کیا یہ الگ شریعت و نبوت کا دعوی نہیں؟

راجپوت نے 'نقطۂ نظر' میں ‏فروری 17, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. راجپوت

    راجپوت -: محسن :-

    پیغامات:
    116
    کیا یہ الگ شریعت و نبوت کا دعوا نہیں؟

    [​IMG]

    نوٹ: شریعت پر عمل حتی الامکان اور میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے (نہ کہ قرآن و سنت سے) پر عمل کرنا فرض سے ذیادہ فرض ہے


    لنک
     
  2. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    پیغامات:
    372
    ان الفاظ سے ویسے ایسا کوئی دعوی ظاہر تو نہیں ہورہا۔
    اس لئے بغیر تصدیق کے اور متعلقہ افراد سے اس بارے میں تحقیق کئے بغیر کوئی بھی گمان نہیں‌کرنا چاہئیے۔۔
     
  3. راجپوت

    راجپوت -: محسن :-

    پیغامات:
    116
    ہمیں دین مذہب جو قرآن و سنت سے ظاہر ہے اس پر قائم رہنے کا حکم ہے جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے:
    اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم ولا تتبعوا من دونہ اولیآء قلیلاً ما تذکرون (الاعراف:٣)
    تم لوگ اس کی اتباع کرو جو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اﷲ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے رفیقوں کی اتباع مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے۔۔۔

    لیکن یہاں احمد رضا خان صاحب فرما رہے ہیں کہ میرا دین مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اس پر مضبوطی سے قائم رہنا فرض سے اہم فرض ہے
     
  4. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    پیغامات:
    372
    میں‌ یہاں‌احمد رضا صاحب کا دفاع تو نہیں‌کر رہا، مگر مجھے اس طریقہ کار سے ضرور اختلاف ہے جو آپ نے محض اپنے مطلب کی بات بنانے کے لئے اختیار کیا ہے۔
    آپ یہاں‌اتباع شریعت والی بات تو گول ہی کر گئے ہیں‌۔ اصل عبارت غالبا یہ تھی:۔
    حتی الامکان اتباع شریعت نہ چھوڑو۔
    میرا دین مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اس پر مضبوطی سے قائم رہنا فرض سے اہم فرض ہے۔

    اب یہاں موصوف نے اپنا دین و مذہب کوئی الگ سے تو بیان نہیں کیا نا۔ اور پہلے ہی اتباع شریعت کی بات کی ہے۔
    اب خود بتائیے کہ اگر اتباع شریعت بھی کی جائے اور فرض کریں‌کہ انکا کوئی الگ مذھب ہے اس پر بھی عمل کیا جائے تو یہ تو ممکن نہیں‌ہوگا نا۔

    تو میرے نزدیک انہوں نے دین اسلام پر ہی چلنے کی بات کی ہے۔ اور چونکہ وہ اپنے وقت کے عالم تھے تو انہوں‌نے اپنی کتب میں اسلامی تعلیمات ہی کی باتیں‌کی ہوئی ہیں۔
    یہ الگ بات ہے کہ مسلکی اختلافات ایسی ہی تشریحات پر جنم لیتے ہیں۔
    مگر اسے کوئی الگ شریعت قرار دے دینا میرے نزدیک نا انصافی ہوگی۔

    کیا آپ نے اس سے متعلق انکے مسلک کے لوگوں سے بات کی تھی اور جس قسم کا دعویٰ آپ نے کیا، کیا اس مسلک کے لوگوں‌سے اس پر بات کی؟

    بغیر تحقیق کے اپنی ذاتی سمجھ کے مطابق کوئی بھی الزام تراشی کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتی۔۔



     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    24,484
    بلاشك انہوں نے بار بار اتباع شريعت، اتباع سنت كا نام ليا ہے مگر ايك نصيحت بھی شريعت كے مطابق نہیں۔ یہ مواجہہ شريف ميں تلاوت ،درود، پھر فاتحہ شريف كا لمبا مينو،خانہ ساز دودھ كا برف ،مرغ پلاؤ، مرغ بريانى، بالائى فيرنىن شامى كباب پراٹھے۔۔۔۔ بلا بلا بلا۔۔۔ يہ سب كون سى شريعت اور كون سى سنت ہے؟؟؟
    كيا سنت وشريعت صرف نام نہاد اعلى حضرت كى كتب تك محدود ہے؟؟؟ ان لوگوں نے ہی ملفوطات حضرت كو اتنا بڑھايا كہ ان كے عقيدت مندوں کے ہاں تلاوت و فہم قرآن كريم متروك ہو گیا۔اور صاحب موضوع نے اسى بات كى نشان دہی کی ہے۔
     
    ابو عبداللہ صغیر نے شکریہ ادا کیا ہے.
  6. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    پیغامات:
    372
    میری گفتگو کا دائرہ محض اس عبارت تک تھا، جس کا مطلب خطرناک طریقے سے دعویٰ ء نبوت و شریعت نکالا گیا۔

    باقی انکی تعلیمات شریعت کے مطابق ہیں یا نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے، مگر اس میں‌کہیں بھی کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ نظر نہیں آتا۔

    اور ویسے بھی ہمارے مسلک پرست مسلمان ایک دوسرے کے کیڑے نکالنے کے ہنر میں‌بہت ماہر ہیں۔ انہیں اتحاد بین المسلمین کے طریقوں کی بجائے اختلاف بین المسلمین رائج کرنا بہت پسند ہے۔

    اور مزے کی بات یہ کہ یہ تمام مسلک کسی ایک شریعت پر بھی راضی نہیں ہوتے۔۔۔ :00013:


     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    24,484
    اتحاد کے بخار ميں رد بدعات كو نظر انداز كر دينا بھی کوئى عقل مندى نہیں۔نبي صلى اللہ عليہ وسلم سے زيادہ كوئى اتحاد والفت بين المسلمين كا حريص نہیں ہو سکتا آپ نے فرمايا: ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم ميں جائے گی۔ (كل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار (
    رہی بات ايك شريعت پر جمع ہونے كى تو الحمد للہ نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا ميرى امت كا ايك گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔
    الحمد للہ وہ گروہ موجود ہے!
     
  8. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    پیغامات:
    372
    میری محترم بہن،
    جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ ایک دوسرے کے کیڑے نکالنے کے ماہرین کی کمی نہیں ہے۔
    غور سے دیکھئے اور بتائیے کہ بات بدعات پر ہو رہی ہے، یا کسی ایک عبارت کی اپنی مرضی کی تشریح کر کے ان پر دعویٰ نبوت کا الزام لگانے کی؟
    اسے بڑھا چڑھا کرے کسی اور موضوع کی طرف مت لے کے جائیے۔ بہتر ہے اصل موضوع پر ہی رہیں۔

    میں نے تو یہ بھی پوچھا تھا کہ یہاں آکر اتنا بڑا الزام لگانے سے پہلے کیا موضوع پوسٹ کرنے والے نے اس مسلک کے لوگوں سے اپنے اس دعوے کے متعلق استفسار کیا تھا؟‌

    اور ویسے جس گروہ کی بات آپ کر رہی ہے، ہر مسلک اسی قسم کے دعوے کرتا نظر آتا ہے۔۔۔

    اور اس عبارت سے صاحب موضوع کا دعویٰ ء نبوت کہاں‌سے ثابت ہوتا ہے؟ یہی ثابت کر دیجئے ذرا؟

     
  9. راجپوت

    راجپوت -: محسن :-

    پیغامات:
    116
    فرخ بھائی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ تو یہ فرمائیں کہ یہ عمر کی رائے ہے ۔ اگر صحيح ہے تو اللہ رب العزت کی جانب سے ہے اور اگر غلط ہے تو عمر کی طرف سے ہے ۔ اور کہا سنت وہ ہے جو اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ عليہ و سلم کا طريقہ ہے غلط رائے کو امت کے ليے سنت نہ بناؤ۔

    امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ قاضی ابو یوسف کو فرمائیں:
    اے یعقوب (ابویوسف) تیری خرابی ہو،میری ہر بات نہ لکھا کر، میری آج ایک رائے ہوتی ہے اور کل بدل جاتی ہے۔ کل دوسری رائے ہوتی ہے پھر پرسوں وہ بھی بدل جاتی ہے۔
    (تاریخ بغداد 424/13 ،تاریخ ابن معین 2/607 وسندہ صحيح)

    لیکن یہاں احمد رضا خان صاحب یہ نصیحت کریں کہ اتباع شریعت حتی الامکان اور میرا دین ومذہب فرض سے اہم فرض ہے
    کیا تقلیدِ جامد اس ہی طرح کی نصیحتوں کی وجہ سے نہیں ؟
    آپ یہ بتائیں کیا کسی امتی کے لئے ایسی بات کہنے کی اجازت ہے؟
    اپنے دین مذہب جو اپنی کتابوں سے ثابت ہے اسے فرض سے اہم فرض قرار دینا ایک نئی شریعت کی طرف دعوت نہیں؟
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 18, 2011
  10. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    پیغامات:
    774
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

    حیرت ہے کہ فرخ صاحب اتنی آسان بات بھی سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اگر موصوف مذکورہ عبارت کو ایک خاص نقطہ نظر سے دیکھنے کے بجائے معتدل نگاہ سے دیکھتے تو بات بالکل بھی مشکل نہیں تھی۔

    احمد رضا صاحب پہلے فرماتے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو شریعت کے پابند رہو۔ یعنی شریعت کی پابندی ہر حال میں لازمی و فرض نہیں صرف حسب استطاعت اس پر عمل ضروری ہے۔ لیکن شریعت کے برعکس جو چیز ہر فرض سے اہم فرض ہے جسے کسی حال میں چھوڑا نہیں جاسکتا وہ احمد رضا کا خود ساختہ دین و مذہب ہے جو اس کی کتابوں میں لغویات، شرک اور بدعات کی شکل میں موجود ہے۔

    کون کہتا ہے کہ یہ نئی اور خودساختہ شریعت کی طرف دعوت نہیں؟ اگر اب بھی آپکو بات سمجھ میں نہیں آئی تو ہم احمد رضا کی کتابوں میں موجود شرک، بدعت، شریعت سازی اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین دکھاتے ہیں جسے احمد رضا نے اپنا دین و مذہب کہا ہے۔ کیا آپ واقعی اسے دین و مذہب سمجھتے ہیں؟؟؟

    زبربحث عبارت کے آخر میں احمد رضا نے یہ لکھ کر کہ اللہ توفیق دے۔ اللہ رب العزت کی گستاخی کی ہے۔ کیا اللہ رب العالمین سے شرک و بدعت کی توفیق بھی مانگی جاتی ہے؟

    نیزفرخ صاحب کا راجپوت بھائی سے یہ کہنا کہ کیا آپ نے اس سے متعلق ان کے مسلک والوں سے بات کی نہایت ہی عجیب ہے۔ یعنی اگر بریلوی حضرات اس کو نئی شریعت کی طرف دعوت سمجھتے ہوں تو اہل حدیث یہ بات کریں ورنہ نہیں۔ ماشاءاللہ کیا بات ہے!
    بریلوی تو شرک کو توحید اور بدعت کو سنت سمجھتے ہیں اس لئے بریلویوں کے نزدیک احمد رضا کی کتابوں میں موجود شرک و بدعت عین شریعت اور اسلام ہے۔ کیا فرخ صاحب ان سے اتفاق کرتے ہیں؟


     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 19, 2011
  11. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    پیغامات:
    372
    بہت احترام کے ساتھ، میں‌بحث در بحث سے پرہیز کرتے ہوئے صرف یہی سوال دہراؤں گا کہ ان عبارات میں سے نبوت کا دعوے دار ہونے کا ثبوت کہاں‌ہے؟
    اور میری تمام گفتگو، ان عبارات پر کی گئ الزام تراشی کے گردہی گھومتی ہے۔
    باقی مجھے احمد رضا خان صاحب سے کوئی ذاتی ہمدردی نہیں ہے نہ ہی میں کسی مخصوس مسلک کی سائیڈ لے رہا ہوں
    البتہ یہ اعتراض ضرور رکھتا ہوں کہ چند عبارات پر اتنا بڑا الزام کس بنیاد پر؟

    آپ حضرات کی اوپر کی گئی گفتگو سے یہ نبوت کے دعوے دار ہونے کا الزام کہیں سے ثابت نہیں ہوتا۔ آپ اختلاف ضرور کریں مگر اتنا بڑا الزام کسی ٹھوس بنیاد پر لگائیں۔۔

    بریلیوں‌کی شرک و بدعات سے تو میں کسی صورت بھی اتفاق نہیں کر سکتا نہ میرا دین و ایمان اسکی اجازت دیتا ہے۔

    مگر میرا ایمان اور دین مجھے بدگمانی اور بڑھا چڑھا کر الزام تراشی سے بھی روکتا ہے اور جب میرے برادران دین یہی حرکت کریں‌تو ان سےپوچھنے کا حق بھی محفوظ رکھتا ہوں

    تو میرا سوال وہیں کا وہیں ہے، کہ اس عبارت میں نبوت کا دعویٰ کہاں‌ہے؟
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 19, 2011
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    پیغامات:
    15,455
    فرخ بھائی اگر واقعی سمجھنا مشکل ہے تو پھر آپ ہمیں سمجھا دیں کہ اس عبارت سے بریلویوں کے اعلیٰ حضرات کیا سمجھانا یا بتانا چاہا رہے ہیں
     
  13. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    پیغامات:
    372
    عکاشہ بھائی
    بریلیوں‌کے اعلٰی حضرت غلط کہہ رہے ہیں‌یا صحیح، یہ ایک الگ بحث ہے۔
    مگر جن برادران نے ان کی ایک عبارت پر نبوت کا دعوے دار ہونے کا مسئلہ کھڑا کیا ہے، وہ مجھے پلے نہیں‌پڑ رہا کہ اس میں‌نبوت کا دعویٰ کیسے کیا گیا ہے؟

    پہلے میں‌نے الگ شریعت والی بات پر اعتراض بھی کیا تھا، مگر چونکہ خود بریلیوں میں‌بدعات وغیرہ چیزوں‌سے واقف ہوں، تو یہ بات سمجھ میں‌آجاتی ہے کہ یہ شریعت میں‌تبدیلی کے موافق حرکات کرتے رہتے ہیں۔

    مگر بھائیو: جب نبوت والا الزام لگایا ہے، تو ثابت بھی تو کرو نا؟
    اس میں احمد رضا صاحب نے کہاں‌یہ کہا ہے کہ وہ نبی ہیں؟ یا کسی اور نے کہا ہو یا کوئی اور ایسی ہی بات؟

    اب میرے ہم مسلک یا ہم خیال لوگ اگر ایک غلط دعوے کا الزام کسی پر لگائیں‌گے، تو میں‌کیا انکی بات صرف اس لئے مان جاؤں‌کہ میرے ہم خیال یا ہم مسلک ساتھی ایسا کہہ رہے ہیں؟

    قرآن و سنت میں جو تعلیمات سے میں‌اب تک بہرہ مند ہوا ہوں ان میں‌مجھے کسی ایسی اندھی تقلید کی اجازت نہیں دی گئی ہے

    یہ سوال بنیادی طور پر راجپوت بھائی کی طرف ہی جاتا ہے، مگر کوئی اور صاحب اگر انکے نبوت والے الزام کو ثابت کرنا چاہئیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔۔۔




     
  14. راجپوت

    راجپوت -: محسن :-

    پیغامات:
    116
    فرخ بھائی اپنی بنائی ہوئی شریعت کی طرف دعوت دینا نبوت کی طرف پیش قدمی نہیں تو پھر اور کیا ہے؟

    [font="_pdms_saleem_quranfont"]اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ
    ﴿ (سورہ التوبہ ایت31)
    ترجمہ:- انھوں نے اپنے احبار (مولویوں) اور رحبار(پیروں) کواللہ کے سوا رب بنا لیا

    اس آیت کی تفسیر نبی علیہ الصلاة والسلام نے خود فرمائی ہے،
    عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ (جو اسلام قبول کرنے سے قبل عیسائی تھے) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی علیہ الصلاة والسلام کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا تو عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول علیہ الصلاة والسلام ہم نے ان کی کبھی بھی عبادت نہیں کی اور نہ ہم مولویوں اور درویشوں کو رب مانتے تھے تو نبی علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]اما انھم لم یکونوایعبدونھم ولکن ھم اذا احلو الھم شیئا استحلو واذاحرمواعلیھم شیئا حرمھ[/font]
    وہ اپنے علماءکی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن جب ان کے علماءکسی چیز کو حلال کہہ دیتے تو وہ اسے حلال کر لیتے اور جب وہ کسی چیز کو حرام قرار دیتے تو وہ بھی اسے حرام تسلیم کر لیتے (سنن ترمذی مع تحفة الاحوزی ص:۷۱۱ج۴)

    ان درویشوں اور مولویوں نے اپنے رب ہونے کا دعوا تو نہیں کیا تھا لیکن پھر بھی کہا گیا ہے کہ انہیں رب بنا لیا گیا تھا
    [/FONT]
     
  15. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    پیغامات:
    372
    راجپوت بھائی
    یہ اپنی بنائی ہوئی شریعت یا شریعت کے اندر اپنی چیزیں ڈال کر تبدیل کرنے کا ملاوٹ کر کے بدعات والی تمام باتیں مجھے سمجھ میں آتی ہیں۔۔۔، مگر یہ نبوت کا دعویٰ کہیں‌سے نہیں‌ہے۔ اور نہ ہی اسکی طرف پیش قدمی ہے۔
    اگر شریعت میں اپنی مرضی کی ملاوٹ والے معاملے کو دیکھا جائے، تو جیسے آپ اس بات کو بنیاد بنا کر ان پر دعویٰ نبوت کا الزام عائید کر رہے ہیں اسطرح تو پھر دیگر مکاتب فکر پر بھی کہیں نہ کہیں سے کھینچ تان کر یہ الزام عائید کیا جاسکتا ہے ورنہ یہ مسلک یا مکاتب فکر وجود ہی کیوں‌رکھتے؟

    اور میرے بھائی،آپ نے اوپر عنوان میں‌ "الگ شریعت و نبوت کا دعویٰ" لکھا ہے، اسکی طرف پیش قدمی نہیں۔۔۔۔ ان دونوں‌باتوں میں بہت واضح فرق ہے۔ اور میرا ذاتی خیال ہے کہ آپ ماشاءاللہ اتنے سمجھدار ضرور ہیں کہ کسی مقام کی طرف پیش قدمی اور اس مقام پر موجود ہونے کے فرق کو جانتے ہونگے

    نیچے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٍ وسلم کی جس تفسیر حوالہ آپ نے دیا ہے، اس میں نبوت نہیں، بلکہ علماء کی ربوبیت کے نہ ہونے، مگر انکی اندھی تقلید کا ذکر ہے نہ کہ نبوت کا۔۔۔

    احمد رضا خان صاحب کا بحیثیت عالم گمراہ ہونا ممکن ہے اور انکے پیروکار انکی تقلید میں بھی گمراہ ہوسکتے ہیں اور نیچے بیان کی گئی تفسیر میں اسی اندھی تقلید کا تذکرہ ہے جو گمراہی کی طرف لے جاسکتی ہے۔

    مگر کے دئے ہوئے کسی بھی حوالے یا دلیل سے نبوت کے دعوے کا الزام پھر بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا۔۔۔

    میری درخواست ہے کہ کسی بھی بات کو بس اتنا ہی غلط کہیں جتنی وہ ہے۔ اس سے بڑھ کر اسے غلط کہنا بدگمانی اور الزام تراشی ہوتی ہے جو بہرحال جھوٹ سے منسلک ہے۔۔۔۔۔

     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 20, 2011
  16. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    پیغامات:
    774
    پہلے تو آپ اس بات کو بھی ماننے کو تیار نہیں تھے جس کا اقرار اب کررہے ہیں دیکھئے:

    بہرحال شکریہ کہ نئی شریعت والی بات آپکو سمجھ میں آگئی۔ اب رہی بات نبوت کی طرف پیش قدمی کی تو اس سلسلے میں عرض ہے۔ کہ امت کے لئے کسی چیز کو فرض قرار دینا صرف ایک نبی کا کام ہے جو وحی الہی کی روشنی میں امت کو بتاتا ہے کہ یہ چیز تمہارے لئے ضروری، واجب اور فرض ہے۔ نبی کے علاوہ غیر کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی ایسی چیز کو فرض قرار دے جسے نبی نے فرض نہ کیا ہو۔

    اب میں فرخ صاحب سے سوال کرتا ہوں کہ کس دلیل کی بنیاد پر احمد رضا صاحب یہ فرما رہے ہیں کہ کہ میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اس پر مضبوطی سے قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے۔
    یا تو کوئی یہ دعویٰ کرے کہ احمد رضا نے اپنی کتابوں میں خالص قرآن و حدیث کو بیان کیا ہے اور اپنی رائے داخل نہیں کی پھر تو یہ دعویٰ بالکل درست ہے کہ موصوف کی کتابوں میں جو کچھ لکھا ہے اس پر عمل کرنا فرض ہے۔

    لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور یقینا نہیں ہے تو پھر احمد رضا کا اپنی آرا اور شرکیہ مذہب کو امت پر فرض قراردینا نبوت کی طرف پیش قدمی نہیں تو کیا ہے؟ ایک نبی کا یہ دعوی تو بالکل درست ہے کہ میری تعلیمات پر عمل کرنا فرض ہے کیونکہ نبی کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے۔ لیکن کیا احمد رضا کی تعلیمات پر عمل کرنا بھی اللہ کی اطاعت ہوگی؟

     
  17. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    پیغامات:
    372
    محترم شاہد نزیر

    ذرا یہ تو بتائیے کہ میں کہاں‌ماننے کو تیار نہیں تھا یہ بات؟
    میرا سوال اب بھی اس عبارت کی حد تک ہے جس کو نمایاں‌کر کے ایک ایسا دعویٰ کیا گیا ہے جسے آپ ثابت کرنے کے لئے الفاظ کے ہیر پھیر اور تاویلات کا استعمال کرتے نظر آرہے ہیں۔
    آپ شائید عادتا راجپوت صاحب ہی کی طرح اصل بات سے منحرف ہو رہے ہیں۔
    ایک مرتبہ نہیں ہزار مرتبہ اوپر جا کر دیکھئے، عنوان میں کیا کہا گیا ہے!!!!
    یہ نبوت کی طرف پیش رفت کا دعویٰ کا الزام نہیں‌ہے بلکہ نبوت کے دعویٰ کا الزام ہے اور بہت بڑا الزام ہے۔
    اور اب آپ دونوں‌حضرات نہیں‌اپنے ہی عنوان کو تبدیل کر کے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ یہ نبوت کی طرف پیش رفت ہے


    میں‌نے پہلے بھی عرض کی تھا، کہ کسی مقام کی سمت میں‌پیش رفت اور اس مقام پر موجود ہو نے میں‌بہت بڑا فرق ہوتا ہے اور اگر آپ کو یہ فرق نظر نہیں‌آتا، تو معذرت کے ساتھ، مجھے آپکے علوم و دلائل پر اعتماد نہیں‌ہوگا۔

    رہ گئی بات اس جملے کی جس میں یہ کہا گیا ہے کہ میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو محترم، اگر صرف اسی جملے کی تشریح چاہتے ہیں تو وہ تو بہت سادہ سی بات ہے جو آپ جیسے عالم فاضل کی آنکھ کو نظر نہیں‌آرہی۔۔۔
    اگر میں یہ کہوں‌ کہ میرا دین و مذھب اسلام ہے اور میں‌اپنی تصانیف و تالیفات میں‌اسلام ہی کی تبلیغ کرتا ہوں، تو اس میں‌کیا مضائقہ ہوگا؟؟؟؟؟؟؟؟
    بس اپنے ذھن سے ذرا تعصب کا پردہ اتار کے دیکھئے گا، تو سادہ سی بات سمجھ میں‌آجائے گی۔
    مگر بہت سے دیگر مولانا حضرات کی طرح اگر کیڑے نکالیں‌گے، تو اس کام کے ماہرین کی تعداد کچھ کم نہیں‌ہے آجکل۔۔۔

    مگر آپ نے میرے اصل سوال کو گول کرنے کی انتہائی ناکام کوشش کی ہے۔
    ثابت کیجئے کہ انہوں‌ نے نبوت کا دعویٰ کہاں‌کیا ہے جیسا کہ راجپوت صاحب نے اس موضوع کے عنوان میں‌تحریر کیا ہوا ہے؟
    یاد رہے، انہوں‌نے نبوت کی طرف پیش رفت کا الزام نہیں، بلکہ نبوت کے دعویٰ کا الزم عائید کیا ہے؟

    اور پیش رفت کرنے اور اس مقام پر کھڑے ہونے کا فرق پہلے بھی بتا چکا ہوں۔


     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 21, 2011
  18. راجپوت

    راجپوت -: محسن :-

    پیغامات:
    116


    یہاں آپ الگ شریعت ماننے کے لئے بھی تیار نہیں تھے دیکھیں:
    لیکن پھر آپ مان گئے:
    اور جناب فرخ بھائی میں نے کوئی احمد رضا پر نبوت کے دعوے کے فتوے نہین لگا دئے بلکہ اس تھریڈ کا تو سوالیہ عنوان ہے کیا یہ الگ شریعت و نبوت کا دعوی نہیں؟
    اب آپ یہ بتائیں کہ یہ الگ شریعت و نبوت کا دعوا نہیں تو کیسے؟
    کیا اس طرح کے دعوے کوئی غیر نبی کر سکتا ہے؟
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 21, 2011
  19. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    پیغامات:
    372
    جسےآپ میرا ماننا کہہ رہے ہیں وہ تو بحث کا دوسرا رخ ہے جو اس عبارت میں‌نہیں‌ہے اسلئے آپ نے مختلف رخ کی باتوں کا ملا کر مطلب کچھ اور ہی نکالا ہے۔ ورنہ اس نمایاں‌کی گئی عبارت سے الگ شریعت و نبوت ظاہر نہیں ہور ہی ہے۔

    اور میرے محترم دوست۔۔۔اگر بات اتنی سی ہوتی:
    تو شائید یہ بات تو آپ ادھر اُدھر بار بار رخ تبدیل کرنے اور اسے "نبوت کی طرف پیش رفت" کا نام دینے سے پہلے کہ بتا دیتے۔ اور نہ ہی بحث یہاں تک پہنچتی۔ بلکہ اسے تو ثابت کرنے کے لئے "نبوت کی طرف پیش قدمی" سےتبدیل کرنے کی کوشش نہ کی جاتی۔

    جسے آپ سوالیہ عنوان کہہ رہے ہیں، وہ اگر کچھ یوں‌ہوتا "کیا یہ الگ شریعت و نبوت کا دعوی ہے؟؟" تو بات سمجھ آتی تھی، مگر آپ کے سوالیہ نما عنوان سے صاف ظاہر ہے کہ آپ نے یہ فیصلہ کن الزام لگایا ہے بالکل اس انداز میں کہ:
    ایک بھائی دوسرے بھائی کو یہ کہے "کیا میں تمہارا بھائی نہیں"۔

    مجھ سے سوال پوچھنے کی بجائے یہ بتائیے کہ کیا آپ کو اس عبارت میں‌نبوت کا دعویٰ نظر آتا ہے؟ اور وہ کیسے؟
    صرف اسی عبارت کی بات کیجئے گا جسے آپ نے نمایاں کیا ہے۔ یا کم از کم اس صفحے پر ہی کوئی اور عبارت دکھا دیجئے جس سے نبوت کا دعویٰ جو احمد رضا صاحب نے خود کیا ہو، ظاہر ہوتا ہو؟


    اسے تاویلات سے یا اپنی محدود سوچ سے مدلل مت کیجئے گا۔ اگر رضا صاحب نے بذات خود نبوت کا دعویٰ نہین کیا، تو آپ یا کسی اور کو حق کہاں‌سے پہنچ گیا کہ آپ ان پر ایسا الزام تھوپ دیں؟


     
  20. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    پیغامات:
    774

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

    معاف کیجئے گا میں نے احمد رضا کے جملوں کی سادہ سی وضاحت کی ہے جسے تاویل سے تعبیر کرنا انتہائی عجیب اور افسوسناک ہے۔ آپ سے صرف ایک سوال کیا تھا اگر آپ اس کا جواب دے دیتے تو مسئلہ حل ہوجاتا۔ سوال یہ ہے کہ احمد رضا کا اپنی کتابوں میں موجود خودساختہ دین و مذہب پر کاربند رہنے کو ہر فرض سے بڑا فرض قرار دینا کس دلیل کی بنیاد پر ہے؟ احمد رضا کو کس نے اختیار دیا ہے کہ وہ اس چیز کو فرض قرار دے جسے اللہ اور اسکے رسول ﷺ نے فرض نہیں کیا؟ احمد رضا کا وہ بات کہنا جوصرف ایک نبی کو لائق ہے نبوت کی طرف پیشقدمی یا نبوت کا دعویٰ نہیں تو اور کیا ہے؟

    احمد رضا کی عبارت کو ہم نے نبوت کی طرف پیش قدمی یا نبوت کے دعویٰ سے صرف اسلئے تعبیر کیا ہے کہ احمد رضا نے مذکورہ عبارت میں وہ بات کی ہے جو ایک نبی کرتا ہے۔ امید ہے یہ سادہ سی بات سمجھ میں آگئی ہوگی۔ اگر نہیں آئی تو برائے مہربانی لایعنی گفتگو کرنے یا میں نہ مانوں کی گردان کے بجائے ہمارے سوالات کے جواب عنایت فرمادیجئے گا۔ کیونکہ ہم نے جو دعویٰ کیا اس کی بنیاد آپکو بتادی ہے اب آپکا جو دعوی ٰ ہے ہمارے پوچھے گئے سوالوں کے جواب سے اسکی حقیقت بھی واضح ہوجائے گی۔

     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں