ایک نہائت اہم استفتاء.........

فرقان خان نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏ستمبر 5, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فرقان خان

    فرقان خان -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 4, 2010
    پیغامات:
    208
    سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ

    ہمارے پاس دہلی سے ایک صاحب نے ایک مطبوعہ استفتاء بھیجا ہے ۔جس کا موضوع بجائے خود نہایت اہم ہے اور اس لحاظ سے اس کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ہمارے اکابر اس مسئلہ کو غیر شرعی طریقہ پر حل کرنے کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ذیل میں استفتاء اور اس کا جواب درج کیا جاتا ہے۔

    السوال::
    ماہرین علوم اسلامیہ و مفتیانِ شرع متین سے حسب ذیل سوالوں کا مدلل جواب کتاب و سنت کی اور فقہ کی روشنی میں جلد مطلوب ہے:

    1:: اگر کوئی غیر مسلم حاکم یا غیر مسلم ثالث و پنچ مسلمان مردو عورت کے نکاح کو اسلامی احکام کے مطابق فسخ کردے ،یا غیر مسلم حاکم یا غیر مسلم ثالث و پنچ عورت پر مرد کا ظلم ثابت ہوجانے کی صورت میں مرد کی طرف سے عورت کو طلاق دے دے ،جیساکہ بعض صورتوںمیں مسلمان قاضی کو یہ حق حاصل ہے، تو کیا نکاح فسخ ہوجائے گا ؟اور عورت پر طلاق واقع ہوجائے گی ؟اور عورت کو شرعاً یہ حق حاصل ہوجائے گا کہ وہ غیر مسلم کے فسخ کردہ نکاح اور ایقائے طلاق کو شرعاً درست سمجھ کر بعد عدت یا جیسی صورت ہو، دُوسرے مسلمان مرد سے نکاح کرسکتی ہے ؟

    2:: اگر سوال مذکورۃ الصدر کو جواب نفی میں ہو۔یعنی شرعاً غیر مسلم کے حُکمِ فسخِ نکاح یا ایقائے طلاق کے بعد بھی وہ عورت شوہر اوّل کی زوجیت میں باقی رہتی ہے ،تو اس صورت میں جو عورت دوسرے مرد سے نکاح کرلے گی،اور دوسرے مرد کو یہ علم بھی ہو کہ اس عورت نے غیر مسلم حاکم یا غیر مسلم ثالث و پنچ کے ذریعے سے طلاق حاصل کی ہے ،تو وہ نکاح باطل و فاسد ہوگا یا نہیں ؟اور دوسرے مرد سے نکاح کے باوجود اس عورت کا دوسرے مرد سے زن وشوہر کے تعلق رکھنا حرام ہوگا یا نہیں ؟اور دونوں شرعاً زنا مرتکب سمجھے جائیں گے یا نہیں ؟
    3:: اور دوسرے مرد سے نکاح باطل ہونے کی صورت میں جب اس دوسرے مرد سے کوئی اولاد ہوگی تو وہ ولد الحرام ہوگی یا نہیں ؟اور یہ اولاد اس دوسرے مرد کے ترکے سے محروم ہوگی یا نہیں ؟

    مہربانی فرماکر ان سوالوں کے جواب نمبر وار مدلل تحریر فرمائیے۔الخ


    الجواب::
    اس سوال میں بنیادی غلطی یہ ہے کہ صرف غیر مسلم حاکم یا غیر مسلم ثالث و پنچ کے بارے میں سوال کیاگیا ہے ،حالانکہ سوال یہ کرنا چاہیے تھا کہ جو عدالتی نظامِ خدا سے بے نیاز ہوکر انسان نے خود قائم کرلیاہو اور جس کے فیصلے انسانی ساخت کے قوانین پر مبنی ہوں ،اس کو خداکا قانون جائز تسلیم کرتا ہے یا نہیں ؟اس کے ساتھ ضمنی غلطی یہ بھی ہے کہ سوال صرف فسخ و تفریق کے معاملات کے متعلق کیاگیا ہے حالانکہ اصولی حیثیت سے ان معاملات کی نوعیت دوسرے معاملات سے مختلف نہیں ہے۔

    صرف نکاح و طلاق کے معاملات میں نہیں ،بلکہ جملہ معاملات میں غیرا سلامی عدالت کا فیصلہ اسلامی شریعت کی رُو سے غیر مسلم ہے۔اسلام نہ اُس حکومت کو تسلیم کرتا ہے جو اصل مالک الملک،یعنی اللہ سے بے تعلق ہوکر آزادانہ خود مختار انہ قائم ہوئی ہو ،نہ اُس قانون کو تسلیم کرتا ہے جو کسی انسان یا انسانوں کی کسی جماعت نے بطور خود بنالیا ہو ،نہ اُس عدالت کو حقِ سماعت و فصلِ خوصو مات کو تسلیم کرتا ہے جو اصل مالک و فرمانروا کے ملک میں اس کی اجازت (Sanction)کے بغیر اس کے باغیوں نے قائم کرلی ہو۔اسلامی نقطۂ نظر سے ایسی عدالتوں کی حیثیت وہی ہے جو انگریزی قانون کی رُو سے اُن عدالتوں کی قرار پاتی ہے جو برطانوی سلطنت کی حدود میں ’’تاج‘‘کی اجازت کے بغیر قائم کی جائیں ۔ان عدالتوں کے جج،ان کے کارندے اور وکیل ،اور ان سے فیصلے کرانے والے جس طرح انگریزی قانون کی نگاہ میں باغی و مجرم اور بجائے خود مستلزم سزا ہیں ،اسی طرح اسلامی قانون کی نگاہ میں وہ پورا عدالتی نظام مجرمانہ وباغیانہ ہے جو بادشاہِ ارض و سما کی مملکت میں اس کے ’’سلطان‘‘کے بغیر قائم کیا گیا ہو،اور جس میں اس کے منظور کردہ قوانین کے بجائے کسی دوسرے کے منظور کردہ قوانین پر فیصلہ کیا جاتا ہو۔ایسا نظامِ عدالت جُرم مجسّم ہے ،اس کے جج مجرم ہیں ،اس کے کارکن مجرم ہیں اور اس کے جملہ احکام قطعی طور پر کالعدم ہیں ۔اگر ان کا فیصلہ کسی خاص معاملہ میں شریعت اسلامی کے مطابق ہو ،تب بھی وہ فی الاصل غلط ہے۔کیونکہ بغاوت اس کی جڑ میں موجود ہے ۔بالفرض اگر وہ چور کا ہاتھ کاٹیں ،زانی پر کوڑے یا رجم کی سزا نافذ کریں ،شرابی پر حد جاری کریں ،تب بھی شریعت کی نگاہ میں چور اور زانی اور شرابی اپنے جرم سے اس سزا کی بنائ پر پاک نہ ہوں گے ،اور خود یہ عدالتیں بغیر کسی حق کے ایک شخص کا ہاتھ کاٹنے یا اس پر کوڑے یا پتھر برسانے کی مجرم ہوں گی۔ کیونکہ انہوں نے خدا کی رعیت پر وہ اختیارات استعمال کیے جو خدا کے قانون کی رُو سے ان کو حاصل نہ تھے۔

    ان عدالتوں کی یہ شرعی حیثیت اس صورت میں بھی علیٰ حالہٰ قائم رہتی ہے جبکہ غیر مسلم کے بجائے کوئی نام نہاد مسلمان ان کی کُرسی پر بیٹھا ہو۔خدا کی باغی حکومت سے فیصلہ نافذ کرنے کے اختیارات لے کر جو شخص مقدمات کی سماعت کرتا ہے اور جو انسان کے بنائے ہوئے قانون کی رُو سے احکام جاری کرتا ہے ،وہ کم از کم جج کی حیثیت سے تو مسلمان نہیں ہے بلکہ وہ خود باغی کی حیثیت رکھتا ہے ،پھر بھلا اس کے احکام کالعدم ہونے سے کس طرح محفوظ رہ سکتے ہیں؟

    یہی قانونی پوزیشن اُس صورت میں قائم رہتی ہے جب کہ حکومت جمہوری ہو اور اس میں مسلمان شریک ہوں ،خواہ مسلمان کسی جمہوری حکومت میں قلیل التعداد ہوں یا کثیر التعداد ،یا وہ ساری آبادی مسلمان ہوں جس نے جمہوری لادینی اصول پر نظامِ حکومت قائم کیا ہو۔بہرحال جس حکومت کی بنیاد اس نظریہ پر ہو کہ اہل ملک خود مالک الملک (Sovereign) ہیں اور ان کو قانونِ الٰہی سے بے نیاز ہوکر خود اپنے لئے قانون بنانے کا اختیار حاصل ہے ،اس کی حیثیت اسلام کی نگاہ میں بالکل ایسی ہے جیسے کسی بادشاہ کی رعیت اس کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرے اور اس کے بالمقابل اپنی خود مختارانہ حکومت قائم کرلے ۔جس طرح ایسی حکومت کو اُس بادشاہ کا قانون کبھی جائز تسلیم نہیں کرسکتا اُسی طرح اس نوعیت کی جمہوری حکومت کو خدا کا قانون بھی تسلیم نہیں کرتا۔ایسی جمہوری حکومت کے تحت جو عدالتیں قائم ہوں گی ،خواہ ان کے جج قومی حیثیت سے مسلمان ہوں یا غیر مسلم ،ان کے فیصلے بھی اسی طرح کالعدم ہوں گے، جس طرح کہ صورتِ اول و دوم میں بیان کئے گئے ہیں۔

    جو کچھ عرض کیا گیا اس کی صحت پر پورا قرآن دلیل ہے ۔تاہم چونکہ سائل نے کتاب وسنت کی تصریحات کا مطالبہ کیا ہے ۔اس لئے محض چندآیاتِ قرآنی یہاں پیش کی جاتی ہیں::

    1 قرآن کی رُو سے اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے ،خلق اسی کی ہے ۔لہذا فطرۃً ’’اَمر‘‘کا حق (Right to rule) بھی صرف اسی کو پہنچتا ہے۔اس کے ملک (Dominion) میں اس کی خلق پر، خود اس کے سوا کسی دوسرے کا امر جاری ہونا اور حکم چلنا بنیادی طور پر غلط ہے۔

    قُلِ اللَّـهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ۔
    ’’کہواے اللہ!مالک الملک ،تو جس کو چاہے ملک دے اور جس سے چاہے چھین لے‘‘۔)آل عمران:۶ ۲(

    ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ۔
    ’’وہ )اللہ ( تمہارا رب ہے ،ملک اُسی کا ہے‘‘۔)فاطر:۳ ۱(

    لَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ۔
    ’’بادشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں (Partner)ہے‘‘۔ )بنی اسرائیل :۱۱۱(

    فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ۔
    ’’لہذا حکم اللہ بزرگ و برتر ہی کیلئے خاص ہے‘‘۔)المومن :۲۱(

    وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا۔
    ’’اور وہ اپنے حکم میں کسی کو اپنا حصہ دار نہیں بناتا‘‘۔)الکہف (۲۶:

    أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ۔
    ’’خبردار!خلق اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے‘‘۔)الاعراف:۴ ۵(

    يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِن شَيْءٍ ۗ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّـهِ۔
    ’’لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا امر میںہمارا بھی کچھ حصہ ہے ؟کہہ دو کہ امر ساراکا سارا اللہ کے لئے مخصوص ہے‘‘۔)آل عمران (۱۵۴:

    2 اس اصل الاصول کی بناء پر قانون سازی کا حق انسان سے بالکلیہ سلب کرلیا گیا ہے ۔کیونکہ انسان مخلوق اور رعیت ہے ،بندہ اور محکوم ہے اور اس کا کام صرف اس قانون کی پیروی کرنا ہے جو مالک الملک نے بنایا ہو۔اُس کے قانون کو چھوڑ کر جو شخص یا ادارہ خود کوئی قانون بناتا ہے،یا کسی دوسرے کے بنائے ہوئے قانون کو تسلیم کرکے اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، وہ ’’طاغوت‘‘ہے ،باغی اور خارج از اطاعت حق ہے،اور اس سے فیصلہ چاہنے والا اور اس کے فیصلے پر عمل کرنے والا بھی بغاوت کا مجرم ہے۔


    وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَـٰذَا حَلَالٌ وَهَـٰذَا حَرَامٌ۔
    ’’اور تم اپنی زبانوں سے جن چیزوں کا ذکر کرتے ہو ان کے متعلق جھوٹ گھڑ کر یہ نہ کہہ دیا کروکہ یہ حلال ہے (Lawful)اور یہ حرام (Un-lawful)‘‘۔ ) النحل: ۶ ۱۱(

    اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ۔
    ’’جوکچھ تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف اتارا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا دوسرے اولیائ )اپنے ٹھیرائے ہوئے کارسازوں (کی پیروی نہ کرو‘‘۔)الاعراف:۳(

    وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ۔
    ’’اور جو اُس قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو ایسے تمام لوگ کافر ہیں‘‘۔)المائدۃ:۴۴(
    أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالا بَعِيدًا۔
    ’’اے نبی!کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں اُس ہدایت پر ایمان لانے کوجو تم پر اور تم سے پہلے کے انبیاء پر اتاری گئی ہے اور پھر چاہتے ہیں کہ اپنے معاملہ کا فیصلہ ’’طاغوت‘‘سے کرائیں۔ حالانکہ انہیں حکم دیا گیاتھا کہ طاغوت سے کفر کریں )یعنی اس کے حکم کو تسلیم نہ کریں(‘‘۔(النساء:۶۰)

    3 خداوند عالم کی زمین پر صحیح حکومت اورصحیح عدالت صرف وہ ہے جو اس قانون کی بنیاد پر قائم ہوجو اُس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے بھیجا ہے۔اسی کا نام خلافت ہے۔

    وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّـهِ۔
    ’’اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ حکم الٰہی کی بنائ پر اس کی اطاعت کی جائے ‘‘۔)النساء:۴۶(

    إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّـهُ۔
    ’’اے نبی ! ہم نے تمہاری طرف کتاب ِ برحق نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اُ س روشنی کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تمہیں دکھائی ہے‘‘۔)النساء (۱۰۵:

    وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ إِلَيْكَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُصِيبَهُم بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ۔
    ’’اور یہ کہ تم ان کے درمیان حکومت کرو اس ہدایت کے مطابق جو اللہ نے اتاری ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو اور ہوشیار رہو کہ وہ تمہیں فتنہ میں مبتلا کرکے اُس ہدایت کے کسی جز سے نہ پھیر دیں جو اللہ نے تمہاری طرف نازل کی ہے.کیا یہ لوگ جاہلیت کی حکومت چاہتے ہیں ؟‘‘ )المائدۃ:۹۴۔۰۵(

    يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـه۔
    ’’اے داؤد!ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ مقرر کیا ہے لہذا تم حق کے ساتھ لوگوں کے درمیان حکومت کرو اور اپنی خواہش نفس کی پیروی نہ کرو ورنہ اللہ کے راستہ سے وہ تم کو بھٹکا لے جائے گی‘‘۔)ص: (۲۶

    4 اس کے برعکس ہر وہ حکومت اور ہر وہ عدالت باغیانہ ہے جو خداوند عالم کی طرف سے اس کے پیغمبروں کے لائے ہوئے قانون کے بجائے کسی دوسری بنیاد پر قائم ہو۔بلا لحاظ اس کے کہ تفصیلات میں ایسی حکومتوں اور عدالتوں کی نوعیتیں کتنی ہی مختلف ہوں ،ان کے تمام افعال بے اصل اور باطل ہیں۔ان کے حکم اور فیصلہ کے لئے سرے سے کوئی بنیاد ہی جائز نہیں ہے۔حقیقی مالک الملک نے جب انہیں سلطان (Charter) عطاہی نہیں کیا تو وہ جائز حکومتیں اور عدالتیں کس طرح ہوسکتی ہیں۔

    )چارٹر سے ہماری مراد یہ ہے کہ جو خدا کومالک الملک اور اپنے آپ کو اس کا خلیفہ )نہ کہ خود مختار (تسلیم کرے، پیغمبرکو اس کا پیغمبر اور کتاب کو اس کی کتاب مانے اور شریعت الٰہی کے تحت رہ کر کام کرنا قبول کرے،صرف ایسی ہی حکومت اور عدالت کو خداوند عالم کا چارٹر حاصل ہے ۔یہ چارٹرخود قرآن میں دیا گیا ہے کہ )اُحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ(’’لوگوں کے درمیان حکومت کرو اس قانون کے مطابق جو اللہ نے نازل کیا ہے‘‘حاشیہ سید مودودی(a)

    وہ توجو کچھ کرتی ہیں،خدا کے قانون کی رو سے سب کا سب کالعدم ہے۔اہل ایمان )یعنی خدا کے وفادار رعایا( ان کے وجود کو بطور ایک خارجی واقعہ (Defacto)کے تسلیم کرسکتے ہیں ،مگر بطور ایک جائز وسیلۂ انتظام و فصل قضایا (Dejure) کے تسلیم نہیں کرسکتے۔ان کا کا م اپنے اصلی فرمانروا.....اللہ....کے باغیوں کی اطاعت کرنا اور ان سے اپنے معاملات کا فیصلہ چاہنا نہیں ہے،اور جو ایسا کریں و ادعائے اسلام و ایمان کے باوجود وفاداروں کے زمرہ سے خارج ہیں ۔یہ بات صریح عقل کے خلاف ہے کہ کوئی حکومت ایک گروہ کوباغی قرار دے اور پھر اپنی رعایا پر اُن باغیوں کے اقتدار کو جائز تسلیم کرلے اور اپنی رعایا کو ان کا حکم ماننے کی اجازت دے دے۔

    قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا۔
    ’’اے نبی!ان سے کہو میں تمہیں بتاؤں کہ اپنے اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ ناکام ونامراد کون ہیں؟وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی پوری سعی بھٹک گئی )یعنی انسانی کوششوں کے فطری مقصود ،رضائے الٰہی سے ہٹ کر دوسرے مقاصد کی راہ میں صرف ہوئی (اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم خوب کام کررہے ہیں ۔یہ وہ لاگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے احکام ماننے سے انکار کیا اور اس کی ملاقات )اس کے سامنے حاضر ہوکر حساب دینے (کا عقیدہ قبول نہ کیا۔اس لئے ان کے سب احکام حبط )کالعدم(ہوگئے اور قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے‘‘۔)الکہف:۱۰۳ تا (۱۰۵

    وَتِلْكَ عَادٌ ۖ جَحَدُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهُ وَاتَّبَعُوا أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ ۔
    ’’یہ عاد ہیں جنہوں نے اپنے رب کے احکام ماننے سے انکار کیا اور اس کے رسولوں کی اطاعت نہ کی اور ہر جبار دشمن حق کے امر کا اتباع کیا‘‘۔)ہود:۹ (۵

    وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ ۖ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ
    ’’اور ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات اور واضح روشن سلطان کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان ریاست کے پاس بھیجا مگر ان لوگوں نے ہمارے فرستادہ شخص کے بجائے فرعون کے امر کی پیروی کی حالانکہ فرعون کا امر درست نہ تھا )یعنی مالک الملک کے سلطان پر مبنی نہ تھا(‘‘۔)ہود:۶ ۹۔۷۹(

    وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا۔
    ’’اور تو کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے )یعنی اس حقیقت کے شعور و ادراک سے کہ ہم اس کے رب ہیں (غافل کردیا جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی کی اور جس کا امر حق سے ہٹا ہوا ہے‘‘۔)الکہف:۸ ۲(

    قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا بِاللَّـهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا۔
    ’’اے نبی ! کہہ دو کہ میرے رب نے حرام کیا ہے فحش کاموں کو خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور معصیت کو اور حق کے بغیر ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کو،اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ )حاکمیت(یا الوہیت میں ان کو شریک کرو جن کے لئے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے‘‘۔)الاعراف:۳۳(
    مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِ إِلَّا أَسْمَاءً سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّـهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ ۚ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّـهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ۚ۔
    ’’اور تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی بندگی کرتے ہوں وہ تو محض نام ہیں جو تم نے اور تمہارے اگلوں نے رکھ لئے ہیں ۔اللہ نے ان کے لئے کوئی سلطان نازل نہیں کیا ہے حکم صرف اللہ کے لئے خاص ہے ۔اس کا فرمان ہے کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ‘‘۔)یوسف (۴۰:

    وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ مَصِيرًا۔
    ’’اور جو کوئی رسول سے جھگڑا کرے درآنحالیکہ راہ راست اس پر واضح ہوگئی اور ایمان داروں کا راستہ چھوڑکر دوسری راہ پر چلنے لگے ،اس کو ہم اُسی طرف چلائیں گے جدہر وہ خود مڑ گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے اور وہ بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے‘‘۔)النساء:۱۵۱(

    فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ۔
    ’’پس تیرے رب کی قسم! وہ ہرگز مومن نہ ہوں گے جب تک کہ اے نبی تجھ کو اپنے باہمی اختلافات میں فیصلہ کرنے والا تسلیم نہ کریں ‘‘۔)النساء (۶۵:

    وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا۔
    ’’اور جب کہا گیا کہ آؤاس حکم کی طرف جو اللہ نے اتارا ہے اور آؤ رسول کی طرف توتو نے منافقوں کو دیکھا کہ تجھ سے چھڑک کر مل رہے ہیں‘‘۔)النساء:۱۶(


    وَلَن يَجْعَلَ اللَّـهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا۔
    ’’اور اللہ نے کافروں )یعنی اپنی سلطنت کے باغیوں( کے لئے اہل ایمان )یعنی اپنی وفاداررعایا (پر کوئی راہ نہیں رکھی ہے‘‘۔)النساء:۱۴۱(

    یہ قرآن کے محکمات ہیں ۔ ان میں کچھ بھی متشابہ نہیں ہے ۔اسلام کے نظام اخلاق اور نظام تمدن کی بنیاد جس مرکزی عقیدہ پر رکھی گئی ہے وہی اگر مشتبہ رہ جاتا ہے ،تو قرآن کا نزول ہی معاذ اللہ بیکار ہوتا۔اس لئے قرآن نے اس کو اتنے صاف اور قطعی طریقے سے بیان کردیا ہے کہ اس میں دو رائیں ہونے کی گنجائش ہی نہیں ہے ،اور قرآن کی ایسی تصریح کے بعد ہم کو ضرورت نہیں کہ حدیث یافقہ کی طرف رجوع کریں ۔پھر جب کہ اسلام کی ساری عمارت ہی اس سنگِ بنیا پر کھڑی ہے کہ اللہ نے جس چیز کے لئے کوئی سلطان نہ اتارا ہو وہ بے اصل ہے اور اللہ کے سلطان سے بے نیاز ہوکر جو چیز بھی قائم کی گئی ہو اس کی قانونی حیثیت سراسر کالعدم ہے ،تو کسی خاص معاملہ کے متعلق یہ دریافت کرنے کی کوئی حاجت نہیں رہتی کہ اس معاملہ میں بھی کسی غیر الٰہی حکومت کی عدالتوں کا فیصلہ شرعاًنافذ ہوتا ہے یا نہیں ۔جس بچے کا نطفہ ہی حرام سے قرارپایا ہو تو اس کے بارے میں یہ کب پونچھا جاتا ہے کہ اس کے بال بھی حرامی ہے یا نہیں ؟خنزیر جب پورا کاپورا حرام ہے تو اس کی کسی بوٹی کے متعلق یہ سوال کب پیدا ہوتا ہے کہ وہ بھی حرام ہے یا نہیں ؟پس یہ سوال کرنا کہ فسخِ نکاح ،اور فریقین میں بین الزوجین اور ایقائے طلاق کے بارے میں غیر الٰہی عدالتوں کا فیصلہ نافذ ہوتا ہے یا نہیں ،اسلام سے ناواقفیت کی دلیل ہے اور اس سے زیادہ ناواقفیت کی دلیل یہ ہے کہ سوال صرف غیر مسلم ججوں کے بارے میں کیا جائے ۔گویا سائل کے نزدیک جو نام کے مسلمان غیر الٰہی نظام عدالت کے پرزوں کی حیثیت سے کام کررہے ہوں اُن کا فیصلہ تو نافذ ہوہی جاتا ہوگا ،حالانکہ خنزیر کے جسم کی بوٹی کا نام ’’بکرے کی بوٹی ‘‘رکھ دینے سے نہ تو وہ بوٹی فی الواقع بکرے کی بوٹی بن جاتی ہے اور نہ حلال ہی ہوسکتی ہے۔

    اس میں شک نہیں کہ اسلام کے اس اصل الاصول کو تسلیم کرنے کے بعد غیر الٰہی حکومت کے تحت مسلمانوں کی زندگی مشکل ہوجاتی ہے لیکن مسلمانوں کی زندگی کو آسان کرنے کے لئے اسلام کے اولین بنیادی اصول میں ترمیم نہیں کی جاسکتی۔ مسلمان اگر غیر الٰہی حکومتوں کے اندر رہنے کی آسانی چاہتے ہیں تو انہیں اصولِ اسلام میں ترمیم کرنے یا باالفاظ دیگر اسلام کو غیر اسلام بنانے کا اختیار حاصل نہیں ہے،البتہ ’’مرتد‘‘ہونے کا موقع ضرور حاصل ہے ۔کوئی چیزیہاں اس سے مانع نہیں۔شوق سے اسلام کو چھوڑ کر کسی آسان طریقِ زندگی کو قبول کرسکتے ہیں ۔لیکن اگر وہ مسلمان رہنا چاہتے ہیں تو اُن کے لئے صحیح اسلامی طریقہ یہ نہیں ہے کہ غیر الٰہی حکومت میں رہنے کی آسانیاں پیدا کرنے کے لئے ایسے حیلے بہانے ڈھونڈتے پھریں جو اسلام کے بنیادی اصولوں سے متعارض ہوں،بلکہ صرف ایک راستہ اُن کے لئے کھلا ہوا ہے اور وہ یہ کہ جہاں بھی وہ ہوں ،حکومت کے نظریہ کو بدلنے اور اصول حکمرانی کو درست کرنے کی سعی میں اپنی پوری قوت صرف کردیں۔

    .............................................
    ) ترجمان القرآن۔اگست۱۹۴۰؁ء۔بحوالہ حقوق الزوجین از ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ)
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں