قیامت والے دن ماں کے نام سے پکارا جانا!!!

ابوبکرالسلفی نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏اگست 26, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    امید ہے کہ احباب خیریت سے ہونگے۔

    میرا سوال ہے کہ اکثر عوام میں یہ شبہ پایا جاتا ہے کہ قیامت والے دن انسان اپنی ماں‌کے نام سے پکارا جائیگا مگر میں نے ایک حدیث بھی پڑھی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قیامت والے دن ہم کو ہماے باپ کے نام سے پکارا جائیگا ، یعنی فلان ابن گلان حاضر ہوں برائے مہربانی اس کی دلیل حدیث نمبر کے ساتھ بتا دیں ،

    نیز: میں نے ایک شیعہ کی کتاب بھی پڑھی ہے جس میں ان کے امام سے روایت ہے کہ سارے سنی حرام اولاد ہیں (استغفراللہ) اس لیے سنیوں کو ماں کے نام سے پکارا جائیگا اور شیعوں کو ان کے باپ کے نام سے پکارا جائیگا برائے مہربانی اس کی بھی اگر دلیل موجود ہو تو ضرور سینڈ کریں تا کہ ہمارا شبہ دور ہو سکے۔

    جزاک اللہ خیرا

    والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    یہ بات سراسر غلط اور جھوٹ ہے
    لوگوں کو قیامت کے دن باپوں کے نام سے ہی پکارا جائے گا
    حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْغَادِرَ يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ
    قیامت کے دن دغا باز کی سرین پر جھنڈا لگایا جائے گا جس پر لکھا ہوگا کہ اس نے فلاں بن فلاں سے غدر کیا تھا
    صحیح بخاری کتاب الادب باب ما یدعى الناس بآبائہم حــــــ 6177
     
  3. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    جزاک اللہ خیرا

    مگر میں نے ایک اور حدیث پڑھی ہے جس میں فلان ابن فلان کے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں ۔۔۔۔ ایسی بھی کوئی حدیث‌ہے؟؟؟؟
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    صحیح بخاری -> کتاب الادب
    باب : لوگوں کو ان کے باپ کانام لے کر قیامت کے دن بلایا جانا
    حدیث نمبر : 6177
    حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ الغادر يرفع له لواء يوم القيامة، يقال هذه غدرة فلان بن فلان ‏"‏‏.
    ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ عمری نے ، ان سے نافع نے ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، عہد توڑنے والے کے لئے قیامت میں ایک جھنڈا اٹھا یا جائے گا اور پکاردیا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی دغابازی کا نشان ہے ۔
    حدیث نمبر : 6178
    حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ إن الغادر ينصب له لواء يوم القيامة، فيقال هذه غدرة فلان بن فلان ‏"‏‏.
    ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عہد توڑنے والے کے لئے قیامت میں ایک جھنڈا اٹھا یا جائے گا اور پکارا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی دغا بازی کا نشان ہے ۔

    یہ بہت ہی ذلت ورسوائی کا موجب ہوگا کہ اس طرح اس کی دغا بازی کو میدان محشر میں مشتہر کیاجائے گا اور جملہ نیک لوگ اس پر تھو تھو کریں گے۔
    بحوالہ: لوگوں کو ان کے باپ کانام لے کر قیامت کے دن بلایا جانا
     
  5. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672


    نہیں بہن میں نے ایک حدیث پڑھی تھی مجھے یاد نہیں اس کا حوالہ اس میں‌صاف طور پر یہ وضاحت ہے کہ صرف عیسی ابن مریم علیہ السلام کے علاوہ سب کو ان کے باپ کے نام سے پکارا جائیگا ۔۔۔


    ان الفاظ کے ساتھ وہ حدیث ہے وہ مسلم بخاری میں نہیں‌ہے ۔۔ اگر کسی بھائی کو معلوم ہو تو ضرور بتائیں
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    اس موضوع پر اردو مجلس ميں ايك مفصل تحرير ديكھی تھی مگر اب مل نہیں رہی۔
     
  7. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    جزاک اللہ خیرا

    امید ہے کہ کوئی بھائی ضرور اس موضوع پر حدیث‌دینگے میرے پاس دوسرے کمپیوٹر میں سب مواد موجود تھا جس میں شیعوں کی کتب سے بھی حوالہ اور سکین کاپی تھی کہ ان کے نزدیک ہم یعنی کہ سنی ماں کے نام سے پکارے جائینگے۔۔۔۔

    مگر میرا وہ کمپیوٹر کریش ہو گیا تھا جس کی وجہ سے مجھے وہ مل نہیں رہا ۔۔۔

    ان شاء اللہ ، اللہ تعالی مدد کرے گا
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
  9. مشتاق احمد مغل

    مشتاق احمد مغل -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 6, 2007
    پیغامات:
    1,216
    جزاک اللہ
    یہ دونوں ربط عربی میں ہیں۔ان روابط پر موجود مواد کو اگر اردو میں ترجمہ کردیا جائے تو مہربانی ہوگی۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 26, 2010
  10. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    بھائی اس میں کہا گیا ہے کہ لوگوں‌میں‌جو رائج ہے کہ قیامت والے دن لوگون‌کو ان کی ماں کے نام سے پکارا، یہ بدعتیوں کے کام ہیں یا وہ یہ کام کر رہے ہیں۔ اور دفن کرنے کے بعد میت کو، پوچھا جائیگا کہ کس کون ہیں، تو کہا جائیگا فلان ابن فلان۔


    اور پھر نیچے وہی حدیث‌لکھی ہے جو اپر شیخ صاحب نے دی ہے اور بہن نے دی ہے۔ اس کے بعد وہ اس حدیث‌کا رد کرتے ہیں جو طرانی میں‌اور اس کی سنت میں ضعف ہے۔۔

    واللہ اعلم

    میرے اتنا ہی سمجھ میں آیا تو میں‌نے لکھ دیا باقی اہل علم اس کا بہتر ترجمہ کر سکتے ہیں‌۔
     
  11. مشتاق احمد مغل

    مشتاق احمد مغل -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 6, 2007
    پیغامات:
    1,216
    فلاں بن فلاں اور فلاں ابن فلاں میں کیا فرق ہے۔
    برائے کرم تفصیل سے روشنی ڈالیئے۔
    تاکہ معلومات میں اضافہ ہو۔
     
  12. مشتاق احمد مغل

    مشتاق احمد مغل -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 6, 2007
    پیغامات:
    1,216
    بھئی کہاں گئے سب لوگ
     
  13. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    دنوں کا معنى ایک ہی ہے
    فلان بن فلان
    اور
    فلان
    ابن فلان
    صحیح ہے
    اور فلان ابن فلان املاء کی غلطی ہے
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں