کیا یہ الگ شریعت و نبوت کا دعوی نہیں؟

راجپوت نے 'نقطۂ نظر' میں ‏فروری 17, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    774
    مثال کے طور پر ایک شخص کہتا ہے کہ عیدمیلاد پر جشن منانا فرض ہے ۔سننے والا فوراً کہے گا کہ کس نے اسے فرض کیا ہے؟ اگر نبی ﷺ کی حدیث سے عیدمیلاد پر جشن ثابت ہوجائے تو ہر مسلمان بلا چوں چراں اسے فرض مان لے گا۔ کیونکہ فرض وہی ہے جسے اللہ اور اسکا رسول ﷺ فرض کہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی ایسی چیز کو فرض کہے جس کی فرضیت کی کوئی دلیل قرآن اور حدیث سے نہ ہو تو جو جو اس شخص کی بات کو قبول کرے گا اصل میں وہ اسکی نبوت کو تسلیم کررہا ہوگا اور ایسے شخص کو منصب نبوت پر بٹھا رہا ہوگا۔ اور ایسے شخص کے دعویٰ کو بھی نبوت ہی کے دعویٰ سے تعبیر کیا جائے گا کیونکہ اس نے ایک ایسا دعویٰ کیا جو ایک نبی کے کرنے کا تھا۔ اب اس بات کی کوئی حاجت نہیں کہ ضرور بالضرور وہ اعلان کرے کہ میں نبی ہوں۔

     
  2. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    372
    سب سے پہلی بات جو چھوٹی ہے، مگر بہت اہم ہے اور میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا، کہ "نبوت کی طرف پیش قدمی یا پیش رفت" اور نبوت کے مقام پر ہونے میں کافی بڑا فرق ہے۔۔۔۔
    اوپر ایک عبارت کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ نبوت کا دعویٰ ہے گویا، احمد رضا صاحب نے بذات خود نبی ہونے کا دعویٰ کر ڈالا اور وہ اوپر پیش کیا گیا سکین شدہ صفحے میں سے کہیں بھی واضح نہیں‌ہوتا۔

    آپ نے باقی جتنی باتیں کیں وہ احمد رضا صاحب کے مسلک اور اس میں موجود اختلافات سے متعلق ہیں۔ اور جن پر آپ اپنے طور پر یہ نتیجہ نکال رہے ہیں کہ یہ نبی ہونے کی کوشش ہے یا نبوت کی طرف پیش قدمی ہے۔ ۔۔۔ مگر کہیں سے بھی یہ نبوت کا دعویٰ نہیں ہے۔۔۔

    اسی لئے اس موضوع کا عنوان ہی غلط ہے، بدگمانی پر مبنی ہے اور سراسر تعصب پر مبنی ہے۔

    آپ نے اور راجپوت بھائی نے جتنی بھی گفتگو اسکے دفاع میں اب تک کی ہے، اسکی رو سے اگر اس موضوع کا عنوان "نبوت کی طرف پیش رفت یا پیش قدمی یا اسکی کوشش" ہوتا تو ٹھیک لگتا، مگر جب کسی پر الزام ہی تھوپ دیا جائے کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور اس نے نہ کیا ہو، تو یہ جھوٹا الزام ہوتا ہے۔
    اور اسی وجہ سے میں یہ عرض بھی کی تھی، کہ کیا آپ نے انکے مقلیدین یا ان کے مسلک کے پیروکاروں سے اپنے اس موقف کے بارے میں بات کی ہے یا محض اپنی ہی سمجھ پر چلتے جا رہے ہیں حتیٰ کہ پیش قدمی اور کسی مقام پر موجود ہونے کا فرق بھی بھلا چکے ہیں۔
    (جاری۔۔
     
  3. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    372
    میں بریلیوں کے دیگر مکاتب فکر کے علماء کے درمیاں ہونے والے مناظرے بھی دیکھتا رہتا ہوں اور ایسی باتیں پہلے بھی ان پر کہی جاتی رہی ہے۔ جس کے جواب میں انکے پاس اسکے حوالے در حوالے بھی موجود ہوتے ہیں جن میں وہ تابعین، تبع تابعین یا دیگر آئیمہ کرام کے حوالہ جات کے ذریعے بات کرتے ہیں۔
    وہ غلط ہوتے ہیں یا صحیح، یہ الگ مسئلہ ہے۔
    ‌مثال کے طور پر، آپ نے عید میلادالنبی کی بات کی، تو اسکے حق میں‌تو وہ کئی کئی کتابوں سے دلائل نکال لاتے ہیں۔۔حتیٰ کہ سورہ مائدہ میں ایک آئیت ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آسمان سے مائدہ یعنی کھانا آنے پر اس دن کو عید کا دن قرار دیا تھا، تو یہ اپنی عید میلادالنبی کو اس کے ذریعے بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں

    مگر کہیں پر بھی اس طرح کی باتیں محض احمد رضا خان صاحب کی اپنی شریعت کے طور پر سامنے نہیں‌آئیں‌بلکہ انکے پیچھے کسی آئیت و حدیث کا مطلب نکالنا، کسی صحابی کا قول، آئیمہ اکرام کا کوئی قول وغیرہ وغیرہ ہوتا ہے جسے مزید طوالت اور تاویل کے ذریعے وہ اپنا نقطہء نظر بتاتے ہیں۔اور اسی طرح کے لنک بنا کر وہ اسی کسی نہ کسی فرض سے جوڑ دیتے ہیں‌اور اس نئی چیز کو بھی فرض اور باعث ثواب قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

    یہ انکا طریقہ کار ہے اور اسی وجہ سے ان میں بدعات اور بہت سی ایسی باتیں جنم لے چکی ہیں جو ہمیں قرآن و سنت میں نہیں‌ملتیں۔

    مگر کسی کے گمراہ ہونے، کا قطعا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کر دیا ہو۔ جیسے قادنیوں کے جھوٹے نبی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا، تو اعلی العلان کیا اور اسکی اپنی کتابیں بھی ہیں جن میں اس پر کچھ چیزیں نازل ہوئیں۔۔۔

    مگر احمد رضا کی کیس میں جو طریقہ آپ نے اختیار کیا "نبوت کی طرف پیش قدمی کا"، میں‌اس سے بھی اختلاف اسی لئے کر رہا ہوں، کیوں کہ میں بریلیوں کی طریقہ کار سے واقف ہو کہ وہ قرآن و حدیث اور دیگر آئیمہ اکرام اور دیگر حوالوں سے کھینچ تان کر اپنا موقف بیان کرتے ہیں۔

    نبوت کے دعوے کا الزام بہت بڑا الزام ہوتا ہے جناب ۔ اور آپ جس پر یہ الزام لگا رہے ہیں جب تک وہ خود اس کا اقرار نہ کرلے، آپ کا الزام ثابت نہیں ہوگا، اور یہ جھوٹ ہی رہیگا
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 22, 2011
  4. راجپوت

    راجپوت -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 28, 2009
    پیغامات:
    116
    آپ نے اب تک ہمارے کسی سوال کا جواب نہیں دیا اگر آپ جواب دے دیں تو انہی جوابات میں آپ کو آپ کے اعتراض کا جواب مل سکتا ہے
     
  5. راجپوت

    راجپوت -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 28, 2009
    پیغامات:
    116
    کیا اس طرح کا دعوا کوئی غیر نبی کر سکتا ہے؟
     
  6. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    372
    راجپوت بھائی،
    لگتا ہے آپ نے اوپر میری باتیں مکمل طور پر نہیں‌پڑھیں۔ آپ کے سوال کا جواب تو میں‌دیتا آرہا ہوں۔۔ بس ذرا کھلے دل سے اور تعصب کی عینک اتار دیکھئے

    اور ویسے اب تک جتنے بھی نبوت کے جھوٹے دعویدار اس سے پہلے پیدا ہوئے، کیا انہیں‌دوسروں نے بتایا تھا کہ جناب آپ نے نبوت کا دعویٰ کر دیا ہے؟ یا انہوں نے خود اعلان کیا تھا کہ وہ نعوذباللہ، نبی ہیں؟



     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 22, 2011
  7. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    774
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

    فرخ بھائی کا اصل اشکال یہ ہے کہ جب احمد رضا نے نبوت کا واضح دعویٰ ہی نہیں کیا تو اس کی طرف اس کے کسی بھی عمل کی وجہ سے دعویٰ نبوت کی نسبت بھی غلط اور جھوٹی ہے۔

    میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ یہ ضروری نہیں کہ ضرور بالضرور کوئی شخص اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کرے اس کے بعد ہی اس کے متعلق یہ بات کی جائے کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہےبلکہ اس کے کسی ایسے عمل یا دعوے کی وجہ سے بھی جو صرف اور صرف ایک نبی کے لائق ہو اس شخص کی طرف دعوئے نبوت کی نسبت کی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رہے کہ اس کو اس عمل کی وجہ سے کافر یا دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا ایک الگ بحث ہے کیونکہ اس میں موانع تکفیر کو بھی دیکھنا پٹرتا ہے جس کی تفصیل آپ شیخ محترم رفیق طاہر بھائی کے اس مضمون میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں
    تکفير معين کے اصول و قوانين از شیخ‌ محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ تعالیٰ - URDU MAJLIS FORUM
    یہ اس لئے کہا ہے کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ جب آپ احمد رضا کی طرف نبوت کے دعوے کی نسبت کررہے ہو تو اس کو کافر قرار کیوں نہیں دے رہے؟ یہ علماء کا کام ہے ہمارا نہیں۔

    جب اللہ رب العالمین نے سورہ توبہ میں یہ فرمایا کہ انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا تو نہ تو عیسائی علماء اور درویشوں نے اپنے رب ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور نہ ہی عیسائی اپنے علماء اور درویشوں کے لئے رکوع و سجدہ جیسی عبادت کرتے تھے جیسا کہ خود عدی بن حاتم نے اس کی نفی فرمائی کہ ہم نے تو کبھی اپنے علماء کی عبادت نہیں کی اور نہ ہی انہیں رب بنایا پھر اللہ رب العالمین نے ایسی بات کیوں فرمائی؟ پھر اللہ کے نبی ﷺ نے یہ وضاحت فرمائی کہ عیسائیوں کا اپنے علماء کو حرام اور حلال کا اختیار دے دینا ہی ان کو رب بنانا اور ان کی عبادت کرنا ہے۔

    فرخ بھائی اگر آپ اپنے اصول کہ جب کوئی نبوت کا دعویٰ کرے اسی وقت اس کی طرف نبوت کی نسبت کی جانی چاہیے ورنہ یہ نسبت جھوٹ کہلائیگی کی روشنی میں سورہ توبہ کی آیت اور ترمذی کی حدیث کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ آپ کا اصول غلط ہے کیونکہ اللہ نے عیسائیوں کے علماء کو بغیر انکے دعویٰ ربوبیت کے انہیں رب کہا ہے کیونکہ انہوں نے وہ اختیارات اپنے ہاتھوں میں لئے جو صرف اللہ ہی کو لائق و زیبا ہیں۔ لیکن پھر بھی اگر آپ اپنے اصول کو صحیح قرار دینگے تو قرآن کی آیت اور حدیث کے بارے میں سوچ لیں ۔۔۔

    فرخ صاحب یہ آپ کو بھی تسلیم ہے کہ احمد رضا کی کتابوں میں لاتعداد باتیں قرآن اور حدیث کے خلاف ہیں اور احمد رضا اپنی کتابوں میں موجود تمام باتوں کو اپنا دین و مذہب قرار دیتا ہے اور اس کی پابندی کو ہر فرض سے بڑا فرض کہتا ہے۔ یعنی سیدھی سی بات ہے احمد رضا اپنی کتابوں میں بیان شدہ اقوال کو احادیث و قرآن پر مقدم کرنے کی بات کر رہاہے۔ اب جو بھی بریلوی اپنے خود ساختہ امام احمد رضا کی اس بات کو مانے گا اور یقیناً تمام بریلوی اسی خود ساختہ شریعت پر عمل پیرا ہیں جس کا پرچار احمد رضا نے اپنی کتابوں میں کیا ہے۔تو اس کا حکم کیا ہوگا؟ غلام رسول سعیدی بریلوی لکھتے ہیں: اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی صریح حدیث کے مقابلہ میں اپنے کسی دینی پیشوا کو ترجیح دینا اس کو رسول کا درجہ دینا ہے۔(تبیان القرآن، بحوالہ ماہنامہ محدث، اکتوبر ۲۰۱۰، ص۲۸)

    تمام بریلوی حضرات قرآن اور حدیث کے مقابلے میں اپنے دینی پیشوا کے قول کو ترجیح دیتے ہیں جوقرآن کی آیت اور حدیث رسول کی روشنی میں اس بات کا ثبوت ہے کہ عملاً بریلویوں نے احمد رضا کو اپنا نبی بنا لیا ہے۔ اور خود احمد رضا کا اپنے ماننے والوں کو یہ حکم دینا کہ قرآن اور حدیث کی اتباع حسب استطاعت ہے جبکہ میرے اقوال پر عمل ہر فرض سے بڑا فرض ہےسورہ توبہ کی آیت نمبر ۳۱ اور جامع ترمذی کی روایت کی روشنی میں کھلا نبوت کا دعوی ٰ ہے۔

    اب فرخ صاحب سے عرض ہے کہ مزید بحث کرنے سے پہلے ہمارے اٹھائے ہوئے اعتراضات کا جواب دیں۔ورنہ امانت و دیانت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہمار ا موقف تسلیم کرلیں۔ اگر فرخ صاحب دلائل سے ہمارے اعتراضات دور کردیتے ہیں تو ہم رجوع کرنے کے لئے تیار ہیں۔ان شاءاللہ

     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 23, 2011
  8. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    372

    وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔


    نبوت کوئی اسی چھوٹی چیز نہیں ہے کہ اسکے عمل کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا۔ جب ایک شخص نبوت کی بات ہی نہیں کررہا اور اسکےکسی خاص عمل کے بارے میں جو آپ کی نظر میں‌نبوت کی طرف پیش رفت ہو، اسکی بات سنے بغیر اور اسکا موقف سنے بغیر یکطرفہ طور پر الزام لگا دینا، بہرحال کہیں سے درست نہیں ہے۔

    اپنی پچھلی پوسٹ میں بھی میں عرض کی تھی، کہ اب تک جتنے بھی بنوت کے جھوٹے دعویدار پیدا ہوئے، کیا دوسروں نے انہیں انکے اعمال کی بنیاد پر نبی ہونے کا دعویدار ٹھہرایا تھا، یا انہوں نے خود نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا؟


    میں شیخ طاہر بھائی حفظ اللہ کے مضمون کا مطالعہ بھی کر لوں‌گا، آپ نے اچھا کیا کہ یہ مضمون شیر کیا، ورنہ میرے ذھن میں، آپ کے تکفیر والا نقطہ اُٹھانے سے یہ بات پیدا ہوئی تھی کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا انکار کرے خود نبوت کا دعویٰ کر ڈالے اور کفر میں مبتلا نہ ہو؟
    باقی کسی پر نبوت کے دعویٰ کا الزام لگانے کا کام بھی علماء پر ہی چھوڑ دیتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔۔۔

    ویسے کسی عالم نے آپ کی طرح ابھی تک احمد رضا کی اس عبارت پر دعویٰئ نبوت کا الزام لگایا بھی ہے یا نہیں؟


    میں سمجھتا ہوں کہ اس آئیت اور اس کی تشریحی حدیث میں جس اندھی تقلید کی بات کی گئی ہے اس میں‌خصوصا تذکرہ حرام اور حلال کے اختیار کے بارے میں ہے جو ان لوگوں نے اپنے علماء کو سونپ رکھا تھا، حالانکہ یہ صرف اور صرف اللہ سبحان وتعالٰی کا ہی حق ہے۔ مگر اس قوم نے یہ اختیار اپنے علماء کو دے رکھا تھا اور اسے لئے گمراہ بھی ہوئے۔

    مگر بھائی میرے، اس حدیث کو آپ احمد رضا کے کیس سے کیسے ملایا جا سکتا ہے جبکہ رضا صاحب حرام و حلال کا فیصلہ اپنی مرضی سے تو نہیں کرتے نظر آرہے نا۔۔۔

    کم از کم انکی زیر بحث عبارت میں مجھے ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی۔ جس میں انہوں نے اپنی مرضی سے حلال و حرام کا فیصلہ صادر فرما دیا ہو؟


    یہ آپ صرف اور صرف اپنی ذاتی سوچ اور سمجھ کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں بات اتنی سی نہیں جتنی آپ نے سمجھ لیا ہے، کم از کم زیر بحث عبارت کے معاملے میں

    میرا اصول میرے اس پوائینٹ پر مبنی ہے کہ ایک شخص جب اپنی کتب میں‌جس دین کی پیروی کی بات کررہا ہے وہ دین اسلام سے ہی تشریح شدہ ہے اور اخذ شدہ ہے (یہ الگ بات ہے کہ کچھ باتیں ہمارے مسلک میں‌قابل قبول نہیں ہیں( اور اس نے اپنی طرف سے کوئی نیا دین تو متعارف نہیں‌کروایا، بلکہ وہ اس کو قرآن و سنت سے ہی منسلک کرتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس نے اپنی کتب میں دین اسلام کی تشریحات آسان کردی ہیں، تو اس میں نبوت والی بات تو کہیں‌سے نہیں آتی۔۔

    آپ کواسکی تشریحات سے اختلاف ہوسکتا ہے، احادیث کے ضعف وغیرہ کا مسئلہ ہوسکتا ہے، کسی عمل کے اخذ دراخذ کرنے پر اختلاف ہو سکتا ہے۔۔۔۔ مگر یہ کوئی ایسی چیز تو نہیں ہے جسے آپ نبوت سے تشبیھ دے سکیں۔

    زیر بحث عبارت کا سادہ سا مطلب اس مثال سے بھی لیا جاسکتا ہے کہ میں‌ اپنے بچوں یا اپنے دوستوں سے یہ کہوں کہ میری کتب دین اسلام پر مبنی ہیں، اور تم پر اس کی پیروی فرض ہے، تو یہ نبوت کا دعویٰ نہیں ہوسکتا، کیونکہ میں‌ نے اپنی کتب کی طرف ضرور اشارہ کیا ہے، مگر یہ شریعت میری نہیں، نہ میری نبوت کی طرف پیش قدمی ہے۔

    ورنہ کتب کی پیروی کے سلسلے میں تو ہماری کتب احادیث پر یہ اعتراض بھی اٹھایا جاتا ہے کہ یہ نبوت کے اختتام کے دو یا تین صدیوں بعد لکھی گئیں تھیں اور اب اگر کوئی ہمیں یہ کہے کہ ان کتب احادیث کی پیروی کرو، تو آپ کے اصول کے مطابق کیا یہ نبوت کا دعویٰ ہوگا؟
    جبکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کتب احادیث محض صحاح ستہ نہیں بلکہ اسکے علاوہ بھی ہیں!!!


    دیکھئے میں بار بار ایک بات کرتا آرہا ہوں کہ احمد رضا کی لاتعداد باتیں خلاف قرآن و حدیث ہیں، مگر انکے اپنے مسلک میں‌ ان باتوں کی دلیلیں موجود ہوتی ہیں، جبکہ ہمارے ہیں ان دلائل کو نہیں مانا جاتا۔۔۔۔
    اور انہی کی بنیاد پر مسلک بنتے ہیں اور اختلافات ہوتے ہیں۔

    اب احمد رضا کی نظر میں ان کی کتب میں‌جو باتیں ہیں وہ دین اسلام کے مطابق ہیں اور وہ اسی کی پابندی کو فرض قرار دے رہے ہیں تو یہ گمراہ کن بات ہوسکتی ہے، غلط ہوسکتی ہے، مگر نبوت تو تب ہو نا، جب وہ یہ کہے یہ یہ باتیں‌مجھ پر نازل ہوئیں ہیں، یا محض میری اپنی ہیں۔



    محترم، دیکھا جائے، تو کم ازکم احادیث کے معاملے میں تو ہم بھی آئمہ اکرام کے محتاج رہے ہیں اور انہی کے اقوال اور حدیث پر تحقیق کو ترجیح دیتے ہیں۔ کیا کتب احادیث، قرآن کی مانند نازل ہوئی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ہمارے لئے مختص فرمایا تھا کہ یہ کتب میری سنت کی ہیں؟
    کیا ابھی تک انہی احادیث میں تحقیق نہیں ہورہی؟ کیا موجودہ زمانے کے محدث، مولانا البانی رحمہ اللہ نے مختلف احادیث پر الگ تحقیق نہیں کی اور انہیں ضعیف، احسن وغیرہ کے درجات میں لے کر نہیں گئے؟
    ہمارے مسلک میں کیا انہی علماء اکرام کی باتوں کو حدیث کے معاملے میں ترجیح نہیں دی جاتی؟

    اسی قسم کا مسئلہ بریلیوں کے مسلک میں ہے کہ وہ اپنے عالم یا امام کی باتوں کو ترجیح دیتے ہیں اور ان باتوں کے پیچھے انکے بھی دلالل ہوتے ہیں

    میں یہی عرض کئے جارہا ہوں کہ آپ نبوت کے دعویٰ کے الزام سے پہلے اس مسلک کے لوگوں‌سے اس عبارت کے بارے میں استفسار کیوں نہیں کرتے کہ انکے مسلک میں احمد رضا کی اس بات کا کیا مطلب بنتا ہے؟

    امانت و دیانت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ دوسرے کا موقف بھی سنا جائے ۔ اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے آپ نے جتنی بحث میرے ساتھ کی، اچھا ہوتا اگر یہی باتیں‌آپ احمد رضا کے پیروکاروں سے کرتے، تاکہ انکا موقف سامنے آتا، انکے دلائل سامنے آتے اور پھر آپ کوئی دعویٰ کرتے ہوئے اچھے بھی لگتے تھے۔

    اگر آپ اس مسلک کے لوگوں اپنے اس دعویٰ کے متعلق بات کریں اور وہ اسکی تصدیق کریں اور دلائل نہ دے سکیں تو حضور، میں‌آپ کا موقف پھر بلا چون و چرا تسلیم کر لوں گا۔۔۔۔۔

     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں