درس فقہ حنفیہ ۔سبق اول :

ابن داود نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏ستمبر 12, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ
    درس فقہ حنفیہ ۔سبق اول :
    فقہ حنفیہ کو سمجھنے کے لئے آپ کو فقہ حنفیہ کے اصول سمجھنا ضروری ہے۔ ہم درس فقہ حنفی کے پہلے سبق میں فقہ حنفیہ کا اہم ترین اصول بیان کریں گے۔جو امام ، امام ابوالحسن کرخی رحمۃاللہ علیہ نے اپنے رسالہ " اصول الکرخی" میں تحریر کیا ہے ۔ جس سے آپ کو فقہ حنفیہ کی بنیاد سمجھ آجائے گی ۔ ان شاءاللہ!

    فقہ حنفیہ کا بنیادی اصول:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]الاصل : ان كل آية تخالف قول اصحابنا فانها تحمل على النسخ او على الترجيح والاولى ان تحمل على التاويل من جهة التوفيق۔

    بیشک ہر وہ آیت جو ہمارے اصحاب کے قول کے مخالف آجائے اسکو منسوخ ہونے پر محمول کیا جائے گا یا پھر اسکو مرجوع سمجھا جائے گا (یعنی فقہا احناف قول کو ترجیح دینگے) اور بہتر یہ ہے کہ اپنی پوری صلاحیت اسکو تاویل پر محمول کیا جائے (یعنی قرآن کی آیت کی تاویل کر لی جائے) تا کہ دونوں میں تطبیق ہو جائے۔

    فقہ حنفیہ کے طالب علمو ! اگر آپ ابن نجیم کی طرح فقیہ العصر بننا چاہتے ہیں تو مندرجہ بالا اصول کو صحیح طورپر سمجھ لیجئے۔ فقیہ حنفیہ کے اس اصول میں مندرجہ ذیل باتیں مذکور ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک بات ایک اصول و قاعدہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

    ۱:۔ قرآن کی آیات فقہاء احناف اقوال کے مخالف ہوتی ہیں۔
    کھبی غلطی سےبھی یہ بات زبان سے نہ نکل جائے کہ فقہا احناف کا قول قرآن کے خلاف ہے۔ ان دونوں باتوں میں بہت فرق ہے۔ آپ اگر علم الجبر والمقابلہ اور علم طبعیات سے واقف ہیں تو آپ کو یہ بات سمجھنا آسان ہوگی۔ کہ پہلے ایک سمت کو معیار قرار دیا جاتا ہے ۔ اور پھر اس کی مخالف کو مخالف سمت تصور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح فقہ حنفیہ میں پہلے اپنے فقہا کو معیار قرار دیا گیا ہے، اب اس کی مخالفت کرنا والا مخالف قرار دیا جائے گا۔ جیسا کہ اصول کرخی کے اس اصول کی عبارت میں ہے، "ان كل آية تخالف قول اصحابنا" بیشک ہر وہ آیت جو ہمارے اصحاب کے قول کے مخالف آجائے۔ تو اس عبارت میں قرآن کی آیت کی فقہ حنفیہ سے مخالفت کا تذکرہ ہے۔ کوئی یوں نہ کہے کہ " اگر ہمارے اصحاب کا قول قران کی آیت کے مخالف آجائے"۔ کیونکہ اس میں فقہا احناف کی تحقیر و توہین لازم آتی ہے۔ اور یہ فقہ حنفیہ میں قطعی جائز نہیں۔ قرآن کی تحقیر و توہین کی تو اضطراری کیفیت فقہ حنفیہ جائز ہے۔ جیسا کہ علاج کے لئے قرآن کو نکسیر کے خون (جو کہ فقہ حنفیہ میں ناپاک ہے)، اور پیشاب سے لکھنا بھی جائز ہے۔ یہ سبق بعد میں تفصیل سے پڑھایا جائے گا۔ فالوقت صرف اشارہ مقصود تھا۔ فقہا احناف کی تحقیر سے بڑھ کر اضطراری کیفیت اور کیا ہو سکتی ہے!! لہذا یوں کبھی نہ کہا جائے کہ" فقہا احناف کا قول قرآن کے خلاف ہے"، بلکہ اسی طرح کہا جائے کہ قرآن کی آیت فقہا احناف کے خلاف ہے۔

    ۲:۔ فقہا احناف کےاقوال وحی کا درجہ رکھتے ہیں۔
    فقہ حنفیہ کی رو سے حدیث سے قرآن کا نسخ نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ ہی قرآن کے کسی حکم پر حدیث سے کوئی اضافہ کیا جاسکتا۔ (یہ سبق بھی بعد میں تفصیل سے پڑھایا جائے گا۔) لیکن فقہا احناف کے قول کی بنیاد پر قرآن کی آیت کو منسوخ قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ احادیث تو ثقہ رواۃ الحدیث سے با سند مروی ہونے کے با وجود بھی "ظنی" ہیں ،جبکہ فقہا احناف کے اقوال بلاسند درج ہونے کے باوجود بھی قطعی الثبوت اور قطعی الدلالۃ ہیں۔ لہذا اگر قرآن کی کوئی آیت فقہا احناف کے قول کے خلاف آئے تو اس آیت کو منسوخ قرار دیا جائے گا۔

    ۳:۔ قرآن کی آیت کی کا نسخ ،تطبیق کے نا ممکن ہونے کی صورت میں ہے:
    قرآن کی آیات کا نسخ اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے منسوخ کیا ہے۔ بلکہ اس لئے ہے کہ اگر تطبیق ناممکن ہو ، اورتطبیق دینا ہی اولی ہے۔ اب اگر کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ حنفی علماء قرآن کی آیت اور فقہا احناف کے اقوال میں تطبیق نہ دے سکیں۔ اور فقہ الاسلامی کے پیروکار ان کا ناطقہ بند کردیں، اس صورت میں قرآن کی آیت کو منسوخ قرار دے کر کم از کم بزعم خویش فقہ الاسلامی کے پیروکار کے اعتراضات کا جواب دیا جاسکتا ہےاور اس طرح فقہا احناف کا دفاع کیا جا سکتا ہے۔ اب جب آپ کسی آیت کو منسوخ قرار دے دیں گے تو وہ آیت آپ پر کسی مسئلہ میں دلیل کے طور پیش نہیں کی جا سکے گی۔ لیکن کسی آیت کو منسوخ قرار دینے میں جلدی نہیں کرنی چاہئے، کیونکہ اکثر وہی آیات احناف کو دوسرے مسائل میں دلیل بنانے کی حاجت پڑ جاتی ہے۔ لہذا اولیٰ یہ ہے کہ قرآن کی اس آیت کے معنی اور مفہوم میں تاویل کی جائے اور اس آیت کے معنیٰ ومفہوم کو توڑ مڑوڑ کر فقہا احناف کے قول کے مطابق کر دیا جائے۔ لیکن یاد رہے، کہ فقہا احناف کے اقوال کو بالکل بھی حرف نہ آنے آنے پائے۔ فقہا احناف کے اقوال اسی جگہ قائم و دائم رہیں گے۔ صرف قرآن کی آیت کے معنیٰ کو تبدیل کیا جائے گا۔ اور اسی لئے علماء احناف کو علم الکلام اور فلسفہ کا ماہر بنایا جاتا ہے، تاکہ وہ علم الکلام اور فلسفہ کو برئے کار لاتے ہوئے ، قرآن کی آیت کے معنی ٰ و مفہوم کوپھیر سکیں اور فقہا احناف کے اقوال کے ہم معنیٰ بنا سکیں۔

    کچھ نا سمجھ حنفی بڑے بڑے علماء کے ناموں اور القابوں پر اپنا یوزر نام مثلا" الطحاوی" رکھ کر انٹرنیٹ فورمز میں فقہ حنفیہ کی نمائندگی کرتے ہیں مگریا تو وہ اس اصول سے ہی واقف نہیں ہوتے اگر واقف ہوتے ہیں تو وہ اسے فقہ حنفیہ کا شاذ اصول سمجھتے ہیں، اور فقہ حنفیہ کی نسبت لوگوں میں یہ بتلاتے ہیں کہ فقہ حنفیہ میں اس اصول کا کوئی اعتبار نہیں۔ یہ تمام باتیں ایسے لوگوں کی فقہ حنفیہ سے انتہائی درجہ کی جہالت کا ثبوت ہے۔ فقہ حنفیہ کے اس اصول کے معتبر اور معمول بہ ہونے کے بہت سے دلائل و شواہد ہیں۔ مگر اتنا بتلا دینا ہی کافی ہے کہ فقہ حنفیہ کا یہ اصول فقہ حنفیہ کے بہت بڑے امام ، امام ابوالحسن الکرخی رحمۃاللہ علیہ نے اپنے رسالہ " اصول الکرخی" میں تحریر کیا ہے ، اور اس پر امام ابو منصور ماتریدی رحمۃاللہ علیہ ، جن کے احناف عقیدہ اور اصول میں پیروکار ہیں، کے پیروکارخاص، امام نجم الدین ابی حفص عمر بن احمد النسفی نے حواشی تحریر کیئے ہیں۔ اور اس اصول کو قبول کیا ہے۔ لہذا آج کا کوئی انٹرنیٹ کا صارف جو خود کو حنفی گردانتا ہو وہ تو کیا کسی حنفی دارلعلوم کا استاد ، یا اگر دارلعلوم دیوبند کے تمام اساتذہ بھی اس کا انکار کریں تو ،ان کے انکار کی کوئی وقعت نہیں۔

    تنبیہ: نجم الدین ابی حفص عمر بن احمد النسفی نے اس اصول کے حاشیہ میں فقہ السلامی کے حوالے سے ناسخ و منسوخ کی امثال ذکر کیں ہیں، جس میں وحی سے وحی کا نسخ بتلایا گیا ہے۔ یہ امثال فقہ االسلامی والوں کو بتلانے کے لئے لکھیں گئیں ہیں کہ فقہ السلامی میں بھی ناسخ و منسوخ ہے۔ تا کہ اس طرح فقہ الاسلامی کے پیروکار کو اس مسئلہ میں ٹال دیا جائے، کہ ناسخ و منسوخ تو کوئی اختلافی مسئلہ نہیں، اور انہیں یہ باور کروایا جائے کہ فقہ حنفیہ بھی فقہ السلامی کی طرح ناسخ و منسوخ کے قائل ہیں۔ فقہ حنفیہ کے طالب علمو!آپ امام نجم الدین ابی حفص عمر بن احمد النسفی رحمۃاللہ علیہ آپ لوگوں کے لئے آئیڈیل بنائیں، دیکھیں کس طرح وہ اس بات کو گول کر گئے کہ فقہ الاسلامی میں قرآن و حدیث کا نسخ قرآن و حدیث کی بنیاد پر ہوتا ہے، جبکہ فقہ حنفیہ کے اس اصول میں قرآن میں نسخ کی بنیاد فقہا حنفیہ کے اقوال ہیں۔
    [/FONT]


    اس سبق کے متعلق جو سوالات ہوں۔ مندرجہ ذیل تھریڈ میں کئے جا سکتے ہیں۔
    مگر یاد رہے کہ صرف مندرجہ بالا سبق کے متعلقہ سوالات کا ہی جواب دیا جائے گا۔

    درس فقہ حنفیہ ۔ سبق اول ( سوال و جواب) - URDU MAJLIS FORUM


    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  2. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ


    [​IMG]


    [​IMG]


    [​IMG]



    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. Truthness

    Truthness -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 1, 2009
    پیغامات:
    100
    بہت اچھا سبق ہے
    فاعتبرو یا اولی الابصار !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    772
    و علیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ

    ماشااللہ! بہت زبردست ابن داود بھائی۔ آپکی تحریر اسقدر خوبصورت ہے کہ میرے پاس حقیقتآ وہ الفاظ نہیں جس سے میں آپکی تحریر کی تعریف کا حق ادا کرسکوں۔ اللہ آپکے زور قلم کو مزید بڑھائے۔ آمین ثم آمین

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. ابن بشیر

    ابن بشیر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جنوری 29, 2012
    پیغامات:
    265
    باقی اسباق کہاں ہیں ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,170
    ابن داود بھائ شائد اسے مکمل کرنا بھول گئے۔
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,179
    جس طرح ابوالحسن کرخی کا اصول تعصب مذہب پر مبنی ہے.اس طرح اس کو فقہ حنفیہ کا اصول کہنا بھی تعصب ہے .علمی دیانت نہیں. معتبر متقدمین و ہم عصر حنفیہ نے ہی اسے رد کردیا تھا. بقول ابن تیمیہ رحمہ اللہ اصول الکرخی اور اس پر حواشی چڑھانے والے دونوں ہی معروف علماء میں کبھی مقبول نہیں رہے.
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں