فتنہ تکفیر، از: امام محدث محمد ناصر الدین البانی (رحمۃ اللہ علیہ)

ابوبکرالسلفی نے 'فتنہ خوارج وتكفير' میں ‏فروری 18, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم​

    سوال: شیخ صاحب آپ پر یہ بات مخفی نہیں کہ جنگِ افغانستان جس میں باکثرت گمراہ جماعتیں اور فرقے ملوث تھے اور وہ ہمارے ان سلفی نوجوانوں میں جو افغانستان جہاد کی غرض سے گئے تھے اپنے سلفی منہج سے خارج افکار پروان چڑھانے میں کامیاب ہوئے، اور انہیں (غیر سلفی) افکارمیں سے تکفیرحکام اوربقول ان کے مردہ سنت کو زندہ کرنا جیسے خودکش حملے وغیرہ بھی ہیں۔ اب جب یہ سلفی نوجوان اپنے اپنے وطن لوٹے ہیں تو ہمارے درمیان ان منحرف افکار اور شبہات کی دسیسہ کاری شروع کردی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ کے اور ساتھیوں میں سے کسی بھائی کے درمیان کچھ برس پہلے اس بات پر طویل مناقشہ ہوچکا ہے۔ لیکن ان کیسٹوں کی ریکارڈنگ کچھ غیر واضح ہے۔ اسی وجہ سے ہم یہ چاہتے ہیں کہ فضیلۃ الشیخ اس مسئلہ کے بارے میں کچھ وضاحت بیان کیجئے۔ جزاکم اللہ خیرا۔

    یہاں سے شیخ البانی (رحمۃ اللہ علیہ) کا کلام شروع ہوتا ہے جس کی ریکارڈنگ کی تکمیل کیسٹ نمبر (670) بتاریخ 12/5/1413ھ بمطابق7/11/1992ع میں ہوئی، اور یہ ایک کتاب ("فتاوى الشيخ الألباني ومقارنتها بفتاوى العلماء") کے ضمن میں طبع بھی ہوچکا ہے جس کی جمع وترتیب عکاشہ عبدالمنان نے کی دیکھیے ص: (238-253)، اور اسی طرح مجلۃ "السلفیہ" کے عدد اول 1415ھ میں اور میگزین "المسلمون" عدد (556) بتاریخ 5/5/1416ھ بمطابق 29/9/1995ع میں بھی شائع ہوا۔
    جواب:
    إن الحمد لله نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله. اما بعد!



    خوارج

    یہ مسئلہ تکفیر صرف حکام ہی کے لئے نہیں بلکہ محکومین (عوام) کے لئے بھی ہے۔ یہ ایک قدیم فتنہ ہے جسے قدیم اسلامی فرقوں میں سے ایک فرقہ نے جنم دیا جو کہ "خوارج" کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ خوارج کا ذکر فرقوں کے بارے میں لکھی گئی کتابوں میں مذکور ہے، اور انہیں کا ایک فرقہ آج تک موجودہے لیکن دوسرے نام سے یعنی "اباضیہ"۔
    اور یہ اباضیہ فرقہ ماضی قریب تک معاشرے سے بالکل الگ تھلگ اور بس اپنے آپ تک محدود تھا جو کسی قسم کی دعوتی سرگرمیوں میں مصروف عمل نہیں تھا۔ لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے انہوں نے باقاعدہ سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے اوراس سلسلے میں کچھ رسائل اور ایسے عقائد کی بھی نشرواشاعت کی ہے جو کہ ہوبہو قدیم خوارج کے عقائد تھے۔ مگر وہ اپنی اس شناخت کو اہل تشیع کی طرح تقیہ سے کام لیتے ہوئے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم خوارج نہیں ہیں، جبکہ آپ سب یہ جانتے ہیں کہ نام بدلنے سے حقائق کو نہیں بدلہ جاسکتا۔ یہ لوگ گناہ کبیرہ کے مرتکب کی تکفیر میں بالجملہ خوارج کے ساتھ ہیں۔


    دینی جماعتوں کے انحراف کےدو اہم اسباب​

    آج کچھ جماعتیں قرآن وسنت کی جانب دعوت دینے میں جماعت حقہ کے ساتھ ہیں لیکن صدافسوس کہ انہوں نے بھی کتاب وسنت سے خروج کی خود قرآن وسنت کے نام پر ایک نئی راہ نکالی ہے ۔
    میرے فہم ونقد کے مطابق اس کے دو اہم اسباب ہیں:
    اول: علم میں عدم گہرائی اور دین میں عدم تفقہ
    دوم: جو کہ بہت اہم ہے وہ یہ کہ انہیں شرعی قواعد کا بالکل بھی علم نہیں، جبکہ یہ اساس ہے اس صحیح اسلامی دعوت کی کہ جس سے انحراف کرنے والے کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بہت سی احادیث فرقہ ناجیہ سے خارج کرتی ہیں، بلکہ اس سےبڑھ کر خود اللہ تعالی نے اس جماعت کے ذکر میں واضح وبیّن دلیل بیان کی کہ جو اس سے الگ ہوگا وہ اللہ ورسول کی مخالفت کرنے والا متصور ہوگا۔ میری اس سے مراد اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:



    سلفی منہج

    ﴿ وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيرًا ﴾ (النساء: ١١٥)
    ﴿جو شخص باوجود راہ ہدایت واضح ہوجانے کے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کرچلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہو اور اسےدوزخ میں ڈال دیں گے، وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے ﴾
    اہل علم جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے صرف اس بات پر اکتفاء نہیں کیا کہ جو ہدایت واضح ہوجانے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرے تو ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جہاں وہ پھرتاہے، اس طرح نہیں کہا گیا، بلکہ مخالفت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہی اتباع غیر سبیل المؤمنین(مومنوں کی راہ کی مخالفت ) کو بھی ذکر کیاتو اللہ تعالی نے اس طرح ارشاد فرمایا ﴿ وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيرًا ﴾
    سبیل المومنین کی اتباع کرنا یا اتباع نہ کرنا اثباتاًونفیاً ہردو اعتبار سے ایک نہایت اہم معاملہ ہے۔ جو سبیل المومنین کی پیروی کرے گا وہ رب العالمین کے یہاں ناجی قرار پائے گا اور جو سبیل المومنین کی مخالفت کرے گا تو اسے جہنم ہی کافی ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔

    یہی وہ اہم نقطہ ہے جس پر اکثر قدیم وجدیدجماعتوں نے ٹھوکر کھائی ہےکہ انہوں نے سبیل المومنین کی پیروی نہیں کی اور قرآن وسنت کی تفیسر کے سلسلے اپنی عقل کے گھوڑے دوڑائے اور اپنی خواہشات کی پیروی کی۔ اور اسی غلط فہم کی بنا پر اُنہیں انتہائی خطرناک نتائج سے دوچار ہونا پڑا اور اِنہیں خطرناک نتائج میں سے ایک سلف صالحین کے منہج سے انحراف ہے۔
    اس آیت کریمہ کے فقرے ﴿ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ ﴾ کی صریح و واشگاف انداز میں تاکید و تشریح نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی کئی ایک احادیث کریمہ میں بیان فرمائی جن میں سے کچھ میں بیان کروں گا جو کہ خواص تو درکنار عام مسلمانوں تک سےمخفی نہیں۔ ہاں! البتہ جو چیز ان پر مخفی ہے وہ ان احادیث کا قرآن وسنت کی بارے میں سبیل المؤمنین کا پیروی کرنے کے وجوب پر دلالت کناں ہونااور اس کی تاکید کرنا ہے۔ یہ وہ نقطہ ہے جسے بڑے بڑے خواص بھولے ہوئے ہیں چہ جائیکہ عوام کو موردالزام ٹھہرایا جائے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر خود وہ لوگ بھی غافل ہیں جنہیں جماعت تکفیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔
    یہ لوگ ممکن ہے کہ اپنے تئیں نیک ہوں، مخلص ہوں، لیکن کسی شخص کو عنداللہ نجات یافتہ اور فلاح یاب ہونے کے لئے محض نیک نیتی اور اخلاص کافی نہیں۔ بلکہ ایک مسلم پر یہ لازم ہے کہ وہ ان دو امور کو یکجا رکھے یعنی اللہ تعالی کے لئے نیت میں اخلاص اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کی بطریق احسن اتباع۔
    چناچہ ثابت یہ ہوا کہ ایک مسلمان چاہے اپنے قرآن وسنت پر عمل اور ان کی طرف دعوت دینے میں کتنا ہی مخلص و سنجیدہ کیوں نہ ہو مگر اس کی اس عمل میں ایک شرط کا اضافہ لازمی امر ہے وہ یہ کہ اس کا منہج بھی سیدھا و سلیم ہو۔
    انہیں چند مشہور ومعروف احادیث میں سے جن کی جانب میں نےاشارہ کیا تھا ایک تھتر فرقوں والی حدیث ہے۔ جو کہ آپ میں سے ہر ایک کو معلوم ہے یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:
    تَفرَّقت اليهودُ على إحْدَى وسبعينَ فرقةً، وتَفرَّقت النَّصارى على اثْنتينِ وسبعينَ فرقةً، وستفترقُ أمتي على ثَلاثٍ وسبعينَ فرقـةً، كلُّها في النارِ إلا واحدة "قالوا: من هي يارسول الله؟ قال: "هي ما أَنا عليه وأصحابي."
    (یہودیوں نے تفرقہ کیا حتی کہ وہ اکھتر [٧١] فرقے بن گئے اور نصاری تفرقے کے سبب بھتر [٧٢] فرقے بن گئے اور میری یہ امت تھتر [٧٣] فرقوں میں بٹ جائےگی، اور وہ تمام کے تمام فرقے آگ میں جائیں گے سوائے ایک فرقے کے، فرمایا کہ: "وہ ایک فرقہ کونسا ہوگا؟" آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "جس چیز پر آج میں اور میرے صحابہ (رضی اللہ عنہم) ہیں")
    ہم یہ پاتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرقہ ناجیہ سے متعلق پوچھنے والوں کو دیا گیا جواب اللہ تعالی کے اس فرمان ﴿ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ ﴾ سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ سو وہ مومنین جو اس آیت کریمہ میں مقصود ہیں وہ اصحابِ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور یہی چیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرقہ ناجیہ کے اوصاف کے تعلق سےذکر فرمائی یعنی "ما أَنا عليه وأصحابي"۔
    نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف اسی پراکتفا نہیں کیا کہ "ما أَنا عليه" (جس چیز پر میں قائم ہوں) حالانکہ فی الواقع یہ ایک کافی وافی جواب ہوتا ہر اس شخص کے لئے جوکتاب وسنت کا کماحقہ فہم رکھتا ہے، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گویا اللہ تبارک وتعالی کے اس قول کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کہ جس میں اللہ تعالی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حق میں فرمایا:
    ﴿ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ ﴾ (التوبة: ١٢٨)
    ﴿مومنوں کے ساتھ نہایت ہی شفیق ومہربان ہیں﴾

    تو یہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی کمال شفقت و مہربانی کا ہی تقاضہ تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ (رضی اللہ عنہم) اور پیروکاروں کے لئے فرقہ ناجیہ کی علامت واضح طور پر بیان کی کہ وہ اس چیز پر قائم ہوں گے جس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ قائم تھے۔
    مذکورہ بالا بیان سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ فہمِ کتاب و سنت کے لئے محض ان وسائل پر اقتصار کرےجو اگرچہ ضروری توہیں مثلاًعربی زبان کی معرفت، ناسخ و منسوخ کا علم اور دیگر تمام قواعد، لیکن ان تمام قواعد عامہ کے علاوہ اس
    منہج کی جانب رجوع بھی لازم ہے جس پر صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) گامزن تھے کیونکہ یہ بات سب پر عیاں ہے جیسا کہ ان کے آثار و سیرت سے معلوم چلتا ہے کہ صحابہ (رضی اللہ عنہم) اللہ تعالی کی عبادت میں مخلص ترین تھے اور قرآن و سنت کا بلاشبہ ہم سے ذیادہ فہم رکھتے تھے اور ان کے علاوہ بھی بہت سے خصائلِ حمیدہ ہیں جن کےسانچے میں انہوں نے اپنے آپ کو ڈھالا تھا۔
    یہ حدیث مذکورہ آیت کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہو گئی جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مسلمان کے لئے فرقہ ناجیہ میں شمار ہونے کے لئے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ اس منہج پر ہوجس پر صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) تھے۔ یہ حدیث حدیثِ خلفائے راشدین کے بالکل مشابہ ہے جسے سنن نے عرباض بن ساریہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے ، فرمایا:
    وعظنا رسول الله موعظة وجلت منها القلوب وذرفت منها العيون، فقلنا: أوصنا يارسول الله. قال: "أوصيكم بالسَّمعِ والطاعة وإنْ وُلِّي عليكم عبدٌ حَبَشي، وإنه منْ يَعشْ منكم فسيــرى اختلافــاً كثيــراً، فعليكم بسُنَّتي وسنة الخلفاء الرَّاشدين ... "
    (ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ایسا وعظ کیا جس سے دل دہل گئے اور آنکھیں بہہ پڑیں۔ ہم نے کہا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں کچھ وصیت فرمائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : "میں تمہیں سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں خواں تم پرکوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ حکومت کرے کیونکہ جو میرے بعد زندہ رہا وہ بہت اختلاف دیکھے گا۔ تمہیں چاہیے کہ تم میری اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے پکڑ لو ... " اور آخر تک جوحدیث ہے)
    اس حدیث میں وہی شاہد ہے جو اس سےپہلے والی حدیث میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب ارشادفرمایا تھا یعنی صحابہ کو اور اپنی امت کو محض اپنی سنت سے تمسک کی نصیحت نہیں کی بلکہ اس پر ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کا بھی اضافہ فرمایا۔
    اسی لئے ہم پر یہ لازم ہے کہ ہم ہمیشہ اپنے عقیدے، عبادت، اخلاق اور سلوک کے صحیح فہم کے لئے سلف صالحین کے فہم کی طرف رجوع کریں تاکہ ایک مسلمان کا شمار فرقہ ناجیہ میں ہوسکے۔
    یہی وہ اہم نقطہ امتیاز ہے جس سے غفلت برت کر تمام قدیم وجدید فرقے اور جماعتیں گمراہ ہوئے کیونکہ یہ آیت مبارکہ، حدیثِ فرقہ ناجیہ اور حدیث خلفائے راشدین جس منہج کی جانب رہنمائی کرتی ہیں انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ جس کا فطری و منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کتاب اللہ، سنت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور منہج سلف صالحین سے منحرف ہوئے جیسا کہ ان سے پہلے لوگ منحرف ہوئے تھے۔


    آیت تحکیم کی صحیح وسلفی تفسیر

    انہیں گمراہ فرقوں میں سے ایک قدیم وجدید خوارج ہیں۔ تکفیر کا اصل محور جس کے گرداگرد اس دورمیں تکفیر نےاپنا سراٹھایا وہ ایک آیت کریمہ ہے جسے یہ لوگ ہمیشہ پیش کیا کرتے ہیں اوروہ اللہ تعالی کا یہ فرمان عالی شان ہے:
    ﴿ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ﴾ (المائدہ: ٤٤)
    ﴿اور جو کوئی بھی اللہ کی نازل کی ہوئی شریعت کے مطابق حکم نہیں کرتے پس ایسے ہی لوگ کافر ہیں﴾

    اور ہم سب یہ جانتے ہیں کہ اس آیت کےخاتمے پر تین قسم کے الفاظ وارد ہوئے ہیں:
    ﴿ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ﴾ (المائدہ: ٤٤)
    ﴿ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ﴾ (المائدہ: ٤٥)
    ﴿ ... پس ایسے ہی لوگ ظالم ہیں﴾
    ﴿ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴾ (المائدہ: ٤٧)
    ﴿ ... پس ایسے ہی لوگ فاسق ہیں﴾
    وہ اپنی جہالت کے سبب ان آیات میں سے صرف پہلی آیت کو بطور حجت پیش کرتے ہیں یعنی ﴿ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ﴾ انہوں نےکم ازکم ان نصوص میں سے کچھ نصوص کو جمع تک کرنے کی زحمت گوارا نہ کی جن میں لفظ "الکفر" استعمال ہوا ہے۔ نتیجتاً آیت میں وارد لفظِ کفر کو دین سے خارج ہونا ہی گردانتے ہیں۔ پس ان کے نزدیک ایک مسلمان جو اس کفر میں مبتلا ہوااور ان مشرکینِ یہود ونصاری اور دیگر غیر مسلموں میں کوئی فرق نہیں!
    جبکہ لغتِ قرآن وسنت میں لفظ "الکفر" کا یہ معنی نہیں جو یہ باور کراتے ہیں اور اپنے اس غلط فہم کو بہت سے ایسے مسلمانوں پر مسلط کرتے ہیں جو اس تکفیر سے بری ہوتے ہیں جسے یہ ان پر منطبق کرنا چاہتے ہیں۔
    لفظ تکفیر کا معاملہ کچھ ایسا ہے کہ یہ ہمیشہ صرف ایک ہی معنی یعنی دین سے خروج وارتداد پر ہی دلالت نہیں کرتا بلکہ اس کا معاملہ ایسا ہی ہے جیسا باقی ماندہ ان دو لفظوں کا ہے جو آخر والی دو آیتوں میں بیان ہوئے یعنی "الفاسقین" اور "الظالمین"۔ اب جسطرح سے ہروہ شخص جسے ظالم یا فاسق کی صفت سےموصوف کیاگیا ہو ضروری نہیں کہ وہ دین سے مرتد ہوگیا اسی طرح اگر کسی کے بارے میں واردہو کہ اس نے کفر کیا لازم نہیں کہ وہ دین سےمرتد ہوگیا۔
    اس ایک لفظ کے معنی میں یہ فرق لغتِ عرب سے ثابت ہے اور ہماری شریعت یعنی قرآن کریم جو کہ عربی زبان میں ہے سے بھی یہی ثابت ہے۔ اس وجہ سے جس کسی کو بھی حکم الہی کی مخالفت کا سامنا ہے چاہے وہ حکام ہوں یا عوام ان پر یہ واجب ہے کہ وہ کتاب وسنت اور منہج سلف صالحین کی اساس پر حاصل شدہ علم پر قائم ہوں۔
    قرآن اوراس سے ملحقہ علوم کا فہم عربی زبان کی خصوصی معرفت کے سوا ممکن نہیں، اور ایسا عین ممکن ہے کہ کسی انسان کو عربی لغت پر اتنا قوی اور مکمل عبورحاصل نہ ہو تو
    ایسا شخص اپنے اس نقص کا جو وہ اپنے اندر محسوس کرتا ہے ازالہ اس طور پر کرسکتا ہےکہ وہ ان علماء کرام کے کلام کی طرف رجوع کرے جو اس سے پہلے ہوگزرے ہیں خصوصاً جن کا تعلق ان قرون ثلاثہ سے ہو جن کے ہدایت یافتہ اور خیر پر ہونےکی گواہی خود نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دی۔ چناچہ ان کی جانب رجوع کرنا اس خلا کو پُرکرنے میں معاون ثابت ہوگا جو عربی لغت اور اس کے آداب کے تعلق سے وہ اپنے اندر پاتا ہے۔
    اب ہم دوبارہ اس آیت کی طرف آتے ہیں ﴿ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ﴾ کیا یہ لازم ہے کہ یہ لفظ ﴿ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ﴾ کا مطلب صرف ملت اسلامیہ سے خروج ہی ہے یا پھر اس کا معنی کبھی اسلام سے خروج ہوتا ہے اور کبھی اس کے علاوہ یا اس سے کمتر بھی ہوتا ہے؟
    یہاں اس آیت کے فہم میں کچھ دقتِ نظر سے کام لینا پڑے گا کیونکہ اس آیت ﴿ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ﴾ سے کبھی مراد ملت اسلامیہ سے خروج ہوتا ہے اور کبھی اس سےمراد عملاً ملت اسلامیہ کے بعض احکام سے خروج ہوتا ہے۔ اس کی صحیح تفسیر میں جو چیز ہماری معاونت کرے گی وہ صحابئ رسول ترجمان القرآن جناب عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہما) ہیں کیونکہ تمام مسلمان ماسوا کچھ گمراہ فرقوں کے اس بات کے معترف ہیں کہ آپ (رضی اللہ عنہما) تفسیر کے معاملہ میں امام تھے اور یہی وجہ ہے کہ صحابہ میں سے بعض سلف نے میرے خیال میں شاید عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) نے آپ (رضی اللہ عنہما) کو "ترجمان القرآن" کا لقب دیا۔


    کفر دون کفر

    ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان تفسیر کے امام اور جلیل القدر صحابی نے اس دور میں بھی کچھ بالکل ایسی ہی باتیں سنی ہوں گی جو ہم آجکل سنتے ہیں یعنی ان کے نزدیک بھی کچھ ایسے لوگ تھے جو اس آیت کے ظاہری معنی ہی کو لیتےتھے اور جس تفصیل کی جانب میں نے ابھی اشارہ کیا تھا اسے نہیں مانتے تھے۔ یعنی کبھی اس کا ظاہری معنی (کافرین بمعنی دین سے مرتد ہوجانا ) مراد نہیں بھی ہوتا کیونکہ کبھی اس سے کم تر کفر بھی مراد ہوتا ہے اسی لئے ابن عباس (رضی اللہ عنہما) نے فرمایا:
    "ليس الأمرُ كما يذهبون أو كما يظنون وإنما هو كفرٌ دون كفر."
    ( معاملہ اس طرح نہیں ہے جیسا انہوں نے سمجھا ہے بلکہ اس سے مراد کفر دون کفر [مرتد کردینے والے کفر سے کم تر کفر] ہے)

    شاید کہ ان لوگوں سے آپ (رضی اللہ عنہما) کی مراد وہ خوارج تھے جنہوں نے امیر المؤمنین علی (رضی اللہ عنہ) پر خروج کیاتھا اور مسلمانوں کا ناحق خون بہایا تھا اور ان کے ساتھ وہ کچھ کیا کہ جو مشرکین کے ساتھ بھی نہ کیا ہوگا۔ تو اس کے بارے میں ہی ابن عباس (رضی اللہ عنہما) نے فرمایا: "معاملہ اس طرح نہیں ہے جیسا انہوں نے سمجھا ہے بلکہ اس سے مراد کفر دون کفر ہے."
    اس آیت شریفہ کی تفسیر میں ترجمان قرآن کا یہ مختصر اور واضح جواب ہے اور دیگر نصوص جن میں کفر کا لفظ وارد ہوا ہے انہیں بھی اس فہم کے علاوہ سمجھنا ممکن نہیں جن کی طرف میں نے اپنے کلام کی ابتدا میں اشارہ کیا تھا٧٥۔ لفظ کفر بہت سے نصوص میں استعمال ہوا ہے لکین ان سے کفر اکبر مراد نہیں کیونکہ جو لفظ کفر ان نصوص میں بیان ہوا ہے وہ ملت اسلامیہ سے خروج کے معنی میں استعمال نہیں ہوا٧٦۔ انہیں نصوص میں سے مثلاً صحیح بخاری
    ومسلم کی ایک مشہور ومعروف حدیث جو عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے فرماتےہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:
    "سِبابُ المسلمِ فسوقٌ، وقتالہ كُفر."
    (مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے)
    "قتالہ كفر" میرے نزدیک عربی اسلوب میں فنِ تعبیر کے لحاظ سے یہ ایک قسم ہے، کیونکہ اگر کوئی کہنے والا یوں کہتا "سباب المسلم وقتالہ فسوق" تو یہ بھی ایک صحیح کلام ہوتا کیونکہ فسق کے معنی معصیت کے ہیں یعنی اللہ کی اطاعت سے خروج کرنا۔ لکین چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فصاحت وبلاغت کے اعلی درجہ پر فائز تھے فرمایا: "سباب المسلم فسوق، وقتالہ كفر."
    ذرا غور کریں کیا ہمیں یہ لائق ہے کہ ہم حدیث میں وارد لفظ "فسق" کی تفسیر سابقہ آیت کےدوسرے یا تیسرے لفظ "فسق" سے کریں۔ یعنی ﴿ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴾ ... صورتحال کچھ اس طرح ہو کہ ﴿ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴾ اور "سباب المسلم فسوق" کیا یہ دونوں فسق برابر ہیں؟
    بلکہ ہم یہ کہیں گے کہ کبھی لفظ "فسق" اس لفظ "کفر" کے مترادف ہوتا ہے جس کفر کا معنی ملت اسلامیہ سے خروج ہوتا ہے اور کبھی یہ اس لفظ "کفر" کے معنی میں ہوتا ہے جس سے مراد ملت اسلامیہ سے خروج نہیں ہوتا، بلکہ اس سے وہی مراد ہوتا ہے جو کہ ترجمان قرآن نے بیان فرمایا یعنی کفر دون کفر۔
    اوریہ حدیث اس بات کی تاکید کرتی ہےکہ کفرکا کبھی یہ معنی بھی ہوتا ہے، کیوں؟
    کیونکہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
    ﴿ وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ ﴾ (الحجرات: ٩)
    ﴿اور اگر مومنوں کی دو جماعتیں آپس میں قتال کریں تو ان میں صلح کرادیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر ذیادتی کرے تو تم سب اس گروہ سے جو ذیادتی کرتا ہے لڑو۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے﴾
    اس مشہور آیت میں ہمارے رب تعالی باغی فرقے کا ذکر فرماتے ہیں جو فرقہ ناجیہ یعنی برحق و مومن فرقہ سے قتال کرتا ہے اس کے باوجود ان پر کفر کا حکم نہیں لگایا، جبکہ حدیث
    کہتی ہے کہ: "مسلمان کاقتل کفر ہے"۔ چناچہ ثابت یہ ہوا ان کا قتال کفر ہے لیکن دون کفر جیسا کہ ابن عباس (رضی اللہ عنہما) نے سابقہ آیت کی تفسیر میں فرمایا۔


    کفر عملی وکفر اعتقادی

    مسلمان کا مسلمان سے قتال کرنا بغاوت ہے، ذیادتی ہے، فسق وکفر ہے لیکن اس تفصیل کے ساتھ کہ کفر
    کبھی عملی ہوتا ہے اور کبھی اعتقادی۔ یہ اس تفصیلِ دقیق کا نقطہ آغاز ہے جس کا عَلَم ترجمان قرآن نے اپنے ان جامع ومختصر کلمات کے ذریعے بلند کیا۔ جس کی شرح و بیان کی نیابت آپ (رضی اللہ عنہما) کے بعد امام برحق شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رحمۃ اللہ علیہ) اور ان کے ہونہار شاگرد رشید امام ابن قیم الجوزیہ (رحمۃ اللہ علیہ) نے کی کیونکہ انہوں نے بھی ترجمان قرآن کی بیان کردہ کفر کی اس تقسیم پر خصوصی توجہ عنایت فرمائی۔ لہذا امام ابن تیمیہ اوران کے تلمیذ ابن قیم الجوزیہ (رحمۃ اللہ علیہما) اپنے کلام میں ہمیشہ کفر اعتقادی اور کفر عملی کے درمیان فرق کرنے کی اہمیت کو اجاگرکیا کرتے تھے، کیونکہ اگر اس فرق کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے تو مسلمان لاشعوری طور پر مسلمانوں کی جماعت سے خروج کے اس فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں جس میں زمانہ قدیم کے خوارج مبتلا ہوئے تھے یا پھر دور حاضر میں انہیں کے کچھ دُم چھلے مبتلا ہیں۔
    تو ثابت یہ ہوا کہ "قتالہ كفر" کا معنی ملت اسلامیہ سے خروج نہیں اور اس کے علاوہ بھی بہت سی احادیث انہیں معنوں میں وارد ہوئیں ہیں کہ اگر کوئی انہیں جمع کرنا چاہے تو ایک مفید رسالہ وجود میں آسکتا ہے، جس میں ناقابل تردید حجت ہے ان لوگوں کے لئے جو اس آیت کی تفسیر صرف اور صرف کفر اعتقادی سےکرتے ہیں۔ جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایسے نصوص کثیر تعداد میں موجود ہیں جن میں لفظ "الکفر" آیا ہے لیکن اس کا وہاں معنی ملت اسلامیہ سے خروج نہیں اور فی الحال تو ہمیں یہ حدیث ہی کافی ہے جو ایک دلیل قاطعہ ہے اس بات پرکے مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی سے قتال کرنا کفر عملی ہے نا کہ کفر اعتقادی ۔
    اب اگر ہم جماعۃ التکفیر اور ان کے نظریہ یعنی حکام اور ان کے ماتحت عوام اور خصوصاً جو ان کی حکومت میں کام اور ملازمت کرتے ہیں کی تکفیر کی طرف نظر کرتے ہیں تو ہم پاتے ہیں کہ ان (ماتحتوں تک) کی تکفیر اس زاویہ سے کی جاتی ہے کہ وہ اس (حکم کے تحت راضی رہنے کی ) معاصی کے مرتکب ہوکر کافر ہوچکے ہیں۔



    تکفیر حکام ومحکومین

    من جملہ ان باتوں کو جو مجھے ہمارے سائل بھائی کے سوال سے یاد آئی یہ ہے کہ میں نے بعض ان ساتھیوں سے سنا جو پہلے جماعت التکفیر میں ہوا کرتے تھے پھر اللہ تعالی نے
    انہیں ہدایت عطا فرمائی۔ ہم نے ان سے دریافت کیا کہ ہمیں معلوم ہے آپ بعض حکام کی تکفیر کرتے ہیں لیکن کیا وجہ ہےکہ آپ آئمہ، خطباء ، مؤذن وخدام مساجد کی بھی تکفیر کرتے ہیں اور اسی طرح علم شرعی کے اساتذہ جو مدارس ثانویہ اور جامعات میں پڑھاتے ہیں ان کی بھی تکفیر کرتے ہیں!!
    تو وہ جواباً یہی کہتے تھے : کیونکہ یہ لوگ ان حکام کے ان احکامات سے راضی ہیں جو وہ اللہ کی نازل کی ہوئی شریعت کے خلاف کرتے ہیں۔
    اے جماعت والوں! اگر یہ رضا دلی رضا ہے تب تو کفر عملی کفر اعتقادی میں تبدیل ہوجاتا ہے، پس کوئی بھی حاکم اللہ کی نازل شدہ شریعت کی علاوہ فیصلہ کرتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہی حکم اس عصر حاضر کے ذیادہ لائق ہے جبکہ قرآن وسنت میں موجود حکم پر مبنی فیصلہ اس زمانے کے لائق نہیں تو بلاشبہ اس کا یہ کفر کفر اعتقادی ہے ناکہ کفر عملی اور جو کوئی بھی اس قسم کے حکم سے راضی ہو اس کا بھی یہی حکم ہے.
    مگراولاً تو آپ ہر حاکم پر جوبعض یا اکثر کافرانہ مغربی قوانین کے مطابق فیصلہ کرتا ہے پر حکم نہیں لگا سکتے کہ اگر ان سے پوچھا جائے تو وہ یہ جواب دیں کہ موجودہ دور میں ان قوانین کے ذریعے حکم کرنا لازم ہے اور اسلام کے مطابق حکم کرنا جائز نہیں۔ وہ کبھی بھی آپ کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ کے نازل کئے ہوئے کے مطابق فیصلہ کرنا آج کے دور میں لائق نہیں کیونکہ اگر وہ ایسا کہیں تو بیشک وشبہ وہ کافر ہوجائیں گے۔
    اب اگر ہم محکومین یعنی رعایا جن میں علماء اور صالحین وغیرہ بھی شامل ہیں کی طرف آتے ہیں تو آپ لوگ کس طرح ان کی بھی تکفیر کرتے ہیں؟ محض اس وجہ سے کہ وہ ان حکام کے حکم کے تحت زندگی بسر کررہے ہیں حالانکہ ان حکام کے حکم کے تحت زندگی گزارنے میں تو آپ لوگ (جماعت تکفیر) بھی مکمل طور پر ان کے برابر ہیں۔ لیکن فرق یہ ہے کہ آپ لوگ ان حکام کے کفار ہونےکااعلان کرتے پھرتے ہیں لیکن علماء انہیں اس طور پر کفار نہیں کہتے کہ وہ دین سے ہی مرتد ہوگئے ہیں بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ کی نازل ہوئی شریعت کے مطابق حکم کرنا واجب ہے اور صرف عملی طور پر کسی حکم کی مخالفت ہوجانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ عالم یا حاکم دین اسلام سے مرتد ہوگیا۔



    ایک شبہ


    (ایک بار یا کسی معین معاملہ میں کبھی حکم بغیر ماانزل اللہ کرنے سےکافر نہیں ہوتا لیکن اگر باربار یا ہمیشہ حکم بغیر ماانزل اللہ کیا جائے تو کافر ہوجاتا ہے)



    ان مناقشوں میں سے جن سے ان کی گمراہی و غلطی واضح ہوتی ہے ایک یہ بھی ہے کہ ہم نے ان سے پوچھا: ہم کب ایک مسلمان جو لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دیتا ہے اور کم وبیش نماز بھی پڑھتا ہے ... ہم کب اس پر حکم لگائیں گےکہ وہ دین سے مرتد ہوگیا ہے؟
    گویا کہ ان کے نزدیک محض ایک دفعہ ہی حکم بغیر ما انزل اللہ کرنا اس مسلمان کے دین سے مرتد ہونے کے لئے کافی ہے، اگرچہ یہ تکفیری لوگ اپنی زبان حال یا مقال سے یہ جواب نہ بھی دیں مگران کا نظریہ تو یہی ہے۔
    تو اس سوال سے وہ شش وپنج میں پڑ جاتے ہیں اور ان سے اس کا جواب نہیں بن پاتا۔ تب میں انہیں یہ مندرجہ ذیل مثال دینے پر مجبور ہوجاتا ہوں، چناچہ میں ان سے کہتا ہوں:
    ایک قاضی ہے جو شریعت کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور یہی اس کی عادت ہے لیکن کسی ایک فیصلے میں اس کا قدم پھسل گیا اور وہ شریعت کی مخالفت کربیٹھا یعنی کسی ظالم کو حق دے دیا اور مظلوم کو محروم کردیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکم بغیر ماانزل اللہ نہیں؟
    کیا آپ کہیں گےکہ وہ کفر یعنی مرتد ہونے والے کفر کا مرتکب ہوا؟
    انہوں نے جواب دیا: نہیں۔
    ہم نے کہا: کیوں نہیں اس نے اللہ کی شریعت کی مخالفت کی ہے؟
    انہوں نےجواب دیا کہ: یہ تو اس سے صرف یک بار ہی صادرہوا ہے۔
    ہم نے کہا: بہت خوب اب اس قاضی سے یہی خلافِ شرع حکم دوبارہ صادر ہوا یا اس کے علاوہ کوئی اور حکم صادر ہوا جس میں اس نے شریعت کی مخالفت کی، تو کیا اب وہ کافر ہوا؟
    میں نے سہ بار ، چار بار اس بات کو دھرایا کہ کب ہم کہیں گےکہ اس نے کفر کیا؟ وہ اس کی کوئی حد مقرر نہ کرپائے کہ کتنی تعداد میں وہ شریعت کے خلاف حکم کرے گا تو کافر ہوجائے گا۔
    جبکہ اس کے بالکل برعکس ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ یہ جان جائیں کہ وہ اپنی زندگی کے ایک غیر شرعی حکم کو بھی مستحسن گردانتا ہے اور حکم اسلامی سے قباحت کا اظہار کرتا ہے تو آپ اس کے بارے میں ارتداد کا حکم لگا سکتےہیں۔ جبکہ دوسری جانب اگر آپ اسے دسیوں خلاف شرع حکم کرتے ہوئے پائیں مگر آپ کے اس پوچھنے پر کہ اے شیخ آپ نے اللہ کے نازل کئے ہوئے کے مطابق فیصلہ کیوں نہیں کیا؟ وہ قسمیں کھاتے ہوئے کہے گا کہ میں ڈر گیا تھا یا مجھےاپنی جان کا خطرہ لاحق تھا یا پھر میں نے رشوت لی تھی وغیرہ اور اس آخرالذکر عذر کا حال تو پہلے دو سے بھی بدتر ہے لیکن باوجود اس کے آپ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کافر ہے یہاں تک کہ وہ اعلان کرے۔ یعنی اپنے دل میں پنہاں کفر کو آشکارا کرے کہ وہ اللہ کے نازل کئے ہوئے کے مطابق حکم کو جائز نہیں سمجھتا تب کہیں جاکر آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ کافر ومرتد ہے۔


    استحلال قلبی اور استحلال عملی میں فرق

    چناچہ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس چیز کی معرفت بےحد ضروری ہے کہ کفر بھی فسق و ظلم کی طرح دو اقسام میں تقسیم ہوتا ہے یعنی ملت اسلامیہ سے خارج کرنے والا کفر، فسق اور ظلم، اور یہ تب ہوتا ہے جب استحلال قلبی (دلی طور پر حرام کو حلال جاننا) کیا جائے اور اس کے
    برعکس یعنی کفر، فسق اور ظلم جو ملت اسلامیہ سے خارج نہ کرے اس وقت ہوتا ہے جب استحلال عملی (عملاً حرام کا مرتکب ہونا لیکن دل سے اسے حرام جاننا) کیا جائے۔
    لہذا تمام گناہگار اور خصوصاًسود کا استحلال جو دور حاضر میں بہت عام ہے، یہ سب کفر عملی کی مثالیں ہیں۔ اسی لئے ہمارے لئے جائز نہیں کہ ہم ان گنہگاروں کو کافر قرار دیں محض ان کے معصیت کے مرتکب ہونے اور عملی استحلال کرنے کی بنیاد پر یہاں تک کہ جو کچھ ان کےدلوں میں پوشیدہ ہے ہم پر ظاہر ہوجائے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حرام کردہ کو عقیدۃً حرام نہیں سمجھتے۔ اگرہم یہ جان جائیں کہ وہ اس دلی طور پر مخالفت کے مرتکب ہوئے ہیں تب ہم ان پر مرتد ہونے والے کفر کا حکم لگائیں گے اور اگر ہم یہ نہ جان پائیں تو ہمیں قطعاً یہ حق حاصل نہیں کہ ہم ان پر کفر کا حکم لگائیں کیونکہ ہمیں یہ ڈر ہے کہ بادل ناخواستہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیان کردہ اس وعید کے مستحق نا بن جائیں:
    "من كفّـر مسلمـاً فقد بـاء بـه أحدهمـا."
    (جس نے کسی مسلمان کی تکفیر کی تو وہ ان میں سےکسی ایک پر لوٹتی ہے)
    اور اس حدیث کے ہم معنی بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔ اس مناسبت سے ہم اس صحابی کا قصہ ذکر کریں گے کہ جنہوں نے ایک مشرک پر غلبہ حاصل کیا تو یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ اس مسلمان صحابی کے تلوار کی زد میں ہے اس مشرک نے جھٹ سے کلمہ پڑھ لیا (أشهد أن لا إله إلا الله) اس صحابی نے اس کے کلمہ پڑھنے کی کوئی پروہ نہیں کی اور اسے قتل کردیا۔ جب اس ماجرے کی خبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انتہائی شدت کے ساتھ اس پر انکار کیا جیسا کہ آپ سب لوگ جانتےہیں۔ انہوں نےعذر پیش کیا کہ اس نے محض اپنی جان بچانے کے لئے کلمہ پڑھا تھا اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:
    "هلاّ شققت عن قلبه؟!"
    (کیوں نہ تو اس کا دل چاق کرکے دیکھ لیتا کہ اس نے جان بچانے کے لئے ایسا کہا تھا؟!)

    لہذا جو کفر اعتقادی ہوتا ہے اس کا اساسی تعلق مجرد عمل سے نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق تو دل سے ہوتا ہے اور ہم یہ بالکل نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں معلوم ہےاس فاسق یا فاجر یا چور یا سودخور وغیرہ کے دل میں کیا ہے یہاں تک کہ جو کچھ اس کے دل میں ہے زبان اس کی گواہی دے۔ جہاں تک اس کے عمل کا معاملہ ہے تو وہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ اس نے شریعت کی مخالفت کی یعنی عملی مخالفت۔
    جس پر ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ تو نے مخالفت کی اور فسق و فجور کیا لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ تو نے کفر کیا اور دین سے مرتد ہوگیا تاآنکےاس سے کوئی چیز ایسی ظاہر ہو جو اللہ تعالی کے پاس ہمارا عذر بن سکے کہ ہم نے اس ظاہر ہونے والی چیز کی بنیاد پر ارتداد کا حکم

    لگایا تھا۔ اور اس کے مرتد ہوتے ہی اسلام کا معروف حکم اس پر نافذ ہوگا میری مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان ہے:
    "مَنْ بدَّلَ دينَه فاقتلوه."
    (جو مسلمان ہونے کے بعد اپنا دین بدل دے اسے قتل کردو)


    مرتد کے بارے میں حکم کا عملی نفاذ؟

    مزید یہ کہ میں نے ان حکام کی تکفیر کرنے والوں سے کہا اور اب بھی کہتا ہوں کہ، بالفرض مان لو کہ ان حکام کا کفر کفر ارتداد ہے اور ان کے اوپر ایک اور حاکم اعلی ہے تو اس حاکم اعلی پر یہ واجب ہوتا ہے کہ وہ مذکورہ بالا حدیث میں وارد حد کو ان پر نافذ کرے۔
    سوچنے کی بات یہ ہے کہ عملی اعتبار سے آپ لوگوں کو کیا فائدہ ہوگا اگر ہم بالفرض یہ تسلیم کرلیں کہ تمام حکام کافر ہیں مرتد ہیں؟
    آپ کے لئے کیا کارگزاری کرنا ممکن ہے؟
    یہ کفار (بقول آپ کے) تو اکثر اسلامی ممالک پر قابض ہیں اور حکومت کررہے ہیں اور افسوس کی بات ہے کہ ہم بھی یہاں فلسطین پر یہود کے قبضہ کا شکار ہیں۔
    تو سوال یہ ہے کہ آپ یا ہم ان کا کیا بگاڑ سکتے ہیں، کیا آپ جن حکام کو اپنے زعم میں کافر قرار دیتے ہیں ان کے خلاف کوئی عملی کاروائی کرنے کی ہمت رکھتے ہیں?
    اس لئے کیا ہی اچھا ہو اگر آپ اس معاملہ کو ایک طرف رکھ دیں اوراس قاعدہ و اصول کی بنیاد ڈالنے میں سرگرم ہوجائیں جس کی اساس پر ایک حقیقی اسلامی حکومت قائم ہوتی ہے۔ اور وہ سنت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع ہے جس پر کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ (رضی اللہ عنہم) کی تربیت کی اور اسی کے نظام واساس پر انہیں پروان چڑھایا۔


    غلبہ واقامت دین کا صحیح طریقہ کار کیا ہے؟​


    ہم اس طرح کی کئی ایک مناسبات میں یہی تعبیر پیش کرتے چلے آئے ہیں کہ ہر اس جماعت کے لئے یہ ایک لازم امر ہے جو نہ صرف اسلامی ممالک میں بلکہ پوری دنیا میں کما حقہ اسلامی حکم کے نفاذ کے لئے کوشاں ہے اللہ کے اس فرمان کے پیش نظر :
    ﴿ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ﴾ )التوبة : ٣٣(
    ﴿اسی (اللہ تعالی) نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے تمام دیگر ادیان پر غالب کردے اگرچہ مشرک برا ہی مانیں﴾
    اسی طرح بعض احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ یہ آیت آنے والے دور میں متحقق ہوجائے گی۔ تو کیا اس آیت کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مسلمانوں کو ان حکام کے خلاف انقلاب کے اعلان سے کام شروع کرنا چاہیے جن کے بارے میں ان کا گمان ہے کہ ان کا کفر کفرِ ارتداد سے کم نہیں اگرچہ یہ گمان فاسد ہے لیکن پھر بھی وہ انہیں کافر قرار دینے کےباوجود کچھ کرنےکی سکت نہیں رکھتے.
    پھر وہ کیا منہج اور کیا طریق کار ہے کہ جس پر چل کر اس برحق نباء قرآنی کہ ﴿ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ... ﴾ کو حقیقت کا روپ دیا جاسکتا ہے۔ بیشک اس کا ایک ہی طریقہ کار ہے جس کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ (رضی اللہ عنہم) کو تذکیر کیا کرتے تھے اور اپنے ہر خطبہ میں دہراتے رہا کرتے تھے :
    "وخير الهدي هدي محمد."
    (اور بہترین طریقہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طریقہ ہے)
    اسی لئے تمام مسلمانوں اور خصوصاً جو نہ صرف مسلم ممالک کو بلکہ پوری دنیا کو اسلامی حکم کے زیر سایہ لانے کا اہتمام کرتے ہیں پر یہ واجب ہے کہ وہ وہاں سے دعوت کا آغاز کریں جہاں سےرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی دعوت کا آغاز کیا تھا۔ جسے ہم دو ہلکے سےکلمات کے ساتھ کنایہ کرتے ہیں اوروہ ہیں:


    التصفیہ و التربیہ۔

    رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اسوہ حسنہ التصفیہ والتربیہ​


    کیونکہ ہم ایک ایسی حقیقت جانتے ہیں جس سے یہ لاعلم ہیں یا تجاہل عارفانہ برتتے ہیں بلکہ تجاہل عارفانہ ہی کہنا ان کے ذیادہ مناسب حال ہوگا کیونکہ اس سے لاعلمی تو ممکن نہیں، پس اس حقیقت سے یہ غالی شدت پسند کہ جن کے پاس ماسوائے حکام کو کافر قرار دینے کے اور کچھ نہیں تجاہل برتتے ہیں۔ اور ان کا بھی وہی حال ہونا ہے جو ان سے پہلے اللہ کی زمین پر اقامت دین اور حکم اسلامی کی طرف دعوت دینے کے لئے جماعتوں کا ہواکہ حکام کی تکفیر کا اعلان کیا پھر اس کے بعد سوائے فتنہ و فساد کے ان سے کچھ صادر نہ ہوا۔
    گزشتہ کچھ برسوں میں جو کچھ ہوا جیسا کہ آپ کے علم میں ہے حرم مکی کے فتنے سے لیکر فتنہ مصر پھر سادات کا قتل اور بہت سے معصوم مسلمانوں کا خون انہیں فتنوں کے سبب ناحق بہایا گیا اور پھر آخر میں یہاں سوریا (شام) میں اور افسوس کے ساتھ اب تو الجزائر میں بھی ... الخ۔
    ان سب کا ایک ہی سبب ہے انہوں نے کتاب و سنت کے نصوص کی مخالفت کی اور ان میں سے سب سے اہم امر کی بھی مخالفت کی یعنی:
    ﴿ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ ﴾ )الأحزاب : ٢١(
    ﴿یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں عمدہ نمونہ موجود ہے ، ہر اس شخص کے لئے جواللہ تعالی کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے﴾
    چناچہ اگر ہم زمین پرحکم الہی نافذ کرنا چاہتے ہیں تو کیا ہمیں اپنے کام کی ابتدا حکام کے قتال سے کرنی چاہیے جبکہ ہم ان سے قتال کی طاقت بھی نہیں رکھتے یا وہاں سے کرنی چاہیے جہاں سے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کی؟
    بیشک اس کا یہی جواب ہے کہ: ﴿ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾

    ہم دیکھیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کس چیز سے ابتدا کی:
    آپ جانتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض ایسے افراد کے درمیان دعوت کا آغاز کیا کہ جن میں وہ قبولیت حق کی استعداد محسوس کرتے تھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت پر لبیک کہنے والوں نے لبیک کہا جیسے کہ سیرت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں یہ بات معروف ہے۔ پھر کمزوری اور مخالفین کے تشدد سے مکہ میں دوچار ہونا، بعد ازین پہلی پھر دوسری ہجرت کا حکم اور پھر جواس کےبعد ہوا ... یہاں تک کہ اللہ تعالی نے مدینہ میں اسلام کو قائم کردیا، پھر جس مڈبھیڑ کا آغاز ہوا تو ایک طرف مسلمان کفار سے معارکہ آرا تھے تو دوسری طرف یہود سے برسرپیکار ...
    اس لئے ہمیں تعلیم سے آغازکرنا چاہیے جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا، لیکن ہم صرف تعلیم نہیں کہیں گے، کیوں؟ یعنی ہم صرف لفظ "تعلیم" پر اکتفا نہیں کرسکتے کہ امت مسلمہ کو تعلیم دینی ہے کیونکہ فی زمانہ ان اسلامی تعلیمات میں وہ چیزیں شامل ہوگئیں ہیں جن کا اسلام سے مطلقاً کوئی واسطہ نہیں بلکہ وہ تو اسلام کی تخریب کاری کا سبب ہیں اور ان ثمرات کو زائل کرنے کابھی سبب ہے جوصحیح اسلام پرکاربند ہونے کی صورت میں ہمیں وصول ہونے کا یقین ہے۔
    پس داعین اسلام پر یہ واجب ہے کہ اس چیز سے ابتدا کریں جو ابھی بیان کی گئی یعنی:

    ١- تصفیہ(پاک کرنا) :
    پاک کرنا اسلام کو ان چیزوں سےجو اس میں داخل ہوگئی ہیں اور اس کے شفاف چہرے کو داغدار کررہی ہیں۔ جن کاتعلق محض فروعی مسائل یا اخلاقیات سے ہی نہیں بلکہ انہوں نے عقیدے تک میں فساد برپا کیا ہوا ہے۔

    ٢- تربیہ (تربیت کرنا) :
    دوسری چیز جو اسی تصفیہ کے مرحلے سے وابستہ ہے "تربیت" ہے یعنی نوجوانان اسلام کی اس خالص شدہ اسلام پر تربیت کرنا۔




    اب جب ہم ان موجودہ اسلامی جماعتوں پر نظر دوڑاتے ہیں جو تقریباً پچھلی ایک صدی سے وجود پزیر ہوتی رہی ہیں قطع نظر ان کے چیخنے چلانے اوراسلامی حکومت کا ڈھنڈورا پیٹنے کے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ کبھی تو معصوم جانوں کابے دریغ خون بھی بہا مگر سرے سے ہی کوئی فائدہ حاصل ناہوا۔ اور ان تمام باتوں پر مستزاد یہ کہ ان کے کتاب و سنت کے مخالف عقائد ہم سنتے ہی رہتے ہیں اور دعوی یہ کہ دولت اسلامی قائم کرنی ہے

    اور اسی مناسبت سےہم ایک جملہ اکثر بیان کرتے رہتےہیں جو انہیں میں سے کسی داعی کا ہے اور جس کے بارے میں ہم یہ تمنا کرتے ہیں کہ کا ش ان کے پیروکار اس کا التزام کریں اور اسے عملی جامہ پہنائیں، اور وہ جملہ یہ ہے کہ:
    "أقيموا دولة الإسلام في قلوبكم، تقم لكم في أرضكم."
    (اپنے دل پر حکومت اسلامی قائم کرو، وہ تمہارے لئے اللہ تعالی کی جانب سےاپنے آپ ہی زمینوں پر قائم کردی جائے گی)
    کیونکہ اگر کسی مسلمان کاعقیدہ قرآن وسنت کی روشنی میں درست ہوجائے تو اس کے بعد اس کی عبادات، اخلاق و سلوک وغیرہ اپنے آپ ہی درست ہوتے چلےجائیں گے۔
    لیکن میری نقد ونظر میں یہ لوگ اس عمدہ جملے پر عمل پیرا نہیں ہوئے اور بس دولت اسلامیہ کے قیام کےکھوکھلے نعرے پر گزارا ہے، لہذا ان پر کسی شاعرکا یہ شعر فٹ ہوتا ہے۔
    ترجوا النَّجاةَ ولم تَسْلكْ مَسَالكها
    إنَّ السفينةَ لاتَجري على اليَبس.
    (تو نجات کا تو خواستگار ہے مگر اس کے مسالک نہیں اپناتا
    تو جان لے کہ کشتی کبھی بھی خشکی پر نہیں چلاکرتی)
    شاید کہ جو کچھ بیان کیا وہ کفایت کرے اس سوال کے جواب میں ...


    اصلی اہل سنت ڈاٹ کام ویب سائٹ سے حاصل کیا گیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094
    جزاكم اللہ خيرا وبارك فيكم۔ بہت عمدہ اور جامع تحرير ہے۔ اللہ تعالى شيخ الباني كو جزائے خير دے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں