہاں سے ایک تیسرا نقطہ بھی آپ کے ذھن میں آ سکتا ہے , کے اگر عالم صاحب نے جو مسلے کے متعلق احادیث بیان کی وہ صحیح بھی ہیں یا ضعیف اور موضوع ہیں ؟؟ تو میں اپ سے سوال کروں گا کے آپ تو یقینن حدیث کے بارے میں نہی جانتے ہوں گے کے صحیح ہے یا ضعیف یا موضوع, اس کے لئے آپ کو یقینن پھر کسی عالم یا کتاب سے رجوع کرنا پڑے گا ؟ اب یہ بات تو اپ جانتے ہی ہوں گے کے بہت سی احادیث اور بہت سے راوی آیسے ہیں جن کے بارے میں مختلف علماے فن رجال کی مختلف را ئے ہیں . اب یہاں اگر عالم ڈنڈی مار جائے یا دھوکہ دے دے , اس سینس میں کے اگر ١ ,٢ , یا٣ ماہرین فن نے کسی راوی کو ضعیف یا کسی روایت کو ضعیف کہا ہے اور ٣ ,٤ , یا اس سے زیادہ ماہرین فن نے اس کو صحیح یا ثقہ کہا ہے تو بتائے آپ کیا فیصلہ کریں گے ؟؟؟؟؟ کچھ ماہرین فن کے نزدیک ضعیف ہے اور کچھ کے نزدیک صحیح ؟

    کاشف صاحب! آپ کو اپنی فقہ کا علم نہیں اور آپ اصول حدیث پر بحث کرنے کھڑے ہو گئے ہیں۔

    اب کس کی بات منی جائے تو میں جو علما کی ڈنڈی مرنے والی بات کر رہے ہوں (علما اور تمام پڑھنے والوں سے انتہائی معذرت کے ساتھ ), وو یہ کے اگر روایت ہمارے حق میں ہو , تو تمام ان لوگوں کے اقوال نقل کریں گے جن کے نزدیک روایت یا راوی صحیح ہے , اور اگر ہمارے خلاف جاتی ہو تو ان کی جو روایت کو ضعیف کہتے ہیں . اب آپ بتاییں کے اگر اپ نے بغیر کامل تحقیق کے کسی صحیح روایت کو ضعیف , یا کسی ضعیف روایت کو سہی کہ یا سمجھ لیا اور اس پر عمل کیا تو وو کیسا ہے ؟

    ناراض ہونے کی کوئی بات ہی نہیں! ہم واقف ہیں کہ حنفی علماء ڈنڈی کیا ڈنڈا مارتے ہیں، اور نہ صرف یہ کہ راوۃ الحدیث پر غیر معتبر اقوال پیش کرتے ہیں ، بلکہ قرآن و حدیث میں تحریف تو تحریف ،قرآن کی آیات بھی گڑھ لیتے ہیں۔جیسا کہ محمود الحسن دیوبندی نے ایضاح الادلہ میں اسی تقلید، کو ثابت کرنے کے لئے ایک آیت گڑھی تھی۔ اور احادیث گڑھنے کی بات تو پہلے گذر ہی چکی۔ ذیل میں ایک کتاب کا لنک ہے۔ کتاب کا نام ہے " قرآن و حدیث میں تحریف" اس کا مطالعہ آپ کے لئے مفید رہے گا۔ انشاءاللہ!
    http://www.kitabosunnat.com/kutub-library/article/urdu-islami-kutub/19-taqabul-masalik/211-quran-o-hadees-mai-tehreef.html

    اور میں یقین سے کیہ سکتا ہوں کے ہم جیسے ٩٠ فیصد لوگ کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہی کرتے کے روایت کو ضعیف یا سہی کیوں کہا گیا ہے , بس صرف کسی عالم نے اور خصوصاً ہمارے ہم مکتب عالم نے اس کو جیسا لکھ دیا آنکھیں بند کر کے اس کو مان لیا .

    بالکل ! ۹۰ فیصد کیا تقریبا تمام حنفی مقلد کا یہی حال ہے۔ اور جو آنکھ بند کر کے نہیں مانتا اور تحقیق کرتا ہے وہ الحمدللہ! اللہ کی توفیق سے اہل الحدیث ہو جاتا ہے۔ انشاءاللہ! آپ بھی تحقیق کریں گے۔

    تو میرا سوال یہ ہے , کے کیا یہ سہی ہے اور غیر مقلدین تو آج کل زیادہ تر ناصر البانی اور زبیر علی زئی کی تخریج پر کامل اعتماد کرتے ہیں , اور جس کو یہ ضعیف کیہ دیں وو بغیر کوئی حجت جانے یا بغیر سوچے سمجھے ١٠٠ فیصد ضعیف اور نہ قابل عمل کہتے ہیں . میں آپ کو صرف ٢ مثالیں دوں گا . ١ پھلی ناصرالبانی نے ١٥ شعبان کی فضیلت والی ٢ روایا ت کو حسن قرار دیا . لیکن زبیر علی زئی صاحب نے ان دونو احادیث کو ضعیف کیہ دیا . . اب بتائیے , اپ کس کی بات کو مانیں گے ? اگر تو اپ البانی کی بات کو مانتے رہے , ظاہر ہے کے زبیر علی زئی کی تحقیق تو تقریبن ٥ ، ٧ سال بعد ہی آئے ہے نہ , تو جن غیر مقلدین نے ١٥ شعبان کی رات کو افضل سمجھا اور عبادت کر لی تو وو تو بدعتی ہو گئے نا بھائی ? یا جن لوگوں یا عربوں کو زبیر علی زئی صاحب کی تحقیق کی خبر نہ ہوئی , وو تو بیچارے گے نہ جہنم , میں .... , اب فیصلہ میں اپ پی چھوڑتا ہوں کے آج کے نام نہاد مجتہدین اور محقق زیادہ قابل عمل ہیں یا١٣٠٠ سال پہلے کے , کے جن کی باتوں کی پوری پوری تحقیق کی ہے امّت نے . ٢ . دوسری مِثآل یہ ہے کے البانی نے بہت معمولی سی جرح پر حدیث کو ضعیف کیہ دیا حالاں کے کبار علما اور جمہور نے اسی حدیث کو صحیح کہا ہوا ہے , اور جس ١ راوی کی جرح کو بیس بنا کر البانی صاحب نے حدیث کو ضعیف کیہ دیا , اسی روی کو ١٠ سے زیادہ ماہرین فن ثقہ اور قابل حجت مانتے ہیں , لیکن البانی صاحب نے اس کو ضعیف کیہ دیا جو کے اصول حدیث کے خلاف ہے۔

    کاشف بلال صاحب! آپ نے پھر اصول حدیث سے نا واقفیت کی بنیاد پر یہ پوری کج بحثی کر دی۔ احادیث کے صحیح اور ضعیف کہنے میں محدث حافظ زبیر علی زئی اور محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی کے درمیان ہی اختلاف نہیں۔ اس طرح کا اختلاف ہمیشہ محدثین کے درمیان رہا ہے۔ اور جیسا کہ صحیح ابن حبان میں امام ابن حبان نے اپنے اجتہاد کے مطابق تمام صحیح حدیثیں درج کی، لیکن دوسرے محدثیں نے اس سے اتفاق نہیں کیا کہ اس میں تمام احادیث صحیح ہیں۔ جو آپ اس کی توضیح بیان کریں وہی آپ محدث حافظ زبیر علی زئی اور محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی کے درمیان ہی اختلاف پر لاگو کر دیجئے۔ باقی یہ کہنا کہ محدث العصر ناصر الدین البانی نے احادیث پر جو حکم لگائے ہیں، اس کی موافقت متقدمین سے نہیں۔ یہ آپ کی لا علمی ہے۔ خیر آپ کی علم حدیث سے شناسائی ہو بھی کیسے۔ آپ مقلد جو ٹھیرے۔

    نوحہ گر باشد مقلد را حدیث
    جز طمع نہ بود مراد آن خبیث​

    بات بہت لمبی ہو چلی ہے , ایک اور بہت امپورٹنٹ پوانٹ یہ ہے کے اگر آپ کو ٢ احادیث ایسی ملیں جو دونوں ١٨٠ ڈگری ایک دوسرے سے مختلف ہوں , تو آپ کس کو اختیار کریں گے ؟؟؟
    ۲ صحیح مرفوع غیر منسوخ احادیث جو ۱۸۰ ڈگری ایک دوسرے سے مختلف ہوں!!!!!!


    ۔۔۔۔ایں خیال است و محال است و جنوں۔۔۔ آپ کا یہ خیال ناممکن و محال اور آپ کا پاگل پن ہے۔
    ہاں ! احناف کی عقل کے مطابق تو قرآن میں بھی اختلاف ہے۔ آپ کبھی اپنے ملا جیون الحنفی کی "نور الأنوار في شرح المنار" کا مطالعہ کریں۔

    اور ایسی بہت سی مثالیں دی جا سکتے ہیں۔

    آپ ایک ثابت کر کے دکھلادیں!!

    مسلن , ایک حدیث کہتی ہے کے اگر اپ اپنے ذکر کو ہاتھ لگایں گے تو اپ کا وضو ٹوٹ جائے گا , جب کے دوسری میں لکھا ہے کے نہی ٹوٹے گا , تو آپ کس پر عمل کریں گے ????? جس پر بھی عمل کریں گے تو بظاھر دوسری کو ترک کر رہے ہوں گے ........ ایسی ہی باتیں جو ہماری عقل e ناقص میں نہی آتی , وو کبھی کبھی انکار حدیث کا بائس بن جاتے ہیں۔
    Allahumaahfazna

    اللہ ہمیں ان حنفیوں کی عقل سے محفوظ رکھے، جو انسان کو منکر حدیث بنا دیتی ہے۔ آمین
    جہاں تک اہل الحدیث کی بات رہی تو اہل الحدیث اس حوالے سے ایک اور حدیث کو جانتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان دو احادیث میں کوئی تضاد نہیں ۔ بلکہ یہ حنفیوں کی عقل کا تضاد ہے، اور حنفی یقینا اس مسئلہ میں منکر حدیث ثابت ہوتے ہیں۔
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]صحيح ابن حبان » كِتَابُ الطَّهَارَةِ » بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ » ذِكْرُ الْبَيَانِ بِأَنَّ الأَخْبَارَ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا[/FONT]
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]عن أبي هريرة ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إذا أفضى أحدكم بيده إلى فرجه ، وليس بينهما ستر ولا حجاب ، فليتوضأ۔[/FONT]
    جب تم میں سے کسی نے اپنی شرم گاہ کو اپنے ہاتھ سے چھو لیا اور ان (ہاتھ اور شرم گاہ) کے درمیان کوئی رکاوٹ اور پردہ نہ ہو تو اسے وضو کرنا چاہئے۔
    کاشف بلال صاحب ! اس حدیث سے ثابت ہوا کہ آپ کی بیاں کردہ حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہاں آپ کی اوردیگر حنفیوں کی عقل میں تضاد ضرور ہے۔

    تو بھائی غیر مقلدین حضرات , میں آپ کو یہ نہی کہتا کے دیو بندی بن جاؤ , حنفی بن جاؤ , لیکن اتنا ضرور کہوں گا کے اپنی اور آج کی تحقیق کے بجاے ٤ اماموں میں سے جس کے خیالات آپ کو زیادہ پسند ہوں , اس کو مضبوطی سے پکڑ لو . اپنی بات کو ایک آپ بیتی پر کاحتم کرتا ہوں , الله ہم سب کو ہدایت عطا فرماے اور صراط مستقیم پر چلا کر جنّت فردوس عطا فرماے . آمین۔

    کاشف بلال صاحب! آپ ہمیں اپنے مذہب یعنی کہ دیوبندیت اور فقہ حنفیہ کی دعوت کیوں نہیں دیتے؟
    کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے!!
    میرے بھائی ہم اپنی پسند نا پسند کے لحاظ سے حق و باطل کا تعین نہیں کرتے بلکہ قرآن و حدیث علی فہم السلف کے مطابق، ہم آپ کو بھی یہی دعوت دیتے ہیں۔ آپ کی طرح نہیں کہ خود تع کچھ رہو اور ہمیں کچھ اور بننے کو کہو۔


    AIk martaba main taxila main markizi jamia masjid Ahl e Hadis main ishaa ki nimaz parh raha thha. Ghalibaan main aik suton ke peechay thaat (ye 3 saal pehle ki baat hai iss liye sahe yad nhe , laikne adat mere yehi hai ke mumkin ho tu suton ke peechay nimaz parhta hoon ). AIk larka mere samnay se guzra yani mujh main aur uss main 1 saaf ka fasla b na thaa qareeban . maine nimaz khatam kar ke uss se kaha ke bhai , nimaze kee agay se nahe guzartay, uss ne foran mujh kaha , Bukhari shareef main hadith hai ke Abdullah Ibn e Abbas Nimaziyoon ke samnay se guzraya jab ke wo nimaz parh rahe thaay aur phir jaa kar nimaz main shamil hi gaye. Mujhe ghussa tu bahit aaya laiken MAINE SIRF YE KAHA KE BAHI KISI SE NIMAZE KE SAMNAY SE GUZARNAY KA MAS'ALA POOCH LE . Mere tamam ghair muqalideen hazrat se aik guzarish aur sawal hai ?? ke kya uss larkay ka jawwaz durust thaa??? yaqeenan nahe , iss liye ke agar wo issi baab main agaay aanay wali Ahadith jis main 40 saal ruknay ka zikar ahi parh leta tu kabhi youn na karta aur na kehta . Ab sochiye qasoor kis ka thaa, mera, uss larke ka , manhaj e ahle hadis ka ya imamam bukhari ka.

    Wa aakhir o dawanna , Aanil kahmdoo lillah e rabil Aalameen

    Wassalam.


    Agar kisis ghair Muqallad bhai ne haqiqataan koi bahis ya tashhaffi karni ho tu main hazir hoo, apni naqis ilm aur samajh se app ki tashahfee karnay ki koshih karoon ga. [/]

    آپ کا بیان کردہ واقعہ ہمارے لئے قابل اعتبار نہیں۔ ہم اہل البدعۃ کی کوئی روایت قبول نہیں کرتے۔ اگر آپ نے اصول الدین کو مطالعہ کیا ہو تو آپ کو یہ بات سمجھ آجوئی گی۔
    [/FONT]

    آپ کی اچھی خاصی تشفی ہو چکی ہو گی۔اگر کچھ کسر رہتی ہے تو آپ آئندہ ہو جائے گی۔ انشاءاللہ!


    ما اہل
    حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔ ​
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 26, 2010
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  13. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    شاہد بھائی اور ابو دائود بھائی۔۔۔۔۔۔ماشاء اللہ بہت ہی زبردست جواب دئیے ہین۔
    اللہ آپ دونوں کو جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین
    اللہ ہمیں ہٹ دھرمی اور ضد سے بچا کر قرآن و سنت کی سمجھ عطا فرمائے۔آمین جزاک اللہ خیرا
     
  14. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    774
    و علیکم السلام!
    کعنان بھائی کتنا اچھا ہوتا کہ آپ میری دلیل کو دلیل کے زریعے رد کرکے میری اس خوش فہمی کو دور کر دیتے۔


    یہ بات پہلے سے میرے علم میں تھی کہ یہ تحریر کاشف بلال صاحب کی اپنی نہیں بلکہ کاپی پیسٹ کا کما ل ہے کیونکہ حق فورم پر پہلے ہی میں یہ تھریڈ دیکھ چکا تھا۔ لیکن چونکہ کاشف بلال نے اس تحریر کو اپنے ہی نام سے یہ تاثر دیتے ہوئے کہ یہ انکی زاتی تحریر ہے پیش کیا تھا۔ اسلئے میں نے بھی انہی کا نام لے کر اس تحریر کا رد پیش کیا تھا۔ ویسے بھی کاشف بلال صاحب کا اس تحریر کو یہاں شیئر کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اس تحریر میں موجود باتوں سے متفق ہیں ۔ اسی لئے جواب میں ان کا نام لینا بالکل درست ہے۔ کعنان صاحب آخر اس میں غلط کیا ہے؟!
     
  15. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
  16. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    یہ تو مجھے بھی ابوطلحہ بھائی نے کہاتھا اوراس وقت جب شاہد نذیر اپنی پوسٹ ارسال کرچکے تھے اورمجھے ان کے رد کا جواب لکھناتھا یہ بات تومجھے لکھنی چاہئے تھی لیکن خداکاشکر ہے کہ میں پرخلوص بھائی کے خلوص پریقین رکھتاہوں اورجانتاہوں‌کہ جوکچھ انہوں‌نے کہاہے کہ وہ ہماری نصیحت اوربہتری کیلئے ہی کہاہے
    ابوطلحہ بھائی لگے رہیں ۔
    بش (سابق صدر امریکہ پوری دنیا کو دوست اوردشمن کی نظرسے دیکھتے تھے یاتو ہمارے ساتھ ہوگا یاہمارے خلاف ان کے ذہن میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ کوئی ملک غیرجانبدار بھی ہوسکتاہے۔شاہد نذیر بھی لگتاہے ان سے بہت زیادہ متاثرہیں اور وہ بھی تمام لوگوں‌کو اسی نظرسے دیکھتے ہیں کہ یاتوہماری ہفوات کی تائید کرو یاہمارے مزعومہ دشمنوں‌کی فہرست میں شامل ہوجائو
     
  17. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
  18. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    774
    مشورہ کا شکریہ الطحاوی صاحب! میں نے نہ صرف اس تھریڈ کا مطالعہ کیا تھا بلکہ وہاں جواب بھی دیا تھا جو کہ مجلس کی انتظامیہ نے حذف کر دیا تھا۔ جس مضمون کے بارے میں افراط و تفریط سے پاک ہونے اور ایک معتدل اور انصاف پر مبنی مضمون ہونے کا دعوی کیا گیا ہے ۔ وہ خیر سے صرف دعوی ہی ہے جب کہ یہ مضمون خود افراط کا شکار ہوچکا ہے جس میں مصنف نے امام ابوحنیفہ کی شان میں بلاوجہ ہی غلو کیا ہے۔ جبکہ امام ابوحنیفہ کی شان میں روایت کئے گئے اکثر اقوال سنداً ضعیف و مردود ہیں۔ اگر بالفرض ہم انکو صحیح بھی مان لیں تو یہ اقوال امام ابو حنیفہ پر ثابت شدہ شدید ترین جرح کے مقابلے پر ہونے کی وجہ سے امام صاحب کی شان کو بڑھانے سے قاصر ہیں۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 26, 2010
  19. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,422
    بہت اچھے سلمان بھائی
    دلیل سے کورے ایسے ہی جواب دیں گے۔
    حیران ہوں یہاں انتطامیہ ایکشن کیوں نہیں لیتی۔
     
  20. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم وحمۃاللہ و برکاتہ
    الطحاوی صاحب ! آخر کیا اردے ہیں آپ کے! آپکے عقیدے کے مطابق ابھی عینی کی روح آپ کو کوس رہی ہے، کہ جو کہا گیا تھا ہو گیا تھا۔ آپ نے اس موضوع پر بحث کرکے مزید طول دیا ار دفاع تو کر نا پائے۔ آپ کا ارداہ کہیں ، "امام صاحب" کے بارے میں بھی یہی تو نہیں ہے؟ ویسے امام ابو حنیفہ اور شیخ مقبل بن ھادی الوادعی کے تھریڈ میں بھی آپ کو کچھ اندازہ ہوا ہوگا۔ میں فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔ امام صاحب کو موضوع بحث بنانا ہے کہ نہیں۔ اگر چاہو تع ایک تھریڈس بنا لو اس موضوع پر !! مجھے تو اس کا شوق نہیں، اگر آپ کو ہے تو آپ کا یہ شوق بھی پورا کر دیں گے ۔ انشاءاللہ!

    الطحاوی صاحب ، آپ اپنے "امام صاحب" کو کچھ بھی ثابت کرنا چاہو، اس سے تقلید پھر بھی ثابت نہیں ہوتی۔ اس تھریڈ میں تقلید پر کوئی دلیل ہو تو شوق سے پیش کریں۔




    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں