اسلامى جمہوریہ پاكستان ميں باحجاب خواتين كى مشكلات

عائشہ نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏اکتوبر، 18, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,423
    منصف صاحب آپ کی باتیں ٹھک ہیں لیکن عورت کا باپردہ ہونا ضروری ہے بے حیائی اسی بے پردگی سے پھیلتی ہے
     
  2. منصف

    منصف -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2008
    پیغامات:
    1,916
    جی بالکل یہی تو میں کہنا چاہ رہا ہوں۔۔۔معاشرہ مین "حجاب" کو عام کرنے کی ضرورت
    ہے اور اس کے لیے "دینی بہنیں" اپنا کردار مؤثر طریقہ سے ادا کرسکتیں ہیں۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 19, 2010
  3. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,838
     
  4. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,693

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ سسٹر

    اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حجاب پر کوئی پابندی نہیں، کسی گھر کے کھلے ماحول کے باعث بھی جس نے حجاب کرنا ہوتا ھے وہ خواتین حجاب کرتی ہیں۔ جیسا کہ آپ نے اپنا پرسنل ایکسپیرئینس پر روشنی ڈالی ھے تو سسٹر کمرشل فیلڈ میں ہر ادارے کی اپنی شرائط ہوتی ہیں اس میں اگر کوئی عورت پردہ کرتی ھے پڑھی لکھی بھی ھے تو وہ بھی جانتی ھے کہ پاکستان میں کمرشل فیلڈ میں سب جگہ پر پردہ والی عورت کے لئے جگہ نہیں ہوتی، تو وہ گھر میں بچوں کو قرآن کی تعلیم بھی دے سکتی ھے اس کے علاوہ اور بھی بہت سے کام ہیں جس میں حجاب میں رہ کر بھی کام کیا جا سکتا ھے۔ اس لئے کسی ادارہ کو الزام نہیں دیا جا سکتا۔

    میرا فرسٹ کزن جب اس کو داڑھی ہوئی اس دن سے اس نے داڑھی کو کنچی نہیں لگائی داڑھی اور سفید امامہ شریف میں ہی اس نے سوفٹویئر انجینئرنگ کی اور اسی دوران قرآن مجید بھی حفظ کیا۔ پاکستان میں اس نے ہر بڑی فیلڈ میں جاب اپلائی کی اس کی سلکشن اس شرط پر آ کر رک جاتی تھی کہ داڑھی کو سیٹ کرو اور امامہ شریف کی جگہ ٹوپی پہن لو مگر وہ ایسا نہیں کرتا تھا اس کے گھر والوں نے بھی اسے بہت سمجھایا مگر وہ یہی کہتا تھا کہ ایسا ناممکن ھے مجھے جاب ملنی ہو گی تو اسی حالت میں بھی ملے گی۔ اور اسے اس امتحان سے گزر کر جاب ملی اور وہ اب اسلام آباد ٹیلی کمنیکیشن منسٹری میں انجینئر ھے داڑھی اور امامہ شریف کے ساتھ ۔

    آپ نے جو کلپ پیش کیا ھے وہ تجربہ کے لحاظ سے تو ٹھیک ھے مگر اس فیلڈ میں حجاب پر اس ادارے کو الزام دینا درست نہیں کیونکہ میڈیا ایک بزنس ھے اور ان کو چہروں کی ضرورت ہوتی ھے۔

    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    474
    اسلام کے نام پر بننے والی اسلامی مملکت ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ میں پردہ والی عورت کمرشل فیلڈ میں کام نہیں کر سکتی لیکن ہوسپٹل میں جہاں لوگ تکلیف میں ہوتے ہیں، مریض بھی اور تیماردار بھی، وہاں حجاب میں کام کیوں نہیں کر سکتی۔جہاں تک ہوسپٹل یا اسکولز کا تعلق ہے میرے خیال سے یہ کمرشل ادارے نہیں پھر وہاں حجاب پر پابندی کیوں؟؟ جاب تو مجھے بھی حجاب اور عبایا کے ساتھ ہی ملی تھی الحمدللہ۔ لیکن انٹرویو لینے والے مسلمان بہن بھائیوں کی جہالت پر افسوس بھی بہت ہے۔
    جہاں تک اس ویڈیو کا تعلق ہے تو کیا عورت کے بغیر خبریں نہیں پڑھی جا سکتیں، مجھے ذاتی طور پر یہ بہت عجیب لگتا ہے کہ ٹی وی پرایک طرف تو سیلاب ،زلزلے یا کسی بم دھماکے میں ہونے والی تباہی کے دلدوز اور دل ہلادینے والے مناظر دکھائے جا رہے ہوں اوردوسری طرف خبر دینے والی فل میک اپ میں، جدید فیشن کا لباس زیب تن کئے ہوئے، ایک کندھے پر رسی نما دوپٹہ ڈالے اسکرین پر نظر آ رہی ہوں، یا ملکی مسائل پر دھواں دار تقریر کرنے والی اینکرز روزانہ نت نئےمغربی لباسوں میں آکر عوام کے مسائل کا رونا روئیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    474
    ان کے ذہنوں پر مغرب اور بزنس کا زنگ چڑھا ہوا ہے، عورتوں کے ذریعے ہی انکا منجن بکتا ہے تو ان کو تکلیف کیوں نہ ہو۔ اور قصور عورتوں کا بھی ہے کہ انکو ایسے اداروں میں کام کرتے ہوئے اپنی تذلیل کیوں نہیں محسوس ہوتی؟
    سارا مسئلہ علم کی کمی کا ہے، دینی علم کی کمی کا، دنیاوی علوم میں تو پی ایچ ڈی ہیں۔
     
  7. ثانیہ

    ثانیہ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 14, 2010
    پیغامات:
    165
    وہ ہی تو نہین ہوئی۔:00002:

    صحیح دینی علم سے دوری کہہ سکتے ہیں، کیوں کہ علم تو بہت ہے۔ پر راہ درست نہیں۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 20, 2010
  8. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    926
    یہ الفت کہ شہادت میں قدم رکھنا ہے
    لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا

    اسلام اور اسلامی تہذیب و تمدن ، ثقافت ، روایات ،قوانین ، ان سب کو سمجھنے کیلئے اور ان پر چلنے کیلئے اسلام کو اچھی طرح پڑھ کر سمجھنا اور اس پر عمل کر کے ہی ہم اک بہترین مسلمان بن سکتے ہیں
    جو لوگ اسلام اور اسلامی افکار و نظریات کا مذاق بناتے ہیں وہ اصل میں جاہل ہیں شیطان نے ان کے ذہنوں کو دنیا کی چکا چوند سے قابو کیا ہوا ہے ، اس لیے وہ شیطان کے فریب میں آ کر اس طرح سرعام اسلام اور عملی مسلمان کا مذاق اڑاتے پھرتے ہیں
    اس وقت ضرورت ہے اک باعمل اور صحیح العقیدہ ماں کی ضرورت ہے جو اک اچھی نسل بنا سکے ، تاکہ پھر وہ نسل آگے اک اور نسل پروان چڑھا سکے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    بہت ہی عمدہ بات کہی سلمان بھائی آپ نے۔
    میں‌مثالی معاشرہ کے تحت یہ بات مختلف انداز کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ ماں کا وجود بچوں‌کے لئے، جو کہ میں سوسائیٹی کے بننے میں معاون ثابت ہوتا ہے، اور بیوی کا وجود شوہر کے لئے جو کہ مثالی معاشرہ بننے میں‌معاون ثابت ہوتا ہے بہت ہی اہم ہے۔
    اب اسکا مطلب ہرگذ کوئی یہ نہ لے کہ شوہر یا مرد حضرات یا بات کو سات خون معاف ہیں (محاورتا)۔۔۔بلکہ اپنی اپنی ذمہ داریاں‌ہیں، اور ماں‌کی ذمہ داریاں‌بہت ہی اہم ترین ہیں، دوسرے معنوں‌میں‌ماں‌کی گو د ایک انٹرنیشل یونیورسٹی ہے (محاورتا)۔۔۔اور اس ماں‌کو ذمہ داریاں‌یاد دلانا ، باپ یعنی شوہر کی ذمہ داری ہے (اگر وہ ناآشنا ہو) اسکے لئے سب سے پہلے شوہر محترم، یعنی والد بزرگوار کو ، اپنے آپکو مکمل اسلام سے آشنا کرانا پڑتا ہے۔۔۔
    واللہ اعلم
    وما توفیقی الا باللہ
     
  10. طارق راحیل

    طارق راحیل -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2009
    پیغامات:
    345
    آج کل کی عورتوں کے کپڑے تو چڑیا گھر میں پنجرے میں لگی گِرل کی طرح ہو گئے ہیں۔۔۔۔
    قیمتی سامان محفوظ بھی ہو جائے اور دیکھنے والے خوش بھی ہو جائیں۔

    یہ تو ایک لطیفہ تھا جانے دیجئے۔
    اسلامی نام رکھ لینے سے یا مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے سے کوئی مسلمان نہیں ہو جاتا۔
    ایسا ہوتا تو آدم کے ایک دوسرے کا قتل نہیں کرتے۔
    حضرت لوط کی بیوی اور بیٹیوں پر عذاب نازل نہ ہوتا۔
    حضرت نوح کو اپنے بیٹے کے لئے عذاب سے بچنے کی دعا نہیں کرنا پڑتی جو کہ رد بھی ہو جاتی۔۔

    اللہ کے کلام میں دی گئی لباس کی ہدایت کو ننجا ڈریس قرار دیئے جانے والے اللہ کے کلام کا نہیں اپنے نفس کی خواہشات پوری کر رہے ہیں۔
    پردہ انسان کے لئے کیا جاتا ہے جو اللہ نے فرض قرار دیا ہے اور اس کی حد بھی معین کر دی گئی ہے۔ کلام اللہ میں۔۔۔
    پھر آپ میں یا اور کوئی بھی نبی پیغمبر ولی قطب کسی بھی عالم یا پڑھے لکھے کو حق حاصل نہیں کہ وہ اس پر انگلی اٹھا سکے وہ پردہ پر نہیں
    اللہ پر انگلی اٹھانے کی جسارت کر رہا ہے کہ یہ لباس اس باری تعالٰی نے ہی پہننے کو کہا ہے۔

    سب داڑھی والوں کو دہشت گرد کہا جاتا ہے اگر نہیں تو پھر ہر پردہ کرنے والے کو ننجا نہیں کہہ سکتے۔
    اگر ہاں تو سکھ اور یہودیوں کی بھی داڑھی ہے وہ سکھ ہمہ وقت کرپان یعنی ہھتیار اپنے ہمراہ رکھتے ہیں۔
    کیا وہ دہشت گرد نہیں۔۔۔

    یہ سب مسلمان ہی کو کیوں کہتے ہیں۔۔
    کیوں کہ انہیں فیشن کے نام پر ننگا پن پسند ہے۔
    آزادی کے نام پر مردوں کے ساتھ گھومنا پسند ہے
    کیا علم شعور یہی تعلیم دیتا ہے؟

    نام مہوش مسلمانوں والا ساہی پر ان کے اقوال ان کے اغراض مسلمانوں کے دلی جذبات کی توہیں کرتے ہیں
    اللہ کی کتاب کو جھٹلاتے ہیں

    اللہ انہین علم تو دیا پر شعور نہیں دے سکا
    اللہ ان پر کرم فرمائے

    آمین
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں