اسلامى جمہوریہ پاكستان ميں باحجاب خواتين كى مشكلات

عائشہ نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏اکتوبر، 18, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,151
    بسم اللہ الرحمن الرحيم

    اسلامى جمہوریہ پاكستان ميں باحجاب خواتين كى مشكلات

    السلام عليكم ورحمت اللہ وبركاتہ،

    مغربى ممالك ميں باحجاب خواتين كى مشكلات كا ذكر اكثر نظر سے گزرتا رہتا ہے اور جہاں لب ان مسلمان بہنوں كے ليے بے ساختہ دعا گو ہوتے ہیں تو بہت سی پاكستانى بہنوں کےچہرے بھی تيزى سے نگاہوں کے سامنے لہرا جاتے ہیں جو حجاب كے فرض كى ادائيگی كى خاطر صعوبتوں سے بھرے شب و روز سے نبرد آزما ہیں۔۔۔

    يہ ايك تلخ زمينى حقيقت ہے كہ مكمل شرعى حجاب اپنانا نہ ديہات ميں آسان ہے نہ شہر میں۔نہ يونيورسٹی كى سطح تك تعليم يافتہ لڑکی کے ليے اور نہ ہی ديہاتی اور قصباتى مدرسے اور سكول سے نا آشنا لڑکی کے ليے۔ عجيب بات ہے ملك ميں اسلام كے نفاذكے نعرے لگانے كے ليے پاكستانى قوم جتنى جذباتى ہے اتنى ہی ذاتى زندگی ميں اسلام كے نفاذ كے ليے لاپرواہ بلکہ دانستہ غافل۔شايد اس ليے كہ سارى ذمہ دارى حكمرانوں پر ڈال دينا آسان كام ہے اور خود مسلمان بننے ميں پڑتی ہے محنت زيادہ !

    بہرحال يہ ايك پاكستانى مسلمان مہوش بھٹی كے بلاگ كى ايك تحرير ہے جوايك اہم اسلامى فريضے (حجاب ) كے متعلق پاكستانى معاشرے كى اشرافيہ اور تجارتى اداروں كى اخلاقيات كو بے نقاب كرتى ہے۔۔۔۔
    مہوش بہن نے تحرير كا اختتام اس سوال پر كيا ہے:
    My question is that how does following my beliefs make me a security concern? Where do advocates of freedom go when I am not allowed to freely practice my religion in this Islamic Republic Of Pakistan since that shows my inflexibility to cope with the requirements of firms? Why am I not allowed to be honest when ICAP claims to regulate the profession for creating an air of honesty and transparency? Isn’t this extremism to outcast a person and destroy the career of a student because of his or her attire?​
    ميں اس سوال ميں ايك اور اضافہ كرنا چاہوں گی۔پاكستان ميں عورت كى آزادى كے علمبردار كبھی عورت كے حق حجاب كے ليے آواز بلند كرنا پسند كريں گے؟
    ثمينہ احمد(برقعہ ويگنزا فيم)، مديحہ گوہر، فريحہ گوہر،حنا جيلانى، عاصمہ جہانگیر اور ناصرہ جاويد اقبال جیسی انتہا پسند "ہیومن رائٹ ایکٹوسٹس" ، باحجاب خواتين كے حقوق كے ليے کبھی نم دیدہ نظر کیوں نہیں آتیں؟ کیا نقاب پہن لینے سے عورت ہیومن کی تعریف کی حدود سے باہر نکل جاتی ہے؟
    سوال تو بہت سے ہیں مگر ايك عوامى فورم كے صفحات ان كے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس تحرير پر آپ کے خصوصا بہنوں کے تبصروں كا انتظار رہے گا۔
     
  2. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,693
    سسٹر آپ نے یہ لکھ کر (خصوصا بہنوں کے تبصرے کا انتظار رہے گا ) ہم سے ریپلائی کرنے کا حق تو چھین لیا ہے لیکن چند الفاظ ضرور کہوں گا

    کہ جب یہ نام لکھا جاتا ہے کہ ۔۔۔اسلامی جمہوریہ پاکستان۔۔۔۔۔
    جب اسلام کو جمہوریت کے ساتھ اٹیچ کریں گی ۔۔۔تو باقی کیا رہ جات ہے۔؟
    مہوش بہن نے جو تحریر لکھی ہے یقینا ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔۔۔۔۔ہم صرف دعا ہی کر سکتے ہیں۔
    اللہ ہمارے اس ملک کو کوئی قرآن و سنت کا علمبردار حکمران عطا کرد ے آمین
    یا اللہ ہمیں کوئی عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ جیسا حکمران عطا کردے۔۔آمین
    ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ کی رحمت سے نا اُمید نہیں‌ ہونا چاہیے اگر اللہ چاہے تو سب کچھ ممکن ہے۔۔۔۔اس لیے ہمیں دعا ضرور کرنی چاہیے ۔۔

     
  3. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    474
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
    پاکستان میں آئے دن بیرونی ممالک میں حجاب اور نقاب پر لگنے والی پابندیوں کے خلاف مظاہرے ہوتے ہیں، ان ممالک کے پرچم جلائے جاتے ہیں، پتلے جلائے جاتے ہیں،بڑے بڑے علما تقریریں بھی جھاڑتے ہیں،لیکن اپنے ہی ملک میں، حجاب اور نقاب لینے والی خواتین اور بچیوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے اس پر کسی کی نظر نہیں پڑتی،غیرت کے نام پر عورت کو قتل کر دیا جاتا ہے لیکن بے نقاب اور بے حجاب عورتوں کو دیکھ کر غیرت نہیں جاگتی۔آج سے کئی سال پہلے جب میں پاکستان میں بطور ڈاکٹر کئی بڑے اسپتالوں میں جاب انٹرویو کے لئے جانا ہوا تو میرا حجاب دیکھ کر انٹرویو کرنے والوں کے منہ بھی لٹک جایا کرتے تھے، اور حجاب والوں کیلئے جاب دستیاب نہیں کا بورڈ بن جایا کرتے تھے۔اب پاکستان میں حجاب کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے اس ویڈیو سے ظاہر ہے ۔

    http://www.youtube.com/watch?v=Pt7ZXzxNIwo
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,972
    صرف خواتین ہی نہیں، کسی بھی مذہبی انسان کے لیے پاکستانی معاشرے میں یا اداروں میں اپنی ساکھ بحال کرنا یا نوکری حاصل کرنا کافی مشکل ہے۔خادم کو اس کا ذاتی تجربہ ہے۔
    جہاں تک بات ہے ناصرہ جاوید اقبال اور جاوید اقبال کی، تو کسی نے صھیح کہا ہے۔۔۔۔۔نور محمد کے گھر اقبال پیدا ہوا اور اقبال کے گھر پھر نور محمد پیدا ہو گیا،
    اقبال نے جاوید کو نصیحت بھی کی لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:00039:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. ثانیہ

    ثانیہ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 14, 2010
    پیغامات:
    165
    اچھا سوال ہے! میری بہن یہ تو خود باحجاب خوایتن سے خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔

    ہیومن رائٹ ، کون سے رائٹ باحیا مسلمان خوایتن کے اپنے رائٹ؟
     
  6. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,423
    جمہوریت کے ساتھ لفظ اسلامی لگانا ہی اسلام کی بہت بڑی گستاخی ہے اسلام کا اپنا ایک نظام حکومت ہے بلکل پاک شفاف ہے۔
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,151
    ايك غلط فہمی دور كر لیجیے ميں نے اسلام كو جمہوریت سے اٹیچ نہیں كيا، پاكستان كا مكمل سركارى نام ذكر كيا ہے۔اگر پاكستان كا نام كچھ اور ہے تو تصحيح كيجيے۔
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,151
    بالكل درست! اسى دوہری پاليسى كى جانب ميں بھی توجہ دلانا چاہتی ہوں کہ مغربى ممالك ميں پابندى پر اتنا شور اور اپنے گھر كے ظلم پر خاموشى ۔۔۔
    انہی لٹکے مونہوں كا ذكر مہوش بھٹی كى تحرير ميں بھی ملے گا۔ سوال يہ ہے كہ یہ منہ كيا مسلمانوں کے منہ نہیں؟ ان كی تربيت كہاں ہوئی ہے كہ يہ حجاب سے اتنے بے زار اور متنفر ہیں؟انہیں ايك اسلامى فريضے كى ادائيگی تكليف كيوں ديتى ہے؟
    ابھی وڈیو چیک نہیں كر پائى ، مگر ايك بات ہے کہ اب ہسپتالوں ميں باپردہ يا فقط ہیڈ سكارف والى ڈاكٹرز اور نرسز كى تعداد ميں اضافہ ہورہا ہے۔
    درست فرمايا، يہ بھی ايك حقيقت ہے كہ جس كارپوریٹ ورلڈ كا ذكر مہوش بہن نے كيا ہے اس ميں صرف نقاب ہی نہیں، داڑھی كے ليے بھی یہی رويہ اختيار كيا جاتا ہے۔ اور باريش افراد سے انٹرویو كے دوران يہ بھی پوچھا جاتا ہے كہ جاب كے ليے داڑھی صاف كروانا اور ٹائى اور سوٹ پہننا پڑے تو كيا كرو گے؟
    یہ ايك فرد كى كہانى نہیں۔ بہت سے لوگوں كا تجربہ ہے۔مگر سوال يہ ہے كہ ہم اپنے حق كے ليے آواز كيوں بلند نہیں كرتے؟
     
  9. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,972
    میں اپنی ذات کے اعتبار سے احتجاج ریکارڈ کروانا اور جلسے جلوس نکالنے کو صحیح نہیں سمجھتا۔ یہ صرف اسی طرح ممکن ہے کہ جو اسلامسٹس دنیا میں موجود ہیں وہ اسلامسٹس کی اہمیت کو اجاگر کریں اور میرٹ‌ کے مطابق فیصلے کریں۔دینداروں سے ہماری محبت بے دینوں کی نسبت زیادہ ہونی چاہیے۔ دین داری ایک ایڈیشنل خوبی ہونی چاہیے نہ کہ خامی۔۔۔
    احتجاج ہمیشہ کمزور لوگ کیا کرتے ہیں۔ اور ہمیں اپنے آپ کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔ بلکہ خودی کو پہچان لیں اور اپنی قابلیت کے بل بوتے پر اپنا حق لے لیں۔ ہاں کہیں تھوڑا سا معاملہ فہم اور ڈپلومیٹیک ہونا پڑھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  10. منصف

    منصف -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2008
    پیغامات:
    1,916
    یہ تلخ حقیقت ہے کہ حجاب اور حجاب والیوں کو کافی بدنام کیا جارہا ہے ۔۔تاہم اس جاہل مسلم معاشرہ کو سب سے پہلے یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ
    آخر "حجاب" کہتے کس کو ہے ؟؟ محض "اسکارف" اوڑھ کر چہرہ کھلا باقی پورا لباس مردانہ وضع و قطع اپنا کر سمجھ لیا جاتا ہے "حجاب یا پردے" کی غرض
    و غایت پوری کردی ۔۔۔
    پتا نہیں "اسکارف" کو اسلام سے کیوں منسلک کیا جاتا ہے؟؟ جبکہ میرے مطابق اور ناقص علم کے مطابق "اسکارف" تو بہت دور کی بات، وہ برقعہ یا عبایا بھی
    ہرگز "اسلامی" نہیں ہے جو بڑھکیلے اور شیطانی نگاہوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا ہو ۔۔۔۔
    بلکہ اس سے کئی بہتر پھٹی پرانی گندی میلی "اوڑھنی" ہے ۔۔۔میرے نذدیک پردہ تو یہ ہے کہ شیطانی نگاہ خود اس قابل التفات نہ سمجھے ۔۔۔۔بلکہ کراہیت سمجھے

    بہرکیف ہر معاشرہ میں اچھائی برائی ہوتی ہے ۔۔۔کسی بھی بہن کا بے حجاب ہونے سے یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کردار کی بھی خراب ہو جیسا کہ ہمارے
    ہاں کا تصور ہے ۔۔۔۔درس و تبلیغ سے انکا راہ راست پر آنا زیادہ مشکل نہیں ۔۔۔پر ہمارے ہاں "امر بالمعرف و نہی عن المنکر" کی بجائے یا تو خوب آنکھون سے "اسکیننگ" ہوتی ہے یا پھر زیادہ سے زیادہ تنقیدی نگاہ سے اس کو "ایسی ویسی" کہہ دیا جاتا ہے ۔۔ان نوجوان لڑکوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاتا جو
    سر کو مرغے کی کلغی ۔۔پھٹی پرانی واہیات جینز ۔۔پتلی چپکی بے ہییت قسم کی ٹی شرٹ (جس پر کسی خوفناک گلوکار کی تصویر ہوتی ہے)۔۔جوگر۔۔منہ میں سگریٹ اور موٹر سائکلز پر بیٹھے یا تو اپنی
    "گرل فیرنڈز" کو بے وقوف بنانے کے قصے ۔۔۔موبائل ہر فحش لطیفہ سناکر بے ہنگم قہقہ اور یا پھر آنے جانے "والیوں" پر اپنے بے ہودہ تبصرہ کئے جاتے ہیں
    ۔۔یہ سب معصوم اور بری الذمہ ہوتے ہیں۔۔۔خراب ہے تو "بے حجاب" عورت اور سارا نزلہ اسی پر گرتا ہے ۔۔۔جیسے معاشرہ کی بگاڑ کی ذمہ داری تن تنہاء
    اسی ہر ہے ۔۔۔
    یہ بات بھی ٹھیک ہے آج کل کی بہنیں ۔۔ضرورت سے زیادہ واہیات لباس زیب تن کررہی ہیں۔۔ پر میرے حساب سے ایسا ہر جگہ نہیں بلکہ "پوش" علاقوں میں یا شاپنگ مال وغیرہ میںزیادہ ہوتا ہے جہاں ممی ڈیڈی برگر فیلملیز زیادہ ہوتے ہیں جو "باپر ممالک" سے آنے کا "شو آف" کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔۔۔۔
    بہرکیف اب بھی عام جگہوں پر الحمداللہ اتنا برا اثر نہیں ہے ۔۔۔بہنیں حجاب بھی کرتی ہیں ۔۔ابھی بھی پاکستانی معاشرہ بالعموم الحمداللہ اتنا بھی برا نہیں ۔۔
    جتنا میڈیا اور دوسروں کی مرچ مسالہ بات سن کر ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 19, 2010

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں