تورات میں اسم محمد اور انجیل میں احمد کیوں ؟ اور قرآن میں دونوں کیوں جمع ہوئے ۔

ابوعکاشہ نے 'سیرتُ النبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم' میں ‏فروری 5, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,440
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    توریت میں اسم محمد اور انجیل میں احمد کیوں ؟ اورقرآن میں دونوں کیوں جمع ہوئے ۔


    ان دونوں اسماء محمد اور احمد میں جو وصفیت ظاہر کرتے ہیں ، علمیت کے لحاظ سے فی الحقیقت اس میں کچھ تضاد نہیں بلکہ دونوں کے معانی مقصود ہیں ۔ رہی یہ بات کہ توریت میں محمد کیوں ہے اور مسیح علیہ السلام نے احمد کیوں کہا ؟

    اس کی وجہ یہ ہے کہ جس امت کے نزدیک جو وصف زیادہ ترمعروف تھا اسی کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خیر فرمایا گیا ۔ اس کی شرح یہ ہے کہ محمد حمد سے مفعل کے وزن پر ہے اور یہ اس کثیر الاوصاف ش ہے خص کو کہتے ہیں جس کے خصال حمیدہ اور صفات ستودہ پر مسلسل اور مکرر حمد کے بعد حمد کی جائے ۔ اس کے معنی کی معرفت تب ہو سکتی ہے جس خصال خیر اور انواع علوم و معارف اور اخلاق و اوصاف و افعال ہے ، جن پر حمد کا تکرار ضروری ہے ، معرفت حاصل ہو اور اس میں شک نہیں کی بنی اسرائیل علم اول کے صاحب تھے اور ان کی وہ کتاب ملی تھی جس کی صفت اللہ تعالیٰ نے یوں فرمائی ہے ؛
    [qh]وكتبنا له في الألواح من كل شيء موعظة وتفصيلا لكل شيء [الأعراف: 145][/qh]
    ‘‘اس کے بعد ہم نے موسی علیہ السلام کو ہر شعبہ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختوں پر لکھ کر دے دی ۔‘‘

    یہی وجہ ہے کہ موسی علیہ السلام کی امت مسیح علیہ السلام کی امت سے علم و معرفت میں زیادہ تر وسیع تھی اور یہی وجہ ہے کہ میسج علیہ السلام کی شریعت تورات اور احکام کے بغیر کامل نہیں ہوتی ۔ تم مسیح علیہ السلام اور ان کی کرامت کو دیکھو کہ وہ احکام میں دارو مدار تورات پر ہی رکھتے ہیں اور انجیل تورات اور اس کے محاسن کی تکمیل کرتی ہے ۔ اور قرآن مجید دونوں کتابوں کے محاسن کا جامع ہے ۔ غرض اس مت (یہود)کو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت اسم محمد کے ساتھ کرائی گئی جو خصال خیر کا جامع ہے ، جن کی وجہ سے آپ باربار حمد کے مستحق ہیں اور امت مسیح کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت اسم احمد کے ساتھ کرائی گئی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ تمام وہ محمد جن کا مستحق کوئی شخص ہو سکتا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم افضل طور پر اس کے مستحق ہیں

    اس کی وجہ یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کی امت کو ریاضات و اخلاق و عبادات میں جو درجہ حاصل ہے وہ امت موسوی کو نہیں ۔ ان کو کتاب کو دیکھو ، اس کا بڑا حصہ مواعظ و زاہد و اخلاق ہے اور نہ ہی کوئی علم و عفو کی تعلیم ۔ چنانچہ کہا گیا ہے کہ شریعتیں تین ہیں ۔

    ١- شریعت عدل ، جو تورات ہے ۔ اس میں حکم اور قصاص ہے ۔
    ٢- شریعت فضل ، جو انجیل ہے ،اس میں عفو اور مکارم اخلاق اور درگذر و احسان کی تعلیم ہے ۔ مثلا اس میں درج ہے کہ جو شخص تیری چادر چھپنے تو اسے پیرہن بھی دے دے ، جو تیرے دائیں رخسار پر طمانچہ لگائے اس کی جانب بایاں رخسار بھی کر دے ، جو تجھے ایک میل بیگار لے چلے تو اس کے ساتھ دو میل چل وغیرہ وغیرہ
    ٣- شریعت عدل و فضل کی جامع ہے جو قرآن مجید ہے ۔ قرآن مجید کو دیکھو کہ وہ عدل کا بیان ہے اور اسے فرض قرار دیتا ہے ۔ پھر فضل کا بیان کرتا ہے اور لوگوں کی اس کی جانب بلاتا ہے ۔ فرمایا ؛
    [qh] وجزاء سيئة سيئة مثلها فمن عفا وأصلح فأجره على الله إنه لا يحب الظالمين [غافر:4]،[/qh]
    ‘‘بدی کا بدلہ بد ہے اتنا ہی ، پھر جو کوئی معاف کر دے اور صلح کر لے تو اس کو اللہ پاک سے اجر ملے گا ، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ‘‘

    خلاصہ مطلب یہ ہے جس طرح مسیح علیہ السلام کی شریعت شریعت فضل نیز شریعت موسوی کی تکمیل ہے اسی طرح اس امت کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ اسم مبارک لیا گیا جو افضل التفضیل ہے اور فضل و کمال پر دال ۔ اب رہی وہ کتاب جو کتبہ سابقہ کے محاسن کی جامع ہے ۔ اس میں دونوں اسماء مبارک ہیں ۔ اسی فضل پر خوب تدبر کرو اور اسماء کے ساتھ معانی کو جو ارتباط و مناسبت ہے اسے اچھی طرح ذہن میں کر لو (الحمد للہ )

    رہا قول ابوالقاسم کا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک محمد ظہور وجود کے بعد ہے کیونکہ خلائق کا حمد کے بعد حمد کرنا اسی وقت مترتب ہوتا ہے تم ہم کہتے ہیں کہ اسم مبارک احمد میں بھی یہی صورت ہو سکتی ہے ۔ رہا ان کا یہ قول کہ اسم مبارک احمد اسم مبارک محمد سے متقدم ہے ، اس کی دلیل کے ساتھ کہ ‘‘احمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کے معنی ہیں ، پروردگار کی حمد کرنے والوں میں سے سے بڑھ کرحمد کرنے والا اور یہ مقدم ہے اس امر پر کہ خلائق اس شخص کی حمد کرے ۔ سو واضح ہو کہ ہم اس قول کی اس بناء پر تو صحیح مان سکتے ہیں جب کہ لفظ احمد فعل فاعل سے تفضیل سمجھا جائے ، لیکن دوسرے قول ٹھیک نہیں ۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

    الصلاة والسلام على رسول الله صلى اللّه عليه وسلم
    مؤلف : شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أبي بكر بن أيوب الزرعي ابن قيم الحنبلي إمام الجوزية رحمه الله
    مترجم :: قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمہ اللہ
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں