شیطان کے دو حربے : افراط وتفریط

ابوعکاشہ نے 'امام ابن قيم الجوزيۃ' میں ‏دسمبر 5, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    شیطان کے دو حربے : افراط وتفریط
    الوابل الصیب :: ابن قیم رحمہ اللہ
    ترجمہ :: ذکر الہٰی :: مولانا مختار احمد ندوی حفظ اللہ
    ہر امر الٰہی کے متعلق شیطان دو قسم کے حربے استعال کرتا ہے ـ
    اول :: تقصیر و تفریط
    دوم : غلو و افراط
    جس حربے سے بھی اسے انسان پرکچھ کامیابی کے آثار ںظر آ رہے ہو ، اس پر ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے ـ پہلے قلب انسانی کا گوشہ گوشہ ٹٹول کر جائزہ لیتا ہے کہ اس میں تفریط کا عنصر غالب ہےیا افراط کا ـاگر اس میں لچک ، نرمی و کمزوری اور رخصت پسندی نظر آئے تو اسی ذریعہ سے سے پھانس کر اسے امرالہی کی ادائیگی سے بلکل بزدل بنا کر بٹھاتا دیتا ہے اور اس کے ایک ایک عضو پر ڈھیلا پن اور سستی و کاہلی کے قفل (تالہ ) جڑ جڑکر اس پر طرح طرح کی تاویلات کے دروازے کشادہ کردیتا ہے اور اللہ تعالٰی کی گونا گوں رحمتوں کی امیدوں کے سبز باغ دکھا کر اسے مغرور کر دیتا ہے حتٰی کہ بسا اوقات اس حربہ کا اثر اس قدر ہوتا ہے کہ انسان جملہ مامورات الہیہ کا تارک ہو جاتا ہے ـ

    اس کے برعکس بعض انسان جوشیلے ، جلدباز ، ہوشیار و چالاک اور ہر کام کر گزر نے والے ہوتے ہیں ـ جن سے بزدلی کی توقع نہیں اور نہ بزدل بنائے بغیر ان سے کام نکلتا ہےاس لئے اس کو مزید جوش دلا کر حد سے زیادہ جدوجہد اور کوشش کی ترغیب دے پھنساتا ہے کہ میں حقیر سا عمل تجھے کافی نہیں ـ تجھے اس سے کئی گنا زیادہ عمل کی طاقت ہے اور دوسروں سے بڑھ چڑھ کر تجھے نیکی کرنا چاہے ـ مزہ تو جب ہے کہ جب وہ سو جائیں تو تم اس وقت بھی بیدار اور ہوشیار رہو ـ وہ روزہ افطار کریں تو تم مت افطار کرو ـ وہ عمل کرتے کرتے سست پڑجائیں تو تم سستی کو قریب تک نہ آنے دو ـ دوسرے تین تین مرتبہ ہاتھ ، منہ دھوئیں تو تم سات مرتبہ دھوؤ ـ اور جب باقی لوگ وضو کر کے نماز پڑھیں تو تم نہا کر پڑھا کرو ــ وغیرہ

    غرضیکہ شیطان ہر وقت اسے اسی طرح افراط و غلو کی ترغیب دیتا اور صراط مستقیم کی حدودکو پھاند جانے کی تلقین کرتا رہتا ہے ـ جیساکہ پہلے کو تقصیر و تفریط اور سستی و نرمی بلکہ بد عملی پر ابھارتا ہے ـ اصل غرض دونوں کو صراط مستقیم سے دور رکھنا ہے ـ پہلے کو صراط مستقیم سے چارقدم پیچھے ہٹا کر اور دوسرے کو چار قدم آگے بڑھا کر اور یہی شیطان کی سب سے بڑی فریب کارانہ چال ہے ، جس میں اکثر لوگ پھنس کر رہ گئے ہیں اور جس سے بچنے کا صرف یہی ایک ذریعہ ہے کہ انسان کے پاس علم راسخ ہو ـ قوت ایمانی ہو ـ شیطانی ہتھکنڈوں سے مقابلہ کی طاقت و جرات موجود ہو اور مزید براں افراط و تفریط کی راہ سے بچ کر درمیانی راہ پر مضبوطی کیساتھ جم جائے تو پھر دیکھو اللہ کی اعانت کس طرح دستگیری کرتی ہے ـ واللہ المستعان ـ

    لہذ ا تعظیم امر و نہی کی حقیقت یہ ہے کہ نہ وہ بے ضرورت کی رخصتوں سے ٹکرائیں اور نہ ان میں تشدد و غلو ہو ـ کیونکہ امر و نہی سے اصل مقصود تو ہے صراط مستقیم جو اس پر چلنے والے کو اللہ تعالٰی تک پہنچا دیتا ہے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    جزاكم اللہ خيرا وبارك فيكم۔ بہت عمدہ انتخاب۔
    امام ابن قيم رحمہ اللہ نے ہمارى بيمارى كى بہترین تشخيص كى ہے۔ اس وقت ہمارى امت انہی دو بيماريوں كا شكار نظر آتى ہے۔ اللہ تعالى ہم سب كو غلو وافراط اور تقصير و تفريط سے محفوظ فرمائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ثانیہ

    ثانیہ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 14, 2010
    پیغامات:
    165
    شکریہ!
    درست کہا، بلکہ ہم بھی اسی میں شامل ہیں۔ کبھی خوشی تو کبھی غم حاوی اور کبھی محبت تو کبھی غصہ حاوی۔۔۔۔۔:00002:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    جزاک اللہ خیرا۔
    تمام برائیوں اور شیطانی حربوں کی جڑ یہیں جہالت پر آ کر ختم ہوتی ہے ۔ اللہ تعالی ہم سب کے علم میں اضافہ فرمائے اور عمل صالح کی توفیق دے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں