خلافت و جمہوریت

ابوبکرالسلفی نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏نومبر 16, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    خلافت و جمہوریت

    اس سوال کا اجمالی جواب تو یہ ہے کہ جمہوریت میں یہ لازمی امر ہے کہ مقتدر اعلی کوئی انسان ہو یا انسانوں پر مشتمل ادارہ۔ انسان سے ماوراء کسی ہستی کو مقتدر اعلی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ جب کہ اسلامی نقطہ نظر سے مقتدر اعلی کوئی انسان ہو ہی نہیں سکتا(تعارف مدنیت،ص۱۰۶۔ پروفیسر محمد امین جاوید ایم اے تاریخ وسیاسیات) بلکہ مقتدر اعلی صرف اللہ تعالی کی ذات ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جس کی بنا پر ہم دعوی سے کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ جمہوریت سے اسلام کبھی سربلند نہیں ہوسکتا۔
    ترااے دل امید غمگساری ہازا فرنگ است
    دل شاہین نہ لرزدبہر ٓں مرغے کہ ورچنگ است
    گویا بحث یہاں پر ہی ختم ہو جانی چاہیئے تاہم چونکہ ہمارے دستور میں یہ الفاظ شامل کردیے گئے ہیں کہ"مقتدر اعلی اللہ تعالی ہے" اس لیے ہم اس بات کا ذرا تفصیل سے جائزہ لینا چاہتے ہیں کہ آیا ایسا ہونا ممکن ہے بھی یا نہیں؟
    فرانس کے منشور آزادی ۔۔۔۔۔ جسے موجودہ جمہوریت کی روح سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔ کو تیار کرنے والے وہ لوگ تھے جو ایک طرف تو کلیسا کے مظالم اور ٹیکسوں سے تنگ تھے اور دوسری طرف بادشاہ کے استنبداد اور اس کے ٹیکسوں سے۔ لہذا وہ مذہب سے بھی ایسے ہی بیزار تھے جیسے کہ بادشاہ اور اس کی استبدادی حکومت سے ۔ اس منشور آزادی میں ان کی مذہب سے بیزاری اور بادشاہت سے دشمنی یہ دونوں باتیں واضح طور پر پائی جاتی ہں۔ چنانچہ منشور میں جہاں مختلف قسم کی پانچ مساوات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سیاسی مساوات اور جنسی مساوات اس قسم کی ہیں جن کا جواب غالبا انجیل سے بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اور کتاب و سنت میں تو انھیں غلط ثابت کرنے کے لیے اتنی نصوص مل سکتی ہں کہ ان سے ایک الگ مجموعہ تیار کیا جاسکتا ہے۔
    مندرجہ بالا دونوں قسم کی مساوات دراصل ایک ہی اصل"حق بالغ رائے دہی" کی فروغ ہیں اور یہ سیاسی حق مغربی طرف انتخاب کی جان اور روح رواں ہے۔
    مغربی طرز انتخاب کا دوسرا بنیاوی اصول" کثرت رائے کو میعار حق" قرار دینا ہے۔ کثرت رائے حاصؒ کرنے کے لیے امید واروں کو درخواست ، تشہیر، جلسے جلوس، کنوینسنگ اور ایسے ہی دوسرے ہٹھکنڈے استعمال کرنا پڑھتے ہیں اور کثرت رائے کے حصول کے لیے ہی مختلف سیاسی بارٹیاں وجود میں آتی ہیں جن کی ہاؤہوا اور غل غپاڑے سے ملک انتشار کا شکار ہوتا اور اس کا امن تباہ ہوتا ہے۔
    گویا اصل مبحث یہی دو بنیادی اصول ہیں حق بالغ رائے دہی ک سنجیدہ مطالعہ کے لیے انتخاب خلافت راشدہ کی پوری تاریخ مستند حوالوں سے درج کردی گئی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام نہ تو ہر کس وناکس سے رائے لینے کی ضرورت سمجھتا ہے اور نہ ہی اسے جائز سمجھتا ہے۔ پھر ہر کس وناکس کی رائے ہم قیمت یا ہم وزن بھی نہیں ہوسکتی ۔ نیز اسلام نے عورت کو ایسے امور سے متثنی ہی رکھا ہے تا کہ بے حیائی اور فحاشی کو فروغ نہ ہو اور عاملی نظام پر بھر پور توجہ دی جاسکے۔
    کثرت رائے پر سنجیدہ مطالعہ کے لیے مشورہ اور اس کے متعلق عہد نبوی اور خلفائے راشدین کے دور کے اہم ترین واقعات درج کردیے گئے ہیں۔
    ان تصریحات سے واضح ہے کہ مغربی جمہوریت میں پانچ ارکان ایسے ہیں جو شرعا ناجائز ہیں۔
    ۱۔ حق بالغ رائے دہی بشمول خواتین(سیاسی اور جنسی مساوات)
    ۲۔ہر ایک کے ووٹ کی یکساں قیمت۔
    ۳۔درخواست برائے نمائندگی اور اس کے جمل لوازمات۔
    ۴۔سیاسی پارٹیوں کا وجود۔
    ۵۔کثرت رائے سے فیصلہ۔
    ان ارکان خمسہ میں سے ایک رکن بھی حزف کر دیا جائے تو جمہوریت کی گاڑی ایک قدم بھی آگے نہیں چل سکتی۔ جب کہ اسلامی نظام خلافت میں ان ارکان میں سے کسی ایک کو بھی گوارا نہیں کیا جاسکتا لہذا یہ دونوں نظام ایک دوسرے کی ضد اور ایک دوسرے سے متصادم ہیں یعنی نہ تو جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی نظام خلافت میں جمہوریت کے مروجہ اصول شامل کرکے اس کے سادہ فطری اور آسان طریق کارکو خوا مخواہ مکدر اور مبہم بنایا جا سکتا ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ جمہوری ایک لادینی نظام ہے اور اس کے علمبردار مذہب سے بیزار تھے جب کہ خلافت کی بنیاد ہی خدا، اس کے رسول اور آخرت کے تصور پر ہے اور اسکے اپنانے والے انتہائی متقی اور بلند اخلاق انسان تھے۔
    ہمارے خیال میں جیسے دن اور رات یا اندھیرے اور روشنی میں سمجھوتہ نا ممکن ہے بلکل ایسے ہی دین اور لادینی یا خلافت اور جمہوریت مٰں بھی مفاہمت کی بات نا ممکن ہے۔ لہذا اگر جمہوریت کو بہر حال اختیار کرنا ہے تو اسے توحید ورسالت سے انکار کے بعد ہی اپنایا جا سکتا ہے۔
    باطل ووئی برست ہے حق لا شریک ہے
    شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول
    کیا ووٹوں کے ذریعے اسلام لایا جاسکتا ہے؟
    آج کے دور میں بعض اسلامی ذہن رکھنے والے حضرات اور نیک نیتی سے اسلامی انقلاب کے داعی لیڈر جب دیکھتے ہیں کہ اقتدار پر قبضہ کیے بغیر اسلامی نظام کی ترویج ناممکن ہے تو اس کا حل انھوں نے یہ تلاش کیا ہے کہ نیک شہرت رکھنے والے امیدوار انتخاب کے لیے نامزد کیے جائیں۔ اور عوام میں اسلامی تعلیمات کا پرچار کرکے ایسے نیک نمائندوں کی ہر ممکن امداد پر لوگوں کو ابارہ جائے تا آنکہ اسمبلی میں نیک لوگوں کی کثرت ہوجائے۔ موجودہ جمہوری دور میں معاشرےہ کی اصلاح اور اسلامی نظام کی ترویج کی یہی واحد صورت ہے۔
    ہمیں افسوس ہے کہ ہم اس سلسلہ میں ان کی تائید نہیں کرسکتے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ووٹوں کے ذریعہ نہ آج تک کبھی اسلام آیا ہے اور نہ آئندہ آسکتا ہے۔ اگر ایسا ہونا ممکن ہوتا تو انبیاء اس پر امن ذریعہ انتقال اقتدار کو ضرور استعمال کرتے۔
    بنی نوع انسان کے لیے قرآن کریم اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے بہتر دستور نا ممکن ہے اور قرآن کریم کی تبلیغ کے لیے جو آن تھک اور جان توڑ کوششیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائیں دوسرا کوئی نہیں کرسکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جاں نثار اور مخلص پیروگاروں کی ایک جماعت بھی مہیا ہوگئی جو اسلام کے عملی نفاذ کے لیے صرف تبلیغ و اشاعت اور پروپیگنڈا پر ہی انحصار نہیں تکھرے تھے بلکہ اپنی پوری پوری زندگیاں اسی قالب میں ڈھال لی تھیں۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت گویا قرآنی تعیمات کے چلتے پھرتے نمونے تھے لیکن تیرہ سال کی انتھک کوششوں کے باوجود یہ تو نہ ہوسکا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں اسلامی ریاست قائم کرلیتے۔
    جب ایک بہترین دستور بھی موجود ہوا اور اس کو عملا نافذ کرنے والی جماعت بھی مثالیکردار کی مالک ہو۔ وہ تو اس دستور کو کثرت رائے کے ذریعہ نافذ کرسکی تو آج کے دور میں ہ کیونکہ ممکن ہے؟
    اسلمای نظام کی ترویج کے لیے اقتدار کی ضرورت سے انکار نہیں۔ لیکن رائے عامہ کو صرف تبلیغ کے ذریعے ہموار کرنا اور اس طرح اسلامی انقلاب برپاکرنا خیال خام ہے۔ اس کے لیے ہجرت ، جہاد اور دوسرے ذریعے ہی اختیار کرنے پڑیں گے جیسا کہ انبیاء اور مجاہدین اسلام کا دستور رہا ہے۔
    جماعت اسلامی پوری نیک نیتی سے اسلامی نظام کی داعی ہےاور جب سے اس جماعت نے عملا سیاست میں حصہ لینا شروع کیا ہے مندجہ بالا نظریہ کے مطابق نیک امیدوار کھڑے کرتی رہی ہے۔ لیکن ہر الیکشن میں ہمیشہ پٹتی ہی رہی ہے۔ ۱۹۷۹ء میں جب یحیی خان نے انتخاب کرائے ۔ اور غالبا پاکستان کی پوری تاریخ میں یہی انتخابات آزادانہ اور منصگانہ ہوئے تھے۔۔۔ تو انتخابات سے ایک دو روز قبل تک تمام سیاسی مبعرین اور اخبارات کی یہی رائے تھی کہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کا انتخابی مقابلہ برابر کی چوٹ ہے لیکن جب نتیجہ نکلا تو پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے جیت گئی جب کہ جماعت اسلامی کو صرف چار نشستیں مل سکیں۔
    ایسے مایوس کن نتائج کی وجہ یہی ذہنی مخالطہ تھا کہ عوام الناس کو محض وعظ وتبلیغ سے نیک بنایا جاسکتا ہے۔ جماعت اسلامی یادہ سے زیادہ یہ کچھ کرسکتی تھی کہ اسمبلی کی پوری نشستوں کے لیے اتنے ہی بڑے نیک اور صالح نمائندے کھڑ؁ کرے لیکن انھیں ووٹ دینا تو عوام کاکام ہے۔ اس مقام پر جماعت کی پوری کارکردگی بے بسی کا شکار ہوجاتی ہے۔ عوام کی اکثریت زبانی طور پر بے شک جماعت اسلامی کو نیک اور دیانتدار اور اسلام کی داعی جماعت تصور کرے لیکن اسے ووٹ نہیں دے گی ۔ ووٹ تو کوئی شخص صرف اس وقت دے سکتا ہے جب اپنے آپ پر اسلام کے نفاذ کو قبول کر لے۔
    موجودہ طرز انتخاب کی تطہیر:
    کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ نمائندے ایسے منتخب کیے جائیں جو اس کے ال ہوں اور علاوہ ازیں ووٹ دینے کا حق بھی کتاب وسنت کے قاعدہ کے مطابق صرف صالح افراد کو ملنا چاہیئے ۔ گویا متقی لوگ ہی کھڑے ہوں اور صرف صالحین کو ووٹ کا حق ہو تو اس طرح بہتر نتائج کی پوری توقع ہے۔
    ہمارے خیال میں اس جمہوری دور میں ووٹر پر عمل صالح کی پابندی لگا کر یہ نسخہ آزمانا مشکل سانظر آتا ہے۔ جب تک کاروبار حکومت میں حصہ لینے کے عوامی حق کے ذہن کو نہ بدلا جائے تب تک۔
    "تاثر یا مے رود دیوار کج"
    والا معاملہ ہی رہے گا کثرت رائے کا صول پھر پارٹیاں پیدا کرے گا۔ جو رائے عامہ منظم کریں گی۔ وہی ہتھکنڈے وہی خرابیاں۔ اور پارلیمنٹ میں پارلیمانی اور صدارتی نظام کے جھگڑے اور کثرت رائے کے فیصلے ۔ آخر کیا کچھ اسلامی مزاج کے خلاف برداشت کیا جاسکتا ہے۔
    پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ طرز انتخاب اور مرکزی اسمبلیوں کا قیام دراصل مغربی عیاشی کی ایک شکل ہے۔ پاکستان جیسا غریب ملک اس مد پر ہر چوتھے پانچویں سال کروڑوں روپے خرچ کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ قومی دولت اور وقت کے ضیاع کا تو اندازہ لگانا ہی بہت مشکل ہے۔ قوم میں اخلاقی اور معاشرتی برائیاں جو پیدا ہوتی ہیں وہ مستزاد ہیں۔پھر بھلا وہ کون سی خوبی ہے جس کی بنا پر ہم اسی نظام کی ترمیم شدہ شکل سے جمٹے رہنے کی کوشش جا رہی رکھیں۔


    عبد الرحمن کیلانی کی کتاب "خلافت و جمہوریت" سے لیا گیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. المدنی

    المدنی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 3, 2010
    پیغامات:
    315
    اللہ آپکے علم میں اضا فہ فرماے آمین
     
  3. اھل السنۃ

    اھل السنۃ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 24, 2008
    پیغامات:
    295
    جزاک اللہ خیرا
    اس موضوع پر حامد محمود کمال الدین صاحب کی کتاب بھی بہت عمدہ ہے۔
     
  4. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,422
    السلام علیکم!
    میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں جو کب سے میرے زہن میں ہے لیکن اس ڈر کی وجہ سے نہیں کیا کہ ڈیلیٹ نہ کر دیا جائے لیکن خیر میں سوال کر رہا ہوں مجھے یہ بات اکثر زہن میں آتی ہے کہ "ایسا کیا تھا کہ جب سے پاکستان بنا ہے اس دن سے عوام زلت کا شکار ہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہاں اسلام کے ماننے والے یعنی مسلمان آزادی سے اسلام کی نشرواشاعت کرتے لیکن جب سے بنا ہے یہ نہیں کہ دو تین سال سے اس کا خانہ خراب ہے بلکہ 64 سال سے ہی خانہ خراب ہے پاکستان کا جب سے بنا ہے اس دن سے عوام زلت کا شکار ہے آخر ایسا کیا ہے کیا اس کا جواب ہے کسی کے پاس۔
     
  5. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    یہ ملک اسلام کے نام پر لینے کے باوجود اس میں اسلام نافظ نہیں‌کیا گیا۔ یہ وعدہ خلافی ہے جس کی سزا ہم بھگت رہے ہیں اللہ تعالی ہم پر رحم فرمائے اور ہمارے حکمرانوں کو کتاب و سنت کی اتباع کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور خواہشات نفسانی کے مقابلے میں وہ اللہ تعالی کے احکامات کو زیادہ ترجیح دیں اور اللہ تعالی کی خالص توحید کا قیام کرسکیں۔
    آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,422
    جزاک اللہ خیرا ابوبکر سلفی بھائی بہت اچھا جواب دیا ہے۔
     
  7. طارق اقبال

    طارق اقبال محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2009
    پیغامات:
    316
    محترم میں‌ مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب کابڑا مداح‌ہوں‌ ، ما شاء‌اللہ انہوں‌نے بڑی اچھی تفسیر لکھی ہے اور دیگر کتب بھی ۔ علاوہ ازین میں‌ نے حامد محمود صاحب کا مضمون بھی پڑا ہے ۔ مگر پھر بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹھیک ہے جمہوریت اس سے زیادہ گندی ہے جتنا یہ بیان کرتے ہیں‌۔ مگر اس نظام کو کیسے بدلیں‌گے۔ اس کا حل کیا ہے ۔ جو حل میں‌نے حامد صاحب کے مضمون سے اخذ کیا ہے کہ آپ بس تبلیغ کریں‌ اور حکومت کی بھاگ دوڑ سیکولر لوگوں‌ کے ہاتھ میں‌ رہنے دین وہ انتہائی بتاہ کن اور غیردانشمندانہ ہے۔
    حقیت حال یہ ہے کہ ہمارے قابل قد ر علماء کے پاس سواے الفاظ کے استعمال کے اور کوئی حل موجود نہیں‌ ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 19, 2010
  8. طارق اقبال

    طارق اقبال محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2009
    پیغامات:
    316
    اسی حوالے سے مولانا مودودی رحمتہ اللہ کی در ج ذیل کتاب بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ اسلامی ریاست کس طرح‌ قائم ہو سکتی ہے اور حکومت کا حصول کیونکر ضروری ہے۔

     
  9. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    میں معافی چاہتا ہوں کہ آپ السنہ بھائی سے مخاطب ہیں مگر میں آپ سے یہ پوچھنے کی جرت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا شریعت میں کہیں ایسے دلائل ملتے ہیں جہاں باطل افکار کو مکمل اپنانے اور اس میں شامل ہونے کےبعد ہی ختم کیا جاسکتا ہے؟؟؟
    میرے دوست جب ہمیں معلوم ہے کہ جمہوریت کبھی بھی اسلامی ہو ہی نہیں سکتی تو اسلام کا نام لینے والے یعنی مسلمان اس میں کیسے شامل ہو سکتے ہیں جبکہ جمہوریت اسلام کے بنیادی عقائد سے ٹکراتی ہے!!
    یہ نظریہ بلکل عجیب ہے کہ کسی باطل چیز کو ختم کرنے کے لیے پہلے اس میں شامل ہوا جائے!!
     
  10. طارق اقبال

    طارق اقبال محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2009
    پیغامات:
    316
    جی اچھا سوال ہے۔ اور اس کا جواب بھی بڑا آسان ہے ۔ کہ جب اچھے لوگ پارلیمنٹ میں‌ آئیں‌ گے تو اس کی خامیوں‌کو بھی دور کیا جاسکتا ہے ۔ ہمارا کام کوشش کرنا ہے ،رزلٹ اللہ تعالیٰ‌کے ہاتھ میں‌ہوتا ہے ۔ اس چیز کے ڈر سے آپ جمہوریت کا بائیکاٹ کردیں تو آپ اس سے بڑی غلطی کریں‌گے کہ آپ یہ میدان سیکولر لوگوں کے لیے کھلا چھو‌ڑ دیں‌ اور اس سے جو نتائج نکلیں‌ گے اس کا آپ تصور بھی نہیں‌ کرسکتے ۔ پاکستان کا موجودہ وجود اور اس کا اسلامی تشخص بھی انہی‌ اسلامی جماعتوں کی کوششوں‌ کا مرہون منت ہے جنہوں نے اس میں‌ حصہ لے کر آئین کو مکمل طور پر سیکولر بننے میں‌ رکاوٹ‌ ڈالی اور مزاحمت کی ۔ اگر موجودہ آئین پر ہی ٹھیک نیت سے عمل کیا جائے تو ہم اس سے کافی بہتر نتائج حاصل کرسکتے ہیں ۔ علاوہ ازیں موجودہ آئین کی بنیاد قرآن وسنت پر مبنی ہے ۔اگر اس کے مطابق حکومت عمل نہیں‌کرتی تو یہ اس کا قصور ہے مگر جو مسلمان اس میں‌ حصہ لیتے ہیں‌ وہ آئین کی بنیاد پر لیتے ہیں ۔ اس لیے فی الواقعی ایسی کوئی قباحت نہیں‌ ہے کہ اس میں حصہ لینا نظام باطل میں‌ حصہ لینا ہے ۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے حجروں میں‌ بیٹھ کر کتابیں‌ لکھنے یا منمبروں پر تقاریر کرنے کی بجائے عملی طور پر مل کر متحد ہو کر الیکشن لڑا جائے ۔ اگر متحد ہو کر اس میں‌ حصہ لیں‌گے تو نتائج بھی بہتر آئین گے ۔ آپ کی طرف سے جب ان جماعتو‌ن پر تنقید کی جاتی ہے تو اس سے عام لوگ متنفر ہوتے ہیں اور وہ ووٹ بھی نہیں‌دیتے ۔ علاوہ ازیں آپ کی طرف سے بھی جب ووٹ کاسٹ نہیں‌ ہوگا تو نقصان دینی جماعتوں کا ہوگا جب کہ فائدہ سیکولر طاقتوں‌ کو ہوگا ۔ آپ کی مخالفت سے یہی نقصان ہو رہا ہے ۔ عجیب بات ہے کہ آپ خود تو ان دینی جماعتوں‌کو نقصان بھی پہچنا رہے ہیں‌اور پھر تنقید بھی کرتے ہیں‌ کہ لوگ ان کوووٹ نہیں‌ دیتے ۔ اس لیے میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ موجودہ حالات کو سمجھیں اور اس کے مطابق فیصلہ کریں ۔ وگرنہ یہ سلسلہ اسی طرح‌چلتا رہے گا۔۔ اللہ ہمیں‌‌ہدایت دے ۔ آمین
     
  11. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672

    جناب والا پھرسے آپ نے وہی لمبی چوڑی تقریر لکھ ڈالی میں نے صرف اتنا پوچھا تھا جب جمہوریت باطل ہے اور ہمیں معلوم ہے تو اس کا انکار کرنے کےبجائے اس کو ختم کرنا چاہیئے اور آپ کہتے ہیں اس کو ختم کرنے کے لیے اس میں شامل ہونا پڑے گا؟؟ یہ کیسی حکمت عملی ہے؟؟
    سب سے پہلے تو اسلام میں عوام کو کوئی حق نہیں‌کہ وہ اپنےلیے نمائندہ ڈھونڈے ظاہر سی بات ہے آج عوام بگڑی ہوئی ہے تو نمائندے بھی بگڑے ہوئے ہی ڈھونڈتی ہے اور اسی وجہ سے نام نہاد اسلامی جماعتیں جو اسلام کا نام لے کر جمہوریت کو استعمال کر کے اسلام لانا چاہتے ہیں ان کو ووٹ نہیں دیا جاتا، کیوںکہ عوام تو چاہتی ہی نہیں‌کہ ان پر اسلام کا نافاذ ہو!!
    اور کیا ہی بہتر ہوتا کہ آپ اوپر والا مضمون "کیا ووٹوں کے ذریعے اسلام لایا جاسکتا ہے؟" پڑھ لیتے!! اس میں اس کا جواب موجود ہے جو آپ کہنا چاہتے ہیں۔

    میرے دوست یہ جمہوریت پاکستان میں 60 سال سے موجود ہے ان 60 سالوں میں اسلامی جماعتوں نے کیا تبدیل کر لیا؟؟
    اور آج بھی پھر کوشش کری جا رہی ہے کہ اس جمہورت کے تحت اسلام لایا جائے جبکہ سب کو معلوم ہے کہ جمہوریت۔۔۔۔۔۔۔۔!!
     
  12. طارق اقبال

    طارق اقبال محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2009
    پیغامات:
    316

    جی اس کا جواب یہی ہے کہ مجھے آپ کے فلسفے سے اتفاق نہیں‌ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  13. اھل السنۃ

    اھل السنۃ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 24, 2008
    پیغامات:
    295
    اسلام بذریعہ جمہوریت

    ہم سب جانتے ہیں کہ جمہوریت ایک کفریہ شرکیہ نظام ہے۔
    تو پھر کیا خیال ہے۔
    اسلام بذریعہ کفر
    جناب حامد صاحب اگر تبلیغ حل بتا تے ہیں تو جماعت اسلامی بھی عوام کا ذہن بنانے کا یہی طریقہ تو بتاتی ہے۔
    حامد صاحب نے بھی اپنی کتاب میں آپ کے ان اشکالات کا پہلے ہی جواب دے دیا ہے۔
    آپ کا سوال بجا ہے حل تو دوسروں کے پاس بھی نہیں ہان مگر شریعت ہمیں ضرور حل بتاتی ہے، جو کہ ہمیں ناگوار ہے۔
     
  14. asimmithu

    asimmithu -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏فروری 26, 2010
    پیغامات:
    182
    جزاک اللہ خیرا۔
    یہ کتاب مجھے پی۔ڈی۔ایف میں چاہیے تھی مل نہیں رہی تھی بہت شکریہ۔
    جمہوریت کے اوپر ہم نے بھی ایک تحریر لکھی ہوئی ہے مگر وقت کی کمی کی وجہ سے پوسٹ نہیں کر پا رہا۔اس کا لنک دے دیتا ہوں جس بھائی نے پڑھنی ہو اسے اتار کر پڑھ سکتا ہے جب وقت ملے گا تو اس کا دھاگہ بناکر لگاؤنگا ان شاءاللہ
    لنک نیچھے والا ہے۔
    جمہوریت دین ابلیس.pdf - 4shared.com - document sharing - download
     
  15. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,422
  16. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    پارلیمنٹ اور شوریٰ کا تقابلی مطالعہ

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


    پارلیمنٹ اور شوریٰ کا تقابلی مطالعہ
    ایک صاحب فرماتے ہیں :۔
    تعاونوا علی البروالتقویٰ کو پارلمینٹری پارٹی کی اصل قرار دیا جاسکتا ہے۔ جو لوگ پارٹیوں کو گوارا نہیں کرتے وہ چاہتے ہیں کہ ہر دوسال بعد جنگ جمل،۵سال بعد جنگ صفین اور دس سال بعد کربلا بپا کرتے رہیں۔
    ملاحظہ فرمایئے کہ جب انسانی سوش غلط راستےپر پڑجائے اور اس میں تعصب پیدا ہوجائے تو کیا کیا گل کھلاتی ہے۔ صاحب موصوف کا خیال ہے کہ مندجہ بالا واقعات اس لیے پیش آئے کہ پارٹیوں کے وجود کو گوارا نہ کیا گیا۔ بالفاظ دیگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چاہیئے تھا کہ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیاسی پارٹی کو پرداشت کرلیت۔ اسی طرح حضرت معاویہ کو بھی چاہیئے تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سیاسی پارٹی کو برداشت کرلیتےتاکہ یہ ہنگامے نہ ہوتے۔ اور یہ دونوں فریق (حزب اقتدار اور حزب اختلاف ) مل بیٹھ کر کوئی سیاسی سمجھوتہ کرلیتے۔
    قطع نظر اس بات کے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ محض الگ الگ سیاسی پارٹیاں نہ تھیں بلکہ متوازی حکومتیں تھیں، تاہم اگر فرض کرلیں وہ الگ الگ پارٹیاں ہی تھیں تو کیا ایسی متحارب پارٹیوں کا وجود ملت اسلامیہ میں برداشت کرنے کا کوئی جواز ہے؟ یا محض اس وجہ سے برداشت کرلنا چاہیئے کہ جمہوری طرز کا تقاضا یہی کچھ ہے کیا ان معرکوں کی اصل وجہ مسلمانوں کے سیاسی اختلاف سے زیادہ باغی اور بدمعاش عنص کی مفسدہ پروازیاں نہ تھیں؟ جو مسلمان اپنی باطنی خباثت کہ وجہ سے فریقین کو جنگ میں صرف اس لیے جھونک رہے تھے کہ صلح و آشتی کی صورت میں انکی اپنی خیر نہیں ؟مندرجہ بالا معرکوں کے اسباب سے متعلق ہمیں زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ ہم سردست یہ پوچھتے یں کہ موجودہ پارلیمنٹ جہاں سیاسی پارٹیوں کا وجود گوارا ہی نہین بلکہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔ وہاں تو"سب ٹھیک " ہی رہتا ہے۔ یہ پاکستان دولخت کیسےہوگیا۔ نجیب اور بھٹو میں کیا اختلاف تھا کہ ملک ہی تقسیم کرا پڑا۔ وہاں مسلمانوں کا کتنا جانی اور مالی نقصان ہوا۔ یہ لوگ تو پارٹیوں کے وجود کو گوارا کرتے ہیں۔ اگر آپس کے اختلاف حل کرنے کا یہی طریقہ بہترین ہے تو اسمبلیوں میں کرسیوں سے جنگ کیوںہوتی ہے اور حزب اختلاف کی غنڈوں سے مرمت کیوں کروائی جاتی ہے؟
    پھر کچھ دوست ایسے بھی ہیں جو موجودہ پارلیمنٹ کو دشوریٰ کا نعم البدل قرار دیتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ وہ بے شک اسے شوریٰ سے بھی زیادہ مفید ادارہ سمجھیں مگر خدا را درمیاں میں اسلام کا نام لاکر عوام کوگمرہ کریں۔ اگر اسلام کا نام لینا ہے تو پھر اسلامی اقتدار کے مطابق یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا ایسے ادارہ کے وجود کا جواز بھی ہے یا نہیں؟ ذیل میں ہم ان دونوں اداروں کا موازنہ پیش کرتے ہیں۔
    نظام خلافت میں شوریٰ کی حیثیت قطعاوہ نہیں ہے جو جمہوری نظام میں مقننہ کی ہے۔ ان دونوں کی بنیاد الگ الگ، اصول تشکیل الگ اور اغراض واسقاصد ال، غرض کوئی چیز ایک دوسرے سے نہیں ملتی ۔ اب ہم اس فرق کو ذرا تفصیل سے واضح کریں گے۔


    ۱۔اقتدار اعلیٰ:۔پارلیمانی نظام میں آئینی اقتدار اعلی خود پارلیمنٹ ہے اور سیاسی اقتدار اعلیٰ عوام ہوتے ہیں جب کہ شوریٰ کا اقتدار اعلیٰ اللہ تعالی ہے۔ اگر ہم اپنے آئین کے دیباچہ میں سنہری اور جلی الفاظ میں یہ درج کردیں کہ پاکستان کا مقتدر اعلیٰ اللہ تعالی ہے لیکن اگر طرز انتخاب کے بنیادی اصول جمہوری ہی رہیں گے یعنی بالغ رائے دہی اور کثرت رائے پر فیصلہ تویہاں اللہ کی حاکمیت کبھی قائم نہیں کی جاسکتی اور نہ یہاں اسلام کا بول بالا ہوسکتا ہے۔ اسکی وجہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی جاچکی ہے(ملاحظہ ہو"جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کیا جا سکتا ہے"؟)

    ۲۔پارلیمنٹ کا کام عوام کی خواہشات کے مطابق قانون سازی ہے:۔اگر ۱۰۰ میں سے ۵۱ ممبر یہ کہہ دیں کہ سود کے بغیر معیشت نہیں چل سکتی تو سود آئینی طور پر جائز ہوجائے گا جبکہ شوریٰ کوقانون سازی کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔وہ کتاب وسنت کی شکل میں پہلے ہی موجود ہے۔ ذیلی اور انتظامی قوانین وضوابط کے لیے قانون فہمی اور نفاذ کے لیے صرف ضوابط کاکام اس کے ذمہ ہوتا ہے۔
    ہمارے بعض دوست کہتے ہیں کہ قرار داد مقاصد منظور ہونے کے بعد شریعت کے منافی قانون بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جن باتوں کے متعلق کتاب وسنت سے واضح احکام مل سکتے ہیں وہاں مشورہ کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی ۔ مشورہ صرف مباح اُمور میں کیا جاتا ہے۔
    لیکن ہمیں افسوس سے کہنا پڑتاہےکہ قرار داد مقاصد کی منظوری(۱۹۴۹ء) کے بعدسےلے کر آج تک ہمارے آئین میں بے شمار ایسی دفعات موجود ہیں جو کتاب وسنت کے منافی ہیں۔
    حالانکہ کئی بار اسلامی مشاورتی کونسلیں اور نظریاتی کونسلیں اسی غرض سے تشکیل دی جاتی رہی ہیں۔ پھر یہی نہیں بلکہ آئندہ ایسے نئے قوانین بھی بنتے رہے جو صریحا کتاب و سنت کے منافی تھے۔ مثلا عائلی قوانین جو ایوب خان کے دور میں پاس ہوئے۔ اور جس کے خلاف علماء نے احتجاج بھی کیا تھا۔
    ہمارے آئین میں ایسے قوانین کی فہرست بہت طویل ہے جو کتاب و سنت سے متصادم ہیں مگر ہمارے جمہوریت پسندوں کو نظر نہیں آتے۔ ایسے غیر شرعی قوانین کی موجودگی کا اس سے واضح ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ موجودہ حکومت نے شریعت بنچ، شرعی وفاقی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل جیسے ادارے محض اس غرض سے قائم کیے ہیں کہ ہمارے اس آئیں کی شریعت کے مطابق تطہیر کی جائے۔


    ۳۔ اہلیت:۔ شوریٰ کے ممبر فہم وبصیرت والے پختہ کار اور نیک اور متقی ہوتے ہیں۔ وہ خدا کے سامنے جوابدہی کے تصور کو مد نظر رکھ کر حتی الامکان خیر خواہی سے مشورہ دیتے ہیں۔ اور چونکہ اس مشاورت کا مقصد اقرب الی الحق پہلو کی تلاش اور اللہ کی رضا کی جستجو ہوتا ہے لہذا ان میں نہ کسی مسئلہ پر اپنی رائے پر اصرار ہوتا ہے اور نہ ہی انا کا سوال ہیدا ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ کے ممبر کی اہلیت یہ ہے کہ اس کی عمر ۲۵ سال سے کم نہ ہو اور اس کا نام فہرست میں درج ہو۔ نیز پچھلے ۵ سال کے عرصہ میں کسی عدالت سے فوجداری جرم میں سزا یا فتہ نہ ہو۔ اس کی سزا کی مدت ۲ سال قید ہے۔(آرڈر نمبر ۵ ۱۹۷۷ء، آرٹیکل نمبر ۱۰)
    یہ صاحب چور ہوں، خائن ہوں، ڈاکو، ملک دشمن یا غدار ہوں کوئی چیز ان کے انتخاب میں آڑے نہیں آسکتی۔
    علمی لحاظ سے خوا وہ قرآن کریم کا ایک لفظ بھی نہ جانتا ہو۔ اسلامی تعلیمات سے یکسر نابلد ہو۔ نظریاتی لحاظ سے خوا وہ نظریہ پاکستان کا ہی دشمن ہو، سوشلزم کا حامی ہو۔ انتقام اور خونی انقلاب کے نعرے لگاتا ہو۔ بیرونی حکومتوں کا ایجنٹ ہونا بھی ثابت ہو۔ لسانی اور علاقائی تعصبات کو خوب بھڑکاتا ہو۔ کوئی بات اس کی انتخابی اہلیت پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔ اندازہ لگایئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون سازادارہ میں۔۔۔۔۔ جہاں کتاب و سنت سے استنباط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔ یہ صاحب کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟ کیا یہ پوری قوم اور خود اسلام سے بدترین مذاق نہیں؟ ایسے لوگ اپنے پیسہ اور علاقہ میں غندہ گردی کے اثر ورسوخ کی بنیاد پر اسمبلیوں تک پہنچ جاتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس سینکڑوں کی تعداد میں سے دس آدمی بھی بمشکل ایسے نکل سکیں گے جو معاملہ زیر بحث کو سمجھ کر کچھ مشورہ دینے کی اہلیت رکھتے ہوں۔
    علاوہ ازیں اسمبلی میں حزب اختلاف کا وجود اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ وہ کبھی حزب اقتدار کو خیر خواہی سے مشورہ نہیں دے سکتا۔ باہمی رقابت اور انا کا مسئلہ یہ دونوں باتیں مثبت انداز فکر اختیار کرنے کی راہ میں حائل ہوتی ہیں اور ہمارے خیال میں ہمارے تنزل وانحطاط کی سب سے بڑی وجہ یہی طریق مشورہ اور بارلیمان ہے۔ ہم نے پہلے ۳۰ سال میں اصل منزل کو کھویا ہی ہے کچھ پایا نہیں۔
    پارلیمنٹ سرمایہ دار اور عیار لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔ اس کے پلیٹ فارم سے سرمایہ بولتا ہے۔ سرمایہ یا پارٹی فنڈ کے بغیر جمہوریت ایک قدم بھی آگے نہیں چل سکتی پارلیمنٹ سرمایہ دارکا تحفظ کرتی ہے اور سرمایہ دار اس کا تحفظ کرتا ہے۔ یہ سرمایہ داری کا نظام ہے۔ ذہانت و فطانت کا نہیں ۔ اس سے جمہوریت کے لبادے میں امراء کی حکومت قائم ہوجاتی ہے۔ جو عوام کے نام پر غریب عوام استحصال کرتی ہے جب کہ شورائی نظام میں امیر وغریب کا کوئی مسئلہ نہیں وہاں صرف اہل تقویٰ کو آگے لایاجاتا ہے تا کہ وہ امور سلطنت کو اللہ کی رضا ومرضی کے مطابق سرانجام دیں۔ یہی وجہ ہے کہ شورائی نظام میں صاحب الرائے اور متقین کی تلاش وجستجو کرنا پڑتی ہے لیکن پارلیمانی نظام میں ہردولت منداقتدار حاصل کرنے کے لیے بے چین نظر آتا ہے۔
    اسمبلی اور دوسرے بلدیاتی اداروں کے ممبروں (عوام کے نمائندہ گان) میں عملامندرجہ اوصاف کا موجود ہونا ضروری ہے۔
    ۱۔ سرمایہ دار اور اقتدار کا بھوکا ہو۔ یہ سرمایہ خوا وہ اپنی گرہ سے خرچ کرے یا اسے پارٹی مہیا کرے۔
    ۲۔ عیار ہو۔ اپنے گن گانے ور حریف کی تذلیل کے فن سے آگاہ ہو۔ جائز و ناجائز کاموں میں کود جانے کی جسارت رکھتا ہو۔ جوڑ توڑ کے فن سے بھی آشنا ہو۔ خوف خدا اور اسلامی اقدار اس کے سامنے ہیچ ہوں۔
    ۳۔ تھانہ اور عدالتوں میں اسے دسترس ہوتا کہ بدمعاش لوگوں کی سرپرستی کرسکے ۔ ان کے جرم پر پردہ ڈال کر انھیں بے گناہ ثابت کرکے انھیں سزا سے بچا سکے تا کہ یہی لوگ انتخابات کے دوران اس کے دست راست اور مدو معاون ثابت ہوں اور اس کا حساب چمکا سکیں۔ اس طرح یہ دونوں مل کر عوام کے حقوق کا استحصال کرتے ہوں۔
    اگر ہمارے نمائندے میں ان اوصاف میں سے کسی ایک کی بھی کمی ہو تو اس کی کامیابی کے امکانات کم ہی رہ جاتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اہل شورےٰ کا نعم البدل ہیں۔


    ۴۔ کثرت رائے میعار حق:۔کا اصول بہت بڑی قباحت ہے جو مندرجہ بالا صورت حال کے پیش نظر گوارا کرنا پڑتی ہے۔ ورنہ اندریں صورت حال کسی معاملہ کا فیصلہ ہونا نا ممکن ہے۔ جمہوری نظام میں یہ اصول بہ امر مجبوری اختیار کیاگیا ہے جس کی حیثیت بنائے فاسد علی الفاسد سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس اصول سے معاملہ کا نزاع تو ختم ہوسکتا ہے لیکن راہ صواب سے اس کا کچھ تعلق نہیں ہوتا۔
    اس کے برعکس شوریٰ میں مشورہ طلب معاملہ کے لیے دلیل کی جستجو ہوتی ہے۔ میر مجلس ہر ممبر سے دلیل کا خواہاں ہوتا ہے پھر جس سے دلیل میسر آجائے ۔ وہ خوا اقلیت کی بجائے صرف فرد واحد ہی ہو، جب میر مجلس اس پر مطمئن ہوجائے تو اس کے مطابق فیصلہ کردیتا ہے۔
    پارلیمنٹ میں چونکہ فیصلہ کی بنیاد کثرت رائے ہے اس لیے کثر ت رائے حاصل کرنے کے ہر جائز وناجائز طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری پارٹیوں کے ممبروں کوہم رائے بنانے کے لیے گٹھ چوڑ شروع ہوجاتا ہے جو مزید مناقشت اور انتشار کا باعث بنتا ہے۔ لیکن شوریٰ ایسی قباحتوں سے پاک ہوتی ہے اور مشورہ ہوری خیر خواہی سے دیا جاتا ہے۔ گویا پارلیمنٹ کے ممبرا انتخاب کے بعد نئے سرے سے جرائم کے ارتکاب میں مشغول ہوجاتے ہیں جبکہ شوریٰ کے ممبروںکا اصل مقصد ہی جرائم کا استیصال ہوتا ہے۔


    ۵۔حق انتخاب اور طریق اتنخاب:۔پارلیمنٹ کے ممبر کاروبار حکومت میں اپنا حق سمجھ کر نمائندگی کے لیے درخواست گزارتے ہیں۔ فیصلہ چونکہ کثرت رائے پر ہوتا ہے لہذا انھیں اپنی تشیر اور دوسرے رقیبوں کے مقابلے میں اپنی اہلیت اور پاکیزگی ثابت کرنے کے لیے اور دوسرے فریق کی تذلیل کے لیے اشتہارات پوسٹر، گھرگھر جاکر ووٹ کے لیے بھیک مانگنا، جلسے جلوس وغیرہ سرانجام دینے کے لیے کثیر مصارف برداشت کرنا پڑھتے ہیں۔ وہاں کئی قسم کے جائز و ناجائز ہتھکنڈے بھی استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ یہ سب باتیں ایسی ہیں جو کتاب وسنت کی رو سے ناجائز اور قبیح جرائم ہیں۔ جب منتخب ہوکر اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں تو انھیں سب سے زیادہ فکر اس زر کثیر کی ہوتی ہے جو اس مہم پر صرف ہوا ہے۔ اس کی تلافی کے لیے وہ کئی طرح کی بددیانتیوں کے مرتکب ہوتے اور خزانہ عامرہ پر ہاتھ صاف کرتے ہیں۔
    اس کے برعکس شوری کے مبروں کا انتخاب بلکل سادہ اور فطری طریق پر ہوتا ہے۔ امیر مشورہ سے حسب ضرورت مشیروں کا انتخاب کرلیتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی اہلیت کی بنا پر از خود ہی معاشرہ کی سطح پر ابھر آتے ہیں۔ لہٰذا ان کے انتخاب میں دقت نہیں ہوتی۔ اس سلسلہ میں کسی مخصوص علاقہ کے لوگ بھی ایسے آدمیوں کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ اور ان کے عزل ونصب میں عوام کی اس آزادانہ رائے کو بھی خاصا دخل ہوتا ہے۔ ان کے انتخاب کے لیے کسی مصنوعی طریقہ یا انتخابی مہم کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہاں مشیر کا نہ تو دولت مند ہونا ضروری ہوتا ہے۔ نہ اسے خچھ خرچ کرنا پڑھتا ہے۔ لہٰذا انھیں نہ تو مذکورہ جرائم کا مرتکب ہونا پڑھتا ہے اور نہ ہی رشوت اور غبن کے ذریعہ انھیں اپنی دولت بڑھانے کی فکر ہوتی ہے۔


    ۶۔مدت منصب:۔جمہوریت میں پارلیمنٹ کی ممبر شپ ایک حق ہے۔ اب اس طرح کےدوسرے حق دار اس انتظار میں رہتے ہیں کہ انھیں یہ حق کب نصیب ہوتا ہے لہٰذا اس منصب کی مدت معین کردی گئی ہے جب کہ شوریٰ کی ممبر شپ حق نہیں بلکہ اک ذمہ داری ہے۔ اور یہ مشیر خدا کے سامنے جوابدہی کے تصور کو سامنے رکھ کر اپنا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ لہٰذا یہاں مدت منصب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    عبد الرحمٰن کیلانی حفظہ اللہ کی کتاب "خلافت و جمہوریت" سے لیا گیا۔ صفحہ ۲۴۱ تا ۲۴۶۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 22, 2010
  17. asimmithu

    asimmithu -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏فروری 26, 2010
    پیغامات:
    182
    ابو بکر بھائی بہت خوب جزاک اللہ خیرا
     
  18. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,422
  19. طارق اقبال

    طارق اقبال محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2009
    پیغامات:
    316
    دینی جماعتیں جمہوریت کی بات کیوں کرتی ہیں ؟؟؟ پروفیسر ساجد میر

    دینی جماعتیں جمہوریت کی بات کیوں کرتی ہیں ؟؟؟ پروفیسر ساجد میر


    http://www.youtube.com/watch?v=2QlXm2ZwLXM&feature=related


    ايك موضوع کی بحث پر نئے تھریڈز کھولنے سے گریز كريں۔ خلافت اورجمہوریت سے متعلق تمام بحث اسی موضوع ميں كى جائے۔اس موضوع پر نئے تھریڈز حذف كر ديئے جائيں گے۔ انتظاميہ اردو مجلس
     
  20. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    یہ نظریہ ساجد میر صاحب کا اپنا زاتی ہو سکتا ہے، یعنی حکومت میں سیٹ، اقتدار،مقام ومرتبہ مگر یہ طریقہ شریعت لانے کا نہیں!!
    مزید جاننے کے لئے اس تھریڈ کا مطالعہ کریں۔
    خلافت و جمہوریت


    اور جو آزادی رائے کا ایک پلس پوائنٹ ساجد میر(حفظہ اللہ) صاحب سمجھانا چاہتے ہیں اسی وجہ سے اس جمہوریت میں چار چاند لگتے ہیں اور اسی کی وجہ سے اللہ تعالی کے قانون کو لوگوں کی رائے کے تحت مسترد کیا جاتا ہے اور دلیل کتاب و سنت نہیں‌ہوتا بلکہ اکثریت کی رائے ہوتی ہے!!




    ايك موضوع کی بحث پر نئے تھریڈز کھولنے سے گریز كريں۔ خلافت اورجمہوریت سے متعلق تمام بحث اسی موضوع ميں كى جائے۔اس موضوع پر نئے تھریڈز حذف كر ديئے جائيں گے۔ انتظاميہ اردو مجلس
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں