توحید کیا ہے ؟ کیا مسلمان بھی شرک کرسکتے ہیں؟

فاروق نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏مارچ 7, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
    توحید کیا ہے ؟ کیا مسلمان بھی شرک کرسکتے ہیں؟​


    السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

    معزز دوستو ! اسلامی بھائیو!
    آج اللہ رب العزت نے مجھ ناچیز کو جس موضوع پر گفتگو کرنے کا شرف بخشا ہے وہ ہے (توحید کیا ہے کیا مسلمان بھی شرک کرسکتے ہیں؟) ۔
    اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ رب ذوالجلال مجھے اس موضوع کا حق عطا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور مجھ سمیت میرے تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو حق پر ایمان رکھنے کی اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔

    پیارے بھائیو ! آج میں جن نقاط پر روشنی ڈالوں گا وہ درج ذیل ہیں‌۔

    (1) توحید کی اہمیت اور فضیلت
    (2) توحید کی اقسام
    (3) مشرکین کی سزا
    (4) اقوام سابقہ کا شرک
    (5) آج کے مسلمانوں کے عقائد
    (6) اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کے لیےذبیحہ کرنے کے بارے میں
    (7) چند عقلی دلائل
    (8) قبروں کے متعلق اللہ رب العزت کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چند فرمودات
    (9) صالحین کی شان میں غلو
    (10) جائز وسیلہ قرآن و احادیث کی روشنی میں
    (11) اللہ کہاں ہے
    (12) غیب کا جاننے والا کون ہے
    (13) ہر جگہ دیکھنے اور سننے والا کون ہے
    (14) ہمیشہ زندہ رہنے والا کون ہے
    (15) کچھ شبہات کا ازالہ
    (16) جادو ، نجومیوں اور کہانت کے بارے میں
    (17) تعویزکی حقیقت
    (18) اللہ رب العزت کو چھوڑ کے غیروں کی قسم اٹھانے کے بارے میں
    (19) اندھی تقلید
    (20) بد شگونی لینا
    (21) چند شرکیہ کلمات
    (22) لوگوں کی زندگی اور حوادث میں ستاروں کی تعبیر کا عقیدہ رکھنا
    (23) ریا کاری
    (24) بغیر شرعی عذر کے فرض نماز ترک کرنا
    (25) منکر تقدیر کے بارے میں
    (26) اللہ رب العزت کی تقدیر پر صبر کرنا
    (27) اللہ رب العزت کی تدبیر سے بے خوف ہونا
    (28) اللہ رب العزت کی رحمت سے ناامید ہونا
    (29) اللہ رب العزت کی نعمتوں کا انکار
    (30) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کس خوش قسمت کو نصیب ہو گی۔

    (1) توحید کی اہمیت اور فضیلت
    معزز دوستو اور اسلامی بھائیو !‌ توحید کی اہمیت اور فضیلت کے بارے میں یہ کہنا چاہوں گا،کہ توحید اسلام کی جان ہے اسلام کی روح ہے،توحید ہی کے لیے اللہ رب العزت نے اس کائنات کو پیدا فرمایا ہے،جیسا کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ الذاریات: آیت 56)میں ارشاد فرمایا ہے (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ)'' اور نہیں پیدا کیا میں نے جنوں اور انسانوں کو مگر اس لیے کہ وہ صرف میری ہی عبادت کریں '' ،یعنی ہماری تخلیق کا مقصد کیا ہےکہ ہم فقط اللہ رب العزت کی ہی عبادت کریں خالص، توحید ہی کی وجہ سےیہ آسمان اور زمین قائم ہیں،توحید ہی وہ پہلی چیز ہے جس کی وجہ سےاللہ رب العزت لوگوں کے اعمال قبول فرماتا ہے،اور جنت میں بھی وہی جائے گاجس کی موت توحیدخالص پر آئی،جیسا کہ صحیح مسلم کے اندر حدیث ہےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا(مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ)کہ '' جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کو لا الہ الا اللہ کا علم ہو تو وہ جنت میں جائےگا '' تو حید ہی کے لیے اللہ رب العزت نے تمام نبیوں کو بھیجا،جیسا کہ(سورۃ الانبیاء :آیت25)(وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ)پیارے بھائیو !‌ جو لوگ انبیاء علیہم السلام کی دعوت توحید پرایمان لائے، اللہ رب العزت نے انہیں دنیا میں بھی امن عطا کیا ،اور آخرت میں بھی ایسے لوگوں کے لیے امن ہے۔لیکن جن لوگوں نے دعوت توحید کر قبول نہ کیا،توحید کی مخالفت کی اللہ رب العزت نے ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی رسواکن عذاب میں مبتلا کیا،اور آخرت میں بھی ایسے لوگوں کے لیے سخت ترین عذاب ہے،میرے بھائی ! اگر آپ لوگ دیکھیں کہ ایک انسان کتنی ہی نمازیں پڑھتا ہے، زکوٰتہ دیتا ہے، روزے رکھتا ہے، اس نے اللہ رب العزت کے گھر کے حج کئے ہیں، وہ دین کی تبلیغ کرتا ہے، اللہ رب العزت کا ذکر کرتا ہے، قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے،اگر اس کے پاس توحید خالص نہیں ہے،عقیدہ توحید صحیح نہیں ہے، عقیدے میں شرک پایا جاتا ہے،رب کعبہ کی قسم ہے،اللہ رب العزت ایسے انسان کا کوئی عمل بھی قبول نہیں فرماتا،جیسا کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ الزمر:آیت 65) میں ارشاد فرمایا(لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ)اگر آپ نے شرک کا ارتکاب کیاتو آپ کے تمام اعمال برباد ہو جائیں گےاور آپ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے،اس لیے میرے بھائیو! تمام مسلمانوں پر یہ فرض ہے ،کہ انہیں توحید خالص کا علم ہو،جیسا کہ اللہ رب العزت نے(سورۃ محمد:آیت 19)ارشاد فرمایا(فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ)"جان لو! علم حاصل کرو کہ نہیں ہے کوئی معبود بر حق سوائے اللہ کے ''

    ۔پیارے بھائیو ! اب میں آپ لوگوں کے سامنےاختصار کے ساتھ توحید کی اقسام بیان کرتا ہوں۔
    توحید کی تین قسمیں ہیں۔
    (2) توحید کی اقسام
    1) توحید ربوبیت
    2) توحید الوہیت
    3) توحید اسماء وصفات
    پہلی توحید یعنی توحید ربوبیت یہ ہےکہ اس کائنات کا خالق ،مالک،رازق،مدبر،زندگی دینے والا،موت دینے والا،پوری کائنات میں ارادے سے تصرف کرنے والا وہ اللہ رب العزت ہی ہے۔اسی طرح توحید الوہیت یہ ہے کہ ہماری عبادات کی تمام اقسام فقط اللہ رب العزت ہی کے لیے خاص ہوں،چاہے وہ عبادت بدنی ہو،چاہے وہ عبادت مالی ہو،چاہے وہ عبادت زبانی ہو ،یعنی ہماری جتنی بھی عبادات ہیں وہ خالض اللہ رب العزت ہی کے لیے خاص ہوں۔اسی طرح توحید اسماء و صفات یہ ہےکہ اللہ رب العزت کی جو اسماء و صفات قرآن اور احادیث کے اندر بیان ہوئی ہیں ان پر ایمان رکھا جائے،اللہ ہی کے لیے ان کا اثبات فرمایا جائے اور اسی طرح ثابت کیا جائے جیسا کہ اس کے کمال اور جلال کے لائق ہے اس میں نہ تو کسی صفت میں کسی سے تشبیہ ہو نہ کسی صفت کی کیفیت کا بیان ہو،نہ کسی صفت میں لفظی یا معنوی تحریف ہو اور نہ ہی کسی صفت کا انکار اور تعطیل ہو،میرے بھائیو ہر چیز کی ایک نہ ایک ضد ہوتی ہے ،اور توحید کی ضد ہے شرک،شرک وہ گناہ ہے جس کی معافی اللہ رب العزت کے پاس ہے ہی نہیں،اللہ رب العزت نے (سورۃ النساء:آیت 116)کے میں ارشاد فرمایا(اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ) '' بے شک اللہ شرک کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کرے گا،اس کے علاوہ جسے چاہے رب ذولجلال جسے چاہے بخش دے،اسی طرح میرے بھائیو! جس کی موت بھی حالت شرک میں آئی،ایسے مشرک کے لیے جنت حرام ہے،ایسے مشرک کا ٹھکانا جہنم ہے،جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ المائدہ:آیت72)ارشاد فرمایا( ۭاِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ ۭوَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ)کہ '' جس نے بھی اللہ کے ساتھ شرک کیا،ایسے مشرک کے لیے جنت حرام ہے،ایسے مشرک کا ٹھکانا آگ ہے،اور وہاں اس کا کوئی مدد گار نہ ہو گا'' شرک ہی کو قرآن کریم میں سب سے بڑھا ظلم کہا گیا ہے،جیسا کہ لقمان علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے بیٹے کو اس بات کی وصیت کی(يٰبُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ ڼ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ )'' اے میرے بیٹےاللہ کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرنا،یہ شرک بہت بڑھا ظلم ہے۔''
    صحیح البخاری کے اندر حدیث ہے۔اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا(مَنْ مَاتَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا أُدْخِلَ النَّارَ)(حدیث نمبر 6189)
    صحیح البخاری کے اندر حدیث ہے۔اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا(مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ)(حدیث نمبر 1162)
    صحیح البخاری کے اندر حدیث ہے۔اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا(مَنْ مَاتَ وَهْوَ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ)(حدیث نمبر4137)
    مسند احمد کے اندر حدیث ہے۔اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا(مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ)(حدیث نمبر3371)
    کہ جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ رب العزت کے ساتھ کسی قسم کا شرک کرتا تھا،ایسے مسلم کو آگ کے اندر داخل کیا جائے۔ پیارے بھائیو ! ہمارا یہ بیان کرنے کامقصد کسی کی دل آزاری نہیں ہے،نہ ہی کسی کی توھین ہے،نہ کی کسی کے اوپر کیچڑ اچھالنا ہے،بلکہ رب ذولجلال خوب جاننے والا ہے،ہم فقط اپنے مسلمان بھائیوں اور اسلامی بہنوں کی اصلاح چاہتے ہیں،اس لیے میں اپنے تمام مسلمان بھائیوں اور اسلامی بہنوں سے دلی گزارش کرتا ہوں،کہ توحید کے اس بیان کو اول سے لیے کر آخر تک سنیں اور ان باتوں پر غور و فکر کریں،اور اپنے عقائد کی اصلاح کریں، اور ان باتوں کو دوسرے لوگوں تک پہنچائیں،اور اس میشن میں ہمارا ساتھ دیں، تاکہ آپ لوگوں کے لیے بھی صدقہ جاریہ ہو،میرے بھائیو ! توحید بنیاد ہے جنت اور جہنم کا سوال ہے کوئی معمولی بات نہیں ہے،لیکن ہمیں افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑ رہی ہے،کہ اگر آج مسلمانوں سے کہا جائے،کہ بھائیو ! توحید خالص کے بارے میں علم حاصل کرو،توحید ہی کی تبلیغ کرو سب سے پہلے ،تو مسلمان یہ جواب دیتے ہیں،کہ ہر کلمہ پڑھنے والا توحید کے بارے میں جانتا ہے،لیکن جب ہم مسلمانوں سے پوچھتے ہیں،کہ بھائیو ! توحید کی ذرا تعریف تو بیان کرو،تو مسلمان توحید کی تعریف یہ بیان کرتے ہیں،کہ اللہ ہی خالق ہے،اللہ ہی مالک ہے، اللہ ہی رازق ہے ،اللہ سے ہونے کا یقین آجائے،اور مخلوق سے نہ ہونے کا یقین آجائے،میرے بھائیو میں یہ کہنا چاہوں گا،کہ آپ لوگو ں نے یہ جو توحید کی تعریف بیان کی ہے یہ توحید کی اقسام میں سے ایک قسم ہے،تو حید ربوبیت،اس توحید کو تو مشرکین مکہ بھی مانتے تھے،جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے مشرکین لوگ تھے،وہ لوگ بھی توحید ربوبیت کا اقرار کرتے تھےلیکن ان کا توحید ربوبیت کو ماننا ان کے کسی کام نہ آیا،اس کے باوجود بھی وہ لوگ مشرک قرار پائے،آپ لوگ کہیں گے کہ اس بات کی کیا دلیل ہےکہ مشرکین مکہ اللہ رب العزت کو خالق ،مالک،رازق مانتے تھےمیرے بھائیو اس بات دلیل آپ قرآن کریم سے سنیے ،جیسا کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ یونس:آیت31)کے اندر ارشاد فرمایا(قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ)ارشاد فرمایا پیارے نبی ان سے کہیےکہ تمہیں آسمان اور زمین سے رزق کون دیتا ہے کون ہے جو تمہاری آنکھوں اور تمہارے کانوں کا مالک کون ہے جو مردہ سے زندہ نکالتا ہےاور زندہ سے مردہ نکالتا ہے اور پوری کائنات کے معاملات کون بناتا ہے،( فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ)پیارے نبی یہ جواب دیں گے اللہ(فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ)ان سے کہیے کہ ڈرتے کیوں نہیں۔اسی طرح میرے بھائیو! مشرکین مکہ مشکل وقت میں اللہ کو پکارتے بھی تھے،جیسا کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ العنکبوت:آیت65)کے اندر ارشاد فرمایا(فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ڬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ يُشْرِكُوْنَ)ارشاد فرمایا کہ جب یہ کشتیوں میں سواری کرتے ہیں تو وہاں یہ خالص فقط اللہ ہی کو پکارتے ہیں،اور جب ہم انہیں نجات دے کر خشکی پر لے آتے ہیں تو پھر یہ شرک شروع کردیتے ہیں۔پیارے بھائیو! یہ بات تو ہمارے سامنے کھل کر آئی ہےکہ مشرکین مکہ اللہ رب العزت کو خالق ،مالک ،رازق مانتے تھے،وہ لوگ مشکل وقت میں اللہ رب العزت کو پکار تے بھی تھے لیکن سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہےپھر اللہ رب العزت نے انہیں مشرک قرار دیا،کیوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ جنگیں لڈیں،کیوں ان لوگوں کا ٹھکانا جہنم بتلایا گیاجن کی موت شرک کی حالت میں آئی،میرے بھائیو ! وہ لوگ اللہ رب العزت کی عبادات میں اور اللہ کی اسماء وصفات میں غیروں کو شریک کرتے تھے ۔جیسا کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ الانعام:آیت136)کے اندر ارشاد فرمایا(وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاۗىِٕنَا)ارشاد فرمایا کہ "اللہ نے جو ان کو کھیتی اور جانور عطا کیے ہیں اس میں سے یہ مشرکین حصہ مقرر کرتے ہیں کہتے ہیں کہ یہ جانور یہ کھیتی یہ نظرو نیاز اللہ کے لیے ہےاور یہ جانور یہ کھیتی یہ نظرو نیاز ہمارے شراکاء کے لیے ہے۔"
    اسی طرح میرے بھائیو ! (صحیح مسلم کے اندر حدیث ہے کتاب الحج میں حدیث کا نمبر ہے 2032-1185)عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ کعبۃاللہ کا طواف کرتے اور تلبیہ پکارتے(لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ)جب یہاں تک پہنچتے تو اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتےان کے لیے ہلاکت ہوآگے نہ جائیں یہیں بس کریں مگر وہ آگے کیا کہتے(إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ)وہ کہتے کہ اللہ ہم حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ شریک ہیں جن کو تونے خود اپنا شریک بنایا ہے،اور انہیں کوئی اپنا ذاتی اختیار نہیں ہےبلکہ ان کے پاس جو بھی اختیارات ہیں وہ تیرے دیے ہوے ہیں۔میرے بھائیو! مشرکین مکہ جن ہستیوں کو اللہ رب العزت کی عبادات میں شریک کرتے تھے وہ ان کا ذاتی اختیار نہیں سمجھتے تھے،بلکہ یہیں سمجھتے تھے کہ ان کے پاس جو بھی اختیار ات ہیں وہ اللہ رب العزت دیے ہوئیے ہیں یعنی عطا‏ئی ہیں،اسی طرح ان لوگوں نے اللہ رب العزت کے اسماء وصفات میں سے اپنے معبودانے باطلہ کے نام نکالے،الالہ سے انہیں نے لات کا نام نکالا،اور العزیز سے انہیں نےعزہ کا نام نکالہ ،پیارے بھائیو! یہ بات تو ہمارے سامنے کھل کرآئی ہےکہ مشرکین مکہ اللہ رب العزت کی عبادات میں اور اسماء وصفات میں غیروں کو شریک کرتے تھے،لیکن سوال یہاں یہ پیداہوتا ہےکہ وہ لوگ کیوں اللہ رب العزت عبادات میں دوسروں کو شریک کرتے تھے،اس کے پیچھے ان کا کیا مقصد تھا،کیا مفاد تھا،آیے میرے بھائیو ! اس بات کا جواب قرآن کریم سے تلاش کرتے ہیں،جیسا کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ یونس :آیت 18)کے اندر ارشاد فرمایا(وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ)ارشاد فرمایا کہ یہ اللہ کر چھوڑ کے ایسوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نکسان دیے سکتے ہیں،اور نہ ہی فائدہ(وَيَقُوْلُوْنَ)اور یہ کہتے ہیں کہ یہ ہستیاں اللہ رب العزت کے ہاں ہماری کیا ہیں؟سفارشی ہیں۔اسی طرح اللہ رب العزت نے (سورۃ الزمر:آیت3)کے اندر ارشاد فرمایا (وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى)ارشاد فرمایا، کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کو اپنا کارساز بنایا ہے،اور یہ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں فقط اللہ کے نزدیک جانے کے لیےاللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے۔پیارے بھائیو! یہ بات تو ہمارے سامنے کھل کرآئی ہے کہ مشرکین مکہ جن ہستیوں کو اللہ رب العزت عبادات میں شریک کرتے تھے،اس کے پیچھے ان کا کیا مقصد تھا،کیا مفاد تھا،کہ وہ لوگ اللہ رب العزت کا قرب حاصل کرنے کے لیے،اللہ کی خشنودی حاصل کرنے کے لیے ،اللہ کے نزدیک جانے کے لیےدوسری ہستیوں کا وسیلہ بناتے،ان کو اللہ کے ہاں سفارشی ٹہراتے،اسان لفظوں میں یوں سمجھ لیجیے ،کہ وہ لوگ اللہ رب العزت کے نزدیک جانے کے لیے دوسری ہستیوں کی سیڑھی لگاتے، لیکن سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے ،کہ وہ لوگ اللہ رب العزت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے،اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے،اللہ کے نزدیک جانے کے لیے،جن ہستیوں کا وسیلہ بناتے،جن کو وہ اللہ کے ہاں سفارشی ٹھراتے،جن کی وہ سیڑھی لگاتے اللہ رب العزت کے نزدیک جانے کےلیے،آخر وہ کیا چیزیں تھیں،کیا وہ پتھر کے بت تھے،جیسا کہ آج کل بہت سارے لوگوں کے ذہنوں میں ایک بات بیٹھی ہوئی ہے،کہ وہ لوگ پتھر کے بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے،نہیں میرے بھائیو ! یہ بات حقیقت سے بہت دور ہے،میں ان شاء اللہ آج یہ حقیقت کھول کر آپ لوگوں کے سامنے بیان کروں گا ,اللہ رب العزت نے (سورۃ الاعراف:آیت 194)میں ارشاد فرمایا(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ)ارشاد فرمایا کہ '' یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن کو بھی پکارتے ہیں،وہ تمہاری ترہا بندے ہی ہیں'' ۔اسی طرح اللہ رب العزت نے (سورۃ النحل:آیت20،21)کے اندر ارشاد فرمایا(وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ)ارشاد فرمایا کہ '' یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن کو بھی پکارتے ہیں،انہوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا،بلکہ وہ بچارے خود پیدا کیے گئے ہیں'' ،(اَمْوَاتٌ )وہ مردہ ہیں(غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ )زندہ نہیں ہیں،( وَمَا يَشْعُرُوْنَ )اور نہیں جانتے( اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ)کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا۔پیارے بھائیو! میں آپ لوگوں ک یہاں توجہ چاہتا ہوں،کہ قرآن کریم کے اندر جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں،ان کا سیاق ہمیں یہ بتلا رہا ہے،کہ مشرکین مکہ اللہ رب العزت کی عبادات میں مردوں کو بھی شریک کیا کرتے تھے،جیسا کہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا(اَمْوَاتٌ )وہ مردہ ہیں(غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ )زندہ نہیں ہیں( وَمَا يَشْعُرُوْنَ )اور نہیں جانتے( اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ)کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا۔یعنی اشارہ ان کی قبروں کی طرف ہے،کہ ایک دن ان کو ان کی قبروں سے اٹھایا جائے گا،لیکن اس بات کا انہیں شعور ہی نہیں ہے،میرے بھائیو ! اس آیت کریمہ کو اپنے ذہنوں میں رکھیے گاان شاء اللہ آگے کام آئے گی،اسی طرح میرے بھائیو! اللہ رب العزت نے (سورۃ نوح:آیت23)کے اندر پانچ کا تذکرہ کیا ہے،ارشاد فرمایا(وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا ڏ وَّلَا يَغُوْثَ وَيَعُوْقَ وَنَسْرًا)میرے بھائیو !صحیح البخاری کے اندر سورۃ نوح کی اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول مروی ہے،وہ کہتے ہیں،یہ پانچوں کے پانچ قوم نوح کے صالحین بزرگ تھے،جب یہ مرگئے تو شیطان ان بزرگوں کے چانے والوں کے پاس آیا،شیطان نے ان بزرگوں کے چاہنے والوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی کہ جہاں یہ بزرگ بیٹھتے تھے وہاں یاد دہانی کے طور پر ان بزرگوں کے بتوں کو بنا کر نصب کردو،چاہنے والوں نے صالحین کے بتوں کو بنا کر وہاں نصب کر دیا،وہ نسل ان صالحین کے بتوں کی عبادت نہیں کرتی تھی،فقط یاد دہانی کے طور پر،محبت کے طور پر،عقیدت کے طور پر ان صالحین کے بتوں کے پاس بیٹھتے تھے،لیکن جو نسل بعد میں آئی انہوں نے ان صاحلین کے بتوں کی عبادت شروع کردی۔اسی طرح اللہ رب العزت نے (سورۃ النجم:آیت 19،20)کے اندر تین کا ذکر کیا ہے،ارشاد فرمایا(اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى، وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى)صحیح البخاری کے اندرسورۃ النجم کی اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول مروی ہے،وہ کہتے ہیں'' لات کے بارے میں کہ یہ ایک ایسا نیک آدمی تھا جو حج کرنے والے حاجیوں کو ستو گھول کر پلایا کرتا تھا۔اسی طرح میرے بھائیو صحیح البخاری کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے دن کعبۃ اللہ میں داخل ہوتے ہیں،تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کہ ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی مورتی پڑی ہوئی ہے،اسماعیل علیہ الصلاۃ و السلام کی مورتی پڑی ہوئی ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے بھی بت وہاں پڑھے ہوئے تھے ان تمام بتوں کو توڑ دیا۔پیارے بھائیو ! یہ بات تو ہمارے سامنے کھل کر آچکی ہے کہ اقوام سابقہ نے جو بت بنائے تھے وہ پتھر کے بت نہیں تھےبلکہ صالحین کے تصور میں انہوں نے بت بنائے تھے۔پیارے بھائیو! اب میں آپ کے سامنےایک اور حقیقت کولانا چاہتا ہوں،جو بندہ بھی احادیث پڑھنے والا ہے،سیرت کا مطالعہ کرنے والا ہے،تاریخ پڑھنے والا ہے،وہ اس بات کو اچھی طرح جانتا ہےکہ اس وقت عرب کے اندر مختلف مذاہب کے لوگ موجود تھے،مختلف مذاہب کے لوگوں کامختلف عبادت کا طریقہ تھا،اس وقت عرب کے اندر یہودی بھی تھے ،عیسائی بھی تھے،مجوسی بھی تھے،صابی بھی تھے،اور مشرکین مکہ والے بھی تھے،پیارے بھائیو! اب میں آپ لوگوں کے سامنے یہودیوں اور عیسائیوں کے تعلق سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔(صحیح بخاری کے اندر حدیث ہے،کتاب الصلاۃ میں حدیث کا نمبر ہے 417)ام الموئمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں،جس مرض کے اندر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے پر کپڑا ڈالتے اور ہٹاتے اور ارشاد فرماتے(لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ)اللہ کی لعنت ہوان یہودیوں اور عیسائیوں کے اوپر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ ام الموئمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں(يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا)در اصل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو بیان کر کے، اس گندے عمل سے اپنی امت کو خبردار کرنا چاہتے تھے۔اسی طرح میرے بھائیو ! (صحیح مسلم کے اندر حدیث ہے کتاب المساجد میں حدیث کا نمبر ہے827)جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی وفات کے پانچ روز پہلے کچھ باتوں کی وصیت کی ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا(أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ)ارشاد فرمایا اے میری امت کے لوگو خبر دار ہو جاؤ تم سے جولوگ پہلے گزرے ہیں لوگ اپنے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا دیتے تھے،خبر دار تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا،میں تمہیں ایسا کرنے سے منع کرتا ہوں۔اسی طرح میرے بھائیو ! (صصحیح بخاری کے اندر حدیث ہے،کتاب الصلاۃ میں حدیث کا نمبر ہے416)ام الموئمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں، ام الموئمنین ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہن نے حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کی وہاں انہوں نے عیسائیوں کا ایک گرجہ دیکھا،جس کے اندر کچھ قبریں تھیں،اور تصاویر لٹک رہی تھیں،اس بات کا تذکرہ انہوں نے واپسی پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جب ان میں سے کوئی نیک آدمی مر جاتا یہ لوگ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے،اور اس کی تصاویر لٹکالیتے(أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ)اس قسم کے لوگ اللہ رب العزت بدترین گندی مخلوق ہیں،اے مسلمانو! غور کرواللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا،کہ جو لوگ بزرگوں کی تصاویر لٹکالیتے ہیں،اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں،اس قسم کے لوگ اللہ رب العزت بدترین گندی مخلوق ہیں ،پیارے بھائیو ! حدیث کے اندر تصاویر کا ذکر آگیا ہے،تو میں آپ لوگوں کے گوش گزار کچھ باتیں کرتا چلوں،ہم نے سکھوں کو دیکھا ہے،کہ سکھ اپنے گھروں کے اندر گرونانک کی تصویر سجاتے ہیں،سکھ گرونانک کی تصویر کے سامنے اگر بتیں جلاتے ہیں،اسے پھولوں کے ہار پہناتے ہیں،سکھ ہر روز صبح اٹھ کر گرونانک کی تصویر کے سامنے ہر صبح ہاتھ باندھ کر با ادب کھڑے ہوتے ہیں،میرے بھائیو! یہ وہ کفر اور شرک ہے جو میں نے سکھوں کے تعلق سے آپ کے سامنے بیان کیا ہے، واللہ پاکستان کے اندر ہم نے ایک کلمہ پڑھنے والے مسلمان کو دیکھا ،اس مسلمان نے اپنےگھر کے اندر اپنے پیر کی تصویر کو سجایا ہوا ہے،وہ اس کے سامنے اگر بتیں جلاتا ہے،اسے پھولوں کے ہار پہناتا ہے،ہر روز صبح اٹھ کروہ مسلمان اپنے پیر کی تصویر کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو تا ہے،میرے بھائیو ! ترازو آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہے،آپ لوگ خود فیصلہ کیجیے کہ کیا فرق ہے سیکھوں کے کفر اور شرک میں اور کیا فرق ہے اس مسلمان کی بدعقیدگی میں۔ہمارے ایک دوست نے ہمیں بتلایاکہ سندھ کے اندر ایک پیر ہے جس کی تصویر کو لوگ سجدہ تک کرتے ہیں( إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ)میرے بھائیو! صحیح البخاری کے اندر حدیث ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رحمت کے فرشتے اس گھر کے اندر داخل ہی نہیں ہوتے جس گھر کے اندر تصاویر یا کتا ہو۔اے مسلمانو ! غور کرو آج ہم لوگوں نے کن کن کی تصاویر اپنے گھروں میں اپنی دکانوں میں سجارکھی ہیں،ہالاں کہ اللہ کے رسولﷺ نے تو یہ ارشاد فرمایاہے کہ رحمت کے فرشتے اس گھر کے اندر داخل ہی نہیں ہوتے جس گھر کے اندر تصاویر یا کتا ہو،میرے بھائیو یہ وہ کفر ہے جو میں نے یہودیوں اور عسائیوں کے تعلق سے بیان کیا ہے۔پیارے بھائیو! اب میں یاد دہانی کے طور پر اپنی باتوں کو ذرا دہرانا (repeat)چاہتا ہوں تاکہ اگے بات سمجھنے میں مزید آسانی ہوجائے،میرے بھائیو میں نے آپ لوگوں کے سامنےمشرکین مکہ کے تعالق سے بیان کیا،کہ وہ لوگ اللہ رب العزت کو خالق ،مالک،رازق مانتے تھے،وہ لوگ مشکل وقت میں اللہ کو پکارتے بھی تھے،وہ لوگ کیوں مشرک قرار پائے کہ وہ لوگ اللہ رب العزت کی عبادات میں اور اللہ کی اسماء وصفات میں غیروں کو شریک کرتے تھے،میں نے یہ بھی آپ لوگوں کے سامنے بیان کیا وہ لوگ کیوں اللہ رب العزت کی عبادات میں غیروں کو شریک کرتے تھے،اس کے پیچھے ان کا کیا مقصد تھا،کیا مفاد تھا،کہ وہ لوگ اللہ رب العزت کا قرب حاصل کرنے کے لیے،اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دوسری حستیوں کا وسیلہ بناتے،انہیں اللہ کے ہاں سفارشی ٹھراتے،وہ لوگ اللہ کے نزدیک جانے کے لیے دوسروں حستیوں کی سیڑھی لگاتے،اور میں نے یہ بھی آپ لوگوں کے سامنے بیان کیاکہ وہ لوگ جن حستیوں کا وسیلہ بناتے،جن کو اللہ کے ہاں سفارشی ٹھراتے،اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے،اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے،وہ فقط پتھر کے بت نہیں تھے،بلکہ صالحین کے تصور میں ان لوگوں نے بت بنائے تھے۔اس کے علاوہ اقوام سابقہ قبر پرستی کے شرک میں بھی مبتلا تھیں،جیسا کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ النحل:آیت21)کے اندر ارشاد فرمایا(اَمْوَاتٌ )وہ مردہ ہیں(غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ )زندہ نہیں ہیں،( وَمَا يَشْعُرُوْنَ )اور نہیں جانتے( اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ)کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ سے بھی آپ لوگوں نے سنا ہےکہ اقوام سابقہ قبر پرستی کے شرک میں بھی مبتلا تھیں،میرے بھائیو! یہ وہ کفر اور شرک ہے جو میں نے اقوام سابقہ کے تعلق سے آپ لوگوں کے سامنے بیان کیا ہے۔اب میں آپ لوگوں کے سامنے یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ کیا مسلمان بھی شرک کرسکتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے (سورۃ یوسف :آیت 106)میں ارشاد فرمایا(وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ) کہ بہت سارے لوگ اللہ رب العزت پر ایمان رکھنے کے بعد بھی شرک کا ارتقاب کرتے ہیں مشرک ہیں۔اسی طرح (صحیح البخاری کے اندر حدیث:6775)ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا(لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ)کہ تم اپنے پچھلے لوگوں کے نقش قدم پر چلو گے،جس طرح اقوام سابقہ قبر پرستی کے شرک میں مبتلا تھیں،اسی طرح آج بھی مسلمانوں کے اندر کچھ لوگ ہیں جو صالحین کی قبروں کی عبادت کر رہے ہیں،لیکن مسلمان ان باتوں کو شرک نہیں سمجھتے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اقوام سابقہ کے شرک کو ان کی ہلاکت کو مد نظر رکھ کر اپنی امت کو بال بال خبر دار کیا،ارشاد فرمایا تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنا نا ( إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ)میں تمہیں ایسا کرنے سے منع کرتا ہوں۔ میرے بھائیو ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا اسلام میں اپنے صحابہ کرام کو قبروں کی زیارت سے روک دیا کیوں کہ جو پہلے شرک کا سبب بنیں وہ قبریں ہیں تھیں،اسی بنا پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو قبروں کی زیارت سے روک دیا،لیکن پھرجب ان کی اسلامی تربیت فرمائی ،ایمان ان کے اندر پختہ ہوا تو پھر قبروں کی زیارت کے لیے اجازت دیے دی تاکہ وہاں جاکر آخرت کی یاد آئے،میرے بھائیو ! حدیث کے اندر جس قبرستان کی اجازت دی گئی ہے وہ ہمارے گاؤں کا ،ہمارے محلہ کا،ہمارے شہر کا مقامی قبرستان ہے ، ہم وہاں جائیں ، جا کر قبروں کی زیارت کریں تاکہ ہمیں آخرت کی یاد آئے،اس کے برعکس جو لوگ بڑے بڑے آستانوں کی طرف،درگاہوں کی طرف،مزاروں کی طرف سفر کا سامان باندھ کر ثواب کی نیت سے ہجرت کرکے جاتے ہیں،ایسے لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں،کیوں کہ (صحیح مسلم کے اندر حدیث ہے کتاب الحج میں حدیث کا نمبر ہے)اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِي هَذَا وَمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو منع کیا ہےکہ مسجد الحرام،مسجد نبوی اور مسجد اقصی ان تین مساجد کے علاوہ کسی اور مقام کی طرف سفر کا سامان باندھ کر ثواب کی نیت سےہجرت نہ کی جائے،تو میرے بھائیو ! کیا پتا چلا کہ حدیث کے اندر جس قبرستان کی زیارت کے لیے اجازت دی گئی ہےوہ ہمارے شہر کا،ہمارے گاؤں کا ،ہمارے محلہ کا مقامی قبرستان ہے،ہم وہاں جائیں جاکر قبروں کی زیارت کریں تاکہ ہمیں آخرت کی یادآئے،لیکن جن قبروں کے اردگرد قوالیاں ہو رہی ہیں،جہاں عورتیں بے پردہ گھوم رہی ہیں کیا وہاں آخرت کی یاد آسکتی ہے،اے مسلمانو ! یہ بات ہمیں تسلیم کرنا پڑے گی کہ آج دین اسلام کی جتنی رسوائی جتنی توہین ان آستانوں پر ،درگاہوں پر،مزاروں پر ہو رہی ہے،شاید غیر مسلموں کے مندروں ،گرجوں اور گردواروں پے اسلام کی ایسی توہین نہ ہو تی ہو۔بزرگوں کی قبروں پر قبے تعمیر کرنا،انہیں خوبصورت بنانا،ان پر چراغ جلانا،پھول چڑھانا ،انہیں غسل دینا،ان پر مجاوری کرنا،ان پر نظر و نیاز چڑھانا،وہاں کھانا اور شربت تقسیم کرنا،جانور ذبح کرنا،وہاں رکوع اور سجود کرنا،ہاتھ باندھ کر باادب کھڑے ہونا،ان سے مرادیں‌ مانگنا،ان کے نام کی چوٹی رکھنا،ان کے نام کے دھاگے باندھنا،ان کے نام کی دھائی دینا،تکلیف اور مصیبت میں انہیں پکارنا،مزاروں کا طواف کرنا،طواف کے بعد قربانی کرنا اور سرکے بال منڈوانا،مزاروں کی دیواروں کو بوسہ دینا،وہاں سے خاک لا کر کھانا،ننگے قدم مزار تک پیدل چل کر جانا اور الٹے پاؤں واپس پلٹنا،یہ سارے کام تو وہ ہیں جو ہر چھوٹے بڑہے مزار پر روزمرہ کا معمول ہیں لیکن جو مشہور اولیا کرام کے مزار ہیں ان میں سے ہر مزار کا کوئی نہ کوئی الگ امتیاذی وصف ہے،مثلا بعد خانگاہیں ایسی ہیں،جہاں جنتی دروازے تعمیر کیے گئے ہیں ،جہاں گدی نشین اور سجادہ نشیں لوگوں سے نزرانے وصول کرتے ہیں اور جنت کی ٹکٹیں وصول کرتے ہیں،کتنے ہی ہمارے حکمران اورعہدے دار دنیا کے مال ودولت کے بل بوتے وہاں جنت کو خرید نے کے لیے جاتے ہیں،اسی طرح میرے بھائیو !بعد خانگاہیں ایسی ہیں جہاں مناسک حج ادا کیے جاتے ہیں،مزار کا طواف کرنے کے بعد قربانی کی جاتی ہے،بال کٹوائے جاتے ہیں،اور مصنوعی آب زم زم نوش کیا جاتا ہے،اسی طرح بعد خانگاہیں ایسی ہیں جہاں معصوم بچوں کا چڑھاوا چڑھایا جاتا ہےپاکستان گجرات کے اندر ایک درگاہ شدولاولی کے نام جہاں مسلمان معصوم بچوں کا چڑھا چڑھاتے ہیں،مسلمانوں کی یہ بدعقیدگی ہے کہ جو بچہ شدولا ولی کی درگاہ پرچڑھاومانا جائے وہ چوہے کی شکل کا پیدا ہوتا ہے حالاںکہ کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ ال عمران:آیت 6) کے اندر یوں ارشاد فر مایا(ھُوَ الَّذِيْ يُصَوِّرُكُمْ فِي الْاَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاۗءُ)کہ وہ اللہ ہی ہے جس طرح چاہے ارحام کے اندر تمہاری شکلیں بنائے۔لیکن مسلمان یہ بد عقیدگی رکھتے ہیں کہ بابا جی کی مرضی سے تخلیق ہوتی ہے،اسی طرح اے مسلمانو! بعد خانگاہیں ایسی ہیں جہاں نوجوان کنواری لڑکیاں خدمت کے لیے وقف کی جاتی ہیں، اسی طرح بعد خانگاہیں ایسی ہیں جہاں اولاد سے محروم خواتیں نورانی بسر کرنے جاتی ہیں،وہاں جا کر نو راتیں گزارتیں ہیں،مجاوروں اور سجادہ نشینوں کی سیوا(خدمت)کرتی ہیں،انہیں خان گاہوں میں سے بیشتر بھنگ، چرس،گانجے اور ہیرون جیسی منشیات کا کاروباری مراکز بنی ہوئی ہیں،بعد خانگاہوں میں فحاشی، بدکاری اور حوس پرستی کے اڈے بھی بنے ہوئے ہیں،بعد خانگاہیں مجروموں اور قاتلوں کی محفوظ پناگاہیں تصور کی جاتی ہیں،انہیں خانگاہوں کے گدی نشین اور مجاوروں کے حجروں میں جنم لینے والی بے حیائی پر مبنی داستانیں سنیں تو واللہ کلیجہ منہ کو آتا ہے،انہیں خانگاہوں پر منعقد ہونے والے سالانہ عرسوں میں مردوں اورعورتوں کا کھلے عام اختلاط ،عشقیہ اور شرکیہ مضامین پر مشتمل قوالیاں،ڈھول کے ساتھ نوجوان ملنگوں اور ملنگیوں کی دھمالیں،کھلے بالوں کے ساتھ عورتوں کا رقص،طوائفوں کے مجرے،تھیٹر اور فلموں کے مظاہرے عام نظر آتے ہیں،انہیں رنگرلیوں کے باعث انہیں، عیاشیوں کے باعث گلی گلی محلے محلے گاؤں گاؤں شہر شہر نئے مزار تعمیر ہو رہے ہیں،اور لوگ جوق در جوق آستانوں پر،درگاہوں پر، مزاروں پر جارہے ہیں اور کھلے عام اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کر رہے ہیں لیکن مسلمان پھر بھی ان باتوں کو شرک نہیں سمجھتے۔(لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ)اور جب کوئی قرآن و حدیث کے ماننے والا ان مسلمانوں کے سمجھاتا ہےکہ بھائیو! ان حرکتوں سے باز آجاؤ یہ شرک ہے،شرک جس کا ٹھکانا جہنم ہے،تو یہ مسلمان اس کے دشمن بن جاتے ہیں،کہتے ہیں کہ تم وہابی ہو،تم بے دین ہو،تم مرتد ہو،تم انگریزوں کے ایجنٹ ہو،تم ابنیاء اور صالحین کے گستاخ ہو،تمہیں ان سے محبت نہیں ہے،ہم ان سے محبت کرتے ہیں یہ اللہ کے بڑے ہی پیارے ہیں،انہیں نے بڑہی محنتیں کی ہیں، لوگوں کو مسلمان کیا ہے،یہ بڑے ہی پہنچے ہوئے ہیں،ہماری ان کے آگے ان کی اللہ کے آگے،اللہ ہماری سنتا نہیں ہم بڑے ہی گناہ گار ہیں اور ان کی موڑتا نہیں،ہم اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے،اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے،اللہ کے نزدیک جانے کے لیےان کا وسیلہ بناتے ہیں ان کو اللہ کے ہاں سفارشی ٹھراتے ہیں آسان لفظوں میں یوں کہتے ہیں کہ ہم اللہ رب العزت کے نزدیک جانے کے لیے ان کی سیڑھی لگاتے ہیں۔معزز دوستو! اسلامی بھائیو ! آپ لوگ پیچھے میری باتیں سنی میں نے آپ لوگوں کے سامنے کفار مکہ کا شرک بیان کیا ہے،وہ لوگ بھی یہ کہتے تھے،جیسا کہ اللہ رب العزت(سورۃ یونس:آیت نمبر18)کے اندر ارشاد فرمایا( وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ )ارشاد فرمایا،'' یہ کہتے ہیں کہ یہ حستیاں اللہ رب العزت کے ہاں ہماری کیا ہیں شفارشی ہیں۔'' اسی طرح اللہ رب العزت نے آگے ارشاد فرمایا( قُلْ اَتُنَبِّـــــُٔوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ)''پیارے نبی آپ کہ دیجیے کہ تم اللہ کو اس بات کی خبر دیتے ہوجسے نہ وہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ ہی زمیں میں'' (سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ)

    اللہ عزوجل پاک ہے ان کے اس شرک سے۔اسی طرح اللہ عزو جل نے (سورۃ الزمر :آیت نمبر 3)ارشاد فرمایا(مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى )ارشاد فرمایا کہ '' یہ ان کی عبادت کیو ں کرتے ہیں فقط اللہ کی نزدیک جانے کے لیے اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے'' آگے ارشاد فرمایا(اِنَّ اللّٰهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِيْ مَا هُمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ )'' اللہ عزوجل ان کے درمیان فیصلہ کرےگاجس بارے میں یہ اخطلاف کر رہے ہیں'' (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ)'' بے شک اللہ عزوجل اس قسم کے جھوٹے کفار کو ہدایت نہیں دیتا ،پیارے بھائیو! آپ لوگوں نےغور کیاکہ اللہ رب العزت نے اس قسم کا عقیدہ رکھنے والوں کو مشرک ،جھوٹا،کافر قرار دیا ہےپیارے بھائیو ! کفار مکہ بھی ان باتوں کو شرک کا نام نہیں دیتے تھے،وہ بھی یہ نہیں کہتے تھےکہ ہم اللہ کے ساتھ شرک کر رہے ہیں،بلکہ وہ بھی ان باتوں کو وسیلہ کا سفارش کا،تقرب اللہ کا نام دیتے تھے اور آج کے کچھ مسلمان بھی بلکل ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں،میرے بھائیو! یہ بات ہمیں تسلیم کرنا پڑے گی کہ کفار مکہ کا شرک اور آج کے کچھ مسلمانوں کا شرک بلکل ایک جیسا ہی ہے،تصورات ،عقیدہ بلکل ایک جیسا ہی ہے،اگر فرق ہے تو فقط ناموں کا فرق ہےانہوں نے کچھ اور نام دیے تھے انہوں نے کچھ اور نام دےلیے ہیں لیکن حقیقت دونوں کی بلکل ایک جیسی ہی ہے۔اسی طرح میں ان لوگوں سے بھی کہنا چاہوں گا جو لوگ قبروں کے پاس جاکر جانور زبح کرتے ہیں،نذر و نیاز دیتے ہیں،گیاہویں‌ دیتے ہیں، قبروں والوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ،ایسے لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سن لیں (صحیح مسلم کے اندر حدیث ہےقربانی کے باب میں حدیث کانمبر ہے 3658)اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا(لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ)ارشاد فرمایا " اللہ ایسے شخص پر لعنت کرے جو اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کے لیے ذبح کرے۔اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم ذبح کر تے وقت بسم اللہ کہتے ہیں تو میں ایسے لوگوں سے کہنا چاہوں گا،آپ سو دفہ بسم اللہ کہیں اگر آپ نے وہ جانور وہ نذرو نیاز وہ گیارہویں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کے نام نذر کردی کسی وہ بلکل اسی طرح حرام ہوجائیں گے جس طرح کے خنزیر حرام ہےان کا کھانا بھی بلکل اسی طرح حرام ہوجائے گا جس طرح کہ خنازیر کھانا حرام ہیں۔اسی طرح اللہ رب العزت نے (سورۃ المائدۃ:آیت3)'' آٹھ قسم کے جانوروں کو حرام قرار دیا ہےاور ان میں سے وہ جانور بھی حرام ہیں جو آستانوں پر جا کر ذبح کیے جاتے ہیں'' ،ارشاد فرمایا(وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ) '' وہ جانور بھی حرام ہیں جو آستانوں پر جا کر ذبح کیے جاتے ہیں،ان کا کھانا بھی بلکل اسی طرح حرام ہے جس طرح خنزیر کا کھانا حرام ہے،''

    اب میں اپنے بھائیوں کو ایک دو باتیں عقل بھی سمجھانا چاہتا ہوں اے میرے بھائیو! آپ لوگ تسلیم کرتے ہو کہ وہ لوگ نیک ہیں اللہ کے دوست ہیں میرے بھائیو ! جیسے اللہ رب العزت اپنا دوست بنا لیے،جس کی قبر کو اللہ روشن کردیے،جس کو جنت کے اندر محل کی خوش خبری مل جائے اس کو ہمارے بنائے ہوئے اگربتیوں کی ،ٹیوب لیٹوں(Tube light-ion)چادروں کی کیا ضرورت ہےمیرے بھائیو ! چادر کی ضرورت گھر میں محترمہ کو ہے اکثر لوگوں کی بیویاں گھروں میں پردہ نہیں کرتیں،لیکن بابا جی کی قبر کے اوپر جاکر پانچ سو کی چادر جاکر چڑھا دیتے ہیں میرے بھائیو! باباجی کی قبر کے اوپر ویسےہی بیس(20) من مٹی کی بہت بھاری چادر ہے،چادر کی ضرورت گھر میں محترمہ کو ہے،ان کو پردہ کروائیں۔اسی طرح میرے بھائیو! وہ نذرو نیاز،وہ پیسہ،وہ جانور لا کر ان شیطانی بھیڑیوں کے حوالے کر دیتے ہووہ پیسہ، وہ نذرو نیاز، وہ جانور آپ لوگ اپنے محلہ میں اپنے گاؤں میں،اپنے شہر میں کسی فقیر کو کسی مسکین کو اللہ کے نام پر دیے دو تاکہ تمہیں‌ اجر تو مل جائے وہ شیطانی بھڑیے مجاور جن کے بارے میں اللہ رب العزت نے (سورۃ التوبہ:آیت نمبر34)کے اندر یوں ارشاد فرمایا(يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ)ارشاد فرمایا ،"اے ایمان والو یہ بہت سارے درویش ،بہت سارے مجاور لوگوں کا مال باطل طریقہ سے کھا جاتے ہیں،اور انہیں اللہ کی راہ سے گمراہ کردیتے ہیں'' اے میرے بھائیو! یہ لوگ آپ کے مال کے بھی چور ہیں اور آپ کے دین کے بھی دشمن ہیں،اس لیے میرے بھائیو! ان سے اپنے مال کو بھی محفوظ کرلو اور اپنے دین کو بھی،اور میں ان لوگوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں جو دوسرے کے کندھوں پر بندوق چلانے کی کوشش کرتے ہیں،میں ایسے لوگوں سے کہنا چاہوں گا،جو ان صالحین کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ انہیوں نے بڑی ہی محنتں کی ہیں،بڑے لوگوں کو مسلمان کیا ہے،اے میرے بھائیو ان صالحین نے جو محنتیں کی ہیں جن لوگوں کو بھی مسلمان کیا ہےجو نیکیں بھی کی ہیں کیا ہمارے لیے کی ہیں کیا وہ لوگ قیامت کے دن ہمیں اپنی نیکیاں دیے دیں گے۔اللہ رب العزت نے (سورۃ جاثیۃ:آیت نمبر 15)کے اندر یوں ارشاد فرمایا(مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ)جس نے بھی نیک اعمال کیے اس نے اپنے لیے کیے۔نبی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی سے ارشاد فرمایا(يا بنتي أعملى)'' اے میری بچی عمل کر میں قیامت کے دن تیر ے کسی کام نہیں آسکوں گا'' ،میرے بھائیو ! آپ خود نیک بنیں،خود نمازوں کی حفاظت کریں،اگثر لوگ خود تو نماز پڑھتے نہیں ہیں لیکن دوسروں کی محنت پر ان کی بری نظر ہوتی ہے۔پیارے بھائیو! اب میں آپ لوگوں کے سامنے قبروں کے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چند فرمودات پیش کرنا چاہتا ہوں(صحیح مسلم کے اندر حدیث کتاب الجنائد میں حدیث کا نمبر ہے 970) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کومنع کیا ہےکہ نا قبروں کو پختہ کیا جائے،نہ قبروں پر مجاوری کی جائے،اور نہ ہی قبروں پر لکھا جائے۔اسی طرح (سنن النسائی کے اندرحدیث ہےکتاب الجنائد میں حدیث کا نمبر ہے2029)اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے کہ قبر کی اپنی مٹی کےعلاوہ مزید مٹی نہ ڈالی جائے۔اسی طرح (مسند احمد کے اندر حدیث ہے)اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو بڑھی بڑھ چڑھ کر قبروں کی زیارت کے لیے جاتی ہیں اسی طرح ان لوگوں کے اوپر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے،جو لوگ قبروں پر جاکر چراغ جلاتے ہیں۔اسی طرح میرے بھائیو ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو منع کیا ہےکہ نہ ہی قبروں پر عرس قائم کیے جائیں،نہ ہی قبروں پر میلے لگائے جائيں،جیسا کہ (سنن ابی داؤد کے اندر حدیث ہےحدیث کا نمبر ہے 1746) اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا(وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا)کہ تم میری قبر کو میلہ گاہ نہ بنانا۔تو اے مسلمانو! جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قبر پر عرس قائم کرنے سے،میلہ لگانے سے اپنی امت کو منع کردیا ہےتو اے مسلمانو! اس دھرتی پر کون ایسا پیدا ہو گیا ہےجس کی قبر پر ہر سال عرس قائم کیے جائیں ،ملیےلگائے جائیں،تو اے مسلمانو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو مان کر ان حرکتوں سے باز آجاؤ۔اسی طرح میرے بھائیو (صحیح مسلم کے اندرحدیث ہے کتاب الجنائز میں حدیث کا نمبر ہے 1609)جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ابی الحیاج اسدی کو حکم دیا کہ '' جا میں تجھ کو اس (مشن) پر بھیجتا ہوں جس(مشن) پر مجھ کو اللہ کس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا (لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ)کہ تجھے کو ئی تصویر نظر آئے نہ چھوڑ مگر اسے مٹا دے(وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ)اور جو قبر بھی تجھے اونچی نظر آئے اسے نہ چھوڑ مگر اسے برابر کردے۔پیارے بھائیو ! جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ تو اونچی قبروں کو توڑ نے ولے تھے لیکن آج کچھ لوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کرجناب علی کو مشکل کشا حاجت روا مانتے ہیں۔امام جریر طبری اور دیگرکا بیان ہے،کہ عبد اللہ ابن صباء یہودی جو کہ یمن کا رہنے والا تھا اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہوتا ہے اس یہودی نے سب سے پہلے یہ بدعقیدگی پھیلائی اور لوگوں کے اندر عام کردی کہ جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ اس دھرتی کے اوپر نعوذ باللہ مین ذالک اللہ کا روپ ہیں جناب علی مشکل کشا ہیں حاجت روا ہیں جناب علی کو جہاں پکارا جائےجناب علی وہاں پہنچ جاتے ہیں اسی یہودی ہی نے لوگوں کے اندر یہ بات عام کہ نبوت کے اصل حقدار جناب علی تھےلیکن وحی لانے والے فرشتےجبرائیل علیہ السلام غلطی سے وحی لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر آگئےاسی یہودی خبیث‌ ہی نے لوگوں کے اندر اس بات کو فروغ دیا کہ خلافت کے اصل حقدار جناب علی رضی اللہ عنہ تھے لیکن شیخین ابو بکر اور عمر رضی اللہ تعالی عنہمانے خلافت جناب علی سے چین کر اہل بیت کے اوپر ظلم اور زیادتیاں کیں اسی یہودی خبیث نے لوگوں کے اندر اس بات کو پھیلا دیا کہ قرآن کریم جو مسلمانوں کے پاس موجود ہے یہ غیر مکمل ہے بلکہ تحریف شدہ ہے پیارے بھائیو ! ہمیں افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑ رہی ہے کہ آج بھی کچھ لوگ موجود ہیں جو اپنے دانست میں اپنی نسبت اسلام کی طرف کرتے ہیں لیکن یہ لوگ بلکل اسی یہودی کے نقشہ قدم پر چل کر جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں غلو کا شکار ہیں یہ لوگ بھی جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں الوہییت کا عقیدہ رکھتے ہیں جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ کو مشکل کشاء حاجت روا مانتے ہیں میرے بھائیو! یہی کفریہ عقیدہ لعل شہباز قلندر کی درگاہ کے اوپر ایک بینر پرلٹک رہا ہے کپڑے کا اس پر یوں لکھا ہوا ہےکہ ''علی اللہ نیچے لکھا ہوا ہے کہ علی مرتضی وہ ذات ہیں جن کو عربی میں اللہ کہا جاتا ہے انگریزی میں(GOD)کہا جاتا ہے اور ہندی کے اندر بھگوان اور عیشور کہا جاتا ہے اور اردو میں معبود کہا جاتا ہے اور یہی عقیدہ جناب علی رضی اللہ عنہ کی زندگی میں کچھ لوگوں نے رکھا تھاجب جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اس بات کی خبر پہنچی ک کچہ لوگ ان کے بارے میں الوہیت کا عقیدہ رکھتے ہیں تو جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ ایسے لوگوں کو گرفتار کروا کر قتل کروایا جو کہ ان کے بارے میں الوہییت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔میرے بھائیو !ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ آپ تو یہ بیان کر رہے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےقبروں کو پختہ کرنے سے قبروں پر لکھنے سے قبروں پر عمارتیں بنانیں سے اپنی امت کو منع کیا ہےلیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے اوپر بھی گنبد خضرا بنا ہوا ہے۔تو میرے بھائیو ! اس بات کا جواب سنیں یہ جو گنند خضرا آپ کو نظر آرہا ہے وہاں اس وقت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا حجرہ تھا(صحیح البخاری کے اندر حدیث ہے کتاب الجنائز میں حدیث کا نمبر ہے 1244) المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہافرماتی ہیں(وَلَوْلَا ذَلِكَ لَأَبْرَزُوا قَبْرَهُ غَيْرَ أَنِّي أَخْشَى أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا)''اگر اس بات کا خدشہ نہ ہوتا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو سجدہ گاہ بنالیا جائے گا تو آپ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بھی کھلے میدان میں ہوتی ،یعنی صحابہ کرام کے ساتھ قبرستان میں ہوتی۔ اسی طرح میرے بھائیو! (موطا امام مالک کے اندر حدیث ہے حدیث کا نمبر ہے376) اللہ کے رسولﷺ نے دعا کی(اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا يُعْبَدُ)""اے اللہ تو میری قبر کو بت نہ بننے دیناکہ اس کی عبادت کی جائےاللہ رب العزت نے اپنے نبی کی دعا کو قبول فرمالیا اور اپنے نبی کی قبر کو محفوظ کردیا ان شاء اللہ قبر نبوی قیامت تک اسی طرح محفوظ رہے گی،اس کے علاوہ میرے بھائیو! یہ گنبد خضرا جو آپ کو نظر آرہا ہےیہ گنبد خضرا نہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے تعمیر کیا گیاہےنہ ہی اس کو کسی صحابی نے تعمیر کیا ہےنہ ہی تابعین نے اور نہ ہی تبع تابعین نے بلکہ یہ سات سو (700) سال بعد جاکر تعمیر ہوا اگر آپ لوگوں کو مزید تفصیل پڑھنی ہے تو ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کی(البدایہ والنہایہ)پڑھ لیجیے۔اس لیے میرے بھائیو! قبروں پر عمارتین بنانیں کے لیے کسی کے لیے دلیل نہیں بن سکتا،ہمارے لیے دلیل ہے ہمارے لیے حجت ہے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان۔اللہ رب العزت نے (سورۃ الحشر:آیت7) کے اندر یوں ارشاد فرمایا ( ۭ وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا)'' جو رسول تمہیں دیں اسے لیے لو اور جس چیز سے رسول تمہیں منع کریں تو اس سے منع ہوجاو''۔

    تو میرے بھائیو! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کومنع کیا ہے،نہ ہی قبروں پر عمارتیں بنائی جائيں،نہ ہی قبروں کو پختہ کیا جائے، نہ ہی قبروں پر لکھا جائے،اور نہ ہی قبروں پر عرس قائم کیے جائں،نہ ہی قبروں پر میلے لگائے جائيں،اور نہ ہی قبروں پر مجاوری کی جائے،نہ ہی قبروں پر چراغ جلائے جائں،جیسا کہ آپ پیچھیے ہماری باتیں سن کر آئیں ہیں،تو ایک کلمہ پڑھنے والے مسلمان کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مان کر ان حرکتوں سے باز آجانا چاہیے،حیلے اور بہانے تلاش نہیں کرنے چاہیں،اور میں ان لوگوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں جولوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کے دم بھرتے ہیں۔میرے بھائیو! جس طرح آپ لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے محبت کرتے ہواسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سے بھی محبت کیجے پھر بات بنے گی ورنہ محبت کے سارے دعوے جھوٹے ہیں۔اے میرے بھائیو! اگر آپ لوگوں کے دلوں میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور خالص محبت ہے تو میرے بھائیو !جتنی بھی یہ قبریں جن کے اوپر عمارتیں بنی ہوئی ہیں جن کے اوپر سونے کے دروازے نصب ہیں جن کو سنگے مرمر کے پتھروں سے تراشا گیا ہے میرے بھائیو! ان تمام قبروں کو زمین کے برابر کردو تاکہ ہمارے ممالک سے شرک ختم ہو اللہ رب العزت کی رحمتیں نازل ہوں میرے بھائیو ! ان صالحین کو ،ان سونے کے دروازوں کی ،سنگے مر مر کے پتھروں کی ان عمارتوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ یہ پیسہ فقرا اور مساکین مسلمانوں کو دو جو اس چیز کے مستحق ہیں تاکہ ان کو رہنے کے لیے چھت نصیب ہو ۔پیارے بھائیو! اب میں آپ لوگوں کے سامنے یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ کس طرح کچھ مسلمانوں نے صالحین کی شان میں غلو کیا ہوا ہے،مسلمان اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں پر کس طرح توکل کرتے ہیں،جس طرح اللہ پر توکل کرنا چاہے،غیروں سے اس طرح خوف رکھتے ہیں جس طرح اللہ سے خوف رکھانا چاہے،غیروں سے اس طرح امیدیں رکھتے ہیں ، جس طرح مسلمانوں کو اللہ رب العزت سے امیدیں وابسطہ کرنی چاہیں،مسلمان غیروں سے اس طرح محبت رکھتے ہیں جس طرح مسلمانوں کو اللہ رب العزت سے محبت رکھنی چاہیے،سچ فرمایا اللہ رب العزت نے (سورۃ البقرۃ:آیت 165)کے اندر(وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ)ارشاد فرمایا کہ'' لوگوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھرائے ہیں،اور وہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جو محبت ان کو اللہ سے رکھنی چاہیے'' ( وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ) لیکن جو موحدین ہیں توحید پرست ایمان والے ہیں وہ اللہ کی محبت میں بڑے ہی سخت ہیں ۔مسلمانوں نے اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی کو لقب دیا ہوا ہے مشکل کشا ہیں حاجت روا ہیں،اے میرے بھائیو! آپ لوگ جاتے ہیں کہ مشکل کشا کا معنی کیا ہے ،جو پوری مخلوق کی مشکلیں حل کرنے والا،اے میرے بھائیو! پوری مخلوق کی مشکلیں حل کرنے والا کون ہے،اور قرآن کریم سے سنیےجیسا کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ یونس:آیت نمبر 106،107) کے اندر ارشاد فرمایا(وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ)ارشاد فرمایا تم اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو مت پکارو یہ نہ تمہیں فائدہ دے سکتے ہیں اور نہ ہی نق(فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِيْنَ)اگر تم نے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کوپکارا تو تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔میرے بھائیو ! ظلم قرآن کریم میں کسیے کہا گیا ہے ( اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ)یہ شرک بہت بڑھا ظلم ہے۔(سورۃ القمان:آیت 13)۔یعنی اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی اور کو پکارنا یہ کیا ہے ؟ یہ ظلم ہے یعنی شرک ہے۔آگے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا(وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗٓ اِلَّا ھُوَ)ارشاد فرمایا اگر اللہ کسی کو کسی مشکل میں مبتلا کرے تو اس مشکل کو ما سوائے اللہ رب العزت کے اور کوئی دور نہیں کرسکتا(وَاِنْ يُّرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَاۗدَّ لِفَضْلِهٖ)اگر اللہ رب العزت کسی کو اپنا فضل عطا کرنا چاہتا ہے تو اس کے فضل کو کوئی نہیں روک سکتا۔اسی طرح میرے بھائیو ! مسلمانوں نے اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی کو لقب دیا ہوا ہے کہ وہ غوث اعظم ہیں اے میرے بھائیو! غوث کا معنی کیا ہے ،جو ہر جگہ ،ہر وقت،ہر کسی کی،ہر زبان میں دعاء کو پکار کو سننے والا اعظم کہتے ہیں سب سے بڑھا،یعنی غوث اعظم کا معنی کیا ہے سب سے بڑھا سننے والا، تو اے مسلمانوں! سب سے بڑھا سننے والا کون ہےاو قرآن کریم سے سنو جیسا کہ اللہ رب العزت نے(سورۃ النمل :آیت 62)کے اندر ارشاد فرمایا(اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ ۭءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ)ارشاد فرمایا کہ کون ہے جو بے قرار کی قرار کو سنتا ہے،جب وہ بے قراری میں اسے پکارتا ہے،اور اس کی مشکل کو دور کرتا ہے،کون ہے جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے( ۭءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ)کیا اللہ رب العزت کے ساتھ اور بھی معبود ہیں،کوئی اور بھی غوث اعظم ہیں( قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ )تم لوگ بہت کم ہی نصیحت پکرتے ہو،بہت کم ہی توحید کا فہم رکتے ہو۔اسی طرح میرے بھائیو ! مسلمانوں نے اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی کو لقب دیا ہوا ہے کہ وہ غریب نواز ہے،اے میرے بھائی آپ لوگ جانتے ہیں کہ غریب نواز کا معنی کیا ہے،جو پوری مخلوق کو نوازنے والا۔میرے بھائی پوری مخلوق کو نوازنے والا کون ہےاو قرآن کریم سے سنو جیسا ک اللہ رب العزت نے (سورۃ فاطر:آیت نمبر15) کے اندر ارشاد فرمایا(يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ)'' اے لوگو تم سارے کے سارے اللہ ہی کےدر کے بھیکاری ہو''

    ۔اسی طرح میرے بھائیو مسلمانوں نے اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی کو لقب دیا ہوا ہے کہ وہ داتا ہے اے میرے بھائی آپ لوگ جانتے ہیں کہ داتا کا کیا معنی ہے،داتا فارسی کا لفظ ہےجس کا معنی ہے عطا کرنے والا،عزت عطا کرنے والا،ذلت عطا کرنے والا،اولاد عطا کرنے والا،رزق عطا کرنے والا،ملک عطا کرنے والا،تو اے میرے بھائیو ! عطا کرنے والا کون ہےاورقرآن کریم سے سنو جیسا کہ مسلمان دعائیں کرتے ہیں(إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ)اے اللہ ! آپ ہی عطا کرنے والے ہیں۔اسی طرح اللہ رب العزت نے (سورۃ الشوری:آیت 49،50) کے اندر ارشاد فرمایا (لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ)ارشاد فرمایاکہ زمین اور آسمانوں کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے۔جس طرح چاہے مالک پیدا کرے(يَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ اِنَاثًا)جس کو چاہے بیٹیں عطا کرے( وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ الذُّكُوْرَ)اور جس کو چاہے بیٹے عطا کرے(اَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّاِنَاثًا)اور جس کو چاہے بیٹے اور بیٹیں ملا کر عطا کرے(وَيَجْعَلُ مَنْ يَّشَاۗءُ عَــقِـيْمًا ۭ )جس کو چاہے مالک بانج رکھے اولاد دیے ہی نہ(اِنَّهٗ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ)وہ ہر چیز کا جاننے والا،ہر چیز پر قادر ہے سبحانہ ہو و تعالی۔اسی طرح میرے بھائیو ! مسلمانوں نے اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی کو لقب دیا ہوا ہے کہ وہ گنج بخش ہے خزانے بخشنے والاہے،اے میرے بھائیو ! خزانے بخشنے والا پوری مخلوق کو کون ہے کون ہے جو خزانوں کا مالک،اللہ رب العزت نے (سورۃ المنافقون:آیت نمبر 7)کے اندر یوں ارشاد فرمایا ( وَلِلّٰهِ خَزَاۗىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ)'' زمین اور آسمانوں کےجتنے بھی خزانے ہیں وہ سب اللہ ہی کے لیے ہیں۔اسی طرح اللہ رب العزت نے (سورۃ الانعام:آیت نمبر 50) ارشاد فرمایا(قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ)'' پیارے نبی آپ کہ دیجیے اے لوگو میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں''

    ،اے میرے بھائیو اگر محمدﷺ کے پاس اللہ کے خزانے نہیں ہیں تو اس دھرتی پر کون ایسا پیدا ہوگیا ہے مخلوق میں جسے گنج بخش کہا جائے،تو میرے بھائیو ! تو کیا پتا چلا کہ مشکل کشا ،حاجت روا کون ہے؟ اللہ ہی ہے،غوث اعظم دستگیر کون ہے؟ اللہ ہی ہے،غریب نواز کون ہے؟اللہ ہی ہے،داتا گنج بخش کون ہے،اللہ رب العزت ہی کی ذات ہے۔اے مسلمانو یہ صفات خالصن فقط رب ذولجلال ہی کے لیے ہیں، اللہ ہرب العزت نے کسی اور کے بارے میں کوئی سند نازل نہیں کی،سچ فرمایا اللہ ہ رب العزت نے(سورۃ النجم:آیت نمبر 23)کے اندر (اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْمَاۗءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ) ارشاد فرمایا یہ تو چند نام ہیں جو تم اور تمہارے بزرگوں نے رکھ لیے ہیں،اللہ نے تو کسی کے بارے میں کوئی سند نازل نہیں کی ( اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ ) یہ لوگ تو بس گمان کی پیر وی کر رہے ہیں،سنی سنائی باتوں کی پیروی کررہے ہیں۔

    اسی طرح میرے بھائیو! جو لوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کر اپنا کارساز مانتے ہیں،ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ رب العزت نے (سورۃ الکہف:آیت نمبر102)کے اندر یوں ارشاد فرمایا(اَفَحَسِبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ يَّــتَّخِذُوْا عِبَادِيْ مِنْ دُوْنِيْٓ اَوْلِيَاۗءَ) ارشاد فرمایاکہ یہ کافر کیا سمجھتے ہیں انہوں نے مجھے چھوڑ کے میرے بندوں کو اپنا کار ساز بنا لیا ہے۔تو اے مسلمانو! فقط اللہ ہی کو اپنا کار ساز بنائو ،یوں کہا کرو یا اللہ مدد،کیوں کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ایسے لوگوں کو گمراہ قرار دیا ہے جو اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کو مدد کے لیے پکار تے ہیں جیسا کہ (سورۃ الاحقاف:آیت نمبر5،6) کے اندر ارشاد فرمایا(وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ)ارشاد فرمایا کہ اس سے بڑھا گمراہ کون ہو سکتا ہے جو اللہ کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو پکارے جو اس کی پکار کا جواب قیامت تک نہیں دے سکتے وہ تو ان کی دعاؤں سے ہے ہی غافل(وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَاۗءً وَّكَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِيْنَ)ارشاد فرمایا کہ جب لوگوں کو اکھٹا کیا جائے گا، تو یہ سارے کے سارے ان کے دشمن بن جائیں گے،اور ان کی عبادات کا انکار کردیں گے،محشر کے میدان میں تمام کی تمام مخلوق جن جن کی بھی عبادت اللہ رب العزت کو چھوڑ کر دنیا میں لوگ کرتے رہے ہیں وہ سب کے سب قیامت کے دن ان عبادات کا انکار کردیں گے،اور ایسے لوگوں سے براءت کا اظہار کردیں گےجیسا کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ المائدہ:آیت نمبر116) کے اندرعیسی علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا( وَاِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰــهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ)قیامت کے دن اللہ رب العزت عیسی علیہ السلام سے ارشاد فرمائے گااے عیسی کیا تو نےعیسائیوں سے کہا تھا کہ تجھے اور تیری ماں کو اللہ کو چھوڑ کر اپنا معبود بنالیں،عیسی علیہ السلام عرض کریں گے (قَالَ سُبْحٰنَكَ )اے اللہ آپ پاک ہیں( مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ ۤ بِحَقٍّ)میں ایسی بات کیوں کہوں جس کا مجھے حق ہی حاصل نہیں ہے۔

    اسی طرح میرے بھائیو دیگر صالحین بھی ان عبادات کا انکار کردیں گے اور ایسے لوگوں سے براءت کا اظہار کردیں گے۔جناب علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا جائے گاکہ کیا آپ نے لوگوں سے کہا تھا کہ لوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کر آپ کو مشکل کشا حاجت روا مانیں جناب علی رضی اللہ عنہ ان باتوں کا انکار کر دیں گے،اور ایسے لوگوں سے براءت کا اظہار کردیں گےکہ دیں گے اللہ میں نے تو کسی سے نہیں کہا تھا کہ تم اللہ رب العزت کو چھوڑ کرمجھے مشکل کشا حاجت روا ماننا،تم میری جھوٹی محبت کی آڑ میں جناب شیخین ابی بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو گالیاں دینا،ام المؤمنین عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہن کے اوپر کیچڑ اچھالنا،جناب علی ان کی باتوں کا انکار کردیں گے،اور ایسے لوگوں سے براءت کا اظہار کر دیں گے۔


    پروف ریڈنگ ۔۔ عُکاشہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    ابھی جاری ہے
    تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ اس کو ضرور پڑھیں اور اس کے اندر موجود غلطیوں کو بتادیں تاکہ اس محاضرے کو درست کر کے اس کی سیڈی بنا دی جائے, اللہ کے حکم سے -
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,315
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ !
    فاروق بھائی ۔ میں نے پروف ریڈنگ کر دی ہے ۔ پھر بھی کوئی غلطی نظر آئے تو بتا دیجئے گا ۔ آپ آئندہ کوشش کریں کہ اس کی پروف ریڈنگ کر کے پھر اوپن فورم پر لگائیں‌ یا پھر مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ میں‌لگا دیا کریں‌۔ تاکہ سکون سے اس مضمون کو مکمل کرکے پروف ریڈنگ بھی کر سکیں ۔
     
  4. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    و علیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
    آپ کا بہت بہت شکریہ بھائی اللہ تعالی آپ کے میزان حسنات کو اپنی بارگاہ عالیہ میں اور بھی بلند کرے
    ان شاء اللہ آئندہ اس کا ضرور خیال رکھوں گا
     
  5. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    اسی طرح جناب حسین ابن علی رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا جائے گا،کیا آپ نے لوگوں سے کہا تھاکہ لوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کر آپ کے نام کی نظر و نیاز دیں آپ کے نام کی سبیلیں لگائیں،لوگ آپ کی محبت کی جھوٹی آڑ میں اپنے اوپر تشدد کریں جناب حسین ابن علی رضی اللہ تعالی عنہ ان باتوں کا انکار کردیں گے اور ایسے لوگوں سے برآت کا اظہارکر دیں گے۔اسی طرح شیخ عبد القادر جیلانی رحمت اللہ علیہ سے پوچھا جائے گا،کیا آپ نے لوگوں سے کہا تھا ،کہ لوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کر آپ کو غوث الاعظم ،سب سے بڑھا سننے والا مانیں،لوگ اللہ کو چھوڑ کر آپ کے نام کی گیاہرویں دیں جناب شیخ عبد القادر جیلانی رحمت اللہ علیہ ان باتوں کا انکار کردیں گے اور ایسے لوگوں سے برات کا اظہارکر دیں گے۔اسی طرح جناب علی ہجویری سے پوچھا جائے گا،کیا آپ نے لوگوں سے کہا تھاکہ لوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کر آپ کو داتا مانیں،لوگ کرسی حاصل کرنے کے لیے آپ کی قبر کو گلاب کےعرق سے غسل دیں، جناب علی ہجویری رحمت اللہ علیہ ان باتوں کا انکار کردیں گے اور ایسے لوگوں سے برآت کا اظہارکر دیں گے۔ اسی طرح جناب معین الدین چشتی رحمت اللہ علیہ سے پوچھا جائے گا، کیا آپ نے لوگوں سے کہا تھاکہ لوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کر آپ کو غریب نواز مانیں جناب معین الدین چشتی ان باتوں کا انکار کردیں گے اور ایسے لوگوں سے برآت کا اظہارکر دیں گے۔اسی طرح میرے بھائیو ! تمام کی تمام مخلوق قیامت کے دن جن کی بھی عبادت اللہ رب العزت کو چھوڑ کرلوگ کرتے ہیں،وہ سب کے سب محشر کے میدان میں ان عبادات کا انکار کردیں گے، اور ایسے لوگوں سے برآت کا اظہارکر دیں گے۔پیارے بھائیو ! اب میں آپ لوگوں کے سامنے ایک غلط فہمی کا ازالہ چاہتا ہوں،کہ جب ان لوگوں سے کہا جائے ،جو لوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کو مدد کے لیے پکارتے ہیں،کہ بھائیو اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی اور کو مدد کے لیے پکارنا یہ شرک ہے،تو آگے سے جھٹ آ کر جواب یہ دیتے ہیں،کہ تم لوگ آپس میں بھی مدد کے لیے کہتے ہو،کسی سے پیسے ادھار لے لیے،کسی سے گاڑی لے لی،میرے بھائیو ! یہ وہ مدد ہے جس پر دینے والا قادر ہے،اور زندہ سامنے موجود ہے،بلکہ یہ وہ تعاون ہے جس کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے ،قرآن کریم کے اندر اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا (وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى)(سورۃ المائدۃ :آیت 2) '' نیکی کے کاموں میں آپس ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو'' ۔مگر قبر والوں کے بارے میں تو اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر یوں ارشاد فرمایا(وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ)(سورۃ فاطر:آیت22)'' اے نبی آپ قبر والوں کو نہیں سنا سکتے''

    ۔اسی طرح میرے بھائیو اللہ رب العزت نے (سورۃ الاسراء:آیت56،57) کے اندر یوں ارشاد فرمایا(قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا)ارشاد فرمایاکہ پیارے نبی آپ کہ دیجیے اے لوگو جن جن کو بھی تم اللہ رب العزت کو چھوڑ کر پکارتے ہو اپنے گمان باطل میں یہ کسی مشکل کو دور نہیں کرسکتے اور نہ ہی اسے بدل سکتے ہیں(أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا)ارشاد فرمایاجن کو یہ لوگ پکارتے ہیں اللہ رب العزت کو چھوڑ کر یہ بچارے خود اللہ رب العزت کا قرب حاصل کرنے کے لیےوسیلہ تلاش کر تے ہیں اور اس کی رحمت کے محتاج ہیں،اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں،بےشک آپ کے رب کا عذاب ڈرنے والی چیز ہے۔اسی طرح میرے بھائیو! اللہ رب العزت (سورۃ فاطر:آیت 13،14) میں یوں ارشاد فرمایا( وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ)ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کر جن کو بھی پکارتے ہیں وہ ایک کھجور کی گھٹلی کے چھلکے کےبھی مالک نہیں ہیں ( اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَاۗءَكُمْ ۚ وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ)ارشاد فرمایا تم ان کو پکارو مگر یہ تمہاری دعاؤں کو نہیں سنتے،اگرفرض کریں سن بھی لیں تو قبول نہیں کرسکتے(وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ )اور قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا انکار کردیں گے۔

    اے میرے بھائو! آپ لوگوں نے غور کیا کہ اللہ رب العزت نےقرآن الکریم کے اندر ان لوگوں کے عقیدہ کو شرک قرار دیا ہے جولوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کو پکارتے ہیں۔میرے بھائیو ! ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ یہ آیتیں تو بتوں کے بارے میں نازل ہوئیں تھیں ،نہیں میرے بھائیو ! یہ غلط فہمی ہےاللہ رب العزت نے (سورۃ الاعراف :آیت194)کے اندر ارشاد فرمایا(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ )ارشاد فرمایاکہ "" یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن کو بھی پکارتے ہیں وہ تمہاری ترہا بندے ہی ہیں"" اقوام سابقہ فرشتوں کو ،جنات کو ،انبیاء کو،صالحین کو پکارتے تھے،جیسا کہ میرے بھائیو آپ لوگ پیچھے تفصیل کے ساتھ ہماری گفتگو سن چکیں ہو۔

    پیارے بھائیو! اب میں آپ لوگوں کے سامنے وہ جائز وسیلے بیان کرنا چاہتا ہوں جن کے اختیار کرنے سے اللہ رب العزت اپنے بندوں کی دعائں التجائیں قبول فرماتا ہےکیوں کہ اج کل کچھ پیٹ کے پجاری مولوی وسیلے کی آڑ میں لوگوں کے عقیدے کے ساتھ کھیلتے ہیں لوگوں کے سامنے غلط مثالیں بیان کرتے ہیں،کہ چھت پر چڑھنا ہے تو سیڑھی لگاو،اگر آفیسر کو ملنا ہے تو پہلے چپڑاسی کو ملو ،انہی چکروں میں ڈال کر لوگوں کو قبرپرستی کے شرک میں مبتلا کرتے ہیں، اللہ رب العزت کی رحمت سے دور کرتے ہیں۔حلاں کہ اللہ رب العزت نے(سورۃ غافر:آیت نمبر 60)کے اندر یوں ارشاد فرمایا (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ)ارشاد فرمایا کہ تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو،مجھ سے دعائیں کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا،اور جو لوگ میری عبادت سے مجھ سےدعائیں کرنے سے تکبر کرتے ہیں میں اسے لوگوں کر رسوا کرکے جہنم میں داخل کروں گا۔میرے بھائیو! اللہ رب العزت اپنے بندوں کو اس بات کاحکم دیتا ہے کہ مجھے پکارو مجھ ہی سے دعائیں کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا،لیکن یہ پیٹ کے پچاری مولوی لوگوں کو یہ باور کرواتے ہیں،کہ اللہ رب العزت ہماری (direct) ڈا یریکٹ دعا نہیں سنتا،بلکہ وسیلے اختیار کرنے چاہیں ۔

    پیارے بھائیو میں اپ لوگوں کے سامنے وہ جائز وسیلےبیان کروں گا جن کے اختیار کرنے کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی ہے۔میرے بھائیو! وہ پہلی چیز کیا ہےجس کے اختیار کرنے سے اللہ رب العزت اپنے بندوں کی دعائیں التجائیں قبول فرماتا ہےکہ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ رب العزت کو اللہ کے اچھے اچھے ناموں سے پکاریں ،ان ناموں کے ذریعے دعائیں کریں ،التجائیں کریں،جیسا کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے(سورۃ الاعراف:آیت نمبر 180)کے اندر ارشادفرمایا (وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا)کہ ""اللہ کے اچھے اچھے نام تم ان ناموں کے ذریعے اللہ سے دعائیں کرو التجائیں کرو""

    ۔میرے بھائیو ہمیں اسطرح کہنا چاہے جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کو پکارتے تھے(اللهم يا اَلْـحَيُّ يا الْقَيُّوْمُ)اے اللہ ہمیشہ ذندہ رہنے والے ہر چیز کے تھامنے والےمیری دعا کو قبول فرما۔اسی طرح میرے بھائیو اللہ رب العزت کو یوں پکاریں (اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ) اسطرح میرے بھائیو اپنے رب کو یوں پکاریں (ياالرَّحْمٰنِ ياالرَّحِيْمِ)اے رحم کرنے والے میرے او پر رحم کر (یارازق)اے رزق عطا کرنے والے مجھے رزق دے(یا غفور)اے معاف کرنے والے مجھے بخش دے، اسی طرح میرے بھائیو یوں اللہ عزوجل کو پکاریں(اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ)اے اللہ آپ ہی عطا کرنے والے ہیں،مجھے رزق عطا کر ،مجھے عزت عطا کر ،مجھے اپنی رحمت عطا کر دنیا اور آخرت میں،مجھے اولاد عطا کر،آپ یوں کہیں میرے بھائیو (اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَدُودَ)اےاللہ آپ محبت کرنے والے ہیں مجھ سے محبت کریں,اسی طرح میرے بھائیو یوں رب ذلجلال سے دعا کریں (اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَنْتَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ)اے اللہ آپ ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں میری دعا کو قبول فرما ۔یہ ایک چیز ہوگئی میرے بھائیو ،اب دوسری چیز کیا ہے ،ہمیں چاہےکہ وہ نیک عمل جو خالصن فقط اللہ رب العزت ہی کے لیے کرتے ہیں ان نیک عملوں کا وسیلہ بنا کر اللہ سے دعائیں کریں التجائیں کریں ،جیسا کہ (صحیح بخاری کے اندر ایک واقع ہےکتاب احادیث الانبیاء حدیث کا نمبر ہے 680)اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا پہلی امتوں کے اندر تیں نوجواں تھے وہ ایک غار کے اندر چلے گئے،غار کے سامنے بہت بھاری چٹان گر گئی غار سے نکلنے کا راستہ بند ہو گیا ان تینوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ کیوں نہ ہم لوگ اللہ رب العز ت کی بارگاہ میں ان نیک عملوں کا وسیلہ پیش کریں جو نیک اعمال ہم نے خالصا فقط اللہ ہی کے لیے کیے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں جب انہوں نےاپنے نیک عملوں کا وسیلہ بنا کر اللہ رب العزت سے دعا کی تو اللہ رب العزت نے انہیں اس مشکل سے نجات دیے دی میرے بھائیو یہ واقع تعلیم کے لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کابتلایا ہے،تو ہمیں کیا پتا چلا کہ ہم وہ نیک عمل جو خالص فقط اللہ رب العزت ہی کے لیے کرتے ہیں ان نیک عملوں کا وسیلہ بنا کر اللہ رب العزت سے دعائیں کریں التجائیں کریں جیسا کہ نماز، زکاۃ،روزہ ،حج ،والدین کی خدمت،پڑوسیوں سے حسن سلوک ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ،کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے کے لیے اللہ رب العزت نے ہمیں حکم دیا ہےاسی طرح میرے بھائیو آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا وسیلہ بنائیں کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایمان کا جز ہے،آپ یوں کہیں اے اللہ میں تیرے نبی سے محبت کرتا ہوں تو میری دعا کر قبول فرما،اسی طرح میرے بھائی کثرت سے اللہ رب العزت کے لیے سجدے کریں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاانسان سجدے کی حالت میں اپنے رب کے بہت ہی قریب ہوتا ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب انسان اللہ رب العزت کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے اس کا ایک گناہ معاف ہوتا ہے ایک درجہ بلند ہوتا ہے سجدے کی حالت میں دعا قبول ہوتی ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم رکوع کے اندر کثرت سے اللہ کی تسبیح بیان کرو اور سجدے کی حالت میں کثرت سے اللہ رب العزت سے دعائیں کرو اور اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ہمیں اس بات کا حکم دیا ہےجیسا کہ (سورۃ البقرۃ :آیت نمبر 153)ارشاد فرمایا(يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ)ارشاد فرمایا اے ایمان والو اللہ سے مدد طلب کرو نماز اور صبر کے ذریعہ،بیشک اللہ رب العزت کی مدد ،اللہ کی تائید ،اللہ کی نصرت ،اللہ رب العزت کی رحمت صبر کرنے والوں کے ساتھ دو چیزیں ہو گئی مرے بھائیو،اب تیسری چیز کیا ہےکہ ہم کسی نیک آدمی کو پرہیز گار کو متقی کو دعا کرنے کے لیے کہ سکتے ہیں بشرط کہ وہ زندہ ہو عقیدہ توحید اس کا صحیح ہو،جیسا کہ میرے بھائیو صحیح البخاری کے اندر جناب عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ ہے باب استسقاء حدیث کا نمبر ہے 955) جب ان کے دور خلافت میں ایک مرتبہ بارش نہیں ہو رہی تھی تو انہیوں نے جناب عباس رضی اللہ عنہ سے دعا کرنے کے لیے کہا تھا جو اس وقت زندہ تھے صحابہ میں بزرگ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے جناب عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان سے دعا کرنے کر لیے کہا تھا میرے بھائیو جناب عمر رضی اللہ تعالی عنہ خلفاء الراشدین میں سے ہیں جن کی پیروی کرنے کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو حکم دیا ہے جیسا کہ (سنن ابی داؤد کر اندر حدیث ہے) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ)کہ تمہارے لیے میرا طریقہ اور میرے خلفاء الراشدین ہدایت یافتہ جو میرے بعد آئیں گے ان کے طریقے کو مضبوطی سے تھامنا تو میرے بھائیو! جناب عمر رضی اللہ تعالی عنہ خلفاء الراشدین میں سے ہیں جن کی پیروی کرنے کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو حکم دیا ہے تو میرے بھائیو ! جناب عمر رضی اللہ عنہ کا اسوہ یہ ہمیں بتلا رہا ہے کہ ہم کسی نیک آدمی کو پرہیز گار کومتقی کو دعا کرنے کے لیے کہ سکتے ہیں بشرط یہ کہ وہ زندہ ہو عقیدہ توحید اس کا صحیح ہو جیسا کہ عباس رضی اللہ تعالی عنہ اس وقت زندہ تھے صحابہ کرام میں بزگ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے پیارے بھائیو! میں آپ لوگوں کی یہاں توجہ چاہتا ہوں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق میں سب سے افضل ہیں میرے بھائیو اس وقت مدینہ منورہ میں صحابہ کرام کے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر موجود تھی لیکن وہ لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر نہ گئے دعا کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر جا کرانہوں نے آپ کی ذات کے وسیلے سے اللہ کو نہ پکارا کیوں کہ وہ لوگ جانتے تھے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم نہیں ہے کہ کسی کی موت کے بعد اس کی قبر پر جاکر اس کی ذات کے وسیلے سے اللہ کو پکارا جائے میرے بھائیو اگر کسی کی موت کے بعد اس کی قبر پر جا کر اس کی ذات کے وسیلے سے اللہ کو پکارنا جائز ہوتا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ضرور ایسا کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ وہ لوگ جناب عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گئے جو اس وقت زندہ تھے صحابہ کرام میں بزرگ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے ان سے دعا کرنے کے لیے کہا انہوں نے دعا کی اللہ رب العزت نے بارش نازل فرمائی یہ تین چیزیں ہوگئیں میرے بھائیو نمبر ایک (ہمیں چاہے کہ ہم اللہ رب العزت کو اس کے اچھے اچھے ناموں سے پکاریں ،ان ناموں کے ذریعے اللہ سے دعائیں کریں التجائیں کریں۔دوسری چیز کیا ہے (کہ ہم وہ نیک اعمال کاجو خالص اللہ ہی کے لیے کرتے ہیں ان نیک عملوں کا وسیلہ بنا کر اللہ رب العزت سے دعائیں کریں التجائیں کریں ۔تیسری چیز کیا ہے(کہ ہم کسی نیک آدمی کو پر ہیز گار کو متقی کو دعا کرنے کے لیے کہ سکتے ہیں بشرط یہ کہ وہ زندہ ہو ،عقیدہ توحید اس کا صحیح ہو ۔مگر ان جائز وسیلوں کے علاوہ جو وسیلے کچھ پیٹ کے پجاری ملویوں نے گھڑ گھڑ کے لوگوں کے اندر پھیلائے ہوئے ہیں،کہ قبروں والوں کے وسیلے سے اللہ کو پکارا جائےان کی قبروں پر عمارتیں بنائی جائیں ،اگربتیاں جلائی جائیں ،ان کی قبروں پر چادریں چڑھائیں جائیں ،ان کی قبروں کے پاس جاکر جانور ذبح کیے جائیں ،نظر نیاز دی جائے ،ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ،میرے بھائیو یہ تو کفر ہے شرک ہے حرام ہے اسلام کے اندر ،ایسا کرنے کے لیے نہ تو اللہ رب العزت نے کوئی سند نازل کی ہےاور نہ ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس بات کی تعلیم دی ہے سچ فرمایا اللہ رب العزت نے(سورۃ الشوری:آیت نمبر 21)کے اندر (اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ)ارشاد فرمایا کہ انہوں نے ایسے شریک ٹھرائے ہیں جو ان کے لیے شرعیت سازی کرتے ہیں ،جس شرعیت کے لیے اللہ رب العزت نے تو کوئی سند نازل نہیں کی ،اللہ رب العزت نے تو کسی سے نہیں کہا کہ تم قبروں والوں کے وسیلے سے مجھے پکارو،تم قبروں کے اوپر عمارتیں بناو،تم قبروں کے پاس جاکر جانور ذبحہ کرو ،ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان کی سیڑھی لگاؤ ،ان کی ذات کا وسیلہ بناؤ،اور نہ ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کوئی تعلیم اپنی امت کو دی ہے،بلکہ اللہ رب العزت نے تو اپنے مسلمان بندوں کو تو اس بات کی تعلیم دی ہے،جیسا کہ مسلمان پانچ وقت نماز وں کے اندر بغیر کسی قبر والے کے وصیلے سے (Direct)ڈایریکٹ اپنے رب کو پکارتے ہیں ،مسلمان نماز کی حالت میں یہ کہتے ہیں (اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ)اے اللہ ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں ۔ اسی طرح میرے بھائیو ترمذی کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائی ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما اس بات کی تعلیم دی کہ اے لڑکے جب بھی پکار تو اللہ ہی کو پکار اورجب بھی پناہ طلب کر تو اللہ ہی سے طلب کر،اورمیں اپنے تمام مسلمان بھائیوں اور اسلامی بہنوں سے یہ کہنا چاہوں گاکہ اگر آپ لوگوں کو کوئی یہ کہےکہ صالحین کا وسیلہ اختیار کرنا جائز ہے ،مردوں کے وسیلے سے اللہ کو پکارنایہ جائز ہے،تو میرے بھائیو آپ لوگ اس سے دلیل طلب کریں ،میں یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ چاہتا ہوں ،کہ کچھ لوگ (سورۃیونس:آیت نمبر62)میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا (اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَاۗءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ) اللہ رب العزت کے اس فرمان کودلیل بنا کر خوب لوگوں کو قبر پرستی کے شرک میں مبتلا کرتے ہیں،لوگوں کو یہ باور کرواتے ہیں دیکھو اللہ رب العزت نے تو قرآن کریم میں اولیاء اللہ کے بارے میں تو یہ ارشاد فرمایا ہے،کہ انہیں کوئی خوف کوئی غم نہ ہوگا تو پھرکس طرح اولیاء اللہ کی قبروں پر جاکر جانور ذبحہ کرنا نذر و نیاز دینا،ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان کی قبروں پر عمارتیں بنانا،ان کے وسیلے سے اللہ رب العزت کو پکارنا،کیسے یہ باتیں شرک ہو سکتی ہیں،میں ایسے لوگوں سے کہنا چاہوں گا،اس آیت کریمہ میں تو اللہ رب العزت نےاولیا اللہ کو خوشخبری دی ہےکہ ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی خوف ہے اور نہ آخرت میں ان کے لیےکوئی غم ہوگا،میرے بھائیو ! اللہ رب العزت اپنے تمام اولیاء پر اپنی رحمتیں نازل فرمائےاور جو وفات پاچکے ہیں ان کی قبروں کو روشن کردے ،لیکن اللہ رب العزت نے اس آیت کریمہ میں یہ تو نہیں ارشاد فرمایا کہ تم اولیاء اللہ کے وسیلے سے مجھے پکارو،ان کی قبروں پر جاکر جانور ذبہ کرو،ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے نظر و نیاز دو، یہ عقیدے تم نے کہاں سے لے لیے،(هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ)اگر تم لوگ اپنے دعوں میں سچے ہو تو دلیل پیش کرو،

    اور میں یہاں اپنے بھولے بھالے مسلمان بھائیوں کو ایک اور نقطہ بھی سمجھانا چاہتا ہوں ۔میرے بھائیوکلمہ ولی عربی زبان کا لفظ ہےجس کا معانی ہے دوست میرے بھائیوہر چیز کی ایک نہ ایک ضد ہوتی ہےجیسا کہ دھوپ کی ضد ہے سایہ، ٹھنڈے کی گرم،اندھرے کی روشنی اور دوست کی ضد ہے دشمن میرے بھائیو اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ فقط وہی لوگ ہی اللہ رب العزت کے دوست ہیں جن کی قبروں پر عمارتیں بنی ہوئی ہیں، یا جن کو لوگ اپنا پیر مانتے ہیں تو میرے بھائیو میں یہ کہنا چاہوں گااگر دیگر مسلمان بھی اللہ رب العزت کے دوست نہیں ہیں تو کیا وہ لوگ اللہ رب العزت کے دشمن ہیں (نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ)اسی طرح میرے بھائیو اللہ رب العزت نے (سورۃ یونس آیت نمبر 63)میں یوں ارشاد فرمایا اولیا اللہ کے بارے میں(الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ)اولیا اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ رب العزت کی توحید پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ رب العزت کا تقوا اختیار کرتے ہیں تو میرے بھائیو یاد رکھو ہر کلمہ پڑھنے والا مسلمان اللہ رب العزت کی حدود کی حفاظت کرنے والا اللہ رب العزت کا ولی ہے ہاں دراجات میں فرق ہےجو جتنی کوشش کرے گا اس کا درجہ اللہ رب العزت کے نزدیک اتنا ہی بلند ہو گا

    پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے اللہ کہاں ہے میرے بھائیو اللہ رب العزت کی صفات میں صفت ہے کہ اللہ رب العزت اپنی ذات سے اپنے عرش پر مستوی ہے اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر سات مقامات میں ہمیں اس بات کی خبر دی ہے کہ الرحمن اپنے عرش پر مستوی ہے جیسا کہ(سورۃ طہ)میں ارشاد فرمایا ( اَلرَّحْمَنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى)کہ الرحمن اپنے عرش پر مستوی ہے۔اسی طرح میرے بھائیو صحیح مسلم کے اندر حدیث ہےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک باندی آئی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دو سوال کیے،پہلاسوال (أَيْنَ اللهُ؟)اللہ کہاں ہے اس نے عرض کی (فِي السَّمَاءِ)آسمانوں کے اوپر ہےنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کے میں کون ہوں اس نے عرض کی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ ایسے آزاد کردویہ تو مومنہ ہے میرے بھائیو کیا پتا چلا جو بندا اس بات پر ایمان رکھے کہ اللہ رب العزت اپنی ذات سے اپنے عرش پر مستوی ہےوہ ہی مومن ہے الحمدللہ ہم قرآن حدیث ماننے والوں کا اس بات پر ایمان ہے کہ کہ ہمارا رب اپنی ذات سے اپنے عرش پر مستوی ہے اور کس طرح مستوی ہے ہم اس کیفیت کو نہیں جانتے وہ کیفیت مجھول ہے بس ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں [/
    B]



    ابھی آدھا ہو ہے مزید جاری ہے​
     
  6. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    بھائیو اور بہنو آپ کی خیریت دریافت کرنے کے بعد آپ سے گزارش یہ تھی کہ یہ جو پوسٹ میں نے مجلس پر کی ہے وہ اصل میں ایک ایم پی تھری سی ڈی ہے فضیلۃ الشیخ ابو احمد کی۔
    اصل میں یہ سی ڈی 200 دو سو منٹ کی ہے جس کا عنوان آپ دیکھ ہی چکے ہیں اور اس کے اندر فضیلۃ الشیخ نے کون کون سے موضوع کو بیان کیے ہیں وہ بھی آپ ایک نظر دیکھ ہی چکے ہیں یہ سی ڈی مملکت البحرین کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندر 2000،000 سے زیادہ جاچکی ہے اور بنٹ بھی رہی ہے اللہ تعالی فضیلۃ الشیخ کی اس کاوش کو آپنی بارگاہ عالی میں قبول فرمائے
    اس بار جو فصیلۃ الشیخ پاکستان کے دورے پر گئے تھے چند دن پہلے پاکستان میں موجود دوست احباب نے مشورہ دیا کہ اس کا ایک چھوٹا سا کتابچہ بنا کر لوگوں میں تقسیم کرنا چاہئے جس سے لوگ کافی زیادہ مستفید ہوتے ہیں اس لیے میں نے یہ لکھنا شروع کیا تھا مگر کیوں کہ سی ڈی 200 دوسو منٹ کی ہے اس لیے ابھی تک 100 ایک سو منٹ لکھ پایا ہوں اگر کوئی بھائی لکھنے میں مدد کرے تو اس کےلیے بھی اجر و ثواپ کا بعث ہو گا ان شاء اللہ اگر آپ کسی بھائی کو جانتے ہیں جو کہ اس کام میں مدد کر سکتے ہیں تو میہر بانی ہو گی سی ڈی کا لنک یہ ہے امید ہے کہ آپ اس چھوٹی سی کاوش میں ضرور مدد کریں گے
    اللہ کے دین کا خادم
    فاروق
    و علیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 10, 2011
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    بس ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ ہمارا رب اپنی ذات سے اپے عرش پر مستوی ہے جیسے اس کے کمال اور جلال کے لائق ہےوہ اسی طرح اپنے عرش پر مستوی ہے میرے بھائیو یہ جو عقیدہ لوگوں کے اندر پھیلا ہوا ہے کہ اللہ رب العزت ہر جگہ موجود ہے یہ عقیدہ قرآن اور حدیث کے خلاف ہےاور سلف صالحین کے عقیدے کے خلاف ہےمیرے بھائیو اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندریا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی حدیث کے اندرہمیں اس بات کی خبر دی ہے کہ اللہ رب العزت اپنی مخلوق کےقریب ہےاپنی مخلوق کے ساتھ ہے تو میرے بھائیو اللہ رب العزت کا اپنی مخلوق کے ساتھ ہونا اپنی مخلوق کے قریب ہونااس معنی میں ہے کہ اللہ رب العزت اپنے علم کے اعتبار سےاپنی قدرت کے اعتبار سے اپنی مخلوق کے قریب ہے اپنی مخلوق کے ساتھ ہے یہ ہی وجہ ہے کہ اس کے علم نے اس کی قدرت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہےچاہے کوئی چیز آسمانوں میں ہو یا زمین کے اوپر ہو یا زمین کے نیچےہو یا سمندروں کی تہ میں ہویا پہاڑوں کے اوپر ہو یا پہاڑوں کے نیچے ہوہر چیز اللہ رب العزت کے علم میں ہےاس کی قدرت میں ہے کوئی چیز بھی اللہ رب العزت کے علم سے اس کی قدرت سےباہر نہیں یعنی اس کے علم اور اس کی قدرت میں ہر چیز پر احاتہ کیے ہوئے ہے یہ جو عقیدہ لوگوں میں پھیلا ہوا ہےکہ اللہ رب العزت ہر جگہ موجود ہے یہ عقیدہ باطل ہے قرآن و حدیث کے خلاف ہے اور سلف صالحین کے عقیدے کے خلاف ہے پیارے بھائی میں یہاں ایک بات کی اور بھی وضاحت چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت کااپنی مخلوق کے قریب ہونا اپنی مخلوق کے ساتھ ہونادو طرح سے ہے ایک تو اللہ رب العزت اپنے علم کے اعتبار سے اپنی قدرت کے اعتبار سےاپنی ساری مخلوق کے ساتھ ہے اپنی ساری مخلوق کے قریب ہے اور دوسری چیز یہ ہے کہ اللہ رب العزت اپنی تعید کے اعتبار سے اپنی مدد کے اعتبار سے اپنی رحمت کے اعتبار سے اپنے محسنین اپنے متقین اپنے صبر کرنے والےبندوں کے ساتھ ہےجیسا کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ارشاد فرمایا(ان اللہ مع الصابرین ان اللہ مع المحسنین ان اللہ مع المتقین ) اس لیے میرے بھائیو ہر مسلمان کا اس بات پر ایمان ہونا چاہے کہ اللہ رب العزت اپنی ذات سے اپنے عرش پر مستوی ہےاے میرے بھائیو اگر آپ لوگوں کو مزید تفصیل پڑہنی ہے تو ایک کتاب ہے توحید خالص شیخ بدیدین شاہ راشدی رحمتہ اللہ علیہ نے اس کتاب کے اندر 150 احادیث ذکر کی ہیں جن کے اندر اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ رب العزت اپنی ذات سے اپنے عرش پر مستوی ہےاور دلائل کے ساتھ شیخ رحمہ اللہ علیہ نے ثابت کیا ہے پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر نا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  8. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    غا‏‏ئب کا جاننے والا کون ہے
    میرے بھائیو یہ صفت خالصن فقط اللہ رب العزت ہی کے لیے ہے اللہ رب العزت ہی وہ ذات ہےجو غائب کا جاننے والا ہےما سوا اللہ رب العزت کے اور کوئی غائب نہیں جانتا اللہ رب العزت نے سورۃ الانعام :آیت نمبر50 کے اندر ارشاد فرمایا(قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْب)پیارے نبی آپ کہ دیجیے اے لوگو میں تم سےنہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غائب جانتا ہوں میرے بھائیو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کسی چیز کے متعلق سوال کیا جاتا اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم نہ ہوتا تو اللہ کے نبی خاموش رہتے اور وحی کا انتظار کرتے سچ فرمایا اللہ رب العزت نے سورۃ النجم کے اندر(وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى (3) إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى(4))ارشاد فرمایا کے میرے نبی اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کرتے جو بات بھی کرتے ہیں ہم ان کی طرف وحی کرتے ہیں اسی طرح میرے بھائیو صحیح بخاری اور مسلم کے اندر حدیث ہےام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں جو بندا یہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم غائب جانتے تھےاس بندے نے اللہ رب العزت کے اوپر بہطان لگایا کیوں کہ اللہ رب العزت سورۃ النمل :65 میں ارشاد فراتا ہے(قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ) پیارے نبی آپ کہ دیجیے نہ کوئی آسمانوں میں نہ کوئی زمین پر ما سوا اللہ رب العزت کے کوئی غائب نہیں جانتا (وَمَا يَشْعُرُونَ)یہ بچارے اتنا تک نہیں جانتے ( أَيَّانَ يُبْعَثُونَ)کہ انہیں کب ان کی کبروں سے اٹھایا جائے گا اس لیے میرے بھائیو اس بات پر ایمان رکھو کہ اللہ رب العزت ہی وہ ذات ہے جو غائب کا جاننے والاہے ما سوا اللہ رب العزت کے اور کوئی بھی غائب نہیں جانتا پیارے بھائیواگر آپ لوگوں کو مزید تفصیل پڑھنی ہےتو سورۃ الاعراف آیت نمبر128 پڑھ لیجیے اس لیے میرے بھائیو ہر مسلمان کا اس بات پر ایمان ہونا چاہیے کہ اللہ رب العزت کے سوا اور کوئی غائب نہیں جانتا پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنےذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  9. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    ہر جگہ دیکھنے اور سننے والا کون ہے107:06
    میرے بھائیو یہ صفات خالص فقط اللہ رب العزت ہی کے لیے ہے اللہ ہی وہ ذات ہے جو اپنے عرش پر مستوی ہو کر پوری مخلوق کو دیکھ رہا ہےپو ری مخلوق کی پکاریں سن رہا ہے اللہ رب العزت نے سورۃ الانبیاءمیں یونس علیہ السلاۃ السلام کا واقع بیان کیا ہے کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا سمندر کی تحہ کا اندھیرا وہاں انہوں نے کس کو پکارا اور کس نے ان کی پکار کو وہا ں سنا اور کس نے ان کی وہاں مشکل کشائی کی حاجت روائی کی کسی نے وہاں ان کی دست گیری کی اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا (فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ (87))کہ انہوں نے اندھیروں میں پوکارا اے اللہ آپ کے سوا کوئی الہ نہیں آپ ہی معبود برحق ہیں آپ کے سوا کوئی غوث اعظم نہیں جو میری پکار کو یہاں سنے آپ کے سوا کوئی یہاں مشکل کشا نہیں جو میری مشکل کشائی کرےیہاں آپ کے سوا کوئی حاجت روا نہیں جو میری یہاں حاجت روائی کرے آپ کے سوا کوئی دست گیر نہیں جو میری دست گیری کرے یہاں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا (فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ)ہم نے ان کی پکار کو قبول کیا اور ان کو اس مشکل سے نجات دی (وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ (88))ہم اس طرح ہر موحد کو ہر توحید پرست کو نجات دیتے ہیں اسی طرح میرے بھائیو صحیح مسلم کے اندر حدیث ہے کتاب الجہادمیں حظیفہ ابن یمان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ احزاب کے دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا کہ کون ہے جو مجھے دشمنوں کے احوال کی خبر لا کر دیتا ہے حظیفہ ابن یمان کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا اے حظیفہ اٹھو جاؤ اور جاکر مجھے دشمنوں کے احوال کی خبر لا کردو حضیفہ کہتے ہیں سردی کی رات تھی میں گیا میں نے جاکر دشمنوں کے احوال کی خبر لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لا کردی میرے بھائیو اس حدیث کے اندر ان لوگوں کے عقیدے کی اصلاح ہے جو لوگ یہ بد عقیدگی رکھتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر اور ناظر ہیں اور اور مخلوق کے لیے بھی حاضر اور ناظر کا عقیدہ ثابت کرتے ہیں اے میرے بھائیو اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر اور ناظر ہوتے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں اپنے صحابی کو بھیجاکہ حضیفہ جاؤ جاکر مجھے دشمنوں کے احوال کی خبر لاکر دو اے میرے بھائیو اگر آپ لوگوں کو مزید تفصیل پڑھنی ہے تو سورۃ العمران :آیت نمبر44 پڑھ لیجیے اسی طرح سورۃ یوسف :آیت نمبر102 پڑھ لیجیے اسی طرح سورۃ قصص:آیت نمبر44 ،45 اور 46 پڑھ لیجیے اے میرے بھائیو اس بات پر ایمان رکھو کہ اللہ رب العزت ہی وہ ذات ہےجو اپنے عرش پر مستوی ہو کر پوری مخلوق کو دیکھ رکہا ہے پوری مخلوق کی پوکاریں سن رہا ہے۔ پیارے بھائیو اب میں آپ لوگوں کے سامنےیہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ
     
  10. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    ہمیشہ زندا رہنے والا کون ہے110:48
    میرے بھائیو یہ صفات خالص فقط اللہ رب العزت ہی کے لیےخاص ہے اللہ ہی وہ ذات ہےجو (الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ)ہے جو ہمیشہ ذندہ رہنے والا ہےجسے کبھی موت نہیں جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ الرحمن میں ارشاد فرمایا (كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ (26) وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (27))ارشاد فرمایا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر چیز کو ختم ہونا ہے ہر چیز کو فناہ ہونا ہے باقی رہنے والی آپ کے رب کی بابرکت ذات ہے وہی باقی رہے گا اسی طرح اللہ رب العزت نے سورۃ الزمر :30 کے اندر ارشاد فرمایا (إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ)اے نبی آپ کو بھی موت آنی ہے اوران سب کو موت آنی ہے اسی طرح کا بیان میرے بھائیو سورۃالاعمران:144 کے اندر بھی ہے اور میں یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ چاہتا ہوں کہ کچھ لوگ شہدا کی ذندگی کی آڑ میں اور لوگوں کے لیے بھی ذندگیں ثابت کرتے ہیں اور لوگوں کے عقیدے کے ساتھ کھیلتے ہیں میرے بھائیو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر شہدا کی ذندگی کے تعلق سے بیان کیا ہے ایک آیت سورۃ البقرہ میں ہے اور ایک آیت سورۃ الاعمران کے اندر ہے سورۃ الاعمران 167 کے اندر ارشاد فرمایا ( وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ) میرے بھائیو اس آیت کریمہ کی تفسیر میں صحیح مسلم کے اندر عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سےاس آیت کے متعلق دریافت کیا کہ اللہ کے رسول شہدا کی ذندگی سے کیا مراد ہے تو اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا کہ جنت کے اندر اللہ کے عرش کے نیچے کچھ کنزیلیں لٹک رہی ہیں جہاں شہدا کی روحیں بسیرہ کرتی ہیں اور جنت میں جہاں چاہتی ہیں رزق پاتی ہیں اسی طرح میرے بھائیو اللہ رب العزت نے سورۃ یاسین کے اندر ایک موحد کا قصہ بیان کیا ہے کہ جب اس کی قوم والوں نے اسے شہید کردیا تو اس کی روح کو کیا حکم ہوا (قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ )کہ جنت کے اندر داخل ہو جا تو میرے بھائیو کیا پتا چلا کہ شہدا کو جو ذندگی حاصل ہے وہ جنت کے اندر ہے جنت کے اندر ان کی روحوں کو رزق مل رہا ہے نہ کہ وہ دنیا میں گہوم پھر رہے ہیں تصرفات کر رہے ہیں جیسا کہ بہت سارے لوگوں کی بد عقیدگی ہے تو میرے بھائیو اس بات پر ایمان رکھیں کہ اللہ رب العزت ہی وہ ذات ہے جو حی الایموت ہے جو ہمیشہ ذندہ رہنے والا ہے جسے کھبی موت نہیں سبحان وتعالی پیارے بھائیو اب میں آپ لوگوں کے سامنے
     
  11. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    کچھ شبہات کا ازالہ چاہتا ہوں113:55
    1) ایک حدیث ہے جو کہ صحیح بخاری کے اندر ہے ایک موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا (وَاللَّهِ مَا أَخَافُ بَعْدِي أَنْ تُشْرِكُوا، وَلَكِنْ أَخَافُ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا)اللہ کی قسم میں تمہارے متعلق اس بات سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے لیکن مجھے ڈر ہے کہ تم ایک دوسرے کے مقابلے پر دنیاں میں رغبت کروگےمیرے بھائیو اس حدیث کی آڑ میں لوگوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ دیکھو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے تمہارے متعلق شرک کا اندیشا نہیں ہے پھر یہ امت کیسے شرک کر سکتی ہے اور خوب لوگوں کو اس حدیث کی آڑ میں قبر پرستی کے شرک میں مبتلا کیا جاتا ہے پیارے بھائیو سب سے پہلے میں آپ لوگوں کے سامنے اس حدیث کی وہ شرح بیان کرتا ہوں جو اس حدیث کی شرح حافظ ابن حجر عسکلانی رحمتہ اللہ علیہ نے فتح الباری کے اندر بیان کی ہے حافظ ابن حجر عسکلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں (قَوْلُهُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا أَيْ عَلَى مَجْمُوعِكُمْ لِأَنَّ ذَلِكَ قَدْ وَقَعَ مِنَ الْبَعْضِ)وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ مجھے تمہارے متعلق شرک کا ڈر نہیں ہے یعنی آپ صلی علیہ وسلم کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی امت مجموعی طور پر شرک نہیں کرے گی کیوں کہ امت مسلمہ میں سے بعض افراد کی جانب سے شرک کا وقوع ہوا ہے اللہ رب العزت ہمیں اپنی پناہ میں رکھے اسی طرح میرے بھائیو علامہ بدردین عینی حنفی رحمتہ اللہ علیہ نے عمدہ القاری شرح صحیح البخاری جلد نمبر آٹھ صفہ 197 کے اندر بھی یہی اس حدیث کی شرح بیان کی ہے اور دوسری بات یہاں یہ ہے کہ اس حدیث یہاں یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے صحابہ کرام شرک نہیں کریں گے کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے اولین مخاطب آپ کے صحابہ کرام ہی تھے اور یہی بات حافظ ابن حجر عسکلانی رحمتہ اللہ علیہ نے فتح الباری کے اندر بھی بیان کی ہے وہ کہتے ہیں (وَأَنَّ أَصْحَابَهُ لَا يُشْرِكُونَ بَعْدَهُ فَكَانَ كَذَلِكَ)یقینن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے صحابہ کرام شرک کا ارتقاب نہیں کریں گے اور اسی طرح ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے کسی نے بھی شرک کا ارتقاب نہیں کیا اس کے علاوہ میرے بھائیو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور احادیث مروی ہیں جن کے اندر اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے کچھ لوگ شرک کا ارتقاب کریں گے اور کر رہے ہیں جیسا کہ ترمذی کے اندر حدیث ہے کتاب الفتن میں حدیث کا نمبر ہے 2224 ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا (لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالمُشْرِكِينَ، وَحَتَّى يَعْبُدُوا الأَوْثَانَ)کہ قیامت تب تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت میں سے کچھ قبیلے مشرکوں کے ساتھ جاکر نہ مل جائیں اور بت پرستی اختیار نہ کرلیں اسی طرح میرے بھائیو صحیح بخاریاور مسلم کے اندر حدیث ہے ابی سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا (لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ)کہ تم آپنے پہلوں کے نقشے قدم پر چلو گے بلکل ان کے برابر ہوجاؤ گے اگر ان میں سے کوئی کسی سانڈے کے سوراخ میں گیا تو تم بھی ان کے پیچھے جاؤ گے (قَالُوا اليَهُودُ وَالنَّصَارَى؟)اللہ کے رسول سے کہا گیا اے اللہ کے نبی کیا آگلے لوگوں سے مراد آپ کی یہودی اور عیسائی ہیں (قَالَ:فَمَنْ)اللہ کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اور کون مراد ہو سکتے ہیں میرے بھائیو یہودی اور عیسائی قبر پرستی کے شرک میں مبتلاء تھے جیسا کہ آپ لوگ تفصیل سے پیچھے سن چکے ہیں اسی طرح میرے بھائیو آج مسلمانوں کے اندر بھی کچھ لوگ ہیں جو صاحلین کی قبروں کی عبادت کر رہے ہیں لیکن مسلمان ان باتوں کی شرک نہیں سمجھ تے یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے انبیاء اورصالحین کی شان غلو کیا اسی طرح آپ مسلمانوں کے اندر بھی کچھ لوگ ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں غلو کیا اور دیگر صالحین کی شان میں غلو کیا عیسائیوں کے بارے میں اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ارشاد فرمایا (لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ)یقین کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہامسیح علیہ السلام ہی اللہ ہیں اور مسلمانوں کے اندر بھی ایک شاعر اٹھا اس نے کہ دیا
    وہ ہی جو مستوی تھا عرش پر خدا ہو کر
    اتر پڑا مدینے میں مصطفے ہو کر
    أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ ذَلِكَ نبی کو اللہ بنادیا اور اللہ کو نبی بنا دیا اور ایک نے کہا
    حقیقت میں دیکھا تو خواجہ خدا ہے
    ہمیں در خواجہ پے سجدے رواں ہیں
    اور ایک نے کہا
    چاچر وانگ مدینہ دیسے کوٹ میٹھن بیت اللہ
    ظاہر دے ویچ پیر فریدن باطن دیے ویچ اللہ
    أَعُوذُ بِاللَّهِ مَنْ هَذَا كُفْرٌ وَمَنْ هَذَاالضُّلَّالُ اور کچھ لوگوں نے عیسائیوں کی طرح یہ کفریہ نارہ بلند کیا نارہ الاہی یا علی میرے بھائیو اب آپ خود سن لیجیے کہ کس طرح ان لوگوں نے جناب علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کو الاہ معبود اللہ قرار دیا ہے 120:00نارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم کہتے ہیں اگر یہ کفر نہیں یہ شرک نہیں تو ہم نہیں جانتے کہ کفر کیا ہے شرک کیا ہے کیا مشرکین کے سینگ ہوتے ہیں میرے بھائیو یہودی اور عیسائی اپنے اپنے علماء اور مشائخ کی اندہی تقلید میں مبتلاہ تھے اسی طرح آج مسلمانوں کے اندر کچھ لوگ ہیں جو آپنے اماموں اور پیروں کی اندہی تقلید میں مبتلاع ہو کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرموزات کو رد کردیتے ہیں (لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ)
    اسی طرح میرے بھائیو دوسرا شبہ کیا ہے کہ کچھ لوگ اس بدعقیدگی کا شکار ہیں کہ جب آدم علیہ السلام سے غلطی سرزد ہو گئی تھی تو انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے اللہ رب العزت کو پکارا تھا اور ان کی توبہ قبول ہوئی تھی میرے بھائیو یہ حدیث موضوع ہے من گھرت ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منصوب کی جاتی ہےحالنکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات نہیں فرمائی بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندہا گیا ہے میرے بھائیو اس حدیث کی سند میں ایک راوی ہے عبد الرحمن بن زید ابن اسلم جس کے بارے میں شیخ السلام ابن تیمیہ اور امام ذہبی ہے لکھا ہے کہ یہ موضوع روایت کرنے والا راوی ہےمیرے بھائیو آدم علیہ السلام نے جو کلمات کہے تھےجب ان کی توبہ قبول ہوئی تھی وہ سورۃ الاعراف :23 کے اندر وارد ہیں (رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ) امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ وہ کلمات ہیں یہ وہ دعاء ہے جو آدم علیہ السلام نےکی تھی اور ان کی توبہ قبول ہوئی تھی اسی طرح میرے بھائیو لوگوں کے اندر ایک اور بات بھی پھیلی ہوئی ہے کہ اللہ رب العزت نے سب سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے نور سے پیدا کیا میرے بھائیو یہ ایک جھوٹ ہے اس کی کوئی اصل نہیں بلکہ یہ کلمہ کفر ہےاللہ رب العزت وہ ذات ہے جو لم یا لد ہے اور لم یو لد ہے نہ وہ کسی سے نکلا اور نہ کوئی اس سے نکلایہ بات بھی میرے بھائیو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منصوب کی جاتی ہے حالنکہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں ہے بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا گیا ہے اسی طرح میرے بھائیو لوگوں کے اندر ایک اور بات بھی پھیلی ہوئی ہے کہ اللہ رب العزت نے اس کائنات کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر پیدا کیا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا نہ ہوتے تو اس کائنات کا وجود ہی نہ ہوتا یہ بات بھی میرے بھائیو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منصوب کی جاتی ہے حالنکہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں ہے بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر جھوٹ باندھا گیا ہے میرے بھائیو یہ بات قرآن کریم کی آیت کے خلاف ہے اللہ رب العزت نے سورۃ الزاریات:56 کے اندر یوں ارشاد فرمایا(وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ)اور نہیں پیدا کیا میں نے جنوں اور انسانوں کو مگر اس لیےکہ وہ میری ہی عبادت کے لیے یعنی ہماری تخلوق کا مقصد کیا ہے ہم صرف اللہ رب العزت ہی کی عبادت کریں خالص پیارے بھائیو اب جو چیزں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہیں
     
  12. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    جادو، کہانت اور نجومیت124:00
    اللہ رب العزت نے سورۃ البقرہ:102 کے اندر جادو کو کفر قرار دیا ہے اور ارشاد فرمایا کہ ایسے لوگوں آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے جو جادو کرتے ہیں یا جادو کرواتے ہیں اسی طرح میرے بھائیو تبرانی کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو جادو کرے یا جادو کروائے اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اسی طرح میرے بھائیو جادو ان سات گناہوں میں سے ایک جو انسان کی حلاقت کا سبب بن جاتے ہیں جو کہ صحیح بخاری کی حدیث کے اندر وارد ہیں اسی طرح میرے بھائیو جادوگر کی سزا جو حدیث میں مروی ہے کہ تلوار کے ساتھ اس کا سر قلم کر دیا جائےاسی طرح میرے بھائیو اللہ رب العزت نے سورۃ النساء :91 کے اندر یہودیوں کے بارےمیں ارشاد فرمایا ہے (يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ)یہ لوگ جبت اور طاغوت پر ایمان رکھتے ہیں عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے جبت سے مراد جادو ہے اور جناب جابر ابن عبدالل رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے کہ طاغوت سے یہاں مراد کاہن ہے جس پر شیطان اتراکرتا تھا اور ہر قبیلے کا الگ الگ کاہن ہوتا تھا اور ہر مسلمان اس بات کو اچھی طرح جان لیے کہ جادو گر کی سزا جو حدیث میں مروی ہےتلوار کے ساتھ اس کا سر قلم کر دیا جائےلیکن ہمیں افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑ رہی ہے کہ جادوگر جو کہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں کافر ہے اس کی شیطانی حرکتوں کو اور شوبدا بازیوں کو دیکھ کرکچھ لوگ اسے اللہ کا ولی تصور کرتے ہیں میرے بھائیو جادو کی کمائی حرام اور خبیس ہے جاہل اور کمزور ایمان والے لوگ جادو کے عمل کے لیے جادوگر کا رخ کرتے ہیں اور جادو کے ذریئے لوگوں پر ظلم اور ذیادتیں کرتے ہیں اور کچھ لوگ جادو کے علاج کے لیے جادوگروں کے پاس جاتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا (هِيَ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ)یہ شیطانی عمل ہے البتہ قرآن کریم کی آیات سے اور بنی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے اندر جو دعائیں مروی ہیں ان سے علاج کیا جاسکتا ہے اور میں یہاں ایک نقطہ پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں کہ کچھ لوگ جب جادو کا علاج کروانے کے لیے کسی علاج کرنے والے کے پاس جاتے ہیں تو ان کو یہ پہچان نہیں ہوتی کہ یہ علاج کرنے والا قرآن وسنت کی روشنی میں علاج کرنے والا ہے یا جادو گر ہے میرے بھائیو ان باتوں کو آپ اچھی طرح اپنے ذہنوں میں بٹھا لیجیے اگر علاج کرنے والا آپ سے یہ کہتا ہے کہ مریض کے والد کا نام کیا ہے اس کی والدہ کا نام کیا ہے آپ کے گھر کی چھوکھٹ کس طرف ہے کوئی بال مجھے لا کردو کوئی رومال مجھے لا کر دو یا چادر کا ٹکرا لا کردو یا بخور کا دھواں دو یا مرغا ذبح کرکے مرغے کو فلاں جگہ میں پھینک دو یا بکرا ذجح کرکے بکرے کے سر کو جنگل میں پھینک دو یا وہ میرے بھائیو آپ لوگ دیکھیں کہ وہ آپنے ہونٹوں کے اندر کسر پسر کرتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ وہ تلسم پڑھتا ہے اور شیاطین اور جنات سے علاج کر رہا ہے وہ جادو کے ذریع یہ سب کچھ کر رہا ہے تو میرے بھائیو اس سے ہوشیار ہو جاؤ وہ جادوگر ہے شیطان ہے کافر ہے اس سے بچ کر رہو اور میں ایسے تمام لوگوں سے گزارش کرنا چاہتا ہوں جو لوگ بھی اس جادو جیسے کفرمیں مبتلا ہیں چاہیے وہ جادو کرنے والے ہیں یا جادو کروانے والے ہیں ایسے لوگ اللہ رب العزت کے حضرو سچی اور خالص توبہ کریں اس جادو جیسے کفر سے اور جہاں تک میرے بھائیو کاہن اور نجومی کا تعالق ہے تو یہ دونوں اللہ رب العزت کے ساتھ کفر کے مرتقب ہیں کیوں کہ یہ دونوں غائب کے علم کے داوے دار ہیں جب کہ غائب کا علم اللہ رب العزت کے سوا کوئی نہیں جانتا جیسا کہ سورۃ النمل:65 کے اندر اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایالیکن یہ کفر اکبر کے مرتکب لوگ سادہ اور بھولے بھالے لوگوں کی سادگی سے فائدہ اٹھتے ہوئے ان کا مال بٹورنے کے لیے انہیں بوقوف بناتے ہیں اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے بہت سے وسائل استعمال کرتے ہیں مثلا ریت پر لکیرے کھینچنا یا لوگوں کے ہاتھ دیکھنا یا پیالی یا شیشوں میں مختلف کلمات لکھنا اور کبھی ایک بات ان کی بات سچ نکل بھی آئے تو ننانوے بار جھوٹ سامنے آتا ہے لیکن میرے بھائیو جن لوگوں کی عقل پر شرک کا پردہ پرجاتا ہے ان لوگوں کو ان ٹھگوں کا وہ ایک بار سچ یاد رہتا ہے ننانوےبار کے چھوٹ پر کوئی توجوہ نہیں دیتے چنانچہ اپنے مستقبل کے احوال معلوم کرنے کے لیے شادی یا تجارت کے تعلق سے خیر اور شر کا پتا لگانے کے لیے یا اپنی گم شدہ چیز کی تلاش وغیرہ کے لیے ان کا رخ کرتے ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ان کاہنوں کے پاس جانے والے شخص کا کیا حکم ہے تو میرے بھائیو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر کاہنوں کے پاس جانے والا شخص ان کی باتوں کو سچ مانتا ہے تو وہ کافر ہے ملت اسلامیہ سے خارج ہے اس بات کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جو کہ مسند احمد کے اندر مروی ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ()جو کسی کاہن یا نجومی کے پاس گیا جاکر ان سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا پھر ان کی بات کی تصدیق کی تو یقین اس نے اس چیز کے ساتھ کفر کیا جو چیز محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی ہے یعنی قرآن و سنت کے ساتھ اس کے علاوہ میرے بھائیو کاہنوں کے پاس جانے والا شخص ان کی تصدیق نہیں کرتا اور نہ ہی ان کے بارے میں علم غائب جاننے کا عقیدہ رکھتا ہے بلکہ فقظ تحربہ کے طور پر جاتا ہے تو ایسا انسان کافرتو نہ ہوگا لیکن اتنا بڑھا گناہ گار ہو گا کہ اس کی چالیس روز کی نماز قبول نہ ہو گی اور اس بات کی دلیل صحیح مسلم کی حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کسی کاہن یا نجومی کے پاس گیا جاکر اس سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو اس کی چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی ۔پیارے بھائیو کہانت اور نجومیت کے تعلق سے آپ لوگ ایک بات اور بھی جان لیجیے کہ آج کل پاکستان کیو ٹی وی کے اوپر ایک صاحب استخارہ کی آڑ میں کہانت اور نجومیت کرتے ہیں اور لوگوں کو غائب کی خبریں دینے کے دعوے کرتے ہیں میرے بھائیو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ استخارہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے لیکن اللہ کے نبی نے ایسی کوئی تعلیم اپلی امت کو نہیں دی کہ ایک آدمی بیٹھ کر لاکھوں لوگوں کے لیے استخارہ کرے بلکہ میرے بھائیو یہ شخص کاہن ہے نجومی ہے جو استخارہ کی آڑ میں کہانت اور نجومیت کر رہا ہے اور لوگوں کے عقیدے کے ساتھ کھیل رہا ہے میرے بھائیو اس سے ہوشیار ہو جاؤ پیارے بھائیو اب جو چیز آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  13. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    تعویذات کی حقیقت 131:47
    کچھ لوگ آپنے گلوں میں یااپنے بچھوں کے گلوں میں تعویذات لٹکاتے ہیں ہاتھوں کی سیکھوں کی طرح کڑے پہن تے ہیں کانوں میں بھیل اور بھنیوں کی طرح مندریں پہن تے ہیں اپنے باذوں پر بخار کے لیے دھاگے باندھتے ہیں گھروں اور گھاڑیوں میں ہرے ہرے اور کالے کالے کپڑے لٹکاتے ہیں اسی طرح کچھ لوگ امام ذامن باندھ تے ہیں اسی طرح کچھ لوگ اپنی انگلیوں میں چھلے پہن تے ہیں جی فلاں درگاہ سے چھلا لاکر پہنا ہے اور کچھ لوگ مختلف نگینوں والی انگوٹھیں پہن تے ہیں فائیدہ حاصل کرنے کے لیے یا نقصانات سے بچنے کے لیے اسی طرح کچھ لوگ جانوروں کےگلوں میں لکڑی کے گٹھ بنا کر ڈال دیتے ہیں یا جانوروں کے گلوں میں جوتے لٹکا دیتے ہیں نظر نہ سے بچنے کے لیے اسی طرح کچھ لوگ اپنے گھروں کی چوکھٹ میں جوتے لٹکاتے ہیں اسی طرح میرے بھائیو اپنے ہاتھوں پر یا ٹخنوں کے ساتھ منکے یا سپیں باندھ تے ہیں اور کچھ لوگ اس قسم کے تعویذات پہن تے ہیں جن کے اندر مختلف گنتی کےعدد لکھے ہوتے ہیں یا فرشتوں سے مدد مانگی جاتی ہے یا شیاطینوں سے یا جنوں سے مدد مانگی جاتی ہے جو کہ کھلم کھلا شرک ہے اسی لیے تو میرے بھائیو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ()جس نے کوئی تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا ترمذی کے اندر یہ حدیث ہے میرے بھائیو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم عام ہے آپ علیہ السلاۃ السلام نے کوئی تخصیص نہیں فرمائی کہ یہ تعویذ قرآن پر مبنی ہے اور یہ غیر قرآن پر مبنی ہے بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کے تعویذات سے اپنی امت کو منع کیا ہے اور میں یہاں یہ کہنا چاہوں گا کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کو گلے میں لٹکانے کے لیے نازل نہیں کیا بلکہ میرے بھائيو قرآن کریم کی تلاوت کریں قرآن کریم پڑھ کر آپنے اوپر دم کریں قرآن کریم کے حکم کے مطابق ذندگی گزاریں اس معنع میں قرآن کریم ہمارے لیے شفاء ہے اکثر لوگ قرآن کریم کے حکم کو تو مانتے نہیں قرآن کہتا ہے نماز پڑھو نماز تو پڑھتے نہیں لیکن لکھ لکھ کر آپنے گلوں میں لٹکالیتے ہیں یہ عجیب اصول ہے اور کچھ لوگ قرآن کریم کو گلے میں لٹکا کر لیٹرین /بیت الخلا کے اندر چلے جاتے ہیں اس طرح تو میرے بھائیو قرآن کریم کی توحین لازم آتی ہے اس لیے ان حرکتوں سے توبہ کرو میرے بھائیو تعویذات کے تعلق سے یہ بات آپ لوگ اچھی طرح جان لیجیے کہ اگر تعویذات لٹکانے والا شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ یہ اللہ رب العزت کے علاوہ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں تو ایسا انسان شرک اکبر کا مرتکب ہے اور اگر ان چیزوں کو فقط نفع یا نقصان میں سے کرار دیتا ہے چونکہ اللہ رب العزت نے ان چیزوں کو نفع یا نقصان کے اسباب میں سے قرار نہیں دیا چنانچہ وہ ایسا مشرک ہو گا جو شرک اصغر میں مبتلہ ہے پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
    اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کی قسم اٹھانے کے بارے میں
    میرے بھائیو قسم جو ہے یہ عذمت کی ایک نوع ہے جو کہ فقط اللہ رب العزت ہی کا حق ہے مگر ہمیں افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑ رہی ہے کہ کتنے ہی کلمہ پڑھنے والے مسلمان مرد اور خواتین اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کی قسم اٹھاتے ہیں مثلا کوئی کہتا ہے ماں کی قسم باپ کی قسم اور لاد کی قسم مرشد کی قسم علی کی قسم حسین کی قسم نبی کی قسم دودھ کی قسم رزق کی قسم کوئی کہتا ہے میرے سامنے نعمت پڑی ہوئی ہے کوئی کہتا ہے امانت کی قسم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ()جس نے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی قسم اٹھائی اس نے شرک کیا یہ حدیث مسند احمد کے اندر ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک بندے نے کہ دیا کعبے کی قسم اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا کہ یوں کہو کعبے کے رب کی قسم اسی طرح میرے بھائیو صحیح بخاری کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی قسم اٹھائے تو اللہ کی اٹھائے ورنہ خاموش رہےاسی طرح میرے بھائیو صحیح مسلم کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی اور کی قسم اٹھا لے تو اس کا کفارہ کیا ہے کہ وہ فورا لا الاہ اللہ کا اقرار کرے۔پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  14. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    تعویذات کی حقیقت 131:47
    کچھ لوگ آپنے گلوں میں یااپنے بچھوں کے گلوں میں تعویذات لٹکاتے ہیں ہاتھوں کی سیکھوں کی طرح کڑے پہن تے ہیں کانوں میں بھیل اور بھنیوں کی طرح مندریں پہن تے ہیں اپنے باذوں پر بخار کے لیے دھاگے باندھتے ہیں گھروں اور گھاڑیوں میں ہرے ہرے اور کالے کالے کپڑے لٹکاتے ہیں اسی طرح کچھ لوگ امام ذامن باندھ تے ہیں اسی طرح کچھ لوگ اپنی انگلیوں میں چھلے پہن تے ہیں جی فلاں درگاہ سے چھلا لاکر پہنا ہے اور کچھ لوگ مختلف نگینوں والی انگوٹھیں پہن تے ہیں فائیدہ حاصل کرنے کے لیے یا نقصانات سے بچنے کے لیے اسی طرح کچھ لوگ جانوروں کےگلوں میں لکڑی کے گٹھ بنا کر ڈال دیتے ہیں یا جانوروں کے گلوں میں جوتے لٹکا دیتے ہیں نظر نہ سے بچنے کے لیے اسی طرح کچھ لوگ اپنے گھروں کی چوکھٹ میں جوتے لٹکاتے ہیں اسی طرح میرے بھائیو اپنے ہاتھوں پر یا ٹخنوں کے ساتھ منکے یا سپیں باندھ تے ہیں اور کچھ لوگ اس قسم کے تعویذات پہن تے ہیں جن کے اندر مختلف گنتی کےعدد لکھے ہوتے ہیں یا فرشتوں سے مدد مانگی جاتی ہے یا شیاطینوں سے یا جنوں سے مدد مانگی جاتی ہے جو کہ کھلم کھلا شرک ہے اسی لیے تو میرے بھائیو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ()جس نے کوئی تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا ترمذی کے اندر یہ حدیث ہے میرے بھائیو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم عام ہے آپ علیہ السلاۃ السلام نے کوئی تخصیص نہیں فرمائی کہ یہ تعویذ قرآن پر مبنی ہے اور یہ غیر قرآن پر مبنی ہے بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کے تعویذات سے اپنی امت کو منع کیا ہے اور میں یہاں یہ کہنا چاہوں گا کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کو گلے میں لٹکانے کے لیے نازل نہیں کیا بلکہ میرے بھائيو قرآن کریم کی تلاوت کریں قرآن کریم پڑھ کر آپنے اوپر دم کریں قرآن کریم کے حکم کے مطابق ذندگی گزاریں اس معنع میں قرآن کریم ہمارے لیے شفاء ہے اکثر لوگ قرآن کریم کے حکم کو تو مانتے نہیں قرآن کہتا ہے نماز پڑھو نماز تو پڑھتے نہیں لیکن لکھ لکھ کر آپنے گلوں میں لٹکالیتے ہیں یہ عجیب اصول ہے اور کچھ لوگ قرآن کریم کو گلے میں لٹکا کر لیٹرین /بیت الخلا کے اندر چلے جاتے ہیں اس طرح تو میرے بھائیو قرآن کریم کی توحین لازم آتی ہے اس لیے ان حرکتوں سے توبہ کرو میرے بھائیو تعویذات کے تعلق سے یہ بات آپ لوگ اچھی طرح جان لیجیے کہ اگر تعویذات لٹکانے والا شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ یہ اللہ رب العزت کے علاوہ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں تو ایسا انسان شرک اکبر کا مرتکب ہے اور اگر ان چیزوں کو فقط نفع یا نقصان میں سے کرار دیتا ہے چونکہ اللہ رب العزت نے ان چیزوں کو نفع یا نقصان کے اسباب میں سے قرار نہیں دیا چنانچہ وہ ایسا مشرک ہو گا جو شرک اصغر میں مبتلہ ہے پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
    اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کی قسم اٹھانے کے بارے میں
    میرے بھائیو قسم جو ہے یہ عذمت کی ایک نوع ہے جو کہ فقط اللہ رب العزت ہی کا حق ہے مگر ہمیں افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑ رہی ہے کہ کتنے ہی کلمہ پڑھنے والے مسلمان مرد اور خواتین اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کی قسم اٹھاتے ہیں مثلا کوئی کہتا ہے ماں کی قسم باپ کی قسم اور لاد کی قسم مرشد کی قسم علی کی قسم حسین کی قسم نبی کی قسم دودھ کی قسم رزق کی قسم کوئی کہتا ہے میرے سامنے نعمت پڑی ہوئی ہے کوئی کہتا ہے امانت کی قسم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ()جس نے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی قسم اٹھائی اس نے شرک کیا یہ حدیث مسند احمد کے اندر ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک بندے نے کہ دیا کعبے کی قسم اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا کہ یوں کہو کعبے کے رب کی قسم اسی طرح میرے بھائیو صحیح بخاری کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی قسم اٹھائے تو اللہ کی اٹھائے ورنہ خاموش رہےاسی طرح میرے بھائیو صحیح مسلم کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی اور کی قسم اٹھا لے تو اس کا کفارہ کیا ہے کہ وہ فورا لا الاہ اللہ کا اقرار کرے۔پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  15. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    اندہی تقلید136:36
    آج اس اندہی تقلید کا فتنہ بھی مسلمانوں میں عام ہو چکا ہے مسلمان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرموزات کے سامنے اماموں اور پیروں کے اقوال پیش کرتے ہیں میرے بھائیو آپ لوگ جانتے ہیں کہ تقلید کی تعریف کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر کسی امتی کی بات کو بغیر دلیل کے مان لینا یہی اندی تقلید ہے اور میرے بھائیو تقلید کی ابتدا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چار سو سال بعد جاکر ہوتی ہے جیساکہ ابن قیم جوزی رحت اللہ علیہ نے کلام الموقعین کے اندر لکھا ہے اور تقلید کا لفظ میرے بھائیو قرآن کریم کے اندر جانوروں کے لیے استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ()حدی کے وہ جانور جن کے گلوں میں پٹے ڈالے جاتے ہیں اسی اندہی تقلید کی وجہ سے یہودیوں اور عیسائی گمراہ ہوئے اس کے اوپر اللہ رب العزت کا غضب نازل ہوا جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ التوبہ:31 کے اندر ارشاد فرمایا ()ارشاد فرمایا انہوں نے اللہ رب العزت کو چھوڑ کر اپنے علماء اور مشائخ کو اپنا رب بنا لیا ۔میرے بھائیو ترمذی کے اندر حدیث ہے عدی ابن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ جب یہ آیت کریمہ سنتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کرتے ہیں اے اللہ کے نبی میں پہلے نسرانی تھا ہم لوگ آپنے علماء کو اپنے مشائخ کو رب نہیں کہتے تھے آپ علیہ السلاۃ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جس چیز کو تمہارے علماء حلال کرتے تھے اس چیز کو تم حلال جانتے تھےعدی نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے بلکل صحیح کہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہی مقصود ہے اللہ رب العزت کا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اللہ رب العزت کو چھوڑ کے اپنے علماء اور مشائخ کو اپنا رب بنا لیا ۔اور یہی حال میرے بھائیو مسلمانوں کا بھی ہے انہوں نے آپنے اماموں اور پیروں کو حرام کرنے کا اور حلال کرنے کا حق دیے دیا ہے امام اور پیر جس چیز کو حلال کریں جس چیز کوحرام کریں یہ اسی کے اوپر چلتے ہیں قرآن و سنت میں ذرا بھی دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ آج کچھ مسلمانوں نے اسلام کے اندر ایسی ایسی بدعات اجاد کر لی ہیں جن کا قرآن و حدیث کے اندر کوئی وجود نہیں مثلا قل ،دسواں ، چالیسواں، برسی ،میلاد، میراج مصطفے، شب برات، سبیلے لگانا، گیاہرویں شریف ، لوگوں کو جمع کرکے قرآن پڑھا کے مردوں کو پارسل کرنا ہلنکہ میرے بھائیو حقیقت بات یہ ہے کہ ان چیزوں کا نہ تو قرآن کریم کے اندر کوئی وجود ہے اور نہ ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث کے اندران کا کوئی وجود ہے اور کچھ لوگ اس بد عقیدگی کا شکار ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نور تھے یا بشر آپ کا سایہ تھا یا نہیں آپ کے جوتوں کے نقش بنا کر انہیں مسجدوں میں لٹکانا ۔انہیں باتوں کو میرے بھائیو یہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا میار قرار دیتے ہیں جہاں قرآن و حدیث کے اوپر عمل کرنے کی باری آتی ہے تو شیطان انہیں کوئی اور ہی خواب دکھلاتا ہے کہ تم فلاں امام کے مقلد ہو فلاں پیر کے مدید ہو اور انہی چکروں میں مبتلا ہو کر یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرموذات کو رد کر دیتے ہیں لا حولاولاقوت الاباللہ ۔پیارے بھائیو اب جو چیزیں میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہیں
     
  16. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    چند چھپے ہوئے شرکیہ کلمات140:33
    مثلا یوں کہنا میں اللہ کی اور تیری پناہ پکرتا ہوں،جو اللہ چاہیں اور آپ چاہیں ، یہ اللہ اور آپ کی طرف سے ہے، اللہ کے سوا اور آپ کے سوا کوئی نہیں، میں اللہ پر اور آپ پر توکل کرتا ہوں، اگر اللہ نہ ہوتا اور فلاں نہ ہوتا ، میرے بھائیو ان کلمات میں صحیح طریقہ یہ ہےکہ لفظ اور کے بجائے لفظ پھر استعمال کیا جائے مثلا یوں کہنا چاہیے میں اللہ کی پھر آپ کی پناہ پکرتا ہوں۔اس طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ میں اسلام سے بری ہوں، اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے زمانے کی ناکامی،بڑا برا زمانہ ہے بڑا برا وقت ہے زمانہ خراب ہے زمانہ خراب ہے زمانہ غددار ہے زمانہ غددار ہے کیوں کہ زمانے کو گالی دینا اللہ کورب العزت کی طرف لوٹتی ہے جو زمانے کا خالق ہے اسی طرح میرے بھائیو آج کل بہت سی نئی اسطلحات اور عبارتیں سننے میں آتی ہیں جو توحید کے مخالف اور منافی ہیں مثلا یہ کہنا اسلامی اشتراکیت اسلامی جمہوریت عوام کا ارادہ اللہ کا ارادہ ہے دین اللہ کا اور وطن سب کا اسی طرح میرے بھائیو ملک الملوک،شیہنشاہ یا قاضی و قضاءیعنی چیف جسٹس کا لفظ بھی کسی انسان کے لیے بولنا حرام ہے اسی طرح لفظ سید بامعنی بزرگ یا مسٹر یا اس کا ہم معنی اور کوئی دوسرا لفظ کسی کافر یا منافق کے لیے نہ بولا جائے نہ عربی زبان میں نہ کسی دوسری زبان میں اسی طرح میرے بھائیو اپنی گفتگو میں حرف لو یعنی اگر کا استعمال کرنا بھی ناجائز ہے کیوں کہ حسرت پر ندامت پر ناراضگی پر دلالت کرتا ہے مثلا یہ کہنا اگر گھر میں کتیا نہ ہوتی تو چوری ہوجاتی، اگر گھر میں بطخ نہ ہوتی تو چوری ہوجاتی، اگر میں فلاں جگہ نہ جاتا تو میرا ایسی ڈنٹ نہ ہوتا یہ کلمہ اگر میرے بھائیو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق شیطانی دروازہ کھولتا ہے اسی طرح میرے بھائیو یہ کہنا بھی غلط ہے (اللہ ہما اغفر لی ان شئت)اے اللہ اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے میرے بھائیو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم میں سے کوئی دعاء کرے تو پورے ازم کے ساتھ دعاء کرے اسی طرح میرے بھائیو بہت سارے نام رکھنا حرام ہیں جن کے اندر اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں عبد کی اضافت کی جاتی ہے مثلا اس طرح نام رکھنا عبدنبی ، عبدرسول، عبدحسین، غلام علی، غلام حسین، غلام محیدین، غلام رسول، غلام بخش ، پیر بخش ، پیر امداد۔پیارے بھائیو تمام فرشتے تمام جنات تمام تمام انسان اللہ رب العزت ہی کے بندے ہیں اللہ ہی کے غلام ہیں جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ المریم:93 کے اندر ارشاد فرمایا ()ارشاد فرمایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ رب العزت ہی کے غلام بن کر آنے والے ہیں اسی طرح میرے بھائیو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپنے رب کو یوں مخاطب کرتے ()اے اللہ میں تیرا بندا ہوں اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں۔اسی طرح میرے بھائیو علامہ ابن حزم رحتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تمام علامہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ ہر وہ نام جس میں بندے کی نسبت اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کی طرف کی جاتی ہے مثلا عبدنبی ، عبدرسول، عبدحسین اس طرح کے نام رکھنے حرام ہیں اسی طرح میرے بھائیو صحیح مسلم اور بخاری کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی کسی کو یہ نہ کہےکہ میرا بندا میری بندی بلکہ یہ تمام کے تمام لوگ اللہ رب العزت ہی کے بندے ہیں اسی ہی کے غلام ہیں پیارے بھائیو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عبد اللہ اور عبد الرحمن اللہ رب العزت کے نزدیک بڑے ہی محبوب ترین نام ہیں میرے بھائیو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اولاد کے وہ نام رکھیں جن میں عبد کی نسبت اللہ رب العزت کے اسماء الحسن کی طرف کی جاتی ہے عبد اللہ ،عبد الرحمن،عبد سمیع، عبد اللطیف ، عبد الخبریر، عبد الخالق، عبد الشکور، عبد الواحد، عبد الوھاب اسی طرح میرے بھائیو یوں نام رکھیں آپنی اولاد کے محمد ،احمد، ابراہیم،اسمائیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، ادریس، صالح، موسی، عیسی،زکریا، یحیا،سلیمان، داؤد اسی طرح میرے بھائیو یوں نام رکھیں آپنی اولاد کے ابوبکر،عمر،عثمان ،علی، طلحہ،زبیر،سعید، سعد، حمزہ، حسن ، حسین، جعفر،عباس اسی طرح میرے بھائیو اپنی بیٹیوں کے یوں نام رکھیں ختیجہ، مریم، عائشہ،فاطمہ، حفصہ، کلثوم،رقیہ، جویریہ اس طرح میرے بھائیو پیارے پیارے نام رکھیں اپنی اولاد کے اسی طرح میرے بھائیو اپنی گفتگو میں یوں کہتے ہیں کہ میرے بندے کہاں ہیں یہ میرے بندوں کا کام ہے یہاں میرے بندے کام کر رہے تھے میرے بھائیو اس طرح کہنا بھی حرام ہے اسی طرح میرے بھائیو اللہ رب العزت کے لیے کلمہ حاضر استعمال کرنا جو کہ اس کی شان کے خلاف ہے اسی طرح لفظ اللہ کے بجائے خدا استعمال کرنا بھی صحیح نہیں ہے اسی طرح میرے بھائیو کچھ لوگ بسم اللہ کی جگہ سات سو چھیاسی 786 کا استعمال کرتے ہیں اور قرآنی آیات کے نقش نکال تے ہیں میرے بھائیو یہ تشمنان اسلام کی ایک کفیر جسارت ہے جو انہوں نے قرآن کریم کے اندر تحریف کرنے کے لیے کی لیکن ہمیں افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑ رہی ہے کہ وہ لوگ جنہیں لوگ علماء آلہ حضرت حکیم الامت کے القابات سے نوازتے ہیں وہ لوگ بھی اس بد عقیدگی کاشکار ہوگئے اور کچھ لوگ آپنے گھروں میں دیواروں کے اوپر یہ کلمہ لکھتے ہیں اللہ محمد اسی طرح مساجد میں اسی طرح مساجد میں فرض نماز کے بعد اٹھتے ہیں اور اس طرح علان کرتے ہیں کہ بقیہ نماز کے بعد اللہ رسول کی بات ہو گی اللہ رسول کی بات ہو گی میرے بھائیو اس طرح کہنا سخت ناجائز ہےاللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر جہاں کہیں بھی یہ کلمہ استعمال کیا ہے (اللہ و رسول )اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یعنی کلمہ واو عطف ہے خالق اور مخلوق میں تفریق کرتا ہے اسی طرح کی بات میرے بھائیو ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذندگی میں کہی تھی جیسا کہ صحیح مسلم کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سناکہ ایک شخص لوگوں کو خطبہ دیے رہا تھا اس خطیب نے اپنے خطبے میں کیا کہا ()جس نے اللہ اور اس کے رسول کی عطاعت کی وہ کامیاب ہو گیا پھر اس نے کہا ()جس نے ان دونوں کو جھٹلایا ()وہ گمراہ ہو گیا ۔پیارے بھائیو اللہ کے رسول کے کانوں میں جب یہ بات پڑی تو اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا ()تو کتنا برا خطیب ہے ۔اس خطیب نے کہاں غلطی کی پہلے تو اس نے یہ کہا() جس نے اللہ اور اس کے رسول کی فرمابرداری کی وہ کامیاب ہو گیا پھر اس نے کہا ()جس نے ان دونوں کو جھٹلایا وہ ناکام ہو گیا یعنی اس نے کلمہ دونوں کہ کر خالق اور مخلوق کو جمع کردیااس بات پر اللہ کے رسول اتنا ناراض ہوئے کہ اس کے منہ پر کہ دیا ()کہ تو کتنا برا خطیب ہے پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  17. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    بدشگونی لینا 149:20
    بدشگونی جو کہ ایک حرام عقیدہ ہے توحید کے کمال کے منافی ہے اس میں بہت سی چیزیں شامل کی جاسکتی ہیں مثلا بعض لوگ صفر کے مہینے کو منھوس قرار دیتے ہیں، تیراں کے عدد کو منھوس قرار دیتے ہیں،بد کے دن کو منھوس قرار دیتے ہیں،الو کے بولنے کو منھوس قرار دیتے ہیں ، کالی بلی کے دیکھنے کو منھوس قرار دیتے ہیں ، کچھ لوگ بیماری والے شخص کو منھوس قرار دیتے ہیں ، اس سے نھوست پکڑتے ہیں مثلا اگر کوئی آدمی آپنی دکان کھولنے کے لیے جائے مگر راستے میں اسکی نظر کسی کانے انسان پر پڑ جائے اور وہ وہیں سے واپس پلٹ آئے ، اسی طرح کچھ لوگ صبح کسی لنگڑے انسان کو دیکھ لیں تو اپنا کاروبار ترک کردیتے ہیں اسی طرح کچھ لوگ جب آپنی دکان کھولتے ہیں اگر ان کے پاس صبح کوئی ادھار لینے والا آجائےتو اسے کہتے ہیں کہ تھوڑی سی بونی کروا کر جاؤ ورنہ سارا دن بے برکتی ہو گی اسی طرح کچھ لوگ رات کو جھاڑو دینے کو بڑا برا تصور کرتے ہیں اسی طرح کچھ لوگ یہ بد عقیدگی رکھتے ہیں اگر ہاتھ پر چارش ہوئی تو پیسےملیں گے اسی طرح کچھ لوگ یہ بدعقیدگی رکھتے ہیں کہ اگر جوتے پر جوتہ گیا تو صفر پر جانا ہے اگر چھت کے اوپر کوا بولا توکوئی مہمان آنے والا ہے اگر آٹا اڑا تو مہمان آنے والا ہے اسی طرح کچھ لوگ یہ بدعقیدگی رکھتے ہیں کہ اگر آنکھ پھڑکی تو کوئی مصیبت آنے والی ہے میرے بھائیو یہ ساری بدشگونیں ہیں جن کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک قرار دیا ارشاد فرمایا()ارشاد فرمایا بدشگونی شرک ہے بدشگونی شرک ہے بدشگونی شرک ہے اور ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کوبدشگونی کام کرنے سے روک دے اس نے شرک کا ارتقاب کیا صحابہ کرام نے عرض کی اے اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم اس کا علاج کیا ہے آپ علیہ السلاۃ السلام نے ارشاد فرمایایوں کہو ()پیارے بھائیو بدشگونی لینا انسانی طبیت میں شامل ہے جو کم اور زیادہ ہو سکتی ہے اور اس کا سب سے اہم اور کار آمد علاج توکل عل اللہ ہے جیسا کہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ہم میں سے ہر شخص کے دل میں کچھ نہ کچھ بد شگونی پیدا ہو جاتی ہے لیکن اللہ رب العزت توکل کی برکت سے اسے ختم کردیتا ہے پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  18. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    لوگوں کی ذندگی اور حوادث میں ستاروں کی تعسیر کاعقیدہ رکھنا 152:04
    صحیح بخاری کے اندر حدیث ہے ایک موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپنے صحابہ کرام کو مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا کہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ہے کہ میرے بندوں میں سے کچھ مومن ہوئے اور کچھ کافر جنہوں نے یہ کہا کہ ہمیں یہ بارش اللہ رب العزت کے فضل اور اس کی رحمت سے عطا ہوئی وہ میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں کی تاسیر کا انکار کرنے والے ہیں اور جنہوں نےیہ کہا اس بارش میں فلاں ستارے کی تاسیر ہے وہ میرے ساتھ کفر کرنے والے اور ستاروں کے ساتھ ایمان رکھنے والے ہیں اسی طرح میرے بھائی آج کل کچھ لوگ اخبار اور ریسالوں میں شایع ہونے والے ستاروں کی برجوں سے قسمت کے احوال جاننے کی کوشش کرتے ہیں ان کا یہ قردار شرک کو قبول کرنے والا ہے چناچنہ اگر وہ ان نجوم اور افلاک کے قسمت کے تعلق سے اثر انداز ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں تو مشرک ہیں اور اگر فقط تسلی کے لیے ستاروں کے ان احوال کر پڑھتے ہیں تو وہ نافرمان اور گناہ گار ہیں کیوں کہ شرک پر مشتمل تحریر پڑھ کر تسلی لینا جائز نہیں ہے اسی طرح میرے بھائیو کچھ لوگ ستاروں کے بارے میں یہ بدعقیدگی رکھتے ہیں کہ اگر کسی کو فائدہ یا نقصان حاصل ہو جائے تو کہتے ہیں کہ اس کا ستارہ گردش میں ہے میرے بھائی ستارے تو خود اللہ رب العزت کی مخلوق ہیں جن کو آسمانے دنیا کی زینت کے لیے، راستے ہی ریہنمائی حاصل کرنے کے لیے اور شیاطین کو مارنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے پیارے بھائی اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  19. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    ریاکاری 153:49
    عمل کی قبولیت کے لیے تین شرطیں ہیں
    1)عمل کرنے والا انسان توحید پرست ہو موحد ہو عقیدہ توحید اس کا صحیح ہو عقیدے میں شرک کی آمیزش نہ ہو
    2)عمل خالصن فقط اللہ رب العزت ہی کے لیے ہو ریاکاری سے پاک ہو
    3)عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہو
    پیارے بھائیو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ریاکاری کے فتنے کو فتنہ دجال سے بھی زیادہ خطرناق قرار دیا ہے لیکن اللہ رب العزت معاف آج کل کتنے ہی مسلمان مرد اور خواتین اس ریاکاری اس ریارکای کے فتنے میں مبتلاء ہیں پیارے بھائی میں آپ لوگوں کے سامنے چند چیزوں کی نشان دہی کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ لوگ اس ریاکاری کے فتنے سے خبردار ہو جائيں مثلا اگر کوئی نماز پڑھے نماز کو اس لیے لمبا کرے کہ کوئی دیکھ رہا ہے تو یہ ریاکاری ہےاسی طرح رات کو کوئی تحجد کی نماز کے لیے اٹھتا ہے اور اس کی یہ کوشش ہو کہ میرے اس عمل کی خبر لوگوں کو ہو جائے تو یہ ریاکاری ہے اسی طرح اگر کوئی نفلی روزہ رکھے اس کی یہ کوشش ہو کہ لوگوں کو میرے اس عمل کی خبر ہو جائے تو یہ ریاکاری ہے اسی طرح کوئی قرآن کریم کی تلاوت کر تا ہے اور آواز کو خوب صورت اس لیے بناتا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں تو یہ بھی ریاکاری ہے اسی طرح اگر علم اس لیے حاصل کرے کہ لوگ کہیں کہ یہ عالم ہے تو ریاکاری ہے اسی طرح جو شخص آپنے منہ سے خود کہے کہ میں عالم ہوں تاکہ لوگوں میں شوہرت ہو تو ریاکاری ہے اسی طرح کچھ لوگ ہاتھوں میں لمبی لمبی تسبیں لیے کر گھومتیں ہیں یہ بھی ایک ریاکاری کا ایک نمونہ ہے میرے بھائیو میں یہاں ایک اور چیز کی بھی نشاندھی کرنا چاہتاہوں وہ یہ ہے کہ اگر آپ لوگ دیکھیں ایک مسلمان دعوت تبلیغ کا کام کر رہا ہے لوگ اس سے استفادہ کر رہے ہیں لوگ اس کی دعوت کو قبول کر رہے ہیں میرے بھائی اگر آپ لوگ آپنے دل میں محسوس کریں کہ آپ کے دل میں اس مسلمان کے لیے حسد پیدا ہو رہی ہے قراہیت پیدا ہو رہی ہے بغض پیدا ہو رہا ہے تو میرے بھائیو جان لیجیے کہ آپ کے دل میں اخلاص کی قلت ہےاور ریاکاری کا غلبہ ہے پیارے بھائیو غرض ہر وہ عبادت چھوٹی ہو یا بھڑی ہوجس میں اللہ رب العزت کی خوشنودی مقصود نہ ہو بلکہ شوہرت تعریف مقصود ہو تو میرے بھائیو یہ ریاکاری ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاجو آپنے عمل کے ذریعے شوہرت کمانا چاہتا ہے تو اللہ رب العزت اسے شوہرت ہی دیتا ہے اور جو آپنا عمل لوگوں کو دکھلانے کے لیے کرتا ہے تو اس کو دکھلاوا ہی حاصل ہو تا ہے پیارے بھائیو ریاکاری جسے حدیث کے اندر شرک اصغر قرار دیا گیا ہے اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو شیطان بڑھی آسانی سے انسان کو شرک اکبر کی طرف لے جاسکتا ہے پیارے بھائیو اس کا علاج کیا ہے کہ عمل کرنے سے پہلے انسان آپنے دل میں اللہ رب العزت ہی کے لیے اخلاص پیدا کرے اور وہ دعاء صبح و شام پڑھا کرے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ کو سکھلائی تھی()اے اللہ میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں کہ میں تیرے ساتھ کسی قسم کا شرک کروں اور میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں کہ مجھ سے لاعلمی میں شرک صادر ہو جائے۔ پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنےذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  20. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    ریاکاری 153:49
    عمل کی قبولیت کے لیے تین شرطیں ہیں
    1)عمل کرنے والا انسان توحید پرست ہو موحد ہو عقیدہ توحید اس کا صحیح ہو عقیدے میں شرک کی آمیزش نہ ہو
    2)عمل خالصن فقط اللہ رب العزت ہی کے لیے ہو ریاکاری سے پاک ہو
    3)عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہو
    پیارے بھائیو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ریاکاری کے فتنے کو فتنہ دجال سے بھی زیادہ خطرناق قرار دیا ہے لیکن اللہ رب العزت معاف آج کل کتنے ہی مسلمان مرد اور خواتین اس ریاکاری اس ریارکای کے فتنے میں مبتلاء ہیں پیارے بھائی میں آپ لوگوں کے سامنے چند چیزوں کی نشان دہی کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ لوگ اس ریاکاری کے فتنے سے خبردار ہو جائيں مثلا اگر کوئی نماز پڑھے نماز کو اس لیے لمبا کرے کہ کوئی دیکھ رہا ہے تو یہ ریاکاری ہےاسی طرح رات کو کوئی تحجد کی نماز کے لیے اٹھتا ہے اور اس کی یہ کوشش ہو کہ میرے اس عمل کی خبر لوگوں کو ہو جائے تو یہ ریاکاری ہے اسی طرح اگر کوئی نفلی روزہ رکھے اس کی یہ کوشش ہو کہ لوگوں کو میرے اس عمل کی خبر ہو جائے تو یہ ریاکاری ہے اسی طرح کوئی قرآن کریم کی تلاوت کر تا ہے اور آواز کو خوب صورت اس لیے بناتا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں تو یہ بھی ریاکاری ہے اسی طرح اگر علم اس لیے حاصل کرے کہ لوگ کہیں کہ یہ عالم ہے تو ریاکاری ہے اسی طرح جو شخص آپنے منہ سے خود کہے کہ میں عالم ہوں تاکہ لوگوں میں شوہرت ہو تو ریاکاری ہے اسی طرح کچھ لوگ ہاتھوں میں لمبی لمبی تسبیں لیے کر گھومتیں ہیں یہ بھی ایک ریاکاری کا ایک نمونہ ہے میرے بھائیو میں یہاں ایک اور چیز کی بھی نشاندھی کرنا چاہتاہوں وہ یہ ہے کہ اگر آپ لوگ دیکھیں ایک مسلمان دعوت تبلیغ کا کام کر رہا ہے لوگ اس سے استفادہ کر رہے ہیں لوگ اس کی دعوت کو قبول کر رہے ہیں میرے بھائی اگر آپ لوگ آپنے دل میں محسوس کریں کہ آپ کے دل میں اس مسلمان کے لیے حسد پیدا ہو رہی ہے قراہیت پیدا ہو رہی ہے بغض پیدا ہو رہا ہے تو میرے بھائیو جان لیجیے کہ آپ کے دل میں اخلاص کی قلت ہےاور ریاکاری کا غلبہ ہے پیارے بھائیو غرض ہر وہ عبادت چھوٹی ہو یا بھڑی ہوجس میں اللہ رب العزت کی خوشنودی مقصود نہ ہو بلکہ شوہرت تعریف مقصود ہو تو میرے بھائیو یہ ریاکاری ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاجو آپنے عمل کے ذریعے شوہرت کمانا چاہتا ہے تو اللہ رب العزت اسے شوہرت ہی دیتا ہے اور جو آپنا عمل لوگوں کو دکھلانے کے لیے کرتا ہے تو اس کو دکھلاوا ہی حاصل ہو تا ہے پیارے بھائیو ریاکاری جسے حدیث کے اندر شرک اصغر قرار دیا گیا ہے اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو شیطان بڑھی آسانی سے انسان کو شرک اکبر کی طرف لے جاسکتا ہے پیارے بھائیو اس کا علاج کیا ہے کہ عمل کرنے سے پہلے انسان آپنے دل میں اللہ رب العزت ہی کے لیے اخلاص پیدا کرے اور وہ دعاء صبح و شام پڑھا کرے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ کو سکھلائی تھی()اے اللہ میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں کہ میں تیرے ساتھ کسی قسم کا شرک کروں اور میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں کہ مجھ سے لاعلمی میں شرک صادر ہو جائے۔ پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنےذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں