توحید کیا ہے ؟ کیا مسلمان بھی شرک کرسکتے ہیں؟

فاروق نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏مارچ 7, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
    توحید کیا ہے ؟ کیا مسلمان بھی شرک کرسکتے ہیں؟​


    السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

    معزز دوستو ! اسلامی بھائیو!
    آج اللہ رب العزت نے مجھ ناچیز کو جس موضوع پر گفتگو کرنے کا شرف بخشا ہے وہ ہے (توحید کیا ہے کیا مسلمان بھی شرک کرسکتے ہیں؟) ۔
    اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ رب ذوالجلال مجھے اس موضوع کا حق عطا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور مجھ سمیت میرے تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو حق پر ایمان رکھنے کی اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔

    پیارے بھائیو ! آج میں جن نقاط پر روشنی ڈالوں گا وہ درج ذیل ہیں‌۔

    (1) توحید کی اہمیت اور فضیلت
    (2) توحید کی اقسام
    (3) مشرکین کی سزا
    (4) اقوام سابقہ کا شرک
    (5) آج کے مسلمانوں کے عقائد
    (6) اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کے لیےذبیحہ کرنے کے بارے میں
    (7) چند عقلی دلائل
    (8) قبروں کے متعلق اللہ رب العزت کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چند فرمودات
    (9) صالحین کی شان میں غلو
    (10) جائز وسیلہ قرآن و احادیث کی روشنی میں
    (11) اللہ کہاں ہے
    (12) غیب کا جاننے والا کون ہے
    (13) ہر جگہ دیکھنے اور سننے والا کون ہے
    (14) ہمیشہ زندہ رہنے والا کون ہے
    (15) کچھ شبہات کا ازالہ
    (16) جادو ، نجومیوں اور کہانت کے بارے میں
    (17) تعویزکی حقیقت
    (18) اللہ رب العزت کو چھوڑ کے غیروں کی قسم اٹھانے کے بارے میں
    (19) اندھی تقلید
    (20) بد شگونی لینا
    (21) چند شرکیہ کلمات
    (22) لوگوں کی زندگی اور حوادث میں ستاروں کی تعبیر کا عقیدہ رکھنا
    (23) ریا کاری
    (24) بغیر شرعی عذر کے فرض نماز ترک کرنا
    (25) منکر تقدیر کے بارے میں
    (26) اللہ رب العزت کی تقدیر پر صبر کرنا
    (27) اللہ رب العزت کی تدبیر سے بے خوف ہونا
    (28) اللہ رب العزت کی رحمت سے ناامید ہونا
    (29) اللہ رب العزت کی نعمتوں کا انکار
    (30) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کس خوش قسمت کو نصیب ہو گی۔

    (1) توحید کی اہمیت اور فضیلت
    معزز دوستو اور اسلامی بھائیو !‌ توحید کی اہمیت اور فضیلت کے بارے میں یہ کہنا چاہوں گا،کہ توحید اسلام کی جان ہے اسلام کی روح ہے،توحید ہی کے لیے اللہ رب العزت نے اس کائنات کو پیدا فرمایا ہے،جیسا کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ الذاریات: آیت 56)میں ارشاد فرمایا ہے (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ)'' اور نہیں پیدا کیا میں نے جنوں اور انسانوں کو مگر اس لیے کہ وہ صرف میری ہی عبادت کریں '' ،یعنی ہماری تخلیق کا مقصد کیا ہےکہ ہم فقط اللہ رب العزت کی ہی عبادت کریں خالص، توحید ہی کی وجہ سےیہ آسمان اور زمین قائم ہیں،توحید ہی وہ پہلی چیز ہے جس کی وجہ سےاللہ رب العزت لوگوں کے اعمال قبول فرماتا ہے،اور جنت میں بھی وہی جائے گاجس کی موت توحیدخالص پر آئی،جیسا کہ صحیح مسلم کے اندر حدیث ہےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا(مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ)کہ '' جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کو لا الہ الا اللہ کا علم ہو تو وہ جنت میں جائےگا '' تو حید ہی کے لیے اللہ رب العزت نے تمام نبیوں کو بھیجا،جیسا کہ(سورۃ الانبیاء :آیت25)(وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ)پیارے بھائیو !‌ جو لوگ انبیاء علیہم السلام کی دعوت توحید پرایمان لائے، اللہ رب العزت نے انہیں دنیا میں بھی امن عطا کیا ،اور آخرت میں بھی ایسے لوگوں کے لیے امن ہے۔لیکن جن لوگوں نے دعوت توحید کر قبول نہ کیا،توحید کی مخالفت کی اللہ رب العزت نے ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی رسواکن عذاب میں مبتلا کیا،اور آخرت میں بھی ایسے لوگوں کے لیے سخت ترین عذاب ہے،میرے بھائی ! اگر آپ لوگ دیکھیں کہ ایک انسان کتنی ہی نمازیں پڑھتا ہے، زکوٰتہ دیتا ہے، روزے رکھتا ہے، اس نے اللہ رب العزت کے گھر کے حج کئے ہیں، وہ دین کی تبلیغ کرتا ہے، اللہ رب العزت کا ذکر کرتا ہے، قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے،اگر اس کے پاس توحید خالص نہیں ہے،عقیدہ توحید صحیح نہیں ہے، عقیدے میں شرک پایا جاتا ہے،رب کعبہ کی قسم ہے،اللہ رب العزت ایسے انسان کا کوئی عمل بھی قبول نہیں فرماتا،جیسا کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ الزمر:آیت 65) میں ارشاد فرمایا(لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ)اگر آپ نے شرک کا ارتکاب کیاتو آپ کے تمام اعمال برباد ہو جائیں گےاور آپ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے،اس لیے میرے بھائیو! تمام مسلمانوں پر یہ فرض ہے ،کہ انہیں توحید خالص کا علم ہو،جیسا کہ اللہ رب العزت نے(سورۃ محمد:آیت 19)ارشاد فرمایا(فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ)"جان لو! علم حاصل کرو کہ نہیں ہے کوئی معبود بر حق سوائے اللہ کے ''

    ۔پیارے بھائیو ! اب میں آپ لوگوں کے سامنےاختصار کے ساتھ توحید کی اقسام بیان کرتا ہوں۔
    توحید کی تین قسمیں ہیں۔
    (2) توحید کی اقسام
    1) توحید ربوبیت
    2) توحید الوہیت
    3) توحید اسماء وصفات
    پہلی توحید یعنی توحید ربوبیت یہ ہےکہ اس کائنات کا خالق ،مالک،رازق،مدبر،زندگی دینے والا،موت دینے والا،پوری کائنات میں ارادے سے تصرف کرنے والا وہ اللہ رب العزت ہی ہے۔اسی طرح توحید الوہیت یہ ہے کہ ہماری عبادات کی تمام اقسام فقط اللہ رب العزت ہی کے لیے خاص ہوں،چاہے وہ عبادت بدنی ہو،چاہے وہ عبادت مالی ہو،چاہے وہ عبادت زبانی ہو ،یعنی ہماری جتنی بھی عبادات ہیں وہ خالض اللہ رب العزت ہی کے لیے خاص ہوں۔اسی طرح توحید اسماء و صفات یہ ہےکہ اللہ رب العزت کی جو اسماء و صفات قرآن اور احادیث کے اندر بیان ہوئی ہیں ان پر ایمان رکھا جائے،اللہ ہی کے لیے ان کا اثبات فرمایا جائے اور اسی طرح ثابت کیا جائے جیسا کہ اس کے کمال اور جلال کے لائق ہے اس میں نہ تو کسی صفت میں کسی سے تشبیہ ہو نہ کسی صفت کی کیفیت کا بیان ہو،نہ کسی صفت میں لفظی یا معنوی تحریف ہو اور نہ ہی کسی صفت کا انکار اور تعطیل ہو،میرے بھائیو ہر چیز کی ایک نہ ایک ضد ہوتی ہے ،اور توحید کی ضد ہے شرک،شرک وہ گناہ ہے جس کی معافی اللہ رب العزت کے پاس ہے ہی نہیں،اللہ رب العزت نے (سورۃ النساء:آیت 116)کے میں ارشاد فرمایا(اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ) '' بے شک اللہ شرک کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کرے گا،اس کے علاوہ جسے چاہے رب ذولجلال جسے چاہے بخش دے،اسی طرح میرے بھائیو! جس کی موت بھی حالت شرک میں آئی،ایسے مشرک کے لیے جنت حرام ہے،ایسے مشرک کا ٹھکانا جہنم ہے،جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ المائدہ:آیت72)ارشاد فرمایا( ۭاِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ ۭوَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ)کہ '' جس نے بھی اللہ کے ساتھ شرک کیا،ایسے مشرک کے لیے جنت حرام ہے،ایسے مشرک کا ٹھکانا آگ ہے،اور وہاں اس کا کوئی مدد گار نہ ہو گا'' شرک ہی کو قرآن کریم میں سب سے بڑھا ظلم کہا گیا ہے،جیسا کہ لقمان علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے بیٹے کو اس بات کی وصیت کی(يٰبُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ ڼ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ )'' اے میرے بیٹےاللہ کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرنا،یہ شرک بہت بڑھا ظلم ہے۔''
    صحیح البخاری کے اندر حدیث ہے۔اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا(مَنْ مَاتَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا أُدْخِلَ النَّارَ)(حدیث نمبر 6189)
    صحیح البخاری کے اندر حدیث ہے۔اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا(مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ)(حدیث نمبر 1162)
    صحیح البخاری کے اندر حدیث ہے۔اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا(مَنْ مَاتَ وَهْوَ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ)(حدیث نمبر4137)
    مسند احمد کے اندر حدیث ہے۔اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا(مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ)(حدیث نمبر3371)
    کہ جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ رب العزت کے ساتھ کسی قسم کا شرک کرتا تھا،ایسے مسلم کو آگ کے اندر داخل کیا جائے۔ پیارے بھائیو ! ہمارا یہ بیان کرنے کامقصد کسی کی دل آزاری نہیں ہے،نہ ہی کسی کی توھین ہے،نہ کی کسی کے اوپر کیچڑ اچھالنا ہے،بلکہ رب ذولجلال خوب جاننے والا ہے،ہم فقط اپنے مسلمان بھائیوں اور اسلامی بہنوں کی اصلاح چاہتے ہیں،اس لیے میں اپنے تمام مسلمان بھائیوں اور اسلامی بہنوں سے دلی گزارش کرتا ہوں،کہ توحید کے اس بیان کو اول سے لیے کر آخر تک سنیں اور ان باتوں پر غور و فکر کریں،اور اپنے عقائد کی اصلاح کریں، اور ان باتوں کو دوسرے لوگوں تک پہنچائیں،اور اس میشن میں ہمارا ساتھ دیں، تاکہ آپ لوگوں کے لیے بھی صدقہ جاریہ ہو،میرے بھائیو ! توحید بنیاد ہے جنت اور جہنم کا سوال ہے کوئی معمولی بات نہیں ہے،لیکن ہمیں افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑ رہی ہے،کہ اگر آج مسلمانوں سے کہا جائے،کہ بھائیو ! توحید خالص کے بارے میں علم حاصل کرو،توحید ہی کی تبلیغ کرو سب سے پہلے ،تو مسلمان یہ جواب دیتے ہیں،کہ ہر کلمہ پڑھنے والا توحید کے بارے میں جانتا ہے،لیکن جب ہم مسلمانوں سے پوچھتے ہیں،کہ بھائیو ! توحید کی ذرا تعریف تو بیان کرو،تو مسلمان توحید کی تعریف یہ بیان کرتے ہیں،کہ اللہ ہی خالق ہے،اللہ ہی مالک ہے، اللہ ہی رازق ہے ،اللہ سے ہونے کا یقین آجائے،اور مخلوق سے نہ ہونے کا یقین آجائے،میرے بھائیو میں یہ کہنا چاہوں گا،کہ آپ لوگو ں نے یہ جو توحید کی تعریف بیان کی ہے یہ توحید کی اقسام میں سے ایک قسم ہے،تو حید ربوبیت،اس توحید کو تو مشرکین مکہ بھی مانتے تھے،جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے مشرکین لوگ تھے،وہ لوگ بھی توحید ربوبیت کا اقرار کرتے تھےلیکن ان کا توحید ربوبیت کو ماننا ان کے کسی کام نہ آیا،اس کے باوجود بھی وہ لوگ مشرک قرار پائے،آپ لوگ کہیں گے کہ اس بات کی کیا دلیل ہےکہ مشرکین مکہ اللہ رب العزت کو خالق ،مالک،رازق مانتے تھےمیرے بھائیو اس بات دلیل آپ قرآن کریم سے سنیے ،جیسا کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ یونس:آیت31)کے اندر ارشاد فرمایا(قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ)ارشاد فرمایا پیارے نبی ان سے کہیےکہ تمہیں آسمان اور زمین سے رزق کون دیتا ہے کون ہے جو تمہاری آنکھوں اور تمہارے کانوں کا مالک کون ہے جو مردہ سے زندہ نکالتا ہےاور زندہ سے مردہ نکالتا ہے اور پوری کائنات کے معاملات کون بناتا ہے،( فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ)پیارے نبی یہ جواب دیں گے اللہ(فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ)ان سے کہیے کہ ڈرتے کیوں نہیں۔اسی طرح میرے بھائیو! مشرکین مکہ مشکل وقت میں اللہ کو پکارتے بھی تھے،جیسا کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ العنکبوت:آیت65)کے اندر ارشاد فرمایا(فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ڬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ يُشْرِكُوْنَ)ارشاد فرمایا کہ جب یہ کشتیوں میں سواری کرتے ہیں تو وہاں یہ خالص فقط اللہ ہی کو پکارتے ہیں،اور جب ہم انہیں نجات دے کر خشکی پر لے آتے ہیں تو پھر یہ شرک شروع کردیتے ہیں۔پیارے بھائیو! یہ بات تو ہمارے سامنے کھل کر آئی ہےکہ مشرکین مکہ اللہ رب العزت کو خالق ،مالک ،رازق مانتے تھے،وہ لوگ مشکل وقت میں اللہ رب العزت کو پکار تے بھی تھے لیکن سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہےپھر اللہ رب العزت نے انہیں مشرک قرار دیا،کیوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ جنگیں لڈیں،کیوں ان لوگوں کا ٹھکانا جہنم بتلایا گیاجن کی موت شرک کی حالت میں آئی،میرے بھائیو ! وہ لوگ اللہ رب العزت کی عبادات میں اور اللہ کی اسماء وصفات میں غیروں کو شریک کرتے تھے ۔جیسا کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ الانعام:آیت136)کے اندر ارشاد فرمایا(وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاۗىِٕنَا)ارشاد فرمایا کہ "اللہ نے جو ان کو کھیتی اور جانور عطا کیے ہیں اس میں سے یہ مشرکین حصہ مقرر کرتے ہیں کہتے ہیں کہ یہ جانور یہ کھیتی یہ نظرو نیاز اللہ کے لیے ہےاور یہ جانور یہ کھیتی یہ نظرو نیاز ہمارے شراکاء کے لیے ہے۔"
    اسی طرح میرے بھائیو ! (صحیح مسلم کے اندر حدیث ہے کتاب الحج میں حدیث کا نمبر ہے 2032-1185)عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ کعبۃاللہ کا طواف کرتے اور تلبیہ پکارتے(لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ)جب یہاں تک پہنچتے تو اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتےان کے لیے ہلاکت ہوآگے نہ جائیں یہیں بس کریں مگر وہ آگے کیا کہتے(إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ)وہ کہتے کہ اللہ ہم حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ شریک ہیں جن کو تونے خود اپنا شریک بنایا ہے،اور انہیں کوئی اپنا ذاتی اختیار نہیں ہےبلکہ ان کے پاس جو بھی اختیارات ہیں وہ تیرے دیے ہوے ہیں۔میرے بھائیو! مشرکین مکہ جن ہستیوں کو اللہ رب العزت کی عبادات میں شریک کرتے تھے وہ ان کا ذاتی اختیار نہیں سمجھتے تھے،بلکہ یہیں سمجھتے تھے کہ ان کے پاس جو بھی اختیار ات ہیں وہ اللہ رب العزت دیے ہوئیے ہیں یعنی عطا‏ئی ہیں،اسی طرح ان لوگوں نے اللہ رب العزت کے اسماء وصفات میں سے اپنے معبودانے باطلہ کے نام نکالے،الالہ سے انہیں نے لات کا نام نکالا،اور العزیز سے انہیں نےعزہ کا نام نکالہ ،پیارے بھائیو! یہ بات تو ہمارے سامنے کھل کرآئی ہےکہ مشرکین مکہ اللہ رب العزت کی عبادات میں اور اسماء وصفات میں غیروں کو شریک کرتے تھے،لیکن سوال یہاں یہ پیداہوتا ہےکہ وہ لوگ کیوں اللہ رب العزت عبادات میں دوسروں کو شریک کرتے تھے،اس کے پیچھے ان کا کیا مقصد تھا،کیا مفاد تھا،آیے میرے بھائیو ! اس بات کا جواب قرآن کریم سے تلاش کرتے ہیں،جیسا کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ یونس :آیت 18)کے اندر ارشاد فرمایا(وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ)ارشاد فرمایا کہ یہ اللہ کر چھوڑ کے ایسوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نکسان دیے سکتے ہیں،اور نہ ہی فائدہ(وَيَقُوْلُوْنَ)اور یہ کہتے ہیں کہ یہ ہستیاں اللہ رب العزت کے ہاں ہماری کیا ہیں؟سفارشی ہیں۔اسی طرح اللہ رب العزت نے (سورۃ الزمر:آیت3)کے اندر ارشاد فرمایا (وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى)ارشاد فرمایا، کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کو اپنا کارساز بنایا ہے،اور یہ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں فقط اللہ کے نزدیک جانے کے لیےاللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے۔پیارے بھائیو! یہ بات تو ہمارے سامنے کھل کرآئی ہے کہ مشرکین مکہ جن ہستیوں کو اللہ رب العزت عبادات میں شریک کرتے تھے،اس کے پیچھے ان کا کیا مقصد تھا،کیا مفاد تھا،کہ وہ لوگ اللہ رب العزت کا قرب حاصل کرنے کے لیے،اللہ کی خشنودی حاصل کرنے کے لیے ،اللہ کے نزدیک جانے کے لیےدوسری ہستیوں کا وسیلہ بناتے،ان کو اللہ کے ہاں سفارشی ٹہراتے،اسان لفظوں میں یوں سمجھ لیجیے ،کہ وہ لوگ اللہ رب العزت کے نزدیک جانے کے لیے دوسری ہستیوں کی سیڑھی لگاتے، لیکن سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے ،کہ وہ لوگ اللہ رب العزت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے،اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے،اللہ کے نزدیک جانے کے لیے،جن ہستیوں کا وسیلہ بناتے،جن کو وہ اللہ کے ہاں سفارشی ٹھراتے،جن کی وہ سیڑھی لگاتے اللہ رب العزت کے نزدیک جانے کےلیے،آخر وہ کیا چیزیں تھیں،کیا وہ پتھر کے بت تھے،جیسا کہ آج کل بہت سارے لوگوں کے ذہنوں میں ایک بات بیٹھی ہوئی ہے،کہ وہ لوگ پتھر کے بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے،نہیں میرے بھائیو ! یہ بات حقیقت سے بہت دور ہے،میں ان شاء اللہ آج یہ حقیقت کھول کر آپ لوگوں کے سامنے بیان کروں گا ,اللہ رب العزت نے (سورۃ الاعراف:آیت 194)میں ارشاد فرمایا(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ)ارشاد فرمایا کہ '' یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن کو بھی پکارتے ہیں،وہ تمہاری ترہا بندے ہی ہیں'' ۔اسی طرح اللہ رب العزت نے (سورۃ النحل:آیت20،21)کے اندر ارشاد فرمایا(وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ)ارشاد فرمایا کہ '' یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن کو بھی پکارتے ہیں،انہوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا،بلکہ وہ بچارے خود پیدا کیے گئے ہیں'' ،(اَمْوَاتٌ )وہ مردہ ہیں(غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ )زندہ نہیں ہیں،( وَمَا يَشْعُرُوْنَ )اور نہیں جانتے( اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ)کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا۔پیارے بھائیو! میں آپ لوگوں ک یہاں توجہ چاہتا ہوں،کہ قرآن کریم کے اندر جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں،ان کا سیاق ہمیں یہ بتلا رہا ہے،کہ مشرکین مکہ اللہ رب العزت کی عبادات میں مردوں کو بھی شریک کیا کرتے تھے،جیسا کہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا(اَمْوَاتٌ )وہ مردہ ہیں(غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ )زندہ نہیں ہیں( وَمَا يَشْعُرُوْنَ )اور نہیں جانتے( اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ)کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا۔یعنی اشارہ ان کی قبروں کی طرف ہے،کہ ایک دن ان کو ان کی قبروں سے اٹھایا جائے گا،لیکن اس بات کا انہیں شعور ہی نہیں ہے،میرے بھائیو ! اس آیت کریمہ کو اپنے ذہنوں میں رکھیے گاان شاء اللہ آگے کام آئے گی،اسی طرح میرے بھائیو! اللہ رب العزت نے (سورۃ نوح:آیت23)کے اندر پانچ کا تذکرہ کیا ہے،ارشاد فرمایا(وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا ڏ وَّلَا يَغُوْثَ وَيَعُوْقَ وَنَسْرًا)میرے بھائیو !صحیح البخاری کے اندر سورۃ نوح کی اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول مروی ہے،وہ کہتے ہیں،یہ پانچوں کے پانچ قوم نوح کے صالحین بزرگ تھے،جب یہ مرگئے تو شیطان ان بزرگوں کے چانے والوں کے پاس آیا،شیطان نے ان بزرگوں کے چاہنے والوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی کہ جہاں یہ بزرگ بیٹھتے تھے وہاں یاد دہانی کے طور پر ان بزرگوں کے بتوں کو بنا کر نصب کردو،چاہنے والوں نے صالحین کے بتوں کو بنا کر وہاں نصب کر دیا،وہ نسل ان صالحین کے بتوں کی عبادت نہیں کرتی تھی،فقط یاد دہانی کے طور پر،محبت کے طور پر،عقیدت کے طور پر ان صالحین کے بتوں کے پاس بیٹھتے تھے،لیکن جو نسل بعد میں آئی انہوں نے ان صاحلین کے بتوں کی عبادت شروع کردی۔اسی طرح اللہ رب العزت نے (سورۃ النجم:آیت 19،20)کے اندر تین کا ذکر کیا ہے،ارشاد فرمایا(اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى، وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى)صحیح البخاری کے اندرسورۃ النجم کی اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول مروی ہے،وہ کہتے ہیں'' لات کے بارے میں کہ یہ ایک ایسا نیک آدمی تھا جو حج کرنے والے حاجیوں کو ستو گھول کر پلایا کرتا تھا۔اسی طرح میرے بھائیو صحیح البخاری کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے دن کعبۃ اللہ میں داخل ہوتے ہیں،تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کہ ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی مورتی پڑی ہوئی ہے،اسماعیل علیہ الصلاۃ و السلام کی مورتی پڑی ہوئی ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے بھی بت وہاں پڑھے ہوئے تھے ان تمام بتوں کو توڑ دیا۔پیارے بھائیو ! یہ بات تو ہمارے سامنے کھل کر آچکی ہے کہ اقوام سابقہ نے جو بت بنائے تھے وہ پتھر کے بت نہیں تھےبلکہ صالحین کے تصور میں انہوں نے بت بنائے تھے۔پیارے بھائیو! اب میں آپ کے سامنےایک اور حقیقت کولانا چاہتا ہوں،جو بندہ بھی احادیث پڑھنے والا ہے،سیرت کا مطالعہ کرنے والا ہے،تاریخ پڑھنے والا ہے،وہ اس بات کو اچھی طرح جانتا ہےکہ اس وقت عرب کے اندر مختلف مذاہب کے لوگ موجود تھے،مختلف مذاہب کے لوگوں کامختلف عبادت کا طریقہ تھا،اس وقت عرب کے اندر یہودی بھی تھے ،عیسائی بھی تھے،مجوسی بھی تھے،صابی بھی تھے،اور مشرکین مکہ والے بھی تھے،پیارے بھائیو! اب میں آپ لوگوں کے سامنے یہودیوں اور عیسائیوں کے تعلق سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔(صحیح بخاری کے اندر حدیث ہے،کتاب الصلاۃ میں حدیث کا نمبر ہے 417)ام الموئمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں،جس مرض کے اندر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے پر کپڑا ڈالتے اور ہٹاتے اور ارشاد فرماتے(لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ)اللہ کی لعنت ہوان یہودیوں اور عیسائیوں کے اوپر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ ام الموئمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں(يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا)در اصل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو بیان کر کے، اس گندے عمل سے اپنی امت کو خبردار کرنا چاہتے تھے۔اسی طرح میرے بھائیو ! (صحیح مسلم کے اندر حدیث ہے کتاب المساجد میں حدیث کا نمبر ہے827)جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی وفات کے پانچ روز پہلے کچھ باتوں کی وصیت کی ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا(أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ)ارشاد فرمایا اے میری امت کے لوگو خبر دار ہو جاؤ تم سے جولوگ پہلے گزرے ہیں لوگ اپنے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا دیتے تھے،خبر دار تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا،میں تمہیں ایسا کرنے سے منع کرتا ہوں۔اسی طرح میرے بھائیو ! (صصحیح بخاری کے اندر حدیث ہے،کتاب الصلاۃ میں حدیث کا نمبر ہے416)ام الموئمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں، ام الموئمنین ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہن نے حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کی وہاں انہوں نے عیسائیوں کا ایک گرجہ دیکھا،جس کے اندر کچھ قبریں تھیں،اور تصاویر لٹک رہی تھیں،اس بات کا تذکرہ انہوں نے واپسی پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جب ان میں سے کوئی نیک آدمی مر جاتا یہ لوگ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے،اور اس کی تصاویر لٹکالیتے(أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ)اس قسم کے لوگ اللہ رب العزت بدترین گندی مخلوق ہیں،اے مسلمانو! غور کرواللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا،کہ جو لوگ بزرگوں کی تصاویر لٹکالیتے ہیں،اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں،اس قسم کے لوگ اللہ رب العزت بدترین گندی مخلوق ہیں ،پیارے بھائیو ! حدیث کے اندر تصاویر کا ذکر آگیا ہے،تو میں آپ لوگوں کے گوش گزار کچھ باتیں کرتا چلوں،ہم نے سکھوں کو دیکھا ہے،کہ سکھ اپنے گھروں کے اندر گرونانک کی تصویر سجاتے ہیں،سکھ گرونانک کی تصویر کے سامنے اگر بتیں جلاتے ہیں،اسے پھولوں کے ہار پہناتے ہیں،سکھ ہر روز صبح اٹھ کر گرونانک کی تصویر کے سامنے ہر صبح ہاتھ باندھ کر با ادب کھڑے ہوتے ہیں،میرے بھائیو! یہ وہ کفر اور شرک ہے جو میں نے سکھوں کے تعلق سے آپ کے سامنے بیان کیا ہے، واللہ پاکستان کے اندر ہم نے ایک کلمہ پڑھنے والے مسلمان کو دیکھا ،اس مسلمان نے اپنےگھر کے اندر اپنے پیر کی تصویر کو سجایا ہوا ہے،وہ اس کے سامنے اگر بتیں جلاتا ہے،اسے پھولوں کے ہار پہناتا ہے،ہر روز صبح اٹھ کروہ مسلمان اپنے پیر کی تصویر کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو تا ہے،میرے بھائیو ! ترازو آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہے،آپ لوگ خود فیصلہ کیجیے کہ کیا فرق ہے سیکھوں کے کفر اور شرک میں اور کیا فرق ہے اس مسلمان کی بدعقیدگی میں۔ہمارے ایک دوست نے ہمیں بتلایاکہ سندھ کے اندر ایک پیر ہے جس کی تصویر کو لوگ سجدہ تک کرتے ہیں( إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ)میرے بھائیو! صحیح البخاری کے اندر حدیث ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رحمت کے فرشتے اس گھر کے اندر داخل ہی نہیں ہوتے جس گھر کے اندر تصاویر یا کتا ہو۔اے مسلمانو ! غور کرو آج ہم لوگوں نے کن کن کی تصاویر اپنے گھروں میں اپنی دکانوں میں سجارکھی ہیں،ہالاں کہ اللہ کے رسولﷺ نے تو یہ ارشاد فرمایاہے کہ رحمت کے فرشتے اس گھر کے اندر داخل ہی نہیں ہوتے جس گھر کے اندر تصاویر یا کتا ہو،میرے بھائیو یہ وہ کفر ہے جو میں نے یہودیوں اور عسائیوں کے تعلق سے بیان کیا ہے۔پیارے بھائیو! اب میں یاد دہانی کے طور پر اپنی باتوں کو ذرا دہرانا (repeat)چاہتا ہوں تاکہ اگے بات سمجھنے میں مزید آسانی ہوجائے،میرے بھائیو میں نے آپ لوگوں کے سامنےمشرکین مکہ کے تعالق سے بیان کیا،کہ وہ لوگ اللہ رب العزت کو خالق ،مالک،رازق مانتے تھے،وہ لوگ مشکل وقت میں اللہ کو پکارتے بھی تھے،وہ لوگ کیوں مشرک قرار پائے کہ وہ لوگ اللہ رب العزت کی عبادات میں اور اللہ کی اسماء وصفات میں غیروں کو شریک کرتے تھے،میں نے یہ بھی آپ لوگوں کے سامنے بیان کیا وہ لوگ کیوں اللہ رب العزت کی عبادات میں غیروں کو شریک کرتے تھے،اس کے پیچھے ان کا کیا مقصد تھا،کیا مفاد تھا،کہ وہ لوگ اللہ رب العزت کا قرب حاصل کرنے کے لیے،اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دوسری حستیوں کا وسیلہ بناتے،انہیں اللہ کے ہاں سفارشی ٹھراتے،وہ لوگ اللہ کے نزدیک جانے کے لیے دوسروں حستیوں کی سیڑھی لگاتے،اور میں نے یہ بھی آپ لوگوں کے سامنے بیان کیاکہ وہ لوگ جن حستیوں کا وسیلہ بناتے،جن کو اللہ کے ہاں سفارشی ٹھراتے،اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے،اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے،وہ فقط پتھر کے بت نہیں تھے،بلکہ صالحین کے تصور میں ان لوگوں نے بت بنائے تھے۔اس کے علاوہ اقوام سابقہ قبر پرستی کے شرک میں بھی مبتلا تھیں،جیسا کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ النحل:آیت21)کے اندر ارشاد فرمایا(اَمْوَاتٌ )وہ مردہ ہیں(غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ )زندہ نہیں ہیں،( وَمَا يَشْعُرُوْنَ )اور نہیں جانتے( اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ)کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ سے بھی آپ لوگوں نے سنا ہےکہ اقوام سابقہ قبر پرستی کے شرک میں بھی مبتلا تھیں،میرے بھائیو! یہ وہ کفر اور شرک ہے جو میں نے اقوام سابقہ کے تعلق سے آپ لوگوں کے سامنے بیان کیا ہے۔اب میں آپ لوگوں کے سامنے یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ کیا مسلمان بھی شرک کرسکتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے (سورۃ یوسف :آیت 106)میں ارشاد فرمایا(وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ) کہ بہت سارے لوگ اللہ رب العزت پر ایمان رکھنے کے بعد بھی شرک کا ارتقاب کرتے ہیں مشرک ہیں۔اسی طرح (صحیح البخاری کے اندر حدیث:6775)ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا(لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ)کہ تم اپنے پچھلے لوگوں کے نقش قدم پر چلو گے،جس طرح اقوام سابقہ قبر پرستی کے شرک میں مبتلا تھیں،اسی طرح آج بھی مسلمانوں کے اندر کچھ لوگ ہیں جو صالحین کی قبروں کی عبادت کر رہے ہیں،لیکن مسلمان ان باتوں کو شرک نہیں سمجھتے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اقوام سابقہ کے شرک کو ان کی ہلاکت کو مد نظر رکھ کر اپنی امت کو بال بال خبر دار کیا،ارشاد فرمایا تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنا نا ( إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ)میں تمہیں ایسا کرنے سے منع کرتا ہوں۔ میرے بھائیو ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا اسلام میں اپنے صحابہ کرام کو قبروں کی زیارت سے روک دیا کیوں کہ جو پہلے شرک کا سبب بنیں وہ قبریں ہیں تھیں،اسی بنا پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو قبروں کی زیارت سے روک دیا،لیکن پھرجب ان کی اسلامی تربیت فرمائی ،ایمان ان کے اندر پختہ ہوا تو پھر قبروں کی زیارت کے لیے اجازت دیے دی تاکہ وہاں جاکر آخرت کی یاد آئے،میرے بھائیو ! حدیث کے اندر جس قبرستان کی اجازت دی گئی ہے وہ ہمارے گاؤں کا ،ہمارے محلہ کا،ہمارے شہر کا مقامی قبرستان ہے ، ہم وہاں جائیں ، جا کر قبروں کی زیارت کریں تاکہ ہمیں آخرت کی یاد آئے،اس کے برعکس جو لوگ بڑے بڑے آستانوں کی طرف،درگاہوں کی طرف،مزاروں کی طرف سفر کا سامان باندھ کر ثواب کی نیت سے ہجرت کرکے جاتے ہیں،ایسے لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں،کیوں کہ (صحیح مسلم کے اندر حدیث ہے کتاب الحج میں حدیث کا نمبر ہے)اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِي هَذَا وَمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو منع کیا ہےکہ مسجد الحرام،مسجد نبوی اور مسجد اقصی ان تین مساجد کے علاوہ کسی اور مقام کی طرف سفر کا سامان باندھ کر ثواب کی نیت سےہجرت نہ کی جائے،تو میرے بھائیو ! کیا پتا چلا کہ حدیث کے اندر جس قبرستان کی زیارت کے لیے اجازت دی گئی ہےوہ ہمارے شہر کا،ہمارے گاؤں کا ،ہمارے محلہ کا مقامی قبرستان ہے،ہم وہاں جائیں جاکر قبروں کی زیارت کریں تاکہ ہمیں آخرت کی یادآئے،لیکن جن قبروں کے اردگرد قوالیاں ہو رہی ہیں،جہاں عورتیں بے پردہ گھوم رہی ہیں کیا وہاں آخرت کی یاد آسکتی ہے،اے مسلمانو ! یہ بات ہمیں تسلیم کرنا پڑے گی کہ آج دین اسلام کی جتنی رسوائی جتنی توہین ان آستانوں پر ،درگاہوں پر،مزاروں پر ہو رہی ہے،شاید غیر مسلموں کے مندروں ،گرجوں اور گردواروں پے اسلام کی ایسی توہین نہ ہو تی ہو۔بزرگوں کی قبروں پر قبے تعمیر کرنا،انہیں خوبصورت بنانا،ان پر چراغ جلانا،پھول چڑھانا ،انہیں غسل دینا،ان پر مجاوری کرنا،ان پر نظر و نیاز چڑھانا،وہاں کھانا اور شربت تقسیم کرنا،جانور ذبح کرنا،وہاں رکوع اور سجود کرنا،ہاتھ باندھ کر باادب کھڑے ہونا،ان سے مرادیں‌ مانگنا،ان کے نام کی چوٹی رکھنا،ان کے نام کے دھاگے باندھنا،ان کے نام کی دھائی دینا،تکلیف اور مصیبت میں انہیں پکارنا،مزاروں کا طواف کرنا،طواف کے بعد قربانی کرنا اور سرکے بال منڈوانا،مزاروں کی دیواروں کو بوسہ دینا،وہاں سے خاک لا کر کھانا،ننگے قدم مزار تک پیدل چل کر جانا اور الٹے پاؤں واپس پلٹنا،یہ سارے کام تو وہ ہیں جو ہر چھوٹے بڑہے مزار پر روزمرہ کا معمول ہیں لیکن جو مشہور اولیا کرام کے مزار ہیں ان میں سے ہر مزار کا کوئی نہ کوئی الگ امتیاذی وصف ہے،مثلا بعد خانگاہیں ایسی ہیں،جہاں جنتی دروازے تعمیر کیے گئے ہیں ،جہاں گدی نشین اور سجادہ نشیں لوگوں سے نزرانے وصول کرتے ہیں اور جنت کی ٹکٹیں وصول کرتے ہیں،کتنے ہی ہمارے حکمران اورعہدے دار دنیا کے مال ودولت کے بل بوتے وہاں جنت کو خرید نے کے لیے جاتے ہیں،اسی طرح میرے بھائیو !بعد خانگاہیں ایسی ہیں جہاں مناسک حج ادا کیے جاتے ہیں،مزار کا طواف کرنے کے بعد قربانی کی جاتی ہے،بال کٹوائے جاتے ہیں،اور مصنوعی آب زم زم نوش کیا جاتا ہے،اسی طرح بعد خانگاہیں ایسی ہیں جہاں معصوم بچوں کا چڑھاوا چڑھایا جاتا ہےپاکستان گجرات کے اندر ایک درگاہ شدولاولی کے نام جہاں مسلمان معصوم بچوں کا چڑھا چڑھاتے ہیں،مسلمانوں کی یہ بدعقیدگی ہے کہ جو بچہ شدولا ولی کی درگاہ پرچڑھاومانا جائے وہ چوہے کی شکل کا پیدا ہوتا ہے حالاںکہ کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ ال عمران:آیت 6) کے اندر یوں ارشاد فر مایا(ھُوَ الَّذِيْ يُصَوِّرُكُمْ فِي الْاَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاۗءُ)کہ وہ اللہ ہی ہے جس طرح چاہے ارحام کے اندر تمہاری شکلیں بنائے۔لیکن مسلمان یہ بد عقیدگی رکھتے ہیں کہ بابا جی کی مرضی سے تخلیق ہوتی ہے،اسی طرح اے مسلمانو! بعد خانگاہیں ایسی ہیں جہاں نوجوان کنواری لڑکیاں خدمت کے لیے وقف کی جاتی ہیں، اسی طرح بعد خانگاہیں ایسی ہیں جہاں اولاد سے محروم خواتیں نورانی بسر کرنے جاتی ہیں،وہاں جا کر نو راتیں گزارتیں ہیں،مجاوروں اور سجادہ نشینوں کی سیوا(خدمت)کرتی ہیں،انہیں خان گاہوں میں سے بیشتر بھنگ، چرس،گانجے اور ہیرون جیسی منشیات کا کاروباری مراکز بنی ہوئی ہیں،بعد خانگاہوں میں فحاشی، بدکاری اور حوس پرستی کے اڈے بھی بنے ہوئے ہیں،بعد خانگاہیں مجروموں اور قاتلوں کی محفوظ پناگاہیں تصور کی جاتی ہیں،انہیں خانگاہوں کے گدی نشین اور مجاوروں کے حجروں میں جنم لینے والی بے حیائی پر مبنی داستانیں سنیں تو واللہ کلیجہ منہ کو آتا ہے،انہیں خانگاہوں پر منعقد ہونے والے سالانہ عرسوں میں مردوں اورعورتوں کا کھلے عام اختلاط ،عشقیہ اور شرکیہ مضامین پر مشتمل قوالیاں،ڈھول کے ساتھ نوجوان ملنگوں اور ملنگیوں کی دھمالیں،کھلے بالوں کے ساتھ عورتوں کا رقص،طوائفوں کے مجرے،تھیٹر اور فلموں کے مظاہرے عام نظر آتے ہیں،انہیں رنگرلیوں کے باعث انہیں، عیاشیوں کے باعث گلی گلی محلے محلے گاؤں گاؤں شہر شہر نئے مزار تعمیر ہو رہے ہیں،اور لوگ جوق در جوق آستانوں پر،درگاہوں پر، مزاروں پر جارہے ہیں اور کھلے عام اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کر رہے ہیں لیکن مسلمان پھر بھی ان باتوں کو شرک نہیں سمجھتے۔(لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ)اور جب کوئی قرآن و حدیث کے ماننے والا ان مسلمانوں کے سمجھاتا ہےکہ بھائیو! ان حرکتوں سے باز آجاؤ یہ شرک ہے،شرک جس کا ٹھکانا جہنم ہے،تو یہ مسلمان اس کے دشمن بن جاتے ہیں،کہتے ہیں کہ تم وہابی ہو،تم بے دین ہو،تم مرتد ہو،تم انگریزوں کے ایجنٹ ہو،تم ابنیاء اور صالحین کے گستاخ ہو،تمہیں ان سے محبت نہیں ہے،ہم ان سے محبت کرتے ہیں یہ اللہ کے بڑے ہی پیارے ہیں،انہیں نے بڑہی محنتیں کی ہیں، لوگوں کو مسلمان کیا ہے،یہ بڑے ہی پہنچے ہوئے ہیں،ہماری ان کے آگے ان کی اللہ کے آگے،اللہ ہماری سنتا نہیں ہم بڑے ہی گناہ گار ہیں اور ان کی موڑتا نہیں،ہم اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے،اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے،اللہ کے نزدیک جانے کے لیےان کا وسیلہ بناتے ہیں ان کو اللہ کے ہاں سفارشی ٹھراتے ہیں آسان لفظوں میں یوں کہتے ہیں کہ ہم اللہ رب العزت کے نزدیک جانے کے لیے ان کی سیڑھی لگاتے ہیں۔معزز دوستو! اسلامی بھائیو ! آپ لوگ پیچھے میری باتیں سنی میں نے آپ لوگوں کے سامنے کفار مکہ کا شرک بیان کیا ہے،وہ لوگ بھی یہ کہتے تھے،جیسا کہ اللہ رب العزت(سورۃ یونس:آیت نمبر18)کے اندر ارشاد فرمایا( وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ )ارشاد فرمایا،'' یہ کہتے ہیں کہ یہ حستیاں اللہ رب العزت کے ہاں ہماری کیا ہیں شفارشی ہیں۔'' اسی طرح اللہ رب العزت نے آگے ارشاد فرمایا( قُلْ اَتُنَبِّـــــُٔوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ)''پیارے نبی آپ کہ دیجیے کہ تم اللہ کو اس بات کی خبر دیتے ہوجسے نہ وہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ ہی زمیں میں'' (سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ)

    اللہ عزوجل پاک ہے ان کے اس شرک سے۔اسی طرح اللہ عزو جل نے (سورۃ الزمر :آیت نمبر 3)ارشاد فرمایا(مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى )ارشاد فرمایا کہ '' یہ ان کی عبادت کیو ں کرتے ہیں فقط اللہ کی نزدیک جانے کے لیے اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے'' آگے ارشاد فرمایا(اِنَّ اللّٰهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِيْ مَا هُمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ )'' اللہ عزوجل ان کے درمیان فیصلہ کرےگاجس بارے میں یہ اخطلاف کر رہے ہیں'' (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ)'' بے شک اللہ عزوجل اس قسم کے جھوٹے کفار کو ہدایت نہیں دیتا ،پیارے بھائیو! آپ لوگوں نےغور کیاکہ اللہ رب العزت نے اس قسم کا عقیدہ رکھنے والوں کو مشرک ،جھوٹا،کافر قرار دیا ہےپیارے بھائیو ! کفار مکہ بھی ان باتوں کو شرک کا نام نہیں دیتے تھے،وہ بھی یہ نہیں کہتے تھےکہ ہم اللہ کے ساتھ شرک کر رہے ہیں،بلکہ وہ بھی ان باتوں کو وسیلہ کا سفارش کا،تقرب اللہ کا نام دیتے تھے اور آج کے کچھ مسلمان بھی بلکل ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں،میرے بھائیو! یہ بات ہمیں تسلیم کرنا پڑے گی کہ کفار مکہ کا شرک اور آج کے کچھ مسلمانوں کا شرک بلکل ایک جیسا ہی ہے،تصورات ،عقیدہ بلکل ایک جیسا ہی ہے،اگر فرق ہے تو فقط ناموں کا فرق ہےانہوں نے کچھ اور نام دیے تھے انہوں نے کچھ اور نام دےلیے ہیں لیکن حقیقت دونوں کی بلکل ایک جیسی ہی ہے۔اسی طرح میں ان لوگوں سے بھی کہنا چاہوں گا جو لوگ قبروں کے پاس جاکر جانور زبح کرتے ہیں،نذر و نیاز دیتے ہیں،گیاہویں‌ دیتے ہیں، قبروں والوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ،ایسے لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سن لیں (صحیح مسلم کے اندر حدیث ہےقربانی کے باب میں حدیث کانمبر ہے 3658)اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا(لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ)ارشاد فرمایا " اللہ ایسے شخص پر لعنت کرے جو اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کے لیے ذبح کرے۔اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم ذبح کر تے وقت بسم اللہ کہتے ہیں تو میں ایسے لوگوں سے کہنا چاہوں گا،آپ سو دفہ بسم اللہ کہیں اگر آپ نے وہ جانور وہ نذرو نیاز وہ گیارہویں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کے نام نذر کردی کسی وہ بلکل اسی طرح حرام ہوجائیں گے جس طرح کے خنزیر حرام ہےان کا کھانا بھی بلکل اسی طرح حرام ہوجائے گا جس طرح کہ خنازیر کھانا حرام ہیں۔اسی طرح اللہ رب العزت نے (سورۃ المائدۃ:آیت3)'' آٹھ قسم کے جانوروں کو حرام قرار دیا ہےاور ان میں سے وہ جانور بھی حرام ہیں جو آستانوں پر جا کر ذبح کیے جاتے ہیں'' ،ارشاد فرمایا(وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ) '' وہ جانور بھی حرام ہیں جو آستانوں پر جا کر ذبح کیے جاتے ہیں،ان کا کھانا بھی بلکل اسی طرح حرام ہے جس طرح خنزیر کا کھانا حرام ہے،''

    اب میں اپنے بھائیوں کو ایک دو باتیں عقل بھی سمجھانا چاہتا ہوں اے میرے بھائیو! آپ لوگ تسلیم کرتے ہو کہ وہ لوگ نیک ہیں اللہ کے دوست ہیں میرے بھائیو ! جیسے اللہ رب العزت اپنا دوست بنا لیے،جس کی قبر کو اللہ روشن کردیے،جس کو جنت کے اندر محل کی خوش خبری مل جائے اس کو ہمارے بنائے ہوئے اگربتیوں کی ،ٹیوب لیٹوں(Tube light-ion)چادروں کی کیا ضرورت ہےمیرے بھائیو ! چادر کی ضرورت گھر میں محترمہ کو ہے اکثر لوگوں کی بیویاں گھروں میں پردہ نہیں کرتیں،لیکن بابا جی کی قبر کے اوپر جاکر پانچ سو کی چادر جاکر چڑھا دیتے ہیں میرے بھائیو! باباجی کی قبر کے اوپر ویسےہی بیس(20) من مٹی کی بہت بھاری چادر ہے،چادر کی ضرورت گھر میں محترمہ کو ہے،ان کو پردہ کروائیں۔اسی طرح میرے بھائیو! وہ نذرو نیاز،وہ پیسہ،وہ جانور لا کر ان شیطانی بھیڑیوں کے حوالے کر دیتے ہووہ پیسہ، وہ نذرو نیاز، وہ جانور آپ لوگ اپنے محلہ میں اپنے گاؤں میں،اپنے شہر میں کسی فقیر کو کسی مسکین کو اللہ کے نام پر دیے دو تاکہ تمہیں‌ اجر تو مل جائے وہ شیطانی بھڑیے مجاور جن کے بارے میں اللہ رب العزت نے (سورۃ التوبہ:آیت نمبر34)کے اندر یوں ارشاد فرمایا(يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ)ارشاد فرمایا ،"اے ایمان والو یہ بہت سارے درویش ،بہت سارے مجاور لوگوں کا مال باطل طریقہ سے کھا جاتے ہیں،اور انہیں اللہ کی راہ سے گمراہ کردیتے ہیں'' اے میرے بھائیو! یہ لوگ آپ کے مال کے بھی چور ہیں اور آپ کے دین کے بھی دشمن ہیں،اس لیے میرے بھائیو! ان سے اپنے مال کو بھی محفوظ کرلو اور اپنے دین کو بھی،اور میں ان لوگوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں جو دوسرے کے کندھوں پر بندوق چلانے کی کوشش کرتے ہیں،میں ایسے لوگوں سے کہنا چاہوں گا،جو ان صالحین کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ انہیوں نے بڑی ہی محنتں کی ہیں،بڑے لوگوں کو مسلمان کیا ہے،اے میرے بھائیو ان صالحین نے جو محنتیں کی ہیں جن لوگوں کو بھی مسلمان کیا ہےجو نیکیں بھی کی ہیں کیا ہمارے لیے کی ہیں کیا وہ لوگ قیامت کے دن ہمیں اپنی نیکیاں دیے دیں گے۔اللہ رب العزت نے (سورۃ جاثیۃ:آیت نمبر 15)کے اندر یوں ارشاد فرمایا(مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ)جس نے بھی نیک اعمال کیے اس نے اپنے لیے کیے۔نبی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی سے ارشاد فرمایا(يا بنتي أعملى)'' اے میری بچی عمل کر میں قیامت کے دن تیر ے کسی کام نہیں آسکوں گا'' ،میرے بھائیو ! آپ خود نیک بنیں،خود نمازوں کی حفاظت کریں،اگثر لوگ خود تو نماز پڑھتے نہیں ہیں لیکن دوسروں کی محنت پر ان کی بری نظر ہوتی ہے۔پیارے بھائیو! اب میں آپ لوگوں کے سامنے قبروں کے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چند فرمودات پیش کرنا چاہتا ہوں(صحیح مسلم کے اندر حدیث کتاب الجنائد میں حدیث کا نمبر ہے 970) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کومنع کیا ہےکہ نا قبروں کو پختہ کیا جائے،نہ قبروں پر مجاوری کی جائے،اور نہ ہی قبروں پر لکھا جائے۔اسی طرح (سنن النسائی کے اندرحدیث ہےکتاب الجنائد میں حدیث کا نمبر ہے2029)اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے کہ قبر کی اپنی مٹی کےعلاوہ مزید مٹی نہ ڈالی جائے۔اسی طرح (مسند احمد کے اندر حدیث ہے)اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو بڑھی بڑھ چڑھ کر قبروں کی زیارت کے لیے جاتی ہیں اسی طرح ان لوگوں کے اوپر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے،جو لوگ قبروں پر جاکر چراغ جلاتے ہیں۔اسی طرح میرے بھائیو ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو منع کیا ہےکہ نہ ہی قبروں پر عرس قائم کیے جائیں،نہ ہی قبروں پر میلے لگائے جائيں،جیسا کہ (سنن ابی داؤد کے اندر حدیث ہےحدیث کا نمبر ہے 1746) اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا(وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا)کہ تم میری قبر کو میلہ گاہ نہ بنانا۔تو اے مسلمانو! جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قبر پر عرس قائم کرنے سے،میلہ لگانے سے اپنی امت کو منع کردیا ہےتو اے مسلمانو! اس دھرتی پر کون ایسا پیدا ہو گیا ہےجس کی قبر پر ہر سال عرس قائم کیے جائیں ،ملیےلگائے جائیں،تو اے مسلمانو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو مان کر ان حرکتوں سے باز آجاؤ۔اسی طرح میرے بھائیو (صحیح مسلم کے اندرحدیث ہے کتاب الجنائز میں حدیث کا نمبر ہے 1609)جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ابی الحیاج اسدی کو حکم دیا کہ '' جا میں تجھ کو اس (مشن) پر بھیجتا ہوں جس(مشن) پر مجھ کو اللہ کس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا (لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ)کہ تجھے کو ئی تصویر نظر آئے نہ چھوڑ مگر اسے مٹا دے(وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ)اور جو قبر بھی تجھے اونچی نظر آئے اسے نہ چھوڑ مگر اسے برابر کردے۔پیارے بھائیو ! جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ تو اونچی قبروں کو توڑ نے ولے تھے لیکن آج کچھ لوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کرجناب علی کو مشکل کشا حاجت روا مانتے ہیں۔امام جریر طبری اور دیگرکا بیان ہے،کہ عبد اللہ ابن صباء یہودی جو کہ یمن کا رہنے والا تھا اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہوتا ہے اس یہودی نے سب سے پہلے یہ بدعقیدگی پھیلائی اور لوگوں کے اندر عام کردی کہ جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ اس دھرتی کے اوپر نعوذ باللہ مین ذالک اللہ کا روپ ہیں جناب علی مشکل کشا ہیں حاجت روا ہیں جناب علی کو جہاں پکارا جائےجناب علی وہاں پہنچ جاتے ہیں اسی یہودی ہی نے لوگوں کے اندر یہ بات عام کہ نبوت کے اصل حقدار جناب علی تھےلیکن وحی لانے والے فرشتےجبرائیل علیہ السلام غلطی سے وحی لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر آگئےاسی یہودی خبیث‌ ہی نے لوگوں کے اندر اس بات کو فروغ دیا کہ خلافت کے اصل حقدار جناب علی رضی اللہ عنہ تھے لیکن شیخین ابو بکر اور عمر رضی اللہ تعالی عنہمانے خلافت جناب علی سے چین کر اہل بیت کے اوپر ظلم اور زیادتیاں کیں اسی یہودی خبیث نے لوگوں کے اندر اس بات کو پھیلا دیا کہ قرآن کریم جو مسلمانوں کے پاس موجود ہے یہ غیر مکمل ہے بلکہ تحریف شدہ ہے پیارے بھائیو ! ہمیں افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑ رہی ہے کہ آج بھی کچھ لوگ موجود ہیں جو اپنے دانست میں اپنی نسبت اسلام کی طرف کرتے ہیں لیکن یہ لوگ بلکل اسی یہودی کے نقشہ قدم پر چل کر جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں غلو کا شکار ہیں یہ لوگ بھی جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں الوہییت کا عقیدہ رکھتے ہیں جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ کو مشکل کشاء حاجت روا مانتے ہیں میرے بھائیو! یہی کفریہ عقیدہ لعل شہباز قلندر کی درگاہ کے اوپر ایک بینر پرلٹک رہا ہے کپڑے کا اس پر یوں لکھا ہوا ہےکہ ''علی اللہ نیچے لکھا ہوا ہے کہ علی مرتضی وہ ذات ہیں جن کو عربی میں اللہ کہا جاتا ہے انگریزی میں(GOD)کہا جاتا ہے اور ہندی کے اندر بھگوان اور عیشور کہا جاتا ہے اور اردو میں معبود کہا جاتا ہے اور یہی عقیدہ جناب علی رضی اللہ عنہ کی زندگی میں کچھ لوگوں نے رکھا تھاجب جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اس بات کی خبر پہنچی ک کچہ لوگ ان کے بارے میں الوہیت کا عقیدہ رکھتے ہیں تو جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ ایسے لوگوں کو گرفتار کروا کر قتل کروایا جو کہ ان کے بارے میں الوہییت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔میرے بھائیو !ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ آپ تو یہ بیان کر رہے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےقبروں کو پختہ کرنے سے قبروں پر لکھنے سے قبروں پر عمارتیں بنانیں سے اپنی امت کو منع کیا ہےلیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے اوپر بھی گنبد خضرا بنا ہوا ہے۔تو میرے بھائیو ! اس بات کا جواب سنیں یہ جو گنند خضرا آپ کو نظر آرہا ہے وہاں اس وقت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا حجرہ تھا(صحیح البخاری کے اندر حدیث ہے کتاب الجنائز میں حدیث کا نمبر ہے 1244) المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہافرماتی ہیں(وَلَوْلَا ذَلِكَ لَأَبْرَزُوا قَبْرَهُ غَيْرَ أَنِّي أَخْشَى أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا)''اگر اس بات کا خدشہ نہ ہوتا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو سجدہ گاہ بنالیا جائے گا تو آپ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بھی کھلے میدان میں ہوتی ،یعنی صحابہ کرام کے ساتھ قبرستان میں ہوتی۔ اسی طرح میرے بھائیو! (موطا امام مالک کے اندر حدیث ہے حدیث کا نمبر ہے376) اللہ کے رسولﷺ نے دعا کی(اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا يُعْبَدُ)""اے اللہ تو میری قبر کو بت نہ بننے دیناکہ اس کی عبادت کی جائےاللہ رب العزت نے اپنے نبی کی دعا کو قبول فرمالیا اور اپنے نبی کی قبر کو محفوظ کردیا ان شاء اللہ قبر نبوی قیامت تک اسی طرح محفوظ رہے گی،اس کے علاوہ میرے بھائیو! یہ گنبد خضرا جو آپ کو نظر آرہا ہےیہ گنبد خضرا نہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے تعمیر کیا گیاہےنہ ہی اس کو کسی صحابی نے تعمیر کیا ہےنہ ہی تابعین نے اور نہ ہی تبع تابعین نے بلکہ یہ سات سو (700) سال بعد جاکر تعمیر ہوا اگر آپ لوگوں کو مزید تفصیل پڑھنی ہے تو ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کی(البدایہ والنہایہ)پڑھ لیجیے۔اس لیے میرے بھائیو! قبروں پر عمارتین بنانیں کے لیے کسی کے لیے دلیل نہیں بن سکتا،ہمارے لیے دلیل ہے ہمارے لیے حجت ہے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان۔اللہ رب العزت نے (سورۃ الحشر:آیت7) کے اندر یوں ارشاد فرمایا ( ۭ وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا)'' جو رسول تمہیں دیں اسے لیے لو اور جس چیز سے رسول تمہیں منع کریں تو اس سے منع ہوجاو''۔

    تو میرے بھائیو! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کومنع کیا ہے،نہ ہی قبروں پر عمارتیں بنائی جائيں،نہ ہی قبروں کو پختہ کیا جائے، نہ ہی قبروں پر لکھا جائے،اور نہ ہی قبروں پر عرس قائم کیے جائں،نہ ہی قبروں پر میلے لگائے جائيں،اور نہ ہی قبروں پر مجاوری کی جائے،نہ ہی قبروں پر چراغ جلائے جائں،جیسا کہ آپ پیچھیے ہماری باتیں سن کر آئیں ہیں،تو ایک کلمہ پڑھنے والے مسلمان کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مان کر ان حرکتوں سے باز آجانا چاہیے،حیلے اور بہانے تلاش نہیں کرنے چاہیں،اور میں ان لوگوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں جولوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کے دم بھرتے ہیں۔میرے بھائیو! جس طرح آپ لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے محبت کرتے ہواسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سے بھی محبت کیجے پھر بات بنے گی ورنہ محبت کے سارے دعوے جھوٹے ہیں۔اے میرے بھائیو! اگر آپ لوگوں کے دلوں میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور خالص محبت ہے تو میرے بھائیو !جتنی بھی یہ قبریں جن کے اوپر عمارتیں بنی ہوئی ہیں جن کے اوپر سونے کے دروازے نصب ہیں جن کو سنگے مرمر کے پتھروں سے تراشا گیا ہے میرے بھائیو! ان تمام قبروں کو زمین کے برابر کردو تاکہ ہمارے ممالک سے شرک ختم ہو اللہ رب العزت کی رحمتیں نازل ہوں میرے بھائیو ! ان صالحین کو ،ان سونے کے دروازوں کی ،سنگے مر مر کے پتھروں کی ان عمارتوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ یہ پیسہ فقرا اور مساکین مسلمانوں کو دو جو اس چیز کے مستحق ہیں تاکہ ان کو رہنے کے لیے چھت نصیب ہو ۔پیارے بھائیو! اب میں آپ لوگوں کے سامنے یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ کس طرح کچھ مسلمانوں نے صالحین کی شان میں غلو کیا ہوا ہے،مسلمان اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں پر کس طرح توکل کرتے ہیں،جس طرح اللہ پر توکل کرنا چاہے،غیروں سے اس طرح خوف رکھتے ہیں جس طرح اللہ سے خوف رکھانا چاہے،غیروں سے اس طرح امیدیں رکھتے ہیں ، جس طرح مسلمانوں کو اللہ رب العزت سے امیدیں وابسطہ کرنی چاہیں،مسلمان غیروں سے اس طرح محبت رکھتے ہیں جس طرح مسلمانوں کو اللہ رب العزت سے محبت رکھنی چاہیے،سچ فرمایا اللہ رب العزت نے (سورۃ البقرۃ:آیت 165)کے اندر(وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ)ارشاد فرمایا کہ'' لوگوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھرائے ہیں،اور وہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جو محبت ان کو اللہ سے رکھنی چاہیے'' ( وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ) لیکن جو موحدین ہیں توحید پرست ایمان والے ہیں وہ اللہ کی محبت میں بڑے ہی سخت ہیں ۔مسلمانوں نے اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی کو لقب دیا ہوا ہے مشکل کشا ہیں حاجت روا ہیں،اے میرے بھائیو! آپ لوگ جاتے ہیں کہ مشکل کشا کا معنی کیا ہے ،جو پوری مخلوق کی مشکلیں حل کرنے والا،اے میرے بھائیو! پوری مخلوق کی مشکلیں حل کرنے والا کون ہے،اور قرآن کریم سے سنیےجیسا کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ یونس:آیت نمبر 106،107) کے اندر ارشاد فرمایا(وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ)ارشاد فرمایا تم اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو مت پکارو یہ نہ تمہیں فائدہ دے سکتے ہیں اور نہ ہی نق(فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِيْنَ)اگر تم نے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کوپکارا تو تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔میرے بھائیو ! ظلم قرآن کریم میں کسیے کہا گیا ہے ( اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ)یہ شرک بہت بڑھا ظلم ہے۔(سورۃ القمان:آیت 13)۔یعنی اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی اور کو پکارنا یہ کیا ہے ؟ یہ ظلم ہے یعنی شرک ہے۔آگے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا(وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗٓ اِلَّا ھُوَ)ارشاد فرمایا اگر اللہ کسی کو کسی مشکل میں مبتلا کرے تو اس مشکل کو ما سوائے اللہ رب العزت کے اور کوئی دور نہیں کرسکتا(وَاِنْ يُّرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَاۗدَّ لِفَضْلِهٖ)اگر اللہ رب العزت کسی کو اپنا فضل عطا کرنا چاہتا ہے تو اس کے فضل کو کوئی نہیں روک سکتا۔اسی طرح میرے بھائیو ! مسلمانوں نے اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی کو لقب دیا ہوا ہے کہ وہ غوث اعظم ہیں اے میرے بھائیو! غوث کا معنی کیا ہے ،جو ہر جگہ ،ہر وقت،ہر کسی کی،ہر زبان میں دعاء کو پکار کو سننے والا اعظم کہتے ہیں سب سے بڑھا،یعنی غوث اعظم کا معنی کیا ہے سب سے بڑھا سننے والا، تو اے مسلمانوں! سب سے بڑھا سننے والا کون ہےاو قرآن کریم سے سنو جیسا کہ اللہ رب العزت نے(سورۃ النمل :آیت 62)کے اندر ارشاد فرمایا(اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ ۭءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ)ارشاد فرمایا کہ کون ہے جو بے قرار کی قرار کو سنتا ہے،جب وہ بے قراری میں اسے پکارتا ہے،اور اس کی مشکل کو دور کرتا ہے،کون ہے جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے( ۭءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ)کیا اللہ رب العزت کے ساتھ اور بھی معبود ہیں،کوئی اور بھی غوث اعظم ہیں( قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ )تم لوگ بہت کم ہی نصیحت پکرتے ہو،بہت کم ہی توحید کا فہم رکتے ہو۔اسی طرح میرے بھائیو ! مسلمانوں نے اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی کو لقب دیا ہوا ہے کہ وہ غریب نواز ہے،اے میرے بھائی آپ لوگ جانتے ہیں کہ غریب نواز کا معنی کیا ہے،جو پوری مخلوق کو نوازنے والا۔میرے بھائی پوری مخلوق کو نوازنے والا کون ہےاو قرآن کریم سے سنو جیسا ک اللہ رب العزت نے (سورۃ فاطر:آیت نمبر15) کے اندر ارشاد فرمایا(يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ)'' اے لوگو تم سارے کے سارے اللہ ہی کےدر کے بھیکاری ہو''

    ۔اسی طرح میرے بھائیو مسلمانوں نے اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی کو لقب دیا ہوا ہے کہ وہ داتا ہے اے میرے بھائی آپ لوگ جانتے ہیں کہ داتا کا کیا معنی ہے،داتا فارسی کا لفظ ہےجس کا معنی ہے عطا کرنے والا،عزت عطا کرنے والا،ذلت عطا کرنے والا،اولاد عطا کرنے والا،رزق عطا کرنے والا،ملک عطا کرنے والا،تو اے میرے بھائیو ! عطا کرنے والا کون ہےاورقرآن کریم سے سنو جیسا کہ مسلمان دعائیں کرتے ہیں(إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ)اے اللہ ! آپ ہی عطا کرنے والے ہیں۔اسی طرح اللہ رب العزت نے (سورۃ الشوری:آیت 49،50) کے اندر ارشاد فرمایا (لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ)ارشاد فرمایاکہ زمین اور آسمانوں کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے۔جس طرح چاہے مالک پیدا کرے(يَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ اِنَاثًا)جس کو چاہے بیٹیں عطا کرے( وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ الذُّكُوْرَ)اور جس کو چاہے بیٹے عطا کرے(اَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّاِنَاثًا)اور جس کو چاہے بیٹے اور بیٹیں ملا کر عطا کرے(وَيَجْعَلُ مَنْ يَّشَاۗءُ عَــقِـيْمًا ۭ )جس کو چاہے مالک بانج رکھے اولاد دیے ہی نہ(اِنَّهٗ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ)وہ ہر چیز کا جاننے والا،ہر چیز پر قادر ہے سبحانہ ہو و تعالی۔اسی طرح میرے بھائیو ! مسلمانوں نے اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی کو لقب دیا ہوا ہے کہ وہ گنج بخش ہے خزانے بخشنے والاہے،اے میرے بھائیو ! خزانے بخشنے والا پوری مخلوق کو کون ہے کون ہے جو خزانوں کا مالک،اللہ رب العزت نے (سورۃ المنافقون:آیت نمبر 7)کے اندر یوں ارشاد فرمایا ( وَلِلّٰهِ خَزَاۗىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ)'' زمین اور آسمانوں کےجتنے بھی خزانے ہیں وہ سب اللہ ہی کے لیے ہیں۔اسی طرح اللہ رب العزت نے (سورۃ الانعام:آیت نمبر 50) ارشاد فرمایا(قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ)'' پیارے نبی آپ کہ دیجیے اے لوگو میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں''

    ،اے میرے بھائیو اگر محمدﷺ کے پاس اللہ کے خزانے نہیں ہیں تو اس دھرتی پر کون ایسا پیدا ہوگیا ہے مخلوق میں جسے گنج بخش کہا جائے،تو میرے بھائیو ! تو کیا پتا چلا کہ مشکل کشا ،حاجت روا کون ہے؟ اللہ ہی ہے،غوث اعظم دستگیر کون ہے؟ اللہ ہی ہے،غریب نواز کون ہے؟اللہ ہی ہے،داتا گنج بخش کون ہے،اللہ رب العزت ہی کی ذات ہے۔اے مسلمانو یہ صفات خالصن فقط رب ذولجلال ہی کے لیے ہیں، اللہ ہرب العزت نے کسی اور کے بارے میں کوئی سند نازل نہیں کی،سچ فرمایا اللہ ہ رب العزت نے(سورۃ النجم:آیت نمبر 23)کے اندر (اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْمَاۗءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ) ارشاد فرمایا یہ تو چند نام ہیں جو تم اور تمہارے بزرگوں نے رکھ لیے ہیں،اللہ نے تو کسی کے بارے میں کوئی سند نازل نہیں کی ( اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ ) یہ لوگ تو بس گمان کی پیر وی کر رہے ہیں،سنی سنائی باتوں کی پیروی کررہے ہیں۔

    اسی طرح میرے بھائیو! جو لوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کر اپنا کارساز مانتے ہیں،ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ رب العزت نے (سورۃ الکہف:آیت نمبر102)کے اندر یوں ارشاد فرمایا(اَفَحَسِبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ يَّــتَّخِذُوْا عِبَادِيْ مِنْ دُوْنِيْٓ اَوْلِيَاۗءَ) ارشاد فرمایاکہ یہ کافر کیا سمجھتے ہیں انہوں نے مجھے چھوڑ کے میرے بندوں کو اپنا کار ساز بنا لیا ہے۔تو اے مسلمانو! فقط اللہ ہی کو اپنا کار ساز بنائو ،یوں کہا کرو یا اللہ مدد،کیوں کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ایسے لوگوں کو گمراہ قرار دیا ہے جو اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کو مدد کے لیے پکار تے ہیں جیسا کہ (سورۃ الاحقاف:آیت نمبر5،6) کے اندر ارشاد فرمایا(وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ)ارشاد فرمایا کہ اس سے بڑھا گمراہ کون ہو سکتا ہے جو اللہ کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو پکارے جو اس کی پکار کا جواب قیامت تک نہیں دے سکتے وہ تو ان کی دعاؤں سے ہے ہی غافل(وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَاۗءً وَّكَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِيْنَ)ارشاد فرمایا کہ جب لوگوں کو اکھٹا کیا جائے گا، تو یہ سارے کے سارے ان کے دشمن بن جائیں گے،اور ان کی عبادات کا انکار کردیں گے،محشر کے میدان میں تمام کی تمام مخلوق جن جن کی بھی عبادت اللہ رب العزت کو چھوڑ کر دنیا میں لوگ کرتے رہے ہیں وہ سب کے سب قیامت کے دن ان عبادات کا انکار کردیں گے،اور ایسے لوگوں سے براءت کا اظہار کردیں گےجیسا کہ اللہ رب العزت نے (سورۃ المائدہ:آیت نمبر116) کے اندرعیسی علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا( وَاِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰــهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ)قیامت کے دن اللہ رب العزت عیسی علیہ السلام سے ارشاد فرمائے گااے عیسی کیا تو نےعیسائیوں سے کہا تھا کہ تجھے اور تیری ماں کو اللہ کو چھوڑ کر اپنا معبود بنالیں،عیسی علیہ السلام عرض کریں گے (قَالَ سُبْحٰنَكَ )اے اللہ آپ پاک ہیں( مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ ۤ بِحَقٍّ)میں ایسی بات کیوں کہوں جس کا مجھے حق ہی حاصل نہیں ہے۔

    اسی طرح میرے بھائیو دیگر صالحین بھی ان عبادات کا انکار کردیں گے اور ایسے لوگوں سے براءت کا اظہار کردیں گے۔جناب علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا جائے گاکہ کیا آپ نے لوگوں سے کہا تھا کہ لوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کر آپ کو مشکل کشا حاجت روا مانیں جناب علی رضی اللہ عنہ ان باتوں کا انکار کر دیں گے،اور ایسے لوگوں سے براءت کا اظہار کردیں گےکہ دیں گے اللہ میں نے تو کسی سے نہیں کہا تھا کہ تم اللہ رب العزت کو چھوڑ کرمجھے مشکل کشا حاجت روا ماننا،تم میری جھوٹی محبت کی آڑ میں جناب شیخین ابی بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو گالیاں دینا،ام المؤمنین عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہن کے اوپر کیچڑ اچھالنا،جناب علی ان کی باتوں کا انکار کردیں گے،اور ایسے لوگوں سے براءت کا اظہار کر دیں گے۔


    پروف ریڈنگ ۔۔ عُکاشہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    ابھی جاری ہے
    تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ اس کو ضرور پڑھیں اور اس کے اندر موجود غلطیوں کو بتادیں تاکہ اس محاضرے کو درست کر کے اس کی سیڈی بنا دی جائے, اللہ کے حکم سے -
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,060
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ !
    فاروق بھائی ۔ میں نے پروف ریڈنگ کر دی ہے ۔ پھر بھی کوئی غلطی نظر آئے تو بتا دیجئے گا ۔ آپ آئندہ کوشش کریں کہ اس کی پروف ریڈنگ کر کے پھر اوپن فورم پر لگائیں‌ یا پھر مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ میں‌لگا دیا کریں‌۔ تاکہ سکون سے اس مضمون کو مکمل کرکے پروف ریڈنگ بھی کر سکیں ۔
     
  4. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    و علیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
    آپ کا بہت بہت شکریہ بھائی اللہ تعالی آپ کے میزان حسنات کو اپنی بارگاہ عالیہ میں اور بھی بلند کرے
    ان شاء اللہ آئندہ اس کا ضرور خیال رکھوں گا
     
  5. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    اسی طرح جناب حسین ابن علی رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا جائے گا،کیا آپ نے لوگوں سے کہا تھاکہ لوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کر آپ کے نام کی نظر و نیاز دیں آپ کے نام کی سبیلیں لگائیں،لوگ آپ کی محبت کی جھوٹی آڑ میں اپنے اوپر تشدد کریں جناب حسین ابن علی رضی اللہ تعالی عنہ ان باتوں کا انکار کردیں گے اور ایسے لوگوں سے برآت کا اظہارکر دیں گے۔اسی طرح شیخ عبد القادر جیلانی رحمت اللہ علیہ سے پوچھا جائے گا،کیا آپ نے لوگوں سے کہا تھا ،کہ لوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کر آپ کو غوث الاعظم ،سب سے بڑھا سننے والا مانیں،لوگ اللہ کو چھوڑ کر آپ کے نام کی گیاہرویں دیں جناب شیخ عبد القادر جیلانی رحمت اللہ علیہ ان باتوں کا انکار کردیں گے اور ایسے لوگوں سے برات کا اظہارکر دیں گے۔اسی طرح جناب علی ہجویری سے پوچھا جائے گا،کیا آپ نے لوگوں سے کہا تھاکہ لوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کر آپ کو داتا مانیں،لوگ کرسی حاصل کرنے کے لیے آپ کی قبر کو گلاب کےعرق سے غسل دیں، جناب علی ہجویری رحمت اللہ علیہ ان باتوں کا انکار کردیں گے اور ایسے لوگوں سے برآت کا اظہارکر دیں گے۔ اسی طرح جناب معین الدین چشتی رحمت اللہ علیہ سے پوچھا جائے گا، کیا آپ نے لوگوں سے کہا تھاکہ لوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کر آپ کو غریب نواز مانیں جناب معین الدین چشتی ان باتوں کا انکار کردیں گے اور ایسے لوگوں سے برآت کا اظہارکر دیں گے۔اسی طرح میرے بھائیو ! تمام کی تمام مخلوق قیامت کے دن جن کی بھی عبادت اللہ رب العزت کو چھوڑ کرلوگ کرتے ہیں،وہ سب کے سب محشر کے میدان میں ان عبادات کا انکار کردیں گے، اور ایسے لوگوں سے برآت کا اظہارکر دیں گے۔پیارے بھائیو ! اب میں آپ لوگوں کے سامنے ایک غلط فہمی کا ازالہ چاہتا ہوں،کہ جب ان لوگوں سے کہا جائے ،جو لوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کو مدد کے لیے پکارتے ہیں،کہ بھائیو اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی اور کو مدد کے لیے پکارنا یہ شرک ہے،تو آگے سے جھٹ آ کر جواب یہ دیتے ہیں،کہ تم لوگ آپس میں بھی مدد کے لیے کہتے ہو،کسی سے پیسے ادھار لے لیے،کسی سے گاڑی لے لی،میرے بھائیو ! یہ وہ مدد ہے جس پر دینے والا قادر ہے،اور زندہ سامنے موجود ہے،بلکہ یہ وہ تعاون ہے جس کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے ،قرآن کریم کے اندر اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا (وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى)(سورۃ المائدۃ :آیت 2) '' نیکی کے کاموں میں آپس ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو'' ۔مگر قبر والوں کے بارے میں تو اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر یوں ارشاد فرمایا(وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ)(سورۃ فاطر:آیت22)'' اے نبی آپ قبر والوں کو نہیں سنا سکتے''

    ۔اسی طرح میرے بھائیو اللہ رب العزت نے (سورۃ الاسراء:آیت56،57) کے اندر یوں ارشاد فرمایا(قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا)ارشاد فرمایاکہ پیارے نبی آپ کہ دیجیے اے لوگو جن جن کو بھی تم اللہ رب العزت کو چھوڑ کر پکارتے ہو اپنے گمان باطل میں یہ کسی مشکل کو دور نہیں کرسکتے اور نہ ہی اسے بدل سکتے ہیں(أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا)ارشاد فرمایاجن کو یہ لوگ پکارتے ہیں اللہ رب العزت کو چھوڑ کر یہ بچارے خود اللہ رب العزت کا قرب حاصل کرنے کے لیےوسیلہ تلاش کر تے ہیں اور اس کی رحمت کے محتاج ہیں،اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں،بےشک آپ کے رب کا عذاب ڈرنے والی چیز ہے۔اسی طرح میرے بھائیو! اللہ رب العزت (سورۃ فاطر:آیت 13،14) میں یوں ارشاد فرمایا( وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ)ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کر جن کو بھی پکارتے ہیں وہ ایک کھجور کی گھٹلی کے چھلکے کےبھی مالک نہیں ہیں ( اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَاۗءَكُمْ ۚ وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ)ارشاد فرمایا تم ان کو پکارو مگر یہ تمہاری دعاؤں کو نہیں سنتے،اگرفرض کریں سن بھی لیں تو قبول نہیں کرسکتے(وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ )اور قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا انکار کردیں گے۔

    اے میرے بھائو! آپ لوگوں نے غور کیا کہ اللہ رب العزت نےقرآن الکریم کے اندر ان لوگوں کے عقیدہ کو شرک قرار دیا ہے جولوگ اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کو پکارتے ہیں۔میرے بھائیو ! ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ یہ آیتیں تو بتوں کے بارے میں نازل ہوئیں تھیں ،نہیں میرے بھائیو ! یہ غلط فہمی ہےاللہ رب العزت نے (سورۃ الاعراف :آیت194)کے اندر ارشاد فرمایا(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ )ارشاد فرمایاکہ "" یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن کو بھی پکارتے ہیں وہ تمہاری ترہا بندے ہی ہیں"" اقوام سابقہ فرشتوں کو ،جنات کو ،انبیاء کو،صالحین کو پکارتے تھے،جیسا کہ میرے بھائیو آپ لوگ پیچھے تفصیل کے ساتھ ہماری گفتگو سن چکیں ہو۔

    پیارے بھائیو! اب میں آپ لوگوں کے سامنے وہ جائز وسیلے بیان کرنا چاہتا ہوں جن کے اختیار کرنے سے اللہ رب العزت اپنے بندوں کی دعائں التجائیں قبول فرماتا ہےکیوں کہ اج کل کچھ پیٹ کے پجاری مولوی وسیلے کی آڑ میں لوگوں کے عقیدے کے ساتھ کھیلتے ہیں لوگوں کے سامنے غلط مثالیں بیان کرتے ہیں،کہ چھت پر چڑھنا ہے تو سیڑھی لگاو،اگر آفیسر کو ملنا ہے تو پہلے چپڑاسی کو ملو ،انہی چکروں میں ڈال کر لوگوں کو قبرپرستی کے شرک میں مبتلا کرتے ہیں، اللہ رب العزت کی رحمت سے دور کرتے ہیں۔حلاں کہ اللہ رب العزت نے(سورۃ غافر:آیت نمبر 60)کے اندر یوں ارشاد فرمایا (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ)ارشاد فرمایا کہ تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو،مجھ سے دعائیں کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا،اور جو لوگ میری عبادت سے مجھ سےدعائیں کرنے سے تکبر کرتے ہیں میں اسے لوگوں کر رسوا کرکے جہنم میں داخل کروں گا۔میرے بھائیو! اللہ رب العزت اپنے بندوں کو اس بات کاحکم دیتا ہے کہ مجھے پکارو مجھ ہی سے دعائیں کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا،لیکن یہ پیٹ کے پچاری مولوی لوگوں کو یہ باور کرواتے ہیں،کہ اللہ رب العزت ہماری (direct) ڈا یریکٹ دعا نہیں سنتا،بلکہ وسیلے اختیار کرنے چاہیں ۔

    پیارے بھائیو میں اپ لوگوں کے سامنے وہ جائز وسیلےبیان کروں گا جن کے اختیار کرنے کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی ہے۔میرے بھائیو! وہ پہلی چیز کیا ہےجس کے اختیار کرنے سے اللہ رب العزت اپنے بندوں کی دعائیں التجائیں قبول فرماتا ہےکہ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ رب العزت کو اللہ کے اچھے اچھے ناموں سے پکاریں ،ان ناموں کے ذریعے دعائیں کریں ،التجائیں کریں،جیسا کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے(سورۃ الاعراف:آیت نمبر 180)کے اندر ارشادفرمایا (وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا)کہ ""اللہ کے اچھے اچھے نام تم ان ناموں کے ذریعے اللہ سے دعائیں کرو التجائیں کرو""

    ۔میرے بھائیو ہمیں اسطرح کہنا چاہے جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کو پکارتے تھے(اللهم يا اَلْـحَيُّ يا الْقَيُّوْمُ)اے اللہ ہمیشہ ذندہ رہنے والے ہر چیز کے تھامنے والےمیری دعا کو قبول فرما۔اسی طرح میرے بھائیو اللہ رب العزت کو یوں پکاریں (اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ) اسطرح میرے بھائیو اپنے رب کو یوں پکاریں (ياالرَّحْمٰنِ ياالرَّحِيْمِ)اے رحم کرنے والے میرے او پر رحم کر (یارازق)اے رزق عطا کرنے والے مجھے رزق دے(یا غفور)اے معاف کرنے والے مجھے بخش دے، اسی طرح میرے بھائیو یوں اللہ عزوجل کو پکاریں(اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ)اے اللہ آپ ہی عطا کرنے والے ہیں،مجھے رزق عطا کر ،مجھے عزت عطا کر ،مجھے اپنی رحمت عطا کر دنیا اور آخرت میں،مجھے اولاد عطا کر،آپ یوں کہیں میرے بھائیو (اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَدُودَ)اےاللہ آپ محبت کرنے والے ہیں مجھ سے محبت کریں,اسی طرح میرے بھائیو یوں رب ذلجلال سے دعا کریں (اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَنْتَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ)اے اللہ آپ ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں میری دعا کو قبول فرما ۔یہ ایک چیز ہوگئی میرے بھائیو ،اب دوسری چیز کیا ہے ،ہمیں چاہےکہ وہ نیک عمل جو خالصن فقط اللہ رب العزت ہی کے لیے کرتے ہیں ان نیک عملوں کا وسیلہ بنا کر اللہ سے دعائیں کریں التجائیں کریں ،جیسا کہ (صحیح بخاری کے اندر ایک واقع ہےکتاب احادیث الانبیاء حدیث کا نمبر ہے 680)اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا پہلی امتوں کے اندر تیں نوجواں تھے وہ ایک غار کے اندر چلے گئے،غار کے سامنے بہت بھاری چٹان گر گئی غار سے نکلنے کا راستہ بند ہو گیا ان تینوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ کیوں نہ ہم لوگ اللہ رب العز ت کی بارگاہ میں ان نیک عملوں کا وسیلہ پیش کریں جو نیک اعمال ہم نے خالصا فقط اللہ ہی کے لیے کیے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں جب انہوں نےاپنے نیک عملوں کا وسیلہ بنا کر اللہ رب العزت سے دعا کی تو اللہ رب العزت نے انہیں اس مشکل سے نجات دیے دی میرے بھائیو یہ واقع تعلیم کے لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کابتلایا ہے،تو ہمیں کیا پتا چلا کہ ہم وہ نیک عمل جو خالص فقط اللہ رب العزت ہی کے لیے کرتے ہیں ان نیک عملوں کا وسیلہ بنا کر اللہ رب العزت سے دعائیں کریں التجائیں کریں جیسا کہ نماز، زکاۃ،روزہ ،حج ،والدین کی خدمت،پڑوسیوں سے حسن سلوک ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ،کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے کے لیے اللہ رب العزت نے ہمیں حکم دیا ہےاسی طرح میرے بھائیو آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا وسیلہ بنائیں کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایمان کا جز ہے،آپ یوں کہیں اے اللہ میں تیرے نبی سے محبت کرتا ہوں تو میری دعا کر قبول فرما،اسی طرح میرے بھائی کثرت سے اللہ رب العزت کے لیے سجدے کریں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاانسان سجدے کی حالت میں اپنے رب کے بہت ہی قریب ہوتا ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب انسان اللہ رب العزت کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے اس کا ایک گناہ معاف ہوتا ہے ایک درجہ بلند ہوتا ہے سجدے کی حالت میں دعا قبول ہوتی ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم رکوع کے اندر کثرت سے اللہ کی تسبیح بیان کرو اور سجدے کی حالت میں کثرت سے اللہ رب العزت سے دعائیں کرو اور اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ہمیں اس بات کا حکم دیا ہےجیسا کہ (سورۃ البقرۃ :آیت نمبر 153)ارشاد فرمایا(يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ)ارشاد فرمایا اے ایمان والو اللہ سے مدد طلب کرو نماز اور صبر کے ذریعہ،بیشک اللہ رب العزت کی مدد ،اللہ کی تائید ،اللہ کی نصرت ،اللہ رب العزت کی رحمت صبر کرنے والوں کے ساتھ دو چیزیں ہو گئی مرے بھائیو،اب تیسری چیز کیا ہےکہ ہم کسی نیک آدمی کو پرہیز گار کو متقی کو دعا کرنے کے لیے کہ سکتے ہیں بشرط کہ وہ زندہ ہو عقیدہ توحید اس کا صحیح ہو،جیسا کہ میرے بھائیو صحیح البخاری کے اندر جناب عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ ہے باب استسقاء حدیث کا نمبر ہے 955) جب ان کے دور خلافت میں ایک مرتبہ بارش نہیں ہو رہی تھی تو انہیوں نے جناب عباس رضی اللہ عنہ سے دعا کرنے کے لیے کہا تھا جو اس وقت زندہ تھے صحابہ میں بزرگ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے جناب عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان سے دعا کرنے کر لیے کہا تھا میرے بھائیو جناب عمر رضی اللہ تعالی عنہ خلفاء الراشدین میں سے ہیں جن کی پیروی کرنے کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو حکم دیا ہے جیسا کہ (سنن ابی داؤد کر اندر حدیث ہے) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ)کہ تمہارے لیے میرا طریقہ اور میرے خلفاء الراشدین ہدایت یافتہ جو میرے بعد آئیں گے ان کے طریقے کو مضبوطی سے تھامنا تو میرے بھائیو! جناب عمر رضی اللہ تعالی عنہ خلفاء الراشدین میں سے ہیں جن کی پیروی کرنے کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو حکم دیا ہے تو میرے بھائیو ! جناب عمر رضی اللہ عنہ کا اسوہ یہ ہمیں بتلا رہا ہے کہ ہم کسی نیک آدمی کو پرہیز گار کومتقی کو دعا کرنے کے لیے کہ سکتے ہیں بشرط یہ کہ وہ زندہ ہو عقیدہ توحید اس کا صحیح ہو جیسا کہ عباس رضی اللہ تعالی عنہ اس وقت زندہ تھے صحابہ کرام میں بزگ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے پیارے بھائیو! میں آپ لوگوں کی یہاں توجہ چاہتا ہوں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق میں سب سے افضل ہیں میرے بھائیو اس وقت مدینہ منورہ میں صحابہ کرام کے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر موجود تھی لیکن وہ لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر نہ گئے دعا کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر جا کرانہوں نے آپ کی ذات کے وسیلے سے اللہ کو نہ پکارا کیوں کہ وہ لوگ جانتے تھے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم نہیں ہے کہ کسی کی موت کے بعد اس کی قبر پر جاکر اس کی ذات کے وسیلے سے اللہ کو پکارا جائے میرے بھائیو اگر کسی کی موت کے بعد اس کی قبر پر جا کر اس کی ذات کے وسیلے سے اللہ کو پکارنا جائز ہوتا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ضرور ایسا کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ وہ لوگ جناب عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گئے جو اس وقت زندہ تھے صحابہ کرام میں بزرگ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے ان سے دعا کرنے کے لیے کہا انہوں نے دعا کی اللہ رب العزت نے بارش نازل فرمائی یہ تین چیزیں ہوگئیں میرے بھائیو نمبر ایک (ہمیں چاہے کہ ہم اللہ رب العزت کو اس کے اچھے اچھے ناموں سے پکاریں ،ان ناموں کے ذریعے اللہ سے دعائیں کریں التجائیں کریں۔دوسری چیز کیا ہے (کہ ہم وہ نیک اعمال کاجو خالص اللہ ہی کے لیے کرتے ہیں ان نیک عملوں کا وسیلہ بنا کر اللہ رب العزت سے دعائیں کریں التجائیں کریں ۔تیسری چیز کیا ہے(کہ ہم کسی نیک آدمی کو پر ہیز گار کو متقی کو دعا کرنے کے لیے کہ سکتے ہیں بشرط یہ کہ وہ زندہ ہو ،عقیدہ توحید اس کا صحیح ہو ۔مگر ان جائز وسیلوں کے علاوہ جو وسیلے کچھ پیٹ کے پجاری ملویوں نے گھڑ گھڑ کے لوگوں کے اندر پھیلائے ہوئے ہیں،کہ قبروں والوں کے وسیلے سے اللہ کو پکارا جائےان کی قبروں پر عمارتیں بنائی جائیں ،اگربتیاں جلائی جائیں ،ان کی قبروں پر چادریں چڑھائیں جائیں ،ان کی قبروں کے پاس جاکر جانور ذبح کیے جائیں ،نظر نیاز دی جائے ،ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ،میرے بھائیو یہ تو کفر ہے شرک ہے حرام ہے اسلام کے اندر ،ایسا کرنے کے لیے نہ تو اللہ رب العزت نے کوئی سند نازل کی ہےاور نہ ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس بات کی تعلیم دی ہے سچ فرمایا اللہ رب العزت نے(سورۃ الشوری:آیت نمبر 21)کے اندر (اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ)ارشاد فرمایا کہ انہوں نے ایسے شریک ٹھرائے ہیں جو ان کے لیے شرعیت سازی کرتے ہیں ،جس شرعیت کے لیے اللہ رب العزت نے تو کوئی سند نازل نہیں کی ،اللہ رب العزت نے تو کسی سے نہیں کہا کہ تم قبروں والوں کے وسیلے سے مجھے پکارو،تم قبروں کے اوپر عمارتیں بناو،تم قبروں کے پاس جاکر جانور ذبحہ کرو ،ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان کی سیڑھی لگاؤ ،ان کی ذات کا وسیلہ بناؤ،اور نہ ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کوئی تعلیم اپنی امت کو دی ہے،بلکہ اللہ رب العزت نے تو اپنے مسلمان بندوں کو تو اس بات کی تعلیم دی ہے،جیسا کہ مسلمان پانچ وقت نماز وں کے اندر بغیر کسی قبر والے کے وصیلے سے (Direct)ڈایریکٹ اپنے رب کو پکارتے ہیں ،مسلمان نماز کی حالت میں یہ کہتے ہیں (اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ)اے اللہ ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں ۔ اسی طرح میرے بھائیو ترمذی کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائی ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما اس بات کی تعلیم دی کہ اے لڑکے جب بھی پکار تو اللہ ہی کو پکار اورجب بھی پناہ طلب کر تو اللہ ہی سے طلب کر،اورمیں اپنے تمام مسلمان بھائیوں اور اسلامی بہنوں سے یہ کہنا چاہوں گاکہ اگر آپ لوگوں کو کوئی یہ کہےکہ صالحین کا وسیلہ اختیار کرنا جائز ہے ،مردوں کے وسیلے سے اللہ کو پکارنایہ جائز ہے،تو میرے بھائیو آپ لوگ اس سے دلیل طلب کریں ،میں یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ چاہتا ہوں ،کہ کچھ لوگ (سورۃیونس:آیت نمبر62)میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا (اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَاۗءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ) اللہ رب العزت کے اس فرمان کودلیل بنا کر خوب لوگوں کو قبر پرستی کے شرک میں مبتلا کرتے ہیں،لوگوں کو یہ باور کرواتے ہیں دیکھو اللہ رب العزت نے تو قرآن کریم میں اولیاء اللہ کے بارے میں تو یہ ارشاد فرمایا ہے،کہ انہیں کوئی خوف کوئی غم نہ ہوگا تو پھرکس طرح اولیاء اللہ کی قبروں پر جاکر جانور ذبحہ کرنا نذر و نیاز دینا،ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان کی قبروں پر عمارتیں بنانا،ان کے وسیلے سے اللہ رب العزت کو پکارنا،کیسے یہ باتیں شرک ہو سکتی ہیں،میں ایسے لوگوں سے کہنا چاہوں گا،اس آیت کریمہ میں تو اللہ رب العزت نےاولیا اللہ کو خوشخبری دی ہےکہ ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی خوف ہے اور نہ آخرت میں ان کے لیےکوئی غم ہوگا،میرے بھائیو ! اللہ رب العزت اپنے تمام اولیاء پر اپنی رحمتیں نازل فرمائےاور جو وفات پاچکے ہیں ان کی قبروں کو روشن کردے ،لیکن اللہ رب العزت نے اس آیت کریمہ میں یہ تو نہیں ارشاد فرمایا کہ تم اولیاء اللہ کے وسیلے سے مجھے پکارو،ان کی قبروں پر جاکر جانور ذبہ کرو،ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے نظر و نیاز دو، یہ عقیدے تم نے کہاں سے لے لیے،(هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ)اگر تم لوگ اپنے دعوں میں سچے ہو تو دلیل پیش کرو،

    اور میں یہاں اپنے بھولے بھالے مسلمان بھائیوں کو ایک اور نقطہ بھی سمجھانا چاہتا ہوں ۔میرے بھائیوکلمہ ولی عربی زبان کا لفظ ہےجس کا معانی ہے دوست میرے بھائیوہر چیز کی ایک نہ ایک ضد ہوتی ہےجیسا کہ دھوپ کی ضد ہے سایہ، ٹھنڈے کی گرم،اندھرے کی روشنی اور دوست کی ضد ہے دشمن میرے بھائیو اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ فقط وہی لوگ ہی اللہ رب العزت کے دوست ہیں جن کی قبروں پر عمارتیں بنی ہوئی ہیں، یا جن کو لوگ اپنا پیر مانتے ہیں تو میرے بھائیو میں یہ کہنا چاہوں گااگر دیگر مسلمان بھی اللہ رب العزت کے دوست نہیں ہیں تو کیا وہ لوگ اللہ رب العزت کے دشمن ہیں (نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ)اسی طرح میرے بھائیو اللہ رب العزت نے (سورۃ یونس آیت نمبر 63)میں یوں ارشاد فرمایا اولیا اللہ کے بارے میں(الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ)اولیا اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ رب العزت کی توحید پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ رب العزت کا تقوا اختیار کرتے ہیں تو میرے بھائیو یاد رکھو ہر کلمہ پڑھنے والا مسلمان اللہ رب العزت کی حدود کی حفاظت کرنے والا اللہ رب العزت کا ولی ہے ہاں دراجات میں فرق ہےجو جتنی کوشش کرے گا اس کا درجہ اللہ رب العزت کے نزدیک اتنا ہی بلند ہو گا

    پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے اللہ کہاں ہے میرے بھائیو اللہ رب العزت کی صفات میں صفت ہے کہ اللہ رب العزت اپنی ذات سے اپنے عرش پر مستوی ہے اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر سات مقامات میں ہمیں اس بات کی خبر دی ہے کہ الرحمن اپنے عرش پر مستوی ہے جیسا کہ(سورۃ طہ)میں ارشاد فرمایا ( اَلرَّحْمَنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى)کہ الرحمن اپنے عرش پر مستوی ہے۔اسی طرح میرے بھائیو صحیح مسلم کے اندر حدیث ہےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک باندی آئی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دو سوال کیے،پہلاسوال (أَيْنَ اللهُ؟)اللہ کہاں ہے اس نے عرض کی (فِي السَّمَاءِ)آسمانوں کے اوپر ہےنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کے میں کون ہوں اس نے عرض کی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ ایسے آزاد کردویہ تو مومنہ ہے میرے بھائیو کیا پتا چلا جو بندا اس بات پر ایمان رکھے کہ اللہ رب العزت اپنی ذات سے اپنے عرش پر مستوی ہےوہ ہی مومن ہے الحمدللہ ہم قرآن حدیث ماننے والوں کا اس بات پر ایمان ہے کہ کہ ہمارا رب اپنی ذات سے اپنے عرش پر مستوی ہے اور کس طرح مستوی ہے ہم اس کیفیت کو نہیں جانتے وہ کیفیت مجھول ہے بس ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں [/
    B]



    ابھی آدھا ہو ہے مزید جاری ہے​
     
  6. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    بھائیو اور بہنو آپ کی خیریت دریافت کرنے کے بعد آپ سے گزارش یہ تھی کہ یہ جو پوسٹ میں نے مجلس پر کی ہے وہ اصل میں ایک ایم پی تھری سی ڈی ہے فضیلۃ الشیخ ابو احمد کی۔
    اصل میں یہ سی ڈی 200 دو سو منٹ کی ہے جس کا عنوان آپ دیکھ ہی چکے ہیں اور اس کے اندر فضیلۃ الشیخ نے کون کون سے موضوع کو بیان کیے ہیں وہ بھی آپ ایک نظر دیکھ ہی چکے ہیں یہ سی ڈی مملکت البحرین کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندر 2000،000 سے زیادہ جاچکی ہے اور بنٹ بھی رہی ہے اللہ تعالی فضیلۃ الشیخ کی اس کاوش کو آپنی بارگاہ عالی میں قبول فرمائے
    اس بار جو فصیلۃ الشیخ پاکستان کے دورے پر گئے تھے چند دن پہلے پاکستان میں موجود دوست احباب نے مشورہ دیا کہ اس کا ایک چھوٹا سا کتابچہ بنا کر لوگوں میں تقسیم کرنا چاہئے جس سے لوگ کافی زیادہ مستفید ہوتے ہیں اس لیے میں نے یہ لکھنا شروع کیا تھا مگر کیوں کہ سی ڈی 200 دوسو منٹ کی ہے اس لیے ابھی تک 100 ایک سو منٹ لکھ پایا ہوں اگر کوئی بھائی لکھنے میں مدد کرے تو اس کےلیے بھی اجر و ثواپ کا بعث ہو گا ان شاء اللہ اگر آپ کسی بھائی کو جانتے ہیں جو کہ اس کام میں مدد کر سکتے ہیں تو میہر بانی ہو گی سی ڈی کا لنک یہ ہے امید ہے کہ آپ اس چھوٹی سی کاوش میں ضرور مدد کریں گے
    اللہ کے دین کا خادم
    فاروق
    و علیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 10, 2011
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    بس ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ ہمارا رب اپنی ذات سے اپے عرش پر مستوی ہے جیسے اس کے کمال اور جلال کے لائق ہےوہ اسی طرح اپنے عرش پر مستوی ہے میرے بھائیو یہ جو عقیدہ لوگوں کے اندر پھیلا ہوا ہے کہ اللہ رب العزت ہر جگہ موجود ہے یہ عقیدہ قرآن اور حدیث کے خلاف ہےاور سلف صالحین کے عقیدے کے خلاف ہےمیرے بھائیو اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندریا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی حدیث کے اندرہمیں اس بات کی خبر دی ہے کہ اللہ رب العزت اپنی مخلوق کےقریب ہےاپنی مخلوق کے ساتھ ہے تو میرے بھائیو اللہ رب العزت کا اپنی مخلوق کے ساتھ ہونا اپنی مخلوق کے قریب ہونااس معنی میں ہے کہ اللہ رب العزت اپنے علم کے اعتبار سےاپنی قدرت کے اعتبار سے اپنی مخلوق کے قریب ہے اپنی مخلوق کے ساتھ ہے یہ ہی وجہ ہے کہ اس کے علم نے اس کی قدرت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہےچاہے کوئی چیز آسمانوں میں ہو یا زمین کے اوپر ہو یا زمین کے نیچےہو یا سمندروں کی تہ میں ہویا پہاڑوں کے اوپر ہو یا پہاڑوں کے نیچے ہوہر چیز اللہ رب العزت کے علم میں ہےاس کی قدرت میں ہے کوئی چیز بھی اللہ رب العزت کے علم سے اس کی قدرت سےباہر نہیں یعنی اس کے علم اور اس کی قدرت میں ہر چیز پر احاتہ کیے ہوئے ہے یہ جو عقیدہ لوگوں میں پھیلا ہوا ہےکہ اللہ رب العزت ہر جگہ موجود ہے یہ عقیدہ باطل ہے قرآن و حدیث کے خلاف ہے اور سلف صالحین کے عقیدے کے خلاف ہے پیارے بھائی میں یہاں ایک بات کی اور بھی وضاحت چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت کااپنی مخلوق کے قریب ہونا اپنی مخلوق کے ساتھ ہونادو طرح سے ہے ایک تو اللہ رب العزت اپنے علم کے اعتبار سے اپنی قدرت کے اعتبار سےاپنی ساری مخلوق کے ساتھ ہے اپنی ساری مخلوق کے قریب ہے اور دوسری چیز یہ ہے کہ اللہ رب العزت اپنی تعید کے اعتبار سے اپنی مدد کے اعتبار سے اپنی رحمت کے اعتبار سے اپنے محسنین اپنے متقین اپنے صبر کرنے والےبندوں کے ساتھ ہےجیسا کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ارشاد فرمایا(ان اللہ مع الصابرین ان اللہ مع المحسنین ان اللہ مع المتقین ) اس لیے میرے بھائیو ہر مسلمان کا اس بات پر ایمان ہونا چاہے کہ اللہ رب العزت اپنی ذات سے اپنے عرش پر مستوی ہےاے میرے بھائیو اگر آپ لوگوں کو مزید تفصیل پڑہنی ہے تو ایک کتاب ہے توحید خالص شیخ بدیدین شاہ راشدی رحمتہ اللہ علیہ نے اس کتاب کے اندر 150 احادیث ذکر کی ہیں جن کے اندر اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ رب العزت اپنی ذات سے اپنے عرش پر مستوی ہےاور دلائل کے ساتھ شیخ رحمہ اللہ علیہ نے ثابت کیا ہے پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر نا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  8. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    غا‏‏ئب کا جاننے والا کون ہے
    میرے بھائیو یہ صفت خالصن فقط اللہ رب العزت ہی کے لیے ہے اللہ رب العزت ہی وہ ذات ہےجو غائب کا جاننے والا ہےما سوا اللہ رب العزت کے اور کوئی غائب نہیں جانتا اللہ رب العزت نے سورۃ الانعام :آیت نمبر50 کے اندر ارشاد فرمایا(قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْب)پیارے نبی آپ کہ دیجیے اے لوگو میں تم سےنہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غائب جانتا ہوں میرے بھائیو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کسی چیز کے متعلق سوال کیا جاتا اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم نہ ہوتا تو اللہ کے نبی خاموش رہتے اور وحی کا انتظار کرتے سچ فرمایا اللہ رب العزت نے سورۃ النجم کے اندر(وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى (3) إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى(4))ارشاد فرمایا کے میرے نبی اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کرتے جو بات بھی کرتے ہیں ہم ان کی طرف وحی کرتے ہیں اسی طرح میرے بھائیو صحیح بخاری اور مسلم کے اندر حدیث ہےام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں جو بندا یہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم غائب جانتے تھےاس بندے نے اللہ رب العزت کے اوپر بہطان لگایا کیوں کہ اللہ رب العزت سورۃ النمل :65 میں ارشاد فراتا ہے(قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ) پیارے نبی آپ کہ دیجیے نہ کوئی آسمانوں میں نہ کوئی زمین پر ما سوا اللہ رب العزت کے کوئی غائب نہیں جانتا (وَمَا يَشْعُرُونَ)یہ بچارے اتنا تک نہیں جانتے ( أَيَّانَ يُبْعَثُونَ)کہ انہیں کب ان کی کبروں سے اٹھایا جائے گا اس لیے میرے بھائیو اس بات پر ایمان رکھو کہ اللہ رب العزت ہی وہ ذات ہے جو غائب کا جاننے والاہے ما سوا اللہ رب العزت کے اور کوئی بھی غائب نہیں جانتا پیارے بھائیواگر آپ لوگوں کو مزید تفصیل پڑھنی ہےتو سورۃ الاعراف آیت نمبر128 پڑھ لیجیے اس لیے میرے بھائیو ہر مسلمان کا اس بات پر ایمان ہونا چاہیے کہ اللہ رب العزت کے سوا اور کوئی غائب نہیں جانتا پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنےذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  9. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    ہر جگہ دیکھنے اور سننے والا کون ہے107:06
    میرے بھائیو یہ صفات خالص فقط اللہ رب العزت ہی کے لیے ہے اللہ ہی وہ ذات ہے جو اپنے عرش پر مستوی ہو کر پوری مخلوق کو دیکھ رہا ہےپو ری مخلوق کی پکاریں سن رہا ہے اللہ رب العزت نے سورۃ الانبیاءمیں یونس علیہ السلاۃ السلام کا واقع بیان کیا ہے کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا سمندر کی تحہ کا اندھیرا وہاں انہوں نے کس کو پکارا اور کس نے ان کی پکار کو وہا ں سنا اور کس نے ان کی وہاں مشکل کشائی کی حاجت روائی کی کسی نے وہاں ان کی دست گیری کی اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا (فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ (87))کہ انہوں نے اندھیروں میں پوکارا اے اللہ آپ کے سوا کوئی الہ نہیں آپ ہی معبود برحق ہیں آپ کے سوا کوئی غوث اعظم نہیں جو میری پکار کو یہاں سنے آپ کے سوا کوئی یہاں مشکل کشا نہیں جو میری مشکل کشائی کرےیہاں آپ کے سوا کوئی حاجت روا نہیں جو میری یہاں حاجت روائی کرے آپ کے سوا کوئی دست گیر نہیں جو میری دست گیری کرے یہاں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا (فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ)ہم نے ان کی پکار کو قبول کیا اور ان کو اس مشکل سے نجات دی (وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ (88))ہم اس طرح ہر موحد کو ہر توحید پرست کو نجات دیتے ہیں اسی طرح میرے بھائیو صحیح مسلم کے اندر حدیث ہے کتاب الجہادمیں حظیفہ ابن یمان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ احزاب کے دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا کہ کون ہے جو مجھے دشمنوں کے احوال کی خبر لا کر دیتا ہے حظیفہ ابن یمان کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا اے حظیفہ اٹھو جاؤ اور جاکر مجھے دشمنوں کے احوال کی خبر لا کردو حضیفہ کہتے ہیں سردی کی رات تھی میں گیا میں نے جاکر دشمنوں کے احوال کی خبر لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لا کردی میرے بھائیو اس حدیث کے اندر ان لوگوں کے عقیدے کی اصلاح ہے جو لوگ یہ بد عقیدگی رکھتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر اور ناظر ہیں اور اور مخلوق کے لیے بھی حاضر اور ناظر کا عقیدہ ثابت کرتے ہیں اے میرے بھائیو اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر اور ناظر ہوتے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں اپنے صحابی کو بھیجاکہ حضیفہ جاؤ جاکر مجھے دشمنوں کے احوال کی خبر لاکر دو اے میرے بھائیو اگر آپ لوگوں کو مزید تفصیل پڑھنی ہے تو سورۃ العمران :آیت نمبر44 پڑھ لیجیے اسی طرح سورۃ یوسف :آیت نمبر102 پڑھ لیجیے اسی طرح سورۃ قصص:آیت نمبر44 ،45 اور 46 پڑھ لیجیے اے میرے بھائیو اس بات پر ایمان رکھو کہ اللہ رب العزت ہی وہ ذات ہےجو اپنے عرش پر مستوی ہو کر پوری مخلوق کو دیکھ رکہا ہے پوری مخلوق کی پوکاریں سن رہا ہے۔ پیارے بھائیو اب میں آپ لوگوں کے سامنےیہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ
     
  10. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    ہمیشہ زندا رہنے والا کون ہے110:48
    میرے بھائیو یہ صفات خالص فقط اللہ رب العزت ہی کے لیےخاص ہے اللہ ہی وہ ذات ہےجو (الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ)ہے جو ہمیشہ ذندہ رہنے والا ہےجسے کبھی موت نہیں جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ الرحمن میں ارشاد فرمایا (كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ (26) وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (27))ارشاد فرمایا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر چیز کو ختم ہونا ہے ہر چیز کو فناہ ہونا ہے باقی رہنے والی آپ کے رب کی بابرکت ذات ہے وہی باقی رہے گا اسی طرح اللہ رب العزت نے سورۃ الزمر :30 کے اندر ارشاد فرمایا (إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ)اے نبی آپ کو بھی موت آنی ہے اوران سب کو موت آنی ہے اسی طرح کا بیان میرے بھائیو سورۃالاعمران:144 کے اندر بھی ہے اور میں یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ چاہتا ہوں کہ کچھ لوگ شہدا کی ذندگی کی آڑ میں اور لوگوں کے لیے بھی ذندگیں ثابت کرتے ہیں اور لوگوں کے عقیدے کے ساتھ کھیلتے ہیں میرے بھائیو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر شہدا کی ذندگی کے تعلق سے بیان کیا ہے ایک آیت سورۃ البقرہ میں ہے اور ایک آیت سورۃ الاعمران کے اندر ہے سورۃ الاعمران 167 کے اندر ارشاد فرمایا ( وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ) میرے بھائیو اس آیت کریمہ کی تفسیر میں صحیح مسلم کے اندر عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سےاس آیت کے متعلق دریافت کیا کہ اللہ کے رسول شہدا کی ذندگی سے کیا مراد ہے تو اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا کہ جنت کے اندر اللہ کے عرش کے نیچے کچھ کنزیلیں لٹک رہی ہیں جہاں شہدا کی روحیں بسیرہ کرتی ہیں اور جنت میں جہاں چاہتی ہیں رزق پاتی ہیں اسی طرح میرے بھائیو اللہ رب العزت نے سورۃ یاسین کے اندر ایک موحد کا قصہ بیان کیا ہے کہ جب اس کی قوم والوں نے اسے شہید کردیا تو اس کی روح کو کیا حکم ہوا (قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ )کہ جنت کے اندر داخل ہو جا تو میرے بھائیو کیا پتا چلا کہ شہدا کو جو ذندگی حاصل ہے وہ جنت کے اندر ہے جنت کے اندر ان کی روحوں کو رزق مل رہا ہے نہ کہ وہ دنیا میں گہوم پھر رہے ہیں تصرفات کر رہے ہیں جیسا کہ بہت سارے لوگوں کی بد عقیدگی ہے تو میرے بھائیو اس بات پر ایمان رکھیں کہ اللہ رب العزت ہی وہ ذات ہے جو حی الایموت ہے جو ہمیشہ ذندہ رہنے والا ہے جسے کھبی موت نہیں سبحان وتعالی پیارے بھائیو اب میں آپ لوگوں کے سامنے
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں