ہندوستان میں صحیح بخاری کی بہت ساری احادیث کے بر خلاف کیوں عمل کرتے ہیں۔

سلمان ملک نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏جنوری 31, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    926

    Question: 6768 گزشتہ چند سالوں سے میں سعودی عربیہ میں مقیم ہوں۔ میرے دادا اورنانا دونوں دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہیں۔ میرا سوال یہ ہے: (۱) کیا صحیح بخاری قرآن شریف کے بعد سب سے معتبر کتاب ہے؟اگر ایسا ہے، تو پھر ہم ہندوستان میں صحیح بخاری کی بہت ساری احادیث کے بر خلاف کیوں عمل کرتے ہیں۔ بطور مثال، ہم انڈیا میں نماز میں رفع یدین نہیں کرتے ہیں، ہماری وتر کی نماز بخاری شریف میں مذکور طریقہ کے مطابق نہیں ہے، ہم ایک خاص مذہب کی اقتداء کرتے ہیں، اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی بھی صحابہ کسی خاص مسلک سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم انڈیا میں کچھ علماء کی رائے کی اقتداء کرتے ہیں بغیر ان کی آراء کے ذریعہ کی تحقیق کیے ہوئے۔کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ جس طریقہ سے ہم انڈیا میں نماز ادا کرتے ہیں وہ صحیح بخاری اور مسلم کی مستند احادیث سے کیوں نہیں ملتا ہے؟ ہم مسلم اوربخاری شریف کے بجائے ہدایہ کی اقتداء کیوں کرتے ہیں؟ اب میں بہت الجھن میں ہوں، کیوں کہ سعودی عربیہ میں ،مجھے اپنے سوالوں کے جوابات قرآن اور صحیح حدیث سے ملتیہیں، جس کو ان دنوں کوئی تصدیق کرسکتا ہے۔تاہم میں نے دارالافتاء کے جواب قرآن اور حدیث کے بجائے، بہشتی زیور یا دوسری کتابوں کے حوالہ سے دیکھے۔ کیا بہشتی زیور بخاری شریف اور مسلم شریف سے زیادہ مستند اورمعتبر ہے؟ برائے کرم میری الجھن کودورکرنے میں مدد کریں۔ میں نے یہ سوچنا شروع کردیا ہے کہ جس اسلام پر ہم انڈیا میں عمل کرتے ہیں وہ وہ نہیں ہے جس کو اللہ تبارک و تعالی نے اس زمین پر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بھیجاہے۔


    فتوی: 1223=1057/ ب



    یہ بات بالکل درست ہے کہ قرآن کریم کے بعد سب سے مستند اور صحیح کتاب ?بخاری شریف? ہے،اس کتاب کی روایتیں بہت مضبوط ہیں، اورائمہ کرام بہ کثرت اس سے استدلال کرتے ہیں، البتہ اگر احناف کوئی روایت اس سے بھی مضبوط پاتے ہیں تو پھر بخاری شریف کو چھوڑدیتے ہیں، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ بخاری شریف سب سے صحیح ہے تو کیوں چھوڑا گیا، کیوں کہ حدیث کے اندر ضعف راویوں کی وجہ سے آتا ہے، اورامام ابوحنیفہ رحمہ اللہ یہ امام بخاری سے بہت پہلے کے ہیں، اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور صحابہٴ کرام کے درمیان صرف ایک واسطہ اور کہیں کہیں براہِ راست روایت ہے، اس لیے بہت ممکن ہے کہ ایک حدیث امام صاحب کے یہاں مضبوط ہو اور امام بخاری رحمہ اللہ کے یہاں راوی بڑھ جانے کی وجہ سے ضعف آگیا ہو، اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے نہ لی ہو۔ اور نماز میں رفع یدین کے بارے میں جو اختلاف ہے وہ محض اولیٰ اور غیر اولیٰ کا ہے، جواز اور عدمِ جواز کا اختلاف نہیں ہے، رہا وتر کا مسئلہ تو وتر جس طرح ہم لوگ پڑھتے ہیں وہ طریقہ بخاری شریف میں مذکور ہے، اس وقت کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو محض افترا پردازی کرتے ہیں، اور سب باتوں کو سامنے نہیں لاتے۔ رہی یہ بات کہ ہم لوگ ایک خاص مسلک کی اقتداء کرتے ہیں، تو اس میں کیا حرج ہے؟ صحابہٴ کرام کے دور میں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے اور انھوں نے اپنے کانوں سے سب کچھ سنا اور اور اگر کوئی بات نہیں سنی تو دوسرے صحابہ سے پوچھ کر ان کی اقتدا کی،کیا یہی صحابہٴ کرام جب دوسرے ملکوں میں گئے تو ان کی اقتدا نہیں کی گئی؟ پھر اقتدا کرنے کا حکم قرآن میں موجود ہے: فَاسْئَلُوْا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ہاں آپ کو یہ اختیار ہے کہ چاروں ائمہ میں سے آپ کسی خاص امام کی اقتدا کرسکتے ہیں، البتہ ایک مسلک اختیار کرلینے کے بعد کسی خاص مسئلے میں آسانی کے لیے دوسرے مسلک پر عمل کرنا جائز نہیں، یہ تو محض کھلواڑ بن جائے گا، او راگر کوئی ایسا شخص ہے جو تمام مسائل، اصولِ تخریج، اصولِ ترجیح اور تمام علومِ عربیہ پر مہارت رکھتا ہے تو اسے بھی اجازت ہے کہ وہ براہِ راست قرآن و حدیث سے مسائل نکالے، لیکن اس امت کی محرومی ہے کہ ان چاروں ائمہ کے علاوہ آج تک کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوا، البتہ کچھ لوگ اپنے ہی منھ سے امام بن بیٹھے ہیں، ان کا اعتبار ہی کیا؟ ہم یہ بات بڑے وثوق سے کہتے ہیں کہ ائمہ کرام نے جو کتابوں میں لکھا ہے وہ ان کی رائے نہیں ہے بلکہ قرآن وحدیث میں بیان کردہ مسائل و اصول کی روشنی میں انھوں نے مسائل حل کیے ہیں، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ: ?اگر میرے قول کے خلاف کوئی ضعیف حدیث بھی مل جائے تو میرا قول چھوڑدینا? اگر آپ کے یہاں کچھ ایسے مسائل ہیں تو لکھ بھیجیں، ان شاء اللہ قرآن کی آیات اور احادیث سے مدلل جواب ارسال کیا جائے گا، جہاں تک ?ہدایة? کا سوال ہے تو اس میں کسی کی ذاتی رائے نہیں ہے بلکہ وہ فقہِ حنفی کے مسائل پر مشتمل ہے اور وہ فقہ بھی جو حدیث سے ماخوذ ہے۔ اسی طرح ?بہشتی زیور? ایک نہایت ہی معتبر اور باعمل عالم کی کتاب ہے، اس میں خود ان کی رائے نہیں ہے۔

    Fatwa ID:6768 - Darul Ifta


    یہ سوال اور جواب غور سے پڑھیں ، اور تبصرہ کریں
    اور نیچے دیے گئے فتوی کو بھی پڑھ لیں ،


    Fatwa ID:27069 - Darul Ifta
    فتوی(ھ): 2656=1040-11/1431


    Question: 27069
    سوال یہ ہے کہ عقائد میں امام ابوحنیفہ کی تقلید نہ کرنے کی وجہ کیا ہے؟

    ہرفن میں اس فن کے مسلم اکابرِ فن کی تقلید کی جاتی ہے، جس طرح فن حدیث شریف میں امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی تقلید نہیں کی جاتی بلکہ ائمہ فن حدیث شریف کی تقلید کی جاتی ہے اسی طرح علم کلام میں بھی اُسی فن کے ائمہٴ کرام کی تقلید ناگزیر ہے: کما لا یخفی علی من لہ عقل سلیم امید ہے کہ اب کچھ اشکال جناب کو نہ رہے گا۔


    دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

    اس فتوی میں بتایا گیا ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کو عقیدہ اور حدیث میں اس لیے چھوڑا گیا کیونکہ وہ ماہر نہیں تھے اس فن میں تو پھر مسا ئل کیسے اخذ کیے ، امام کے قول آنے پر صحیح حدیث چھوڑنے کی تعلیم کیوں دی جا رہی ہے اس بات کی سمجھ نہیں آتی ،
     
  2. فرقان خان

    فرقان خان -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 4, 2010
    پیغامات:
    208
    جمود اور غلو نے بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے اس امت کا.

    وہ مقلدین کا جمود ہو یا غیر مقلدین کا غلو!!!
     
  3. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    مقلدین کے جمود میں کوئی شک نہیں لیکن،
    ذرا غیر مقلدین کا غلو مثالوں کے ساتھ واضح کریں گے؟
     
  4. فرقان خان

    فرقان خان -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 4, 2010
    پیغامات:
    208
    مثلا::

    1:: اپنے علاوہ سب مکاتب فکر((نفی شافعی مالکی حنبلی(( کو اہل السنہ والجماعۃ سے باہر قرار دینا.

    2:: فروعی مسائل پر الگ فرقہ قائم کرنا

    3:: رفع الیدین آمین اور چند مسائل کو""مسلک اہلحدیث"" کا نام دے دینا!!

    4::تقلید کرنا بھی اور اس کی مذمت بھی کرنا
    وغیرہ وغیرہ
     
  5. Abu Umar

    Abu Umar -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 21, 2010
    پیغامات:
    61
    کہیں یہ بھی غلو تو نہیں؟
     
  6. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,413
    یہ تو بالکل ہی غلو والی بات ہوئی بھائی، جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے ورنہ اہل حدیث کبھی دیوبندی کے پیچھے نماز نہ پڑھتے اور تو اور سعودی میں جہاں حنبلی اکثریت ہے وہاں بھی معاملات کافی الجھے ہوئے ہوتے۔
    آپ کا یہ بیان شاید قیاس پر مبنی ہے اور اگر نہیں تو سراسر غلط ہے۔

    پہلی بات اہل حدیث کوئی فرقہ نہیں ، یہ دعوت بس قرآن اور حدیث کی طرف ہے اور جیسا کہ صحابہ کرام نے سمجھا اور خیرالقرون نے، آپ مانیں بس یہی مطلوب ہے اطاعت رسول کا تقاضہ یہی ہے کہ آج کے اس ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں کتب احادیث تک رسائی آسان سے آسان تر ہوتی جا رہی ہے، تو اب کسی کو شخص کے لیے معاملات کواصل سے حل کرنے میں کوئی تکلیف نہیں ہونا چاہیے ۔
    اب وہ چاہے فروعی ہوں یا غیر فروعی، اصل کے ہوتے ہوئے اور کسی کی کیا ضرورت؟ ہاں ہم یہ نہیں کہتے کہ اماموں کی قدر نہ کرو بلکہ اب اور ہمیشہ ہمیں ان کی ضرورت پڑتی رہے گی، اللہ ان کی قبروں کو نور سے بھردے۔ آمین

    اصل چیز توحید ہے اگر یہ نہیں صحیح تو "آمین اور رفع الیدین" تو کیا پوری نماز بے سود رہے گی۔
    اور یہی ہم کہتے آ رہے ہیں اور اگر اس پر کسی مسلک کی بنیاد رکھنا گناہ ہے تو یہ کام شروع کے دور میں بھی ہوچکا ہے جس پر لوگوں نے طرح طرح کی ایذا بھی پہنچائی اور "احد" کا نعرہ بھی گونجا۔
    میرے بھائی اس تعلق سے آپ کو مجلس کے دیگر اخوان جواب دے دیں گے میں صرف آپ کو تھریڈ کا حوالہ دے سکتا ہوں جو کہ کافی لمبا ہے۔ اگر آپ سچ مچ ایسا سمجھتے ہیں تو مجھے یہ بتا دو کہ ہم جو اپنے مسائل ڈائرکٹ قرآن اور کتب احادیث سے لیتے ہیں ، اگر یہ تقلید ہے، تو یقین کرو ایسی ہی "تقلید" اُس آیت کا مقصود بھی ہے جس میں کہا گیا ہے "جس نے رسولﷺ کی اطاعت کی تو گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی"
    امام رح اپنی جگہ رسول ﷺ اپنی جگہ، ہمیں چاہیے کہ ہم افراط و تفریط کا شکار نہ ہوں۔
    جس کا جو منصب ہے اس کو وہیں تک رہنے دیا جائے تو توازن برقرار رہے گا۔
    لوگ تو رسول ﷺ کو خدا کہہ بیٹھے اور کچھ لوگ اماموں کو رسالت دینے کے لیے کوشش کررہے ہیں، جیسے کہ شریعت نبی ﷺ پر نہیں بلکہ اماموں پر اتری ہوئی ہو۔
    ہماری "غلطی " یہی ہے کہ ہم "جس پر شریعت نازل ہوئی" اس کی سنتے ہیں، اب اگر یہ آپ کو "تقلید" لگے ، یا دنیا کے کسی اورخطے کے لوگ اسےاور بھی برا نام دیں تو دیا کریں۔
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 2, 2011
  7. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    السلام علیکم
    (میری استدعا ہے کہ براہ کرم۔۔۔ابویاسر بھائی کے علاوہ کوئی اور میری اس پوسٹ پر ایک لفظ بھی نہ لکھیں۔۔شکریہ)بھائی ابو یاسربھائی
    بالکل میں‌آپکی اس بات سے متفیق ہوں کہ اہل حدیث حضرات سارے ایسے نہیں‌ہیں‌جو کہ ایسا نہ سمجھتے ہوں۔۔لیکن خاص طور پر دیوبندیوں‌اور بریلوی مکتب فکر کے پیچھے اور پھر حنفیت کے پیچھے پڑنے کا بعض متشدد اہل حدیث حضرات کا جو طرز عمل ہوتا ہے وہ ایسا ہوتا ہے کہ بعض اوقات "اوپر" جیسے قیاسات لوگ کرلیتے ہیں۔۔اور وہ فطری بات ہے۔۔حقیقت میں‌میں‌خود اہل حدیث افراد کو جانتا ہوں۔۔ان میں‌تمام کے تمام ویسے نہیں‌ہیں‌جیسا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔۔۔البتہ ایک حقیت یہ ہے کہ وہ الزام صرف اہل حدیث پر نہیں‌، بلکہ اس کی زد میں ساری جماعتیں اور مکاتب فکر آجاتے ہیں‌بشمول اہل حدیث کے، کہ وہ اپنوں سے ہٹکر سبکو غلط سمجھتے ہیں۔۔اب غلط سمجھنے کے الگ الگ معیارات ہیں۔۔کچھ کسی کے طریقہ کار کو غلط سمجھتے ہیں‌، اور کچھ کسی کے عقائد کو۔۔۔! اب عقائد کے معاملوں‌کو لیکر۔۔جتنی شدت اہل حدیث میں‌ہے۔۔دوسرے مکاتب فکر میں‌بھی اتنی ہی ہے۔۔لیکن انداز بس الگ ہے۔۔۔! اس سے ہٹکر۔۔مکاتب فکر مختلف طریقہ کاروں‌ کی وجہ سے دوسروں‌کو غلط سمجھنا۔۔۔یہ ایک عامیانہ انداز ہے۔۔۔ورنہ "کسی بھی تحریک ، جماعت، اور مکتب فکر کو وہ افراد جو عقائد کے لحاظ سے صحیح‌ہوں، اور بنیادی طور پر بہت زیادہ گڑ بڑ نہ ہوں، تب ایسے تمام جماعتوں‌کے باشعور افراد ایکدوسرے سے نظریاتی اختلاف رکھنے کے باوجود ایکدوسرے کو غلط نہیں‌سجھتے ، بلکہ طریقہ کار میں اختلاف رکھتے ہوں آپس میں‌ملی اتحاد اور خلوص و محبت کو بنائے رکھتے یہں" اور بشمول اہل حدیث کے۔۔۔بہت سے مکاتب فکر اس کیٹگری میں شامل ہیں۔۔جہاں‌دوسروں‌کو بھی حد درجہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

    (اب متشدد لوگ کہاں‌ نہیں‌ہوتے، اسلئے ایسے افراد کے کامنٹس کو جو کہ کسی بھی مکتب فکر کے ہوسکتے ہیں۔۔باشعور افراد کو نظر انداز کردینا چاہئے) "
     
  8. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,413
    خلاصہ کلام
    صحیح بولے بھائی!
    اگری ی ی یڈ!!!
    اگرچہ میں نے نظر انداز کرنے کو نہیں کہا اور نہ تشدد کرنے کو
     
  9. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    آپ کی پیش کی گئی چاروں مثالیں باطل ہیں اور اہل حدیث پر ان کو تھوپنا ایک جھوٹے الزام سے زیادہ نہیں جس کا کوئی سر پیر نہیں۔ پتہ نہیں کن سنی سنائی باتوں کو مدنظر رکھ کر آپ نے یہ کچھ لکھا ہے کہ یہ سب اہل حدیث (آپ کے بقول غیر مقلدین کا غلو ہے؟
     
  10. فرقان خان

    فرقان خان -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 4, 2010
    پیغامات:
    208
    اھلحدیث بھائی!عمومی قاعدہ یہی سمجھ لیں......استثناء نکلتے رہتے ہیں اور یہاں بھی ہیں!!!

    بھائی جان یہ "سنی سنائی" نہیں شعور کے کم از کم 15 سالوں کی "آنکھوں دیکھی" ہے.

    بہر حال ابو یاسر بھائی! آپ کے خیالات کی میں قدر کرتا ہوں اور اللہ آپ کو جزائے خیر دیں،،،صرف اس فورم پر ہی نظر ڈال لیں ایسا "معتدل" اہلحدیث آپکو بمشکل ایک دو ہی ملے گا،جبکہ یہ فورم انٹر نیٹ پر اہلحدیثوں کی نمائندگی کرتا ہے...یہیں سے حساب لگا لیں کہ ریشو کیا ہے.باقی چھوڑیں اہلحدیث بھائی سے ذرا دیوبند کے پیچھے نماز کے باے میں فتوٰی تو لے کر دیکھیں.

    اور میں نے باقیوں کو خارج نہیں کیا بلکہ پہلے یہ لکھا کہ""""""مقلدین کا جمود""""".....اس پر تو کسی نے اپنے بھائیوں کا دفاع کرنے کی کوشش نہیں کی جیسے لال مسجد کے موقع پر ایک بزرگ سے میں نے دریافت کیا تو بولے:: "ان" کے "اپنوں" نے کچھ نہیں کیا تھا تو "ہم" کیا کرتے!!!.

    فرقہ بندی ہے کہیں..........................!!!

    والسلام
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 2, 2011
  11. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    بھائی دیوبند تو ایک علاقہ ہے۔ اس کے پیچھے نماز کیسے ہو سکتی ہے۔
    ہاں جہاں تک دیوبندیوں کے پیچھے نماز کا تعلق ہے تو یہ بات علمائے اہل حدیث کے فتاوی میں موجود ہے کہ ہر اس شخص کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے جو شرک نہ کرتا ہو اور اس کا عمل کتاب و سنت ہو۔
    اور شرک کرنے والا خواہ دیوبندی، بریلوی یا اہل حدیث ہو اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔
    امید ہے آپ کی تسلی ہو گئی ہو گی۔
     
  12. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    عمومی قاعدہ ہی آپ نے الٹا بنایا ہے۔ ہاں آپ کی بات صحیح ہے کہ استثنا نکلتے رہتے ہیں لیکن وہ کیسا اہل حدیث ہے جو اپنی بات کو کتاب و سنت کی بات پر مقدم کرے۔ یہ صورتحال ہی اہل حدیث کی تعریف سے متضاد ہے۔ کاش آپ لغت میں ہی اہل حدیث کا مطلب دیکھ لیتے۔ اصطلاح کا مطلب سمجھنا تو دور کی بات۔
    اور ایک اور بات انکھوں دیکھا ہمیشہ سچ نہیں ہوتاخواہ ظاہری انکھیں ہوں یا شعوری۔ ویسے یہ شعوری، ظاہری اور باطنی آنکھ میں کیا فرق ہے؟
    دوسرا یہ کہ کسی عام آدمی کو دیکھ کر اس کے بارے میں موقف نہ بنائیں ورنہ اسلام کا دفاع ہی آپ کے لیے مشکل ہو جائے گا۔ لوگ حجت نہیں ہوا کرتے بلکہ حجت وہ ہے جسے اللہ نے حجت بنایا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    ہم مقلد ہے ہی نہیں تو مقلدین کا دفاع کیوں کریں؟
    جہاں تک لال مسجد کا معاملہ ہے تو اس کو ایک طرف رہنے دیں۔ اگر آپ کی تمام تحریر کا مرکز یہی بات تھی تو افسوس ہے کہ تمام بھائیوں کا اتنا قیمتی وقت ضائع ہوا۔
    لال مسجد کے آپریشن کے وقت انہوں نے اپنے زعم کے مطابق جس ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے عمل سے دلیل پکڑی تھی اسی ابن تیمیہ کو اپنی کتابوں میں کیسے الفاظ سے انہوں نے یاد کیا ہے ذرا یہ بھی دیکھ لیجیے گا۔
    جہاں تک فرقہ بندی کی بات ہے تو ہاں امت کے زوال کا بڑا سبب یہی لعنت ہے۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں ذرا فرقہ کی تحقیق آپ خود ہی کر لیجیئے گا۔
    شکریہ
     
  14. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    سلمان ملک فورم اردومجلس فورم کی ہردلعزیز شخصیتہیں' ہوسکتاہے کسی کوشبہ ہو لیکن اس میں شبہ نہیں ہوناچاہئے کہ ان کا مبلغ علم خاصاناقص ہے۔کبھی وہ امام ابومنصورماتریدی پر ایک تہمت لگاتے ہین اورپھر اس کے جواب کیلئے علماء دیوبند کے اعمال وافعال کو دلیل بناتے ہیں۔مولانا اشرف علی تھانوی کے تعلق سے ایک تھریڈ قائم کرتے ہیں اور یہ تک تمیز نہیں کرپاتے کہ کتاب مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمة کی ہے یاپھر ان کے کسی مسترشد اورمرید کی ہے۔
    اسی طرح انہوں نے کسی سائٹ سے ایک تھریڈ بعنوان چھوٹے میاں سبحان اللہ قائم کیاہے اوربے چارہ نے علماء دیوبند کے جوش رد میں اس کا بھی دھیان نہیں رکھاکہ اس کی زد میں حضرت مولانا اسماعیل شہید بھی آرہے ہیں۔ نادان کی دوستی کی اس سے بڑھ کر اورکوئی مثال ہوسکتی ہے۔یاپھر یہ مصرعہ پرھئے۔ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کاآسمان کیوں ہو۔
    زیر بحث موضوع میں دارالعلوم دیوبند کا دوفتویٰ ذکر کیاہے۔پہلے فتوی میں جو بات واقعتاقابل اعتراض تھی اسے اپنی کم علمی سے نظرانداز کرگئے۔
    میرا خیال ہے کہ مفتی صاحب کو یہاں غلطی ہوئی ہے یاشاید سبقت قلم ہے یاپھر کمپوزنگ کی کوئی گربڑی ہوسکتی ہے کہ کچھ جملہ وغیرہ چھوٹ گیاہو۔ورنہ صحیح بات یہ ہونی چاہئے کہ مجہتدین توبہت گزرے ہیں۔لیکن ائمہ اربعہ کے بعد ان کی سطح کاکوئی مجتہد نہیں ہوا اورامت نے جسے قبول عام بخشا ہے وہ یہی چارمسالک ہیں بقیہ ایک خاص مدت کے تعامل کے بعد فناپذیر ہوگئے۔اس تعلق سے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا رسالہ العقد الجیدقابل مطالعہ ہے۔
    دوسرے فتویٰ میں کچھ تعبیری سقم ہے۔کبھی ایساہوتاہے کہ تعبیر میں کوئی سقم ہوتاہے لیکن حقیقت شناس اسے پہچان لیتاہے۔اورجہاں تعبیر کی بھی غلطی ہواوراس پر سوئے فہم بلکہ بدگمانی کا رداچڑھاہو تواس پر چاہیں توکریلااورنیم چڑھا کی کہاوت دوہرائیں یاپھر شکیل بدایونی کا یہ شعرپڑھیں۔
    کچھ توہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار ہیں
    اورکچھ لوگ بھی دیوانہ بنادیتے ہیں
    اوریہاں تو دوکے ساتھ ایک تیسراسبب اورجہ بھی موجود ہے جس کی وضاحت اوپر کرچکاہوں۔
    اصل یہ ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ علم حدیث میں بلند مقام کے حامل تھے جس کا دیگر محدثین نے اعتراف کیاہے۔اوران کے یہ اعترافات کتب تاریخ کی زینت ہیںاس سلسلے میں بطور خاص حافظ ذہبی کا رسالہ ذکر من یعتمد قولہ فی الجرح والتعدیل مشہور ومعروف ہے۔اس میں انہوں نے ائمہ جرح وتعدیل کا ذکر تاریخ کے اعتبار سے ترتیب وار کیاہے۔اس میں امام ابوحنیفہ کا ذکر کیاہے اوراسی طرح سے حافظ سخاوی کاایک رسالہ ہے المتکلمون فی الرجال اس میں امام ابوحنیفہ کو انہوں نے ائمہ جرح وتعدیل میں شمار کیاہے۔
    لیکن اسی کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ امام ابوحنیفہ کی پوری توجہ اورفکر کا پورامرکز قرآن وسنت اورآثار صحابہ سے مسائل کا استنباط تھا۔ دیگر محدثین کی طرح انہوں نے روایت اوررواة پر جرح کو اپنامقصد زندگی نہیں بنایاجیسے دیگر محدثین نے روایت اوررواة کے حالات کی تفتیش کو اپنا مقصد زندگی بنایا ۔اب ایک مثال لیجئے ۔کسی کو اس میں شک نہیں ہوگا کہ امام بخاری مجتہد ہیں اب کس مرتبہ کے مجتہد ہیں اس میں اختلاف ہیں۔ بعضوں نے مجتہد مطلق لکھاہے شیخ الاسلام ابن تیمہ نے مجتہد منتسب لکھاہے۔اورحنابلہ نے عمومی طورپر مجتہد فی المذہب کا رتبہ انکو دیاہے۔اب جس پائے کے بھی وہ مجتہد ہوں۔بہرحال مجتہد ہیں۔لیکن ان کی فقہی آراء سے کس فقیہہ نے اعتناکیاہے۔ کس فقہی اختلافات کی کتاب میں جب ائمہ فقہاء کے کسی مسئلہ میں اقوال کا ذکرہوتاہے تو امام بخاری کی رائے بھی ذکر کی جاتی ہے۔خود امام بخاری کے شاگرد امام ترمذی نے جوہرباب کی حدیث ذکر کرنے کے بعد فقہاء کے اقوال اورمسالک ذکر کرتے ہیں کتنے مقامات پر امام بخاری کا مسلک اورفقہی رائے ذکر کیاہے۔
    یہی حقیقت ہے کہ امام اعظم اگرچہ اپنی جگہ علم حدیث کے جہابذہ اورحافظ حدیث میں ہیں لیکن انہوں نے اپنی توجہ فقہی مسائل کے استنباط کی جانب موڑدیا لہذا حدیث اوررواة کی تضعیف اورتوثیق کے تعلق سے بہت کم باتیں ان سے منقول ہیں۔اسی کو مفتی صاحب نے اس سے تعبیر کردیا کہ حدیث میں امام ابوحنیفہ کی جانب رجوع نہیں کیاجاتا۔جس کو سلمان ملک اپنی مخصوص قابلیت کی بناء پر سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔
    ایک ذرا عقیدہ کا بھی مسئلہ واضح کرتاچلوں۔
    لیکن اس سے پہلے ایک بات پوچھ لوں کیاپتہ سلمان ملک صاحب جانتے ہوں!امام ابومنصورماتریدی نے عقائد میں جوکچھ بھی لکھاہے کیاوہ ان کی اپنی آرائے ہیں یایہ سب امام ابوحنیفہ سے منقول عقائد کی ہی ترویج واشاعت ہے۔امید ہے کہ سلمان ملک کے اس جواب کے بعد بات واضح ہوجائے گی اگرانہوں نے سابق کی طرح لیعت ولعل اوراین وآن سے کام نہ لیاتو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  15. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    926
    محترم علماء دیوبند کو یہ سبق پڑھا دو جا کر جن کے نزدیک امام ابو حنیفہ نا تو حدیث میں ماہر تھے اور نا ہی عقیدے میں ، پہلے گھر کی خبر لو جا کر پھر باہر کے لوگوں سے بات کرو
     
  16. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    افسوس یہ عبارت غلط طورپر مراسلہ میں شامل ہوگئی ہے۔
     
  17. فرقان خان

    فرقان خان -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 4, 2010
    پیغامات:
    208
    یہی تو آپ کی تنگ نظری ہے صاحب! کہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہم تو ائمہ اربعہ کے پیروکاروں کو اہل السنہ سے باہر نہیں سمجھتے اور پھر ان کے اور اپنے درمیان حد فاصل بھی کھینچتے ہیں...

    اور لال مسجد کے شہدا اب آپ کی طرف سے کسی اخلاص کے سرٹیفیکیٹ کے محتاج نہیں ہیں...آپ اپنے وقت کو پہلے بھی اور آئندہ بھی مسلمانوں پر فتاوی لگانے میں مفید بنائیں....الھم زد فزد!!!:00001:
     
  18. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    خان صاحب ۔ اداب
    آپ پلیزززززز اپنا تعارف تو کرادیں‌۔ تاکہ ہم بھی لال مسجد پر کچھ کہ سکیں ۔
     
  19. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    اتنی لمبی پوسٹ کا لب لباب یہی تھا کہ ''امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علم حدیث میں بلند مقام کے حامل تھے (یہ الگ بات ہے کہ مولانامنظورنعمانی نے ذکر کیا ہے کہ امام صاحب کوچند احادیث یاد تھیں )
    اب الطحاوی دوراں ہماری معلومات میں اضافہ کرتے چلیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا حدیث میں کیا مقام تھا ؟

    مسکین ۔
    سوال اچھا ہے ۔
    اگر منصور ماتریدی نے عقائد میں اپنی رائے دی ہے تو تمام دیوبند عقائد میں بھی رائے پر عمل کر رہے ہیں ۔

    اگرامام ابوحنیفہ سے منقول عقائد کی ہی ترویج اور اشاعت ہے تو امام ''الطحاویہ '' کے مصنف نے جو لکھا ہے کہ اس کتاب میں جو عقیدہ بیان کیا جا رہا ہے وہ امام ابوحنیفہ کا ہے ۔

    اب کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا ۔۔۔۔۔
     
  20. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    میں نے کب مقلدین کو اہل السنۃ میں شمار کیا ہے؟ ذرا میری وہ تحریر تو سامنے لائیں؟؟؟
    اور ایک بات محترم یاد رکھئیے گا کہ ہمارے اور ان کے درمیان تقلید کی حد فاصل موجود ہے جو ہم نے نہیں بلکہ مقلدین نے خود قائم کی ہے۔ ہم تو اس حد فاصل کو ختم کر کے لوگوں کو کتاب و سنت کے جھنڈے تلے جمع ہونے کا کہتے ہیں۔ اب آپ اس کا جو مرضی مطلب سمجھیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے۔
    جہاں تک لال مسجد والوں کا تعلق ہے تو وہ "سواد اعظم" کہاں مر گیا تھا جو کبھی سربکف سر سر بلند کے نعرے لگاتا ہے اور کبھی یہ کہتا ہے کہ ہم صرف تھوک دیں تو مخالفین ڈوب جائیں گے۔ وہ "سواد اعظم" مفت میں بیٹھا روٹیاں توڑتا رہے اور پاکستان کی عوام مرتی رہے۔ دوسرا یہ کہ غلطی لال مسجد والوں کی اپنی تھی۔ایک غلط بات جس کی ابتدا انہوں نے کی اور انتہا آپ سب کے سامنے تھی۔ اپنے ذاتی مفاد کے لیے معصوم بچیوں کو بھی مروایا اور پاکستان میں آگ اور خون کی ہولی بھی شروع کروا دی۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں