روح، روحانیت، روحانی خواص و اثرات اور انرجی کا حصول

عاکف سعید نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏جنوری 23, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عاکف سعید

    عاکف سعید محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 16, 2010
    پیغامات:
    181
    روح، روحانیت، روحانی خواص و اثرات اور انرجی کا حصول

    اللہ تعالی نے اس دنیا کا نظام اَسباب و علل کے ساتھ مربوط کر دیا ہے، تاہم اپنی قدرت کے اظہار کیلیے بعض اوقات اللہ تعالی کوئی ایسا معاملہ ظاہر فرما دیتے ہیں جو اس کائنات کے نظام کار اور اس کے اسباب و علل سے ماوراء ہوتا ہے، اسے معجزہ کہتے ہے اور یہ نبیوں اور رسولوں کے ہاتھوں ظاہر ہوتا ہے مثلاً حضرت صالح علیہ السلام کیلیے اللہ تعالی نے پہاڑ سے زندہ اونٹنی نکال دی، حالانکہ اونٹ پہاڑوں سے پیدا نہیں ہوتے اور نہ ہی حضرت صالح علیہ السلام کے علاوہ کسی اور کیلیے کبھی پہاڑ سے کوئی اونٹ نکلا ہے۔
    اور اگر معجزات سے ملتی جلتی کوئی چیز کسی نیک شخص کے ہاتھوں ظاہر ہو تو اسے کرامت کہا جاتا ہے۔ گویا کرامت بھی اسباب و علل سے ماوراء ہوتی ہے اور یہ بھی اللہ کے حکم سے ظاہر ہوتی ہے، وگرنہ کوئی نیک بندہ اگر یہ چاہے کہ میں جب چاہوں، کوئی نہ کوئی کرامت ظاہر کر دوں تو یہ اس کیلیے ممکن ہی نہیں ہے۔ انبیاء سے بھی لوگ مطالبے کیا کرتے تھے کہ کوئی معجزہ ظاہر کریں تو انبیاء ان کو جواب میں یہی کہا کرتے تھے کہ
    قَالَتۡ رُسُلُہُمۡ اَفِی اللّٰہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یَدۡعُوۡکُمۡ لِیَغۡفِرَ لَکُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِکُمۡ وَ یُؤَخِّرَکُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ قَالُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَا ؕ تُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا کَانَ یَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ
    {سورہ ابراہیم: 11}
    "ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا کہ یہ تو سچ ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں لیکن اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا فضل کرتا ہے، اللہ کے حکم کے بغیر ہماری مجال نہیں کہ ہم کوئی معجزہ تمہیں لا دکھائیں۔"


    مادہ پرست لوگ معجزات و کرامات کو تسلیم نہیں کرتے، ان کے بقول کائنات کی ہر چیز اسباب و علل کے ساتھ مربوط ہے۔ جب اسباب و علل کا یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا تو کائنات خود ہی تباہ ہو جائے گی، گویا ان کے بقول کائنات کا سارا نظام اسباب و علل کی بنیاد پر خود بخود چل رہا ہے، اسے چلانے والی کوئی مقتدر ہستی موجود نہیں۔ بعض کے بقول کائنات کو پیدا تو اس ذات نے کیا ہے جسے اللہ، خدا وغیرہ کے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے، تاہم اس نے کائنات بنا کر اسباب و علل کا تعین کر دیا اور اس کے بعد یہ نظام از خود چلتا چلا جا رہا ہے۔ گویا کائنات بنانے کے بعد وہ اللہ اس کائنات سے ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا ہے یا دوسرے لفظوں میں وہ اتنا بے اختیار ہو گیا ہے کہ اپنے ہی بنائے ہوئے نظام میں ذرا سی تبدیلی یا کمی بیشی بھی اب نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔نعوذ باللہ

    ظاہر ہے یہ سب غیر اسلامی تصورات ہیں اور حقیقت حال یہ ہے کہ کائنات اللہ تعالی نے پیدا کی ہے، اس کا نظام بھی وہی چلا رہا ہے، اسے اسباب و علل کے ساتھ بھی اسی نے مربوط کر رکھا ہے لیکن وہ ان اسباب و علل کا محتاج نہیں بلکہ وہ جب اور جہاں چاہے، اسباب و علل کے قانون کو توڑ سکتا ہے۔ بہت سے مواقع پر وہ ایسا کرتا بھی ہے۔ مگر وہ ایسا کیوں کرتا ہے، اس کی ذات سے یہ سوال کرنے کے ہم مجاز ہی نہیں، تاہم اتنا ضرور ہے کہ وہ حکیم و دانا بغیر کسی حکمت کے ایسا نہیں کرتا۔ بعض حکمتیں ہمیں سمجھ آ جاتی ہیں اور بعض سمجھ نہیں آتیں، مثلا معجزات کے سلسلے میں ایک حکمت یہ سمجھ آتی ہے کہ اس طرح وہ اپنی قوت و طاقت اور اپنے نبیوں کی صداقت ظاہر کرتا ہے، نیز ان لوگوں کو اپنی ذات کا وجود منواتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کائنات کا نظام خود بخود چل رہا ہے۔ بہر حال اس کے کام کی کوئی حکمت ہمیں سمجھ آئے یا نہ، ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اس حقیقت کو ماننا چاہیے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور اپنی قدرت ظاہر کرتا ہے۔

    مادہ پرستوں سے متاثر بعض مسلمان بھی معجزات کے حوالے سے عجیب و غریب توجیہات کرتے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طرح انہیں اسباب و علل کے ساتھ مربوط کر دکھائیں۔ یہ رویہ صرف مسلمانوں ہی میں نہیں بلکہ یہود و نصاری کے ہاں بھی پایا جاتا ہے، اسلیے کہ یہود اور عیسائی جن پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں، ان میں سے بعض کے ہاتھوں اللہ تعالی نے معجزات بھی ظاہر کیے تھے۔ اس سلسلہ میں حضرت داود، سلیمان، موسی، عیسی علیہ السلام واجمعین کی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔
    جو لوگ معجزات و کرامات کو اسباب و علل کے تابع قرار دینے پر مصر ہیں، ان کے بقول انبیاء کے ہاتھوں جو معجزے ہوئے، وہ مافوق الفطرت کام نہیں تھے بلکہ ہر انسان توجہ، محنت اور کوشش سے ویسے ہی بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتا ہے۔ اسے وہ ذہنی طاقت، اور بقول بعض 'روحانیت' کا کمال کہتے ہیں،یہی حال آج کال نام نہاد صوفی اور مراقبہ حال سجانے والے خواجہ عظیمیوں کا ہے، بلکہ ایک صاحب نے تو یہاں تک دعوی کر ڈالا کہ
    "انبیاء نے معجزات پیش کیے، وہ دراصل یہ دکھانے کیلیے تھے کہ ہر انسان میں ایسی مخفی طاقتیں موجود ہیں جن کی مدد سے بلاتفریق مذہب انسان بڑے بڑے کام کر سکتا ہے۔"
    {دیکھیے: روحانیت، دانش اور حقیقتیں، از: قمر اقبال صوفی، اورینٹل پبلی کیشنز}

    بعض غیر مسلم فلاسفہ کے بقول اس کائنات کا نظام ایک مخفی قوت یا غیر محسوس انرجی چلا رہی ہے اور یہ انرجی کائنات کی ہر چیز میں نفوذ کیے ہوئے ہے۔ اسلیے کائنات کی ہر چیز سے مخفی طاقت نکل رہی ہے اور خود انسان میں بھی کئی ایک مخفی طاقتیں موجود ہیں۔ ان مخفی طاقتوں کے حصول کیلیے مختلف ادارے بنائے گئے ہیں جیسا کہ مشہور عظیمی سلسلہ جنہوں نے مراقبہ حال تیار کیے رکھے ہیں جن میں انسانوں کی ان مخفی طاقتوں کو بیدار کرنے کیلیے عجیب و غریب کورسز کرائے جاتے ہیں۔ یہ بات اب غیر مسلم ہی نہیں، بہت سے مسلمان بھی کرنے لگے ہیں۔ پاکستان میں بھی بعض ایسے ادارے موجود ہیں جہاں انسانی توانائی کو مرتکز کر کے اس سے عجیب و غریب کام لینے کی صلاحیت بیدار کرنے کی کوششیں کرائی جاتی ہیں۔
    ان اداروں میں بعض وہ ہیں جو اپنے آپ کو غیر مذہبی باور کراتے ہیں اور اپنے طریق کار کو سائنٹفک کرار دیتے ہیں۔ شاید اسلیے بھی کہ ان کے نزدیک انسان اپنی توانائی سے کام لے تو وہ ہر طرح کی 'کرامتیں' ظاہر کر سکتا ہے۔ جب کہ بعض مذہب اور روحانیت کی آڑ میں یہی کام انجام دے رہے ہیں۔ دونوں طرح کے اداروں میں ایک بنیادی نکتہ اعتراض اختلاط مرد و زن اور نماز وغیرہ جیسی اہم عبادات سے لاپرواہی ہے اور قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں طرح کے ادارے انسان کی مخفی طاقتوں کو بیدار اور متحرک کرنے میں مصروف ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک اسے 'انرجی' قرار دیتا ہے اور دوسرا 'روحانیت'۔

    یہاں آپ خود ہی اندازہ کر لیں کہ جن اداروں میں لمبے مراقبے کروائے جائیں اور نمازیں بھی ان کی نذر کر دی جائیں، ستر و حجاب کی حدود کا کوئی خیال نہ رکھا جائے تو وہاں کون سی مخفی طاقت اور روحانیت بیدار کی جاتی ہوگی۔ {یہ صرف تجزیاتی سوال ہے، باقی تبصرہ مراقبہ اور چلہ کشی والے تھریڈ میں تفصیل سے مذکور ہے}
    مسلمانوں میں بہت سے صوفیاء کے ہاں یہ تصور پایا جاتا رہا ہے کہ انسان ریاضتوں، مجاہدوں اور وظیفوں کے ساتھ ایسی طاقت حاصل کر سکتا ہے کہ وہ جب چاہے، عجیب و غریب کرشمے ظاہر کر سکتا ہے۔ غیب کے پردے اس کی باطنی نظر کے سامنے ظاہر کر دیے جاتے ہیں اور وہ ماضی، مستقبل اور قسمت سے متعلقہ تمام غیبی معلومات حاصل کر لیتا ہے۔ بعض صوفیاء کے بقول اس مقصد کیلیے از خود محنت کی ضرورت نہیں بلکہ انسان کو چاہیے کہ وہ کسی عامل، پیر، مرشد کو تلاش کرے اور اس کی خدمت کیلیے اپنے آپ کو وقف کر دے۔ اس طرح پیر و مرشد کی محض نظر و کرم سے یہ روحانی طاقت اسے حاصل ہو جائے گی۔

    روحانی طاقت حاصل کرنے کیلیے صوفیاء کے ہاں ورد اور ریاضتیں مخصوص ہیں۔ یہ ورد متعین تعداد اور مخصوص طریق کار کے ساتھ کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اپنی مرضی سے کام لینا اس راہ میں قابل گردن زنی قرار پاتا ہے۔ اور بار ہا یہ کہا جاتا ہے کہ کوئی وظیفہ استاد کے بغیر نہ پڑھیں، ورنہ الٹا پڑ جائے گا۔ عامل، پیر وغیرہ حضرات اپنے شاگرد کو مخصوص عمل بتاتے اور اور خاص اوقات میں وہ عمل پیر و مرشد کی نگرانی اور حکم پہ کیا جاتا ہے۔ ان میں اس طرح کی باتیں مشہور کی جاتی ہیں کہ فلاں نے بغیر استاد کے فلاں قرآنی دعا یا مسنون وظیفہ پڑھا، مگر اس کے باوجود اس پر الٹ اثر ہو گیا۔ حالانکہ اگر وہ قرآنی دعا تھی تو اسے پڑھنے سے الٹا اثر کیسے ہو سکتا ہے، کیا قرآن کریم اپنے پڑھنے والوں کیلیے شفاء ہے یا الٹا اثر کرتا ہے؟؟؟ فتدبر

    اسی طرح جن وظائف و اذکار کی خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین کی ہے، میں نہیں سمجھتا کہ انہیں پڑھنے کیلیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مزید کسی کی تصدیق یا اجازت کی ضرورت باقی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ان شاء اللہ​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. عاکف سعید

    عاکف سعید محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 16, 2010
    پیغامات:
    181
    روحانی اثرات کی منتقلی
    روحانیت کے نام پر عجیب و غریب خرافات دکھناے والوں کے ہاں یہ بھی مشہور ہے کہ ایک شخص اپنی روحانیت دوسرے میں منتقل کر سکتا ہے اور جس میں روحانیت منتقل ہو جائے وہ بھی اس طرح کی روحانی طاقت حاصل کر لیتا ہے جو روحانیت منتقل کرنے والوں میں موجود ہوتی ہے۔ جو کہ وسواوس اور فلسفہ نگاری کے سوا کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔ نفسیاتی علوم کے ماہر اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ ڈھونگ کتنی حیثیت رکھتا ہے۔​


    اشیاء کے روحانی خواص و اثرات کی حقیقت
    یہ لوگ انسانی روحانی اثرات کی طرح دیگر مادی اور غیر مادی اشیاء کے اثرات کے بھی قائل ہوتے ہیں۔ یعنی ان کے بقول مختلف پتھروں، ناموں، تعویذوں، کڑوں، دھاگوں اور موتیوں وغیرہ کے بھی روحانی اثرات ہوتے ہیں۔
    یہ لوگ اللہ کی بجائے ان چیزوں پر توکل کر بیٹھتے ہیں حالانکہ ان چیزوں میں سے کسی چیز میں کوئی اثر ہو سکتا ہے تو اس کا مادی اثر ہو سکتا ہے جیسے نمک، کوئلے اور دیگر چیزوں کے مادی خواص ہوتے ہیں اور وہ بھی سائنٹفک ریسرچ کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ان میں کون سے طبعی و مادی اثرات پائے جاتے ہیں اور انسان ان سے کیا کیا مادی فوائد حاصل کر سکتا ہے، مگر ان میں ایسے کوئی روحانی اثرات نہیں پائے جاتے جو نام نہاد عامل باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص ان چیزوں کا نفسیاتی اثر لے لیتا ہے جیسا کہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں فلاں کڑا، یا مالا، یا دھاگا پہن کر رکھوں تو میرے کام آسانی سے ہوتے ہیں اور اگر اتار دوں تو رکاوٹیں آنے لگتی ہیں۔ یہ اس کا وہم اور نفسیاتی اثر ہے، حقیقت نہیں ہے۔
    جو لوگ اللہ پر توکل کرنے کی بجائے ان کڑوں، پتھروں، نگینوں، تعویذ گنڈوں وغیرہ پر توکل کرتے ہیں، ان کا عقیدہ سخت خطرے میں ہے۔

    ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے پیتل کا کڑا پہن رکھا تھا۔ آپ نے پوچھا: یہ کیا؟ اس نے کہا: یہ کمزوری کے علاج کیلیے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "اسے اتار دو، یہ تو کمزوری کے علاج کی بجائے اسے اور بڑھائے گا اور اسے پہنے ہی تم مر گئے تو کبھی کامیاب نہیں ہو سکو گے"
    {مسند احمد، ج 4، ص445۔۔ابن حبان، ج 7، ص628۔۔الحاکم، ج4، ص216}


    انسانی روح اور اس سے کام لینے کی حقیقت
    انسانی جسم دو چیزوں سے مرکب ہے یعنی روح اور بدن۔ جب تک ان دونوں چیزوں کا اتصال رہتا ہے، انسان زندہ رہتا ہے اور جب روح جسم سے جدا ہوجاتی ہے تو انسان کو موت آجاتی ہے۔
    یہ روح کیا ہے؟ اس کے بارے میں ہمیشہ بڑے اختلاف رہے ہیں۔ البتہ روح کے ھوالے سے یہ بات تو اب سبھی مانتے ہیں کہ انسان کے مادی و محسوس جسم کے اندر ایک غیر مادی چیز موجود ہے جس سے انسانی زندگی قائم ہے اور یہی روح کہلاتی ہے۔
    'روح' عربی زبان کا لفظ ہے اور کئی معانی میں استعمال ہوا ہے، ایک تو یہ جان کے معنی میں استعمال ہوا ہے جو اس کا معروف معنی ہے۔ اس کے علاوہ یہ لفظ قرآن، جبریل، قوائے بدن وغیرہ کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اسلامی لٹریچر میں روح سے ملتا جلتا ایک اور لفظ بھی استعمال ہوا ہے اور یہ ہے 'نفس'/ لفظ نفس کا استعمال 'روح'[جان] دل، ذات [وجود] کیلیے ہوتا ہے، اسی طرح اسے اگر 'ف' کی فتح کے ساتھ پڑھا جائے تو پھر اس کا معنی ہے: سانس، جھونکا، گنجائش، مہلت اور کشادگی و فراخی۔

    {دیکھیے: کتب الغات، بذیل مادہ 'نفس'}
    معلوم ہوا کہ عربی لٹریچر میں انسانی جان کیلیے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں: 1۔ روح اور 2۔ نفس۔ بعض اہل علم نے ان دونوں سے ایک ہی چیز [یعنی انسانی جان] مراد لی ہے، جبکہ بعض کی رائے یہ ہے کہ یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں اور وہ اس طرح کہ روح سے مراد تو وہ انسانی جان ہے جس سے زندگی قائم رہتی ہے جب کہ نفس سے مراد وہ غیر مرئی چیز ہے جس سے انسانی شعور قائم رہتا ہے۔
    اس دوسری رائے کو بعض لوگوں نے اس طرح بھی بیان کیا ہے کہ روح اور نفس دونوں سے مراد ایک ہی ہے یعنی 'جان'۔ یا اردو محاورے کے مطابق 'روح'۔ البتہ اس جان یا روح کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جو نیند کے وقت نکلتی ہے اور خواب میں گھومتی پھرتی نظر آتی ہے، البتہ ہوش و حواس قائم ہوتے یا بیدار ہوتے ہی یہ پلٹ آتے ہے اور دوسری وہ جو موت کے وقت نکلتی ہے اور پھر واپس نہیں آتی۔ جن لوگوں نے نفس اور روح میں فرق کیا یا روح کی دو قسمیں قرار دیں، ان کا استدلال قرآن مجید کی اس آیت سے ہے:

    اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الۡاَنۡفُسَ حِیۡنَ مَوۡتِہَا وَ الَّتِیۡ لَمۡ تَمُتۡ فِیۡ مَنَامِہَا ۚ فَیُمۡسِکُ الَّتِیۡ قَضٰی عَلَیۡہَا الۡمَوۡتَ وَ یُرۡسِلُ الۡاُخۡرٰۤی اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ
    ''اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آتی، انہیں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے۔ پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہوتا ہے، انہیں تو روک لیتا ہے اور دوسری [روحوں] کو ایک مقرر وقت تک کیلیے چھوڑ دیتا ہے''
    {سورہ الزمر: 42}


    اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے جن اہل علم نے نفس اور روح کو دو چیزیں قرار دینے کی بجائے یہ نقطہ نظر اختیار کیا ہے کہ روح کی دو قسمیں ہیں، ان کے اس موقف کی ترجمانی کرتے ہوئے مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ
    ''آیت مذکورہ سے مندرجہ ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:
    1۔ یہ آیت اس بات پر سب سے بڑی دلیل ہے کہ روح کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ قسم ہے جو ہر دم انسان کے بدن میں موجود رہتی ہے اور دوسری وہ جو خواب میں جسم سے علیحدہ ہو جاتی ہے۔
    2۔ جاگتے میں یہ دونوں قسم کی روحیں یا روح کے ہر دو جز انسان میں موجود رہتے ہیں۔
    3۔ روح کو قبض کرنا یا موت دینا صرف اللہ تعالی کے بس میں ہے۔ اگر وہ خواب کے دوران روح نفسانی کو قبض کر لے تو بھی موت واقع ہو جاتی ہے۔
    4۔ بیداری کی حالت پوری زندگی اور خواب کی حالت نیم زندگی کی کیفیت ہے جس میں کچھ صفات زندگی کی پائی جاتی ہیں اور کچھ موت کی۔ گویا یہ کیفیت موت و حیات کے درمیان برزخی حالت کی مظہر ہوتی ہے۔"
    {روح، عذاب قبر اور سماع موتی، از عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ ، ص15}

    روح سے متعلقہ مذکورہ بالا بحث کا خلاصہ یہ ہے:
    1۔ بعض اہل علم اس آیت سے دو طرح کی روحیں مراد لیتے ہیں۔
    2۔ بعض اہل علم اس آیت سے دو طرح کی روحیں مراد لینے کی بجائے ایک کو نفس اور دوسری کو روح قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک نفس اور چیز ہے اور روح اور چیز۔
    3۔ جب کہ بعض اہل علم نفس اور روح کو ایک ہی چیز قرار دیتے ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں کرتے۔
    عقیدہ طحاویہ کے شارح علامہ ابن ابی العز کا بھی یہی نقطہ نظر ہے۔
    {شرح العقیدہ الطحاویۃ، ص394}

    4۔ بعض اہل علم دو روحوں کے تصور کو درست قرار نہیں دیتے، ان کے نزدیک انسان کے جسم سے جو چیز حالت نیند میں قبض کی جاتی ہے وہ جان [روح] نہیں بلکہ ہوش ہے جیسا کہ مولانا مودودی زیر نظر آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ''نیند کی حالت میں روح قبض کرنے سے مراد احساس و شعور، فہم و ادراک اور اختیار و ارادہ کی قوتوں کو معطل کر دینا ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جس پر اردو زبان کی کہاوت فی الواقع راست آتی ہے کہ سویا اور ہوا برابر۔"
    {تفہیم القرآن، از مولانا مودودی، ج4، ص375}


    جاری ہے۔۔۔۔۔ان شاء اللہ
     
  3. عاکف سعید

    عاکف سعید محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 16, 2010
    پیغامات:
    181
    رہبانیت کا طریق کار
    ان لوگوں کا طریق کار یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا کام علم توجہ اور علم استخصار روح {سپریچیولزم} سے شروع کرتے ہیں۔ جس طرح ایک مسمریزم کا ماہر عامل معمول پر اپنی توجہ ڈال کر اس کی روح حاضر کرتا اور اس سے کئی طرح کی خبریں حاصل کرتا ہے یا ایک جن نکالنے والا کچھ آیات قرآنی یا جنتر منتر پڑھ کر جنوں کو حاضر کرتا ہے اور ان کاموں کیلیے پہلے چِلہ کشی اور ریاضت کی جاتی ہے۔ بعینہ یہی طریق ان لوگوں نے اختیار کیا۔ ایسے اعمال و افعال سے تین چیزیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

    1۔ پیکر محسوس، جو غیب کے پردے میں نہ ہو، جیسے مسمریزم کرنے والے عامل کے سامنے معمول ہوتا ہے اور جن نکالنے والے پیر کے سامنے مریض۔
    2۔ توجہ خواہ یہ ظاہری آنکھ کی کش سے ہو یا قلبی ہو جسے عرف عام میں توجہ، قلبی دباو، مراقبہ یا ہندی میں گیان دھیان کہتے ہیں اور
    3۔ عزم راسخ یا عقیدہ

    پیکر محسوس خواہ کوئی جاندار شے ہو یا بے جان۔ جب اس کے متعلق کوئی عقیدہ قائم کر کے مرابہ کیا جائے گا تو اس کے اثرات حسب پختگی عقیدہ مرتب ہونے شروع ہو جائیں گے۔ ایسے اعمال و افعال سے جہاں انسان نے روحوں کو حاضر کر کے ان سے غیب کی خبریں حاصل کیں۔ وہاں ان سے حسب ضرورت کام بھی لیا۔ انسان کی اس طرح سے حاصل شدہ معلومات کو تصوف کی اصطلاح میں کشف {1} یا مکاشفہ کہا جاتا ہے۔

    ریاضت، مجاہدہ، چلہ کشی اور مکاشفات کے ذریعہ انسان کو یہ بھی معلوم ہوا کہ اس روحوں کی دنیا {عالم ارواح} میں بے شمار قسم کی روحیں پائی جاتی ہیں، جو غیر مرئی مخلوق ہیں، مثلا فرشتے، جن، فوت شدہ انسانوں کی روحیں، نیک روحیں، شیطانی اور خبیث روحیں، سب اس عالم میں پائی جاتی ہیں۔ انسان نے اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق ان روحوں کو قابو کرنے کیلیے کئی قسم کے اوراد اور جنتر منتر بھی دریافت کر لیے اور ان کو مسخر کر کےکئی قسم کی شعبدہ بازیاں دکھانا شروع کیں۔ ایسی روحوں کو عام طور پر''رجال الغیب'' کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

    رجال الغیب سے استفادہ کرنے والے گروہ:
    دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس عالم ارواح سے استفادہ کرنے والے مندرجہ ذیل قسم کے گروہوں کا پتہ چلتا ہے۔

    ۱۔ رہبان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو تارک الدنیا ہو کر جنگلوں میں کوئی کٹیا یا خانقاہ بنا کر اس میں مقیم رہا کرتے تھے۔ تزکیہ باطن اور دل کو آئینہ بنانے میں مصروف رہتے۔ ان کا اصل مقصود ذات باری کا مشاہدہ کرنا ہوتا تھا۔ وہ لوگوں کو غیب کی خبریں بھی بتلایا کرتے تھے۔ ان کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔

    {دیکھیے سورہ الحدید آیت 27}
    ۲۔ کاہن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے لوگ چلہ کشی ضرور کرتے تھے، لیکن عام آبادیوں میں رہتے تھے۔ ان کا تعالق شیطانی روحوں سے ہوتا تھا۔ "بخاری' باب الکہانہ" میں ہے کہ "کچھ لوگوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کاہنوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا: ان کی باتیں محض لغو ہیں۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، کبھی تو ان کی بات سچ نکلتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ بات وہ ہوتی ہے جو کاہن شیطان سے اڑا لیتا ہے پھر وہ اپنے 'ولی' یعنی دوست کے کان میں پھونک دیتا ہے، تو یہ لوگ اس میں سو جھوٹ ملا لیتے ہیں۔
    ۳۔ جادوگر۔۔۔۔۔۔۔۔ان کا تعلق خالص شیطانی اور خبیث روحوں سے ہوتا تھا۔ یہ لوگ ایسی روحوں کو قابو کر کے لوگوں کو تنگ کرتے، انہیں نقصان پہنچاتے اور لوگوں میں اپنی ہیبت کا سکہ جماتے تھے۔ یہ لوگ ان روحوں کے ذریعہ اشیاء کی ماہیت اور حقیقت تو نہیں بدل سکتے البتہ فضا کو متاثر کرتے اور ہیبت ناک بنا دیتے ہیں، چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کا مقابلہ کرنے والے جادوگروں کے متعلق فرمایا:
    سَحَرُوۡۤا اَعۡیُنَ النَّاسِ وَ اسۡتَرۡہَبُوۡہُم
    "ان جادوگروں نے حاضرین کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور ان کو دہشت ناک کر دیا"
    {سورہ الاعراف: 116}

    گویا جادوگروں کی رسیاں فی الحقیقت سانپ نہیں بنی تھیں بلکہ لوگوں کو ایسا معلوم ہوتا تھا اور وہ ان سے ڈر بھی گئے تھے۔

    {1} کشف کی حقیقت کے متعلق مولانا اشرف علی تھانوی فرامتے ہیں کہ:
    "کشف کوئی بڑا کمال نہیں، اگر کافر بھی ریاضت و مجاہدہ کرے تو اس کو بھی ہونے لگتا ہے۔ نیز مجانین کو بھی کشف ہوتا ہے۔ صاحب شرح اسباب نے لکھا ہے۔ میں نے خود لکھا ہے۔ ایک مجنوں کو اس قدر کشف ہوتا تھا کہ بزرگوں کو بھی نہیں ہوتا تھا لیکن جب اس کا مسہل ہوا، تو مادہ کے ساتھ کشف بھی نکل گیا۔ {اشرف السوانح، ج2، ص87}




    جاری ہے۔۔۔۔۔ان شاء اللہ
     
  4. عاکف سعید

    عاکف سعید محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 16, 2010
    پیغامات:
    181
    رہبانیت میں کشش کی وجوہات

    اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ واضح احکام کی موجودگی میں رہبانیت نے اسلام میں کیسے راہ پائی۔ آخر رہبانیت میں وہ کیا کشش اور جاذبیت ہے کہ شرعی احکام و حدود کو پھلانگ کر لوگ اس میں جا داخل ہوئے؟
    یہ کہنا سراسر غلط ہو گا کہ قرآن و حدیث میں زہد اور دنیا سے بے رغبتی کے بارے میں جو ارشادات پائے جاتے ہیں۔ وہ رہبانیت کی بنیاد ہیں۔ کیونکہ ان ارشادات کو سمجھنے والے سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و اجمعین تھے۔ لیکن ان میں ایسی رہبانیت کا کوئی اثر نہیں پایا جاتا۔ بلاشبہ دنیا اور اس کے مال و اسباب سے بے رغبتی دین کا ایک حصہ ہے، لیکن یہ پورا دین نہیں۔ معاشرتی، معاشی اور عائلی حقوق کی ذمہ داریاں، جو زندگی کا نہایت ہی اہم حصہ ہیں، ان تر خپی ارشادات سے ساقط نہیں ہو سکتیں۔

    رہبانیت کو اختیار کرنے کے اسباب کچھ اور ہی ہیں، جو ہمارے خیال کے مطابق درج ذیل ہیں:


    ۱۔ روحانی ترقی یا آئینہ باطن کی صفائی

    اکثر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ دنیا کے جھمیلوں میں پھنس کر کبھی یکسوئی کے ساتھ روحانی ترقی نہیں کی جا سکتی۔ ان کے خیال میں روحانی ترقی کا کوئی ایسا راستہ نہیں، جو دنیا کے اندر سے ہو کر جاتا ہو، لہٰذا ''درویش'' قسم کے لوگوں نے اسے نیکی سمجھ کر اختیار کر لیا۔ جب کہ اسلام نے ایسی روحانی ترقی اور رہبانیت ہی کو مردود قرار دیا ہے۔ آج مسلمانوں میں ایسے ہی روحانی سلسلے پائے جاتے ہیں اور مرقبہ حال اور خانقاہوں میں اسلام کے نام پر یہی کام کروایا جاتا ہے۔ اسلام صرف ایسی روحانی ترقی کا قائل ہے جس کا راستہ دنیا کے اندر سے ہو کر آگے بڑھتا ہو۔ یہ روحانی ترقی تھوڑی ہو یا بہت، سب کچھ مقبول ہے، لیکن شریعت کی حدود کے اندر رہ کر ہونی چاہیے۔ اگر کوئی مسلمان زندگی کی بنیادی اور اہم ذمہ داریوں یا عبادات کو پس پشت ڈال کر ایسی روحانی ترقی کرتا ہے، تو اس کی حیثیت ہندو و جوگیوں اور سادھووں سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی اور ایسی رہبانیت کو اسلام نے مردود قرار دیا ہے۔

    یہ روحانی ترقی خواہ شرعی طریق سے ہو یا غیر شرعی طریق سے نتیجۃ انسان کا دل آئینہ کی مثل بن جاتا ہے۔ ایسے لوگ جب توجہ کریں تو اپنے مخاطب کے احوال سے کسی نہ کسی حد تک مطلع ہو جاتے ہیں۔ {آج کے ماہر علم النفس اسے ہپناٹزم سے تعبیر کرتے ہیں}۔ یہی ان کی غیب دانی اور کرامت ہوتی ہے، جو عوام کیلیے بڑی باعث کشش ہوتی ہے۔ اس طرح ان لوگوں کو عوام پر حکومت کرنے، ان پر دھاک بٹھانے اور خدائی منوانے وغیرہ کا ایسا موقع ہاتھ آجاتا ہے۔ جو عام حالات میں نا ممکن ہوتا ہے اور دنیوی منفعت کے لحاظ سے ان کی دکان ایسی چمکتی ہے جو عام حالات میں ان کی ریاضت و مجاہدہ سے بدر جہا زیادہ محنت اور جدوجہد کا تقاضا چاہتی ہے۔ اسی حقیقت کو علامہ اقبال نے ان الفاظ میں ادا کیا ہے:

    خداوند ترے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری

    جس طرح سلطان لوگوں سے اپنے مالی حقوق ٹیکسوں کی صورت میں وصول کرتے ہیں۔ یہ لوگ نذر و نیاز اور چڑھاووں کی صورت کرتے ہیں، بلکہ اس لحاظ سے پیر فقیر سلطان سے بڑھ جاتے ہیں کہ سلطان کی حکومت تو محض اجسام پر ہوتی ہے، لیکن یہ دلوں پر اپنی دھاک بڑھاتے ہیں۔


    ۲۔ کشف و مشاہدات

    اسی صفائی قلب کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ لوگ عالم ارواح یا رجال الغیب سے اپنا تعلق قائم کرتے، چلہ کشی کے ذریعہ انہیں قابو میں لاتے، قبروں پر معتکف ہو کر صاحب قبر کی روح یا اس کے متماثل کسی روح سے ملاقات کرتے، ان کے احوال معلوم کرتے اور غیب کی خبریں حاصل کر کے لوگوں کو بتلاتے ہیں۔ اگرچہ بیشتر کام شیطانی قسم کے ہوتے ہیں، لیکن عوام کیا، خواص میں بھی اتنی تمیز نہیں ہوتی کہ وہ اس حقیقت کو سمجھ سکیں۔ یہ مقام انہیں عوام میں اور بھی زیادہ پر وقار اور پر ہیبت بنا دیتا ہے۔

    ۳- مشاہدہ حق

    ان لوگوں پر کچھ نہ کچھ تجلی ہوتی ضرور ہے جیسا کہ پہلے ذکر کیا، خواہ وہ شیطان ہی کی طرف سے کیوں نہ ہو اور اس تجلی میں کیف و سرور بھی ہوتا ہے بعض لوگ اس مستی کی کیفیت کے حصال کیلیے بھی یہ راستہ اختیار کرتے ہیں۔ پھر اس کیفیت کے حصول کیلیے اتنے بیتاب ہو جاتے ہیں کہ سماع و رقص جیسے مصنوعی طریقوں سے اپنے آپ پر یہ کیفیت طاری کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

    ۴۔ معاشرتی ذمہ داریوں اور شرعی تکالیف سے نجات

    یہ لوگ چونکہ پنے آپ کو خود بھی خدائی صفات کے حامل اور کوئی بالا تر مخلوق سمجھنے لگتے ہیں، لہٰذا وہ اپنے معتقدین سے خدا کی بجائے اپنی پرستش کرانا شروع کر دیتے ہیں۔ پرستش سے مراد پوجا پاٹ نہیں، بلکہ حاجت روائی، مشکل کشائی اور نذر ونیاز وغیرہ ہیں۔ پھر کسی کی کیا مجال کہ وہ پیر صاحب یا عامل صاحب کی معاشرتی ذمہ داریوں کی عدم ادائیگی پر معترض ہو اور اس طرح ان کے خلاف شرع اعمال و افعال سے متعلق کچھ کہہ کر راندہ درگاہ بن جائے۔

    بعض حضرات سکر کی حالت میں شرعی تکالیف کے رفع ہونے کو جاءز قرار دیتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ جسطرح کوئی بے ہوش یا دیوانہ آدمی---جب تک وہ اس حالت میں رہے---شرعی احکام کا پابند نہیں ہوتا۔ اسی طرح صاحب وجد و حال پر سے بھی شرعی تکالیف اٹھا لی جاتی ہیں۔ یہ دلیل مذاق اور قیاس مع الفارق سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔ وجہ یہ ہے کہ عام آدمی کی دیوانگی یا بے ہوشی اضطراری یا اللہ رب العزت کی طرف سے ہوتی ہے۔ جب کہ ان لوگوں کی محویت خود پیدا کردہ بدعت ہے جس کا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آثار صحابہ میں کوئی سراغ نہیں ملتا، تو پھر اس اختیاری محویت پر اضطراری کیفیت کو منطبق کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے۔


    ۵۔ شعبدہ بازیاں

    ان لوگوں میں ایک کثیر طبقہ ایسا بھی ہے جو نہ تو اہل دل ہوتا ہے، نہ صاحب حال، وہ محض اپنے لباس اور ہیئت کی تبدیلی سے ہی اس عالم رہبانیت کے معزز رکن تصور کیے جاتے ہیں، جیسے اکثر گدی نشین، مجاور اور ان کے خلیفے۔ یہ لوگ محض شعبدہ بازیوں سے عوام پر اپنی خدائی کی دھاک سجال رکھتے ہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو رفاعی فرقہ کے ایسے ہی شعبدہ باز پیروں سے سابقہ پڑا تھا۔ یہ لوگ سیاہ کپڑے پہنتے، ہاتھوں اور گلوں میں لوہے کے کڑے یا طوق پہنتے تھے۔ آگ میں کود جاتے، انگاروں اور سانپوں سے کھیلتے تھے اور یہی ان کے اہل حق ہونے کی سب سے بڑی دلیل تھی۔ نماز، روزہ اور دوسرے شرعی احکام سے یکسر غافل اور بے پرواہ تھے۔ اطراف و اکناف میں ان کے بے شمار معتقدین پھیل گئے تھے۔ امرائے سلطنت پر بھی ان لوگوں کا اثر تھا۔

    امام موصوف نے بیانگ دہن یہ اعلان کر دیا کہ یہ لوگ محض شعبدہ باز ہیں اور رجال الغیب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان لوگوں نے مشتعل ہو کر حاکم وقت امیر افرم سے شکایت کی۔ امیر افرم نے فریقین کو بلا لیا اور طے یہ پایا کہ فریقین آگ میں کود جائیں، پھر جو جل جائے گا وہ جھوٹا اور جو بچ کر نکل آئے گا اسے سچا سمجھا جائیگا۔
    امام موصوف نے یہ فیصلہ منظور کر لیا، مگر شرط یہ لگائی کہ فریقین آگ میں داخل ہونے سے پہلے سرکہ اور گرم پانی سے خوب بدن مل کر نہا لیں۔ امیر افرم نے وجہ دریافت کی تو آپ نے کہا کہ یہ لوگ مینڈک کی چربی، نارنج کے اندرونی چھلکے اور طلق کے پتھر وغیرہ پیس کر اپنے بدن پر مل لیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے آگ کا ان پر اثر نہیں ہوتا۔

    امیر افرم نے امام صاحب سے پوچھا کہ اگر یہ لوگ غسل کرنے کی شرط مان جائیں، تو آپ آگ میں کودنے کو تیار ہیں؟ اس وقت امام صاحب نے جو جواب دیا وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے جو آپ کے اللہ پر توکل، عزم راسخ اور پختگی ایمان کی ایک زندہ جاوید مثال ہے۔ آپ نے فرمایا:


    "ہاں۔ میں نے خدا سے استخارہ کیا ہے اور میرے دل میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو میں بھی آگ میں کود جاوں۔ اور اگر ایسا کروں گا، تو یہ کوئی نئی بات نہ ہو گی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے جانشینوں سے اس قسم کے خوراق و عادات کا ظہور کئی مرتبہ ہو چکا ہے اور ہمیشہ ہوتا ہی رہتا ہے جب یہ لوگ اپنے رموز و ارشادات اور خوراق عادات امور سے اللہ اور اس کے رسول کی شریعت کو باطل کرنا چاہتے ہیں۔ تو ہم پر فرض ہے کہ شریعت کی حمایت میں اپنے جان و مال کی قربانی سے دریغ نہ کریں، اللہ ہم کو ضرور ایسی نشانیاں عطا فرمائے گا جن سے ہم ان کے خوراق عادات کا بخوبی مقابلہ کر سکتے ہیں۔"
    جب اس فرقہ رفاعیہ کے پیروں نے امام موصوف کی یہ شرط اور ایسا جواب سنا، تو ان کے حوصلے پست ہو گئے اور صلح کی درخواست کی کہ اس معاملہ کو یہیں پر ختم کر دیا جائے اور معافی مانگ لی اور کہا کہ آئندہ ہم بدعتوں کو چھوڑ کر شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کریں گے۔
    {امام ابن تیمیہ، مرتبہ، پروفیسر محمد یوسف کوکن، مدارس یونیورسٹی ص155، تاریخ دعوت و عزیمت، حصہ دوم، مرتبہ ابو الحسن علی ندوی، ص157}


    جاری ہے۔۔۔۔۔ان شاء اللہ​
     
  5. عاکف سعید

    عاکف سعید محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 16, 2010
    پیغامات:
    181
    روحوں کے حاضر کرنے کا عقیدہ

    ارواح کو حاضر کرنے کا عقیدہ یورپ میں اٹھارویں صدی کے اوائل میں پھیلا۔ بہت سے مادہ پرست اور دینی علماء نے اس عقیدہ کی مخالفت کی مگر مرور ضمانہ کے ساتھ معتقدین اور مویدین بڑھتے گئے۔ انیسویں صدی کے اوائل میں اس عقیدہ کی موافقت میں کئی کتابیں، رسائل اور اخبارات موجود تھے۔ اس عقیدہ کی ہوا مشرق کے اسلامی ممالک کو بھی لگ گئی۔

    عالم اسلام کے بعض علماء اور بہت سے اہل قلم حاضری ارواح کے مذہب کے پیرو ہوگئے۔ ان مغربی اور مشرقی لوگوں کا دعوٰی ہے کہ حاضری ارواح سے متعلق کتابوں میں انہوں نے جو پڑھا اور اس مضمون کی اشاعت و حمایت پر توجہ دینے والے جرائد و رسائل کی جن باتوں کا انہوں نے مطالعہ کیا، ان کا تجزیہ کیا تو نتیجہ وہی نکلا جو انہوں نے کہا تھا۔ اس عقیدہ کے معتقد مسلمان یہ خیال خام رکھتے ہیں کہ عقیدہ مذکور عالم غیب، نبوت اور وحی کے انکار کے نظریہ و مذہب کا خاتمہ کر دیتا ہے۔
    اس عقیدہ کے سرگرم حامیوں میں استاذ محمد فرید وجدی ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب "الاسلام فی عصر العلم" میں 'مذہب استحضار الارواح عامل کبیر نشر الاسلام فی اروبا' {یورپ میں اشاعت اسلام کا زبردست محرک ارواح کو حاضر کئے جانے کا مذہب ہے} کے عنوان کے تحت کہا:

    "یورپ میں استحضار ارواح کی سب سے بڑی خصوصیت ہماری نظر میں یہ ہے کہ اس سے مذہب مذکور کیلیے ایک کشادہ روشن دان کھل گیا ہے جس سے عالم روحانی کو جھانک کر دیکھا جا سکتا ہے، نیز وحی نبوت کی باتیں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ حالانکہ کوتاہ نظ اور طاہری حس کے قیدی اس نظریہ کو پھینکنے پر تلے ہیں۔ اپنے اس طرز عمل سے یہ لوگ ادیان عقائد کے عزوشرف کو گرانا اور کم کرنا چاہتے ہیں، مگر ان کا یہ مقصد کیوں کر پورا ہو سکتا ہے، جبکہ خالق یعنی اللہ تعالٰی اپنے مخلص بندوں کی تائید و مدد کی فیصلہ کر چکا ہے۔

    چنانچہ اس نے فرمایا:

    وَ لَقَدۡ سَبَقَتۡ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۔ اِنَّہُمۡ لَہُمُ الۡمَنۡصُوۡرُوۡنَ ۔وَ اِنَّ جُنۡدَنَا لَہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ۔فَتَوَلَّ عَنۡہُمۡ حَتّٰی حِیۡنٍ ۔وَّ اَبۡصِرۡہُمۡ فَسَوۡفَ یُبۡصِرُوۡنَ
    "ہمارے بھیجے ہوئے رسول بندوں کیلیے ہمارا یہ فیصلہ پہلے سے ہو چکا ہے کہ ان کی مدد کی جائے گی اور ہماری فوج کے لوگ ہی غالب ہوں گے۔ ایک زمانہ تک ان سے اعراض کیے رہئے اور انہیں دیکھتے رہئے وہ بھی عن قریب دیکھیں گے"
    {سورہ الصٰفت، آیۃ 171،175}

    اس کے بعد موصوف استاذ محمد فرید نے طویل بحث کی اور اپنے مدعا پر کئی مغربی حضرات کی باتوں سے استدلال کیا ہے۔ حتٰی کہ اپنی کتاب کی پہلی جلد کا تہائی حصہ اسی بحث میں سیاہ کر دیا ہے، مگر اس کے باوجود زیداہ مناسب یہ ہے کہ حق بات کہی جائے کہ عقیدہ مذکورہ فاسد چیز ہے اور اسلام کے خلاف ہے۔ اگرچہ اس کی تائید کرنے والے کا خیال ہے کہ عقیدہ مذکورہ دین کا موید ہے۔ حاضری روح والا دعوٰی ان باطل دعووں میں سے ہے جنہوں نے اسلام کے خلاف جنگ کر رکھی ہے اور مسلمانوں کے عقیدہ کی پشت پر نشانہ لگا رکھا ہے وہ اسطرح کہ سب سے پہلے اسلام اس بات پر قائم ہے کہ صرف اللہ تعالٰی کے عالم الغیب ہونے پر ایمان رکھا جائے اور یہ مانا جائے کہ انبیائے کرام علیہم السلام صرف مبلغ تھے۔ ارشاد الٰہی ہے:
    عٰلِمُ الۡغَیۡبِ فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا ۔ اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ
    "اللہ تعالی عالم الغیب ہے وہ اپنا غیب کسی پر ظاہر نہیں کرتا، مگر جس رسول کو چاہتا ہے کچھ بتلا دیتا ہے"
    {سورہ الجن، آیۃ 26،27}


    نیز اللہ تعالٰی نے فرمایا:
    قُلۡ لَّاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ
    "آپ صلی اللہ علیہ وسلم۔ کہہ دیجئے کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالٰی کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں"
    {سورہ الانعام، آیۃ:50}


    رسول کو غیب پر اللہ تعالٰی کے اطلاع دینے کا سلسلہ وفات نبوی کے ساتھ ختم ہو گیا اور اب اس کا دروازہ بند ہو گیا، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء و مرسلین کے خاتم ہیں۔
    حاضری روح کا عقیدہ ایمان کے مذکورہ بالا بنیادی اور اساسی رکن کو منہدم کر دینا چاہتا ہے اور بزعم خویش معرفت غیب کا دروازہ کھول دینا چاہتا ہے اور آخرت کی طرف منتقل ہو جانے والی ارواح سے اس دنیا میں زندہ رہنے والے زندہ لوگوں کا ربط و تعلق قائم کرنے کیلیے ایک خیالی واسطہ بنا ہوا ہے۔

    اس طریقہ سے ان خیالی ارواح نے اپنے تلامذہ کیلیے اخروی زندگی کی کامل خیالی تصویر بھیجنا شروع کر دی ہے۔ یہ خیالی زندگی ویسی نہیں ہے جس کا تصور اسلام پر ایمان لانے والے کتاب و سنت کی روشنی میں رکھتے ہیں۔ جس طرح کی اخروی زندگی کا اعتقاد و یقین ہم مسلمان رکھتے ہیں اس سے یہ زندگی کلی طور پر مختلف ہے۔
    عقیدہ مذکورہ کے مطابق وہاں یعنی دنیائے آخرت میں ہماری دنیا کی طرح پہاڑ، دریا اور پھول، حیوانات اور حشرات الارض ہیں جو اپنے گھروں میں چلتے پھرتے ہیں اور ان کی ارواح جسم کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور لوگ اپنے عقائد و مذاہب کے اختلاف کے باوجود وہاں دائمی نعمت میں زندگی گزارتے ہیں۔ جنت و جہنم کا جو اسلامی مفہوم و معنی ہے وہ عقیدہ مذکورہ والی آخرت میں نہیں ہے نہ وہاں فرشتوں کا کوئی نام و نشان ہے جسطرح اس دنیا میں انسان خیر و شر کی انجام دہی میں آزاد ہے اسی طرح وہاں بھی، وہاں ارواح آزاد ہیں جس سے چاہیں ملیں، جس کی چاہیں زیارت کریں، سیاسی، طبی اور ادبی امور حتٰی کہ مجرمین کی سزا اور پوشیدہ جرائم کی تحقیق پر بالکل دنیاوی امور کی طرح گفت و شنید کرتی رہتی ہیں۔"


    {کتاب بحث تحضیر الارواح از عبد الرحمٰن عبد الخالق}

    حاضری ارواح سے متعلق بعض تفاصیل گذریں، جن سے حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:
    ۱۔ ارواح کو علم غیب حاصل ہوتا ہے۔
    ۲۔ آدمی جب چاہے ارواح کو حاضر کر سکتا ہے اور ان سے خطاب کر سکتا ہے، یہ باتیں قرآن و حدیث کے خلاف ہیں۔
    ۳۔ عالم ارواح میں اجتماعی اور عقائد کی تنظیم پائی جاتی ہے۔ نیز سیاست و حکومت کے نظام بھی وہاں قائم ہیں اور وہاں امراء اور دنیاوی طرز کے بادشاہ و سردار بھی ہوتے ہیں۔
    حالانکہ مسلمانوں کے یہاں ثابت شدہ بات یہ ہے کہ علم غیب ان امور میں سے ہے جو اللہ تعالٰی کیلیے خاص ہیں۔

    جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا:

    عٰلِمُ الۡغَیۡبِ فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا ۔ اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ
    "اللہ تعالی عالم الغیب ہے وہ اپنا غیب کسی پر ظاہر نہیں کرتا، مگر جس رسول کو چاہتا ہے کچھ بتلا دیتا ہے"
    {سورہ الجن، آیۃ 26،27}

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت اللہ تعالی نے فرمایا:
    وَ لَوۡ کُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ لَاسۡتَکۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَیۡرِۚۖۛ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوۡٓءُ ۚۛ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ وَّ بَشِیۡرٌ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ
    "اور اگر میں علم غیب جانتا تو بہت سی بھلائی جمع کر لیتا اور مجھے برائی لاحق نہ ہوتی۔ میں تو صرف ایسے لوگوں کیلیے بشیر و نذیر ہوں جو ایمان رکھتے ہوں"
    {سورہ الاعراف، آیۃ: 188}


    یہ اعتقاد کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ کوئی علم غیب رکھتا ہے خواہ ارواح ہوں یا کوئی اور کفر ہے، مگر صرف بعض غیب کی باتوں کو اللہ نے اپنے رسولوں کو بذریعہ وحی بتلا دیا ہے۔ کیونکہ روح ان مخفی امور میں سے ہے، جن کی حقیقت اللہ تعالٰی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:
    وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوۡحِ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّیۡ وَ مَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ اِلَّا قَلِیۡلًا
    "لوگ آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ روح میرے رب کے امر سے ہے تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
    {سورہ بنی اسرائیل، آیۃ 85}

    ابن رسلان نے کہا:

    والروح ما اخبر عنھا المجتبٰی
    فنمسک عنھا المقال ادبا

    "روح کے متعلق مجتبٰی {محمد صلی اللہ علیہ وسلم} نے خبر نہیں دی، اسلیے ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب کرتے ہوئے خاموش رہیں گے"

    اسلام سے پہلے اور بعد کے لوگوں نے حقیقت روح کی تلاش کی اور اس سلسلے میں کتابیں لکھیں، لیکن حقیقت تک نہ پہنچ سکے کہ دل کو اطمنان ہو اگرچہ بعض لوگوں نے اس کی یہ تعریف کی ہے:

    "روح ایک جسم لطیف ہے جو بدن میں اسطرح سرایت کیے رہتی ہے، جیسے آگ کوئلہ میں"

    مگر مسلمان اس میں شک نہیں کر سکتا کہ مردوں کی ارواح کو حاضر کرنے کا عقیدہ حسب ذیل وجوہ سے کتاب و سنت کے خلاف ہے۔
    ۱۔ روح ان امور غیب میں سے ہے جن پر اللہ تعالٰی کے علاوہ کسی کو قدرت نہیں ہے۔
    ۲۔ مردوں کی ارواح دو طرح کی ہیں، ایک نعمتوں میں دوسری عذاب میں اور دنوں میں سے کسی کا حاضر کرنا ممکن نہیں۔

    صحیح بخاری و مسلم کی حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولین بدر کو ایک گڑھے میں پھینک دینے کا حکم دیا۔ پھر وہاں آکر آپ نے انہیں نام بنام پکار کر فرمایا: تم نے ان باتوں کو حق پایا جن کا تم سے تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا؟ میں اسے حق پایا جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ایسے لوگوں کو آپ کیا مخاطب کر رہے ہیں جو مردار ہو چکے ہیں؟ آپ نے فرمایا: "اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ میری بات کو ان مقتولین سے زیادہ تم نہیں سن رہے ہو لیکن یہ جواب نہیں دے سکتے"

    جب ارواح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا جواب نہیں دے سکتیں تو دوسرے لوگ انہیں کیسے حاضر کر سکتے ہیں؟ اور ان سے کیسے بات کر سکتے ہیں؟
    مردوں کی ارواح کو حاضر کرنے کے ناممکن ہونے پر ہم جب دلیل قائم کر چکے تو ملائکہ اور جنات کی ارواح کی حاضری کا مسئلہ رہ جاتا ہے۔ کوئی صاحب عقل اس میں شک نہیں کر سکتا کہ بشر کو دیکھنے کی قدرت نہیں رکھتا چہ جائے کہ اس کی روح حاضر کر سکے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی روح فرشتہ کو حاضر کرنے کا دعوٰی کر سکتا ہے خواہ وہ جنون و حماقت و دعوٰی بازی کے کسی بھی درجہ کو پہنچ چکا ہو۔
    مگر ارواح جن کو حاضر کرنے کو کچھ لوگ ممکن خیال کرتے ہیں اور کچھ لوگ اس کے منکر ہیں۔ اگر ارواح جنات کی حاضری ممکن مان لیا جائے تو غیب دانی کے دعوٰی میں جنات کے اکاذیب کا پردہ قرآن مجید نے فاش کر دیا ہے اور اس دعوٰی کا باطل ہونا واضح کر دیا ہے۔ اللہ تعالی نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت کے سلسلے میں فرمایا:

    مَا دَلَّہُمۡ عَلٰی مَوۡتِہٖۤ اِلَّا دَآبَّۃُ الۡاَرۡضِ تَاۡکُلُ مِنۡسَاَتَہٗ ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الۡجِنُّ اَنۡ لَّوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ الۡغَیۡبَ مَا لَبِثُوۡا فِی الۡعَذَابِ الۡمُہِیۡنِ
    "حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت پر جنات کو زمین کے کیڑوں مکوڑوں نے خبر دی، جنہوں نے انکی لاٹھی کے کور کو کھا لیا تھا۔ جب حضرت سلیماں علیہ السلام گرے تو جنات کو معلوم ہوا {تو کہنے لگے} کہ اگر وہ غیب جانتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے"
    {سورہ سباء، آیۃ 14}


    غیب ان امور سے ہے جنہین اللہ تعالٰی نے اپنے لیے مخصوص کر رکھا ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا:
    قُلۡ لَّا یَعۡلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ الۡغَیۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ
    "آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کے علاوہ کوئی بھی زمین اور آسمان میں غیب نہیں جانتا"
    {سورہ النمل، آیۃ:65}


    نیز اسی طرح اگر سورہ یوسف پڑھے اور تو قصہ یوسف سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام معاملہ یوسف علیہ السلام میں سے کچھ بھی جانتے تو اس قدر عظیم غم نہ اٹھاتے۔جب رسول و پیغمبر علم غیب نہیں جانتے تو جن، فرشتے یا کاہن کیسے علم غیب رکھتے ہوں گے؟ کچھ لوگ شیاطین کو بھی حاضر کیا کرتے ہیں، لیکن یہ فریب و شعبدہ بازی ہے، اس سے انسانوں کو گمراہ کیا جاتا ہے اور ان کے عقائد کو بگاڑا جاتا ہے۔
    یہاں آپ کے سامنے شیخ فرضاوی کا وہ ارشاد پیش کیا جاتا ہے جس کو انہوں نے 'الاھرام کی جمیعتھ الروحیھ' کے سیکرٹری استاذ حسن عبد الوہاب سے نقل کیا ہے۔ سیکرٹری موصوف نے جمیعۃ الروحیہ سے استعفٰی دے دیا اور اس سے اپنے تائب ہونے کا اعلان کیا اور ایک تحریری اعلان شائع کیا جس میں لوگوں پر اس سلسلے میں اپنی رائے ظاہر کی۔ موصوف کے اس بیان کو اخبار الجمہوریۃ نے 23 رمضان سنہ 1379ھ کو شائع کیا ہے۔


    "اللہ تعالٰی نے ماہ رمضان میں میرے دل سے ضلالت کا پردہ ہٹا دیا اور غیر مشکوک طور پر قطعی ثبوت کے ساتھ آخر میں میرے لیے یہ ثابت ہو گیا کہ جو شخصیات ظاہر ہو کر دعوٰی کرتی ہیں کہ ہم ان گھر والوں اور احباب کی ارواح ہیں جو پہلے مر چکے ہیں وہ درحقیقت شیاطین اور جنات کے ہمزاد ہیں، لوگوں کو شکوک میں مبتلا کرتے ہیں۔ میں اب اپنی زندگی کے اس بدبخت عرصہ کو الوداع کہتا ہوں اور اپنے اسلام کی تجدید کرتا ہوں اور دوبارہ ایمان لاتا ہوں"

    نیز عزیز رفقا کو خیر باد کہتا ہوں۔ میرے دل میں ان کیلیے محبت و شفقت اور ہمدردی کے علاوہ کچھ نہیں، میں الحاج کے ساتھ ان کیلیے اللہ تعالٰی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان کی بصیرت کو روشن کر دے اور انہیں عقیدہ فاسدہ کے کیچڑوں سے نکال دے۔"

    {فتاوٰی معاصہ قسط نمبر ۱}

    جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ
     
  6. عاکف سعید

    عاکف سعید محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 16, 2010
    پیغامات:
    181
    الہام، کشف اور فراست کی حقیقت

    الہام کیا ہے؟

    امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں کہ الہام کے معنی ہیں:
    "کسی شخص کے دل میں کوئی بات القا کر دینا لیکن یہ لفظ ایسی بات کے القا کے ساتھ مخصوص ہو چکا ہے جو اللہ تعالٰی کی جانب سے کسی شخص کے دل میں ڈال دی جاتی ہے۔"
    {مفردات القرآن بذیل مادہ 'لھم'}


    الہام کی بنیادی طور پر دو صورتیں ہیں: ایک صورت تو وہ ہے جس میں ہر انسان کے دل میں خیروشر کو پہچاننے کی صلاحیت ودیعت کی گئی ہے اور یہی صلاحیت و استعداد بعض اہل علم کے بقول [فطرت] کہلاتی ہے جبکہ اس کا اللہ تعالٰی کی طرف سے ودیعت کیا جانا [الہام] کہلاتا ہے، قرآن کریم میں اس الہام کی طرف اس طرح اشارہ کیا گیا ہے:

    وَ نَفۡسٍ وَّ مَا سَوّٰىہَا۔ فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقۡوٰىہَا ۪ۙ
    "قسم ہے نفس کی اور اسےدرست کرنے کی، پھر اللہ تعالٰی نے اس نفس کو برائی سے بچنے اور پرہیزگاری اختیار کرنے کی سمجھ عطا فرمائی"
    {سورہ الشمس: 7،8}


    الہام کی دوسری صورت یہ ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالٰی کی طرف سے کسی نیک صالح مسلمان کے دل میں حالت بیداری میں کوئی اچھی بات ڈال دی جاتی ہے، جس کا تعلق مستقبل کی کسی غیبی بات سے ہوتا ہے۔ اگر یہ الہام انبیاء کی طرف کیا جائے تو یہ بمنزلہ وحی شمار ہوتا ہے، مگر غیر انبیاء کا الہام وحی نہیں کہلا سکتا بلکہ یہ وحی کے مقابلہ میں انتہائی کمزور اور خواب کے مشابہ ہوتا ہے یعنی ج طرح حالت نیند میں سچے خواب کے ذریعے کسی غیبی امر سے مطلع کر دیا جاتا ہے، اسی طرح حالت بیداری میں بعض اوقات بذریعہ الہام کوئی بات دل میں ڈال دی جاتی ہے اور پھر وہ اسی طرح پیش آتی ہے جس طرح اس کے بارے میں خیال [یا دوسرے لفظوں میں الہام] پیدا ہوتا ہے۔

    الہام اور وسوسہ

    اللہ تعالٰی نے ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان مقرر کر رکھا ہے۔ شیطان انسان کے دل میں وسوسے اور برے خیالات جب کہ فرشتہ اچھے خیالات پیدا کرتا رہتا ہے۔ جب کسی شخص کے دل میں اچھا خیال آئے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اسے ہی الہام بھی کہا جاتا ہے اور اگر کوئی برا خیال آئے تو پھر وہ شیطان کی طرف سے پیدا کردہ وسوسہ ہوتا ہے۔ انسان کے دل میں وسوسہ یا الہام پیدا کرنے میں فرشتے اور شیطان کی یہ کشمکش مسلسل جاری رہتی ہے۔ ذیل میں اس حوالے سے چند احادیث پیش کی جارہی ہیں:
    ۱۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک جن {شیطان} اور ایک فرشتہ ساتھی {ہمزاد} بنا کر مقرر کر دیا گیا ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ آپ کے ساتھ بھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں میرے ساتھ بھی مگر اللہ تعالٰی نے اس شیطان کے خلاف میری مدد فرمائی ہے اور میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے، اسلیے وہ مجھے خیر ہی کا حکم دیتا ہے"
    {صحیح مسلم، کتاب صفات المنافقین، باب تحریش الشیطان۔۔۔۔۔، ح 2814}


    ۲۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "ابن آدم پر شیطان بھی اثر انداز ہوتا ہے اور فرشتہ بھی۔ شیطان اس طرح اثر اندا ہوتا ہے کہ وہ انسان کے دل میں برائی اور حق کی تکذیب ڈالتا ہے اور فرشتہ اس طرح اثر انداز ہوتا ہے کہ وہ انسان کے دل میں اچھائی اور حق کی تصدیق ڈالتا ہے۔ لہٰذا جس کے ساتھ یہ [فرشتے والا معاملہ] ہو تو وہ اس پر اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرے اور جس کے ساتھ دوسرا [شیطان والا] معاملہ ہو تو وہ اللہ تعالٰی سے شیطان مردود کی پناہ مانگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت آخر تک تلاوت فرمائی: 'شیطان تمہیں فقیری سے دھمکاتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالٰی تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے"
    {جامع ترمذی، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ البقرۃ، ح 2988}

    الہام، فراست اور کشف

    الہام کے بارے میں بات کافی حد تک واضح ہو چکی ہے، اب یہاں اس سے ملتی جلتی دو چیزوں یعنی فراست اور کشف کی حقیقت کے بارے میں بھی تھوڑا سا مطالعہ فرما لیجیے۔
    بنیادی طور پر 'فراست' سے مراد بصیرت و دانائی ہے۔ یہ دانائی مشاہدات و تجربات سے بھی حاصل ہو سکتی ہے اور تعلیم و تدریس سے بھی۔ علاوہ ازیں بعج لوگوں کو اللہ تعالٰی کی طرف سے یہ دانائی وہبی طور پر بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس لحاظ سے اس فراست کو کرامت بھی کہا جاتا ہے اور یہ چیز بعض اوقات حالت بیداری میں اور بعج اوقات خواب کے ذریعے ودیعت ہوتی ہے۔


    فراست بذریعہ کرامت


    اس قسم میں لوگ افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ بعض حضرات تو اس صورت کا مطلق انکار کرتے ہیں کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالٰی کسی شخص کے دل میں کوئی دانائی کی بات القا کریں۔ اسے محال سمجھنے کی وجہ یہ ذکر کی جاتی ہے کہ یہ تو وحی کی صورت ہے اور وحی انبیاء و رسل کیلیے خاص ہے۔ جب کہ بعض لوگ اسے اس طرح پیش کرتے ہیں کہ صاحب فراست کو غیب دان اور بہت پہنچی ہوئی شخصیت ثابت کر سکیں۔

    فراست بذریعہ مشاہدہ

    فراست کی یہ قسم مسلم اور غیر مسلم کا فرق کیے بغیر کسی بھی ذہین و فطین کو حاصل ہو سکتی ہے کیونکہ یہ وہبی نہیں بلکہ کسبی ہے اور اس میں ظاہری احوال دیکھ کر کوئی بھی دانا شخص اپنے تجربہ کی بناء پر کوئی درست بات بیان کر سکتا ہے۔ اسلیے اہل علم نے اس کی تعریف اس طرح کی ہے کہ

    "یہ ایسا علم ہے جس کے ذریعے انسان کے ظاہری احوال مثلا رنگ، صورت، اعضاء و جوارح اور چال ڈھال سے اس کا اخلاق و کردار وغیرہ معلوم کر لیا جاتا ہے یعنی ظاہری کیفیت سے اندازہ لگا کر باطنی کیفیت معلوم کر لی جاتی ہے"
    {مفتاح دار السعادۃ، ج ۱، ص۳۰۹، لسان العرب، ج۶، ص۱۶۰}


    گویا یہ غیب دانی نہیں، بلکہ ظاہری حالات اور قرائن وغیرہ سے اندازہ لگا کر کسی مخفی بات سے پردہ اٹھانے کی ایک کوشش ہے۔ اور یہ کوشش کامیاب بھی ہو سکتی ہے اور ناکام بھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا درج ذیل بیان بھی اسی نوعیت کا ہے، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
    "جب کوئی شخص مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اس کے سوال سے اندازہ لگا لیتا ہوں کہ یہ فقیہ ہے یا غیر فقیہ۔"
    {قرطبی، ج۱۰، ص۴۱}

    نیز اسی طرح ایک ڈاکٹر جب مریض کی بیماری کا مشاہدہ کرتا ہے تو مریض کی شکل و صورت و ہیئت سے اس کی بیماری کا اندازہ لگا لیتا ہے لہٰذا یہ کوئی علوم غیب میں سے نہیں بلکہ مشاہدات سے محض اندازے لگائے جاتے ہیں جو کبھی صحیح اور کبھی غلط بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

    فراست بمعنی کشف

    بعض لوگ بالخصوص صوفیاء میں سے بعض حضرات نے فراست کا دائرہ اس قدر بڑھا لیا کہ بعض جگہ تو وہ نعوذ باللہ شریعت کی ظاہری حدود سے بھی متعارض ہوتے دکھائی دیتے ہیں مثلا یہاں تک کہا جاتا ہے کہ چلہ کشی، خلوت نشینی اور عبادت و ریاضت کے ذریعے فراست بڑھائی جا سکتی ہے اور باطنی طور پر اللہ تعالٰی کا دیدار کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات کئی صوفیاء کے ہاں ملتی ہے، بالخصوص ابن عربی صوفی صاحب کی تحریروں میں ایسی کئی چیزیں ملتی ہیں۔ ان کے بقول انسان کی روح مجاہدوں اور ریاضتوں کے ذریعے فرشتوں کے ساتھ جا ملتی ہے اور جب یہ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے تو اس کیلیے اللہ تعالٰی حقیقی علوم کےدروازے کھول دیتا ہے۔
    {دائرۃ المعارف، بذیل مادہ'الھام'}

    اور بعض صوفیاء تو یہاں تک کہہ گئے ہیں کہ:
    "جس شخص کے اندر یہ 'نور فراست' جس قدر زیادہ ہو گا اس کا یہ مشاہدہ حق اتنا ہی قوی ہو گا"
    {الرسالۃ القشیریۃ، ص639}

    ان صوفیاء کے بقول مجاہدوں، ریاضتوں، مخصوص قسم کے وردوں اور چلہ کشیوں سے یہ صلاحیت حاصل ہو سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ آتا ہے کہ اگر ایسا فی الواقع ممکن ہے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت و رسالت کے بعد ایسا کوئی عمل کیوں نہ کیا؟ اسی طرح آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس طرح کی ریاضتیں، مجاہدے اور چلے کیوں نہیں کاٹے؟

    اگر یہ کہا جائے کہ انہیں ضرورت ہی نہ تھی تو پھر انہوں نے اپنے بعد آنے والوں کی اس کی تلقین کیوں نہ کی؟ بلکہ بڑا ضروری تھا کہ کود قرآن کریم میں ایسا کوئی حکم دے دیا جاتا کہ کشف کیلیے یہ یہ عملیات کیے جایئں اور رہتی دنیا تک اسے مستند حیثیت حاصل ہو جاتی، مگر پورا قرآن پڑھ جائیے آپ کو اس سلسلہ میں کوئی ایک بھی آیت نہیں ملے گی۔ اسی طرح ذخیرہ احادیث میں سے ایک بھی صحیح حدیث اس کی حمایت میں نہ ملے گی۔


    کیا کشف کے ذریعے اللہ کا دیدار ممکن ہے؟


    بعض لوگ کشف کے سلسلہ میں عجیب و غریب دعوے کرتے ہیں حتٰی کہ یہاں تک دعوی کر جاتے ہیں کہ ہم کشف کے ذریعے نہ صرف یہ کہ خود اللہ کا دیدار کر لیتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی دیدار خداوندی کروانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ صاف جھوٹ ہے کیونکہ دنیا میں اللہ کا دیدار جب حضرت موسٰی علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر کیلیے ممکن نہ ہو سکا تو کسی اور کیلیے یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ قرآن مجید میں حضرت موسٰی علیہ السلام کا واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے:


    وَ لَمَّا جَآءَ مُوۡسٰی لِمِیۡقَاتِنَا وَ کَلَّمَہٗ رَبُّہٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَیۡکَ ؕ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِیۡ وَ لٰکِنِ انۡظُرۡ اِلَی الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوۡفَ تَرٰىنِیۡ ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلۡجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبۡحٰنَکَ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ

    "اور جب موسٰی ہمارے وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان کسے باتیں کیں تو اس نے عرض کیا اے میرے رب۔ مجھ کو اپنا دیدار کرا دیجیے کہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں۔ ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو ہر گز نہیں دیکھ سکتے لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو، وہ اگر اپنی جگہ بر قرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ پس جب ان کے رب نے اس [پہاڑ] پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس پہاڑ کے پرخچے اڑا دیے اور موسٰی بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا، بے شک آپ کی ذات منزہ ہے، میں آپ کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں"
    {سورہ الاعراف: 143}


    اس واقع سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کسی نبی و رسول کیلیے دنیاوی زندگی میں دیدار الٰہی ممکن نہیں ہے تو کسی غیر نبی کیلیے یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید میں صرحت کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ:
    لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَ ہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ ۚ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ
    "اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہو سکتی اور وہ سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہےاور وہ بڑا باریک بین باخبر ہے"
    {سورہ الانعام: 103}

    اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی واضح انداز میں فرما دیا کہ:
    "یاد رکھو کہ تم میں سے کوئی شخص بھی مرنے سے پہلے [یعنی دنیوی زندگی میں] اللہ تعالٰی کو ہر گز نہیں دیکھ پائے گا"
    {صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب ذکر ابن صیاد، ح7356}


    الہام و فراست اور کشف میں فرق

    الہام اور فراست کے بارے میں حق بات یہ ہے کہ فراست کی وہ صورت جو بطور کرامت حاصل ہوتی ہے اس کے عطیہ خداوندی ہونے میں کوئی شک نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کا دائرہ صرف اسی قدر ہے کہ بعض اوقات کوئی بات بذیعہ الہام انسان کے دل میں اللہ تعالٰی کی طرف سے ودیعت کر دی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ الہام اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک خاص انعام ہے اور اس کے لیے مراقبے، مجاہدے، چلہ کشی، خلوت نشینی، ریاضت وغیرہ کی ضرورت نہیں بلکہ اسلام میں ترک دنیا، رہبانیت اور لمبی چوڑی ریاضتوں کی کوئی گنجائش نہیں اور نہ ہی صحابہ کرام ایسی مخصوص ریاضتیں اور مراقبے کیا کرتے تھے۔
    صوفیاء کے ہاں الہام و فراست کے مقابلے میں کشف کی اصطلاح زیادہ معروف ہے اور اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ چلہ کشی اور بدنی ریاضتوں کے ذریعے ایک مقام ایسا آتا ہے کہ اللہ تعالٰی انسان کے دل پر حقائق منکشف کرنے لگتے ہیں، اسے ہی کشف سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کے کئی درجات بیان کیے جاتے ہیں۔
    حالانکہ الہام اور صوفیاء کے اس کشف میں بڑا فرق ہے اور پھر یہ الہام من گھڑت ریاضتوں کا حاصل نہیں بلکہ یہ خدائی انعام ہے جو صرف انتہائی متقی، ایماندار اور فرائض کی مکمل بجا آوری کرنے والے ہی کو حاصل ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے:

    وَ مَنۡ لَّمۡ یَجۡعَلِ اللّٰہُ لَہٗ نُوۡرًا فَمَا لَہٗ مِنۡ نُّوۡرٍ
    "جس کو اللہ تعالٰی نور [ہدایت] سے نہ نوازیں، اس کیلیے کوئی نور نہیں ہے"
    {سورہ النور:40}

    اتقوا فراسھ المومن۔۔۔۔۔ ایک غیر مستند روایت

    فراست کے حوالے سے صوفیاء ایک روایت کو بہت بیان کرتے ہیں:
    "مومن کی فراست سے بچو، کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے"
    {ترمذی، ح 3127}

    یہ روایت ضعیف ہے۔ امام ابن جوزی اور ابن عدی وغیرہ نے است مردود قرار دیا ہے۔
    {دہکھیے: الضعفاء للعقیلی، ج۴، ص۱۲۹، الموضوعات، لابن جوزی، ج۳، ص۱۴۵، الکامل فی الضعفاء، ج۱، ص۲۱۰، ضعیف الجامع، ح۱۲۷، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ، ج۴، ص۲۹۹،۳۰۲}

    جاری ہے۔۔۔۔۔ان شاء اللہ
     
  7. عاکف سعید

    عاکف سعید محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 16, 2010
    پیغامات:
    181
    دنیوی تعلقات سے بیزاری

    ان لوگوں کا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ روحانیت کے اس راستے میں حائل سنگ گراں ہمارا مادی جسم ہے۔ لہِذا اس جسم کو مضحمل اور کمزور بنانے کیلیے طرح طرح کے عذاب دئیے جانے لگے۔ کم سے کم کھانا پینا ، بڑے گوشت اور گرم تاثیر والی اشیاء کا بائیکاٹ ، جس سے صرف روح اور جسم کا تعلق باقی رہے۔ اور کم سے کم سونا، دنیوی لذات، جن سے فائدہ اٹھانے کا خدا نے انہیں حق دیا تھا، اس سے کنارہ کشی کرنا، شدید سردی میں ننگے بدن گھر سے باہر رات گزارنا، کہیں شدید گرمی میں کسی ایک ہی جگہ کھڑے رہنا، چپ کا روزہ لگانا، کیچڑ میں پڑے رہنا اور اس طرح کی کئی دوسری صورتیں مادی جسم کو کمزور کرنے اور اذیت دینے کیلیے انہوں نے ایجاد کی ہوئی ہیں۔ حتٰی کہ تاریخ میں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں کہ یہ راہب اپنے جسم پر خود زخم کر لیتے۔ پھر اس میں کیڑے پڑ جاتے اور اگر کوئی کیڑا گر جاتا، تو اٹھا کر اسے پھر اپنے جسم پر چمٹا دیتے اور کہتے کہ یہ جسم تمہاری خوراک ہے۔ تم اس سے کیوں محروم ہوتے ہو۔ گویا اپنی جان سے دشمنی ان کا پہلا اصول تھا۔ لہٰذا جسم کی تعذیب اور اس کے تقاضوں کی تکذیب کے ذریعہ وہ اپنے جسم کو تحلیل کرنے میں مصروف ہو گئے۔

    ان میں سے اکثر چہار ترک کی تعلیم دیتے ہیں۔ ترک دنیا، ترک عقبٰے، ترک اکل و نوم اور ترک خواہش نفس۔ ان لوگوں کا ایک اقدام دنیا والوں سے قطع تعلق ہے۔ یہ لوگ اپنے لیے کوئی گوشہ تنہائی منتخب کر لیتے یا پھر کسی جنگل کی راہ لیتے ہیں۔ ان کے خیال کے مطابق ان کے رشتہ دار اور دوسرے معاشرتی تعلقات رکھنے والے دوست احباب بھی اس راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ لہٰذا دنیا و مافیہا سے الگ ہو کر دور دراز جنگلوں، پہاڑوں اور صحراوں میں گھیان دھیان اور چلہ کشی میں مصروف رہتے ہیں۔ دنیوی حلائق میں ان لوگوں کو سب سے زیادہ دشمنی عورت سے ہیں۔ تاریخ میں ایسے دلدوز واقعات بھی ملتے ہیں کہ کوئی مامتا کی ماری ماں اپنے ایسے ہی بیٹوں کو جنگل میں دیکھنے نکل گئی، لیکن بیٹوں نے اس کی ملاقات سے انکار کر دیا۔ وہ انہیں صرف ایک نظر دیکھنے اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کیلیے ترستی اور التجائیں کرتی رہی، لیکن ان سنگدل راہبوں نے اس کی التجا کو ذرہ بھر وقعت نہ دی اور اسے ناکام واپس آنا پڑا۔

    تاریخ تو پھر تاریخ ہے جس میں کذب کا احتمال موجود ہوتا ہے۔ ہمیں بخاری و مسلم دونوں میں ایک مرفوع حدیث ملتی ہیں جو اس موضوع سے پوری مطابقت رکھتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ابن جریج ایک راہب تھا جس نے اسی طرح جنگل میں کٹیا بنا رکھی تھی مامتا کی ماری ماں اس سے ملنے آئی۔ اور اسے پکارا لیکن راہب مذکور گیان دھیان میں مصروف رہا۔ دل میں یہ ضرور سوچا کہ الٰہی ادھر تیری عبادت میں مصروف ہوں۔ دوسری طرف ماں پکار رہی ہے کیا کروں؟ بالآخر اس کے دل نے یہی فیصلہ کیا کہ گیان دھیان میں مصروف رہے اور ماں کی اس آرزو کی پرواہ نہ کرے ۔ چنانچہ اس نے اپنی ماں سے کوئی بات نہ کی اور اپنی عبادت میں لگا رہا۔ دوسرے دن پھر اس کی ماں آئی۔ پھر اس نے حسب سابق اپنی ماں کی پکار کو درخور اعتنا نہ سمجھا۔ تیسری بار پھر ایسا ہی واقعہ ہوا تو اب اس کی ماں کو اتنا قلق ہوا کہ اس کے منہ سے اپنے اس درویش بیٹے کے حق میں بے اختیار یہ بد دعا نکل گئی کہ یا الٰہی۔ جب تک میرا یہ بیٹا کسی فاحشہ عورت کا منہ نہ دیکھ لے اسے موت نہ آئے۔ بھلا مامتا کی ماری دکھاری ماں کے منہ سے نکلی ہوئی آہ رائگاں کیسے جا سکتی تھی؟ ابن جریج اپنی عبادت اور خدا ترسی میں اتنا مشہور تھا کہ بنی اسرائیل کے اکثر لوگ اس سے حسد کرنے لگے تھے اور دل سے چاہتے تھے کہ ابن جریج پر ایسا الزام لگے جس سے اس کا یہ بلند مقام چھن جائے اور اسی غرض سے خفیہ مشورے بھی ہونے لگے تو ایک بدنام زمانہ فاحشہ عورت نے، جو حسن جمال میں اپنی نظیر نہ رکھتی تھی اس خدمت کو سرانجام دینے دینے کا ذمہ لیا اور اسی غرض سے اپنے آپ کو ابن جریج پر پیش کر دیا۔ جسے ابن جریج نے رد کر دیا۔ اب یہ فاحشہ عورت اور بھی سیخ پا ہو گئی اور اس بے آبروئی کا انتقام لینے پر اتر آئی۔ اب اس نے اپنے آپ کو ایک چرواہے پر پیش کیا جس سے اس کو حمل ہو گیا اور جب بچہ پیدا ہوا، تو لوگوں پر اس نے یہ مشہور کر دیا کہ یہ عمل ابن جریج راہب سے ہوا تھا۔لوگوں نے ابن جریج کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا اور کی کٹیا کو منہدم کر دیا۔ ابن جریج نے اس مار دھاڑ کی وجہ پوچھی تو لوگوں نے سارا ماجرا بتلا دیا۔ ابن جریج نے کہا کہ تھوڑی دیر ٹھرو۔ لوگ رک گئے تو اس نے وضو کیا اور عبادت میں مشغول ہوا اور اللہ تعالٰی سے بصد گریہ و زاری اپنی بریت کی دعا کی، جو اللہ تعالٰی نے قبول فرمائی۔ وہ عبادت سے فارغ ہو کر لوگوں کے پاس آیا۔ وہ فاحشہ عورت بمعہ بچہ موجود تھی۔ ابن جریج نے اس بچہ کے پیٹ میں کچو کا دے کر کہا بتا تیرا باپ کون ہے؟ بچہ بول اٹھا کہ فلاں چرواہا ہے۔ تب جاکر لوگوں نے ابن جریج کا پیچھا چھوڑا۔ ان میں سے بعض اس سے معافی مانگنے لگے اور کہنے لگے کہ اگر تم کہو تو تمہیں سونے کی کٹیا بنا دیں، لیکن ابن جریج نے کہا کہ “ بس مجھے ویسی ہی مٹی کی کٹیا بنا دو۔”
    {صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تقدیم برّالوالدین۔۔۔۔}

    اس طویل روایت میں ایسے تین بچوں کا ذکر ہے جنہوں نے ماں کی گود میں کلام کیا۔ جن میں سے ایک یہی ابن جریج راہب تھا۔ امام مسلم نے اس حدیث کو “والدین سے حسن سلوک” کے باب میں ذکر کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ شرعی احکام کے مقابلہ میں ایسی رہبانیت گناہ ہے۔ حدیث میں اس مذکورہ واقعہ سے اس دور کے طریق رہبانیت پر پوری روشنی پڑتی ہے۔

    بیوی کا معاملہ اس سے بھی زیادہ نازک تھا، کیونکہ نکاح سے اور بیوی کی موجودگی سے انسان پر بہت معاشی اور معاشرتی ذمہ داریاں آپڑتی ہیں۔ لہٰذایہ لوگ متا ہل زندگی سے سخت نفرت کرتے تھے، گو ان کو رہبانیت کا اللہ تعالٰی نے حکم دیا تھا؟ تاہم انہیں رہبانیت کی زندگی کی فضلیت کیلیے کوئی دلائل تو نہ ملے ہاں کچھ نشانیاں جسے انہوں نے اپنے لیے دلائل بنا لیا ضرور مل گئے۔ مثلا حضرت عیسٰی علیہ السلام نے خود شادی نہ کی۔ ان کی زندگی کے چند سالوں کے واقعات پر جو روشنی پڑتی ہے وہ یہی ہے کہ انہوں نے تبلیغ سلسلہ میں گھوم پھر کو مجروانہ زندگی گزار دی تھی۔ پھر عیسائیوں میں نکاح ثانی کی بھی گنجائش نہ تھی اور یہودیوں نے رہبانیت کا تصور حضرت موسٰی علیہ السلام کے ان چالیس دنوں سے لیا جو انہوں نے تورات ملنے سے قبل کوہ طور کے دامن میں گوشہ نشینی کی حالت میں گزارے تھے۔

    یہ تو یہود و نصاریٰ کی بات تھی۔ اب ہندوستان کی طرف آئیے۔ ہندومت کے راہنماوں نے انسان کی زندگی کو سو سال قرار دیا اور اس کے چار حصّے کیے گئے جن میں آخری چوتھا حصّہ یا 25 سال رہبانیت [گیان دھیان] کیلیے مختص کیے گئے تھے اور بدھ مت تو خالصتاً اسی رہبانہ زندگی کی تعلیم دیتا ہے۔ اس مذہب کے بانی مہاتما بدھ۔۔۔۔۔۔۔جو ایک شہزادہ تھا۔۔۔۔۔نے دنیا کی بے ثباتی اور اس کے ہنگاموں سے راہ فرار اختیار کر کے راہبانہ زندگی بسر کی، تاآنکہ اس کو وہ روشنی ملی، جس کی تلاش میں وہ نکلا تھا۔ بعد ازاں اس نے ہندووں سے علیحدہ بدھ مت کی بنیاد ڈالی۔ اس مذہب کی تعلیم ہی یہ ہے کہ انسان کی مکتی یا نجات کی واحد صورت یہ ہے کہ وہ راہبانہ زندگی گزارے۔ ایسے راہبوں کو وہ اپنی زبان میں بِھگشوکہتے تھے۔
     
  8. عاکف سعید

    عاکف سعید محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 16, 2010
    پیغامات:
    181
    اللہ سبحانہ وتعالٰی نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا، ہمیں دنیا میں اپنی عبادت کیلیے بھیجا ساتھ ساتھ دنیوی زندگی اور اس کی لذت کے ترک سے کہی بھی منع نہیں فرمایا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی شادیاں کی، روزے رکھے بھی اور چھوڑے بھی، اور دنیا کے معاملات کو بھی استعمال کیا نہ کہ دنیا کو ترک کیا اور ہمیں ہر گز ایسا حکم نہیں دیا۔ رہبانیت کا یہ طریق کار مسلمانوں کا نہیں، شریعت اسلامی میں اس کی حمایت نہیں بلکہ مخالفت ہیں۔ روحانیت کے یہ سلسلے جو رہبانیت کا دروازہ کھولتے ہیں یہ طریقے روحانیت کا ذریعہ ہر گز نہیں ہیں بلکہ یہ صاف دھوکا ہے جس میں آج کل عام مسلمان پھسے ہوئے ہیں۔ ان چلہ کشیوں، ریاضتوں اور مجاہدوں وغیرہ میں اصل روحانیت نہیں ہیں بلکہ اللہ رب العزت کی اطاعت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری اور ان کے طریق کار پر عمل ہی ہماری کامیابی اور اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالٰی مجھے اور آپ سب کو رہبانیت کی گمراہی سے بچائے اور ہمیں متبع سنت بنائے ہمارا ہر عمل اللہ اور اس کے رسول جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے مطابق بنا دے۔ آمین

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. abrarhussain_73

    abrarhussain_73 --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اپریل 6, 2009
    پیغامات:
    371
    سبحان اللہ، جزاک اللہ خیراً
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں