جشن عید میلاد النبی مبارک... (مباحثہ)

طارق راحیل نے 'ماہِ ربیع الاوّل' میں ‏فروری 14, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. طارق راحیل

    طارق راحیل -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2009
    پیغامات:
    351
    جشن عید میلاد النبی مبارک ہونزول رحمت کا ماہ مقدس مبارک ہو
    اس ماہ مقدس میں پیدا حضور ہوےحصول برکت کا ماہ مقدس مبارک ہو
    اس ماہ تھے چراغ نور و خوشبو کے جلےبطول کائنات کا ماہ مقدس مبارک ہو
    اس ماہ تھے بہار رحمت کے اٌنے سے پہول کھلےاصول طریقت دکھانے والے کا ماہ مقدس مبارک ہو
    اس ماہ کفار کے برے دل جلےبشمول قران و اٌحادیث کی رحمت کے، یہ ماہ مقدس... مبارک ہو
    واللہ کرتی ہے دعا سعدیہ سب کے لیےقبول کروانے والے کا ماہ مقدس مبارک ہو
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    واقعی ماہ تو مقدس ہے ۔ اور آپ کی سب باتیں ٹھیک ہو سکتی ہیں‌۔ اگر آپ یہ بتا دیں کہ جس کا ماہ مقدس منایا جا رہا ہے کیا انھوں نے اس جشن کا حکم بھی دیا ہے یا نہیں ؟
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    يہ پوسٹ ايك تھریڈ سے موضوع سے غير متعلق ہونے كى بنا پر منتقل كى گئی ہے۔ یہاں اس موضوع سے متعلق بحث جارى ركھی جا سكتى ہے۔ ركن كو متنبہ كيا جاتا ہے كہ ايك جيسى پوسٹس کے ذریعے سپیمنگ سے باز رہیں۔
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    وہ كون سى قوم ہے جو اپنے نبي كريم كى وفات كى مستند تاريخ ميں جشن اور عيد مناتى ہے؟ افسوس ہے ان لوگوں پر جو اپنے رشتہ داروں كى برسيوں كے دن سوگ مناتے ہیں مگر نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى وفات كے دن عيد كا جشن؟
    عید میلاد النبی ﷺ یا بارہ وفات۔۔۔؟ - URDU MAJLIS FORUM
    بارہ وفات - URDU MAJLIS FORUM
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ وفات - URDU MAJLIS FORUM


     
  5. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333

    بھائی مبارکباد کا شکریہ شاید آپ یہ باتیں نہیں جانتے؟

    12 ربیع الاول کو کیا ہوا تھا؟

    12 ربیع الاول بروز سوموار نماز فجر کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کچھ سنبھل گئی۔ آپ نے اپنے حجرہ مبارکہ کا پردہ اٹھایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو لبوں پر تبسم جاری ہو گیا۔ طلوع آفتاب کے بعد بار بار غشی پڑنے لگی۔

    اسی دوران آپ نے مسواک بھی کی۔ آپ کے سامنے پانی کا پیالہ رکھا ہوا تھا اس میں دونوں ہاتھ ڈبو کر چہرہ انور پر ملتے تھے اور فرماتے تھے ”لا الہ الا اللہ ان للموت سکرات“ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں موت کی بڑی تکلیف ہے۔ اس کے بعد ہاتھ پھیلا کر کہنے لگے: ”فی الرفیق الاعلیٰ“ اسی میں آپ کی وفات ہو گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللھم صلی علی محمد وعلٰی الہ واصحابہ وبارک وسلم دائما ابدا۔

    آپ کی وفات کی خبر سن کر محبان رسول کے ہوش و حواس گم ہو گئے۔ آوازیں بند ہو گئیں۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر سکتہ طاری ہو گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ زمین پر بیٹھ گئے اور ان میں کوئی سکت نہ رہی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اتنا غم لیا کہ عقل کھو بیٹھے اور انہوں نے تلوار کھینچ لی اور کہا جو شخص یہ کہے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے میں اس کو قتل کر دوں گا۔ پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں آپ کے چہرہ انور سے چادر ہٹا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا:
    میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ بے شک وفات پا گئے ہیں۔ پھر آپ باہر تشریف لے آئے، مدینہ کے لوگ زاروقطار رو رہے تھے۔ عمر فاروق جو غم سے نڈھال اور ہواس کھو بیٹھے تھے تلوار لے کر کھڑے تھے اور یہ کہہ رہے تھے جو شخص یہ کہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں میں اس کو قتل کر دوں گا۔ ایسے حالات میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حالات کو کنٹرول کیا اور آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا:
    ”لوگو سنو! جو شخص محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرنا تھا (وہ جان لے کہ) محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں۔ اور تم میں سے جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ زندہ ہے۔ وہ کبھی نہیں مرے گا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
    وما محمد الا رسول قدخلت من قبلہ الرسل
    ابن ابی شیبہ میں ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان آیات کو تلاوت فرمایا۔
    انک میت وانھم میتون٭ وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد٭
    ”بے شک آپ بھی مرنے والے ہیں اور بے شک وہ (سب لوگ) بھی مرنے والے ہیں۔ اور آپ سے پہلے کسی بشر کے لئے ہمیشگی و دوام نہیں ہے۔“
    سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد سب لوگوں کی زبان پر وہی آیتیں تھیں جو سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر تلاوت کی تھیں۔
    12 ربیع الاول کا دن منانا:
    خلفاء راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طرز عمل امت کے لئے معتبر قرار دیا گیا ہے۔ یہ نفوسِ قدسیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارہ پر اپنا مال و منال اور جان قربان کرنے کو اپنی سعادت سمجھتے تھے اور آپ کے اشارے پر ہر وقت مر مٹنے کے لئے مستعد اور تیار رہتے تھے۔ صحابہ کرام کے بعد تابعین و تبع تابعین کا دور خیر القرون کہلاتا ہے۔ اس میں کہیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا دن منانے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک، اور امام احمد بن حنبل کی تعلیمات و ارشادات اور ان کی فقہی کتب میں بھی کہیں جشن منانے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ علاوہ ازیں محدثین میں سے کسی نے بھی اسے منانے کا حکم نہیں دیا۔ تو ایسا عمل جس کا ذکر نہ قرآن میں نہ حدیث میں، نہ خلفاء راشدین کے ادوار میں نہ فقہاء کے زمانہ میں ہے۔ اس کو شرعی حکم اور دینی فریضہ سمجھ کر انجام دینا اور اس پر اجر و ثواب کی توقع رکھنا کہاں کا دین اور اسلام ہے؟
    علازہ ازیں 12 ربیع الاول کا دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا دن ہے۔ ایک عرصہ تک لوگ اسے بارہ وفات کے نام سے ہی یاد کرتے رہے ہیں۔ آپ کی ولادت باسعادت تو 9 ربیع الاول کو ہوئی ہے اگر آپ کا یوم ولادت 12 ربیع الاول ہی تسلیم کر لیا جائے تو ولادت اور وفات کا دن ایک ہی ہوا۔ تو پھر اہمیت خوشی کو دی جائے گی یا موت کو؟ یقیناً غم خوشی پر غالب آ جائے گا۔ ہمیں بحیثیت مسلمان اپنی زندگی میں آنے والی خوشیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق منانا ہو گا اور غمی کو آپ کی سیرت طیبہ کی روشنی میں اپنانا ہو گا۔!!!!!
    ربیع الاول کے تقاضے - URDU MAJLIS FORUM
     
  6. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021

    کیا کوئی ایک روایت بھی ایسی پیش کی جاسکتی ہے جس میں‌ یہ ذکر ہو کہ اس ماہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر کافروں‌کے دل جلے ہوں ؟
    اس کے برعکس ہم تو میلادیوں سے یہی سنتے ہیں کہ اس ماہ میں ابولہب جیسے کافر اوردشمن رسول نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشخبری دینے والی اپنی لونڈی ثویبہ کوآزاد کردیا تھا !

    کافروں کے دل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پرنہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پرجلے تھے۔
    میلادیوں کے بقول کافروں نے آپ کی ولادت پرخوشی کا اظہار کیا لیکن آپ کی رسالت پرآپ کے دشمن بن گئے ، اورشرک وبدعت کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو ماننے سے انکار کردیا۔
    آج کے میلادی بھی انہیں کافروں کی روش پرچل رہے ہیں ، آپ کی ولادت کے نام پر خوشی کا اظہار اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو ماننے سے انکار!
     
  7. سپہ سالار

    سپہ سالار -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2007
    پیغامات:
    2,019
    جشن میلاد النبی منانا قرآن و سنت سے تو کہیں بھی ثابت ہوتا آج تک علماء سے نہیں سنا، اور جب یہ بات قرآن و سنت میں ہے ہی نہیں تو پھر اس کو منانا ہی کیوں؟
     
  8. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,855

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    (میں اُس وقت بھی نبی تھا) جب آدم کی تخلیق ابھی رُوح اور جسم کے مرحلے میں تھی۔
    ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في فضل النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 5 : 585، رقم : 3609

    السلام علیکم!

    طارق راحیل بھائی

    جزاک اللہ خیر

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد پر آپ کو ڈھیروں خوشیاں مبارک ہوں۔

    والسلام


     
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    اس حدیث سے موضوع کا کیا تعلق ؟
    حدیث فضائل المناقب میں ہے ۔ اور یہاں بات ہو رہی ہے جشن عید میلاد النبی کی ۔
    اس حدیث سے تو جشن عید میلا النبی ثابت نہیں ہوتا ۔

    اگر آپ کے پاس اس کے علاوہ کوئی دلیل ہو کہ اللہ کے نبی نے جشن عید میلاد النبی منایا یا منانے کا حکم دیا یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے منایا ۔ تو پیش کریں‌۔ بلاوجہ کی ادھر ادھر سے فٹ نہ کریں ۔
     
  10. سپہ سالار

    سپہ سالار -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2007
    پیغامات:
    2,019
    جشن میلاد النبی قرآن و سنت سے سرے سے ثابت نہیں‌ہوتا، اس ہی لیے میلادیوں‌کے شیخ الاسلام طاہر القادری اس عید کو عید شرعی نہیں بلکہ عید فرحت کہتے ہیں اور اس بات کا تسلیم کرتے ہیں کہ اس عید کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔
    اے میلادیوں‌کیوں‌اپنی آنکھوں‌پر پٹی باندھ کر اندھیرے گڑھے میں کودے جا رہے ہو، خدارا اپنی جانوں‌پر رحم کرو اور جو دین ہے صرف اس ہی کو دین جانو اور اپنی نجات کا ذریعہ بناؤ۔
     
  11. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,855

    السلام علیکم!

    محترم ابن رواحہ،

    اس دھاگہ میں صاحب مراسل کو مبارکباد پیش کی ھے اور ساتھ میں‌ ایک حدیث مبارکہ بھی پیش کی ھے، اس پر اعتراض تو وہی کر سکتا ھے جسے مبارکباد پیش کی ھے کہ اسے یہ حدیث پسند آئی یا نہیں۔ کیا آپ سے پوچھ کر حدیث مبارکہ لکھنی پڑے گی، یا آپ سے پوچھ کر کوئی خوشی منانی پڑے گی، حدیث مبارکہ پر اگر کوئی اعتراض ھے تو بتائیں اس کی تصدیق کروا دوں گا اور اگر کسی کو مبارکباد دینا آپ کو پسند نہیں آیا تو مراسلہ ڈیلیٹ کروا سکتے ہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔

    والسلام
     
  12. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021


    چندگذارشات پیش خدمت ہیں :


    1:
    پیش کردہ روایت ضعیف ہے:
    سب سے پہلے اصل الفاظ‌ حدیث‌ مع سند ملاحظہ ہوں، امام ترمذی فرماتے ہیں:
    حدثنا أبو همام الوليد بن شجاع بن الوليد البغدادي حدثنا الوليد بن مسلم عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال قالوا : يا رسول الله متى وجبت لك النبوة ؟ قال وآدم بين الروح والجسد (سنن الترمذي:5 /585رقم 3609)
    اس سند میں‌ کل تین علتیں ہیں:

    پہلی علت :
    امام اوزاعی یحیی بن کثیر سے روایت کررہے ہیں اورجس روایت میں امام اوزاعی یحیی بن کثیرسے روایت کریں امام احمد رحمہ اللہ کے بقول وہ روایت منکر ہوتی ہے۔
    حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    وتكلم الإمام أحمد في حديثه عن يحيى بن أبي كثير خاصة ، وقال : (( لم يكن حفظه جيداً فيخطئ فيه (شرح علل الترمذي لابن رجب [ص 349])

    حافظ ابن رجب مزید فرماتے ہیں :
    وقال مهنا : سألت أحمد عن حديث الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير ؟ قال أحمد : كان كتاب الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير قد ضاع منه فكان يحدث عن يحيى بن أبي كثير حفظاً
    (شرح علل الترمذي لابن رجب [ص 349])

    نیز امام احمد رحمہ اللہ نے اسی علت کی بنا پرزیربحث روایت کوخصوصی طورپر منکر قراردیاہے، چنانچہ امام احمد کے شاگرامام مروذی فرماتے ہیں:
    قلت له (يعني لأبي عبد الله): فتعرف عن الوليد، عن الأوزاعي، عن يحيى، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، عن النبي - صلى الله عليه وسلم - متى كتبت نبيًا.
    قال: هذا منكر، هذا من خطأ الأوزاعي، هو كثيرًا مما يخطى عن يحيى بن أبي كثير، كان يقول: عن أبي المهاجر وإنما هو أبو المهلب.
    (علل أحمد رواية المروذي :ص 151)
    نیز ملاحظہ ہو: موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في الجرح والتعديل رقم 4159

    حافظ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    وذكر له (یعنی للامام احمد)حديث الأوزاعي عن يحيى عن أبي سلمة عن أبي هريرة (( أن النبي صلى الله عليه وعلى آله وسلم سئل متى كنت نبياً ؟ )) فأنكره وقال : (( هذا من خطأ الأوزاعي )) وقد ذكرنا ذلك في أول كتاب المناقب .(شرح علل الترمذي لابن رجب [ص 349])

    شیخ مقبل بن ھادی الوداعی نے زیربحث‌ روایت کواپنی کتاب ’’أحاديث معلة ظاهرها الصحة‘‘میں رقم 462کے تحت نقل کیا ہے۔

    دوسری علت:
    سند میں یحیی بن کثیر ہیں اوریہ مدلس ومرسل ہیں ، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں‌:
    يحيى بن أبي كثير الطائي مولاهم أبو نصر اليمامي ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل من الخامسة مات سنة اثنتين وثلاثين وقيل قبل ذلك ع( تقريب التهذيب [1 /508 رقم 7632 ])
    اورمذکورہ روایت میں یحیی موصوف نے تحدیث‌ یا سماع کی صراحت نہیں‌ کی ہے۔

    تیسری علت :
    تیسری علت سب سے خطرناک ہے اوروہ یہ کی زیربحث روایت کی سند میں ولید بن مسلم موجودہے اورتدلیس کی سب سے بدترین قسم تدلیس تسویہ سے متصف ہے، اوریہاں اس نے اپنے سے اوپرطبقات میں سماع یا تحدیث‌ کی صراحت نہیں نقل کی ہے۔
    ولید بن مسلم کی تدلیس تسویہ سے متعلق میری مفصل تحریر کے لئے یہ صفحہ دیکھیں:

    http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=234834

    یا یہ صفحہ دیکھیں

    http://www.ahlalisnad.com/vb/showthread.php?t=1193

    نوٹ : ہمیں علم ہے کی بعض اہل علم نے زیر بحث روایت کو شواہد کی بنا پر صحیح کہا ہے لیکن شواہد والی روایات کا متن زیربحث‌ روایت کے متن سے اس حد تک مختف ہے کہ مفہوم میں فرق آرہا ہے لہذا ہماری نظر میں شواہد کی بنا پر زیر بحث‌ روایت کی تصحیح محل نظر ہے واللہ اعلم۔



    2:

    بریکٹ‌ میں جو مفہوم پیش کیا گیا ہے اصل الفاظ حدیث‌ میں اس کی گنجائش نہیں ملتی، احادیث کے اردوسافٹ‌ ویر میں مذکورہ حدیث‌ کا ترجہ یوں ہے:
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ پر نبوت کب واجب ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب آدم علیہ السلام کی روح اور جسم تیار ہو رہا تھا۔





    3:

    پیش کردہ روایت کا عید میلاد سے دورکا بھی واسطہ نہیں حیرت ہے کہ جب ہم عید میلاد کی تردید میں دلائل پیش کرتے ہیں ، تویہی حضرات دلائل میں عیدمیلاد کی صراحت کا مطالبہ کرتے ہیں‌ ، اورخود جب عیدمیلاد کے دلائل پیش کرتے توصریح‌ دلیل تو دورکی بات ہے کوئی عمومی دلیل بھی نہیں لاسکتے۔


    اللہ ہم سب کو بدعات وخرافات سے بچائے
     
  13. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,855
    بسم اللہ الرحمن الرحیم


    (میں اُس وقت بھی نبی تھا) جب آدم کی تخلیق ابھی رُوح اور جسم کے مرحلے میں تھی۔

    1. ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في فضل النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 5 : 585، رقم : 3609
    2۔ ابن مستفاض نے ’’کتاب القدر (ص : 27، رقم : 14)‘‘ میں کہا ہے کہ اِس کے رِجال ثقہ ہیں۔
    3. تمام رازي، کتاب الفوائد، 1 : 241، رقم : 581
    4. ابن حبان، کتاب الثقات، 1 : 47
    5. لالکائي، إعتقاد أهل السنة، 1 : 422، رقم : 1403
    6. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، 2 : 665، رقم : 4210
    7. بيهقي، دلائل النبوة و معرفة أحوال صاحب الشريعة، 2 : 130
    8. سيوطي، الدر المنثور في التفسير بالمأثور، 6 : 569


    ناصر الدین البانی نے اِس حدیث کو صحیح قرار دیتے ہوئے ’’صحیح السیرۃ النبویۃ (ص : 54، رقم : 53)‘‘ میں بیان کیا ہے۔

    اِس حدیث سے مراد ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس وقت بھی نبی تھے جب روح اور جسم سے مرکب حضرت آدم علیہ السلام کا خمیر ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوا تھا۔ اور ہم نے یہاں اِس حدیث شریف کو اِسی لیے بیان کیا ہے کہ اِس میں میلاد کا مضمون بیان ہوا ہے نہ کہ سیرت کا۔ اِمام ترمذی نے بھی اس حدیث کو کتاب المناقب میں نقل کیا ہے کیوں کہ اِس میں کوئی اَحکامِ حلّت و حُرمت، اَخلاقیات، اَقدار وغیرہ سے بحث نہیں بلکہ میلاد کا بیان ہے۔
     
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    copy pasted from
    http://www.minhajbooks.com/ur.php?control=btext&cid=5&bid=79&btid=275&read=txt
    طاہر القادرى كے ان خرافى " دلائل" يا علمى لطائف كا شافى جواب مکمل يونيکوڈ ميں یہاں ملاحظہ فرمائيے۔
    ڈاکٹر طاہر القادری کی کتاب میلادالنبی کا تحقیقی جائزہ - URDU MAJLIS FORUM
    اگر كاپی پیسٹ كے عادى خود قابل فہم بات كہنے كى طاقت نہیں رکھتے تو برائے كرم اس تھریڈ كو سنجيدہ مباحثہ كرنے والوں کے ليے چھوڑ ديں۔
     
  15. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,855
    السلام علیکم!

    بڑا عجیب منتق ھے، صاحب مراسل کو مبارکباد پیش کی تو حدیث مبارکہ پر نظر چلی گئی پھر اسے ضعیف قرار دے دیا گیا جب وہی حدیث اپنے امام حدیث سے صحیح ثابت ہوئی تو ایک اور نیا دروازہ کھولنے کی ناکام کوشش، اگر شخصیت پرستی ہی کرنی ھے تو محترمہ جیسے یہاں پر دکھا رہی ہیں اس سے بہتر میٹیریل گوگل میں شخصیات پر مل سکتا ھے اس سے کوئی بھی نہیں بچا ہوا۔

    اللہ حافظ

    والسلام
     
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ کے ہاں دوایسے دن متعین تھے جن کو وہ بطور عید مناتے تھے ۔ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی نے تمہیں ان دو دنوں سے بہتر دودن عطا فرمائے ہیں ، عید الاضحی اور عیدالفطر ۔سنن ابی داؤد ۔
     
  17. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021

    بریکٹ‌ کے الفاظ کاجو مفہوم ہے پیش کردہ حدیث‌ میں اس کا ماخذ کہاں ہے وضاحت کردیں مہربانی ہوگی

    اس کی سند کی پوزیشن واضح کی جاچکی ہے۔

    ’’اس کے رجال ثقہ ہیں ‘‘ یہ جملہ حدیث‌ کی تصحیح‌ نہیں‌ ہے ، کیونکہ رجال سند کے ثقہ ہونے کے باوجود بھی سند میں علت ہوسکتی ہے مثلا سند میں انقطاع ہو، کوئی راوی مدلس ہو ، یا کوئی ثقہ راوی کسی خاص راوی سے روایت کرنے میں غیر معتبر ہووغیرہ وغیرہ

    اس سلسلے میری مزید تحریر یہاں دیکھیں :
    http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=235312

    یا یہاں دیکھیں :
    http://www.ahlalisnad.com/vb/showthread.php?t=1191


    تمام رازی فرماتے ہیں :
    أخبرنا أبو عمر محمد بن سليمان بن داود اللباد ثنا أبو الطيب طاهر بن علي بطبرية سنة أربع وثلاثمائة ثنا إبراهيم بن سلمة ثنا محمد بن شعيب عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال سئل النبي صلى الله عليه وسلم متى وجبت لك النبوة قال بين خلق آدم صلى الله عليه وسلم ونفخ الروح فيه
    الفوائد لتمام الرازي [1 / 241 رقم 581]

    جنا ب اس سند میں بھی تقریبا وہی علتیں ہیں ، جوترمذی کی سند میں ہیں اس کا حوالہ پیش کرکے آپ کیا کہنا چاہتے ہیں ۔

    امام ابن حبان فرماتے ہیں :

    أخبرنا عمر بن سعيد بن سنان الطائي بمنبج ثنا البعاس بن عثمان البجلي ثنا الوليد بن مسلم ثنا الأوزاعي عن يحيى بن أبى كثير عن أبى سلمة عن أبى هريرة قال سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم متى وجبت لك النبوة قال بين خلق آدم ونفخ الروح فيه عليه السلام
    الثقات لابن حبان [1 /47]

    یہاں بھی وہی علتیں موجود ہیں جوترمذی کی روایت میں ہیں ، اس کتاب کا حوالہ دینے کامقصد بتلائیے؟
    واضح رہے کہ ولید بن مسلم عام تدلیس نہیں بلکہ تدلیس تسویہ سے متصف ہے اورایسے راوی کی روایت کے اعتبار کے لئے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ وہ اپنے شیخ سے سماع کی صراحت کردے بلکہ اس کے اورپر سند کے تمام طبقات میں سماع کی صراحت ہونی ضروری ہے۔

    سب سے پہلے اس بات کا ثبوت پیش کردیں کہ یہ کتا ب امام لالکائی کی ہے۔

    اما م حاکم فرماتے ہیں :
    حدثناه أبو بكر بن إسحاق أنبأ سليمان بن محمد بن الفضل ثنا محمد بن هاشم البعلبكي ثنا أبو الوليد بن مسلم عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قيل للنبي صلى الله عليه و سلم متى وجبت لك النبوة ؟ قال : ( بين خلق آدم و نفخ الروح فيه ) المستدرك [2 /665 رقم4210 -]

    یہاں بھی وہی علتیں موجود ہیں جوترمذی کی روایت میں ہیں ، نیز میرے پاس امام ذہبی کی تعلیقات کے ساتھ مستدرک کا جونسخہ ہے اس میں اس روایت کونہ اما م حاکم نے صحیح کہا ہے اورنہ ہی امام ذہبی نے۔

    امام بیھقی فرماتے ہیں :
    أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال أخبرنا أحمد بن عبيد قال حدثنا أحمد بن علي الأبار قال حدثنا العباس بن عثمان الدمشقي قال حدثنا الوليد بن مسلم قال حدثني الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال سئل رسول الله متى وجبت لك النبوة قال بين خلق آدم ونفخ الروح فيه (دلائل النبوة ـ للبيهقى [2 /130])

    یہاں بھی وہی علتیں موجود ہیں جوترمذی کی روایت میں ہیں ، خواہ مخواہ حوالہ پرحوالہ دینے کا مقصد بتلائیں ۔

    امام سیوطی فرماتے ہیں :
    وأخرج الحاكم وأبو نعيم والبيهقي عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : " قيل للنبي صلى الله عليه و سلم متى وجبت لك النبوة ؟ قال : بين خلق آدم ونفخ الروح فيه "
    وأخرج أبو نعيم والبيهقي عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : " قيل للنبي صلى الله عليه و سلم متى وجبت لك النبوة ؟ قال : بين خلق آدم ونفخ الروح فيه "

    الدر المنثور [6 /569]

    یہاں امام سیوطی رحمہ اللہ نے صرف روایت نقل کی ہے اسے نہ توصحیح کہا ہے اورنہ ہی اس کی سند کے اندر موجود علل کا کوئی جواب دیا ہے۔



    آپ کے اس حوالے سے میرے علم میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے ، بلکہ آپ کے علم میں اضافہ کے لئے عرض کردوں کی علامہ البانی رحمہ اللہ زیربحث‌ روایت کو تحقیق مشکاۃ ،صحیح‌الترمذی وغیرہ میں بھی صحیح کہ چکے ہیں بلکہ الصحیحہ میں اس کے تمام طرق پر بحث بھی کی ہے ،ان تمام مقاما ت پر ہماری پہلے سے نظر تھی ، لیکن بات یہ ہے کہ ہم کسی کے مقلد نہیں ہیں۔
    ہم نے مذکورہ روایت کودلیل کے ساتھ ضعیف قراردیاہے، آپ گذارش ہے کہ مذکورہ روایت کی سند میں موجود جن علل کی میں نے نشاندہی کی ہے اس کا ازالہ پیش کریں اہل علم سے صرف تصحیح نقل کردینا ہما ری مذکورہ تضعیف کا جواب کبھی نہیں ہوسکتا۔


    جناب اگر اس حدیث‌ میں میلاد کاذکر ہے تو کیا بتلائیں گے کہ اس میلاد کے وقت کون سی تاریخ تھی؟
    واضح رہے کہ مذکورہ روایت اپنے ضعف کے باوجود میلاد کے ذکرسے خالی ہے، اس میں صرف آپ کو نبی بنائے جانے کے فیصلے کا ذکرہے ، بس یعنی آپ کے نبی بننے کا فیصلہ بہت پہلے ہی ہوچکا ہے ، ہماری اورآپ کی بھی قسمت کافیصلہ بہت پہلے ہوچکا ہے ، جیسا کہ تقدیر پر ایمان کا تقاضہ ہے توکیا اس وقت ہماری میلاد ہوچکی تھی ؟


    اللہ ہدایت دے۔ آمین۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  18. اقبال ابن اقبال

    اقبال ابن اقبال -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 26, 2012
    پیغامات:
    67
    تمام مسلمانوں کو جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مبارک ہو۔

    اقبال ابن اقبال کی طرف سے تمام مسلمانوں کو جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مبارک ہو
    اس تھریڈ پر فقط محبان مصطفٰی و عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نبی رحمت شفیع امت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی کا اظہار فرمائیں ۔شکریہ
    نوٹ : تمام گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا داخلہ ممنوع ہے ۔
     
  19. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    نبی کے دشمنوں کو جشن وفات النبی مبارک ہو
    اور محبان رسول صلى اللہ علیہ وسلم کو انکی سنتوں پر عمل پیرا ہونا مبارک ہو ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  20. عائش

    عائش -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 5, 2013
    پیغامات:
    128
    السلام علیکم
    آپ کو بھی جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مبارک ہو
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں